No Download Link
Rate this Novel
Episode 3
ساری کلاس اس وقت بہت انہماک سے سر زاویار کا لیکچر سن رہی تھی مگر ماہین صرف اور صرف سر کو دیکھ رہی تھی سن کچھ نہیں رہی تھی.
بلیک پینٹ شرٹ پہنے، شرٹ کے کف فولڈ کیے ہوئے، ایک ہاتھ میں بلیک سٹرپ والی گھڑی دوسری بازو خالی، ہاتھوں پر ہلکی ابھری ہوئی نیلی رگیں، سفید ہاتھ، چہرے پر سنجیدگی اففففففف _ سر کتنے پیارے ہیں اور ڈریسنگ بھی بہت اچھی کرتے ہیں. یقین مان سر جوتوں سمیت میرے دل میں اتر رہے ہیں. مگر مجھے یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ اتنے غریب ہونے کے باوجود اتنے مہنگے کپڑے کیسے خریدتے ہیں …… ؟ ماہی نے زبدہ کی طرف جھکتے ہوئے سرگوشی کی. ماہین آپ کا دھیان کدھر ہے …….. ؟ کلاس میں یوں تو سب لڑکیاں ہیں سر کو خاص توجہ سے دیکھتی تھیں مگر ماہین سننے کے ساتھ ساتھ جس طرح زاویار کو گھورتی تھی وہ بات زاویار کو بہت بری لگتی تھی. سر میرا سارا دھیان یقین مانے ہر وقت آپ کی ہی طرف ہوتا ہے ماہین کے شرارت بھرے جواب پر پوری کلاس نے بھرپور قہقہہ لگایا جبکہ زاویار کے چہرے پر مزید سختی آگئی.
ماہین آپ آج کلاس کے بعد سٹاف روم میں مجھ سے ملیں. زاویار کی بات پر ماہین کا پورا منہ کھل گیا اور کلاس میں دبی دبی سی ہنسی شروع ہوگی.
شٹ اپ _ آپ لوگ اپنا دھیان پڑھائی پر دیں. ذرا بھی شرم ہے کہ کس طرح آپ کے ماں باپ کما کر آپ کو اس مہنگی اکیڈمی میں پڑھا رہے ہیں. زاویار نے زور سے ہاتھ ٹیبل پر مارا اور ساری کلاس سیدھی ہو کر بیٹھ گئی. آج میں اپنے دل کی بات ضرور کروں گی چاہے جو مرضی ہو جائے اور تم نے مجھے منع نہیں کرنا ماہی نے زبدہ کے کان میں کہا جس پر زبدہ نے اسے تاسف سے دیکھ کر سر ہلایا.
ہاں تو کلاس ہم بات کر رہے تھے میڈیکل سائنس کی، مجھے امید ہے آپ سب ہی Fsc میں اچھے نمبر حاصل کریں گے. اس کے بعد آپ میں سے جو ڈاکٹر بننا چاہتا ہے اسے زاویار نے ابھی اتنی ہی کہا تھا کہ ماہین بول پڑی. سر مجھے ایک سوال پوچھنا ہے. ماہین کے لفظ سوال پر ساری لڑکیوں نے اسے گھوم کر دیکھا کیوں ماہین کی شکل کسی نئی شرارت کا عندیہ دے رہی تھی. جی پوچھیں …..؟ زاویار نے اپنے غصے کو ضبط کرتے ہوئے تحمل سے جواب دیا. سر انسانوں کے بھی ڈاکٹر ہوتے ہیں اور جانوروں کے بھی تو سبزیوں اور پھلوں کے ڈاکٹر کیوں نہیں ہوتے اگر ان کے ڈاکٹر ہوتے ہیں تو میری رہنمائی کر دیں کیونکہ میں سبزیوں اور پھلوں کی ڈاکٹر بننا چاہتی ہوں تاکہ” لنگڑے آم” کا علاج کر سکوں اور وہ بھی اپنے پیروں پر چل سکے _ ماہین کی بات پر ایک دفعہ پھر پوری کلاس اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر ہنسنے لگی جبکہ زاویار کی بس ہو گئی. آج کے لیے اتنا ہی. کلاس ختم ہوئی اور ماہین آپ میرے ساتھ آئیں زاویار اسے گھورتا ہوا باہر نکل گیا. باقی کلاس نے ماہین کو خوب سراہا جس پر وہ سر جھکا جھکا کر داد وصول کرنے لگی.
اچھا میں چلتی ہوں میرے لیے دعا کرنا کہ میں اپنا مقدمہ اچھے سے سر کے آگے رکھ سکوں. ماہیں زبدہ کو کہتی ہوئی کلاس سے باہر چلی گئی.
یا اللہ یہ تو بہت پاگل ہے اپنے اوپر ظلم کرنے کو تیار بیٹھی ہے مگر پھر بھی تو اس پر رحم کر. اگر اکیڈمی کی انتظامیہ نے اسے نکال دیا تو اس کا سال برباد ہو جائے گا زبیدہ نے دل سے اس کے لیے دعا مانگی.
🎗️🎗️ Amna mehmood the writer 🎗️🎗️
عفت تمہاری بات زاویار سے ہوئی تھی. کیا کہہ رہا تھا کب تک اس کے سر سے خود کمانے کا بھوت اتر رہا ہے ؟؟؟ نواز شاہ نے کھانے کی میز پر عفت کی طرف دیکھ کر پوچھا
چچا سائیں میری بات ہوئی تھی. وہ کہہ رہا تھا کہ ابھی میرے بہت سے کام رہتے ہیں جیسے ہی میں اپنے کاموں سے فارغ ہوتا ہوں گاؤں کا چکر لگاؤں گا عفت نے موقع کی مناسبت سے بات بنائی. اس “الو کے پٹھے” کو کہو جلد گاؤں پہنچے. یہاں میں اکیلا سب کچھ نہیں سنبھال سکتا اور غیروں پر بھروسہ کرنا سراسر بیوقوفی ہے. باپ دادا کی جائیداد اور نام ہی اس کی اصل پہچان ہے. کب تک ان تمام چیزوں سے بھاگے گا ……؟ جتنی جلدی اس کی سمجھ میں یہ باتیں آجائیں گی اتنا ہی وہ فائدے میں رہے گا نواز شاہ نے کہتے ساتھ ہی اپنا ہاتھ منہ نپکن سے صاف کیا اور کھڑے ہو گے.
شاہ جی آپ آج کچھ جلدی میں نظر آ رہے ہیں. مہرونساء نے یوں نواز شاہ کو کھڑے ہوتا دیکھ کر پوچھا
کیا بتاؤں آج پنچایت میں ایک عجیب کیس آیا ہوا ہے سمجھ نہیں آتی میں کب تک ان جاہلوں کو سمجھاتا رہوں گا.
غلطی ساری کی ساری بھائی کی ہے مگر مخالف اس کی بہن لینے پر زور دے رہے ہیں. مجھے تو یہ سب بہت ہی عجیب لگتا ہے. تمہیں پتا تو ہے کہ مجھے اس قسم کے کیس حل کرنا وہ بھی مخالف پارٹی کی مرضی کے مطابق زہر لگتے ہیں.
گاڑی نکالو شاہنواز کہتے ساتھ اپنے خاص نوکر صدیق کو آواز دینے لگے. عفت سچ سچ بتاؤ تمہاری زاویار سے بات ہوئی تھی. شاہنواز کے جاتے ہی سکینہ بی نے دلچسپی سے پوچھا بات ہوئی تو تھی مگر وہ اپنی بات سے ایک انچ بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں _ عفت نے سرد آہ بھرتے ہوئے مہرو اور سکینہ کی طرف دیکھا جو اسے آس بھری نظروں سے دیکھ رہیں تھیں. عفت تم میرا ایک کہنا مانو گی ایک ماں کی التجا سمجھ کر میں ساری زندگی تمہاری احسان مند رہوں گی اچانک ہی مہرو کی آنکھوں میں ایک چمک ابھری اور انہوں نے بڑی آس سے عفت کا ہاتھ تھاما
تائی جی حکم کریں یہ کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ مجھ سے ؟؟؟ عفت نے اپنے ہاتھوں میں مہرو کے ہاتھ پنڑے اور تسلی دی. میں چاہتی ہوں تم خود اسے شہر لینے جاؤں وہ کبھی تمہیں انکار نہیں کرے گا کیونکہ وہ کر ہی نہیں سکتا ایک تمہارے ساتھ ہی تو نرمی سے بات کرتا ہے ورنہ ہمیں دیکھتے ہی مہرالنساء نے مایوسی سے سر ہلایا
یہ تو بہت مشکل کام ہے اگر حویلی کے کسی بھی مرد کو پتہ چل گیا تو عفت نے تشویش سے دونوں کو دیکھا تم بے فکر رہو بس تم شہر جانے کی تیاری کرو باقی ادھر حویلی میں سب کچھ میں اور سکینہ سنبھال لیں گے تم اسے ایک ماں کی آخری خواہش سمجھ کر پورا کر دو وہ ایک دفعہ واپس آ جائے پھر میں اسے کہیں نہیں جانے دوں گی.مہرو کے جواب پر عفت نے پرسوچ انداز میں انھیں دیکھا 🎗️🎗️ Amna mehmood the writer 🎗️🎗️ یار حسن وہ جو سامنے گاڑی کھڑی ہے اس کے بارے میں تیرا کیا خیال ہے……….. ؟؟؟ علی نے پارکنگ میں ایک پرانے سٹائل کی مرسڈیز کو دیکھ کر پوچھا اچھی ہے مگر اتنی بھی نہیں کہ ہم دونوں کے کام آ سکے حسن کی بات پر علی کا پورا منہ کھل گیا.
دیکھ ہم دونوں کو یونی کی فیس دینے کے لیے اچھے خاصے پیسوں کی ضرورت ہے اور روز روز چھوٹی موٹی چوریاں کر کے اپنا کیریئر داؤ پر نہیں لگا سکتے.
ویسے بھی اگر ہم ان فضولیات میں پڑے رہے تو پڑھائی کب کریں گے ………..؟؟؟ حسن کی بات پر علی نے سر ہلایا
اس لیے میری جان اب ایک آخری ہاتھ مارنا ہے اور پھر پیپرز کے بعد باقی دیکھی جائے گی. حسن نے علی کے گلے میں اپنا بازو ڈالتے ہوئے بڑی رازدرانہ انداز میں کہا پھر تو نے کیا سوچا ہے بلکہ یوں پوچھنا چاہیے کہ تیرے اس دماغ میں کیا طوفانی آئیڈیا آیا ہے علی نے حسن کی طرف دیکھتے ہوئے شرارت سے کہا
مجھے کسی سے پتہ چلا ہے کہ یہ اسٹریٹ نمبر 7 میں ایک کوٹھی ہے جو شاید کسی بڑے بزنس مین کی ہے. وہ خود تو یہاں پر نہیں رہتا مگر اس کا بیٹا اس کوٹھی کو اپنی عیاشی کے لیے استعمال کرتا ہے.
تو ؟؟؟ علی نے ناسمجھی سے حسن کو دیکھا تو یہ کہ میری جان اب ہم چوری نہیں کریں گے بلکہ حسن نے تجسس سے علی کو دیکھا
ایک ہی دفعہ پوری بکواس کیوں نہیں کرتا یہ کیا انڈیا کے ڈراموں کی طرح کبھی ایک طرف اور کبھی دوسری طرف منہ کر لیتا ہے میری طرف دیکھتے ہوئے تجھے موت پڑ رہی ہے علی کی بات پر حسن نے بھرپور قہقہہ لگایا اچھا میں تجھے سمجھاتا ہوں مگر ایک بات بتاؤں اگر تو وعدہ کرے کہ کسی دوسرے سے شیئر نہیں کرے گا تو ؟ ؟؟ حسن نے اپنا ہاتھ علی کے آگے کیا
میں ابھی قریبی مسجد میں جاکر اعلان کروا دوں گا اور ساتھ ساتھ قریبی تھانے میں “حلفیہ بیان” بھی دونگا کہ حسن نے مجھے یہ بات بتائی ہے _ علی نے منہ پھلا کر دوسری طرف کر لیا جبکہ حسن ہسنے لگا زاویار کی ایک سٹوڈنٹ جو اسے کچھ عرصے سے اسے بہت تنگ کر رہی ہے. مطلب دونوں کے درمیان کچھ شروع ہورہا ہے جو وہ ہمیں نہیں بتا رہا حسن نے آنکھ ماری. لو جی زاویار کو اب ہوش آئی ہے جب یونیورسٹی ختم ہونے کا ٹائم آ گیا ہے اب تو نے ایک نیوز مجھے دی ہے تو میں بھی تجھے ایک نیوز دیتا ہوں.
یہ جو اپنا سعد ہے نااااا اس کی کہانی تو ختم شد ہے شاید وہ اپنی کسی کزن کو پسند کرتا ہے میں نے اس کی ڈائری دیکھی تھی اور اسے اپنی ماں ساتھ فون پر بات کرتے بھی سنا تھا علی کی بات پر حسن نے حیرت سے اسے دیکھا
یہ اپنا سعد یعنی کہ “سعد دین زنگی” اسی لئے تو ہر وقت کڑوا کریلا بنا رہتا ہے. ویسے تو بڑا شریف بنتا ہے اور اندر سے کزن پر بری نظر رکھی ہوئی ہے حسن نے مصنوعی افسوس سے کہا
“کڑوا کریلا” اس لیے بنا رہتا ہے کیونکہ وہ کزن اس کو بالکل لفٹ نہیں کراتی علی نے مزید چسکا لیا چل اب تو بھی رک رک کر چاٹ پر مصالحہ مت ڈال ایک ہی دفعہ پوری بات کیوں نہیں بتا دیتا حسن کی بات پر دونوں ہنسنے لگے 🎗️🎗️ Amna mehmood the writer 🎗️🎗️ میں آخری دفعہ پوچھ رہا ہوں یہ سب کیا ہے……… ؟؟؟ اگر آپ کو اپنی نہیں تو میری عزت کا ہی کچھ خیال کر لیں زاویار نے ٹیبل پر ماہین کے تمام پیپرز پھینکتے ہوئے پوچھا جس پر جگہ جگہ “آئی لو یو” لکھا ہوا تھا.
مجھے اس قسم کی چھچھوری حرکتیں بالکل بھی پسند نہیں ہیں. میں تمہیں اتنے عرصے سے اس لیے نظرانداز کر رہا تھا کیونکہ تم ایک لائق سٹوڈنٹ ہو.
کیوں اپنے کیریئر کے پیچھے پڑی ہوئی ہو اگر میں نے ایک دفعہ تمہاری کمپلین کر دی تو یاد رکھنا انتظامیہ تمہیں چند سیکنڈ بھی نہیں لگائی گئی اکیڈمی سے نکالنے کے لیے میری بات کا جواب دو.
ماہین جو زاویار کی باتوں پر سر جھکا کے کھڑی تھی ان کے بولنے پر اوپر دیکھنے لگی.
سر مجھے نہیں پتا کہ آپ کو کس بات پر غصہ آرہا ہے. ہم ایک آزاد ملک میں رہتے ہیں اور آزاد ملک کے آزاد شہری ہیں. ہم کسی کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کر سکتے ہیں.
آپ مجھے اچھے لگتے ہیں میں آپ کو بہت پسند کرتی ہوں. اگر میں نے اس بات کا اظہار آپ سے کیا ہے تو اس میں کیا برائی ہے ……… ؟؟؟
زاویا تو ماہین کی جرأت پر حیران رہ گیا یعنی آپ کو ذرا شرمندگی محسوس نہیں ہو رہی ……. ؟؟؟
نہیں بلکل بھی نہیں شرمندگی کس بات کی ……. ؟؟ میں نہ صرف یہ کہ آپ کو بہت پسند کرتی ہوں بلکہ آپ سے شادی بھی کرنا چاہتی ہوں. آپ پلیزززز مجھ سے شادی کر لیں. قسم سے میں آپ کو بہت خوش رکھوں گی اور ہر مشکل میں آپ کا ساتھ دوں گی. یہ میرا وعدہ ہے.
ماہین کے اس قدر اعتماد پر ایک دفعہ تو زاویار ششدد ہی رہ گیا. پھر گلا صاف کرتا ہوا اپنے آپ کو نارمل کیا.
آپ میرے بارے میں کیا جانتی ہیں …….. ؟؟؟ زاویار کے ایکدم بدلتے لہجے نے ماہین کو مزید ہمت دی.
یہی کہ آپ میری طرح ایک غریب انسان ہیں _ میری طرح ذہین بھی ہیں ہاں البتہ _ شکل میرے سے زیادہ اچھی رکھتے ہیں. ماہین کے آخری جملے پر نا چاہتے ہوئے بھی زاویار مسکرا دیا.
اور اگر ایسا نہ ہو جیسا آپ میرے بارے میں سوچ رہیں ہیں تو زاویار نے اپنی دونوں کہنیاں ٹیبل پر اور ہاتھ ٹھوڈی کے نیچے رکھتے ہوئے پوچھا بلکل ایسا ہی ہے ورنہ کسی امیر زادے کو کیا پڑی ہے کہ وہ یوں سردی گرمی میں اپنی جوتیاں چٹخاتا پھرے. ماہین کے جواب پر زاویار نے اسے دیکھ کر سر نفی میں ہلایا. میں آج آپ کو آخری بار سمجھا رہا ہوں اگر آپ پھر بھی باز نہ آئں تو میں یہ اکیڈمی چھوڑ دوں گا. سمجھی آپ _ اب آپ جا سکتی ہیں.
🎗️🎗️ Amna mehmood the writer 🎗️🎗️
جاری ہے.
