Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 37

عفت میرے خیال سے اب تمہاری ہر دلیل بیکار ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
وقت آگے ہی تم نے اپنی بیوقوفیوں کی وجہ سے بہت زیادہ گنوا دیا ہے جو بچا ہے اسے سمیٹ لو _ اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے اور تم ہاتھ ملتی رہ جاؤ ۔ سکینہ بی نے اپنے طور پر آخری دفعہ اسے سمجھایا ۔ آگے تمہاری مرضی ہے میں یا بھابھی اب تمہیں کچھ نہیں کہیں گے ۔
سکینہ کہہ کر بیڈ سے اٹھنے لگی جب عفت نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا ۔
میری شروع سے یہ خواہش رہی ہے کہ میرا ساتھی عمر میں مجھ سے بڑا ہو کیونکہ اگر آپ سے بڑا آپ کا ساتھی ہوگا تو وہ آپ کی بیوقوفیوں اور نادانیوں کو آرام سے اگنور کر دے گا ۔
عورت ہمیشہ ایسے مرد کے ساتھ اپنی آپ کو محفوظ تصور کرتی ہے جو اس سے عمر میں بڑا ہو ۔
مجھے ویسے تو اس رشتے پر کوئی اعتراض نہیں مگر ذاویار مجھ سے بہت چھوٹا ہے اور میں نے اسے ہمیشہ ایک چھوٹے کزن کی طرح ٹریٹ کیا ہے پھر میں اسے کیسے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عفت بی اپنی بات سمجھانے سے قاصر تھیں اس لیے انہوں نے بے بسی سے سکینہ کی طرف دیکھا
تم جب تک اس “اگر مگر” کے چکر سے نہیں نکلو گی خود بھی الجھی رہوں گی اور باقیوں کو بھی الجھائے رکھوں گی ۔بس بات ختم اگلے ہفتے تمہاری اور زاویار کی شادی ہے
سمجھی ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
سکینہ بی کہتی ہوئی کمرے سے نکلنے لگی کہ اسی لمحے زاویار نے دروازے پر دستک کے لیے ہاتھ اٹھایا
بس ایک تمہاری کمی تھی آجاؤ شاید تمہاری بات اسے مجھ سے بہتر سمجھ آئے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ سکینہ کہتی ہوئی باہر نکل گئیں
عفت نے ایک نظر دروازے میں کھڑے زاویار کو دیکھا اور پھر دوبارہ بیڈ شیٹ کو گھورنے لگی
آپ کے دل دماغ سے یہ عمروں کا فرق کیوں نہیں نکلتا ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
آخر کب تک آپ ایک لکیر کو پیٹتی رہیں گی ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
اگر اپنے اوپر رحم نہیں آتا تو مجھ پر کر کے دیکھیں ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
زاویار قدم قدم چلتا ہوا عفت بی کے برابر آ کر بیٹھ گیا۔
چھوٹے پہلے تو بات صرف عمروں کے فرق کی تھی مگر اب ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
عفت بی کی بات کا مفہوم سمجھتے ہوئے زاویار نے ایک سرد آہ بھری اور محبت سے عفت بی کا ہاتھ پکڑا
ویسے مجھے یہ حق تو حاصل نہیں ہے مگر پھر بھی کیا آپ کو میرے ہاتھ ٹھنڈے لگ رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
زاویار کے اس قدر “غیر سنجیدہ” سوال پر عفت بی نے اسے ایک گھوری سے نوازا اور اپنا ہاتھ اس کے ہاتھوں سے نکال لیا۔
آپ میری بات کا جواب دیں گھورنے کے لیے زندگی پڑی ہے زاویار شرارت پر اترا
گرم ہیں
عفت نے بیزاری سے جواب دیا
تو پھر یقین رکھیں کہ میں “بے وفا” نہیں ہوں کیونکہ بے وفا لوگوں کے ہاتھ ٹھنڈے ہوتے ہیں _ میرے تو سردیوں میں بھی گرم ہی رہتے ہیں آزما کر دیکھ لینا ۔ زاویار کی مسکراہٹ پر عفت کو بہت غصہ آیا ۔ چھوٹے میں اس وقت بالکل سنجیدہ ہوں اور کسی مذاق کے موڈ میں نہیں ہوں ۔ میں بھی بالکل سنجیدہ ہوں۔ آپ کے دل میں آج جو بھی خدشات ہیں آپ مجھے بتا دیں میں آپ کو جواب دینے کو تیار ہوں مگر آج کے بعد پھر کبھی آپ مجھ سے اس قسم کی کوئی بات نہیں کریں گی زاویار کی بات پر عفت نے ہاں میں سر ہلایا
مجھے صرف اس بات کی سمجھ نہیں آرہی کہ ماہی کو تم نے انکار کیا ۔۔۔۔۔۔؟
جبکہ وہ ہر لحاظ سے مجھ سے کئی درجے بہتر ہے ۔۔۔۔۔؟
اور سچ پوچھو تو مجھے اس کی محبت ہماری آنکھوں میں نظر بھی آتی ہے ۔۔۔۔۔۔؟
اچھا وہ کیسے ۔۔۔۔۔۔؟ زاویار نے عفت سے پوچھا
جس طرح تم نے اس کی شادی پر خرچہ کیا اس کی چھوٹی چھوٹی خواہشات کا خیال رکھا اور حویلی آنے پر تم نے اس کو کتنی عزت دی ۔
اور ویسے بھی تمہارے “الفاظ” تمہاری “آنکھیں” اس بات کا منہ بولتا ثبوت تھے کہ تمہارے دل میں اس کے لیے ایک “خاص” جگہ ہے اب تم مجھ سے جھوٹ مت بولنا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ عفت نے منہ بنایا
آپ کو ایک دوسری لڑکی کی محبت تو میری آنکھوں اور الفاظ میں نظر آ گئی مگر کتنی افسوس کی بات ہے کہ میں بچپن سے آپ سے محبت کر رہا ہوں وہ آپ کو کبھی نظر نہیں آئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
زاویار نے بہت دکھ اورہتاسف سے عفت کی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا
میری ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا آپ میری “من پسند” اور “من چا ہی” ہیں
“‏من پسند انسان کا کوئی متبادل یا بیک اپ نہیں ہوتا۔ نہ خواب خیالوں میں، نہ زمیں آسمانوں پر”
اس سے زیادہ میں آپ کو وضاحت نہیں دوں گا ۔
رہی بات ماہی کی تو مجھے وہ چھوٹی سی لڑکی آپ سے کئی گناہ زیادہ سمجھدار لگ رہی ہے۔
اس دن اگر آپ نے اس کی باتیں غور سے سنی ہوتیں تو آپ کو اندازہ ہوتا کہ زاویار صرف اور صرف “عفت” کا ہے
اگر وہ مجھے پسند کرتی ہے تو اس میں میری کوئی غلطی نہیں ہے
اب میں کسی کے “دل اور دماغ” کو تو اپنے قابو میں کرنے سے رہا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟
اگر کرسکتا تو سب سے پہلے اس “عفت” کے دل اور دماغ کو اپنا اسیر کرتا ۔
آپ اچھے طریقے سے سوچ سمجھ لیں نہ کبھی آپ سے زبردستی کی ہے اور نہ کبھی زندگی میں کروں گا ۔۔۔۔۔۔؟
اگر آپ ساتھ زبردستی کرنی ہوتی تو بابا سائیں کی زندگی میں کرتا کیونکہ ان کی شدید خواہش تھی کہ وہ میری اور آپ کی شادی اپنی آنکھوں سے دیکھیں ۔
آپ آخری دفعہ اچھے طریقے سے سوچ لیں
۔ ۔ اگر آپ یہ رشتہ نہیں بنانا چاہتی تو میں آپ کے راستے سے ہٹ جاؤں گا اور پھر کبھی آپ کے راستے میں نہیں آؤں گا ۔
زاویار کہتا ہوا دکھ سے ایک نظر عفت کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا ۔
میرے دل کی شدید خواہش ہے کہ آپ میرے حق میں فیصلہ دیں _ عفت آپ مجھے ایک موقع دیں میں آپ کو خوش رکھوں گا ۔ اگر مجھ پر نہیں تو اپنے “چھوٹے” پر یہ اعتبار کر کے دیکھیں ۔ زاویار کچھ دیر خاموش بیٹھی عفت کے جواب کا انتظار کرتا رہا پھر مایوسی سے باہر کی طرف چل دیا ۔ “گو چل پڑا ہوں، دل سے مگر چاہتا ہوں یہ وہ اٹھ کے مجھ کو روک لے،اور راستہ نہ دے !” 🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️ پھر تم دونوں نے کیا فیصلہ کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟ اقبال صاحب کے پوچھنے پر فرزین اور سعد نے ایک نظر ایک دوسرے کو دیکھنے کے بعد اقبال صاحب کی طرف دیکھا مجھے تو پہلے بھی کوئی اعتراض نہیں تھا اور اب بھی نہیں ہے سعد نے انتہائی سنجیدہ لہجے میں جواب دیا
ماموں اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ یہ آپ کا بیٹا مجھے ساری زندگی خوش رکھے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟
فرزین کی بات پر سعد کے ساتھ ساتھ اقبال صاحب اور رضیہ بیگم نے بھی پریشانی سے اس کی طرف دیکھا
او لڑکی میری بات کان کھول کے سنو میں لڑکا ہوں کوئی “واشنگ مشین” نہیں کہ میرے ماں باپ تمہیں میری گارنٹی دیں۔
سعد نے غصہ سے فرزین کی طرف دیکھ کر کہا
دیکھا آپ نے ذرا سی بات پر کس طرح ابلنے لگتا ہے ۔۔۔۔۔۔؟
فرزین نے انگلی سے سعد کی طرف اشارہ کیا
تمہارا دماغ تو نہیں خراب ہوگیا
میں کوئی چائے یا دودھ ہوں جو ابلنے لگا ہوں سعد کو تو اب سچ مچ غصہ آ گیا تھا
پھوپھو آپ دیکھ رہی ہیں یہ کتنی بدتمیزی مجھ سے کر رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟
مجھے پتا ہے یہ شادی کے بعد مجھ سے سارے بدلے لےگا ۔۔۔۔۔۔۔؟
اب آپ خود ہی بتائیں میں کیسے خوش رہوں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔؟
فرزن کی بات پر رضیہ بیگم اور اقبال صاحب نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے نفی میں سر ہلایا ۔
ظاہری سی بات ہے انسان کو اپنے “کرتوتوں” کا پتہ ہوتا ہے جیسے اس کے اعمال ہوتے ہیں ویسا ہی اسے پھل ملتا ہے سعد نے کندھے اچکائے
تم دونوں سے ہم نے رائے مانگی تھی یہ نہیں کہا تھا کہ ہمارے سامنے ہی بحث کرنا شروع کردو _
بہرحال تم دونوں کی باتیں سن کر میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ہمیں فرزین کی شادی ڈاکٹر قاسم سے کر دینی چاہیے اور سعد کے لیے کوئی اور لڑکی دیکھنی چاہیے ۔
جیسے ہی اقبال صاحب نے یہ الفاظ ادا کیے رضیہ بیگم بول اٹھیں۔
آپ بچوں کو سمجھانے کی بجائے اتنے مقدس رشتے کو توڑ رہے ہیں ۔بہت معذرت مگر مجھے آپ کی بات بہت بری لگی ہے ۔رضیہ بیگم نے ناراضگی سے اقبال صاحب کی طرف دیکھا
میں نے اگر اس رشتے کو توڑنا ہوتا تو میں جوڑتا ہی کیوں ۔۔۔۔۔۔۔؟
مگر اب مسئلہ ان دونوں کی زندگیوں کا ہے
جب یہ ایک دوسرے کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے تو پھر میرا کیا قصور ۔۔۔۔۔۔۔؟
اقبال صاحب نے نرمی سے رضیہ بیگم کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا
میں نے یہ تو نہیں کہا کہ میں سعد ساتھ نہیں رہتا چاہتی ۔۔۔۔۔؟
میں تو صرف یہ چاہتی ہوں کہ آپ دونوں اسے سمجھائیں کہ یہ مجھ سے محبت اور پیار سے بات کیا کرے۔
فرزین کی بات پر اقبال صاحب اور رضیہ بیگم نے اپنا سر پکڑ لیا ۔
پیار محبت ہی سے تو بات کرتا ہوں ورنہ جتنا تم نے مجھے تنگ کیا ہے دل تو کرتا ہے دو تھپڑ لگاؤں تمہارے سعد نے فوراً اپنے والدین کے آگے اپنی پوزیشن کلیئر کی
فرزین بیٹا تم ہاں یا نہ میں جواب دو تاکہ ہم مستقبل کے بارے میں سوچ سکیں کہ ہم دونوں نے آگے کیا کرنا ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟
اب کی بار رضیہ بیگم نے پیار سے فرزین کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
آپ لوگوں کے سامنے یہ مجھے مارنے کی باتیں کر رہا ہے تو سوچیں یہ اکیلے میں مجھے کتنا مارے گا ۔۔۔۔۔۔۔؟
میں صرف آپ دونوں کی محبت میں اس جنگلی سے شادی نہیں کر سکتی فرزین کے جواب پر رضیہ بیگم نے مایوسی سے اقبال صاحب کی طرف دیکھا
ٹھیک ہے پھر ہم تمہاری شادی ڈاکٹر قاسم سے کر دیتے ہیں وہ خوبصورت بھی ہے اور ایک عزت دار پیشے سے منسلک بھی ویسے بھی اس کے والد کا بار بار فون آ رہا ہے ۔
اقبال صاحب کی بات پر سعد نے چونک کر ان کی طرف دیکھا
مگر میں آپ دونوں کو چھوڑ کر کہیں نہیں جانا چاہتی فرزین نے رضیہ بیگم کے کندھے پر سر رکھ کر جواب دیا
دیکھا یہ ہم سب کو پاگل کر دے گی ۔۔۔۔۔؟
اگر آپ لوگوں کو میری بات مان کر اس کا ٹی وی بند کر دیتے تو یہ نارمل ہوتی ہے
اس کا دماغ صرف اور صرف بے ہودہ قسم کے ڈرامے دیکھ دیکھ کر خراب ہو گیا ہے
سعد کے چیخنے پر رضیہ بیگم نے ناگواری سے اسے دیکھا
ڈرامے تو میں بھی دیکھتی ہوں۔ تمہارا مطلب ہے میرا دماغ بھی خراب ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ رضیہ بیگم کی بات پر فرزین نے ان کے کندھے سے سر اٹھا کر سعد کو چڑایا
اماں آپ کی بات اور ہے اب آپ اس عمر میں خراب ہونے سے تو رہی ۔۔۔۔۔۔؟ سعد نے منہ میں بڑبڑایا
میرے بیٹے تم یہاں پر غلط ہو
بیوی کسی عمر میں بھی خراب ہو سکتی ہے ۔۔۔۔۔۔؟ اقبال صاحب کے جواب پر فرزین اور سعد نے مشترکہ قہقہ لگایا جبکہ رضیہ بیگم برا مان گئیں۔
یہی بات مردوں کی ہم عورتوں کو سب سے بری لگتی ہے۔ ساری زندگی اپنے ماں باپ کو چھوڑ کر ان کو _ ان کے بچوں کو اور ان کے گھر کو سنبھالو اور آخر میں اس طرح کی باتیں سنو رضیہ بیگم آبیدہ ہوئیں۔ بیگم میں تو مذاق کر رہا تھا آپ تو سنجیدہ ہی ہوگی اقبال صاحب نے رضیہ بیگم کو اداس ہوتا دیکھ کر کہا
یہ کیا بات ہوئی ۔۔۔۔۔۔؟ ہمارا مسئلہ حل کرنے کی بجائے آپ دونوں آپس میں شروع ہوگئے ہیں ۔
آپ کا مسئلہ پرانا ہے آپ بعد میں حل کر لیجئے گا مگر ہمارا تو حل کردیں سعد نے اقبال صاحب کو رضیہ بیگم کی دلجوئی کرتے ہوئے دیکھ کر کہا
بس فیصلہ ہوگیا تم دونوں کی شادی اگلے مہینے کے پہلے ہفتے میں ہے ۔
اب میں تم دونوں کی طرف سے کسی قسم کا کوئی اعتراض نہیں سنوں گا ۔
سعد تم خواہ مخواہ فرزین کو تنگ نہیں کرو گے
اور فرزین تم بھی اپنی ذمہ داری سمجھو ۔ اقبال صاحب نے بات ختم کی ۔
میں شادی کے بعد بھی ٹی وی ڈرامے دیکھوں گی ۔۔۔۔۔۔۔؟ فرزین نے اکڑ کر کہا
بالکل بھی نہیں شادی کے بعد میں اس گھر میں ٹی وی کو ہی نہیں رہنے دوں گا۔سعد نے بھی اسی انداز میں جواب دیا
آپ دیکھ رہے ہیں اس کو
فرزین نے ایک بار پھر شکایتی نظروں سے اقبال صاحب کی طرف دیکھا
میں تم دونوں کو بچپن سے دیکھ رہا ہوں اور مرتے دم تک دیکھتا رہوں گا
تم دونوں انتہائی “ڈھیٹ” ہو اور رہو گے ہم بوڑھوں میں اتنی جان نہیں کہ تمہارے ساتھ اپنا دماغ کھپا سکیں۔
اقبال صاحب نے تخت پوش سے اٹھتے ہوئے رسمضیہ بیگم کا ہاتھ پکڑا
ماموں جی یہ تو زیادتی ہے نااااا
فرزین نے رونی صورت بنائی
جتنے “نخرے” میں نے تمہارے اٹھائیں ہیں اور جتنی “منتیں” تمہیں منانے کے لیے میں نے کی ہیں کوئی کر کے تو دکھائے ۔۔۔۔۔۔؟ میں تمہیں بہت خوش رکھوں گا لیکن اگر تمہیں لگتا ہے کہ کوئی مجھ سے زیادہ تمہارے نخرے اٹھا سکتا ہے تو میری طرف سے تمہیں اجازت ہے ۔ جلد از جلد اس گھر سے دفع ہو جاؤ
سعد اپنا غصہ نکالتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا جبکہ فرزین اس کی بات پر اسے حیرت سے دیکھنے لگی
“‏مجھے واپس کر کے دیکھ میری ساری وفائیں
میں بھی تو دیکھوں تیرے پاس رہتا کیا ہے۔۔؟”
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
آپ اتنے خاموش کیوں ہیں کچھ بولیں ناااا ۔۔۔۔۔؟ ماہی نے چپ چاپ بیٹھے صدیق کی طرف دیکھ کر کہا
تمہارے نزدیک اظہار محبت کے لئے سب سے آسان کیا الفاظ ہیں ۔۔۔۔۔۔؟
صدیق کی بات پر ماہی نے کچھ دے اسے دیکھنے کے بعد کہا
I love u ۔۔۔۔۔۔۔
فی الحال ایک مہذب معاشرے میں یہی ایک جملہ چل رہا ہے آپ بھی چاہیں تو اس کا استعمال کرسکتے ہیں۔ اس کے لئے “ان پڑھ “یہ “پڑھے لکھے” ہونے کی کوئی شرط نہیں۔
ماہی نے پورے اعتماد کے ساتھ صدیق کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے جواب دیا
اور اس جملے کا مطلب کیا ہے ۔۔۔۔۔۔؟ صدیق نے ایک اور سوال پوچھا
ویسے اگر بامحاورہ ترجمہ کیا جائے تو اس کا مطلب ہے ” مجھے تم سے محبت ہے “۔
لیکن یہ اپنے مطلب کے ساتھ کم ہی استعمال ہوتا ہے بلکہ لوگ اسے اپنے مطلب کے لئے استعمال کرتے ہیں ۔
ماہی کے جواب پر صدیق کے چہرے پہ ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔
تم باتیں بہت مزے کی کرتی ہو کیسے کر لیتی ہو ۔۔۔۔۔۔۔؟
منہ کھول کر اور کیسے ۔۔۔۔۔۔؟ ماہی کے جواب پر صدیق نے ہنستے ہوئے اپنا سر نفی میں ہلایا
اچھا وہ میں نے تمہیں بتانا تھا کہ چھوٹے شاہ جی کی شادی ہے اگلے ہفتے جیسے ہی صدیق نی یہ جملہ ادا کیا ماہی کے چہرے پر ایک دم سنجیدگی چھا گئی ۔
اچھا
بہت ہی دھیمی آواز میں جواب آیا
پتہ نہیں کیوں مگر ماہی کوشدید دکھ ہوا اگر صدیق سامنے نہ ہوتا تو شاید وہ رونے لگ جاتی ۔۔۔۔۔۔۔؟
تمہیں کیا ہوا تم کیوں ایک دم اتنی افسردہ ہو گئی ہو ۔۔۔۔۔؟
صدیق نے ماہی کے جھکے سر کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
کچھ نہیں ۔۔۔۔۔۔؟ ماہی نے نظر اٹھائے بغیر جواب دیا
وہ بڑی بیگم صاحبہ کہہ رہیں تھیں کہ شادی کے دنوں میں تم بھی حویلی ہی رہنا صدیق نے مہرالنساء کا پیغام دیا
نہیں مجھے نہیں حویلی جانا اور شادی کے دنوں میں تو بالکل بھی نہیں
بلکہ آپ ایسا کریں کہ مجھے کچھ دنوں کے لئے میرے ماں باپ کی طرف چھوڑ آئیں۔
ماہی کے اچانک اس رویے اور مطالبہ کی صدیق کو کچھ سمجھ نہ آئی مگر وہ پریشان ہو گیا ۔
آپ جب چاہیں ان سے مل سکتی ہیں مگر یوں چھوٹے شاہ جی کی شادی کے موقع پر ۔۔۔۔۔۔۔؟ صدیق کچھ ہچکچایا
میں کسی کے باپ کی نوکر نہیں ہوں کہ لوگوں کی شادیوں میں کام کرتی ہیں پھروں اور آپ کو شرم نہیں آئے گی۔۔۔۔۔۔۔۔؟ ویسے تو آپ کہتے ہیں کہ آپ کو میری عزت بہت پیاری ہیں۔
ماہی کے اچانک جارحانہ رویہ نے صدیق کو سچ مچ حیرت میں ڈال دیا ۔
یہ آپ کس طرح بات کر رہیں ہیں آپ ایسے تو بات نہیں کرتیں ۔۔۔۔۔۔؟
صدیق کی بات پر ماہی کو تھوڑی شرمندگی ہوئی اور اس نے اپنے جذبات پر قابو پانے کی کوشش کی ۔
میں شادی کے دنوں میں حویلی نہیں جاؤں گی بس مجھے نہیں پتا ماہی نے ایک ضدی بچے کی طرح صدیق کی طرف دیکھ کر کہا
ٹھیک ہے۔ مت جائیں۔ میں آپ کے ساتھ زبردستی نہیں کر رہا تھا۔ میں تو صرف آپ کو بتا رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صدیق نے اپنی بات کی وضاحت دی گو کہ دینا ضروری نہیں تھی ۔
دفع کریں
آپ ان باتوں کو اور یہ بتائیں کہ آپ نے کس سے اظہار محبت کرنی ہے ۔۔۔۔۔۔؟
اگر مجھ سے کرنی ہے تو بس اشارہ کر دیں کیونکہ یہ آپ کے بس کی بات نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔؟
ماہی کی بات پر صدیق نے مسکراتے ہوئے اس کی طرف دیکھا
میری زندگی میں نہ آپ سے پہلے کوئی لڑکی تھی اور نہ آپ کے بعد کوئی لڑکی آئے گی ۔۔۔۔۔۔؟
مجھے آپ بہت اچھی لگنے لگیں ہیں مگر سمجھ نہیں آتا کہ میں آپ کو کیسے بتاؤں ۔۔۔۔۔۔؟
صدیق کی صاف گوئی پر ماہی نے قہقہ لگایا
یہ بھی کوئی مشکل کام ہے اگر آپ کہہ نہیں سکتے تو پیار سے مجھے اپنے ساتھ لگائیں ماہی نے کہتے ہوئے خود ہی صدیق کے سینے پر اپنا سر رکھا۔
اب میرے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھیں اور دوسرا بازو میرے گرد پیار سے حائل کریں اور کہیں
“ہاتھ پر ہاتھ رکھا اس نے تو معلوم ہوا
ان کہی بات کو کس طرح سنا جاتا ہے۔”
ماہی بتانے کے ساتھ ساتھ خود ہی کرتی جا رہی تھی اور صدیق کسی ریموٹ کی طرح اس کی باتوں کے سحر میں کھویا اس کے ہر عمل کی پیروی کر رہا تھا۔
بس اتنی سی بات تھی آپ کو مجھ سے محبت ہوگئی اور مجھے آپ سے __
ماہی نے کھلکھلا کر ہنستے ہوئے صدیق کی طرف دیکھا تو اس نے ماہی کی روشن پیشانی پر اپنی محبت کی مہر ثبت کی ۔
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
جاری ہے