No Download Link
Rate this Novel
Episode 2
گیلی لکڑیوں کو آگ بہت دیر سے لگتی ہے. کب سےجلانے کی کوشش کر رہی ہوں مگر سوائے دھواں سے آنکھیں خراب کرنے کے کچھ حاصل نہیں ہو رہا _ نوراں نے اپنے گھر والے کے بار بار پوچھنے پر کہ کتنے دیر میں کھانا پکے گا ……؟ جل بھن کر جواب دیا. اوئے نیک بخت تجھے کتنی دفعہ کہا ہے “بالن” کمرے میں چارپائی کے نیچے رکھا کر، خاص طور پر برسات کے موسم میں اسلم تولیے سے ہاتھ صاف کرتے ہوئے بولا
اس پورے گھر میں ایک ہی کمرہ ہے کیا کیا چیز رکھوں وہاں _ سامان کپڑے جانور اور _ اس سے پہلے نوراں مزید کچھ بولتی گھر میں موجود واحد ٹین کا دروازہ کسی نے زور سے پیٹا. لے آ گیا تیرا نشئی پتر اسلم افسوس سے سر ہلاتا دروازہ کھولنے چل پڑا جبکہ نوراں نے ایک بار پھر پھونکنی کی مدد سے لکڑیوں کو جلانے کی کوشش کی.
کب سے دروازہ بجا رہا ہوں. مگر اس گھر میں کسی کو میری پرواہ ہی نہیں ہے. اتنی گرمی ہے باہر _ انور نے گھر میں قدم رکھتے ہی باپ پر اپنا غصہ نکالا. نہ سلام نہ دعا ہم ماں باپ ہیں تیرے تجھے زرا شرم نہیں آتی. کس حالت میں گھر داخل ہو رہا ہے.ہماری بھی کوئی عزت ہے جسے تو روز خاک میں ملا دیتا ہے.
یہ تیری قمیض کیسے پھٹی ہے …….. ؟ مت آیا کر نشے کی حالت میں گھر _ تجھے دیکھ کر میرا دل جلتا ہے. اسلم تو کچھ نہ بولا چپ چاپ دروازہ بند کرنے لگا جبکہ نوراں سے برداشت نہ ہوا تو بول پڑی. بس بس زیادہ عزت کا درس مت دیں. میں تو اسی لیے گھر نہیں آتا کہ کہیں میرے ہاتھوں کچھ غلط نہ ہو جائے. آپ لوگوں کو معلوم ہے گاؤں والے کیسی کیسی باتیں کرتے ہیں …..؟ تم دونوں تو چھپ کر یہاں بیٹھ جاتے ہو مگر مجھے سب سننی پڑتیں ہیں. میرا خون کھولتا ہے انور نے چارپائی پر بیٹھتے ہوئے کہا
زرا ہمیں بھی تو پتہ چلا کہ ایسا لوگ تجھے کیا کہتے ہیں جس پر تجھے بےعزتی کا احساس ہوتا ہے اسلم نے طنزاً پوچھا میرا منہ نہ کھلوائیں. ہر کوئی یہی کہتا ہوا نظر آتا ہے کہ اپنی جوان بچی کو اکیلے شہر بھیجا ہوا ہے پتہ نہیں وہ وہاں کس کس کے ساتھ منہ کالا کر رہی ہو گی. انور کی بات پر اسلم کا چہرہ غصے سے سرخ پڑ گیا اور اس نے چولہے کے نیچے سے ایک جلتی ہوئی لکڑی اٹھائی.
بکواس بند،خبردار جو میری بچی کے بارے میں ایک لفظ بھی منہ سے نکالا تو کاش میری دونوں ہی بیٹیاں ہوتیں. کم از کم تیری طرح نشہ کر کر کہ ہمارا بڑھاپا تو خراب نہ کرتیں.
اسلم کی بات پر انور نے ہنسنا شروع کر دیا میں تو صرف نشہ کرتا ہوں اور اس کا صرف میری ذات کو نقصان ہے مگر شرط لگا لو مجھ سے _ وہ ایک دن ہم سب کے منہ پر کالک مل کر کسی شہری بابو ساتھ بھاگ جائے گی. اس سے پہلے کہ انور مزید کچھ کہتا اسلم نے وہ آدھ جلی لکڑی گھما کر اسے ماری. جس پر نوراں اور انور کی مشترکہ چیخ بلند ہوئی. 🎗️🎗️Amna mehmood the writer 🎗️🎗️ زاویار ابھی اکیڈمی کے لیے نکلا ہی تھا جو اس کے ہاسٹل سے کافی قریب تھی. جب اس کا موبائل بجا. ایک تو قاضی صاحب کی جان کو چین نہیں ہے. میسج بھی کیا تھا کہ پہنچ رہا ہوں پھر بھا بار بار کال کر رہے ہیں خود تو بلکل فارغ ہیں گھر سے بھی اعر عقل سے بھی _ دوسروں کو بھی یہی سمجھ رکھا ہے. مسلسل خود کلامی کرتے یوئے زاویار نے پاکٹ سے موبائل نکالا مگر نمبر دیکھ کر ایک گہرا سانس خارج کیا. آپ کو پتہ ہے کہ میں آپ کو اگنور نہیں کر سکتا پھر کیوں مجھے تنگ کرتیں ہیں. زاویار کی آواز میں بے بسی تھی اب وہ سڑک کنارے لگے درخت ساتھ ٹیک لگائے کھڑا تھا. چھوٹے آپ کو شرم آتی ہے بڑوں سے ایسے بات کرتے ہیں کبھی ہم نے بھی آپ سے ایسے بات کی ہے پہلے سلام کرتے ہیں یا کم از کم دوسرے کو ہی موقع دے دو اگر خود نہیں کرنا تو _ عفت بی کی خوبصورت آواز سپیکر سے ابھری اور ساتھ ہی زاویار کے تنے اعصاب ڈھیلے پڑے. سوری آئندہ ایسا نہیں ہو گا. میں آپ ساتھ بتمیزی کا سوچ بھی نہیں سکتا.
ہمیشہ کی طرح اس کے جلدی نادم ہونے اور اپنی غلطی تسلیم کرنے پر وہ مسکرا دیں.
گاؤں کب آ رہے ہو _ اچھا یہ ہی بتا دو کہ تمہارا غصہ کب تک رہے گا میرے خیال سے اب اس معاملہ کو ختم ہو جانا چاہیے. عفت بی کی بات پر زاویار نے ضبط سے آنکھیں بند کر کے کھولیں.
آپ بار بار یہ کیوں پوچھتیں ہیں. مجھے تکلءف ہوتی ہے. پمیززز مت پوچھا کریں. زاویار نے التجا کی.
یہاں بہت سے لوگوں کو تمہاری ضرورت ہے. ان کی زندگی تمہارے بغیر روکھی پھیکی ہے. جلد لوٹ آؤ اس سے پہلے کہ انتظار کرنے والوں کی آنکھیں بند ہو جائیں اور تمہارے حصے میں بس پچھتاوا رہ جائے _ عفت بی نے ہمیشہ کی طرح پھر سمجھانا چاہا. بس ہو گیا جس مطلب کے لیے آپ نے کال کی تھی زاویار کا لہجہ تلخ تھا.
اچھا تو میرا فون کرنا برا لگتا ہے. کہہ دوں پھر کبھی نہیں کروں گی عفت بی کی ناراض آواز پر زاویار مسکرا دیا.
کب منع کیا ہے …… ؟ جب مرضی فون کریں دن میں _ رات میں مگر صرف میرے لیے مجھ سے پوچھیں کیا کھایا ہے کیا پیا ہے رات کو جب سوئے تھے _ صبح کب اٹھے کیا پہنا ہے اپنا خیال رکھا کرو کم پڑھو بیمار نہ پڑ جانا اور سب سے بڑھ کر مجھے آپ کی یاد کتنی آتی ہے زاویار کا لہجہ شرارت بھرا تھا.
چھوٹے باز آ جاؤ اور جو کہا ہے اس کے بارے میں سوچنا ضرور عفت بی فون بند کرنے لگی تھیں جب زاویار بول پڑا.
آپ اپنا بہت خیال رکھا کریں قسم سے مجھے آپ کی فکر رہتی ہے زاویار کی بات پر عفت بی مسکرا دیں. چھوٹے تم بھی اپنا خیال رکھا کرو ہمیں بھی تمہاری فکر ہوتی ہے. عفت بی کے جواب پر زاویار نے آسمان کی طرف دیکھا کاش آپ سچ بول رہیں ہوتیں مگر حقیقت مجھے معلوم ہے زاویار نے خدا حافظ کرتے ہوئے فون بند کیا اور اکیڈمی کی طرف چل پڑا
🎗️🎗️Amna mehmood the writer 🎗️🎗️
ہدیکھو تو کون آ گیا ہے _ حسن اور علی نے کمرے میں قدم رکھتے ہی لہک کر کہا چور آ رہے ہیں میں دیکھے بغیر بھی بتا سکتا ہوں سعد جو اپنی اسائنمنٹ بنا رہا تھا تپ کر بولا
ہر وقت “سڑا سڑا” سا رہتا ہے لگتا ہے ہمارے یار کو کسی سے انتہائی سخت قسم کا “پیار” ہو گیا ہے تبھی طبیعت میں اتنی سختی آ گئی ہے حسن کی بات پر علی نے بھرپور قہقہ لگایا جبکہ سعد نے اپنا کام چھوڑ کر ان کی طرف خطرناک! ہیں پھر زاویار کی طرف منہ کر کہ بولا
تو ان دونوں کو کمرے سے نکالتا کیوں نہیں ہے. قسم سے بدمعاش پال رکھے ہیں تو نے دیکھ لینا ایک دن ان کی وجہ سے ہم جیل میں ہوں گے میری بات لکھ کر رکھ لے جیسے ہی سعد نے آخری جملہ ادا کیا علی نے جلدی سے پیڈ اور پن سعد کے آگے کر دی.
ہر روز دھمکی دیتا ہے آجکھ ہی دے. ہم بھی تو دیکھیں تیری اردو گرائمر کیسی ہے …… ؟ حسن نے مزید چسکا لیا
زاویار تینوں کی نوک جھوک کو پیپرز چیک کرتے ہوئے انجوائے کر رہا تھا جب ماہی کا پیپر زاویار کے ہاتھ میں آیا. ااور اس کے تاثرات یکلخت بدلے. کسی نے یہ بات نوٹ کی ہو یا نہیں مگر حسن نے بہت گہرائی سے نوٹ کیا.
اے اللہ والوں! دیکھو ہم دونوں اپنی جان پر کھیل کر اور آپ کی دعاؤں سے غازی واپس آئے ہیں. اور تم جیسے ناشکرے دوستوں کے لیے مزیدار کھانا بھی لائیں ہیں تاکہ تم ہمارے نمک کی مشکل وقت میں لاج رکھو حسن نے زاویار کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہا میرے خیال سے اگر اب تیری تسلی ہو گئی ہو تو آ کچھ تو بھی ہمارے ساتھ “زہر مار” کر لے کیونکہ ہمارے ساتھ کھانا تجھے مزیدار تو بلکل نہیں لگے گا حسن نے اب کی بار سعد کی طرف دیکھتے ہوئے علی کو کھانا لگانے کا اشارہ کیا
تُو تو مجھ سے بات نہ ہی کیا کر انتہائی گھٹیا انسان ہے تُو میرا تو بس نہیں چلتا کہ میں تیرا گلا دبا دوں. سعد نے دانت پیس کر جواب دیا.
سعد کی طرف سے اتنے سڑے جواب کے باوجود حسن نے دوبارہ چھیڑا
یار تجھ پرمن” وسلوی” تو اترے گا نہیں لحاظ ہمارے ساتھ ہی کھانا کھا لے اور اس کے لیے تجھے ہمارے پاس آنا پڑے گا ___” تجھ کو آنا ہو گا” علی نے لہک کر گانا شروع کیا جس پر سعد نے اپنے ہاتھ میں پکڑی قلم زور سے اس کی طرف پھینکی.
جاری ہے
