Phir Yun Hua By Amna Mehmood Readelle50141 Episode 20
No Download Link
Rate this Novel
Episode 20
پھپھو آپ مجھ سے ناراض ہیں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟ فرزین نے کچن کے دروازے میں کھڑے ہو کر رضیہ بیگم سے پوچھا جو اس وقت سعد کے لئے ناشتہ بنا رہی تھیں۔
تمہیں کسی کی ناراضگی سے فرق پڑتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ لہجہ نارمل مگر جملہ دکھ بھرا تھا ۔
کسی کا تو پتا نہیں مگر آپ کی ناراضگی سے بہت فرق پڑتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ فرزین نے ہمت کرتے ہوئے لارڈ سے رضیہ بیگم کا بازو پکڑا ۔
میں تم سے ناراض نہیں ہوں کیونکہ میں تم سے ناراض ہو نہیں سکتی چلو پیچھے ہٹو مجھے اب ناشتہ بنانے دو۔ رضیہ بیگم نے اس سے اپنا بازو چھڑا تے ہوئے پیار سے کہا
اس وقت کس کا ناشتہ بنا رہی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ لائیں میں بنا دیتی ہوں ۔فرزین نے رضیہ بیگم کو پیچھے کرتے ہوئے خود دودھ کا ڈبہ پکڑا
سعد کے کسی دوست کے ابو فوت ہو گئے تھے وہ جنازہ میں شرکت کے لیے بہاولپور گیا ہوا تھا ابھی کچھ دیر پہلے ہی گھر واپس آیا ہے ۔اسی کے لیے بنا رہی ہوں رضیہ بیگم نے جواب دیا سعد دو دن سے گھر پر نہیں تھا مجھے کیوں نہیں پتا چلا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ فرزین نے دل میں سوچا اب یقینا تمہارا ناشتہ بنانے کو دل نہیں کرے گا _ چلو آگے سے ہٹو مجھے ناشتہ بنانے دو۔اتنا لمبا سفر کرکے آیا ہے بھوک لگی ہو گی اسے فرزین کو خیالوں میں گم دیکھ کر رضیہ بیگم نے دودھ اس کے ہاتھ سے لیا ۔ خیر اب ایسی بھی کوئی بات نہیں ہے میں بنا رہی ہوں ناااااا آپ تو ایسے کہہ رہی ہیں جیسے میں نے کبھی اس کا کوئی کام کیا ہی نہ ہو ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ فرزین نے رضیہ بیگم کو خوش کرنے کے لیے کہا
اچھا پھر بنا کر اس کے کمرے میں دیا آنا۔ میں ذرا ارشد صاحب کے گھر سے ہو آؤں ان کا بچہ بیمار ہے رضیہ بیگم کے کہنے پر فرزین نے انہوں حیرت سے دیکھا پھوپھو اب آپزیادتی کر رہی ہیں _ فرزین منہ بناتی بریڈ گرم کرنے لگی ۔
وہ تمہیں کھا نہیں جائے گا میں بس ابھی آتی ہوں رضیہ بیگم اب سچ میں ان دونوں کو وقت دینا چاہتی تھیں تبھی بہانہ بنا کر نکل گئی
کیا مصیبت ہے اب پھر مجھے دیکھتے ہی شروع ہو جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ فرزین ٹرے میں بریڈ سلائس ،چائے اور جیم رکھتی بڑبڑانے لگی
سعد مسلسل حسن کے رویے پر غور کر رہا تھا ” حسن ایک یتیم بچہ تھا ۔اس نے یتیم خانے میں پرورش پائی ۔پھر اپنی ذاتی محنت اور چوریوں کے بل بوتے پر وہ یونی تک پہنچا “۔ یہ تمام وہ باتیں ہییں جو حسن کے بارے میں سب جانتے ہیں مگر اس میں کتنا سچا تھا کبھی کسی نے جاننے کی کوشش ہی نہیں کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ اور زاویار جو ہر وقت وڈیروں کے خلاف بولتا نہیں تھکتا تھا آج خود ایک ظالم وذیرے کا روپ دھار گیا ہے ۔باپ کے قاتل کو پکڑنے کے لئے قانون کا سہارا لینے کی بجائے وہ پنچایت لگانا چاہتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ُ سعد اس وقت شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھا۔ کیا یہ میرے دوست ہیں اور میں ان کو کتنا جانتا ہوں _ یہ ایسے تو نہ تھے ؟ سعد نے انگلیوں سے اپنی کنپٹی دبائی جب اسے چوڑیوں کی کھنک نے اپنی طرف متوجہ کیا ۔
فرزین ہاتھ میں ٹرے لیے چہرے پر سنجیدگی سجائے کمرے میں داخل ہورہی تھی ۔
اور یہ لڑکی کہنے کو میری کزن _ دو دو خونی رشتے ایک کاغذ کا رشتہ مگر خون سے زیادہ مضبوط میں اس کے بارے میں بھی کیا جانتا ہوں ؟؟؟ سعد نے اسے بھی شکی نظروں سے گھورتے ہوئے سوچا ناشتہ کرلو پھوپھو نے بھیجا ہے _ فرزین نے کہتے ہوئے بیڈ پر ٹرے رکھی
پتہ ہے اماں نے ہی بھیجا ہوگا تمہیں خود سے تو توفیق نہیں ہو سکتی سعد اٹھ کر بیٹھ گیا جب کہ فرزین منہ بناتے پلٹی پھر سعد کی بات پر رک گئی ۔
تمہارے پاس اٹھائیس دن بچے ہیں ۔خوب اچھی طرح سوچ بچار کے وجہ تلاش کرو سعد بریڈ پر جیم لگا رہا تھا ۔
تمہارے بارے میں مجھے کبھی بھی سوچنے کی ضرورت نہیں پڑی فرزین نے پلٹ کر جواب دیا
حیرت ہے حالانکہ میرے بارے میں سوچنے کے سوا تمہارے پاس اور کام ہی نہیں ہونا چاہیے کیونک میرے اور تمہارے درمیان رشتے کا یہی تقاضا ہے سعد اب سلائس کھا رہا تھا ۔
تمہاری باتیں ہمیشہ میرا دماغ خراب کر دیتی ہیں ۔غلطی ہوگئی جو تمہارے کمرے میں آگئی فرزین غصے سے بولی “غلطی سے تم میرے کمرے میں نہیں بلکہ میری زندگی میں آ گئی ہو”_ اپنا جملہ درست کرو __ سعد اب مزے سے ناشتہ کرنے کے بعد چائے پی رہا تھا ۔
مجھے تو لگتا ہے میرا پیدا ہونا ہی غلطی ہے فرزین کی بات پر سعد شدید تھکاوٹ کے باوجود مسکرادیا ۔
اب اس بارے میں میں تو کچھ نہیں کہہ سکتا اگر تمہارے والدین ہوتے تو تمہیں بہتر جواب دے سکتے سعد نے فرزین کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جبکہ فرزین کا چہرہ غصے سے لال ہو رہا تھا ۔
یہ ٹرے لے جاؤ اور جاتے جاتے لائٹ بند کر دینا سعد کے کہنے پر فرزین ٹرے اٹھاتی زوردار طریقے سے دروازہ بند کرتی چلی گئی جب کے وہ دوبارہ حسن اور زاویار کا سوچنے لگا
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
کمرے میں اس وقت گھپ اندھیرا تھا مگر شاید اتنا نہیں جتنا اس کے “ماضی” میں تھا ۔ گاؤں سے واپس آنے کے بعد سے حسن اپنے کمرے میں بند تھا ۔
لوگوں کو پتہ ہے کہ میں حسن ہوں مگر کیا میں واقعی حسن ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ پھر اچانک یادوں کے پردے پر تلخ ترین یاد بھری اسے وہ دن قیامت جیسا لگتا تھا جب اس کا “مسیحا” ہی اس کا “دشمن” بنا تھا۔
اس وقت کوئی میری تکلیف کا اندازہ نہیں کر سکتا. میں شدید تکلیف میں ہوں. ایک طرف میری “بہن” ہے اور دوسری طرف وہ “معصوم”
اگر بھائی ہونے کا حق ادا کروں وہ بھی اس دنیا کے رسم و رواج کے عین مطابق تو وہ جو میرے دل میں بستی ہے ذلیل رسوا ہو جائے گی.
اگر اس کو اہمیت دوں اس کے لیے کوئی قدم اٹھاؤں تو یہ خاندان یہاں تک کہ میرا اپنا ضمیر بھی مجھے ذلیل کرے گا اور مجھ سے جینے کا حق چھین لے گا.
جو لوگ ہمیشہ محبت میں عورت کی “قربانیوں” کا رونا روتے ہیں کاش وہ اس وقت مجھے دیکھ لیں. میری حالت ایسی ہے کہ نہ میں زندہ ہوں نہ مردہ
میں اسے اپنے ہاتھوں سے کیسے بے آبرو کر دوں……؟ کیسے اس کے سر سے عزت کی چادر چھین کے ذلت کے گڑھے میں دھکا دے دوں……؟
میں اسے اپنی عزت بنانا چاہتا ہوں. وہ میرے مستقبل کے سب خوابوں میں شامل ہے. کیسے اسے نکال دوں….؟
میں اسے کیسے “کاری” کرنے کا حکم دے سکتا ہوں….؟
میں اسے خود اپنے ہاتھوں سے کیسے درندوں کے حوالے کر دوں جو اپنی اپنی حوس کے بچاری ہیں.
ایک طرف محبت اور دوسری طرف بہن دونوں ہی اہم _ دونوں ہی ضروری مگر مجھے ان میں سے ایک کی عزت بچانی ہے اور میں اس معصوم بےگناہ کی قربانی دے کر اپنی بہن کو بچاؤں گا.
ہاں فیصلہ ہو گیا ہر سال کئی لڑکیاں “ونی” اور “کاری” کی نظر ہوتیں ہیں یہ بھی سہی _ اس نے اپنا منہ ٹشو پیپر سے صاف کیا جو فل اےسی والے کمرے میں بھی پسینے سے شرابور تھا. اس نے صوفے سے اٹھتے ہوئے اپنے کپڑے درست کیے اور باہر لگی پنچائیت کا سامنے کرنے کے لیے خود کو تیار کیا. آخری بار تصور میں اسے سوچا اور پھر ایک مضبوط، سنجیدہ، باوقار گدی نشین کی طرح کمرے سے باہر قدم بڑھا دیے. “ساری دنیا کے رواجوں سے بغاوت کی تھی
تم کو یاد ہے جب میں نے محبت کی تھی”
” اس کو چھوڑ کر ہنستے ہوئے گھر آ کر”
“اتنا روئے تھے کہ آنکھوں نے شکایت کی تھی”
“میرے اجڑنے کا سبب جب بھی کسی نے پوچھا”
“میں نے بس اتنا بتایا کہ محبت کی تھی”
اچانک دروازے پہ ہوتی دستک نہیں حسن کو ماضی سے حال میں پٹخا ۔تیز تیز سانس لیتے اس نے خود کو نارمل کیا۔بازو سے اپنا پسینہ صاف کرتے وہ کمرے کو روشن کر گیا۔ دستک ابھی بدستور جاری تھی۔
آجاؤ دروازہ کھلا ہے اب اسے توڑنا ہے کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حسن واپس اپنی روش میں لوٹا ۔
میں پندرہ منٹ سے دروازہ مسلسل کھٹکھٹا رہی تھی اتنی دیر سے کیوں جواب دیا عروسہ نے اندر آتے غصے سے پوچھا
جھوٹ بالکل سفید نہیں بلکہ موٹا جھوٹ _ اگر تم پندرہ منٹ سے دروازہ کھٹکھٹا رہی ہوتی تو دروازے کی کیا مجال جو اپنی جگہ کھڑا رہتا وہ تو خود بخود آپ کی طاقت کے آگے سرنڈر کر دیتا آج پہلی بار حسن کا لہجہ اور آنکھیں آپس میں نہیں مل رہی تھی ۔
تمہیں کیا ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عروسہ نے اس کی لال سرخ آنکھوں کو دیکھتے ہوئے پوچھا
عشق _ حسن کے جواب نے عروسہ کو نظریں جھکانے پر مجبور کردیا کیونکہ اس کا لہجہ ہی ایسا تھا ۔
تم مذاق کر رہے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ عروسہ نے کمرے میں نظر گھماتے ہوئے پوچھا
نہیں میں بالکل سیریس ہوں۔ ادھر دیکھو تمہیں اس وقت میری آنکھوں سے کیا لگتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حسن نے عروسہ کے کافی قریب کھڑے ہوتے ہوئے اس کا ہاتھ پکڑ کر پوچھا
یہ تم آج کیسے باتیں کر رہے ہو اور چھوڑو میرا ہاتھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ عروسہ کو حسن ہوش میں نہیں لگا
ہاں کیا کہا ہے میں نے تم سے ؟؟؟ اچانک ہی حسن کو احساس ہوا کہ وہ غلط بندے سے غلط بات کر رہا ہے فوراً عروسہ کا ہاتھ چھوڑتے ہوئے ڈریسنگ ٹیبل کی طرف بڑھ گیا۔
چھوڑو یہ بتاؤ کہ تم کس کام سے آئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟ حسن بلاوجہ اپنے بالوں میں برش پھیرنے لگا
مجھے یاد نہیں آرہی پھر سہی عروسہ نےحسن کی طبیعت کے پیش نظر بات نہ کرنا مناسب سمجھی۔
سوری میں تھوڑا ڈسٹرب تھا شاید تمہارے ساتھ غلط کر دیا ۔پلیز تم برا مت منانا جو تم نے محسوس کیا ویسا کچھ نہیں تھا _ حسن آہستہ آواز میں کہتا ہوا واش روم کی طرف بڑھ گیا ۔
اسے کیا ہوا یہ ایسا تو نہیں تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟ عروسہ بند دروازے کو کچھ دیر دیکھتی رہیں اور پھر باہر چلی گئی ۔
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
ماہی کالی چادر لپیٹے بڑے سے گیٹ کے باہر اسلم ساتھ موجود تھی ۔
بیٹی ایک بار پھر سوچ لے کہیں ہم کسی بڑی مصیبت میں نہ پھنس جائیں اسلم نے اپنی آخری کوشش کی ۔
ابا تم یہاں رکو میں اکیلی اندر جاؤں گی اور اگر میں کچھ وقت باہر نہ آؤں تو تم چپ چاپ یہاں سے چلے جانا اور کسی سے اس بات کا ذکر مت کرنا ماہی اپنی کہتی ہوئی اسلم کی بات سنے بغیر ہی گیٹ عبور کر گئی۔
ہر لڑکی کہاں منہ اٹھا کر جا رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ صدیق جو ابھی ابھی زاویار سے منیر کے بارے میں بات کر کے آ رہا تھا ایک اجنبی لڑکی کو یوں حویلی کے گیٹ میں داخل ہوتا دیکھ کر حیران ہوا ۔
جی وہ میں چھوٹے شاہ جی سے ملنے آئی ہوں میں انور کی بہن ہوں مجھے چھوٹے شاہ جی سے رحم کی اپیل کرنی ہے ماہی نے منہ ڈھانپتے ہوئے پراعتماد لہجے میں کہا جبکہ اس کی بات پر صدیق کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا
یہ لڑکی یا تو “پاگل” ہے یا حد سے زیادہ “بہادر” صدیق نے اسے سر سے پاؤں تک دیکھا جو کالی چادر میں لپٹی ہوئی تھی۔
میں تمہیں ایک موقع دے رہا ہوں یہاں سے ایک منٹ کے اندر اندر چلی جاؤ ورنہ پھر مجھے مت کہنا جو بھی تمہارے ساتھ ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ صدیق کو اس پر ترس آیا ۔
میں شاہ جی سے ملے بغیر نہیں جاؤں گی ؟ ماہی بضد تھی۔
لڑکی تمھیں میری بات سمجھ نہیں آرہی ۔۔۔۔۔۔۔؟ صدیق کو اس کی کم عقلی پر شدید غصہ آیا ۔
بس ایک بار شاہ صاحب سے ملنے دیں دوبارہ کبھی نہیں آؤں گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ ماہی نے اپنے سفید ہاتھ اس کے آگے جوڑے۔
صدیق ان جڑے ہاتھوں میں کھو سا گیا آج سے بیس سال پہلے بھی کسی نے یوں ہی اپنے ہاتھ جوڑے تھے مگر اس ساتھ ظالموں نے کیا کیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ صدیق کے اس طرح گھورنے پر ماہی نے اپنے ہاتھ واپس چادر میں کر لئے ۔
ٹھیک ہے میرے پیچھے آؤ صدیق کی آواز میں اب کی بار وہ پہلے والا رعب و دبدبہ نہیں تھا ۔
زاویار اس وقت مردان خانے میں صوفے ساتھ ٹیک لگائے نیم دراز تھا جب صدیق نے گلا صاف کرتے ہوئے اسے اپنی موجودگی کا احساس دلایا ۔
سرکار انور کی بہن آپ سے ملنا چاہتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ صدیق کے الفاظ زاویار پر کسی بم کی طرح پھٹے ۔
اس کی اتنی ہمت کہ میری حویلی تک آگئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ زاویار دھاڑتا ہوا کھڑا ہوا مگر اگلے لمحے ہی جیسے سب کچھ ساکت تھا ۔
ما ہی نم آنکھوں سے زاویار کو دیکھ رہی تھی ۔یہ یقینا ایک ڈرؤنا خواب تھا یا اس کی تعبیر دھڑکن بالکل مدھم تھی ۔
اردگرد کلاس روم تھا سنجیدہ ساز او یار لیکچر دیتے ہوئے بورڈ پر کچھ لکھ رہا تھا کبھی اس کی باتوں پر چوری چھپے ہنس دیتا _ کلاس فیلو کا اسے چھیڑنا اور اس کا زاویار کو کب چادر اس کے چہرے سے ہٹی اسے ہوش نہ تھا ۔
سر مجھے آپ سے شدید محبت ہے اور اتنا کافی ہے اگر میری شادی کسی اور سے ہوئی تو میں خود کشی کر لوں گی مجھے آپ پر مکمل اعتماد ہے آپ میرے بارے میں جو بھی فیصلہ کریں گے مجھے منظور ہوگا _ کیونکہ آپ میرے ساتھ کچھ غلط کر ہی نہیں سکتے شرارت بھری ہنسی، چمکتی آنکھیں ،زندگی سے بھر پور باتیں زاویار کو اپنے کان سائیں سائیں کرتے محسوس ہوئے۔
جبکہ یوں زاویار اور ماہی کو ایک دوسرے کے مد مقابل دیکھ کر صدیق کو شدید حیرت ہوئی ۔
سرکار صدیق کی آواز نے اس سحر کو توڑا ۔
تم جاؤ یہاں سے اور جب تک میں نہ کہوں کوئی بھی اندر نہ آئے زاویار نے کھوئے سے لہجے میں کہا
مگر سرکار لڑکی کا کوئی قصور نہیں ہے صدیق کو کچھ سمجھ نہیں آئی کہ اس نے یہ جملہ کیوں بولا شاید اسے زاویار کی حالت پر شک ہو رہا تھا ۔
دفع ہوجاؤ زاویار صدیق کی بات کا مطلب سمجھتے ہوئے ہوش میں آیا جب کہ ماہی زاویار کے دھاڑنے پر کانپ گئی ۔
مجھے معلوم نہ تھا کہ ہماری اگلی ملاقات کچھ یوں ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ ماہی نے ٹوٹے بکھرے لہجے میں بات شروع کی جبکہ زاویار نے خود کو نارمل کرتے ہوئے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔
کتنی عجیب بات ہے میں آپ کو فون کرنے لگی تھی کہ میری مدد کریں ماہی نے قہقہ لگایا اب وہ اکیڈمی والی ماہی بن گئی تھی۔
اگر اپنے بھائی کی حمایت میں آئی ہو تو معذرت میں تمہاری کوئی مدد نہیں کر سکتا فیصلہ پنچایت کرے گی _ زاویار نے لہجہ بالکل نارمل کیا جب کہ دل ابھی تک عجیب طرح دھڑک رہا تھا ۔
سر میرے بھائی کا کوئی قصور نہیں ہے۔اسے منیر نے بیوقوف بنایا ہے۔ ماہی نے زاویار کو نرم پڑتا دیکھ کر کہا
میرے باپ کا کیا قصور تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ زاویار پلٹا اور ماہی کو نیچے زمین پر بیٹھا دیکھ کر چونکا
پاگل لڑکی یہاں کیوں بیٹھی ہو اٹھو اوپر صوفے پر بیٹھو زاویار کو ماہی کا نوکروں کی جگہ پر بیٹھنا دکھ دے گیا (اس لڑکی کی یہ جگہ تو نہیں ہے اس نے دل میں سوچا )
ہم لوگوں کی حویلی میں یہی جگہ ہوتی ہے ویسے بھی یہ اکیڈمی نہیں آپ کی حویلی ہے اور میں قاتل کی بہن آپ بالکل بھی برا محسوس مت کریں ماہی نے حقیقت سے روشناس کرایا ۔
ماہی میں کچھ نہیں کر سکتا اس نے نہ صرف میرے باپ کو مارا ہے بلکہ میری عزت میری بچپن کی منگ پر بھی ہاتھ ڈالا ہے زاویار کی بات پر ماہی کا دل اس زور سے دھڑکا جتنے جھٹکے آج سے مل رہے تھے شاید اس کا دل ہی بند ہونے والا تھا۔
جس طرح آپ کو اپنا خون پیارا ہے اسی طرح مجھے بھی اپنا خون پیارا ہے میں اسے مرتے نہیں دیکھ سکتی ماہی نے کانپتی آواز میں جواب دیا
یہ تم ہو جو اتنا بول رہی ہو۔ اور میں سن رہا ہوں _ خدا کی قسم تمہاری جگہ اگر کوئی اور ہوتی تو اب تک میرے نوکروں کی “عیاشی” کا سامان بن چکی ہوتی زاویار نے غصے سے ایک ایک لفظ چبا کر کہا
کتنا تکلیف دہ ہے اپنی محبت کے منہ سے اپنے لیے ایسے الفاظ سننا ماہی کی آنکھوں سے بے ساختہ آنسو بہنے لگے جب کہ اپنی بات کی گہرائی ناپتے ہوئے زاویار کو شرمندگی نے آ گھیرا
چلی جاؤ یہاں سے مجھے مجبور مت کرو کہ میں کچھ غلط کر دوں میں ابھی اپنی حواسوں میں نہیں ہوں _ اوپر سے تمہارا اس کی بہن ہونا مجھے شدید تکلیف میں مبتلا کر رہا ہے _ زاویار نے دونوں ہاتھوں سے اپنے بال تقریبا نوچتے ہوئے تھے کر کہا
کاش میں آپ کی بات پر یقین کر لیتی تو آج اتنی تکلیف میں نہ ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
میں نے اپنی “محبت” پر تو فاتحہ پڑھ لی ہے مگر اپنے بھائی پر کسی کو “فاتحہ”نہیں پڑھنے دوں گی ماہی کی آنکھوں میں ایک چمک ابھری۔
تمہارے بھائی کی تو “ایسی کی تیسی” اسے تو میں نہیں چھوڑوں گا کسی خوش فہمی میں مت رہنا۔تمہیں عادت ہے خوش فہمیوں میں جینے کی زاویار نے اٹل لہجے میں جواب دیا
چلیں دیکھتے ہیں ایک نامحرم کی محبت ہارنے کے بعد کیا میں بھائی کی محبت میں بھی ہار جاؤں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہی کہتی ہوئی رکھی نہیں جبکہ زیادہ اور بے جان سا صوفے پر گر گیا
یہ سب کیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ تم کیوں تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ آخر تمہیں کیوں تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ زاویار نے پوری قوت سے صوفے پر مکا مارا۔
میں غریب نہیں ہوں _ جیسا میں نظر آتا ہوں ویسا نہیں ہوں میری بات سمجھنے کی کوشش کرو _ زاویار کے جملے ماہی کی سماعتوں میں طوفان برپا کر رہے تھے ۔
وہ کب گیٹ پر پہنچی اسے کچھ خبر نہیں تھی ۔ وہ اس وقت اپنے آپ سے بالکل بیگانہ چل رہی تھی ۔اسلم نے اسے یوں دیکھا تو ڈر گیا اور جلدی سے آگے بڑھ کر اسے سہارا دیا ۔
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
جاری ہے
