Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 27

“سر مجھے گھر کے دروازوں پر سفید رنگ بہت پسند ہے۔ اس سے گھر کی پاکیزگی ظاہر ہوتی ہے ۔
موتیا اور گلاب کے تازہ پھول مگر گلاب کی تعداد ان میں کم ہو _ سے سجا کمرا ۔ بالکل مزاروں جیسا نہیں بلکہ ہلکا پھلکا سا اور یہ جو لوگ بیڈ کو کمرے کے درمیان رکھ کے سجا دیتے ہیں بالکل کسی بزرگ کے مزار کا نقشہ پیش کرتا ہے۔مجھے اچھا نہیں لگتا ۔
بیڈ ہمیشہ کمرے میں ایک سائیڈ پے ہونا چاہیے دیوار کے بالکل ساتھ سجاوٹ صرف دیواروں اور فرنیچر کی ہو تو کتنا اچھا لگتا ہے نااااااا ماہی نے زاویار سے اپنی بات کی آخر میں پوچھا جو اس وقت پورے انہماک سے اس کا فارم فِل کر رہا تھا ۔
آپ کچھ تو بولے نااااا کہ آپ کو کیسا کمرہ پسند ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہی نے زاویاڑ کو چپ چاپ کام کرتا دیکھ کر پوچھا
آپ کا تو دماغ خراب ہے مگر میرا ابھی کام کرتا ہے۔ اس سے زیادہ میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔
مجھے تو حیرت ہوتی ہے کہ آپ اتنی بے باکی سے ایسی باتیں کیسے کر لیتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ زاویار نے سخت غصے سے جواب دیا
اندر چلے نااااا آپ باہر کیوں رک گئی ہیں ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ صدیق کی آواز پر اس نے دروازہ کھولتے ہوئے اندر قدم رکھا
کمرہ بالکل اس کی مرضی کے مطابق سجایا گیا تھا خوبصورت فرنیچر
پاؤں کے نیچے انتہائی قیمتی اور دبیز قالین موتیا اور گلاب کی تازہ کلیاں ہلکی پھلکی پیلے رنگ کی روشنی اس وقت یہ کمرہ ماہی کے خوابوں سے بھی زیادہ خوبصورت لگ رہا تھا ۔
ما ہی آرام سے ایک ایک قدم اٹھاتی کمرے کا جائزہ لیتی اب بیڈ تک پہنچ چکی تھی
آپ آرام کریں مجھے کچھ کام ہے ابھی آتا ہوں
صدیق ماہی کی طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگا جس پر ماہی نے اپنا سر ہلایا
صدیق کے جاتے ہیں ماہی نے اپنی چادر اتار کر بستر پر رکھی کیونکہ وہ کافی دیر سے اسے سنبھال سنبھال کر تھک چکی تھی
سائیڈ ٹیبل پر پانی کی بوتل دیکھ کے ماہی کو پیاس کا احساس ہوا جلدی سے بوتل کا ڈھکن کھول کر منہ ساتھ لگائی اور ایک ہی سانس میں آدھی بوتل پی گی۔
ماہی تو کتنی پیاسی تھی ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہین بوتل کی طرف دیکھتے ہوئے بولی ساتھ ہی اسے خیال آیا کہ اس نے ٹینشن کی وجہ سے کھایا بھی کچھ نہیں ہے ۔
اتنے خواب ناک کمرے میں اب اس کی تمام حسیں بیدار ہوچکی تھیں جن میں سب سے زیادہ بھوک کا احساس تھا ۔
پتہ نہیں یہ جملہ صاحب کہاں چلے گئے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
مائی کہیں ساری رات بھوکا نہ رہنا پڑے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
اللہ میں تو بھول ہی گئی کہ میں خون بہا میں آئی ہوں ۔۔۔۔۔؟؟؟
اب یہ مجھے بھوکا رکھیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
خوب ماریں پیٹے گے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
زمین پر سُلائیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
گندی گندی گالیاں نکالیں گے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
سارا دن دھوپ میں کھڑا رکھیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
کبھی ہاتھ جلا دیں گے تو کبھی بال کاٹ دیں گے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟
اففففف ماہی نے سوچتے ہوئے جھرجھری لی ۔
اور بھی کافی کچھ میں نے پڑھا ہے جو خون بہا میں آئی ہوئی لڑکی ساتھ ہوتا ہے مگر باقی سب میں بھول گئی ہوں ۔
پھر آئینے کے آگے کھڑے ہوکر خود کا جائزہ لیا۔ویسے اتنی خوبصورت لڑکی پر ظلم کرنا بنتا تو نہیں ہے _
ماہی نے اپنے جھومر کو سیٹ کرتے ہوئے کہا
ماہی تولگ خوبصورت رہی ہے اگر آج اس “نامعلوم” شخص کی جگہ “سر” ہوتے تو میں نے انہیں بہت ستانا تھا مگر ماہی نے ایک سرد آہ بھری۔
صدیق نے دروازے پر ذرا سی دستک دی اور کچھ دیر بعد دروازہ کھولا تاکہ ماہی کو اس کے آنے کی خبر ہو جائے ۔
سامنے ہی ماہی اپنے ہوش اڑانے والے حسن کے ساتھ کھڑی تھی
لاشعوری طور پر ایک منٹ کے لئے صدیق اس کے سحر میں گرفتار ہوگیا۔
پھر کچھ خیال آتے ہیں نظریں پھیر لیں جبکہ ماہی اس کی اس حرکت پر مسکرانے لگی۔
وہ مجھے آپ سے ایک بات کرنی ہے صدیق نے دیوار کی طرف دیکھتے ہوئے ہچکچاہٹ سے کہا
پہلی بات تو یہ کہ میں ادھر کھڑی ہوں لہذا آپ میری طرف دیکھ کے بات کریں ۔یوں دیواروں سے باتیں کرنا دیوانے ہونے کی نشانی ہے ۔
دوسری بات یہ کمرہ ہے آفس نہیں لہذا آئندہ دروازہ کھٹکھٹا کر آنے کی ضرورت نہیں ہے ۔
تیسری اور فی الحال آخری بات یہ کہ آپ نے مجھ پر جتنے بھی ظلم کرنے ہیں آپ کو اجازت ھے۔
میں نے سب پڑھ رکھے ہیں۔ ذہنی اور جسمانی طور پر بھی ان کے لئے تیار ہوں مگر پہلے کچھ کھانے کو دیں مجھے سخت بھوک لگی ہے ۔
اگر میں آپ کے ظلم سے پہلی ہی رات مر گئی تو آپ لوگوں کی بہت بدنامی ہوگی اور ساتھ ساتھ دفعہ 320 کے تحت پھانسی کی سزا بالکل مفت ملے گی
ماہی کی باتوں پر صدیق نے اسے حیرت سے دیکھا
پیاری لگ رہی ہو ناااااا ماہی نے اسے اپنی طرف دیکھتے ہوئے دیکھ کر پوچھا
یا اللہ یہ کیا چیز ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ صدیق نے فورا نفی میں سر ہلاتے ہوئے دل میں سوچا
کیا پیاری نہیں ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہی میں قدرے چیخ کر پوچھا
میں نے کب کہا کہ آپ تیاری نہیں ہیں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ صدیق نے فورن اپنا جملہ درست کیا
ابھی تو آپ نے نفی میں سر ہلایا ہے ماہی نے اس کی قریب آتے ہوئے کہا
اچھا آپ آرام کریں میں کھانے کے لیے کچھ لاتا ہوں صدیق نے ایک قدم پیچھے لیتے ہوئے جواب دیا
جلدی لے آنا وہ کیا ہے نااااااا کہ آپ کو میرے گھر والوں نے شاید یہ بات نہ بتائی ہو مگر میں بتا دیتی ہوں کہ مجھے رات بارہ بجے کے بعد دورے پڑتے ہیں۔
اور بھوک کی حالت میں یہ دورے شدید ہو جاتے ہیں ۔ پھر میں چیزیں اٹھا کے مارنا شروع کر دیتی ہیں ویسے تو میں بہت معصوم ہو مگر دورے کی حالت میں مجھے پتا نہیں چلتا کہ کیا کر رہی ہو ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہی نے صدیق کی حالت سے لطف اندوز ہوتے ہوئے اسے مزید ڈرایا
جبکہ صدیق کا یہ پہلا تجربہ تھا یوں کسی لڑکی سے بات چیت کرنے کا وہ سچ مچ بےحد کنفیوز تھا ۔
جی بہتر صدیق کہتا ہوا باہر چلا گیا جب کہ ماہی منہ پہ ہاتھ رکھ کر ہنسنے لگی ۔
ماہی تو مان یا نہ مان پر مجھے لگتا ہے بڑا مزہ آنے والا ہے ۔
ضروری تو نہیں کہ ہر دفعہ خون بہا میں آئی ہوئی لڑکی سب کچھ برداشت کرے ۔
بعض دفعہ جو لوگ لے کر آتے ہیں انہیں بھی بہت کچھ برداشت کرنا پڑتا ہے اور مجھے لگتا ہے ان کے ساتھ ایسا ہی ہونے والا ہے ۔
ماہی اب بیڈ پر ٹیک لگا کر لیٹ گئی تھی اور مستقبل کے منصوبے ذہن میں بنا رہی تھی کہ کس طرح اس نے صدیق کو تنگ کرتا ہے ۔
” دیکھتے جاؤ مجھے میں فرمائشیں کرو گی تجھے “
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
پورا ہال اس وقت لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔علی بلیک تھری سوٹ میں ملبوس
بال نفاست سے بنائے مردانہ اور زنانہ دونوں حصوں میں آسانی سے گھوم پھر رہا تھا ۔
حسن نے راجستانی شیروانی اور پگڑی پہن رکھی تھی ۔لال رنگ کی راجستھانی شلوار اور پگڑی تھی جبکہ گولڈن رنگ کی شیروانی _ حسن نے آئینے میں اپنا جائزہ لیا اور پھر بے اختیار ہنسنے لگا
اگر یہ لوگ مجھے چوڑیاں اور جھومر بھی لگا دیتے تو یقین مانو میں دلہن سے زیادہ پیاری لگتا کیا زنانہ لباس پہنا دیا ہے مجھے ایسا لگتا ہے تھوڑی دیر میں میرے اندر “شکنتلا رانی” کی روح آجائے گی ۔
حسن نے اپنے موبائل سے تینوں دوستوں کو ویڈیو کال کی ۔
زبردست میرے خیال سے تو دلہن تو نہیں مگر دلہن سے کم بھی نہیں لگ رہا سب سے پہلے سعد وے کال اٹینڈ کی اور اپنی رائے دی۔
مگر میرے خیال سے تو مجھے اس وقت چھڑ رہا ہے ۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟حسن نے لفظ دلہن کی وجہ سے منہ بنایا
ویسے آج تو تیری حالت ایسی ہی ہے کہ تجھے چھڑا جائے تھوڑا تھوڑا دل کر رہا ہے
سعد نے آنکھ مارتے ہوئے جواب دیا
آج تو جناب حسن راجپوتوں کے بھی راجہ لگ رہے ہیں بس ایک چیز کی کمی ہے اگر ساتھ تلوار بھی ہاتھ میں پکڑی ہو تو کیا ہی بات ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ زاویار نے بھی کال اٹینڈ کی اور حسن کو دیکھ کر کہا
اور اگر اس تلوار سے میں تیرا سر قلم کر دو تو ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حسن نے غصے سے جواب دیا
راجہ صاحب رحم _ عوام آپ سے رحم کی طلبگار ہے
زاویار کے جواب پر حسن کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی ۔
میرے آس پاس تو رنگ برنگے تمبو گھوم پھر رہے ہیں یقین مانو پتہ ہی نہیں چل رہا کے زنانہ اور مردانہ ہال میں کیا فرق ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
دونوں طرف تقریبا ملتے جلتے رنگوں کے کپڑے عورتوں مردوں نے پہن رکھے ہیں
بقول غریب اور نامعلوم شاعر “یکساں رنگ پھیلے ہوئے ہیں دونوں ہالوں میں ” علی کی بات پر سب نے مشترکہ قہقہ لگایا
ہاں یاروں
کچھ عجیب سے ہی لوگ ہیں بلکہ میراثی طبیعت کے لوگ ہیں مجھے تو ایسے کپڑے بالکل پسند نہیں جسے پہن کر انسان کے اندر زنانہ احساس بیدار ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
حسن نے گلے میں پہنے ہوئے موتیوں کے ہار پر ہاتھ پھیرا اور یہ ذرا میرے کھسے تو دیکھو ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
میں خود ابھی “اسلام آباد” ہوں اور یہ “لاہور” پہنچے ہوئے ہیں
حسن نے کیمرہ گھسے کی طرف کیا جس کا اگلا حصہ نوکدار اور مڑا ہوا تھا ۔
اچھے خاصے قیمتی لباس کا تم لوگوں نے بیڑہ غرق کر دیا ہے سعد نے اب کی بار حسن کا منہ دیکھ کر کہا
ہم نے کب بیڑا غرق کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ شروع تو نے ہی کیا تھا
زاویار نے ٹکڑا لگایا
یار ویسے قسم سے اپنا آپ “عجیب” لگ رہا ہے اور تھوڑا سا “امیر” بھی یعنی اس وقت میں “عجیب و امیر” کی جامع تعریف ہوں حسن کی بات پر ایک بار پھر سب ہنس پڑے
مجھ سے تو اس لباس میں چلا بھی نہیں جا رہا ہے لگتا ہے کہ گر پڑوں گا حسن نے ایک دو قدم چلتے ہوئے اپنی رائے دی۔
دیکھ کر گرنا کہیں آج کے دن کسی حسینہ سے مارمت کھا لینا
زاویار نے پھر سمجھایا
بچو جتنا مذاق اڑانا ہے تم لوگوں کو اجازت ہے اڑا سکتے ہو اور یہ مت بھولنا کہ تمہارا بھی وقت آئے گا ۔
فی الحال تو مجھے شرم آرہی ہے ایسا لباس پہن کر لوگوں کے سامنے جاتے ہوئے
اپنا آپ کسی “جوکر” سے کم نہیں لگ رہا ۔۔۔۔۔۔۔۔/؟؟؟ حسن نے اپنے اوپر ایک نظر ڈالتے ہوئے کہا
نہیں یار مذاق سے ہٹ کر تُو تو سچ مچ شہزادہ لگ رہا ہے سعد نے دل سے تعریف کی
مجھے تو اس وقت تُو ماڈل کی طرح لگ رہا ہے زبردست زاویار نے بھی سعد کی ہاں میں ہاں ملائی
چلو تم لوگ کہتے ہو تو مان لیتا ہوں ویسے میرا دل نہیں مان رہا
مجھے ایسے لگ رہا ہے جیسے میں ایک “خلاباز” ہوں ۔
بس فرق صرف اتنا ہے کہ میں اڑ نہیں رہا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حسن نے کمرے میں چہل قدمی کی
اچھا چلو پھر بات کرتے ہیں حسن نے کال کاٹ دی پھر دوبارہ علی کو وائس کال ملائی۔
ہاں علی سب اوکے ہے ناااااا حسن اب کی بار بالکل سیریس تھا
جی جناب ایک دم سب تمہاری مرضی کے عین مطابق علی نے ہال میں گھومتے پھرتے ماؤتھ پیس کو دبا کر جواب دیا
ٹھیک ہے بس میں کچھ دیر میں پہنچتا ہوں حسن نے گھڑی کی طرف دیکھتے ہوئے کال کاٹ دی
چل حسن اب ذرا دادا جی کو بھی اپنا دیدار کرا دے کہیں وہ تجھے دیکھے بغیر ہی اس دنیا سے رخصت نہ ہو جائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
حسن نے ایک بھرپور نظر خود پر ڈالی اور پھر روم سے باہر نکل گیا ۔
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
اب آپ کو کیا ہوگیا ہے کیوں کر رہی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ زاویار نے عفت کے پیچھے جاتے ہوئے کہا جو تیزی سے اب اپنے کمرے کی طرف جا رہی تھیں۔ چھوٹے یہ سوال تم اپنے آپ سے کرو مجھ سے نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عفت نے بغیر مڑے جواب دیا آپ کی اس بات کا مطلب مجھے سمجھ نہیں آیا
اس سے پہلے کہ عفت اپنے کمرے میں چلی جاتیں زاویار نے ہاتھ پکڑ کر انہیں روکا
فی الحال تو مجھے تمہاری سمجھ نہیں آرہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟عفت نے ایک جھٹکے سے اَپنا ہاتھ زاویار کے ہاتھ سے چھڑایا
ہم آرام سے بھی بات کر سکتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ زاویار نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے قدرے رازداری میں پوچھا
ایک طرف تم کہتے ہو اس سے محبت نہیں اور دوسری طرف لاکھوں روپے اس کی خاطر خرچ کردیتے ہو یہ سب کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ تم نے مجھے اندھا سمجھ رکھا ہے
عفت کے اتنے سخت ری ایکشن کے لیے زاویار تیار نہ تھا
آپ غصےکیوں ہو رہی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
ویسے غصے میں آپ بہت پیاری لگ رہی ہیں _ کیا میں اسے “پروفیشنل جیلسی” سمجھو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ زاویار نے سینے پہ ہاتھ باندھے ہوئے پوچھا چھوٹے شرم کرو اور بات کو ادھر ادھر مت گھماؤ عفت کا لہجہ ہنوز قائم تھا
اب میں کیا وضاحت دوں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ بتا تو دیا تھا سب کچھ زاویار نے جوتے کی نوک سے فرش پر گڑا
اتنی دیر میں سکینہ بی نے زاویار کو آواز دی ۔
جائیں اور سنیں کہ وہ کیا کہہ رہی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
ویسے مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ میں آپ کی کس بات پر یقین کروں ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
پتا نہیں چھوٹے تم نے اس دن جو کچھ کہا وہ سچ تھا یا آج جو میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا وہ سچ ہے ۔
عفت بی کہتیں ہوئیں اپنے کمرے میں چلی گئیں جبکہ زاویار نے ایک نظر بند دروازے کو دیکھا ۔اور سکینہ بی کی طرف چل پڑا ابھی ایک اور امتحان سر کرنا باقی تھا ۔
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
ہال میں کافی گہما گہمی تھی عروسہ موقع دیکھتے ہوئے بار بار اپنے موبائل سے وسام کو میسج کر رہی تھی ۔
دیکھو ایسی حرکتیں مت کرو کیونکہ مووی بن رہی ہے جس کی وجہ سے بعد میں تم کسی مصیبت میں پھنس سکتی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
حسن نے اسے ٹوکا جو اس کے ساتھ ایک شان کے اتھے بیٹھا ہوا تھا اور ہر کوئی اسے سرا رہا تھا
اپنے کام سے کام رکھو زیادہ رعب مت جماؤ عروسہ کو حسن کا ٹوکنا بہت سخت برا لگا
میں تو تمہارے فائدے کے لئے ہی کہہ رہا ہوں آگے مرضی تمہاری
حسن نے کندھے اچکائے
سب لوگ باری باری حسن اور عروسہ کی جوڑی کی تعریف کرتے سلامیاں دیتے تصویر بنواتے مووی بنواتے
گپ شپ لگاتے _ آتے جارہے تھے جاتے جا رہے تھے۔
حسن کافی خوش تھا کیونکہ سلامیوں کے پیسے تو اس کی سوچ سے بھی زیادہ ہو رہے تھے
دیکھو مجھے تم سے کچھ کہنا ہے _ جیسے ہی کھانے کے لئے سب مہمانوں کو کہا گیا حسن نے عروسہ کو اکیلا دیکھ کر موقع غنیمت جانتے ہوئے کہا بولو عروسہ نے موبائل استعمال کرتے ہوئے جواب دیا
میں کب سے تمہارے کام کر رہا ہوں مگر تم نے ابھی تک مجھے کوئی “پیشگی” نہیں دی ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حسن کی بات پر عروسہ نے سر اوپر اٹھایا
کم از کم اپنی سلامیاں ہی مجھے دے دو کچھ تو تسلی ہوگئی میرے اس معصوم دل کو حسن نے اپنے دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا اتنی دیر میں ایک ویٹر ان کے آگے کھانا لگانے لگا
مرو _
عروسہ نے اپنا پرس حسن کی گود میں پھینکا
شکریہ یہ پیسے میں تمہاری طرف سے اپنی منہ دکھائی سمجھ کر رکھ لیتا ہوں کیونکہ میں آج لگ ہی اتنا پیار آ رہا ہوں حسن نے مسکراتے ہوئے اب کھانے کی طرف دیکھا
تم حسن پرست ہو
عروسہ نے بھی اپنے آگے پلیٹ کرتے ہوئے کہا
ہر انسان ہوتا ہے
حسن نے لاپروائی سے کہتے ہوئے چاول پلیٹ میں ڈالے
مگر وسام تو ایسا نہیں ہے _ عروسہ نے جواب دیتے ہوئے اپنے لیے پلیٹ میں قورمہ نکالا انا پرست دولت پرست _ مطلب پرست سے لاکھ درجے بہتر ہے “حسن پرست” ہونا حسن کے جواب پر عروسہ نے اسے شدید غصے سے دیکھا
غصہ نہ کرو میں نے ویسے ہی کہاہے ضروری تو نہیں کہ تمہارے وسام میں یہ سب خوبیاں موجود ہوں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
خیر چھوڑو ان فضول باتوں کو میں نے تمہیں یہ کہنا تھا کہ تم پلیز بھاگنے سے پہلے اپنے کپڑے ضرور تبدیل کر لینا ۔
ورنہ اس لال رنگ کے کپڑوں میں تم دور سے “پوسٹ آفس” کی بلڈنگ لگو گئی اور کوئی بھی تمہیں آسانی سے پکڑ لے گا حسن نے مزے سے کھانا کھاتے ہوئے تبصرہ کیا
میں کپڑے کیسے بدل سکتی ہوں میرا مطلب ہے کہ عروسہ نے حسن کی توقع کے عین مطابق پریشانی سے پوچھا
میں نے دادا جی سے بات کر لی ہے کہ میں تمہیں خود ڈرائیو کر کے گھر لے جاؤں گا جو کہ دادا جی نے مان لیا ہے۔
میں راستے میں کسی ہوٹل پر گاڑی روک دوں گا تم کپڑے بدل لینا پھر علی تمہیں وہاں چھوڑ دے گا جہاں تم نے جانا ہوگا ٹیکسی ڈرائیور بن کر ۔
کیونکہ مجھے تو تمہارا وسام دیکھنا پسند نہیں کرتا ورنہ یہ کام میں خود بھی کر سکتا تھا۔
اور رہی بات دادا جی کی تو تم مطمئن رہو ان کی فکر مت کرو
میں سب دیکھ لوں گا _ تمہارے اوپر ذرا بھی آنچ نہیں آئے گی حسن کھانے کے ساتھ ساتھ عروسہ سے باتیں بھی کر رہا تھا
لوگ اس جوڑی کو ستائش سے دیکھ رہے تھے اور دونوں کی تعریف بھی کر رہے تھے ۔
تمہیں کیسے پتہ کہ وسام تمہیں پسند نہیں کرتا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عروسہ نے حیرت سے پوچھا
“پسندیدگی” اور “نفرت” دونوں انسان کی آنکھوں سے عیاں ہوتی ہیں کہنا نہیں پڑتا
حسن نے ٹشو سے ہاتھ صاف کیے
اچھا ٹھیک ہے جیسا تم کہو گے میں بالکل ویسا ہی کروں گی۔ عروسہ نے ہمیشہ کی طرح آسانی سے حسن کی بات مان لی۔
اور ہاں ایک بات اور تمہارے پاس میرا نمبر تو ہے نااااا ۔۔۔۔۔۔؟ حسن نے پرس سے پیسے نکالتے ہوئے اسے پرس واپس کیا
نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟ عروسہ نے نہ میں سر ہلایا
یہ تو بہت زبردست ہوگیا یعنی اگر تم کہیں پھنس جاؤ تو تمہاری وجہ سے مجھ پر کوئی مصیبت نہیں آئے گی حسن نے کرسی ساتھ ٹیک لگائی۔
تمہارا مطلب ہے میں کسی مصیبت میں پھنسنے لگی ہو ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عروسہ نے بھی کھانا ختم کرتے ہوئے پوچھا
مصیبت کی کیا مجال جو تمہیں پھنسائے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حسن نے عروسہ پر نظر ڈالتے ہوئے شرارت سے جواب دیا
تم بلاشبہ ایک کمینے انسان ہو ___
عروسہ کے تبصرے پر حسن نے سر کو خم دیا اور مسکراتے ہوئے علی کو میسج کیا ۔
“Mission start know”
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
جاری ہے