Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 15

میرا نہیں خیال کہ گاڑی میں کسی بھی جگہ یہ لکھا ہوا ہے کہ “بولنا منع ہے سفر خاموشی سے کریں” کافی دیر تک جب عفت نے کوئی بات نہیں کی تو زاویار نے بیک مرر میں دیکھتے ہوئے اونچی آواز میں خود کلامی کی جب کہ ان کی گاڑی کے پیچھے ہی صدیق اپنے آدمیوں کے ساتھ آرہا تھا ۔
چھوٹے میں فی الحال بہت پریشان ہوں مجھے مزید مت کرو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عفت نے گاڑی کے باہر لہلہاتے کھیتوں کو دیکھتے ہوئے جواب دیا
آپ اتنا ڈرتی کیوں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ زاویار کو شدید غصہ آیا
کیا نہیں ڈرنا چاہیے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عفت نے سوالیہ انداز میں پوچھا
جو ایک بار ہوا ضروری نہیں کہ وہ دوبارہ بھی ہو ۔دوسرا اس وقت بھی ہم نے آپ پر کوئی آنچ نہیں آنے دی تھی ۔زاویار نے تسلی دی
مگر میرے پیارے سب کے سب مصیبت میں پھنس گئے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عفت نے سرد آہ بھری ۔
پلیزززز دکھی مت ہوں کچھ نہیں ہوگا میں ہوں نہ آپ کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا آپ کو میرے ساتھ سے تسلی نہیں ہوتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟ زاویار کی بات پر عفت پھیکا سا مسکرائیں۔اتنی دیر میں زاویار کا فون بچنے لگا
غریبوں آؤ آکر دیکھو اپنے دوست کے عیش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سپیکر سے حسن کی کھنکتی ہوئی آواز سنائی دی اچھا “امیر محترم” ہم غریبوں کو بھی کوئی مشورہ دیں تاکہ ہمارے دن بھی پھر سکیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زاویار نے مسکراتے ہوئے جواب دیا “بینک کا قرضہ ادا کرنے میں آپ کو 30 سال لگ سکتے ہیں لیکن اگر آپ بینک سے چوری کریں تو آپ کو صرف 3 سال قید ہوسکتی ہے۔ اس طرح آپ تین سال کے قلیل عرصے میں کافی امیر بن سکتے ہیں __ مزید کاروباری مشوروں کے لئے مجھ سے رابطہ کریں اور شکریہ ادا کر کے خود شرمندہ نہ ہوں۔ “۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حسن کی بات پر زاویار نے بے اختیار قہقہ لگایا جبکہ عفت نے اسے حیرت سے دیکھا ۔
قسم سے یہ عیاشیاں تیرے اور اس سڑیل (سعد) کے بغیر مزہ نہیں دے رہیں۔ لوٹ آؤ تمہیں اپنی اپنی قسم وہ کیا ہے ناااااا میں کسی کو اپنی قسم نہیں دیتا خوامخواہ خود کے لئے مصیبت بنانے کا فائدہ ۔۔۔۔۔۔ حسن کی محبت کا انداز بہت مختلف تھا جسے زاویر نے محسوس کیا
مس کر رہے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ زاویار نے پوچھا
جی نہیں “مس” نہیں “سر” کر رہا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔ زاویار نے حسن کی بات پر قہقہ لگایا
آجا تجھے تیری دیوانی کی قسم
حسن کی بات پہ زاویار کا دھیان ماہین کی طرف گیا اور ساتھ ہی اس کی باتیں بھی یاد آگئیں۔
یار عجیب پاگل لڑکی ہے سمجھتی ہے سب کچھ اس کی مرضی سے ہوگا بھلا ایسا کب ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ میں نے اپنی پوری زندگی میں اس جیسی بے وقوف لڑکی نہیں دیکھی اب کی بار عفت نے زاویار کی بات بہت دھیان سے سنیں
اسی لئے اس کا نام دیوانی رکھا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ خیر جلدی آنا اس سے پہلے کہ سسرال والے نکال باہر کریں ہماری عیاشیاں تو دیکھ لے ۔حسن کی بات ہے زاویار نے جلد آنے کی تسلی دی اور فون بند کر دیا
جیسے ہی زاویار نے فون بند کیا عفت میں کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد پوچھا
تم کس پاگل لڑکی کے بارے میں بات کر رہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ عفت کی بات پر زاویار کو جھٹکا لگا
اچھا تو آپ میری باتیں سن رہی تھیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ زاویار نے جان بوجھ کر چھیرا
نہیں بس ایسے ہی کان میں لفظ پڑھے تو پوچھ لیا اگر تمہیں برا لگا ہے تو مت بتاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عفت کو حقیقت میں شرمندگی ہوئی ۔
کان میں صرف “لڑکی” ہی کیوں پڑا میں جو اتنے سالوں سے ڈال رہا ہوں وہ کیوں نہیں پڑتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ زاویار نے شرارتاً کہا
چھوٹے تم بات کا بتنگڑ بنا رہے ہو عفت نے ابھی اتنا ہی کہا تھا کہ ایک شخص بھاگا بھاگا اچانک گاڑی کے سامنے آ گیا جس پر زاویار کو بریک لگانا پڑی اور گاڑی ایک جھٹکے سے رکی ۔
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
جب سے سعد آیا تھا فرزین زیادہ وقت اپنے کمرے میں ہی گزار رہی تھی ۔
کیا مصیبت ہے آگے تو جلد چلا جاتا تھا پھر اب کیوں نہیں جا رہا اتنے دن ہو گۓ ہیں آخر کب تک میں چھپ کر رہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ فرزین کمرے میں چکر لگا کر بڑبڑا رہی تھی جب دروازے پر دستک ہوئی۔
پھوپھو میں نے ابھی کھانا نہیں کھانا آپ لوگ کھالیں۔ مجھے جب بھوک ہو گی تب کھا لوں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فرزین نے دروازہ کھولے بغیر ہی جواب دیا
ارے لڑکی پاگل ہو گئی ہے کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ صبح سے کمرے میں بند ہے ۔تمہارے ماموں پریشان ہو رہے ہیں جلدی سے نیچے آؤ اور سب کے ساتھ کھانا کھاؤ جلدی کرو ورنہ میں انہیں بھیج دوں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رضیہ بیگم کہتی ہوئی واپس پلٹ گئی
کیا مصیبت ہےبلیک میلنگ کی بھی حد ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ فرزین غصے میں ان کے پیچھے ہی کمرے سے نکل آئی ۔
جی کہیں کھانا کہاں لگانا ہے صحن میں یا اندر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ رضیہ بیگم ابھی کچن میں پہنچی ہی تھیں کہ اپنے پیچھے فرزین کی آواز سن کر چونک پڑیں۔
کیا ہے ڈرا دیا۔۔۔۔۔۔۔؟ ابھی تو تم اپنے کمرے میں تھی ۔رضیہ بیگم نے ناگواری سے اس کی طرف دیکھا
ویسے پکایا کیا ہے اتنی پیاری خوشبو آ رہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ فرزین کی بھوک چمکی۔
بریانی اور شامی کباب _ رضیہ بیگم نے مسکراتے ہوئے جواب دیا پھپھو موسم بہت اچھا ہے صحن میں کھانا لگا دوں۔ کتنی اچھی ہوا چل رہی ہے خوب مزہ آئے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فرزین نے باہر دیکھتے ہوئے پوچھا نہیں وہ سعد کو الرجی ہے ایک دم اسے نزلہ زکام ہوجاتا ہے رضیہ بیگم کے جواب پر اس کا موڈ خراب ہوگیا۔ بیگم صحن میں ہی لگا دو ہماری بیٹی کا دل کر رہا ہے تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسے تو ویسے بھی بارہ مہینے الرجی رہتی ہے اس کا دل کیوں توڑ رہی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ اقبال صاحب نے کچن کے دروازے میں کھڑے ہو کر کہا جس پر فرزین کھل گئی ۔ ماموں زندہ باد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ابھی لگاتی ہوں ۔ فرزین کمرے سے چٹائی لے کر باہر نکل رہی تھی کہ سامنے سے آتے سعد ساتھ ٹکرا گی اگر وہ نہ پکڑتا تو یقینا گر جاتی ۔ تمہارے پیچھے کوئی لگا ہوا ہے آرام سے نہیں چل سکتی۔ابھی گرتی تو لگ پتا جاتا شکر کرو کہ میں نے تمہیں پکڑ لیا سعد نے اسے چھوڑتے ہوئے کہا
میرے پیچھے تو نہیں مگر آگے کوئی لگا ہوا ہے جہاں بھی جاتی ہوں پتہ نہیں کیوں وہاں آ جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ فرزین منہ بنایا
آپ کی اطلاع کے لئے عرض ہے وہ کہیں سے نہیں آیا وہ یہاں ہی رہتا ہے کیونکہ وہ پیدا ہی ادھر ہوا ہے جب کہ آپ محترمہ سے یہاں آ گئی ہیں سعد نے بظاہر سادے سے الفاظ میں جواب دیا مگر اس کا جواب فرزین کا موڈ خراب کر گیا ایک دم چہرے پر اداسی چھا گئی ۔
اوہ سوری میں مذاق کر رہا تھا۔ فرزین کو اداس ہوتا دیکھ کر سعد نے معذرت کی ۔
میرا مطلب تمہیں دکھ دینا نہیں تھا پتہ نہیں کیوں تم ایک دم اداس ہو جاتی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ سعد نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے دوستانہ لہجے میں کہا
سعد میرے آگے سے ہٹو مجھے کھانا لگانا ہے۔ فرزین نے اسے نظر انداز کرتے ہوئے جواب دیا
اچھا پہلے بتاؤ ناراض ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ سعد نے راستہ روکا
نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ یک لفظی جواب آیا
پھر تم مجھ سے چھپی کیوں پھر رہی ہو۔ اتنے دنوں سے میں آیا ہوا ہوں مگر تم مجھے صرف دو تین بار ہی نظر آئی ہو کیوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ سعد اب باقاعدہ بحث کے موڈ میں تھا ۔
(یہ دونوں ایسے ہی تھے اتنے دنوں بعد ملتے تو پہلے بولتے ہی نہیں ایک دوسرے سے چھپتے رہتے اور جب بولنے لگتے تو پھر چپ کرانا مشکل ہو جاتا )
مجھے کیا پڑی ہے تم سے چھپتی پھروں ۔ میں نے کوئی تمہاری چوری کی ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟ فرزین نے نظریں چرائی
تو پھر تم کمرے میں کیوں رہتی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ سعد باضد ہوا
تو کہاں رہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ میں ویسے بھی اپنے کمرے میں ہی رہتی ہوں ۔فرزین نے جواب دیا اور آگے جانے کے لیے راستہ بنانے لگی ۔
چھپنے سے یا نہ بات کرنے سے اگر تم یہ سمجھتی ہو کہ مجھ سے تمہارا پیچھا چھوٹ جائے گا تو تم غلط ہو۔
بہتر ہے کہ بات کرو مجھ سے تاکہ جن غلط فہمیوں کو تم نے دل میں پال رکھا ہے میں ان کو ختم کر سکوں اس طرح ہم دونوں کی آئندہ زندگی اچھی گزرے گی۔سعد اب بالکل سنجیدہ تھا
تمہیں کس نے کہا ہے کہ میں تمہارے ساتھ اپنی آئندہ زندگی گزاروں گی۔۔۔۔۔۔۔؟ فرزین نے طنز کیا
میرے پیپر ایک ماہ تک ختم ہو جائیں گے پھر میں ہوسٹل کبھی نہیں جاؤں گا اور بقول تمہارے پیارے ماموں جان کہ میرے پیپرز ختم ہوتے ہی میری شادی ہو جائے گی۔
اب میری شادی سے تمہارا کیا تعلق ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ یہ بتانے کی میرے خیال سے مجھے ضرورت نہیں ہے تم سمجھ دارہو ۔سعد کہتا ہوا ایک سائیڈ پر کھڑا ہو گیا مگر فرزین حیرت کے مارے وہیں کھڑی رہی۔
لگتا ہے تمہیں بہت خوشی ہوئی ہے اس خبر سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اتنی کہ تم ہل بھی نہیں پا رہی جب کہ میں نے راستہ چھوڑ دیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سعد نے دونوں ہاتھ اپنی پینٹ کی جیب میں ڈالتے ہوئے فرزین کا جائزہ لیا
تم راستہ ہی تو نہیں چھوڑتے _ فرزین نے ہلکا سا بڑبڑایا جسے سعد نے بخوبی سنا۔
تمہارا ہر راستہ میری طرف ہی آتا ہے کیونکہ میں تمہاری منزل ہوں اس بات کو جتنی جلدی سمجھ لو گی اتنا ہی فائدے میں رہو گی ۔ سعد کا لہجہ بالکل نارمل تھا ۔
مجھے یہ بات آج سے تین سال پہلے بہت اچھے سے سمجھ آگئی تھی اور کچھ
فرزین نے اپنے غصے کو قابو کرتے ہوئے جواب دیا جبکہ وہ دل میں سو چکی تھی کہ آج پھوپھو سے ضرور بات کرے گی۔
حیرت ہے تمہارے رویے سے تو ایسا کچھ نہیں لگتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ سعدابھی مزید بھی بات کرنا چاہ رہا تھا کیونکہ بڑی مشکل سے موقع ملا تھا مگر رضیہ بیگم کی آواز پر چپ کر گیا۔
فرزین کدھر رہ گئی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ رضیہ بیگم کی آواز پر وہ چٹائی لیتی ہوئی صحن کی طرف چل پڑی
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
حسن لان میں بیٹھا مسلسل میز کو بجا رہا تھا جبکہ علی اس کی بے چینی کو نوٹ کر رہا تھا ۔
تم کب تک اپنے اس “مراقبے” سے باہر نکل آؤ گے یا اس وقت کسی میراثی کی روح نے تمہیں اپنے “احاطے” میں لیا ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ علی اب بری طرح بور ہو چکا تھا
یار میں سوچ رہا ہوں کہ اتنے سارے مرد اکیلے کیوں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ میرا مطلب ہے کہ ان کی عورتیں کہاں ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ؟ اب سب کی تو “مر” نہیں سکتیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔؟ حسن نے علی کی طرف دیکھا
بڑی یہ خاص بات بتائی ہے آپ نے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں سمجھا تھا کہ تم کچھ اور سوچ رہے ہو گے ۔۔۔۔۔۔۔؟ علی کے بات پر حسن نے اسے ابرو اچکا کر دیکھا
مطلب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ علی نے سوال کیا ۔
اپنے بزنس کے بارے میں یعنی “چوراچوری” علی نے لان میں نظر مارتے ہوئے جواب دیا جس پر حسن نے اس کے ہاتھ پر اس زور سے مارا
بےوقوف خبردار جو آئندہ اپنے بزنس کا نام یوں “سرعام” لیا تو ۔۔۔۔۔۔۔۔ نظر لگ جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آگے ہی کرونا کی وجہ سے لوگ گھر سے باہر نہیں نکلتے پتہ ہے کتنا نقصان ہوا ہے ہمارے بزنس کو اس لاک ڈاؤن کی وجہ سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حسن کی تقریر پر علی نے سر ہلایا
یامجھے ان کی عورتوں سے ملنا ہے ۔حسن دوبارہ سنجیدہ ہوتے ہوئے بولا
یہ تیری سوئی بار بار ان کی “عورتوں” پر کیوں رک جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ وہ جو انہوں نے تجھے 12 عورتوں کے برابر ایک ہی عورت دی ہے اس سے تیرا گزارا نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ علی نے منہ بنایا
بے وقوف کہیں کا میری بات سمجھ نااااااا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حسن نے نفی میں سر ہلایا
کیا سمجھوں یہی کہ تو ان کی عورتوں کو بہت معذرت کے ساتھ
علی نے اتنا ہی بولا تھا کہ حسن نے ٹوکا
ان کا تعلق بہاولپور سے ہے حسن کی بات پر علی ایک دم سیریس ہو گیا
بہاولپور __
علی نے دہرایا جس پر حسن نے سر ہلایا۔
مجھے بہاولپور جانا ہے مگر اکیلے نہیں ان کے ساتھ تاکہ مجھے کوئی نقصان نہ پہنچا سکے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حسن اب سنجیدہ سے زیادہ رنجیدہ نظر آ رہا تھا
تو تلاش کر لے گا تجھے سب یاد ہے کیا ابھی تک سب ویسا ہی ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ علی نے ایک ساتھ کئی سوال کئے جس پر حسن نے کندھے اچکا دیے ۔
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
جاری ہے.