Phir Yun Hua By Amna Mehmood Readelle50141 Episode 10
No Download Link
Rate this Novel
Episode 10
سائیں باہر کوئی منیر نام کا بندہ آیا ہے کہہ رہا ہے آپ نے اسے خود بلوایا ہے۔آپ کی اجازت ہو تو اسے اندر بھیج دوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دلاور جو اس وقت نہایت بے ہودہ ویڈیو ٹی وی پر دیکھ رہا تھا سر کے اشارے سے اجازت دیتے ہوئے خود گلاس میں پڑا “کالا پانی” پینے لگا
سرکار آپ کا کام کرنے کے لیے میں نے اس بندے کو راضی کر لیا ہے ۔اب آپ حکم کریں کہ کس دن کاروائی کرنی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ منیر نے اندر داخل ہوتے ہیں مودبانہ لہجے میں عرض کی ۔
ٹھیک ہے میں تمہیں کچھ دنوں تک بتاتا ہوں مگر وہ بندہ ہے تو لاوارث ہی ناااااا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ کل کو کوئی اس کا وارث جاگ جائے اور ہمارے لیے مشکل پیدا کرے ۔۔۔۔۔۔۔۔ دلاور نے ایک ہی سانس میں وہ کالا پانی پیتے ہوئے پوچھا
سائیں بے فکر رہیں اس کی پیروی کرنے والا کوئی نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ میرا تو خیال تھا آپ اس وقت اپنی پسٹل وغیرہ چیک کر رہے ہوں گے مگر آپ یہ کیا دیکھ رہے ہیں یہ تو انتقام لینے کے کام نہیں آئے گی کوئی لڑائی والی فلم دیکھیں تاکہ لڑائی کے لیے داؤ پیچ ہی پتہ چل جائیں ۔ منیر نیچے کارپٹ پر بیٹھتے ہوئے کہنے لگا جبکہ خود بھی پوری توجہ سے ٹی وی سکرین کو دیکھ رہا تھا ۔
جس طرح کا انتقام لینا ہے ویسی ہی تیاری بھی کر رہا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دلاور کی بات پر منیر اور دلاور دونوں نے ایک خبیث قہقہ لگایا
سائین میں نے اپنے حصے کا کام کر دیا ہے اب آپ میری رقم مجھے دے دیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ منیر نے دلاور کے پاؤں دباتے ہوئے لالچی نظروں سے اسے دیکھا
نہیں ابھی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جب تک وہ لڑکی یہاں میرے پاس نہیں پہنچ جاتی تب تک میں تجھے ایک روپیہ نہیں دوں گا ۔آگے ہی تیرے کہنے پر میں نے اس نشئی کو اتنے پیسے دے دیے ہیں ۔دلاور نے ایک جھٹکے سے اپنا پاؤں چھڑایا ۔
سائیں اگر آپ اسے پیسے نہ دیتے تو وہ کیسے راضی ہوتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ اور رہی بات اس لڑکی کی تو آپ حکم کریں آج ہی آپ پاس لے آتے ہیں ویسے بھی آپ کی تیاری تو پوری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ منیر نے ٹی وی کی طرف دیکھتے ہوئے خباثت سے جواب دیا
نہیں آج نہیں کچھ دن تک صبر کر لو پھر میں بتاتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ہاں اسے یہاں نہیں لانا بلکہ ساتھ والے گاؤں میں لے جانا ہے ۔تاکہ وہ لوگ اسے اسی گاؤں میں تلاش کرتے رہے اور ہم دوسرے گاؤں میں عیاشی کرتے رہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ دلاور کی بات پر منیر نے سر ہلایا ۔
جیسا آپ حکم کریں گے ہم بالکل ویسا ہی کریں گے مگر میرے خیال سے اگر آپ گاؤں کی بجائے دربار کے منتظم سے بات کر لیں تو ہم لڑکی کو وہاں لے جاتے ہیں وہاں کسی کو بھی شک نہیں ہوگا اور آپ بھی آرام سے اپنا کام جب تک چاہیں کر سکتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ منیر کی بات پر دلاور کی آنکھوں میں ایک شیطانی چمک ابھری
بات تو تُو بالکل ٹھیک کر رہا ہے ۔چل ایسا ہی کر لیتے ہیں یہ کچھ پیسے رکھ لے اور دربار کے تہہ خانے والے کمرے کو بالکل صاف ستھرا کروا دینا باقی میں دیکھ لوں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دلاور نے قمیض کی جیب سے ایک گڈی نکال کر منیر کی طرف اچھالی
شکریہ سرکار بہت بہت شکریہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب آپ بالکل بے فکر ہو جائیں ایسا انتظام کروں گا کہ آپ اپنی “دو سال” کی سزا بھول جائیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ منیر کہتا ہوں اٹھ کھڑا ہوا
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
چل صدیق جلدی جلدی جیت چمکا دے اس سے پہلے کہ شاہ صاحب باہر آجائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صدیق خود کلامی میں مصروف تھا جب سکینہ بی بی کی آواز پر پلٹا مگر سامنے ان کو دیکھتے ہی نظریں جھکا گیا
بی بی جی آپ باہر کیوں آئیں ہیں اگر کوئی کام تھا تو مجھے اندر بلوا لیتیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ صدیق نے کپڑا کندھے پر ڈالتے ہوئے با ادب انداز میں جواب دیا نظریں ابھی بھی جھکی ہوئیں تھیں۔
مجھے آپ سے ہی بات کرنی تھی اس لئے میں ادھر آ گئی ۔لگتا ہے آپ کو مجھ سے بات کرنا پسند نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ سکینہ بی کی نظریں سر سے لے کر پاؤں تک صدیق کا ایکسرے کر رہی تھیں۔
مجھ سے بی بی جی ۔۔۔۔۔۔۔۔ صدیق کے لہجے میں حیرت کا عنصر نمایاں تھا۔
ہاں وہ اصل میں مجھے یہ پوچھنا تھا کہ سب خیریت ہے نا اااااا ۔۔۔۔۔۔۔۔ میرا مطلب ہے یوں اچانک عفت کا چھوٹی حویلی سے بڑی حویلی میں آنا مجھے تو کچھ گڑبڑ لگ رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔؟
سکینہ کے اتنے درست اندازہ پر صدیق نے ایک نظر اٹھا کر نہیں دیکھا (جو نیوی بلیو شلوار قمیض میں سفید جالی کا دوپٹہ لئے ہوئے بہت خوبصورت لگ رہی تھیں۔دل ہی دل میں ان کی ذہانت اور خوبصورتی کو داد دینے لگا ) ۔
نہیں بی بی جی ایسا کچھ نہیں ہے آپ خوامخواہ پریشان مت ہو ں۔ویسے بھی اگر کچھ ہوا تو ہم موجود ہیں ناااااا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں شاہ جی کو ایک منٹ کے لئے بھی اکیلا نہیں چھوڑتا ہوں ۔میرے ہوتے ہوئے کوئی انہیں نقصان نہیں پہنچا سکتا ۔۔۔۔۔۔۔۔ صدیق نے اپنی نظروں کو تبدیل کیا ویسے دل تو کر رہا تھا کہ دیکھتا جا ۔
ہم آپ کے لیے ہی پریشان ہو رہے تھے بڑے شاہ جی کے ساتھ ساتھ اپنا خیال بھی رکھا کریں ۔اگر کوئی خیال رکھنے والا یا والی نہ ہو تو اپنا خیال خود رکھتے ہیں ۔جان بوجھ کر خود کشی کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سکینہ بی کہتی ہوئی دوبارہ اندر چلی گئی جب کہ صدیق کو اپنے پیچھے حیران پریشان چھوڑ گئیں۔
یہ بی بی کو آج کیا ہوا ہے آگے تو کبھی اس طرح بات نہیں کرتیں۔ کہیں اسے تیرے دل کی خبر تو نہیں لگ گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ اللہ نہ کرے صدیق یہ تو کیا سوچ رہا ہے اپنے آپ کو ملامت کرتے ہوئے دوبارہ جیپ صاف کرنا شروع کر دی۔
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
کمرے میں داخل ہوتے ہیں حسن کو عروسہ کا غصے سے لال سرخ چہرہ نظر آیا ۔
عجیب چیز ہیں آپ کبھی سرخ کپڑے اور کبھی سرخ منہ کے ساتھ میرا استقبال کرتی ہیں۔خیر مجھے ان دونوں چیزوں سے کوئی مطلب نہیں آپ میرے حصے کے مجھے پیسے دے دیں تاکہ میں جاؤں ۔
روز روز تو میں آپ کے گھر والوں کے گلے لگ کر موت کو گلے نہیں لگا سکتا ۔۔۔۔۔۔۔ ابھی بھی بڑی مشکل سے سانس بحال کیا ہے۔ میرے خیال سے آئندہ اگر آپ کے گھر والوں سے ملاقات متوقع ہو تو آکسیجن کا سلنڈر ساتھ لاؤں ۔۔۔۔۔۔۔۔حسن نے بولتے ہوئے ٹیبل پر پڑے قیمتی لیمپ کو اٹھایا
جب میں نے تمہیں کہا تھا کہ یہاں مت آنا میں تم سے خود رابطہ کروں گی تو پھر کیوں آئے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ عروسہ کا بس نہیں چل رہا تھا کہ حسن کو کچا چبا جائے
مجھے پیسوں کی سخت ضرورت ہے اسی لیے میں نے تم سے اس دن نکاح کیا تھا اور تمہارے خیال سے مجھے بچے چاہیے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حسن کی بات پر عروسہ ایک دم اچھل پڑی۔
کیا بکواس کر رہے ہو ۔۔۔۔۔۔۔؟ عروسہ کے دھاڑنے پر حسن نے اپنے دفاع میں لیمپ آگے کیا ۔
ویسے چھت تو مضبوط ہے ناااااا میرا مطلب ہے کہ لنٹر پر شک تو نہیں کیا جاسکتا ناااااا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جس طرح تم اس کمرے میں “گھوم” رہی ہوں کہیں ہم دونوں ہی “گھوم” نا جائیں مطلب کے بلڈنگ زمین بوس نہ ہوجائے ۔۔۔۔۔۔۔۔ برا مت منانا مگر جان تو سب کو پیاری ہوتی ہے ۔حسن کی بات نے عروسہ کے غصے کو مزید ہوا دی۔
یہ کیا تم موٹی موٹی کی رٹ لگائے رکھتے ہو میرا ویٹ صرف 80kg ہے اور بس ۔۔۔۔۔۔۔۔عروسہ کی بات پہ حسن نے دہرایا
بس صرف اتنا ہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ واہ یعنی یہ تو کوئی وزن ہی نہ ہوا ۔حسن مسکرانے لگا
پہلے میں ایک اسٹام بنواؤں گی جس میں تمہیں طلاق کے بدلے ایک کروڑ روپیہ دوں گی اور اس کے بعد تم کبھی مجھے پریشان نہیں کرو گے یہ سب باتیں اس میں لکھی ہوں گی ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ عروسہ نے انگلی اٹھا کر واضح کیا
ارے واہ ایک کروڑ کا میں کیا کروں گا ۔۔۔۔۔۔۔؟ تم نے مجھے پاگل سمجھ رکھا ہے تم نے کہا تھا تین گناہ دوگی مجھے کم از کم دس کروڑ چاہیے ۔
اکلوتی ہو اتنی زیادہ تمہارے حصے میں جائیداد آئے گی کچھ تو مجھے بھی دو ۔ ورنہ میں سب کو سچ بتا دوں گا خاص طور پر تمہارے اس جٹ کزن کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حسن نے دھمکی لگائی۔
خبردار جو تم نے ایسا کچھ بھی کیا تو ۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر میں تمہیں اتنی بڑی رقم نہیں دے سکتی ابھی میرے نام کچھ بھی نہیں ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اب کی بار عروسہ نے نرم لہجے میں جواب دیا
اچھا پھر کب تک تمہارے نام سب کچھ ہو جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ حسن نے بھی اسی لہجے میں پوچھا
شادی کے بعد ۔۔۔۔۔۔۔۔ عروسہ نے کچھہ ہچکچاتے ہوئے جواب دیا
ہممممممم۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میری ایک بات غور سے سنو اگر تم میرے ساتھ تعاون کرو تو ہم دونوں کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ حسن نے عروسہ کے قریب جاتے ہوئے کہا
کہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عروسہ نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا جو اب اسی کی طرف آ رہا تھا
ایک تو تم ڈائیٹنگ کرو مجھے اتنی موٹی لڑکی سے بات کرنا اور وہ بھی تمیز کے ساتھ خاصا مشکل لگ رہا ہے میرا پہلے ایسا کوئی تجربہ نہیں ہے۔اور دوسرا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حسن نے ابھی اتنا ہی کہا تھا کہ عروسہ نے ایک زور دار مکا حسن کی کمر پر مارا ۔
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
جاری ہے
