Phir Yun Hua By Amna Mehmood Readelle50141 Episode 36
No Download Link
Rate this Novel
Episode 36
میں اور زریں بہت اچھی سہیلیاں تھیں۔ نہ وہ مجھ سے کچھ چھپاتی اور نہ میں اس سے _ عالیہ یک ٹک دیوار پر لگی اس کی اور اپنی تصویر کو دیکھتے ہوئے بول رہی تھی۔ مجھے لالہ کی پسند کا اسی دن پتہ چل گیا تھا جس دن ن زریں کے نہ آنے پر وہ بار بار اس کا پوچھ رہے تھے ۔ لالہ خیر ہے وہ میری سہیلی ہے مگر میں اتنا بے قرار نہیں جتنے آپ ہیں عالیہ نے شرارت سے چھیڑا
نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں ہے ۔ وہ تم لوگوں کے پیپرز ہونے والے ہیں تو میں چاہ رہا تھا کہ تم لوگوں کی پڑھائی کا حرج نہ ہو دورید کچھ شرمندہ ہوا
اگر ایسی بات ہے تو ایسا کریں آپ مجھے پڑھا دیں۔ اس طرح میں زریں سے زیادہ نمبر لونگی عالیہ نے فوراً سے اپنی کتابیں دورید کے آگے رکھیں۔
آج نہیں کل پڑھاؤں گا تاکہ زریں بھی آجائے یوں آج تمہیں پڑھاؤں اور پھر کل وہی چیز اسے بھی میرا ٹائم ضائع ہو گا دورید نے کتابیں سائیڈ پر رکھتے ہوئے کہا
لالہ آپ اسے دفع کریں ناااااا آپ کو اس کی اتنی فکر کیوں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ مجھے پڑھا دیں۔عالیہ نے پھر شرارت کی ۔
بری بات ایسا نہیں کہتے وہ تو تمہاری سہیلی ہے ناااا _ درید نے اسے آنکھیں دکھائیں فی الحال تو مجھے اپنی سہیلی کم اور آپ کی زیادہ لگ رہی ہے عالیہ نے سوچنے کی ایکٹنگ کی۔
عالیہ تم باز آ جاؤ ایسا کچھ بھی نہیں ہے درید مسکرایا ہاں ایسا نہیں مگر ویسا تو ہے نااااا عالیہ بضد تھی۔
اچھا اب میں چلتا ہوں ۔ کل جب وہ آجائے گی تو دونوں کو ایک ساتھ ہی پڑھا دوں گا _ دورید کہہ کر جانے لگا جب عالیہ نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا لالہ مان جائیں ناااااا کہ وہ آپ کو بہت اچھی لگتی ہے ۔اور اسے میری بھابھی بنا کر اس حویلی میں لے آئیں ۔ پھر ہم دونوں مل کے اکٹھی رہیں گی۔ بہت مزہ آئے گا قسم سے عالیہ بہت جوش سے بولی۔
آج تو تم نے اتنی بڑی بات آسانی سے بول دی ہے مگر آئندہ یہ بات اپنی زبان پر مت لانا ۔ یہ سب اتنا آسان نہیں ہے جتنا تمہیں دکھائی دے رہا ہے ۔اپنی نہیں تو کم از کم اس کی عزت کا خیال رکھو ۔
بابا تو کبھی بھی نہیں مانیں گے۔ وہ مجھے کئی بار اسے پڑھنے سے منع بھی کر چکے ہیں۔ اس لیے تم اس سے بھی کوئی ایسی ویسی بات مت کرنا ۔ میں اس کا دل دکھانا نہیں چاہتا اب کی بار درید بہت سیریس تھا
اور آپ کا دل ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عالیہ نے سوال پوچھا
تم میرے دل کی فکر مت کرو ۔پہلے تمہارا کچھ کر لو پھر میں اپنے دل کا بھی کچھ کروں گا اب سمجھی ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ درید نے پیار سے عالیہ کے سر پر تھپڑ لگایا
دن یونہی گزر رہے تھے۔ پھر ایک دن میں اور زریں سرسوں کے کھیت میں سرسوں کا ساگ توڑنے گئے ذریں تو جاتی رہتی تھی مگر میں کبھی نہیں گئی تھی اس لیے میرے لیے یہ بات بالکل انوکھی تھی ۔ بڑی مشکل سے اس نے اماں جان سے اجازت لی۔ اماں نے اسے اس شرط پر جازت دی کہ وہ خود مجھے واپس چھوڑ کر دی جائے گی اور دوبارہ مجھے اپنے ساتھ کبھی کہیں نہیں لے کر جائے گی عالیہ کا اب سر چکرانے لگا تھا۔
عروسہ نے جلدی سے عالیہ کو اپنے ساتھ لگاتے ہوئے اسے پانی پلایا
دیکھا میں نے تمہیں کہا تھا نااااا کہ میری پھپھو اور بابا بے قصور ہیں۔ تم اس وقت بہت چھوٹے تھے۔ اس لیے تمہیں نہیں پتا کہ کون غلط تھا اور کون درست ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
ویسے بھی ہمیں لگتا ہے کہ ہماری محبوب ہستی بالکل بے گناہ ہے _ جیسے تمہاری نظر میں تمہاری پھپھو اور میری نظر میں میری پھپھو عروسہ نے آہستہ آواز میں حسن سے کہا جبکہ حسن غور سے عالیہ کو کو دیکھ رہا تھا
آپ بس میری ایک بات کا جواب دے دیں پھر میں یہاں سے چلا جاؤں گا۔لیکن یہ سوچ کر دیجئے گا کہ یہ وقت دوبارہ کبھی نہیں آئے گا اور آج آپ کا بولا “سچ یا جھوٹ ” ہمیشہ کے لئے زندہ رہ جائے گا حسن نے انتہائی تکلیف سے کہا جس پر عالیہ نے اسے عجیب نظروں سے دیکھا پھوپھو کو کس جرم میں سزا ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ میرا مطلب ہے کہ انہوں نے کیا کیا تھا جو انہیں خون بہا میں دیا گیا ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حسن کی بات پر عالیہ کے چہرے پر یژمردگی کے آثار ابھرے ۔ کافی دیر تک کمرے میں خاموشی چھائی رہی ۔جب خاموشی کا دورانیہ طویل ہوا تو عروسہ نے حسن کو چلنے کا اشارہ کیا ۔عالیہ ابھی تک سامنے لگی تصویر کو ہی گھور رہی تھی۔ ساری زندگی میں اس “راز” کو نہ جاننے کی وجہ سے تکلیف میں رہوں گا یہ جو “کسک” ہوتی ہے نا یہ حسن نے سر نفی میں ہلایا اور چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا ہوا دیوار پر لگی تصویر کے سامنے کھڑا ہو گیا ۔
کاش کے میں آپ کو دوبارہ اپنے سامنے دیکھ سکتا آپ کو چھو سکتا _ حسن نے حسرت سے تصویر پر ہاتھ پھیرا حسن اور عروسہ دوبارہ دروازے کی طرف پلٹ گئے اس سے پہلے کے حسن دروازہ عبور کرتا عالیہ نے پکارا ٹھرو عالیہ کی پکار پر حسن بجلی کی تیزی سے واپس پلٹا
مجھے تم سے کچھ کہنا ہے مگر عالیہ کی بات پر عروسہ نے اسے عجیب نظروں سے دیکھا
آپ میرے سامنے بتانے سے کیوں ڈر رہی ہیں ۔ کیا آپ کا بھی کوئی ہاتھ تھا اس سب میں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عروسہ نے عجیب نظروں سے عالیہ کو دیکھتے ہوئے بے تابی سے پوچھا
تم اپنی پھپھو کو ایسا سمجھتی ہو عالیہ کی بات پر عروسہ نے ایک بار پھر انہیں اپنے ساتھ لگا لیا
نہیں میں آپ کو بالکل بھی ایسا نہیں سمجھتی _ آپ میری بہت اچھی پھپھو ہیں۔ کچھ بھی غلط نہیں کرسکتیں عروسہ نے لاڈ سے عالیہ کے بال ٹھیک کرتے ہوئے جواب دیا
عروسہ کچھ کھانے کو لے آؤ۔ مجھے بہت بھوک لگی ہے۔ تب تک میں عالیہ پھپھو کا خیال رکھتا ہوں۔ تم بے فکر رہو میں اب انہیں پریشان نہیں کروں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حسن نے عروسہ کو وہاں سے ہٹانے کے لیے بات بنائی جس پر عالیہ مسکرا دیں.
تم خوبصورتی اور ذہانت میں بالکل اپنی پھوپھو پر ہو _ عروسہ کے باہر جاتے ہیں عالیہ نے کہا چھوڑیں ان باتوں کو اور عروسہ کے آنے سے پہلے پہلے مجھے ساری بات بتا دیں ۔میں آپ کی منت کرتا ہوں حسن نے عالیہ کے پاؤں پکڑے جس پر وہ کرنٹ کھا کر پیچھے ہٹیں۔
میں تمہیں صرف ایک شرط پر ساری بات بتاؤں گی کہ تم میری بھتیجی عروسہ سے کبھی میرے بارے میں کچھ نہیں کہو گے۔ میں اس کے آگے شرمندہ نہیں ہونا چاہتی اور نہ اس کو تمہارے آگے شرمندہ دیکھنا چاہوں گی عالیہ نے ڈرے سہمے انداز میں دھمکی دی
منظور منظور سب منظور بتائیں نہ کیا ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حسن کی تڑپ پر عالیہ بیگم کی آنکھیں بھیگنے لگیں
میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑ کر اپنے کیے کی معافی مانگتی ہوں پہلے تم کہو کہ تم نے مجھے معاف کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ اس طرح میری جان کو سکون مل جائے گا اور میں آرام کی موت مرو گی ۔ میں دن رات اس گناہ کے بارے میں سوچ سوچ کر پاگل ہو گئی ہوں۔ عالیہ نے اپنے آنسوؤں سے بھرے چہرے ساتھ حسن کے آگے اپنے ہاتھ جوڑے ۔
آپ کو معاف کرنے کے علاوہ میرے پاس اور کوئی چارہ بھی نہیں ہے میں نے آپ کو معاف کیا اللہ آپ پر رحم کرے میری پھوپھو کو جنت میں جگہ دے اب آپ بتا دیں گے کہ کیا ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حسن کی بےچینی قابل دید تھی ۔
میں اپنے کزن کو بہت پسند کرتی تھی مگر خاندانی دشمنی کی بنا پر وہ ہمارے گھر نہیں آ سکتا تھا۔
لہذا جب بھی مجھے اس سے ملنا ہوتا میں زریں کو کہتی کہ وہ اماں سے اجازت لے کہ “ہم کھیتوں میں جا رہے ہیں ” ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
اماں میری خوشی کو دیکھتے ہوئے اجازت دے دیتیں مگر ساتھ ہی ساتھ زریں سے کہتی کہ اگر کبھی بھی کوئی مسئلہ کھڑا ہوا تو وہ اسے نہیں چھوڑیں گیئں۔
یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا ۔لالہ کے دل میں بھی زریں کی محبت دن بدن بڑھتی چلی گئی ۔کسی طرح لالہ کی پسندیدگی کا ابّا کو علم ہوگیا تو اس دن گھر میں بہت ہنگامہ ہوا ۔
اماں نے زریں کو حویلی آنے سے منع کردیا اور مجھ پر پابندی لگادی کہ میں اس سے کبھی نہیں ملوں گی مگر کیونکہ مجھے زریں کے ذریعے اپنے کزن سے ملنا تھا تو مجھے یہ پابندی بالکل بھی پسند نہیں آئی ۔ دوسری طرف لالہ بھی ناراض تھے ۔ گھر میں ایک دم عجیب سی فضا قائم ہوگی کوئی کسی سے بات نہیں کرتا تھا ۔ سب ایک دوسرے سے ناراض رہتے تھے ۔
لالہ نے انگلینڈ جانے کی دھمکی بھی دی جس کا کسی پر کوئی اثر نہیں ہوا _ عالیہ کچھ دیر کے لئے رکی جیسے کچھ سوچ رہی ہوں کہ آگے کیا ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟ پھر پھر کیا ہوا ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟حسن بےتاب تھا ۔
میں اس خوفناک رات کو کبھی نہیں بھول سکتی۔ بہت ہی کالی سیاہ رات تھی ۔میں اپنے کزن کے دھوکے کو نہیں سمجھ سکی۔ وہ مجھ سے اپنی خاندانی دشمنی کا بدلہ لے رہا تھا اور میں اس کی محبت میں اندھی تھی ۔
میں رات کے اندھیرے میں اپنے کزن کے بلانے پر اس سے ملنے کے لیے حویلی سے نکلی مقررہ جگہ پر وہ تو نہیں تھا مگر اس کی جگہ کچھ آوارہ لڑکے تھے جو میرے پیچھے پڑ گئے ۔اس وقت مجھے سمجھ آئی کہ میرے کزن نے میرے ساتھ دھوکا کیا ہے وہ میری عزت پامال کرکے میرے ماں باپ کا سر جھکانا چاہتا تھا ۔
میں اپنی جان بچانے کے لئے گرتی پڑتی ننگے پاؤں بغیر دوپٹے کے ذریں کے گھر مدد کے لیے پہنچی ۔
میرے بے تحاشہ دروازہ بجانے اور آوازیں دینے پر حواس باساختہ ہوکر زریں نے دروازہ کھولا وہ خود نیند سے ابھی ابھی بیدار ہوئی تھی اس لیے سمجھ نہ سکی کہ کیا ہو رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
میرا پیچھا کرتے ہوئے وہ آوارہ لڑکے بھی زرریں کے گھر میں داخل ہوئے ۔میرے شور مچانے پر آس پاس کے گھروں میں سوئے لوگ بھی بیدار ہو گئے اور تھوڑی سی دیر میں زریں کے گھر پر ایک ہجوم اکٹھا ہو گیا۔
گاؤں کے لوگ مجھے پہچانتے تھے ان میں سے کسی نے لالہ کو خبر کر دی اور میرے گھر والے بھی پہنچ گئے ۔
لالہ اور ابا کو دیکھتے ہی میری جان نکل گئی میں نے خود کو بچانے کے لئے کہہ دیا کہ زریں نے مجھے دھوکے سے اپنے گھر بلوایا ہے
گھر والے پہلے ہی اس کے خلاف تھے۔ میری بات پر ہتھے سے اکھڑ گئے زریں تو جیسے بالکل ہی خاموش ہوگئی۔ اس نے میرے الزام پر کچھ بھی نہ کہا بس مجھے دیکھتی ہی چلی گئی جیسے اسے یقین ہی نہیں تھا کہ میں اس کے ساتھ ایسا کرو گی۔۔۔۔۔۔؟
لالہ بھی بے یقین تھے کہ زریں ایسا نہیں کر سکتی ۔۔۔۔۔۔۔؟ وہ میری سہیلی ہے اور وہ مجھے دھوکے سے بلوا کر میری عزت کیوں خراب کرے گی ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ فیصلہ پنچائیت تک جا پہنچا
مجھے اپنی جلد بازی پر بہت افسوس ہوا ۔میں زریں کو کوئی نقصان نہیں پہنچانا چاہتی تھی۔ مگر اپنی عزت بچانے کے لئے مجھے کچھ سمجھ نہ آئی کہ میں نے کیا اور کیوں کہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟
جب سمجھ آیا کہ میں نے کیا کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ تو میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے ۔ زریں کو ایک ایسے گناہ کی سزا ملنے والی تھی جو اس نے کیا ہی نہیں تھا ۔
فیصلے سے ایک دن پہلے میں لالہ کے کمرے میں گئی وہ بھی بہت پریشان بیٹھے ہوئے تھے ۔
میں نے لالہ کے پاؤں میں بیٹھ کر رونا شروع کر دیا وہ مجھے روتا دیکھ کر اور پریشان ہوگئے ۔
لالا پلیز آپ کسی بھی طرح زریں کو بچا لیں ۔ میں نے التجا کی۔
پھر لالہ کے اصرار پر انہیں پوری بات بتائی تو انہوں نے زندگی میں پہلی بار میرے منہ پر تھپڑ مارا عالیہ نے بتاتے ساتھ ہی اپنی گال پر ہاتھ رکھ لیا جیسے ابھی تھپڑ پڑا ہو۔
یہ تم نے کیا کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ میری بات سنتے ہیں لالہ شدید پریشانی سے اپنے بال نوچنے لگے
لالہ میں اس سے معافی مانگ لوں گی آپ بس اسے بچا لیں میں نے منت کی
اگر میں اسے بچاؤ گا تو مجھے سب سچ بتانا ہوگا اور اگر سچ بتاؤں گا تو تم پر حرف آئے گا۔
ہماری عزت خاک میں مل جائے گی۔ پھر سارے خاندان میں بات پھیل جائے گی کیا پتا وہ ( میرا کزن) بھی مکر جائے پھر لالہ مسلسل چیخ رہے تھے
لالہ اسے بچا لیں میں نے پھر کہا
تم اپنے کیے کی سزا جانتی ہو ۔۔۔۔۔۔؟ نہیں تم نہیں جانتی خون بہا کے طور پر اپنی جوان بہن کو میں درندوں کے حوالے نہیں کروں گا جس کا جو دل چاہے وہ کرتا پھرے ۔
میں “محبت” کو تو قربان کر سکتا ہوں مگر اپنی “عزت” کو نہیں۔ آج کے بعد تم یہ بات کسی سے نہیں کروں گی سمجھی ۔
لالہ نے اپنے جذبات پر قابو پاتے ہوئے مجھے سمجھایا اور سختی سے منع کیا کہ میں یہ بات کسی کو مت بتاؤں۔
میں پنچایت کے فیصلے تک ان کی منّت کرتی رہی مگر وہ مسلسل مجھے چپ رہنے کا کہتے رہے اور اس طرح زریں کو “خون بہا” کے طور پر ہماری ہی حویلی بھیج دیا گیا ۔
میرا دل کافی مطمئن ہو گیا تھا کہ وہ میری آنکھوں کے سامنے رہے گی اور میں اسے منا لوں گی مگر میں یہاں بھی غلط تھی ۔
اسے حویلی سے دور ڈیرے پر رکھا گیا تھا ۔دن بھر وہ اسی ڈیرے پر کام کرتی اور رات میں کیا ہوتا تھا ہمیں کچھ معلوم نہیں تھا ۔
مگر جب پتہ چلا تب بہت دیر ہو چکی تھی عالیہ اب باقاعدہ اونچی آواز میں رونے لگی تھی۔
آپ کی لالہ ان سے محبت کے دعوے دار تھے پھر انہوں نے پھپھو کو کیوں نہیں بچایا ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ اور یہاں تو کوئی قتل ہوا ہی نہیں پھر خون بہا میں پھوپھو کیوں دی گئیں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حسن نے پوچھا
لالہ تو اس فیصلے کے فوراً بعد ہی انگلینڈ چلے گئے تھے اور قتل صرف انسانی نہیں ہوتا بلکہ “غیرت” کا بھی قتل ہوتا ہے۔
تمہاری پھپھو کو میرے گھر والے بالکل پسند نہیں کرتے تھے دوسرا وہ لالہ کے راستے سے اسے ہٹانا چاہتے تھے تو میرے ابا نے الزام لگایا تھا کہ اس نے ہماری غیرت کا قتل کرنے کی کوشش کی ہے۔
ایک غلطی میں نے کی اور اس غلطی پر مزید غلطیاں میرے گھر والوں نے کی عالیہ اب باقاعدہ اونچی آواز میں رونے لگی اور خود کو پیٹ رہی تھیں۔
عروسہ نے جیسے ہی کمرے میں قدم رکھا عالیہ کو یوں روتا دیکھ کر سہم گئی۔
پھوپھو پلیز چپ ہو جائیں ورنہ آپ کی طبیعت بگڑ جائے گی حسن تم وہاں سے انجکشن نکال دوں عروسہ نے ڈریسنگ ٹیبل کی دراز کی طرف ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہا اور خود عالیہ کو اپنے ساتھ لگا کر تھپکنے لگی
آج کے بعد انہیں کسی انجکشن کی کوئی ضرورت نہیں رہے گی انہیں کبھی کوئی دورہ نہیں پڑے گا ۔
اور تم انہیں چپ مت کراؤ بلکہ رونے دو ۔اتنے عرصے کا جو غبار ہے وہ نکل جائے تو بہتر ہے ۔حسن نے عالیہ کی طرف دیکھ کر کہا جو اب آہستہ آواز میں ہچکیوں سے رورہی تھیں۔
تم سے تو کچھ کہنا ہی فضول ہے میں تایا جی کو بلا کر لاتی ہوں عروسہ تیزی سے کمرے سے باہر چلی گئی۔
میرے بھائی کے بارے میں اگر آپ کچھ جانتی ہیں تو بتا دیں آپ کا احسان ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حسن اب قدرے نارمل تھا کیونکہ جو طوفان آنا تھا وہ آکر گزر چکا تھا
ایک رات ڈیرے پر بہت ہنگامہ ہوا۔ شور مچا تو حویلی سے بابا کے کہنے ہے پر ملازم جب ڈیرے پہنچے تو وہاں ہمارے ایک بندے کو زخمی اور ایک کو مرا ہوا پایا ۔
تمہارے بھائی نے اپنی پھوپھو کو بچانے کے لیے ایک بندے کا ناحق قتل کر دیا تھا عالیہ کی بات پر حسن خوب زور سے ہنسا
ناحق بہت خوب آدھی رات کو بنا کسی رشتے کے دو ملازم میری پھوپھو پاس پائے جا رہے تھے اور آپ “ناحق” کا لفظ استعمال کر رہی ہیں حسن کی بات پر عالیہ شرمندہ ہوئی
اس وقت تک ہمیں ساری بات معلوم نہ تھی تبھی پتا چلا کہ زریں ساتھ کیا ہو رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
تمہارے بھائی کو “خون بہا” میں ہمیں دینے کا فیصلہ ہوا تھا مگر پنچایت کے ایک ممبر نے اسے اپنی کفالت میں لے لیا ۔
اس واقعے کے بعد تمہاری پھوپھو بالکل چپ چاپ ہوگی اسے اپنے سے زیادہ تم دونوں کی فکر کھائے جا رہی تھی۔
اس لیے وہ بیمار رہنے لگی اور جلد ہی مجھے معافی کا موقع دیئے بغیر اس دنیا سے چلی گئی _ عالیہ پھر بری طرح رونے لگی
کیا آپ مجھے پنچایت کے اس ممبر کا نام بتا سکتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ میں نے اپنے بھائی کو تلاش کرنا ہے حسن کے چہرے پر اپ چٹانوں جیسی سختی تھی۔
مجھے صحیح تو معلوم نہیں مگر شاید کوئی ” شاہ صاحب” تھے شاہ نواز نام تھا ان کا ادھر قریب ہی گاؤں ہے اس سے آگے عالیہ نے کیا کہا حسن صرف ایک لفظ پر اٹک گیا ” شاہنواز “
اس کا مطلب یہ ہوا کہ _ “زاویار ” میرا بھائی ہے حسن زیرلب بڑبڑاتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا ۔
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
ساری رات سوچ سوچ کر میرا سر درد سے پھٹنے لگا ہے اور تم یہاں مزے سے سو رہے ہو فرزین نے غصے سے سعد کے اوپر سے کمبل کھینچا میں نے تو نہیں کہا سوچنے کو سعد نے اپنی آنکھیں ملتے ہوئے جواب دیا
اٹھ کر بیٹھو _ مجھے تم سے بات کرنی ہے آنکھیں کھولو ورنہ یہ پانی کا جگ میں تمہارے اوپر گرا دوں گی فرزین نے سعد کو دوبارہ لیٹتا دیکھ کر سائیڈ ٹیبل کی طرف انگلی سے اشارہ کیا
کیا تکلیف ہے تمہیں ۔۔۔۔۔۔؟ اگر تمہیں نیند نہیں آرہی تو مجھے تو سونے دو سعد اب اٹھ کر بیٹھ گیا تھا
تم میرے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہو ۔۔۔۔۔۔۔؟ بے شرم فرزین چلائی
ایسا کیسا میں نے کیا کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟ اب کی بار پوری آنکھیں کھول کر سعد نے فرزین کو گھورا زیادہ معصوم بننے کی ضرورت نہیں ہے۔ تمہیں شرم نہیں آتی اپنی بیوی کی شادی کراتے ہوئے فرزین نے سر نفی میں ہلایا
کون سی بیوی _ کیسی بیوی کہاں ہے بیوی مجھے تو اتنے عرصے سے نظر ہی نہیں آئی ۔۔۔۔۔؟
سعد کی ایکٹنگ پر فرزین نے کمرے میں ادھر ادھر نظر گھمائیں ۔
خبردار جو تم نے میرے اوپر کسی قسم کا کوئی بھی تشدد کرنے کا سوچا سعد نے اپنے آگے تکیہ کرتے ہوئے محتاط طریقے سے کہا
چلو پھر سیدھی طرح بات کرو ۔۔۔۔۔۔؟ فرزین اب سنجیدہ تھی
آخر تم میرے سے کیا چاہتی ہو ۔۔۔۔۔۔؟ نہ تم مجھ سے شادی کر کے خوش ہو اور نہ _ سعد نے جملہ ادھورا چھوڑا تم میری بات مت کرو اپنی کرو تم تو مجھ سے محبت کے دعوے دار تھے پھر کیا ہوا ۔۔۔۔۔۔۔؟ فرزین کو غصہ آیا
“اب بھی الزام محبت ہے ھمارے سر پر
اب تو بنتی بھی نہیں یار ہماری ان کی”
سعد نے شرارت سے شعر پڑھا جس پر فرزین نے اسے زور سے دوسرا تکیہ مارا ۔
تم آؤٹ ہو گئی ہو میں نے تمہارا پھینکا تکیہ کیچ کر لیا ہے اب تم ہار مان لو سعد نے اسے چڑھایا
ساتھ میں بالکل سنجیدہ ہوں ۔۔۔۔۔۔ فرزین کی آنکھوں میں آنسو چمکنے لگے
اور جو میں اتنے عرصے سے سنجیدہ تھا تمہیں کبھی احساس ہوا ۔۔۔۔۔۔؟
کہ تمھاری وہ باتیں مجھے کتنی تکلیف دیتی تھی ۔۔۔۔۔۔؟
جب تک انسان کے خود دل کو تکلیف نہ پہنچے وہ دوسرے کی تکلیف کا احساس نہیں کر سکتا ۔۔۔۔۔؟
فرزین اگر تم میرے ساتھ رہنا نہیں چاہتی تو تمہیں اجازت ہے کہ تم کسی اور شخص کے ساتھ اپنی زندگی ہنسی خوشی گزارو ۔
لیکن اگر تم میرے ساتھ خوش ہوں تو پھر اپنی خوشی کا اظہار کرو ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ سعد بھی اب بالکل سنجیدہ تھا
بات دراصل یہ ہے کہ میں اس گھر سے کہیں بھی جانا نہیں چاہتی تم سے شادی کا بھی میرا کوئی خاص ارادہ نہیں ہے مگر کسی اور سے بھی شادی نہیں کرنا چاہتی ۔ فرزین کی بات پر سعد نے اسے تعجب سے دیکھا ایسے کیوں دیکھ رہے ہو اب میں نے کیا کیا ہے ۔۔۔۔۔۔؟ فرزین کی معصومیت پر سعد کا دل کیا کہ اب پانی کا جگ اس پر گرا دے اگر تم مجھ سے شادی نہیں کرو گی تو میں تمہاری شادی ڈاکٹر قاسم سے کروا دوں گا ۔۔۔۔۔۔؟ سعد نے اپنے طور پر دھمکی لگائی۔ دیکھو مجھے تم سے شادی پر اب وہ اعتراضات نہیں ہیں جو پہلے تھے مگر میں چاہتی ہوں کہ فرزین کچھ دیر کے لئے رکی
کیا تم کیا انڈیا کے ڈراموں کی طرح چپ کر جاتی ہو۔ ایک ہی سانس میں کیوں نہیں بول دیتی کہ کیا مسئلہ ہے تمہیں ۔۔۔۔۔۔؟ سعد چڑ گیا وہ میں چاہتی ہوں کہ جس سے میری شادی ہو وہ نا مجھے اس سے پہلے محبت بھی ہو یعنی وہ مجھ سے محبت کرے فرزین کی اس عجیب وغریب خواہش پر سعد کے چودہ طبق روشن ہو گے
یعنی اگر میں نے تم سے شادی کرنی ہے تو میں اس بات کا کیسے ثبوت پیش کروں کہ مجھے تم سے محبت ہے ۔۔۔۔۔۔؟ سعد آگے کو جھکا
تو وہ سب کرو نااااا جو اس ڈرامے میں ہمایوں سعد نے کیا تھا ۔۔۔۔۔۔؟ فرزین نے چہک کر بتایا تھا۔
بیڑہ غرق ہوجائے ان ڈراموں کا اچھی خاصی سادی لڑکیوں کا ستیاناس کر دیا ہے سعد نے دل میں سوچا
اچھا ٹھیک ہے اگر میں ڈرامہ دیکھ کر ہمایوں سعید کی طرح تم سے اظہار محبت کروں تو پھر تم خوشی خوشی مجھ سے شادی کر لوں گی۔۔۔۔۔۔۔؟ سعد نے سوال کیا
ہاں بالکل مگر فرزین کچھ سوچ کر چپ ہو گئی
جو “مگرمچھ” رہ گیا ہے وہ بھی بتا دو۔ تاکہ میں ایک بار ہی اپنے دل کو تیار کر لوں۔ بار بار کے جھٹکوں سے یہ بند بھی ہو سکتا ہے۔ سعد کی بات پر فرزین منہ بناتی اٹھ کھڑی ہوئی
پہلے تم ڈرامہ دیکھو باقی باتیں بعد میں __ فرزین کے کمرے سے جاتے ہی سعد نے سوچ لیا تھا کہ شادی کے بعد وہ فرزین کے ڈراموں پر پابندی لگا دے گا ۔
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
جاری ہے
