Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 6

فرزین دیکھو کب سے فون بج رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ رضیہ بیگم جو سر پہ مہندی لگا کر تخت پوش پر بیٹھی تھیں فرزین کو آوازیں دینے لگیں.
پھپھو جان میں ابھی فون نہیں اٹھا سکتی ابھی ڈرامے میں ہیروئین کی رخصتی ہو رہی ہے سارا مزہ خراب ہو جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فرزین نے ٹی وی لاؤنچ سے آواز لگائی۔ آپ ماموں جان سے کہیں کہ وہ فون اٹھا لیں۔ فرزین کی بات کمرے سے نکلتے اقبال صاحب نے با خوبی سنی اور افسوس سے سر ہلایا
میں تم دونوں ماں بیٹی سے سخت تنگ ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اقبال صاحب آگے بڑھاتے ہوئے فون اٹھانے لگے
بابا آپ کہاں تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ کب سے فون کر رہا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ باقی گھر والے کہاں ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ سعد نے غصے سے پوچھا
بیٹا یہی سوال دن میں دس دس بار میں تمہاری ماں سے پوچھتا ہوں خیر تم بتاؤ گھر کب آ رہے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ ہم سب نہیں بلکہ صرف “میں” تمہیں بہت مس کرتا ہوں۔ اقبال صاحب کی بات پر رضیہ بیگم نے انہیں حیرت سے دیکھا
تمہاری ماں اور فرزین ڈرامہ دیکھ کر اپنا دن گزار لیتی ہیں مگر میں بہت بور ہوتا ہوں۔ کب تم آؤ گے اور کب ہم باپ بیٹا شطرنج کھیلیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟اقبال صاحب کی بات پر سعد مسکرا دیا
بس بابا ایک مہینہ ہی رہ گیا ہے پھر انشاءاللہ پیپرز اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے سعد آپ کے پاس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سعد نے محبت سے جواب دیا
اس کا مطلب ہے کہ تم اس مہینے گھر چکر نہیں لگاؤ گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ تمہارے بغیر گھر بہت سونا لگتا ہے ۔تم تو ہمارے گھر کی رونق ہو۔ اقبال صاحب اداس ہوں گے
بابا اداس مت ہوں۔ بس ایک مہینے کی بات ہے۔ پھر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے میں آپ کے پاس آ جاؤں گا ۔سعد نے تسلی دی
خود ہی باتیں کرتے رہیں گے یا میرے ساتھ بھی بات کروائیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ رضیہ بیگم نے غصے سے اقبال صاحب کی طرف دیکھ کر کہا
آپ کے سر پر تو مہندی لگی ہوئی ہے آپ کیسے بات کریں گی ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ اقبال صاحب کے یاد کرانے پر رضیہ بیگم نے سخت تیوروں سے انہیں گھورا اور تخت پوش سے نیچے اترنے لگیں
“سر پر مہندی لگی ہوئی ہے پاؤں میں نہیں جو نہ آ سکوں۔”
یہ لو بچے اپنی ماں سے بھی بات کر لو۔ اقبال صاحب نے رضیہ بیگم کو فون دیتے ہوئے سعد کو خدا حافظ کیا۔
سعد جلدی گھر واپس آ جاؤ میری تو آنکھیں تمہیں دیکھنے کے لیے ترس گئیں ہیں۔ جیسے ہی نیا مہینہ شروع ہوتا ہے مجھے تمہارے آنے کا انتظار لگ جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں اور فرزین تمہاری ہی باتیں سارا دن کرتے رہتے ہیں۔ فرزین کے نام پر سعد نے سر نفی میں ہلایا
امی آپ کی حد تک تو بات بلکل ٹھیک ہے مگر فرزین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیوں غلط بیانی سے کام لے رہیں ہیں ۔میں اسے بہت اچھے سے جانتا ہوں وہ مجھے یاد کر ہی نہیں سکتی ۔
سعد کی آواز میں دکھ تھا جب کہ رضیہ بیگم نے کن اکھیوں سے فرزین کو دیکھا جو پورے دھیان سے ڈرامہ دیکھنے میں مگن تھی۔
ایسی بات نہیں ہے بیٹا تم بات سمجھنے کی کوشش کرو ۔۔۔۔۔۔تم بہت جذباتی ہو ۔لڑکوں کو اتنا جذباتی نہیں ہونا چاہیے ۔۔۔۔۔۔۔۔ رضیہ بیگم نے سمجھانے کی کوشش کی
امی یہی بات آپ اسے کیوں نہیں سمجھاتیں ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ سعد نے چڑ کر جواب دیا
بچے وہ تو لڑکی ہے اور لڑکیاں تو ہوتی ہی جذباتی ہیں مگر لڑکوں نے پورا گھر سنبھالنا ہوتا ہے ۔تمہارے کندھوں پر بہت ذمہ داریاں ہیں۔ اگر تم اس طرح جذباتی ہوگئے تو کیسے ذمہ داریاں نبھاؤ گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟ رضیہ بیگم نے سمجھانے کی کوشش کی۔
اچھا ٹھیک ہے پھر بات کرتا ہوں میرے لیے دعا کرنا پیپر شروع ہونے والے ہیں ۔سعد نے بات بدلی۔
ٹھیک ہے اپنا خیال رکھنا اور میری ساری دعائیں میرے پیارے بیٹے کے لئے ہی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ رضیہ بیگم نے محبت سے سعد کو خدا حافظ بولا
فرزین جو بظاہر انہماک سے ڈرامہ دیکھ رہی تھی مگر اس کا سارا دھیان فون کی طرف ہی تھا۔
پتہ نہیں کیا کہہ رہا ہو گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ فرزین نے دل میں سوچا
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
اس وقت “سائیں بابا” کے دربار پر انور اپنے جیسے دوستوں کے ساتھ تاش کھیل رہا تھا جب اسے منیر نے اشارہ کرتے ہوئے اپنی طرف بلایا.
یار تم لوگ کھیلوں میں ابھی آتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انور دوستوں کو کہتا ہوا منیر کے پیچھے چل پڑا ۔
اب رک بھی جا ۔۔۔۔۔۔۔ میرے سے زیادہ چلا نہیں جاتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا بھگا بھگا کر مجھے مارنے کا ارادہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔ منیر نے انور کی بات پر اسے مڑ کر دیکھا مگر کچھ کہے بغیر ہی دوبارہ چلنا شروع کر دیا ۔آخر کار وہ دربار کی پچھلی طرف ایک بلیک مرسڈیز کے پاس رکا ۔
سائیں انور حاضر ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ منیر نے گاڑی کے ایک طرف مودبانہ لہجے میں کھڑے ہوتے ہوئے کہا جبکہ انور نے ہانپتے ہوئے منیر کو اور پھر گاڑی کے بند کالے شیشوں کی طرف دیکھا ۔
یہ کیا ماجرہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ انور کے پوچھنے پر گاڑی کا شیشہ نیچے ہوا
میں نے سنا ہے تم بہت بہادر اور وفادار انسان ہو۔ ایک چھوٹا سا کام تم سے پڑ گیا ہے اگر وہ کام تم کردو تو ہم تمہیں منہ مانگی قیمت دیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟ یہ کہتے ساتھ ہی گاڑی کے اندر سے پانچ ہزار کے نوٹوں کی گڈی انور کی طرف آئی جسے اس نے اچھل کر اسے پکڑا
سائیں حکم کریں پیسے پکڑتے ہی انور کی آنکھوں میں ایک خاص چمک ابھری ۔۔۔۔۔۔۔۔ سارا نشہ ایک دم غائب ہو گیا ۔
منیر اسے کام بتا دو پھر اگر یہ ہمارا کام کرنے کی حامی بھر لے تو اسے میرے ڈیرے پر لے آنا ۔ ساتھ ہی گاڑی کا کالا شیشہ دوبارہ بند ہوا اور گاڑی دھواں اڑاتی ہوئی غائب ہو گئی ۔
یہ کون تھے اور انہیں مجھ سے کیا کام ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟انور نے گاڑی کو جاتا دیکھ کر منیر سے پوچھا
چل تجھے بتاتا ہوں مگر پہلے کچھ دعوت شاوت دو ۔۔۔۔۔۔۔۔ منیر نے پیسوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انور سے کہا
ہاں ہاں کیوں نہیں ضرور جو کہے گا وہی کھلاؤں گا مگر مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ ان کو مجھ سے کیا کام ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ انور بہت کنفیوز تھا
یار زیادہ پریشان ہونے والی بات نہیں ہے میں ہوں نہ تیرے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بس ایک چھوٹا سا کام ہے وہ تو تُو آرام سے کر دے گا میں جانتا ہوں تجھے ، تیرے بائیں ہاتھ کا کام ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ منیر میں مکھن لگایا ۔
انور کو بات تو ذرا سمجھ نہیں آئی مگر پیسوں کی لالچ میں وہ سر ہلانے لگا۔
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
حسن بمشکل اس اچانک آفت پر سنبھل ہی تھا کہ اپنے سامنے والے کو دیکھ کر چیخ پڑا اور یہی حالت سامنے والے کی تھی۔
تم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ موٹی اگر تم میرے اوپر گر جاتی تو پتہ ہے میری ایک ایک ہڈی “فریکچر” ہو جاتی اور میں اپنی بھری جوانی میں معذور ہو جاتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حسن نے پیچھے ہٹتے ہوئے اپنے کپڑے درست کیے جبکہ عروسہ بالکل گم سم اسے دیکھ رہی تھی۔
یہ تم کس کی شادی کا “تمبو” لپیٹ کر پھر رہی ہو ۔۔۔۔۔۔۔ سوری میرے خیال سے تم نے شادی والا ڈریس پہنا ہوا ہے مگر کیوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ حسن نے ابھی اتنا ہی کہا تھا کہ عروسہ بول پڑی۔
دیکھو میں ابھی بہت “مصیبت” میں ہوں۔تم میری مدد کر دو میں وعدہ کرتی ہوں کبھی مصیبت میں ، میں بھی تمہاری مدد کر دوں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔ عروسہ نے التجا کی ۔
دنیا کی تم واحد “مخلوق” ہو جو مصیبت میں دلہن بنی ہوئی ہے ۔ مصیبت میں کون اتنی تیاری کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ حسن نے سر سے لے کر پاؤں تک عروسہ کو دیکھتے ہوئے پوچھا
دیکھو پلیز میری مدد کرو اللہ تمہیں ثواب دے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عروسہ نے قائل کرنا چاہا
اللہ تو ثواب دے گا مگر تم بدلے میں کیا دو گی ۔۔۔۔۔۔ُ۔؟ حسن نے مزے لیتے ہوئے پوچھا
تمہیں کیا چاہیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ عروسہ نے دروازے کی طرف دیکھتے ہوئے جلدی جلدی سوال کیا
بہت سارے پیسے ۔۔۔۔۔۔۔۔ روپیہ مال و دولت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حسن نے ہاتھ کے اشارے سے بتایا
پکا تم جتنا مانگو گے میں اس سے زیادہ تمہیں دوں گی مگر فی الحال ۔۔۔۔۔۔۔۔ عروسہ کے الفاظ ابھی منہ میں ہی تھے جب دروازہ ایک دھماکے سے کھلا اور چار پانچ ہٹے کٹے لوگ اندر داخل ہوئے۔
مجھے لڑائی بالکل نہیں آتی میں ان سے نہیں لڑ سکتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حسن نے اپنے پیچھے چھیتی عروسہ کو بتایا۔
لڑنا نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بس باتوں سے قابو کرو یہ خود بھی بہت ڈرپوک ہے لڑنے سے تو دور بھاگتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عروسہ نے سرگوشی کی
اچھا تو یہ ہے وہ لڑکا جس کے لئے تم نے شادی سے انکار کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟ ان آدمیوں میں سے ایک بزرگ نما آدمی نے پوچھا
دادا سائیں یہی ہے وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عروسہ نے حسن کو کندھوں سے پکڑتے ہوئے جواب دیا
میرا “ننھا منا “وجود تمہارے “سلسلہ قراقرم” کو چھپانے سے ناکام ہے اس لیے بہتر ہے کہ تم میرے برابر کھڑی ہو کر بات کرو ۔۔۔۔۔۔۔۔ حسن کی بات پر عروسہ کے علاوہ کمرے میں موجود تمام لوگوں نے ایک جاندار قہقہ لگایا
ٹھیک ہے عروسہ تم اس لڑکے کے پیچھے سے نکل آؤ ۔۔۔۔۔۔۔ آؤ بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔ہم تمہیں یا اس لڑکے کو کچھ نہیں کہیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک اور آدمی جو باقیوں کی نسبت دیکھنے میں سمجھدار نظر آ رہا تھا بولا
پھر بزرگ کے کہنے پر کچھ لوگ صوفے پر اور کچھ بیڈ پر بیٹھ گئے۔
اگر آپ لوگ اجازت دیں تو میں بھی نیچے بیٹھ جاؤ کیونکہ اوپر بیٹھنے کے لئے تو کوئی جگہ بچی ہی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حسن نے پورے کمرے میں نظر گھماتے ہوئے انھیں شرمندہ کرنا چاہا ۔
برخوردار آرام سے بیٹھ کر ہماری بات سنو۔ بزرگ نے اس بار نرمی سے حسن کی طرف دیکھ کر کہا جس پر حسن نے ایک گہرا سانس لیا اور نیچے کارپٹ پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا ۔
بولیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ حسن نے ناگواری سے پوچھا
بات کرنے سے پہلے ہمیں ایک دوسرے کا تعارف معلوم ہونا چاہیے عروسہ پتر پہلے آپ تعارف کروائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بزرگ نے ایک بار پھر عروسہ کو مخاطب کیا
یہ میرے دادا ابو “حیدر جٹ” ہیں۔ ان کے ساتھ چچا “عباس جٹ” ان کے ساتھ تایا “غازی جٹ” اور یہ میرے پھوپھا “امجد جٹ” اور یہ والے میرے کزن “حامد جٹ” ہیں ۔۔۔۔۔۔عروسہ نے دبی دبی آواز میں حسن کو بتایا جسے اس نے بڑے مزے سے سنا جیسے ان کا تعارف سننے کے لیے سخت بے تاب ہو۔
چل پتر اب اس لڑکے کا تعارف بھی ہمارے ساتھ کروادے عباس جٹ کے کہنے پر عروسہ نے مسکین سی شکل بنا کر حسن کو دیکھا جس پر اس نے سر کو خم دے کر عاجزی کا مظاہرہ کیا
(مجھے تو اس لڑکے کا نام بھی نہیں آتا اب کیا تعارف کرواؤں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ عروسہ دل ہی دل میں پریشان تھی جب حسن کی آواز اس کے کانوں میں پڑی )
میں اپنا تعارف خود کروا دیتا ہوں۔ میرا نام حسن ہے ۔ایک میرا چھوٹا بھائی علی ہے۔ ہمارے ماں باپ فوت ہوگئے ہیں۔ ہم دونوں “بی بی اے” کے سٹوڈنٹ ہیں۔ یہاں ہوسٹل میں رہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔حسن کے جواب پر عروسہ نے سکھ کا سانس لیا
پتر یہ تو تیری یونیورسٹی کا نہیں ہے پھر تجھے کہاں ملا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ دادا کو اس بار سخت تعجب ہوا وہ تو سمجھے تھے کہ شاید کلاس فیلو ہو۔
وہ یہ مجھے ایک ” پارکنگ” میں ملی تھی۔ بس پھر نہ پوچھیں کتنی دیر ان کے سوا مجھے کچھ نظر ہی نہیں آیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حسن نے عروسہ کو آنکھ ماری ۔ اس کا اشارہ عروسہ کی صحت کی طرف تھا جسے عروسہ نے بخوبی سمجھا مگر فی الحال وہ جواب دینے کی پوزیشن میں نہیں تھی ساتھ ہی پارکنگ والا پورا واقعہ آنکھوں کے سامنے گھوم گیا ۔
یعنی تم پہلی نظر میں ہی ہمارے پتر کے دیوانہ ہو گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دادا کی بات پر حسن کی پوری آنکھیں کھل گئیں ۔
تعجب ہے عجیب مراثی فیملی ہے ۔ بجائے یہ کہ اس بات پر میری چھترول کرتے مسکرا رہے ہیں ۔
جی بالکل میں اور یہ آپ کی پوتی جو کافی ساری پوتیوں کے برابر ہے۔ ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں اور اس بات کا علم بھی مجھے ابھی ابھی اس کمرے آنے کے بعد ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔حسن کی بات پر ایک بار پھر کمرے میں قہقہ گونجا
یہ بچہ تو بالکل ہمارے مزاج کا ہے ۔۔۔۔۔ اس بار تایا غازی نے ہنستے ہوئے چچا عباس سے کہا
ٹھیک ہے پتر عروسہ تیری شادی امجد سے کینسل ہم تیری پسند پر خوش ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ کب سے تجھے کہہ رہے تھے کہ ہمیں لڑکے سے ملوا دے مگر تو ٹال مٹول کر رہی تھی۔ اگر تو پہلے ملوا دیتی تو ہم تیرے ساتھ زبردستی نہ کرتے مگر چلو “دیر آئے درست آئے”۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دادا نے سب کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
پتر حسن اصل میں میرے دو ہی پوتا پوتی ہیں ایک عروسہ اور دوسرا امجد ۔۔۔۔۔۔۔ اس کا تایا یعنی میرا پتر اور اس کی پھوپھو یعنی میری بیٹی دونوں ہی اولاد کی نعمت سے محروم ہیں۔
ہم نے سوچا اگر یہ دونوں کسی اور کو پسند نہیں کرتے تو ہم ان کی آپس میں شادی کر دیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ امجد کو تو کوئی اعتراض نہیں تھا مگر عروسہ نہیں مان رہی تھی اس لیے ہمیں زبردستی کرنی پڑی۔ اگر یہ تیرے بارے میں پہلے ہمیں بتا دیتی تو ہم کبھی زبردستی نہ کرتے ۔۔۔۔۔۔۔۔ دادا نے حسن کی طرف دیکھتے ہوئے وضاحت دی۔
ہمیں تُو پسند آ گیا ہے چل اٹھ اب ہمارے گلے لگ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دادا کے کہنے پر سب نے باری باری حسن کو گلے لگایا
یہ ہماری “اکلوتی پوتی” ہے اس خاندان کی “اکلوتی بیٹی” تو نے اسے خوش رکھنا ہے۔ کسی صورت بھی اس کی آنکھوں میں آنسو نہیں آنے چاہیے ورنہ تو جٹوں سے واقف نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔چچا عباس نے اپنے طور پر حسن کو دھمکی لگائی ۔
ویسے چچا “اکلوتی پوتی”ہونے کا یہ مطلب تو نہیں ہوتا کہ آپ ساری پوتیوں کے حصے کا کھانا اس اکلوتی پوتی کو کو کھلا دیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حسن کی بات پہ ایک بار پھر سب ہنسنے لگے
جیتا رہ ۔۔۔۔۔ خوش رہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تیری یہی ہنس مکھ طبیعت مجھے پسند آئی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ دادا نے ایک بار پھر حسن کو زور سے اپنے ساتھ لگایا
دوسری طرف علی بار بار کمرے کی طرف دیکھ رہا تھا جس کی لائٹ کچھ دیر پہلے آن ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔ُ اللہ خیر کرے پتا نہیں حسن نے اتنی دیر کیوں لگا دی ہے۔ابھی علی سوچ ہی رہا تھا کہ اس کے فون پر حسن کی کال آئی۔
چل اوپر آجا تجھے زبردست کھانا کھلاتا ہوں۔ تو بھی کیا یاد کرے گا بھائی کا سسرال ہے آخر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور سن کوئی تجھ سے پوچھے تو کہہ دینا تو میرا چھوٹا بھائی ہے اور ماں باپ کا کافی ٹائم پہلے “خود بخود” انتقال ہوگیا تھا اور انتقال ہونے کی وجہ مت بتانا۔ہر بار کہانی مختلف بتاتا ہے۔حسن کی بات پر علی بالکل پریشان ہوگیا ۔
کیا بات ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ سر پر چوٹ لگی ہے کیسا سسرال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ کس کا سسرال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟کونسا بھائی ۔۔۔۔۔۔۔۔ علی حیرت کے سمندر میں غوطہ لگا رہا تھا۔
زیادہ بکواس مت کر اور سیدھا اندر آ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ُ کوئی تجھے کچھ نہیں کہے گا۔ حسن نے کہتے ساتھ ہی کال بند کر دی جبکہ علی ہکا بکا رہ گیا ۔
یہ اندر تو کسی اور کام سے گیا تھا اور کرنے کچھ اور لگ گیا ہے ۔ خود تو مرے گا ہی ساتھ میں میرا پیکچ بلکل مفت لگے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ علی سوچتا ہوا اندر کی طرف بڑھ گیا۔
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
جاری ہے