Phir Yun Hua By Amna Mehmood Readelle50141 Episode 29
No Download Link
Rate this Novel
Episode 29
آپ کو یقین ہے کہ یہی وہ جگہ ہے جہاں آپ نے جانا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حسن نے ایک سنسان سڑک کے کنارے گاڑی روکتے ہوئے عروسہ سے پوچھا
جی بالکل یہی ایڈریس ہے اگر آپ کو مجھ پر شک ہے تو خود بھی تسلی کرلیں اور اپنے اس دوست کو بھی بتا دینا جس سے “جیمز بانڈ” بننے کا بہت شوق ہے عروسہ نے موبائل علی کے آگے کیا جہاں اسی جگہ کا ایڈریس لکھا تھا
دیکھیں آپ انہیں کہیں کہ وہ آپ کو لینے خود یہاں آئیں رات کے بارہ بج رہے ہیں اور مجھے یوں ٹھیک نہیں لگ رہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ علی کو فکر ہوئی
تم پریشان مت ہوں میری وسام سے بات ہو گئی ہے وہ آگے میرا انتظار کر رہا ہے اب تم یہاں سے جاؤ اور میرے پیچھے آنے کی ضرورت نہیں ہے عروسہ نے انگلی کے اشارے سے علی کو وارن کیا اور گاڑی کا دروازہ زور سے بند کر کے چل پڑی
میں تمہیں ایک ایڈرس بھیج رہا ہوں۔ یہ ایک سنسان سڑک ہے اور اس پاس کی کوٹھیاں یا تو زیر تعمیر ہیں یا پھر بالکل خالی مجھے خطرہ محسوس ہو رہا ہے ۔
یہ رہائشی علاقہ نہیں ہے اگر اس وقت یہاں کوئی کسی کا قتل بھی کردے تو کسی کو کچھ پتہ نہیں چلے گا مین سڑک یہاں سے بہت دور ہے علی نے فوراً حسن کو میسج کیا تم ایسا کرو عروسہ کا پیچھا کرو دیکھو وہ کس کوٹھی میں جاتی ہے اور مجھے اس کوٹھی کا نمبر سینڈ کرو حسن کا فوراً ریپلائے آیا
میں کوٹھی کی بیک سائیڈ سے اندر جانے کی کوشش کرتا ہوں تم احتیاط سے جلدی پہنچو علی کہتا ہوا گاڑی سے باہر آیا کیونکہ عروسہ اب اس کی نظروں سے اوجھل ہو کر گلی مڑ گئی تھی کوٹھی نمبر 23 کے سامنے اس وقت عروسہ کھڑی وسام کو کال کر رہی تھی۔ ساتھ ہی ساتھ اپنے ارد گرد نظریں دوڑاتا رہی تھی جہاں اندھیری رات کی وجہ سے عجیب وحشت محسوس ہو رہی تھی کہاں ہو اتنی دیر سے کال کیوں آتی کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عروسہ نے کال اٹینڈ ہوتے ہی اپنی گھبراہٹ پر قابو پاتے ہوئے پوچھا میں تو ایک میٹنگ میں ہوں وہ اصل میں ایک بزنس پارٹی ہے مگر تم پریشان نہ ہو اس کوٹھی کے اندر چلی جاؤ۔ میرے نوکر اندر ہی ہیں۔ میں تو فی الحال نہیں سکتا۔ صبح بات کرتے ہیں وسام نے کال اٹینڈ کرتے ہی تیزی سے جواب دیا
تمہارا دماغ تو نہیں خراب ہوگیا میں اپنی شادی والے دن تمہارے کہنے پر بھاگ کر یہاں تک پہنچی ہوں اور تم بے فکر ہوکر پارٹی انجوائے کر رہے ہو _ عروسہ رو دینے کو تھی میڈم کسی اور کو بیوقوف بناؤ پہلی بات تو یہ کہ تم میرے کہنے پر نہیں بلکہ اپنی مرضی سے بھاگ گئی ہو ۔ دوسرا بلیک رنگ کے اس سادہ شلوار قمیض میں تم شادی کر رہی تھی نہ کوئی قیمتی لباس نہ ہی زیور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ۔ وسام طنزاً مسکرایا یعنی تم مجھے دیکھ رہے ہو ۔۔۔۔۔؟؟؟ عروسہ نے کوٹھی کے باہر نظر مارتے ہوئے کیمرے تلاش کرنا چاہے عروسہ بی بی یہ سائنس اور ٹیکنالوجی کا دور ہے مذاق نہیں۔ بہرحال تو مندرجہ کے آرام کرو میں جیسے ہی فارغ ہوتا ہوں آتا ہوں وہ سامنے کہہ کے فون بند کر دیا ۔ جبکہ عروسہ کا اندر جانے کو دل نہیں کر رہا تھا ۔ عجیب سی حالت تھی ۔پھر ڈرتے ڈرتے اس نے ڈور بیل پر ہاتھ رکھا دو تین دفعہ بیل بچ جانے پر بڑی بڑی مونچھوں والا ایک گارڈ برآمد ہوا جی آپ کو کس سے ملنا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ اس نے عروسہ کا جائزہ لیتے ہوئے پوچھا وہ وسام صاحب ابھی عروسہ نے اتنا ہی کہا تھا کہ گارڈ انتہائی بے ڈھنگے انداز میں ہنسنے لگا
اندر آ جائیں پتا نہیں صاحب کے ساتھ کون سا مقناطیس لگا ہوا ہے پورے شہر کی لڑکیاں کھنچی چلی آتی ہیں ۔
اندر لاؤنچ میں دو اور نوکر ٹی وی دیکھنے میں مصروف تھے عروسہ کو دیکھتے ہی حیرانگی سے کھڑے ہو گئے
بیٹھ جاؤ ۔ یہ صاحب سے ملنے آئی ہیں اس لیے شرافت کا مظاہرہ کرو ۔
آپ اندر چلی جائیں گارڈ نے اپنی مونچھوں کو بل دیتے ہوئے کہا جبکہ باقی دو نوکر عروسہ کو گھور گھور کر دیکھ رہے تھے
کمرے میں ایک سنگل بیڈ اور ٹو سیٹر صوفہ رکھا تھا باقی کوئی خاص فرنیچر نہ تھا۔لیکن کمرہ نہایت نفاست سے سجایا گیا تھا ۔سائیڈ ٹیبل پر فوٹو فریم میں وسام کی تصویر لگی تھی ۔جو اس بات کا ثبوت تھی کہ یہ کمرہ وسام کے زیر استعمال ہے ۔
عروسہ نے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے وہ فریم اٹھایا اور نہ جانے کیوں مگر اس کے آنسو بہنے لگے ۔
وسام پلیز جلدی آ جاؤ مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے ۔تصویر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا اور دوبارہ اپنے موبائل سے وسام کو کال کی ۔
دس بارہ بار نمبر ملانے کے باوجود بھی وسام نے کال اٹینڈ نہ کی ۔اب تو عروسہ نے ہاتھوں میں منہ دے کر باقاعدہ زور زور سے رونا شروع کر دیا ۔
ہاں کچھ معلومات ملی ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حسن نے علی کے قریب نیچے زمین پر بیٹھتے ہوئے رازداری سے پوچھا
میرے خیال سے زیادہ لوگ نہیں ہیں اور نہ ہی ان کے پاس کوئی سواری ہے یعنی گاڑی وغیرہ شاید ایک آدھ موٹرسائیکل ہو۔ علی نے جواب دیا
اور بیک ڈور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حسن نے پوچھا
وہ تو یقیناً ایسی کوٹھیوں کا ضرور ہوتا ہے ۔اور اگر نہ بھی ہو تو تجھے میری قابلیت پر شک نہیں کرنا چاہیے علی کی بات پر حسن نے قہقہہ لگایا
چل پھر انتظار کس بات کا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ علی نے حسن کے کندھے پر ہاتھ مارا
کیوں بار بار سر کھا رہی ہو۔ تمہیں یہاں کیا تکلیف ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ وسام نے کال اٹینڈ کرتے ہی غصے سے پوچھا
یہ تم مجھ سے کس طرح بات کر رہے ہو صبح تک تو تم ایسے نہ تھے ۔۔۔۔۔۔۔؟ ؟ عروسہ نے محبت سے گلا کیا
بھاگی ہوئی لڑکی سے ایسے ہی بات کی جاتی ہے صبح تک تم “عزت دار” تھی مگر اب نہیں وسام نے پھر طنز کیا
وسام عروسہ بامشکل اتنا ہی بول سکیں
یار دیکھو پلیز تنگ نہ کرو ۔ میں ابھی ایک گھنٹے تک فارغ ہوکر پہنچتا ہوں۔ تم بار بار کال کرکے پریشان کر رہی ہو۔ بزنس کی آگے ہی مجھے بہت ٹینشن ہے وسام اب کی بات کچھ نرم پڑا
اچھا عروسہ نے کہہ کر فون بند کر دیا مگر اب اسے اپنے کیے پر افسوس ہونے لگا تھا ۔
کیا میرے ساتھ بھی وہی سب کچھ ہونے والا ہے جو بھاگنے والی لڑکیوں ساتھ ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
نہیں نہیں میرے ساتھ ایسا کچھ نہیں ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ وسام ایسا بالکل نہیں ہے۔ عروسہ نے نفی میں سر ہلایا اور اپنے آنسو صاف کیے ۔
میں ابھی یہاں سے چلی جاتی ہو پھر کل اس سے آرام سے بات کرو گی عروسہ دل میں سوچتی دروازے کی طرف بڑھی مگر اصل جھٹکا اسے تب لگا جب دروازہ کھولنے پر لاک ملا
مطلب ان لوگوں نے مجھے یہاں قید کر لیا ہے ۔اگر میں دروازہ زور سے بجاؤں گی تو اور مصیبت میں پھنس جاؤں گی
یااللہ اب میں کیا کروں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عروسہ واپس بیڈ پر آ کر بیٹھ گئی ۔
حسن کو کال کرتی ہوں ۔ وہ ابھی جاگ رہا ہوگا ۔ہاں یہ ٹھیک ہے ۔
“آپ کے مطلوبہ نمبر سے جواب موصول نہیں ہو رہا ” حسن کا نمبر بند ہونے پر عروسہ کا دل بھی بند ہونے لگا ۔
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
نرم و ملائم نرم گرم ہاتھوں کی تپش اسے سونے نہیں دے رہی تھی۔ مگر ماہی بالکل بے فکر نیند کی وادیوں میں گم تھی ۔
صدیق نے انتہائی آرام سے اپنے پاؤں اس کے ہاتھوں سے آزاد کئے اور اٹھ کر بیٹھ گیا ۔
وہ سوتی ہوئی بے حد پرسکون لگ رہی تھی نہ کوئی ڈر نہ فکر اس عمر میں چہرے معصوم ہی لگتے ہیں صدیق نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے سوچا
اپنی اپنی قسمت ہے ایک تم ہو کتنے مزے سے سو رہی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ اور ایک وہ تھیں جسم اور روح دونوں ہی زخمی تھے۔
اچھا ہوا مر گئیں زندہ رہتی تو مُردوں سے بھی بدتر زندگی گزارتیں صدیق نے تلخی سے سوچا
کچھ دیر یوں ہی بے مقصد ماہی کو دیکھتا رہا پھر ایک دم اٹھنے لگا تو چارپائی کے ہلنے کی وجہ سے ماہی کی آنکھ کھل گئی۔
آپ مجھے چھوڑ کر بھاگ رہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہی نے صدیق کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
آپ سوتے اور جاگتے میں ایک جیسی باتیں کیسے کر لیتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ صدیق کو حیرت ہوئی
کیونکہ میں “سگریٹ” نہیں پیتی ناااااا ماہی نے جواب دیتے ہوئے اپنی آنکھیں ملیں۔ اب وہ پہلے سے فریش نظر آ رہی تھی ۔
مجھے چائے پینی ہے ماہی نے صدیق کی طرف دیکھتے ہوئے اپنے گھٹنوں کے گرد بازو باندھے ۔
مشکل ہے میرا نہیں خیال کہ کوئی اس وقت تک کچن میں ہوگا باورچی بھی اب تک سونے چلا گیا ہوگا ۔صدیقی گھڑی دیکھتے ہوئے کہا
اچھا چلے آپ بتائیں کہ آپ کیا کہنا چاہتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ اب میں ٹھیک ہوں مجھے نیند نہیں آرہی ماہی نے دوستانہ لہجے میں کہا
میرا نہیں خیال کہ اب آپ کو ان باتوں کی ضرورت ہے صدیق نے گہرا سانس خارج کرتے ہوئے جواب دیا
میں اتنی دیر سے آپ کو تنگ کر رہی ہوں آپ کم ازکم مجھے ایک دو تھپڑ ہیں لگا دیں ماہی کی فرمائش اس بار زیادہ ہی عجیب تھی۔
اگر آپ مجھے کچھ نہیں کہیں گے تو مجھے کیسے پتہ چلے گا کہ میں “خون بہا” میں آئی ہوں۔
کوئی تو ظلم کریں ناااااا تاکہ مجھے اپنے آپ سے ہمدردی ہو ماہی نے شرارت بھری نظروں سے صدیق کو دیکھا جو حیران پریشان اسے ہی دیکھ رہا تھا
آپ ضرورت سے زیادہ ہی عجیب ہیں وہ بس اتنا ہی کہہ سکا
مجھے چاندنی راتیں بہت پسند ہیں ۔ ماہی نے آسمان کی طرف دیکھا جہاں پوری آب و تاب سے ستارے چمک رہے تھے
مجھے تو چاندنی راتیں زہر لگتی ہیں۔ صدیق نے سختی سے جواب دیا۔
مگر کیوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہی نے تجسس سے پوچھا
دیکھیں اگر آپ صدیق اتنا ہی کہا تھا کہ ماہی نے اس کی بات بیچ میں ٹوک دی ۔
میں جب سے یہاں آئی ہوں آپ کو ہی دیکھ رہی ہوں اس کے علاوہ کوئی کام بتائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ ماہین نے پوچھا
آپ کو کسی سے محبت ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ صدیق کا سوال پہلی بار ماہین کو حیران کر گیا۔
بالکل ہے بہت زیادہ ہے کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد اس نے پراعتماد لہجے میں جواب دیا
آپ اسی سے شادی بھی کرنا چاہتی ہوں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ دوسرا سوال آیا
ہاں جی بالکل ایسا ہی ہے پھر ماہی نے صدیق کی طرف دیکھا جو کھڑا آسمان کو گھور رہا تھا
مجھ سے شادی پر آپ کو شدید دکھ ہوا ہو گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ایک اور سوال کیا
جی جی بالکل ایسا ہی ہوا تھا ماہین مسکراہٹ دباتے ہوئے فرمابرداری سے سر ہلایا
تو میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میں آپ کو اس “بندھن” سے بہت جلد آزاد کر دوں گا ۔
میں کسی بھی لڑکی کے خواب “نوچنے ” کی جرات نہیں کر سکتا
مجھے معلوم ہے کہ جب کسی لڑکی کی محبت اس سے “چھین” لی جائے تو اس کا کیا حال ہوتا ہے ۔
مجھے “محبت” سے شدید “نفرت” ہے مگر میں دوسروں کی محبت جینے کے حق میں بالکل بھی نہیں ہیں ۔
اور ایک آخری بات میں آپ کو کچھ اور تو دے نہیں سکتا مگر جب تک آپ میرے پاس ہے آپ کی” عزت آبرو” کی حفاظت کرنا میرا کام ہے اور میں یہ ضرور کروں گا۔
جب بھی آپ کا اپنے والدین سے ملنے کو دل کرے مجھے بتا دیجئے گا۔ میں کسی نہ کسی طرح آپ کو آپ کے والدین سے ملوانے کا بندوبست کر دیا کروں گا ۔
میں تو ایک ان پڑھ جاھل آدمی ہوں۔ میں نے سنا ہے آپ کافی پڑھی لکھی ہے ۔
اگر میرے “الفاظ” کبھی آپ کو تکلیف دیں یا میرا کوئی “عمل” تو ضرور بتائیے گا کہ کوشش کروں گا کہ دوبارہ ایسا نہ ہو۔
اپنی باتوں کے آخر میں صدیق نے ماہی کو دیکھا جو پورے انہماک سے اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔
لیکچر کا ٹائم ختم ہوا ۔ ابھآپ آرام سے میرے پاس بیٹھ سکتے ہیں ماہی نے اپنے برابر اشارہ کرتے ہوئے صدیق سے کہا
میں اس وقت بہت سنجیدہ ہوں صدیق نے ماہی کے برابر مگر فاصلہ پر بیٹھے ہوئے سنجیدگی سے جواب دیا
لیکچر بھی سنجیدہ لوگ ہی دیتے ہیں “مسخرے” نہیں ماہی کی بات پر صدیق چپ ہو گیا
اور ہاں ایک بات اور اپنے دماغ میں بیٹھا لیں۔ آپ ساتھ ایسا کچھ بھی نہیں ہونے والا جیسا آپ نے سوچا ہوا ہے صدیق نے دوسری طرف منہ پھیر کر کہا
کیسا میں نے سوچا ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہی نے شرارت سے سوال کیا
یہی کے آپ پر “ظلم و ستم” ہوں گے یا میں آپ کو “تھپڑ” غیرہ مارو گا صدیق اب اسے دیکھ کر کہہ رہا تھا
اگر میں آپ کی جگہ ہوتی تو خوب پٹائی کرتی اپنی خدمت کرواتی _ گالیاں نکالتی سچی کتنا مزہ آتا _ ماہی نے شرارت کی ۔ اس میں مزہ آنے والی کیا بات ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یہ سب باتیں “جنگلی” ہونے کی نشانی ہیں صدیق کو بہت برا لگا
یعنی میں جنگلی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہی نے اپنے اوپر انگلی رکھتے ہوئے پوچھا جب کہ صدیق اپنی مسکراہٹ چھپا گیا
اب میں کیا کہوں آپ کے بارے میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ آپ تو میری سمجھ سے بالکل ہی باہر کی چیز ہیں صدیق کے جواب پر ماہی بھی مسکرا دی۔
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
عروسہ ابھی بھی آپ نے رونے میں مشغول تھی کہ اسے کھڑکی پر کچھ کھٹ پھٹ کا احساس ہوا۔
یا اللہ میری مدد کرنا اب نے کیا کروں کیسے بلاؤں ؟؟؟ عروسہ کا ڈر کے مارے برا حال تھا ۔
کافی دیر تک کھٹ پھٹ ہوتی رہی اور پھر ایک دم خاموشی چھا گئی۔
رات کا تین بج رہا تھا جب وسام دروازہ کھول کر کمرے میں داخل ہوا ۔اسے دیکھتے ہی عروسہ بھاگ کر اس کے قریب گئی مگر اس سے آتی بُو کو سونگ کر کچھ دور ہی ٹھٹھک کر رک گئی۔
کیسی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ وسام نے اپنے ہاتھ میں پکڑا کوٹ بیڈ پر پھینکا اور اپنے شوز اتارنے لگا
تم نے شراب پی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عروسہ نے اپنی ناک کے آگے ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا
ہاں وہ دوستوں نے زبردستی پلا دی تھی ۔ خیر تم بیٹھوں میں فریش ہو کر آتا ہوں۔ وسام ننگے پاوں واش روم کی طرف بڑھ گیا جبکہ عروسہ کچھ الجھ گی ۔
کیا سوچ رہی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ وسام نے گیلا تولیا اس کی طرف پھینکا تو وہ اپنی سوچ سے باہر نکلی۔
وسام اب ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا بال بنا رہا تھا اور ساتھ ہی ساتھ پیچھے بیڈ پر بیٹھی عروسہ کا جائزہ بھی لے رہا تھا ۔
پھر باڈی سپرے سے خود پر خوب چھڑکاؤ کیا اور مسکراتا ہوا عروسہ کے قریب بیٹھ گیا ۔
اب ٹھیک ہے تم اتنے پریشان کیوں ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ وسام نے عروسہ کے چہرے پر اڑتی ہوئی ہوائیاں دیکھ کر پوچھا
دیکھو تمہیں میری زرا بھی فکر نہیں ہے۔ میں سب کچھ تمہارے لیے چھوڑ کر آئی ہوں اور تم اب آرہے ہو۔ وہ بھی اس حال میں اگر مجھے کچھ ہوجاتا تو ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عروسہ نے گلہ کیا
کم آن یاررررر یہ میٹرک کلاس کی لڑکیوں جیسا behave تو مت کرو مسام سخت بیزار ہوا
میں آگے ہی بزنس کی وجہ سے بہت پریشان ہوں اور اب تم مجھے مزید پریشان کر رہی ہو وسام کی بات پر عروسہ نے اپنے آنسو صاف کیے ۔
کیوں پریشان ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عروسہ نے اپنا دکھ بھول کر اس سے پوچھا
یار بزنس میں بہت نقصان ہو گیا ہے ۔ آگے بھی تم ہی مدد کرتی تھیں۔ اب بھی پلیز کچھ کرو نااااا ورنہ میں برباد ہو جاؤں گا وسام نے عروسہ کا ہاتھ پکڑتے ہوئے لجاجت سے کہا
میں اب تمہاری مدد کیسے کر سکتی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ میں تو خود اب تمہارے رحم وکرم پر ہوں عروسہ نے نرمی سے اپنا ہاتھ وسام کے ہاتھوں سے نکالا جسے سخت ناگواری سے وسام نے دیکھا
کیوں اب ایسا کیا ہوگیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ پہلی بات وسام چونکا
وہ دادا جی کو سب معلوم ہو گیا تھا ۔ تو انہوں نے مجھے “عاق” کر دیا ۔
مجھ سے سب کچھ چھین لیا اور کہا کہ اس کے ہی پاس چلی جاؤ جس سے تمہیں محبت ہے۔
عروسہ کے ذہن میں اچانک حسن کا آئیڈیا آیا تو اس نے سوچا آزما لوں اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے۔
کیا _ عروسہ کے منہ سے یہ سب سنتے ہی وسام اچھل کر کھڑا ہوگیا
تم نے میرا نام اپنے دادا کو بتا دیا بے وقوف لڑکی وہ سچ مچ پریشانی سے بالوں میں ہاتھ پھرنے لگا
نہیں نام نہیں بتایا عروسہ بھی اب کھڑی ہو چکی تھی۔
چلو شکر ہے کچھ تو عقلمندی دکھائی وسام نے گہرا سانس لیا
مگر شادی کے بعد بھی تو پتہ چلنا ہے نااااا عروسہ کی بات پر وہ ہنسنے لگا
عروسہ بی بی تم احمقوں کی جنت میں رہتی ہو ۔آپ کون تم سے شادی کرے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
میرا پہلے بھی تم سے شادی کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا مگر تمہاری “جائیداد” کی وجہ سے میں چپ تھا ۔تمہیں اتنی سی بات سمجھ نہیں آئی۔
چھ سال سے ہم لوگ مل رہے ہیں اگر مجھے تم سے سچی محبت ہوتی تو میں کب کی تم سے شادی کر چکا ہوتا اور اب جب کہ تم گھر سے بھاگ کر اپنا سب کچھ گنوا چکی ہو تو میں پاگل ہوں جو تم سے شادی کروں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ وسام ہنستا جا رہا تھا اور عروسہ کا رنگ بدلتا جا رہا تھا
یہ کیا کہہ رہے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عروسہ کے منہ سے بمشکل یہ جملہ نکلا
تم نے جو بھی سنا وہ بالکل ٹھیک ہے ۔ اب تم یہاں سے جا سکتی ہو۔ کیونکہ اب تم میرے کام کی نہیں وسام نے اب کی بار سختی سے عروسہ کو مخاطب کیا
تم میرے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عروسہ رونے لگی
ابھی میں نے تمہارے ساتھ ایسا کچھ کیا ہی کب ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ بہتر ہوگا یہاں سے چلی جاؤ کیونکہ میرا ارادہ بدل بھی سکتا ہے وسام نے عروسہ کو سر سے پاؤں تک دیکھتے ہوئے طنزاً کہا
تمہیں اتنا بھی احساس نہیں کہ میں نے تمہیں زمین سے اٹھا کر آسمان پر بیٹھایا۔ تمہاری قدم قدم پر مدد کی اور تم مجھے اتنی غلط بات بول رہے ہو احسان فراموش عروسہ کو اپنے کانوں پر یقین نہیں آرہا تھا
اس محبت اور مدد کے صدقے ہیں تو تمہیں چھوڑ رہا ہوں ۔ورنہ کون پاگل ہے جو اس وقت تمہیں اس طرح جانے دے سوچ لو اس وقت اس کوٹھی میں چار مرد موجود ہیں وسام نے اسے ڈرایا
پھر مجھے شادی کا جھانسہ کیوں دیا تھا پہلے ہی انکار کر دیتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عروسہ نے دکھ اور غصے سے سرخ پڑتے چہرے کے ساتھ پوچھا
یہ بھی تمہارے بار بار اصرار پر کیا تھا ورنہ مجھے تو کوئی شوق نہیں اور آج کے دن بھاگنے کا آئیڈیا بھی تمہارا تھا۔
میں نے سوچا اگر مفت میں دولت خود چل کر میرے پاس آ رہی ہے تو مجھے کیا تکلیف ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
مگر اب خالی ہاتھ میں تمہارا خرچہ کہاں سے پورا کرو ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
دوسرا اگر تمہارے گھر والوں نے مجھ پر کسی قسم کا کوئی پرچہ کر دیا تو میں ساری زندگی جیل میں سڑوں گا اور میں ایسا نہیں چاہتا وسام نے ہاتھ کھڑے کیے
تم بہت ہی گھٹیا اور احسان فراموش ہو عروسہ نے اسے مارنے کے لئے ہاتھ اٹھایا جسے وسام نے پکڑ لیا
بس عروسہ بی بی اب مزید نہیں ۔ اس سے پہلے کہ میرا ارادہ بدل جائے میں تمہیں صرف پندرہ منٹ دے رہا ہوں یہاں سے چلی جاؤ ورنہ بعد میں گلہ مت کرنا __ وسام نے غصے سے عروسہ کا ہاتھ جھٹکا جس پر عروسہ اسے ایک نظر دیکھتی باہر کی طرف دوڑ پڑی۔
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
جاری ہے
