Phir Yun Hua By Amna Mehmood Readelle50141 Episode 35
No Download Link
Rate this Novel
Episode 35
جیسے ہی حسن اس علاقے میں داخل ہوا وہ چیزوں کو پہچاننے کی کوشش کرنے لگا مگر آج سے بیس سال پہلے کی کوئی بھی چیز یا راستہ اسے نظر نہیں آرہا تھا ۔
راستے بھی کتنے بدل گئے تھے یا شاید جو کچھ اس کے ذہن میں محفوظ تھا وہ اب بہت کمزور ہو گیا تھا ۔تبھی وہ کچھ بھی پہچاننے سے قاصر تھا
وہ راستہ جہاں سے ہم بھاگے تھے _ اور وہ درخت جس کے نیچے میں بیٹھا تھا اور وہ سڑک بھی پہلے کچی تھی جبکہ اب وہاں اچھی خاصی کشیدہ سڑک بن گئی تھی جس پر ٹریفک بھی بہت زیادہ تھی
مختلف جگہوں اور مناظر پر نظر مارتے پرانے وقت اور حال کا آپس میں تعلق جوڑتے بالآخر حسن نے سڑک کے کنارے ایک جگہ گاڑی روک دی ۔
کیا ہوا کیوں گاڑی روک دی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عروسہ نے چونک کر حسن کی طرف دیکھا جو اب دونوں ہاتھوں سے اپنا سر دبا رہا تھا
تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے ناااااا ۔۔۔۔۔؟؟؟ عروسہ کو اسے یوں دیکھ کر تشویش ہوئی
میرا سر چکرا رہا ہے ۔ یہ وہ گاؤں تو نہیں ہے جو میرا تھا یہ تو کوئی اور ہی جگہ ہے میں کیسے اب اپنے بھائی کو ڈھونڈوں گا ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حسن بے چین ہوا
ہم سب مل کر اسے تلاش کریں گے تم پریشان مت ہو میں ہوں نا تمہارے ساتھ _ عروسہ نے حسن کا کندھا تھپتھپایا پھر عروسہ کے بتائے گئے راستے پر اس نے گاڑی ڈال دی مگر ذہن مسلسل الجھا ہوا تھا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ سب کچھ ایک دم بدل جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ اگر واقعی ہی عروسہ کی پھوپھو بےگناہ ہوئی تو ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یا وہ کوئی اور نکلیں میری پھوپھو کی دوست نہیں تو ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ کچھ تو سفر کی تھکاوٹ تھی اور کچھ یادوں کا شدید دباؤ حسن کو اپنا آپ چکراتا ہوا محسوس ہو رہا تھا ۔
حویلی پہنچنے تک کوئی بھی چیز اس کو ایسی نظر نہ آئی جس میں اسے اپنے ماضی کی جھلکیاں نظرآتیں یا وہ یہ کہہ سکتا کہ اس نے یہ جگہ یہ راستہ پہلے بھی کبھی دیکھا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
حویلی پہنچنے پر حویلی والوں نے ان کا پرتپاک استقبال کیا امجد ،عروسہ کے تایا نے حسن کو گرم جوشی سے اپنے ساتھ لگایا مگر حسن کسی کو دیکھ کر مسکرا بھی نہ سکا ۔
یہ بہت تھک گیا ہے ۔ پہلی بار اس نے اتنا لمبا سفر کیا ہے ۔میرے خیال سے ابھی آپ لوگ اسے آرام کرنے دو ۔پھر بعد میں باتیں کرتے ہیں ۔
عروسہ نے حسن کی حالت کے پیش نظر اسے مردان خانے کی گہماگہمی سے بچایا
عروسہ حسن کو اپنے ساتھ لے کر ایک وسیع مگر سادہ سے سجے کمرے میں پہنچی تو حسن نے جیسے یہ دروازہ کھول کے قدم اندر رکھا سامنے لگی تصویر کو دیکھ کر اپنی جگہ ساکت رہ گیا۔
حسن کو یوں دروازے میں ساکت کھڑا دیکھ کر عروسہ کو بہت حیرت ہوئی ۔
رک کیوں گے کیا دیکھ رہے ہو اندر چلو ناااا ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
مگر جب اس کے وجود میں کوئی بھی جنبش عروسہ کی بات سے نہ ہوئی تو عروسہ نے اس کی نظروں کے سمت دیکھا
تم بابا کی تصویر کو اس طرح کیوں دیکھ رہے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
عروسہ نے دوبارہ حسن کا بازو ہلا کر کہا تو اس کا سکتہ ٹوٹا ۔
صرف اس ایک شخص کے غلط فیصلے سے ہمارے گھر کا پورا شیرازہ بکھر گیا اور یہ کس قدر مطمئن رہا آخری دم تک ایسا کب ہوتا ہے کہاں لکھا ہے کہ محبت کے غداروں کو کوئی سزا نہ دی جائے غدار تو غدار ہی ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
حسن اب چلتے ہوئے سامنے دیوار پر لگی دیو سائز تصویر کے سامنے رکھا ۔جس میں ایک خوبصورت نوجوان بلیک تھری پیس سوٹ پہنے سگار پی رہا تھا اور چہرے پر ایک پرکشش مسکراہٹ تھی ۔ جو اس کے حسن میں مزید اضافہ کر رہی تھی۔
میں تمہارا دل نہیں دکھانا چاہتی ۔ میں تم سے شرمندہ ہوں اور معافی مانگتی ہوں ۔
مگر مجھے اس سارے قصے میں بابا کی کوئی غلطی نظر نہیں آرہی جب تک ہم حقیقت جان نہیں لیتے ۔ ہم ان کی غلطی نہیں نکال سکتے۔
عروسہ کو اپنے باپ کے لیے حسن کے کہے گئے الفاظ بہت برے لگے ۔ مگر وہ حسن کو بھی ناراض نہیں کرنا چاہتی تھی۔
تمہاری پھوپھو کہاں ہے مجھے ابھی اور اسی وقت ان سے ملنا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ اچانک حسن نے وحشت سے مڑتے ہوئے عروسہ سے پوچھا
تم تھوڑی دیر آرام کر لو مجھے بہت بھوک لگی ہے ت۔ ھوڑا کھانا کھا لیتے ہیں پھر ان سے بات کریں گے پلیز
عروسہ کی التجا بھرے لہجے پر حسن نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیر کر خود کو نارمل کرنے کی کوشش کی ۔
مجھے بالکل بھی بھوک نہیں ہے صرف ایک پیالی چائے اور اگر کوئی pain killer مل سکے تو وہ لا دو حسن نے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے اپنے شوز اتارے ۔
تم آرام کرو میں ابھی لے کر آتی ہوں عروسہ کہتی ہوئی کمرے سے باہر چلی گئی ۔
آرام تو میری زندگی سے اسی دن ختم ہو گیا تھا جس دن میں اپنے گھر والوں سے بچھڑا تھا ۔
حسن سوچتا ہوا کب نیند کی وادیوں میں اتر گیا اسے خود بھی محسوس نہ ہوا۔
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
مہرالنساء نے ماہی کو بہت پیار سے اپنے پاس بلایا اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرا ۔
ہمیشہ خوش رہو میری کوئی بیٹی نہیں ہے لیکن اگر ہوتی تو بالکل تمہارے جیسی ہوتی مہرونساء کی بات پر ماہی کی آنکھوں میں ستارے چمکنے لگے
کتنے دن ہو گئے تھے اسے اپنے ماں باپ سے ملے ہوئے ۔ماں کے لہجے کی مٹھاس الگ ہی ہوتی ہے ۔ماہی نے دل میں سوچا
یہاں بیٹھو ماہی کو نیچے زمین پر بیٹھا دیکھ کر مہرالنساء نے اسے ٹوکا
بڑی بیگم صاحبہ آپ مجھے سے اتنا اچھا سلوک مت کریں مجھے شرمندگی ہورہی ہے ۔
میرے بھائی نے کتنا ظلم کیا آپ پر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ اور آپ مجھے اتنی عزت دے رہی ہیں میں اس عزت کے قابل نہیں ہوں ماہی نے مہرالنساء کے آگے اپنے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا
بہت بری بات ہے ایسا نہیں کہتے جو تمہارے بھائی نے کیا وہ اس کا ذاتی فعل تھا ۔ اس میں تمہارا کوئی قصور نہیں ہے مہرالنساء نے ماہی کے جوڑے ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے قریب بیڈ پر بیٹھایا۔
آپ مجھے سزا دیں ۔ میں ہر طرح کی سزا برداشت کرنے کے لیے تیار ہوں ۔ مگر اتنا پیار مت کریں اس طرح تو میں اپنی نظروں میں ہی گر جاؤ گی ماہی نے روتے ہوئے کہا
سزا اگر ملے گی تو تمہارے بھائی کو ملے گی تمہیں ہرگز نہیں۔
میرے خاوند نے ساری زندگی انصاف سے کام لیا ہے۔ وہ کبھی اس “گندی رسم” کی حمایت میں نہیں رہے اور میرے بیٹے نے خون بہا میں تمہیں مانگ کر مجھے بہت دکھ پہنچایا تھا مگر مہرالنساء کچھ دیر کے لئے رکیں۔
مگر اس کے اچھے سلوک پر اب میرا دل مطمئن ہے۔ ہم جاھل لوگ نہیں ہیں کہ کسی کے حصے کی سزا کسی معصوم کو دیں اور اس کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کریں۔
صدیق ہمارا نوکر نہیں بلکہ ہمارے خاندان کا ایک فرد ہے تم خود کو کبھی کمتر مت سمجھنا ۔ جب کبھی بھی تمہیں کوئی مشکل پیش آئے یا کوئی مسئلہ ہو تو تم مجھے اپنی ماں سمجھ کر بتا سکتی ہو ۔
اگر تم اپنی خوشی سے صدیق ساتھ رہنا چاہتی ہو تو ٹھیک ہے ورنہ میں تمہیں عزت سے تمہارے والدین پاس پہنچا دوں گی مہرالنساء کی بات پر ماہی نے ایک دم سر اٹھا کر انہیں حیرت سے دیکھا
یعنی تم ایسا نہیں چاہتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ مہرالنساء ہلکا سا مسکرا ئیں۔
آپ نے بالکل صحیح سمجھاہے میں صدیق ساتھ اپنے رشتے کو ختم نہیں کرنا چاہتی بے شک وہ ایک اچھے انسان ہیں ماہین کھلے دل سے اقرار کیا۔
یہ تو بہت ہی اچھی بات ہے “خوش رہو آباد رہو” مہرالنساء نے پیار کرتے ہوئے اپنے ہاتھ سے دو سونے کی چوڑیاں اتار کر ماہی کو پہنا دیں۔ جس پر اس نے سوالیہ نظروں سے انہیں دیکھا
یہ رسم ہے ہم اپنی بہو کو منہ دکھائی میں دیتے ہیں ۔ صدیق منہ بولا بیٹا ہے تو تمہارا بھی حق بنتا ہے جبکہ باقی چوڑیاں میں زاویار کی دلہن کو دونگی مہرالنساء کے آخری جملے پر ماہی خاصی بدمزا ہوئی ۔
آپ کو اپنے ہیرے جیسے بیٹے کے لئے کوئی نازک سی لڑکی نہیں ملی تھی جو ایک آنٹی پسند کرلی۔
چلیں ” سر ” کا تو دماغ کام نہیں کرتا پڑھا پڑھا کر نظریں بھی کمزور ہوگئیں ہیں مگر آپ تو اچھی خاصی عقلمند اور جہان دیدہ خاتون لگتی ہیں ۔
ماہی نے دل میں سوچا مگر فی الحال اس نے زبان پر لانے سے احتیاط برتی کہیں مہرالنساء غصے میں آکر چوڑیاں واپس ہی نہ لے لیں۔
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
یہ کیا کہہ رہے ہو سوچ سمجھ کر بولا کرو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ اقبال صاحب نے سعد کو گھورتے ہوئے قدرے سخت لہجے میں کہا
نہیں نہیں بھائی صاحب آپ بچے کو مت ڈانٹیے وہ صحیح تو کہہ رہا ہے۔ ہم لوگ واقعی اپنے بیٹے قاسم کے لئے آپ کی گڑیا کا ہاتھ مانگنے آئے ہیں ۔
جیسے یہ ڈاکٹر قاسم کے والد نے سعد کی حمایت کی سعد آرام سے ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر صوفے ساتھ ٹیک لگاتے ہوئے باپ کو مسکرا کر دیکھنے لگا جیسے کہہ رہا ہو اب بتائیں ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
مگر رضیہ بیگم نے بات واضح کرنے کے لیے ابھی اپنا منہ کھولا ہی تھا کہ اقبال صاحب نے روک دیا
بیگم پہلے ان کی بات سننے تو دو ہاں تو آپ رشتہ لے کر آئے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ اقبال صاحب نے اب کی بار نرمی سے انہیں مخاطب کیا
جی بالکل میرا ایک ہی بیٹا اور بیٹی ہے ۔ میں ان والدین میں سے نہیں ہوں جو اپنے بچوں پر اپنی مرضی مسلط کرتے ہیں۔
میں نے ہمیشہ اپنے بچوں کو ان کی پسند کرنے دی ہے وہ اپنی مرضی سے ڈاکٹرز بنے ہیں۔
اور اب ان کی مرضی سے ان کی پسند سے ہی ان کی شادی کرنا چاہتا ہوں ۔
میرے بچے کو آپ کی بیٹی بہت پسند ہے اور سچ پوچھیں تو گڑیا کو دیکھنے کے بعد مجھے اپنے بیٹے کا فیصلہ بالکل ٹھیک لگا ہے۔
ڈاکٹر قاسم نے اپنے باپ کی بات پر فرزین کی طرف مسکرا کر دیکھا مگر فرزین حیران پریشان کبھی ڈاکٹر قاسم اور کبھی آرام سے بیٹھے سعد کو دیکھ رہی تھی ۔
ہم آپ لوگوں کی تمام شرطیں سنے بغیر ہی ماننے کو تیار ہیں۔ بس آپ ہماری جھولی میں یہ بچی ڈال دیں ڈاکٹر قاسم کی والدہ نے بھی اپنا دوپٹہ پھیلاتے ہوئے اقبال صاحب سے کہا
اب تو فرزین کی بس ہونے لگی تھی ۔اسے سعد سے ایسی امید نہ تھی پتہ نہیں کیوں مگر اسے شدید دکھ پہنچا تھا ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
کچھ دیر سعد کو گھورنے کے بعد کہ شاید وہ کچھ بولے مگر پھر تنگ آکر فرزین کچھ بھی کہے بغیر روم سے باہر چلی گئی۔
اس کے یوں تیزی سے باہر جانے پر سب دروازے کی طرف دیکھنے لگے ۔
زیادہ پریشان ہونے والی بات نہیں ہے۔ عموماً لڑکیاں اس قسم کا ہی ردعمل دیتی ہیں ۔ آپ اپنی بات جاری رکھیں سعد نے مصنوعی مسکراہٹ چہرے پر سجاتے ہوئے ڈاکٹر قاسم کے والد کو شہ دی ۔
بس پھر ادھر ادھر کی باتیں شروع ہو گئیں۔ رضیہ بیگم اس وقت دماغی طور پر وہاں موجود نہ تھیں اور گم سم صوفے پر بیٹھیں سب کے چہروں کی طرف دیکھ رہی تھی ۔
ان کو یہ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ سعد اور اقبال صاحب ان لوگوں کو سچ کیوں نہیں بتا رہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
اچھا اب ہم چلتے ہیں مگر ہمیں آپ کے جواب کا بےچینی سے انتظار رہے گا قاسم اور اس کے والد نے گرمجوشی سے مصافحہ کیا ۔
سعد ان لوگوں کو دروازے پر چھوڑنے کے لیے آیا مگر جیسے ہی وہ گیٹ بند کرکے پلٹا آگے فرزین اس کو کھڑے تیوروں سے گھور رہی تھی ۔
یہ کیا بدتمیزی تھی ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ فرزین نے غصے سے پوچھا
کون سی بتمیزی ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ سعد نے نا سمجھی سے گیٹ کی طرف مڑ کر دیکھا
یہی جو ابھی ڈرائنگ روم میں کر رہے تھے فرزین نے دانت چباتے ہوئے جواب دیا
دیکھو میں نے یہ سب تمہارے بھلے کے لیے ہی کیا ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
تم مجھ سے شادی نہیں کرنا چاہتی تو اب اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ میں تمہارے ساتھ زبردستی کروں گا ۔
میں تمہارا گھر آباد دیکھنا چاہتا ہوں اور اپنا بھی سعد نے اپنی مسکراہٹ دباتے ہوئے سنجیدگی کا لبادہ اوڑھا
اس لیے میں چاہتا ہوں کہ تمہاری شادی ڈاکٹر قاسم جیسے شخص سے ہو جائے تم اپنے گھر کی خیریت سے ہو جاؤ تو میں بھی اپنے بارے میں سوچو ۔
کیونکہ اب میرا اکیلا رہنے کو بالکل دل نہیں کرتا میرا دل کرتا ہے کہ میری ایک پیاری سی بیوی ہو جب میں گھر واپس آؤں تو وہ مجھے مسکرا کر ملے۔
آخر کب تک میں تمہاری ہاں کا انتظار کرو ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ کہیں ایسا نہ ہو تمہاری ہاں کا انتظار کرتے کرتے میری شادی کے دن گزر جائے اور عمرہ حج کے شروع ہو جائیں سعد نے فرزین کے چہرے پر اڑتی ہوائیاں نوٹ کرتے ہوئے مزے سے بتایا۔
تمہیں تو میں بعد میں دیکھتی ہوں پہلے ذرا ماموں سے بات کر لوں فرزین کچھ دیر اسے گھورتی رہی جو مزے سے جیکٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالے اسے ہی دیکھ رہا تھا
فرزین بی بی اب مزا آئے گا ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
کب سے میں تڑپ تڑپ کر شادی کا کہہ رہا ہوں تو محترمہ نے ایک ہی رٹ لگائی ہوئی تھی “مجھے نہیں کرنی” ایک تو ان لڑکیوں کو کوئی بات آرام سے سمجھ ہی نہیں آتی ۔
شاباش بیٹے سعد زندگی میں پہلی بار عقلمندی کا مظاہرہ کیا ہے ۔سعد اپنے آپ کو داد دیتا کچن کی طرف بڑھ گیا ۔
آپ نے ان لوگوں کو کیوں نہیں بتایا کہ فرزین ہماری بیٹی کے ساتھ ساتھ ہماری بہو بھی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ رضیہ بیگم نے اقبال صاحب سے شکوہ کیا
تم نے سعد کو دیکھا نہیں تھا کہ وہ کس طرح منہ پھاڑ کر فرزین کے رشتے کی بات کر رہا تھا مجھے یہ بات اس کے منہ سے بہت بری لگی ہے ۔
اگر وہ فرزین سے شادی نہیں کرنا چاہتا تو ہمیں بھی اپنی ضد چھوڑ دینی چاہیے اور بچوں کی شادیاں ان کی پسند کو مد نظر رکھتے ہوئے کرنی چاہیے اقبال صاحب نے اپنا سینہ ملتے ہوئے جواب دیا
آپ خود بھی اس بات سے پریشان ہیں تو کیوں ایسا سوچ رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
بچے تو بیوقوف ہیں میرے خیال سے ایک دفعہ ہمیں ان دونوں کو اکٹھے اپنے سامنے بٹھا کر پوچھ لینا چاہیے کہ وہ دونوں کیا چاہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
اگر وہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے تو پھر ٹھیک ہے رضیہ بیگم نے اقبال صاحب کی طبیعت کو نظر میں رکھتے ہوئے محتاط الفاظ استعمال کیے۔
ہاں تمہاری بات بالکل ٹھیک ہے ویسے تم اپنے طور پر فرزین سے ڈاکٹر قاسم کے بارے میں بھی پوچھ لینا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ مجھے تو وہ “سعد ” کے بعد فرزین کے لیے بہترین لگا ہے اقبال صاحب کہتے ہوئے کافی دکھی تھے ۔
اچھا اچھا ٹھیک ہے آپ زیادہ پریشان مت ہوں رضیہ بیگم نے فورا حامی بھری تا کہ اقبال صاحب کی طبیعت بگڑ نہ جائے ۔
فرزین جو اقبال صاحب سے بات کرنے آئی تھی ان دونوں کی گفتگو دروازے کے باہر سے ہی سن کر اپنے کمرے میں پلٹ گئی۔
اسے رہ رہ کر سعد پر غصہ آ رہا تھا ۔ویسے تو ہر وقت ” راگ الاپتا ” رہتا تھا میں تمہیں بہت خوش رکھوں گا تم ایک بار اعتبار کر کے تو دیکھو فرزین مسلسل بڑبڑاتے ہوئے اپنے کمرے میں چکر لگا رہی تھی
جب غصہ شدید ہو گیا تو اس نے اپنے کمرے کی چیزیں اٹھا اٹھا کر ادھر ادھر پھینکنا شروع کر دیں ۔
“خُود ہی ہیں باعثِ تکلیف ہم اپنـے لیـے محسنؔ
نہ ہم ہـوتـے ،، نہ دِل ہـوتا،، نہ دِل آزاریاں ہـوتیں”
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
ماہین نے صدیق کے آگے اپنا ہاتھ کرتے ہوئے اسے مہرونساء کے بارے میں بتایا ۔
صدیق نے محبت سے ماہی کا تھاما اور چوڑیوں پر انگلی پھیرنے لگا
ویسے آپ بہت کمال کی چیز ہیں _ آج میں آپ سے بہت متاثر ہوا ہوں جس طرح آپ بول رہی تھیں نہ کسی کا ڈر نہ کوئی فکر _ صدیق نے ستائشی نظروں سے ماہی کی طرف دیکھا ارے یہ تو کچھ بھی نہیں آپ میرے ساتھ رہیں اور دیکھیں کہ میں کیا کیا اور کیسے کیسے اور کس کس کے ساتھ کرتی ہو ں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہی کی بات پر صدیق خاموشی سے اسے دیکھنے لگا اور پھر کافی دیر دیکھنے کے بعد آہستگی سے بولا آپ بہت سمجھدار ہیں مجھے میرے ایک مسئلے کا حل بتائیں گی ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ صدیق کی بات پر ماہی نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا ” مجھے تم سے محبت ہے ” بغیر بولے، لکھے اگر کسی کو بتانا ہو تو کیسے بتائیں گے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ صدیق کے غیر متوقع سوال پر ماہی ہلکی سی مسکرائی۔ اگر آپ کی اس سے ملاقات ہوتی ہے تو اس کو قریب سے کچھ پل خاموشی سے دیکھ کر اسکا ماتھا چُّوم لیں اور ایک مسکراہٹ کے ساتھ اسکو
ایسے دیکھیں۔
جیسے ایک چاند کا دیوانہ چاندنی راتوں میں چاند کو تکتا ہے۔ خود بہ خود اس لحمے میں ” محبت ” تخلیق ہو گی !!
اور اگر آپ کی ملاقات نہیں ہوتی صرف کال پر بات ہوتی ہے
تو کال پر بات کرتے کرتے اچانک احساس بھرے لحمے میں خاموشی سے بنا کچھ کہے بس اسکی سانسوں کو محسوس کریں اسکی خاموشی کو محسوس کریں
اور پھر ایک نرم آواز کے ساتھ یہ کہیں
“میں تمہارے عزت پر کبھی
آنچ نہیں آنے دونگا میرے دل میں تمارے لیے عزت و احترام ہے جو مرتے دم تک قائم رہے گا میں تمہیں اپنی جان سے بھی عزیز رکھوں گا “
عورت کی ڈکشنری میں ” محبت ” کا مطلب ” عزت ہے” وہ سب سمجھتی ہے سب محسوس کرتی ہے بس اسکا اظہار نہیں کرتی ۔
لیکن جب اسے کسی شخص سے عزت ملے احترام ملے _تو وہ محبت کے ہر رنگ میں ڈھل جاتی ہے۔
اب ہر لڑکی میری طرح بے شرم تو نہیں ہوتی ناااا کہ سب خود ہی منہ پھاڑ کر کہہہ دے۔
ما ہی اپنی بات کے آخر میں کھلکھلا کر ہنس پڑی جبکہ صدیق اسے رشک بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے سوچنے لگا
کہ اس لڑکی کا اس کی زندگی میں آنا خدا کی طرف سے ایک انمول تحفہ ہے بیشک وہ اس کا جتنا بھی شکر ادا کرے اتنا کم ہے ۔
“مخصوص دلوں کو عشق کے “الہام”ہوتے ہیں
محبت معجزہ ہے معجزے کب عام ہوتےہیں…!!”
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
جاری ہے
