Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 23

میں نے تم دونوں کو یہ بتانے کے لیے بلایا تھا کہ اس جمعہ کو تم دونوں کی بارات ہے اور اتوار والے دن ولیمہ چچا عباس نے عروسہ اور حسن کی طرف دیکھتے ہوئے بتایا
آپ کا بہت بہت شکریہ ( آپ نے اپنی بے مقصد زندگی کی پرواہ کیے بغیر ہم تک یہ خبر پہنچائی ) حسن نے مسکراتے ہوئے جواب دیا
ٹھیک ہے دادا جی مجھے منظور ہے اب میں چلتا ہوں حسن نے جانے کے لیے اجازت چاہیے کیونکہ اب وہ مزید یہاں روک کے بور نہیں ہونا چاہتا تھا ویسے بھی کیا پتا کب دادا جی کو گلے ملنے کا دورہ پڑ جائے ۔ ابھی بیٹھو کچھ اور ضروری باتیں بھی کرنی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ دادا جی نے حسن کو اٹھتا دیکھ کر کہا عروسہ بیٹے اب تم جاؤ ہم نے حسن سے اکیلے میں کچھ خاص باتیں کرنی ہے _
چچا عباس نے کہا اور امجد نے ایک سخت نگاہ حسن پر ڈالی جب کہ عروسہ کچھ حیران ہوئی مگر وہ چپ چاپ اٹھ کر چلی گئی۔
امجد اور عروسہ یہ دونوں ہی ہمارے گھر کے بچے ہیں ہم نے سوچا تھا کہ اپنی ساری جائیداد ان دونوں کے نام کردیں گے مگر اب دادا جی نے حسن کی طرف نگاہ اٹھائی۔
اصل میں بات کچھ یوں ہے کہ _ جوں جوں دادا جی بات کرتے جارہے تھے حسن کا رنگ اڑتا جا رہا تھا سانس گلے میں آکر اٹک گئی تھی اور وہ ایسے ساکت تھا جیسے اس کے کندھوں پر پرندے بیٹھے ہوں جو ذرا سے ہلنے سے اڑ جائیں گے ۔
“دفع ہو جاؤ ہماری نظروں سے دور
اب تمہارا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے ۔تم جیسی گندی لڑکی کو تو پیدا ہوتے ہی مر جانا چاہیے تھا
امی نے کچھ نہیں کیا آپ میری بات ایک دفعہ سن لیں ہاجرہ نے چلاتے ہوئے ماں سے کہا
وہ سب جھوٹ بول رہے ہیں بول کیا تو اسے نہیں جانتی تو اس سے ملنے نہیں گئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
اماں کے سوال پر وہ کچھ شرمندہ سی ہو گئی ۔
اماں میں اسے جانتی ہوں اور ملنے بھی گئی تھی مگر
ہاجرہ نے اتنا ہی کہا تھا کہ ایک زور دار تھپڑ اس کی گال پر پڑا ۔
وارث بھائی آپ تو میرا اعتبار کریں ہاجرا نے ہاتھ جوڑتے ہوئے بھائی کی طرف امید سے دیکھا
اعتبار وہ بھی تجھ پر
قہقہے گونجنے لگے “
چچا عباس نے مٹھائی کا ڈبہ حسن کے آگے کیا اور ہنستے ہوئے اس کے کندھے پہ ہاتھ مارا
حسن کے اردگرد سب کسی بات پر خوش ہو قہقہے لگا رہے تھے مگر وہ اس وقت یہاں موجود ہی نہیں تھا ایک دم اس کا حلق کڑوا ہوگیا اور وہ تیزی سے کمرے سے باہر نکل گیا
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
زاویار جس سے واپس آیا تھا اس نے اپنے آپ کو کمرے میں بند کر لیا تھا باری باری سبھی دروازہ بجا بجا کر تھک گئے تھے ۔
میرا دل بہت پریشان ہو رہا ہے ایسا بھی کیا پنچایت نے فیصلہ کردیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ کہ وہ اتناُ پریشان ہو گیاہے
مہرالنساء نے پریشان ہوتے ہوئے کہا
بھابھی آپ خوامخواہ پریشان مت ہوں ابھی صدیق کو بلوا کر پوچھ لیں کہ کیا معاملہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ سکینہ نے مشورہ دیا کیونکہ اس کا اپنا دل بھی اسے دیکھنے کو کر رہا تھا
اچھا میں دیکھتی ہوں مگر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مہرونساء کہتے ساتھ ہی کچھ دیر چپ سی ہوگیئں۔
عفت اگر تمہیں برا نہ لگے تو تم کوشش کر کے دیکھو شاید وہ کچھ کھا لے مجھے اس کی بہت فکر ہو رہی ہے مہرالنساء نے عفت کی طرف دیکھ کر آس بھرے لہجے میں کہا
اس نے آپ سب کی بات نہیں مانی تو میری کیوں مانے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ عفت کے جواب دے سکینہ اورمہرالنساء نے اسے عجیب الجھی ہوئی نظروں سے دیکھا
ہمیں اور تمہیں معلوم ہے کہ وہ کیوں مانے گا سکینہ کی بات پر عفت نے نظریں چرا لیں۔
دیکھو ہمیں پتا ہے کہ وہ تمہیں انکار نہیں کرسکتا جب وہ ہم سب سے ناراض تھا تب بھی وہ تم سے ضرور بات کرتا تھا اگر تم خود بات نہیں کرنا چاہتی تو تو الگ بات ہے مگر اسے الزام مت دو کیونکہ وہ تمہاری
سکینہ نے جملہ ادھورا چھوڑا اور باہر کی طرف چلی گئی
تم ایک دفعہ میرے کہنے پر دروازے پر دستک دوں اگر اس نے کھول دیا تو ٹھیک ورنہ میں تمہیں دوبارہ نہیں کہوں گی مہرالنساء کے کہنے پر ناچاہتے ہوئے بھی عفت زاویار کے کمرے کی طرف چل پڑی۔
باہر آتے ہیں اسے کہیں بھی صدیق نظر نہیں آیا سب نوکر اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے مین گیٹ کے پاس ہر وقت چار یا چھ نوکر موجود ہوتے تھے جو اب بھی موجود تھے مگر ان میں کہیں بھی صدیق نہیں تھا مجبور سکینہ نے ہاتھ کے اشارے سے جیدے کو اپنے پاس بلایا
جی بی بی جی حکم جیدہ ایک اشارے پر ہی بھاگا بھاگا آیا اور سکینہ کے سامنے سر جھکا کے کھڑا ہو گیا۔
صدیق کدھر ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ سکینہ نے بامشکل اپنے غصے کو کنٹرول کرتے ہوئے تیز لہجے میں پوچھا
عفت نے دروازے پر تھوڑی دیر رک کر ایک گہرا سانس خارج کیا اور پھر ہلکے سے دستک دی جو شاید اتنی آہستہ تھی کہ عفت کو خود بھی ٹھیک سے سنائی نہ دی ۔
چھوٹے چلو شاباش دروازہ کھولو کیونکہ سب گھر والے تمہارے لیے بہت پریشان ہو رہے ہیں بہت ہو گیا اب باہر آؤ
عفت نے باہر سے آواز لگائی مگر پھر بھی دروازہ نہیں کھلا
تم دروازہ کھول رہے ہو یا میں ڈبلیکیٹ key دروازہ کھولو عفت نے دھمکی دی۔
اب کی بار بھی مکمل خاموشی تھی عفت نے دروازے کی طرف ایک نظر دیکھا اور پھر سر نفی میں ہلاتی ہوئی مڑنے لگی مگر اس سے پہلے کہ وہ جانے لگتی دروازے کے لاک کھولنے کی آواز آئی ۔
عفت نے واپس مڑتے ہوئے ہنڈل گھمایا تو دروازہ کھلتا چلا گیا زاویار سرخ آنکھوں اور کالے لباس بھی بہت ہی وحشت زدہ لگ رہا تھا ۔
چھوٹے کیا ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عفت نے دروازے میں ہی کھڑے کھڑے پوچھا
کچھ نہیں
زاویار کے جواب پر وہ چپ سی ہو گئیں۔
کھانا کھا لو عفت نے کہا
جی بہتر زاویار کی فرمانبرداری پر وہ اب اور کیا کہتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
تم ٹھیک ہو
عفت نے تیسرا سوال کیا
نہیں
زاویار نے اسی لب و لہجے میں جواب دیا
کیوں کیا ہوا ہے تمہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عفت نے اب کی بار دوبارہ اس کی سرخ آنکھوں میں جھانکتے ہوئے پوچھا
اگر آپ نے یہ سب اتنی جلدی میں پوچھنا ہے تو معذرت
زاویار نے دروازے کے بیچ میں کھڑی عفت کی طرف دیکھ کر کہا
تم آگے سے ہٹو گے تو میں اندر آؤ گی ناااااا عفت نے بات بنائی حالانکہ وہ اندر نہیں آنا چاہتی تھی ۔
آپ اندر آنا ہی نہیں چاہتی ورنہ جگہ بہت ہے
زاویار نے اپنے دائیں پہلو کی طرف اشارہ کیا
عفت نا چاہتے ہوئے بھی کمرے میں موجود واحد صوفے پر بیٹھ گئی جبکہ زاویار اسی طرح دروازے کے ساتھ کھڑا رہا۔
اب بتا بھی دو کی کیا بات ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عفت نے زاویار کو چپ دیکھ کر پوچھا
کہاں سے بتانا شروع کروں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ زاویار کا لہجہ دکھ سے بھرا ہوا تھا
جہاں سے تمہارا دل کرتا ہے عفت نے اس کی مشکل آسان کی ۔
میں جس اکیڈمی میں پڑھاتا تھا وہاں میری ایک سٹوڈنٹ تھی۔جس کا نام ماہین تھا پیار سے سب اسے ماہی بلاتے ہیں۔
بڑی ہیں زندہ دل خوش مزاج اور شرارتی سی لڑکی ہے
زاویار کہتا ہوا قدم قدم عفت کی طرف بڑھ رہا تھا
جبکہ عفت اسے حیرت سے دیکھ رہی تھی پھر وہ چلتے چلتے صوفے کے قریب گلاس وال ساتھ ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا ۔
زاویار ایک ٹرانس کی کیفیت میں اسے سب کچھ بتائے جارہا تھا جبکہ عفت پہلے تو بیزاری اور اب دلچسپی سے سب سننے لگی تھی
اچھا تو یہ بات ہے _ سکینہ نے جیدے کی بات سن کر آہستہ سا زیرلب دہرایا ۔ میں جاؤ جی جب کافی دیر تک سکینہ خاموش رہیں تو جیدے نے جانے کی اجازت چاہی
ہاں جاؤ سکینہ کچھ دیر بے خیالی میں جیدے کو جاتے دیکھنے لگی جو میں سوچ رہی ہوں کہ ایسا ہی نہ ہو جائے
نہیں نہیں ایسا نہیں ہو سکتا _ سکینہ اس وقت لانن میں چکر کاٹ رہی تھی جبکہ وہ شدید ذہنی انتشار کا شکار تھی۔ مجھے زاویار سے بات کرنی چاہیے ادا سائیں ساری زندگی “ونی کی رسم ” کے خلاف رہے وہ کیسے ایسا کہہ سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
ہمیں بس خون کے بدلے خون ہی چاہیے اس کی بہن نہیں
سکینہ نے دل میں فیصلہ کیا اور زاویار کے کمرے کی طرف بڑھ گئی ۔
زاویہ اپنی بات کب کی ختم کر چکا تھا مگر عفت کے پاس الفاظ بالکل ختم ہوگئے تھے کہ وہ اسے اب کیا کہے اور کیسے کہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟
تم نے ونی والی بات کیوں کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ میرے خیال سے تمہیں ایسا نہیں کہنا چاہیے تھا کافی دیر بعد عفت نے پوچھا
میں اسے اپنی طرف سے کوئی امید نہیں دلانا چاہتا میں نہیں چاہتا کہ وہ مجھے اپنا مسیحا سمجھے یا مجھ سے کوئی بھی امید باندھے ۔
آپ نہیں جانتی وہ بہت ہی بے وقوف ہے وہ خوابوں میں رہنے والی ہے میرا ایسا کہنے سے مجھے یقین ہے کہ وہ مجھ سے بدظن ہو چکی ہوگی زاویار کا لہجہ ٹوٹا ہوا تھا
تمہیں دکھ ہو رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عفت کے پوچھنے پر زاویار نے ان کی طرف دیکھا
یہی تو مسئلہ ہے نہ دکھ ہے نہ خوشی مگر دل عجیب سا ہو رہا ہے مجھے خود بھی نہیں پتا۔ “اپنی حالت کا بھی احساس نہیں ہے مجھ کو میں نے اوروں سے سنا ہے کہ پریشان ہوں ” محبت کرتے ہو اس سے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ اب کی بار عفت نے وہ پوچھا جو وہ کافی دیر سے پوچھنا چاہ رہی تھی۔ یہ محبت مذاق نہیں ہے کہ ہر کسی سے ہو جائے میں جس سے محبت کرتا ہوں وہ مانتی نہیں اور جو مانتی ہے میں اس سے محبت نہیں کر سکتا زاویار نے عفت کو گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے جواب دیا
تو پھر تم اتنے پریشان کیوں ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عفت نے زاویار کی نگاہوں کو اگنور کرتے ہوئے پوچھا
اعتبار اعتبار_ توڑا ہے میں نے اس کا اور کسی حد تک اس نے میرا
زاویار کی آنکھوں میں اس وقت شدید مرچیں چپ رہی تھیں۔
اس لڑکی کی کوئی غلطی نہیں اس عمر میں ایسا ہو جاتا ہے خاص طور پر جب سامنے ایک خوبصورت مرد ہو تو اس سے پہلے عفت اپنی بات مکمل کرتی زاویار نے ایک جھٹکے سے ان کی طرف دیکھا
آپ میری تعریف کر رہی ہیں یا طنز ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ زاویار کے اس طرح چونکنے پر عفت کو احساس ہوا کہ اس نے ابھی کیا کہا ہے
فضول باتیں چھوڑو اور اس بات پہ دھیان دو ہمارا مقصد صرف تایا جی کے قاتل کو سزا دینا ہے نہ کہ ان کے پورے گھرانے کو
عفت کہتی ہوئی باہر جانے لگی پھر دروازے پر جا کر رکی
میں کھانا بھجوا رہی ہوں چپ چاپ کھا کر دوائی لو اور آرام کرو ۔سوچنے کے لیے ابھی پورا ہفتہ پڑا ہے جب کہ زاویار نے دوبارہ سر جھٹکتے ہوئے باہر دیکھنا شروع کیا 🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️ اب تک جیسا تو نے کہا میں نے بالکل ویسا ہی کیا مگر اب نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ میں انور کو اب ان کے حوالے کر دوں گا اگر اس نے غلط کیا ہے تو یہ سزا بھگتے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ اسلم نے ماہی کی طرف دیکھتے ہوئے سخت لہجے میں کہا ابا وہ اسے مار دیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہی نے بے بسی سے انور کی طرف دیکھا جو موت کے خوف سے برے حال میں تھا ۔ تو کیا کروں کہاں سے لاؤں ایک کروڑ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ اگر میں اپنا سب کچھ بیچ دوں تب بھی میں اتنا پیسہ اکٹھا نہیں کر سکتا یہاں تک کہ خود کو بھی اسلم نے بے بسی سے کہا
اگر آپ مجھے “ونی “کر دیں تو سارے مسئلے خود بخود حل ہوجائیں گے ماہی کا اطمینان قابل دید تھا۔ جبکہ اسلم ،انور اور نوراں تو جیسے اس کی بات پر بت بن گئے تھے ۔ ابا یہ وقت جوش میں آنے کا نہیں بلکہ ہوش سے کام لینے کا ہے چھوٹے شاہ جی ایک اچھے انسان ہیں وہ میرے ساتھ کبھی برا کر ہی نہیں سکتے ۔
اگر وہ میری شادی اپنے کسی نوکر سے کر بھی دیں تب بھی کچھ فرق نہیں پڑے گا ۔
غریب کے گھروں میں غریب کا ہی رشتہ آتا ہے شہزادے کا نہیں ماہی کی آنکھوں میں آنسو چمکنے لگے ہم سب زندگی میں بڑے بڑے خواب دیکھتے ہیں خاص طور پر لڑکیاں چاہیں وہ بڑے لوگوں کی ہوں یا غریبوں کی
مگر حقیقت اور خوابوں میں بہت فرق ہوتا ہے یہ بات جتنی جلدی سمجھ لی جائے اتنی ہی تکلیف کم ہوتی ہے ۔
اور میں نے اب یہ بات سمجھ لی ہے میں نے خوابوں میں رہنا چھوڑ دیا ہےاور حقیقت کو تسلیم کرلیا ہے میرے لیے کسی شہزادے کا رشتہ نہیں آئے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
آپ لوگ بھی اگر میری شادی کریں گے تو ایسے ہی کسی شخص سے _ پھر اب آپ کو اعتراض کیوں ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ جذبات کی بجائے عقل سے کام لیں کیونکہ جوش ہمیشہ نقصان پہنچاتا ہے اور ہوش سے کیا گیا کام سب کے لئے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے ۔ خون بہا میں ہم پیسے نہیں دے سکتے اس لیے ایک شرط تو گی ۔ دوسرا ہم انور کو نہیں دے سکتے کیونکہ یہ ہمارا خون ہے ہم اسے جان بوجھ کر موت کے گھاٹ نہیں اٹھا سکتے لہذا دوسری شرط بھی فارغ ۔ اب آتی ہے تیسری شرط تو میری شادی سے سب ٹھیک ہو جائے گا انور بھی بچ جائے گا _ پیسے بھی نہیں دینے پڑیں گے اور میری شادی بھی ہو جائے گی ماہی نے ایک گہرا سانس لیا کیونکہ اس وقت وہ ہمت نہیں ہارنا چاہتی تھی اگر وہ ہار جاتی تو اس کا گھر بکھر جاتا ۔ مگر تم نے تو کسی شہری بابو کا ذکر کیا تھا وہ کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ اسلم کو ماہی کی بات یاد آئی ابا وہ ایک “سراب” تھا ختم ہوگیا ویسے بھی اگر انہوں نے آنا ہوتا تو اب تک آ چکے ہوتے ماہی نے باپ کو تسلی دی
پھر بھی میں تمہیں ڈاکٹر بنانا چاہتا ہوں اسلم نے بے بسی سے بیٹی کی طرف دیکھا ابا اچھا ہوگا کہ آپ بھی اب خوابوں میں رہنا چھوڑ دیں اپنی اوقات پہچاننا سب سے بڑی کامیابی ہے اپنے آپ کو تکلیف میں ہم خود ڈالتے ہیں _ ماہی نے سمجھایا
جو دل کرتا ہے کرو میں اب کسی کو کچھ نہیں کہوں گا
اسلم دکھ سے چارپائی سے اٹھ کر کمرے میں چلا گیا جبکہ نوراں بھی اداس ہو گئی۔
اماں آپ کچھ نہیں بولتیں۔ کیا آپ نہیں چاہتی کہ ہمارا انور زندہ رہے اور ہماری آنکھوں کے سامنے رہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہی نے گم سم بیٹھی ماں کو دیکھ کر پوچھا
مجھے تو کچھ سمجھ ہی نہیں آ رہا ہے کیا ہو رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟ کیوں ہو رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟ ابھی کچھ دن تک تو سب کچھ ٹھیک ٹھاک تھا ۔نوراں نے اپنے آنسو چادر سے صاف کرتے ہوئے ماہی کے سر پر ہاتھ پھیرا ۔
انور تم وعدہ کرو میری قربانی کو ضائع نہیں کروں گے اور ایک اچھا انسان اور بیٹا بن کر دکھاؤ گے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہی نے انور کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا
وعدہ پکا وعدہ ماہی میں سب کچھ چھوڑ دوں گا بس تم مجھے ایک دفعہ بچالو وہ بالکل ایک چھوٹے بچے کی طرح بلک بلک کر ماہی کے ہاتھ پکڑ رہا تھا
جب کہ ماہی اب چارپائی سے اٹھ کر صحن کے دوسرے کنارے پر پودوں کی کیاریوں کے پاس جا بیٹھی تھی کیونکہ اب اپنے اوپر ضبط کرنا مشکل ہو رہا تھا ۔
یکطرفہ محبت کا یہی نقصان ہوتا ہے آپ جو مرضی کرلیں دوسرا یقین ہی نہیں کرتا سر آج آپ نے مجھے میری اوقات بتا دی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
کاش آپ صرف سر زاویار ہوتے _ سید زاویار علی شاہ نہیں _
کاش ایسا ہوتا ۔
ما ہی پھوٹ پھوٹ کر رو دی سب کے سامنے روکے گئے آنسو اب پانی کی طرح بہہ رہے تھے۔
” میں نے اپنی زندگی میں وہ ساری باتیں تسلیم کی ہیں جن پر ماضی میں “میں” نہیں مان سکتی کا لیبل لگایا کرتی تھی ۔
میں نے زندگی میں بہت کچھ ایسا کھونے پر خاموشی سے ٹکٹکی باندھ کر دیکھا ھے جس کے بغیر میں زندہ ہی نہیں رہ سکتی کا دعویٰ کر چکی تھی۔
میں نے ان بری خصلتوں کو بھی اپنایا جن کو میں نے کبھی نہیں کروں گی کا اعلان کر چکی تھی۔
ان لوگوں کو بھی چھوڑ دیا جن پر “فار ایور” کا ٹیک چسپاں کیا تھا۔
غرض یہ کہ بحثیت انسان میں کچھ نہیــں میرے دعوے وعدے اعلان ایک پل کی مار ہیـں اور تقریباً ہم سب ایک نا ایک دن ضرور ان سب باتوں پر یقین لے آئیں گے..!”
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
جاری ہے