Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 32

تم عفت سے کب شادی کر رہے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ مہروالنساء نے کوئی دسویں بار یہ سوال دہرایا تھا
جب آپ سب جانتی ہیں تو بار بار کیوں دہرا رہیں ہیں اس بے کار سوال کو _ زاویار سخت بد مزا ہوا تھا کیا مطلب ہے تمہاری اس بات کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ اب کی بار سکینہ بی نہیں پوچھا آپ سب اچھی طرح جانتی ہیں کہ میں شروع سے ہی ان کے ساتھ شادی کرنے کے لیے دل سے راضی ہوں مگر وہ ایسا نہیں چاہتی اور میں ان کے ساتھ زبردستی کرنے کا قائل نہیں زاویار نے ماں کے پاس سے اٹھتے ہوئے اپنے کپڑے جھاڑے
اس کی مرضی معنی نہیں رکھتی _ مہرالنساء نے زاویار کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا مگر میرے لئے ان کی مرضی بہت معنی رکھتی ہے زاویار نے پشت پر ہاتھ باندھتے ہوئے جواب دیا
اگر وہ مان جائے تو پھر تمہاری طرف سے ہمیں کوئی اعتراض موصول نہیں ہونا چاہیے سکینہ بی نے تصدیق چاہی
“اندھے کو کیا چاہیے دو آنکھیں” زاویار مسکراتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا
اب اس سے بات کرنا اسے راضی کرنا تمہارا کام ہے مجھے اس گھر میں خوشیاں چاہییں وہ بھی بغیر کسی ہنگامے کے مہرالنساء نے بیڈ ساتھ ٹیک لگاتے ہوئے اپنی آنکھیں بند کیں
آپ بے فکر رہیں میں اسے منا لوں گی اور آپ بھی اب ہر وقت کمرے میں رہنا چھوڑ دے دیں۔
بیوہ ہونے کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ بندہ کہیں آئے جائے ہی نہ
اچھے کپڑے نہ پہنے خود کو قید تنہائی کی سزا دے میں اب آپ کو اس حالت میں نہ دیکھوں کیونکہ ایسے دیکھ کے مجھے بہت دکھ ہوتا ہے سکینہ کی بات پر مہرالنساء پھیکا سا مسکرائیں
میرا اب پیار ہونے کو باتیں کرنے کو دل ہی نہیں کرتا تو کیا کروں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ سکینہ انہیں بند آنکھوں سے آنسو بہاتا دیکھ کر خاموشی سے کمرے سے باہر نکل آئی
سکینہ کا ارادہ عفت سے بات کرنے کا تھا مگر کمرے سے نکلتے ہی اسے صدیق اندر داخل ہوتا نظر آیا
آج تو بڑی بات ہے کتنے دنوں بعد دولہا صاحب کام پر واپس آئے ہیں
سکینہ نے سینے پر اپنے بازو پر باندھتے ہوئے کہا
چھوٹی بی بی جی ایسی تو کوئی بات نہیں ہے _ صدیق کو سکینہ کا یوں بولنا عجیب سا لگا سنا ہے تمہاری بیوی بہت خوبصورت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ سکینہ کے دوسرے سوال پر صدیق نے ایک نظر دیکھنے کے بعد دوبارہ جھکا لی ویسے تمہاری تو لاٹری نکل آئی ہے جتنے دھوم دھام سے زاویار نے تمہاری شادی کی ہے اگر تمہارے اپنے ماں باپ بھی زندہ ہوتے تو وہ بھی نہ کرتے
سکینہ کی اس بات سے صدیق نے انتہائی افسوس سے ایک نظر انہیں دیکھا اور پھر دوبارہ نیچے دیکھنے لگا
آگے تو تمہاری بڑی زبان چلتی تھی پھر اب کیا ہوا ہے بیگم نے بولنے سے منع کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ سکینہ کو صدیق کی چپ غصہ چڑھا رہی تھی
پتہ نہیں کیوں مگر سکینہ کے دل میں یہ خواہش تھی کہ وہ اظہار کرے کہ اپنی شادی سے بالکل بھی خوش نہیں ہے _ مگر یہاں تو ایسا کوئی معاملہ دکھائی نہیں دے رہا تھا بی بی جی مجھے نہیں پتا کہ آپ یہ سب مجھے کیوں کہہ رہی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ مگر میں آپ کو اتنا بتا دوں کہ میرا اس سب میں کوئی قصور نہیں ہے یہ سب چھوٹے شاہ جی کے کہنے پر ہوا ہے ۔ اپنی بیوی کو کل سے کام کے لیے حویلی بھیجو اسے بتاؤ کہ وہ “خون بہا” میں آئی ہے تاکہ اسے اندازہ ہو کہ اس کی یہاں پر اوقات کیا ہے _ سکینہ نے صدیق کے جواب پر اپنی ساری نفرت کا نشانہ ماہی کو بنایا جی بہتر اور کچھ صدیق کے جواب پر سکینہ کا پارہ اور چڑھ گیا۔ اس نے یہ بات اس لیے بولی تھی کہ وہ غصے میں آکر سکینہ سے باتیں کرے مگر وہ تو آسانی سے اس کی بات مانتے ہوئے خاموش ہو گیا تھا
مجھے بڑی بیگم صاحبہ سے ملنا ہے صدیق نے کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد اپنے آنے کا مقصد بتایا
وہ اپنے کمرے میں ہی ہیں اور آئندہ کوشش کرنا کہ اپنی یہ منحوس شکل مجھے دوبارہ مت دکھانا
سکینہ پاؤں پٹختی ہوئی باہر کی طرف چل دی جب کہ صدیق نے آگے بڑھ کر مہرالنساء کے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا
کون ہے اندر آجائے مہرونساء جو بیڈ ساتھ ٹیک لگائے شاہنواز کی یادوں میں گم تھیں دستک پر آنکھیں کھولتے ہوئے بولی
بڑی بیگم صاحبہ میں ہوں صدیق
وہ آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے اگر آپ اجازت دیں تو_ صدیق نے انتہائی عاجزانہ لہجے میں پوچھا آجاؤ مہرونساء نے اجازت دیتے ہی اپنا منھ چادر سے چھپایا
صدیق کمرے کے اندر جھکی نگاہوں سے داخل ہوا اپنے بازو انتہائی ادب سے باندھے اور دروازے کے ساتھ ہی دیوار پاس عاجزانہ طریقے سے کھڑا ہو گیا
صدیق تمہیں بڑے شاہ جی اپنا بیٹا سمجھتے تھے ۔ وہ تمہیں بہت پیار کرتے تھے اور حد سے زیادہ تم پر اعتبار بھی کرتے تھے۔
اس لیے تم میرے لئے بالکل زاویار جیسے ہو ۔ جو بھی کہنا چاہتے ہو بغیر کسی جھجھک کے کہو ؟؟؟ مہرالنساء نے صدیق کو یوں ہاتھ باندھے نظر جھکائے کھڑا دیکھ کر پوچھا بڑی بیگم صاحبہ آپ تو جانتی ہی ہوں گی کہ چھوٹے شاہ جی نے نے میری شادی بڑے شاہ جی کے قاتل کی بہن سے زبردستی کروا دی ہے
صدیق کچھ پل کے لیے رکا
پھر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ مہرالنساء نے اس کی خاموشی کو نوٹ کرتے ہوئے خود بات کو آگے بڑھایا
وہ اب کیا کرنا ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ میرا مطلب ہے کہ کیا میں اسے آپ کے پاس آپ کی خدمت کے لیے بھیج دوں یا آپ نے کچھ اور سوچ رکھا ہے _ صدیق نے رک رک کے پوچھا مگر دل بہت ہی اداس تھا ماہی کا معصوم اور شرارت بھرا چہرہ نظروں کے سامنے گھومنے لگا تھا صدیق تم ہم سے کیا امید رکھتے ہو ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ مہرونساء نے کچھ دیر بعد اسی سے الٹا سوال کیا مجھے نہیں پتا بی بی جی آپ کو تو معلوم ہے کہ جب “جرگے” نے مجھے “خون بہا” کے طور پر زریں پھپھو کے ساتھ “جٹ فیملی” کے حوالے کیا تھا تو بڑے شاہ جی نے مجھے یہ کہہ کر بچا لیا تھا کہ یہ ابھی بچہ ہے اور دوسرا میں خود اس سے نمٹ لوں گا صدیق اپنی بات کے آخر میں غم زدہ ہوا
مگر انہوں نے میری امیدوں کے برخلاف میری صحت اور ضروریات کا پورا خیال رکھا وہ تو مجھے پڑھنا بھی چاہتے تھے مگر میں ہی بار بار سکول سے بھاگ کر ان کی امیدوں پر پانی پھیر دیتا تھا _ صدیق کی باتوں پر مہرونساء بھی رنجیدہ ہو گئیں۔
آج تک مجھے بھی یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ تم سکول سے کیوں بھاگتے تھے ۔۔۔۔۔؟؟؟ حالانکہ تمہارے استاد تمہاری ذہانت کی تعریف کیا کرتے تھے مہرونساء کے سوال پر صدیق تھوڑا سا چونکا مگر جلد ہی سنبھل گیا
بڑی بیگم صاحبہ میرے دل میں ہر لمحے یہ خیال رہتا ہے کہ اگر میرا چھوٹا بھائی “جمال” کبھی واپس آیا اور میں اسے نہ ملا تو وہ لوٹ جائے گا پھر کبھی نہ آنے کے لئے اس لئے میں ڈیرے سے کہیں نہیں جاتا تھا اور اب بھی میں ڈیرے پر ہی رہتا ہوںکیا پتا وہ کب آ جائے صدیقی کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک ابھری
اتنا چھوٹا بچہ
میرا نہیں خیال کہ اسے کچھ بھی یاد ہوگا ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
اگر اس نے آنا ہوتا تو اب تک آجاتا _ میری مانو تو اپنی زندگی میں آگے بڑھو اور ماضی کی یادوں سے باہر نکل آؤ۔ صدیق میں تمہاری ہمدرد ہوں تمہارا برا نہیں چاہتی تم اپنے دل سے اپنے بھائی کا خیال نکال دو اس طرح تم تکلیف سے بچ جاؤ گے مہرالنساء نے اپنے طور پر تصدیق کو سمجھایا
بڑے شاہ جی بھی ایسا ہی کہا کرتے تھے صدیق پھیکا سا ہنسا
آپ نے میری بات کا جواب نہیں دیا
صدیق نے دوبارہ ماہی کا خیال آنے پر اپنا سوال دہرایا
دیکھو ہماری اس بچی سے کوئی دشمنی نہیں ہے ۔ ہم خواہ مخواہ جاھل لوگوں کی طرح اس بچی کو انتقام کا نشانہ نہیں بنا سکتے۔
اگر تم نے اسے دل سے قبول کرلیا ہے تو میں تمہاری خوشیوں کے لیے دعاگو ہوں اور اگر تمہارے دل میں اس کے لیے کوئی گنجائش نہیں تو میری طرف سے تم بالکل آزاد ہو ۔
جو تمہیں ٹھیک لگتا ہے وہ فیصلہ کروں ہاں مگر ایک بات کا خیال رکھنا اس بچی کے ساتھ کسی قسم کی کوئی زیادتی نہ ہو مہرونساء کی بات پر صدیق چہرہ کھل اٹھا
آپ کا بہت بہت شکریہ بڑی بیگم صاحبہ اللہ تعالی آپ کو سلامت رکھے
صدیق نے دل سے دعا دی اور جانے کے لیے پلٹا
ویسے ایک نظر دیکھا تو دو کہ تمہاری بیوی لگتی کیسی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ اتنا حق تو بنتا ہے ہمارا صدیق کے پلٹنے پر مہرالنساء نے ہلکی سی مسکراہٹ چہرے پر لاتے ہوئے کہا
جیسے آپ کا حکم میں صبح اسے لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوں گا
صدیق مسکراتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا جب کہ اس کا دل اب بالکل ہلکا پھلکا تھا
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
سعد جب گھر پہنچا تو اس وقت رات کے دس بج رہے تھے گھر کے گیٹ پر بڑا سا تالا اس کا منہ چڑھا رہا تھا۔
افففففف یہ لوگ ابھی تک نہیں آئے۔ اب کہاں تلاش کروں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
فون بھی نہیں مل رہا
سعد نے اپنا سامان وہیں گیٹ کے پاس رکھا اور خود ہمسایوں کے گھر کی طرف جانے لگا جب ایک برانڈ نیو کرولا گیٹ کے سامنے آکر رکی۔ فرزین اور رضیہ بیگم اس میں سے باہر آئیں ۔
مگر حیرت سعد کو تب ہوئی جب ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے شخص کو فرزین نے مسکراتے ہوئے شکریہ کے الفاظ ادا کیے
جس نظروں سے وہ فرزین کو دیکھ رہا تھا سعد کا دل کیا کہ وہ فرزین کو دو تھپڑ لگائے اور اس کے بعد اس شخص کی طبیعت بھی صاف کر دے تاکہ آئندہ ان دونوں کی آپس میں بات کرنے کی ہمت نہ ہو مسکرانا تو بہت دور کی بات ہے
ارے تم آ گئے تھے تو سیدھا ہسپتال ہی آجاتے _ رضیہ بیگم نے سعد کا ماتھا چومتے ہوئے چابیاں اس کے ہاتھ میں رکھیں جبکہ فرزین خاموشی سے رضیہ بیگم کے برابر آکر کھڑی ہو گئی گھر میں داخل ہوتے ہی رضیہ بیگم تو اپنے کمرے میں چلی گئیں جبکہ فرزین نے کچن کا رخ کیا ۔ ابھی اس نے ساس پان چولہے پر رکھا ہی تھا کہ سعد نے آ کر چولہا بند کر دیا یہ کون تھا اور تم کس خوشی میں اس سے ہنس ہنس کر بات کر رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ سعد کے اس قدر جارحانہ انداز پر فرزین نے اسے ایک گھوری سے نوازا اور دوبارہ چولہا آن کرنے لگی میں نے کچھ پوچھا ہے تم سے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ سعد کے دوبارہ پوچھنے پر فرزین کے پتی ڈالتے ہاتھ رکے آپ کو پریشان ہونے کی بالکل ضرورت نہیں ہے ۔ ماموں کی طبیعت اب بہت بہتر ہے۔ ڈاکٹرز ہمیں میل وارڈ میں رکنے نہیں دے رہے تھے دوسرا سارے دن کی بھاگ دوڑ کے بعد پھپھو اور میں بہت تھک بھی گئے تھے اس لیے ہم آرام کرنے کے لئے گھر آ گئے فرزین نے سعد کی طرف دیکھتے ہوئے تحمل سے جواب دیا
میں نے سادہ اردو میں پوچھا ہے کہ وہ کون تھا جس کے ساتھ تم اور ماما آئیں تھیں ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ سعد نے دوبارہ اپنے لفظوں پر زور دیتے ہوئے پوچھا
ماموں کہہ رہے تھے کہ سعد کو مت بتانا خوامخواہ پریشان ہو گا لیکن کیوں کہ میں تمہیں پہلے ہی بتا چکی تھی اس لیے میں نے ان کی بات پر عمل نہیں کر سکی ۔
جس کا مجھے بہت افسوس ہے کہ میں نے تمہیں ماموں کی طبیعت کے بارے میں کیوں بتایا ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
تمہیں تو اپنے باپ کی ذرا بھی فکر نہیں کہ وہ اب کیسے ہیں ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ان کے پاس کون ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ سارا دن انھوں نے کس طرح تکلیف سے گزارا ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
اپنے باپ سے زیادہ تمہیں اس شخص کی فکر ہے جسے تم آج پہلی بار دیکھ رہے تھے صد افسوس فرزین نے سر نفی میں ہلایا اور سعد کی سائیڈ سے نکلتے ہوئے فریج سے دودھ کا ڈبہ نکالا
سعد نے اپنے دونوں ہاتھ منہ پر پھیرتے ہوئے خود کو نارمل کیا ۔
ایک کپ چائے اور کچھ کھانے کے لئے بھی لانا
سعد کہتا ہوا رضیہ بیگم کی طرف چل دیا
ہونہہ بڑا آیا کچھ کھانے کے لیے بھی لانا ۔ میں تو خود سارا دن ہسپتال میں کھڑے کھڑے تھک گئی ہوں فرزین بڑبڑاتی ہوئی فریج میں سے انڈے ابالنے کے لیے نکالنے لگی۔
امی جی کم از کم آپ لوگوں کو فون تو ساتھ لے کر جانا چاہیے تھا پتہ میں کتنا پریشان رہا ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
سارے رستے بار بار کبھی فرزین کا اور کبھی پاپا کا نمبر ڈائل کرتا رہا
سعد نے رضیہ بیگم کی گود میں لیٹے بند آنکھوں سے پوچھا
فرزین نے جلد بازی میں یہاں ہی اقبال صاحب کا فون چھوڑ گئی تھی اور اس کا اپنا موبائل کہاں ہے وہ تو اسے خود بھی نہیں پتہ رضیہ بیگم نے کمرے میں داخل ہوتی فرزین کو دیکھ کر کہا
جبکہ فرزین ہاتھ میں ٹرے اٹھائے نواب صاحب کی طرف اشارہ کر رہی تھی کہ اسے اٹھائیں تاکہ میں ٹرے نیچے رکھ سکوں
سعد اب اٹھ بھی جاؤ فرزین کب سے کھڑی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ رضیہ بیگم نے پیار سے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا
میرے خیال سے اس کے منہ میں زبان ہے وہ خود بھی تو بول سکتی ہے۔ غیروں سے تو بڑی مسکرا مسکرا کر باتیں کرتی ہے میرے سامنے ہی صرف موت پڑتی ہے ۔
سعد بڑبڑاتے ہوئے اٹھ بیٹھا مگر فرزین کی طرف ایک نظر بھی نہیں دیکھا
پھوپھو انہیں ڈاکٹر قاسم کی تکلیف کافی دیر سے ہو رہی ہے۔ ماموں کو بھی انہوں نے ہی ٹھیک کیا تھا ۔ میرے خیال سے انہیں بھی اب اُنہیں کی ضرورت ہے ۔
فرزین نے سعد اور رضیہ بیگم کے آگے ٹرے رکھی اور خود بھی پاؤں اوپر کر کے ان کے سامنے بیٹھ گئی ۔
ڈاکٹر قاسم سعد نے ماں کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا
بیٹا بہت ہی نیک اور شریف بچہ ہے اس نے ہماری بہت مدد کی ہے ۔ وہی تو ہمیں چھوڑ کر بھی گیا ہے رضیہ بیگم نے چائے کا کب سعد کے ہاتھ میں دیتے ہوئے بتایا
وہ فرزین کو کیسے جانتا ہے اور کب سے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ سعد کی سوئی ابھی تک گاڑی والے سین پر ٹکی ہوئی تھی
ارے ایسے کیسے کا کیا مطلب ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ فزین کافی پریشان تھی میں تو تمہارے ابو کے پاس سے ہی نہیں اٹھی ۔ یہ بیچاری چکر لگا رہی تھی۔ بس اسے ترس آگیا اور اس نے ہماری مدد کر دی
رضیہ بیگم نے انڈے کا ٹکڑا اٹھا کر منہ میں ڈالا
ترس یا پیار سعد نے زیر لب دہرایا اور انڈے پر کالی مرچ چھڑکنے لگا
لاؤ میں اوپر نمک بھی لگا دوں
فرزین نے تپے ہوئے سعد کو مزید تپا بنا دیا
نہیں زخموں پر لگا دیا ہے وہی کافی ہے۔ سعد نے جلدی جلدی انڈہ کھایا اور چائے کا کپ دو گھونٹ میں خالی کر کے زور سے ٹرے میں رکھا
ارے اتنی جلدی کیسے چائے پی لی ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ گلا نہیں جلا تمہارا ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ فرزین نے حیرت سے کپ کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
فی الحال تو دل جل رہا ہے ہسپتال کا پتا دو تاکہ میں وہاں جاؤں
سعد کہتا ہوا دوبارہ اپنے جوتے پہننے لگا
میں آج رات ابو پاس ہی رہوں گا اور دیکھو تمہارا کیسا بندوبست کرتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ سعد نے ٹیبل سے جاتے جاتے اقبال صاحب کی بائیک کی چابی اٹھا کر فرزین کے سر پر ماری
پاگل کہیں کا _ بدتمیز فرزین چیخی
کیوں دونوں نے آتے ہی لڑنا شروع کر دیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ شرم تو تم دونوں میں نہیں ہے رضیہ بیگم نے سعد کی پشت اور فرزین کی طرف دیکھ کر کہا
گیٹ بند کرو سعد کی آواز پر فرزین پاؤں پٹختی گیٹ بند کرنے آئی
تمہیں تو میں آ کر بتاتا ہوں سعد نے کک لگائی
چل اوئے بڑا آیا فرزین نے کہتے ہوئے گیٹ بند کیا
جب کہ رضیہ بیگم ٹی وی لاؤنج میں دونوں کی اونچی آوازیں سن کر سر نفی میں ہلا رہی تھی
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
حسب عادت صدیق نے دروازے پر دستک دیتے ہوئے اندر قدم رکھا تو ماہی ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی گرین اور مہرون کام دار فراک اور چوڑی دار پاجامے میں سچ مچ بہت پیاری لگ رہی تھی
ماہی نے اپنے بالوں کی چٹیا بنائی اور آخری بل دے کر صدیق کی طرف اپنا رخ کیا جو دروازے ساتھ لگا اس کی ایک ایک حرکت کو غور سے دیکھ رہا تھا
کیا آپ کی وہ ہردلعزیز شخصیت کے بال بھی میرے جیسے تھے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہی نے شرارت سے صدیق سے پوچھا کیونکہ وہ جانتی تھی کبھی بھی دو لوگ ایک جیسے نہیں ہو سکتے
نہیں ان کے بال بالکل بھی آپ جیسے نہیں تھے صدیق نے اب روشن چمکتی آنکھوں کی طرف دیکھ کر جواب دیا
دونوں میں سے کس کے بال زیادہ اچھے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہی کی شرارت سے اس کی گالوں پر گڑھے پڑے ۔جسے سمجھتے ہوئے صدیق نے اپنی گردن جھکائی اور نفی میں سر ہلایا
بتائیے ناااااا ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہی اب بالکل صدیق کے مد مقابل کھڑی تھی
جب آپ کو معلوم ہے تو پھر مجھ سے کیوں پوچھ رہی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ صدیق نے سینے پر ہاتھ باندھتے ہوئے جواب دیا
کیونکہ مجھے آپ کے منہ سے سننا ہے میں ایک خود پسند لڑکی ہوں اور مجھے دوسروں کے منہ سے اپنی تعریف سننا بہت اچھا لگتا ہے
ماہی نے بھی صدیق کی نقل اتارتے ہوئے اپنے ہاتھ سینے پر باندھے
ایک تو آپ اپنی باتوں میں بھلا ہی دیتی ہیں کہ میں یہاں کیا کہنے آیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ صدیق نے ماہی کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا
یقینا حویلی سے متعلق کوئی بات ہو گی کیونکہ آپ کی زندگی میں حویلی اور حویلی والوں کے علاوہ اور کسی کے لئے کوئی جگہ ہی نہیں ہے ماہی بیزاری سے کہتی ہوئی صوفے کی طرف چل پڑی
آپ کو کیسے پتا چلا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ صدیق بھی اس کے پیچھے پیچھے صوفے پر قدرے فاصلے سے بیٹھ گیا
آپ کی بات میں بہت غور سے سنتی ہوں مگر پہلے آپ مجھے ہاتھ لگائیں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہی کی فرمائش پر صدیق کو حیرت کا جھٹکا لگا
لگائیں نااااا ماہی نے اپنا ہاتھ صدیق کے آگے کیا جسے کچھ ہچکچانے کے بعد صدیق نے تھام لیا
کرنٹ لگی ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہی بالکل سیریس تھی
نہیں تو صدیق نے ناسمجھی سے جواب دیا
آپ کی معلومات میں اضافہ کے لیے بتا رہی ہوں کہ مجھے کسی قسم کی کوئی “خطرناک یا چھوت” کی بیماری نہیں ہے۔
اس لیے آپ میرے بالکل پاس بیٹھ سکتے ہیں یہ جو آپ اتنا فاصلہ رکھتے ہیں نااااا میرے اور اپنے درمیان
یہ مجھے بہت برا لگتا ہے ماہی منہ بناتی ہوئی صدیق کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ نکالنے لگی جبکہ اس کی اس ادا پہ صدیق کو بہت پیار آیا
آپ بہت اچھی ہیں
صدیق نے دل سے کہا
کیا فائدہ اچھی ہونی کا جب آپ کو ہی اچھی نہیں لگتی ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہی نے مسلسل منہ دوسری طرف کیا ہوا تھا
میں نے یہ کب کہا کہ آپ مجھے اچھی نہیں لگتی ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ صدیق کو برا لگا
ہاں تو یہ بھی کب کہا کہ میں آپ کو اچھی لگتی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ “اچھے ہونے” اور “اچھے لگنے” میں بہت فرق ہوتا ہے _ ماہی نے پھولے منہ سے جواب دیا اب ہر بات منہ سے کہنا ضروری تو نہیں ہے ۔ میرا رویہ اس بات کا گواہ ہے کہ میں آپ کو پسند کرنے لگا ہوں۔ ورنہ آپ آج یہاں نہ ہوتی بلکہ اپنے ماں باپ پاس پہنچ چکی ہوتیں صدیق نے سنجیدہ لہجے میں ماہی کو سمجھایا
اگر یہ بات ہے تو آج کے بعد آپ اپنے بلکہ ہمارے کمرے میں بلا اجازت داخل ہوں گے ۔
مجھے دیکھتے ہیں اپنے ساتھ لگا کر پیار کریں گے ۔
مجھ سے میرا حال چال پوچھ لیں گے ۔
کھانا ، ناشتہ اور چائے میرے ساتھ ہی پیار کریں گے

اچھے اور نئے شادی شدہ جوڑوں کی طرح ہر وقت میری تعریف بھی کیا کریں گے ماہی کی بات پر صدیق کے چہرے پر شدید حیرت کے تاثرات ابھرتے
اب مجھے شرم دلانے کی بات مت کرنا اور نہ ہی یہ کہنا کہ میں بہت بے شرم ہو
جو میں اپنے خاوند سے چاہتی ہوں وہ اسے بتا رہی ہوں کسی اور کو نہیں اور ویسے بھی اس رشتے میں “شرم” کا کوئی تعلق نہیں کیونکہ یہ رشتے بالکل “بے شرم” ہوتا ہے میری طرح ماہی اپنی بات کے آخر میں پورے زور سے ہنسی جب کہ صدیق تو بلکل سکتے میں آگیا
مجھے “سنجیدہ” اور “کھڑوس” مرد بالکل پسند نہیں ہنسنے بولنے اور محبت کرنے والے اچھے لگتے ہیں
اپنے خاوند سے اپنے لیے محبت مانگنا کونسی بری بات ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہی نے صدیق کے چپ چاپ چہرے کو دیکھتے ہوئے اس کی اگے چٹکی بجائی
خیر زیادہ پریشان مت ہوں اگر آپ کو تعریف کرنا نہیں آتی تو مجھ سے سیکھ لیں ۔
پھر جو باتیں بھی میں آپ کی “شان” میں کہوں گی آپ صرف “صیغہ” بدل کر مذکر کی جگہ مونث استعمال کرکے میری شان میں کہہ دینا ویری سمپل ۔
میں انہی باتوں پر گزارا کر لوں گی ماہی نے اپنے دونوں کندھے اچکاتے ہوئے مسئلہ کا حل پیش کیا ۔
اچھا صدیق سے اتنا ہی کہا گیا
چلیں اب بتائیں حویلی والے کیا کہہ رہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہی اب بالکل سنجیدگی سے پوچھ رہی تھی
وہ میں چاہتا ہوں کہ آپ ایک بار بڑی بیگم صاحبہ سے مل لیں۔ وہ بہت اچھی ہیں۔ میرے لئے بالکل میری ماں جیسی ہیں ۔
بڑے شاہ جی نے مجھے اپنے بیٹے کی طرح سمجھا ہے اور پالا ہے
مجھے ان کے جانے کا بہت دکھ ہے۔ صدیق نے اپنے پاؤں سے قالین رگڑتے ہوئے کہا
آپ اتنا اداس نہ ہو ایک نہ ایک دن سب نے ہی چلے جانا ہے اور رہی بات حویلی جانے تو میں خود بھی حویلی جانا چاہ رہی تھی ۔
مجھے بڑے لوگوں سے ملنے کا بہت شوق ہے۔ کیا وہ مجھ پر ظلم کریں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہی نے اپنی بات کے آخر میں سوالیہ نظروں سے صدیق کی طرف دیکھا
آپ پر کوئی کافر ہی ظلم کر سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ اتنی بھولی بھالی اور معصوم سی لڑکی پر بھلا کوئی کیوں ظلم کرے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ صدیق کے جواب پر ماہی کے چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی
یعنی میری باتوں کا اثر ہو رہا ہے شاباش ماہی ماہی نے دل ہی دل میں خود کو داد دی آپ کل تیار رہنا میں آپ کو حویلی چھوڑ جاؤں گا
صدیق کہتا ہوا صوفے سے اٹھ کھڑا ہوا جس پر ماہی نے ہاں میں سر ہلایا
صدیق جانے لگا مگر پھر کچھ خیال آنے پر اس نے جھک کر ماہی کی گال پر پیار کیا
اپنا خیال رکھنا _ اور دروازے کی طرف چل پڑا جبکہ ماہی اس کے یوں اچانک عمل پر ششد رہ گی میں ابھی چھوٹی ہوں اپنا خیال نہیں رکھ سکتی اس لیے آپ میرا خیال کرتے ہوئے رات میں جلدی آ جانا __ صدیق کو اپنے پیچھی ماہی کی آواز سنائی دی جس پر وہ مسکرا دیا.
🎗️🎗️🎗️🎗️
جاری ہے.