Phir Yun Hua By Amna Mehmood Readelle50141 Episode 24
No Download Link
Rate this Novel
Episode 24
سعد جلد از جلد اپنی اسائمنٹ ختم کرنا چاہ رہا تھا تاکہ صبح یونی میں جمع کرا سکے وہ اپنے کام میں اتنا بزی تھا کہ اسے وقت گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلا کہ اچانک اس کے موبائل پر میسج ٹون بجی ۔
“11 بج کر ایک منٹ ہو چکا ہے اب آپ کی کال رسیو نہیں کی جائے گی “
سعد نے سرسری انداز میں میسج کھول کر پڑھا پھر مسکراتے ہوئے دیوار ساتھ ٹیک لگا لی ۔
“آگے تو جیسے فورا رسیو ہوجاتی تھی _ بتانے کا شکریہ ” اگر وقت پر کریں تو رسیو ہونااااااااا اپنی غلطی تو ماننا سیکھی ہی نہیں ہے ۔ فرزین کو سعد کا میسج پڑھتے ہوئے حیرت ہوئی ۔
اس کو کہتے ہیں “الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے” حد ہے ویسے فرزین بی بی
چور کیسے کہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ میں چور نہیں ہوں ۔فرزین نے منہ بناتے ہوئے جواب دیا
چور تو خیر تم ہو ہی یہ الگ بات ہے کہ چوری پیسے کی نہیں کی ہے مگر چوری تو چوری ہی ہوتی ہے چاہے کسی کے دل کی ہو ۔فرزین سے چیٹ کرتے ہوئے سعد کی ساری تھکاوٹ اتر گئی تھی ۔ سعد کے میسج پر اب اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا ریپلائی کرے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ کیونکہ کم ازکم وہ سعد سے اس بات کی امید نہیں کر رہی تھی۔ جب کافی دیر تک فرزین کی طرف سے خاموشی چھائی رہی تو سعد نے ہی بات شروع کی آج کے دن میں تم نے میرے بارے میں کیا سوچا ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ کوئی غلطی شلطی یا کچھ اور سعد نے اسے بولنے کے لیے ایک موضوع دیا ۔
کوئی ایک غلطی ہو تو بتاؤں یہاں تو ڈھیر لگا ہوا ہے حالانکہ یہ سچ تھا کہ فرزین کو سعد کی کوئی غلطی نظر نہیں آرہی تھی ۔ وہ اتنے دنوں سے کوشش کر رہی تھی مگر اپنے اور اس کے رشتے کو لے کر وہ جب بھی سوچتی اسے سعد بے گناہ ہی لگتا۔ پھر بھی جو ان میں زیادہ اہم ہیں وہ ہی بتا دو تا کہ میں اپنے آپ کو سدھار سکوں اور کوشش کرو کہ وہ غلطی دوبارہ نہ کروں سعد نے مسکراتے ہوئے ریپلائی دیا
مجھے نیند آرہی ہے _ فرزین نے میسج ٹائپ کیا کیونکہ اب وہ مزید سعد سے بات نہیں کرنا چاہتی تھی۔ ٹھیک ہے تمہارا آرام کرو میں بھی کام کر لوں اور ہاں بات کرنے کا شکریہ
تمہارا تو پتا نہیں لیکن کم از کم میری سارے دن کی تھکاوٹ اتر گئی اور امید ہے رات نیند بھی بہت اچھی آئے گی سعد نے مسکراتے ہوئے میسج کا جواب دیا اور دوبارہ کام میں مصروف ہوگیا ۔
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
اس وقت پنچایت میں سبھی لوگ موجود تھے اور سب کی نظریں اسلم کے چہرے پر جمی ہوئی تھیں کہ اب وہ کیا فیصلہ کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
بولو اب کیا کرنا ہے اپنے بیٹے کو ہمارے حوالے کرو گے یا کوئی اور شرط مانو گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ جب اسلم کافی دیر خاموش رہا تو پنچایت کی طرف سے سوال ہوا
میں اپنا بیٹا نہیں دینا چاہتا۔ میرا ایک ہی بیٹا ہے۔ وہ میرے بڑھاپے کا سہارا ہے ۔میں اس کے بغیر کیا کروں گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ اسلم نے بہت دکھ سے جواب دیا
اچھا تو پھر تم نے رقم کا بندوبست ضرور کر لیا ہوگا۔ چلو یہ بھی ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زاویار نے میں انتہائی سرد لہجے میں طنز کیا
نہیں سرکار ہم جیسے غریب لوگوں کے پاس اتنی بڑی رقم ساری زندگی جمع نہیں ہوسکتی یہ تو پھر چند دن تھے اسلم نے اپنے دونوں ہاتھ جوڑ کر کہا
تو پھر ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ اب کی بار زاویار کو تجسس ہوا ۔
میں اپنی بیٹی خون بہا میں دینے کو تیار ہوں یہ الفاظ کہتے ہوئے اسلم کو اپنی آواز کھائی میں سے آتی ہوئی محسوس ہوئی جبکہ اسلم کی وہ دبی دبی سی آواز زاویار کے اوسان خطا کر گئی ۔
نہیں یہ کیسے ہو سکتا ہے تم اپنی بیٹی کیسے دے سکتے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ میرا مطلب ہے کہ زاویار کو کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ اس وقت کیا کہے کیونکہ وہ ایسا تو نہیں چاہتا تھا کبھی نہیں ۔
جبکہ آس پاس کے لوگ زاویار کو یوں پریشان ہوتا دیکھ کر حیران تھے۔
سرکار میرے پاس اس کے علاوہ اور کوئی حل نہیں ہے میں اپنا بیٹا کھونا نہیں چاہتا اور نہ ہی اتنی بڑی رقم دے سکتا ہوں تو پھر آخری بات ماننے پر مجبور ہوں۔اسلم کی بات پر پنچایت کے سربراہ نے سر ہلایا جب کہ زاویار اپنے ضمیر کی عدالت میں جاکر کھڑا ہوا ۔
جی چھوٹے شاہ جی اب آپ حکم کریں کہ لڑکی ویسے ہی لے کر جائیں گے یا نکاح پڑھوا کر اور اگر نکاح کرنا چاہتے ہیں تو کس کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ اب سب کی نظر سے زاویار پر تھی لیکن وہ وہاں موجود ہوتا تو کسی کی بات کا جواب دیتا ناااااا
“دونوں میں سے کسی ایک کا محبت کرنا کافی ہے اور میں محبت کرتی ہوں ناااااا “
” میں آپ کو اپنے بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیار دیتی ہوں کیونکہ مجھے پکا یقین ہے آپ میرے بارے میں کبھی غلط فیصلہ نہیں کریں گے “
” میں آپ کا کبھی ساتھ نہیں چھوڑوں گی یہ وعدہ ہے میرا چاہے حالات جیسے بھی ہوں “
یہ وہ الفاظ تھے جو مسلسل زاویار کا ذہن ماؤف کر رہے تھے۔
شاہ جی آپ سے کچھ پوچھا جا رہا ہے جب زاویار کچھ نہ بولا تو صدیق نے زاویار کا کندھا ہلایا
اتنی بڑے مجمع کے سامنے وہ اپنی بات سے مکر نہیں سکتا تھا اور نہ ہی وہ ماہی ساتھ ایسی کوئی زیادتی کرنا چاہتا تھا مگر زاویار نے اپنے اردگرد دیکھتے ہوئے سوچا
آپ نے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا اگر آپ اجازت دیں تو پنچایت خود فیصلہ کرلے کیونکہ پنچایت کا وقت بہت قیمتی ہے جیسے یوں ضائع نہیں کیا جا سکتا پنچایت کی بات سنتے ہی زاویار نے صدیق کی طرف دیکھا
ہم ان کی بیٹی کو باعزت طریقے سے نکاح کر کے اپنے ساتھ لے جائیں گے کیونکہ ہمارے خاندان کی کچھ روایات ہیں جن کا پاس رکھنا بے حد ضروری ہے ۔
میری نسبت بچپن سے ہی میری چچازاد سے طے ہے اور یہ میرے مرحوم والد کی آخری خواہش بھی تھی۔
لہذا ہم ان کی بیٹی کا نکاح اپنے ایک بااعتماد ملازم جسے ملازم کہنا غلط ہو گا کیونکہ میرے والد اسے اپنا بیٹا سمجھتے تھے سے کریں گے _ زاویار کی بات پر اس وقت سب سے بڑا جھٹکا صدیق کو لگا مگر چھوٹے شاہ جی ۔۔۔۔۔۔؟ صدیق نے احتجاج کرنا چاہا کیا تم ہماری بات سے اختلاف کرو گے وہ بھی یوں بھرے مجمعے میں ۔۔۔۔۔۔۔؟ زاویار کے پوچھنے پر صدیق نے نفی میں سر ہلایا پھر کچھ ہی دیر میں ماہی کا نکاح صدیق ساتھ ہو گیا ۔ما ہی بے حد پرسکون تھی اور یہ بات باقیوں کے ساتھ ساتھ زاویار کو بھی ہضم نہیں ہو رہی تھی۔ لڑکی کی طرف سے نہ کوئی رونا دھونا تھا اور نہ ہی چیخ و پکار اور نہ ہی کسی قسم کی کوئی فریاد اور مزاحمت جبکہ لڑکی کے برعکس لڑکا سخت بے چین اور مضطرب تھا ۔
تو یقین مانو اللہ نے تمہیں اس لڑکی کی شکل میں تمہاری کسی نیکی کا اجر دیا ہے یہ تمہارے لئے ایک بہترین شریک حیات ثابت ہوگی یہ قدرت کا فیصلہ ہے جسے تمہیں دل سے ماننا ہو گا _ زاویار نے صدیق کو گلے لگاتے ہوئے روایتی انداز میں مبارکباد دی ۔ ہم ابھی لڑکی کو اپنے ساتھ نہیں لے کر جائیں گے بلکہ ایک ہفتے تک ہمارے گھر کی خواتین اسے پورے عزت و احترام کے ساتھ آ کر لے جائیں گی اب کیا آپ کے پاس صدیق کی امانت ہے _ زاویار کی بات پر اسلم کے ساتھ ساتھ پورے مجمعے پر سناٹا چھاگیا
بھلا ایسا کم ہوتا ہے خون بہا میں آئی ہوئی لڑکی کو کون اتنی عزت دیتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ پنچایت میں سے ایک فرد نے اعتراض کیا جس پر سب ہی اس کی حمایت میں دبا دبا احتجاج کرنے لگے
اگر کبھی ایسا نہیں ہوا تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آئندہ ہوگا بھی نہیں میں روایت بدلوں گا ۔
اس لڑکی کو پورا مان دیا جائے گا جیسے ایک نئی نویلی دلہن کو اس کے سسرال میں دیا جاتا ہے ۔
زاویار پتہ نہیں نئی رسم ڈال رہا تھا پرانی رسموں کو ختم کر رہا تھا یا اپنے اندر احساس جرم کو مٹانے کی کوشش تھی ۔بہرحال جو بھی تھا وہ ماہی کو عزت دینے کا سوچ چکا تھا ۔
زاویار کی باتیں سن کر ماہی نی سکھ کا سانس لیا ۔یعنی میرا اندازہ آپ کے بارے میں بالکل ٹھیک تھا آپ میرے بارے میں غلط فیصلہ کر ہی نہیں سکتے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟
اچھے انسان محبت کرنے والوں کے ساتھ زیادتی نہیں کیا کرتے اور آپ ایک اچھے انسان ہیں ۔
ماہی کے ذہن میں ایک شعر آیا جو اس نے اپنے کالج کے دور میں کہیں پڑھا تھا مگر اس وقت اِس کا مفہوم سمجھنے سے قاصر تھی جو آج زاویار کی باتوں نے اسے آسانی سے سمجھا دیا تھا۔
“اک اپنی ذات کی خاطر تمام ماحول کی نفی کرنا
بہت مشکل ہے اپنی ہستی کو معتبر کرنا”
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
حسن انتہائی اداس لان میں بیٹھا دادا جی کی باتوں کو سوچ رہا تھا کبھی کبھی قدرت والا کیا کمال کرتا ہے ہم جسے شہر میں ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں وہ ہمارے آس پاس ہی ہوتا ہے مگر نظر نہیں آتا ۔
تم یہاں بیٹھے کیا کر رہے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عروسہ نے اسے رات کے اس پہر لان میں بیٹھا دیکھ کر حیرت سے پوچھا
اور اگر یہی سوال میں تم سے پوچھوں تو حسن نے سوال برائے سوال کیا
تو میں یہی کہوں گی کہ میں وسام سے بات کرنے آئی تھی ہم بھاگنے کی پلاننگ کر رہی ہیں نااااا عروسہ نے رازداری سے بتایا
ہم نہیں وسام اپنا جملہ درست کرو۔ حسن نے بیزاری سے جواب دیا
ایک ہی بات ہے _عروسہ نے منھ بنایا
ایک بات نہیں ہے اور سنو تمہاری پھوپھو اب کیسی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حسن نے عروسہ کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
ٹھیک ہے مگر تم کیوں پوچھ رہے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عروسہ کو اب کی بار حیرت ہوئی
کہیں دادا جی نے تمہیں بھی تو ان کے بارے میں نہیں بتا دیا ان کا بس نہیں چلتا کہ پورے شہر میں اعلان کر دیں اچانک چونکتے ہوئے عروسہ نے اپنے برابر بیٹھے حسن کی طرف دیکھا
ہاں وہ کل ان کے بارے میں بتا رہے تھے کیا وہ شروع سے ہی ایسی ہیں یا پھر کوئی حادثہ وغیرہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حسن نے سامنے دیکھتے ہوئے پوچھا
پتہ نہیں مجھے زیادہ تو معلوم نہیں مگر سنا ہے کہ پہلے وہ بالکل ٹھیک تھی پھر آہستہ آہستہ انہیں کسی چیز کا سایہ ہو گیا عروسہ کی بات پہ حسن نے زور سے قہقہہ لگایا
سایہ یہ بھی ٹھیک ہے اپنی جان بچانے کا آسان طریقہ خیر یہ بتاؤ تمہارے بابا کیسے انسان تھے۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟ حسن کی اس عجیب و غریب بات پر عروسہ نے اسے گھور کر دیکھا
بہت ہی اچھے انسان تھے میں نے ان کی سب سے تعریفیں ہی سنی ہیں۔ مگر تم کیوں پوچھ رہے ہو ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عروسہ نے اب باقاعدہ حسن کی طرف مڑتے ہوئے کہا
میں نے گاؤں جانا ہے مجھے تمہاری پھوپھو سے ملنا ہے حسن نے سامنے دیکھتے ہوئے کہا مگر مجھے گاؤں پسند نہیں ہے اسی لیے میں یہاں رہتی ہوں میرا وہاں دل نہیں لگتا۔پتہ نہیں کیوں مجھے وہاں وحشت ہوتی ہے میرا دل گھبراتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عروسہ نے جھرجھری لی (جہاں ظلم ہوتا ہے وہاں سے وحشت ہی ہوتی ہے) اگر تم چاہتی ہو کہ میں تمہارا ساتھ دوں تو پھر تمہیں شادی سے پہلے میرے ساتھ گاؤں جانا ہوگا ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حسن کی بات پر عروسہ کچھ پریشان سی ہوگی مگر فی الحال تو ایسا ممکن نہیں ہے ۔دو تین دن ہی رہ گئے ہیں میں ایسے کیسے جا سکتی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ویسے بھی گاؤں سے تقریبا سبھی لوگ یہاں آ جائیں گے تو ایسے میں عروسہ نے وضاحت دی۔
چلو ٹھیک ہے پھر اپنی پھوپھو کو بھی ضرور بلوانا مجھے ان سے ملنا ہے _ حسن کی بات پر عروسہ کا پھر منہ بن گیا وہ کہیں بھی آتی جاتی نہیں ہیں پھر بھی میں کوشش کرتی ہوں عروسہ نے حسن کے ناراض ہونے کے ڈر سے بات بنائی حالانکہ وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ اس کی پھوپھو یہاں نہیں آئیں گی اور نہ ہی انہیں کوئی لائے گا ۔
اچھا چلو چھوڑو اور یہ بتاؤ کہ بھاگنے کا پلان کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حسن کو عروسہ پر ترس آگیا ۔
وہ وسام کہہ رہا ہے کہ بارات والے دن ہوٹل سے واپسی پر وہ مجھے لے جائے گا اور تم شور مچا دینا کہ میں اغوا ہو گئی ہوں عروسہ کی معصومیت پر دل کھول کے حسن کو غصہ آیا
اغوا کا مطلب سمجھتی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حسن نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
یہ اصلی والا اغوا نہیں ہے بس ایک ڈرامہ ہے عروسہ نے حسن کے حیران ہونے پر افسوس سے سر ہلایا
“اغوا” وہ بھی ایک لڑکی کا تمہیں یہ سب جو ابھی محض ایک ڈرامہ لگ رہا ہے کہیں بعد میں حقیقت بن جانے پر پریشان نہ کرے حسن نے سمجھایا
نہیں تم بے فکر ہو ایسا کچھ نہیں ہوگا وسام مجھ سے بہت محبت کرتا ہے عروسہ کے چہرے پر ایک خوبصورت سی مسکراہٹ آ گئی
چلو دیکھتے ہیں آگے بتاؤ کہ میں نے کیا کرنا ہے اور میرے حصے کے پیسے تم مجھے کب کیسے اور کہاں دوں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
حسن نے اسے مزید سمجھانا فضول سمجھا اور ذہن میں اس کی باتوں کے ساتھ ساتھ ایک پلان ترتیب دینے لگا ۔
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
یہ تم کیا کہہ رہے ہو تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہو گیا یہ تو ہم سب کو پاگل بنا رہے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
تمہیں بدلہ لینے کو کہا تھا اور تم نے مہرالنساء کا غصہ کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا جب کہ سکینہ الگ صدیق کی شادی کا سن کر صدمے میں تھی ۔
زاویار سرجھکائے ماں کے گھٹنے ساتھ لگا بیٹھا تھا ۔ماں اس لڑکی کی اس میں کیا غلطی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ بڑی دیر بعد اس کے منہ سے یہ جملہ نکلا جو کہ یقینا بے موقع محل تھا ۔
ہاں تو کس نے کہا تھا بدلے میں لڑکی لینے کو میں نے کہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ مہرالنساء نے زاویار کا ہاتھ ایک جھٹکے سے پیچھے کیا ۔
اس کا باپ کسی صورت اپنا بیٹا ہمارے حوالے کرنے کو تیار نہ تھا تو اگر میں یہ نہ بھی کرتا تب بھی پنچایت نے یہی فیصلہ کرنا تھا آپ سمجھتی کیوں نہیں ہیں زاویار نے بے بسی سے ماں کو تھاما ۔
جبکہ دہلیز پر صدیق ایک بت کی مانند کھڑا سارا تماشا دیکھ رہا تھا کیونکہ وہ تو خود ابھی صدمے میں تھا کہ اس کے ساتھ کیا ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
تم اسے سمجھا نہیں سکتے تھے یہ تو نادان تھا یہاں کی رسم و رواج سے نا آشنا مگر تم نے تو بڑے شاہ جی ساتھ وقت گزارا ہے کیا فائدہ تمہارے اس وقت گزارنے کا اگر تم اپنے شاہ جی کا بدلہ ہی نہیں لے سکے ۔مہرالنساء اچانک اٹھ کر صدیق کے سامنے کھڑی ہو گئی۔
شرم نہیں ایسا کرتے ہوئے بجائے اس کے کہ تم شاہ جی کے قاتلوں کو پکڑتے تم نے شادی کر لی ۔
چٹاخ جذبات میں آکر مہرونساء کا ہاتھ صدیق پر اٹھ گیا ۔تھپڑ کی آواز سے کمرے میں ایک دم سکوت چھا گیا مگر سکتہ میں بیٹھی سکینہ کو جیسے ہوش آ گیا۔
یہ کیا کر رہی ہیں آپ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ زاویار نے تیزی سے ماں کو پکڑا جبکہ سرخ چہرے لیے صدیق ایک انچ بھی پیچھے نہ ہٹا۔
اس کی کوئی غلطی نہیں ہے یہ سب اس نے میرے کہنے پر کیا ہے۔ آپ نے جتنا بھی مارنا ہے مجھے ماریں اس کو کیوں مار رہی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
اس حویلی کی عورتوں نے کبھی کسی مرد پر ہاتھ اٹھایا ہے یہ آج آپ کیا کر رہی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ زاویار نے چیختے ہوئے مہرالنساء کو ہوش میں لانے کی کوشش کی۔
مجھے اپنے خاوند کا قاتل چاہیے اور بس _ مہرالنساء کا بلڈ پریشر بڑھنے لگا اور ان کی آنکھیں لال انگارہ ہوگی
عفت بی کیا آپ میری کچھ مدد کریں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ زاویار نے خاموش کھڑی عفت بی کی طرف مدد طلب نظروں سے دیکھا
تائی جی بالکل ٹھیک کہہ رہی ہیں ہمیں قاتل سے مطلب ہے اس کے گھرانے سے نہیں عفت بی نے کہتے ہوئے مہروالنسا کی طرف قدم بڑھائے
آپ بھی نہیں سمجھ رہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ زاویار کو شدید دکھ ہوا
نہیں _ عفت نے جواب دے کر مہرونساء کو اپنے ساتھ لگایا ۔
جب کہ سکینہ نے ایک پرشکوہ نگاہ سے صدیق کو دیکھا جیسے کہہ رہی ہوں ” تم نے میرے ساتھ اچھا نہیں کیا” اور کمرے سے باہر نکل گئی ۔
اب ان کو کیا ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ صدیق نے ایک گہرا سانس خارج کیا اور گلا صاف کرتے ہوئے جانے کی اجازت چاہی۔
ٹھیک ہے تم بھی اب جا کر آرام کرو زاویار نے صدیق کو جانے کا کہا کیونکہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کے خاندان کا مزید تماشا وہ دیکھے
میں بہت تھک گیا ہوں باقی باتیں بعد میں اگر برا نہ لگے تو ایک کپ چائے میرے کمرے میں بھیجوا دیں۔ زاویار نے ناراض لہجے میں عفت سے کہا
زاویار کو اپنے کمرے کی طرف بڑھتا دیکھ کر مہرونساء نے ایک شکوہ کناں نظروں سے عفت کو دیکھا
تم نے دیکھا اس نے آج کیا کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
اس طرح میری شاہ جی کو انصاف ملے گا ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
کیا ان کے قاتل کو سزا مل جائے گی ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
مجھے صرف قاتل چاہیے اس کی موت چاہیے اور بس ___ مہرالنساء کی بے چینی پر عفت نے انہیں اپنے ساتھ لگا لیا ۔کیونکہ فلحال انہیں تسلی دینے کے لیے عفت کے پاس الفاظ نہیں تھے ۔
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
جاری ہے.
