Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8

اس وقت ڈیرے پر شہنواز اپنی رائفل کا معائنہ کر رہے تھے جب صدیق نے مودبانہ لہجے میں پوچھا
شاہ جی لگتا ہے شکار پر جانے کا ارادہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ صدیق کی بات پر شاہنواز مسکرا دیئے
صدیق میرے پاس کہاں اتنا وقت ہے کہ میں اپنے شوق پورے کر سکوں ۔۔۔۔۔۔۔ ؟ یہ تو ان لوگوں کو زیب دیتا ہے جن کے بیٹوں نے ساری ذمہ داریاں خود اٹھائیں ہوئی ہے ۔ جبکہ یہاں میں اکیلے ہی کھپ رہا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔ رائفل نوکر کو پکڑا تے ہوئے شاہ نواز نے حقے کی طرف اشارہ کیا
شاہ جی آپ اداس مت ہوں چھوٹے شاہ جی کو جلد ہی اپنی غلطی کا احساس ہو جائے گا کہ وہ کتنا غلط تھے اور آپ بالکل درست ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صدیق نے حقہ آگے کرتے ہوئے کہا
پتا نہیں اسے کب عقل آئے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ تب تک شاید میری آنکھیں بند ہو جائیں گی ۔ دو سال کا عرصہ کم نہیں ہوتا کب سے شہر جا کر بیٹھا ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ شاہنواز نے ہقتے کا کش لیا
شاہ جی کتنی بار بولا ہے ایسا نہ کہا کریں ۔ہم غریبوں کا کیا ہوگا ہم تو آپ ہی کی چھتر سایہ میں پل رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صدیق نے دکھ سے نیچے بیٹھتے ہوئے کہا
چھوڑ ان باتوں کو یہ بتا گاؤں میں سب خیریت ہے ناااااا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کوئی نئی تازی تو نہیں۔ شاہ نواز کے پوچھنے پر صدیق نے قدرے پریشانی سے انہیں دیکھا
کیا بات ہے تیری شکل تو مجھے کسی گڑبڑ کی طرف اشارہ کر رہی ہے ۔شاہنواز کی بات پر صدیق نے سر ہلایا
سرکار وہ دلاور جیل سے رہا ہو گیا ہے ۔صدیق نے آہستہ آواز میں کہا جس پر شاہنواز کا رنگ اڑ گیا
وہ کمبخت کب اور کیسے باہر آیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ تو نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا شاہنواز پریشانی سے کھڑے ہوں گے ۔
سرکار میں نے بھی کل ہی اسے جیپ میں گھومتے ہوئے دیکھا ہے۔صدیق بھی احترام میں فورا کھڑا ہو گیا ۔
عفت بی بی کو یہ خبر نہیں پہنچنی چاہیے خوامخواہ پریشان ہوجائیں گی ۔شاہنواز ڈیرے میں چکر کاٹنے لگے
بالکل سرکار آپ بے فکر ہو جائیں میں نے چھوٹی حویلی کے پہرے داروں کی تعداد مزید بڑھا دی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ صدیق نے تسلی دی ۔
اگر زاویار نے آج سے دو سال پہلے میری بات مان کر عفت سے شادی کر لی ہوتی تو آج میں اتنا پریشان نہ ہوتا مگر اسے تو ۔۔۔۔۔۔۔۔ شاہنواز نے نفی میں سر ہلایا
یہ آج کل کی نسل بات کی نزاکت کو سمجھتے نہیں ہیں ۔اب دیکھو آج سے دو سال پہلے ہم سب جہاں کھڑے تھے اس دلاور کے رہا ہونے پر پھر سے وہیں کھڑے ہوگئے ہیں ۔
اگر زاویار نے عفت سے شادی کر لی ہوتی تو اب ان کے بچے بھی ہوتے۔وہ بھی ایک خوشحال زندگی گزار رہے ہوتے اور میں بھی پریشان نہ ہوتا۔مگر بوڑھے باپ کو پریشان کرنے کا اس نالائق نے ٹھیکہ لے رکھا ہے
شاہنواز مسلسل اپنے ڈیرے میں گھومتے ہوئے دل ہلکا کر رہے تھے اور ان کا وفادار نوکر ان کے پیچھے پیچھے اپنے مالک کے لئے فکر مند تھا ۔
شاہ جی میں چھوٹا سا تھا جب آپ مجھے پنچایت کے ظلم سے بچا کر اپنے ساتھ لائے تھے مجھے اپنے ماں باپ سے اتنی محبت نہیں جتنی میں آپ سے کرتا ہوں ۔میں اپنی جان بھی آپ کے خاندان پر قربان کر دوں گا آپ پریشان نہ ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صدیق کے کہنے پر شاہنواز نے خوش ہو کر صدیق کا کندھا تھپکا
اگر تو شاہوں کی اولاد ہوتا تو میں تجھ سے عفت کا نکاح کر دیتا مجھے تو بہت عزیز ہے بالکل زاویار کی طرح ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شاہنواز کی بات پر صدیق کا دل عجیب طرح دھڑکنے لگا مگر وہ اپنے جذبات اور اپنے تاثرات چھپا گیا ۔
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
حسن ابھی سویا ہی تھا کہ فون بجنے لگا اور پھر ایسا بجا کہ خاموش ہونا بھول گیا ۔
کس کم بخت ڈھیٹ کمپنی کا فون ہے۔پندرہ منٹ سے بے سری آواز میں بج رہا ہے اس کا وارث کہاں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟ حاضر ہو تاکہ میں اسے اعزازاً ” تعریفی کلمات” سے نوازوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حسن کی بات پہ زاویار مسکرایا
یہ فون سعد کا ہے اور وہ فلحال “واش روم” میں پایا جاتا ہے اس لیے فلحال آپ کی خدمت میں حاضر ہونے سے قاصر ہے ۔۔۔۔۔۔۔ زاویار کے جواب پر حسن مزید تپ گیا
تو آپ جناب ہی اپنے ان خوبصورت ہاتھوں کو حرکت دیں اور اس کی بولتی بند کر دیں۔ مورخ آپ کی اس قربانی کو “آب زر” سے لکھے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حسن بیڈ ساتھ ٹیک لگاتے ہوئے کہا
لاکڈ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یک لفظی جواب موصول ہوا ۔
ایک بات بتا تو ہر وقت پڑھتے پڑھتے تھکتا نہیں ہے اتنی بور لائف ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حسن نے طنز کیا
تو ہر وقت بکواس کرتے کرتے تھکتا ہے جو میں تھک جاؤں آخر بھائی تیرا ہی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زاویار کے جواب پر حسن نے منہ بنا لیا
اچھا سن وہ تیری دیوانی کیسی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ حسن کے پوچھنے پر زاویار نے حیرت سے اسے دیکھا
کون سی دیوانی ۔۔۔۔۔۔۔۔ کیسی دیوانی ۔۔۔۔۔۔۔۔ میری تو کوئی دیوانی نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ہاں البتہ میں کسی کا دیوانہ ضرور ہوں ۔زاویار خود ہی اپنی بات کے آخر میں مسکرا دیا ۔
چل آج بتا ہی دے کہ تو کس کا دیوانہ ہے پھر میں تجھے بتاتا ہوں کہ کون تیری دیوانی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟ حسن نے تکیہ گود میں رکھا اور زاویار کی طرف منہ کر کے بیٹھ گیا
یار اصل میں میرے چچا کی ایک ہی بیٹی ہے ۔جیسے میں اپنے باپ کا ایک ہی بیٹا ہو مگر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زاویار کچھ دیر کے لیے رکا
مگر کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حسن کا اشتیاق بڑھا
مگر یہ کہ کمینوں کب سے تم دونوں کو میں آوازیں دے رہا ہوں حرام ہے جو کسی ایک نے بھی جواب دیا ہو ۔عورتوں کی طرح گپے مارنے میں اتنے مصروف ہو کہ آس پاس کی کچھ خبر نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ سعد غصے کا بھرا اندر داخل ہوا
ہمیں تو کوئی آواز نہیں آئی کیا دل میں آوازیں دے رہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حسن نے چھیڑا
دل میں نہیں “غسل خانے” میں دے رہا تھا کسی کم بخت نے باہر سے کنڈی لگا دی تھی ۔اتنی گرمی میں آدھے گھنٹے سے بند ہوں۔ بندہ خود ہی خبر لے لیتا ہے کہ ابھی تک واپس نہیں آیا کہیں کسی مصیبت میں نہ ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سعد غصہ نکالتے ہوئے بیڈ پر گرنے کے انداز میں لیٹ گیا۔
مجھے تیرے ساتھ بھرپور ہمدردی ہے مگر میں تو خود سویا ہوا تھا تیرے اس منحوس موبائل نے چیخ چیخ کر مجھے جگایا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حسن نے چارجنگ پر لگے اس کے موبائل کی طرف اشارہ کیا جس پر سعد نے چونک کر اپنے موبائل کو دیکھا
ایک تو تم دونوں کو ذرا ذرا سی بات پر جھٹکے اتنے لگتے ہیں کہ بس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حسن نے سعد اور زاویار کی طرف دیکھ کر کہا جس پر زاویار حسب عادت مسکرا دیا ۔
چل یار تو اپنا سلسلہ وہاں سے ہی جوڑ جہاں سے توڑا تھا ۔حسن نے دوبارہ زاویار کو مخاطب کیا
مگر وہ عمر میں مجھ سے کافی بڑی ہیں تقریبا سات آٹھ سال کا فرق ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زاویار کی بات پر سعد نے موبائل پکڑتے ہوئے اس کی طرف دیکھا جہاں اداسی کے آثار نمایاں تھے ۔
مجھے تو اس میں کچھ عجیب اور دکھ والی بات نہیں لگی ہمارے مذہب میں بھی اور تعلیم کی وجہ سے لوگوں میں بھی اس بات کو برا نہیں سمجھا جاتا کہ لڑکی لڑکے سے عمر میں بڑی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر تمہیں پسند ہے تو میرے خیال سے یہ عمر کا فرق معنی نہیں رکھتا ۔حسن کے جواب پر زاویار تو نہیں بولا مگر سعد بول پڑا
عمر کا فرق بہت معنی رکھتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سعد میں تلخی سے جواب دیا
یار تیرا کیس پھر کسی دن سنیں گے پہلے شاہ صاحب کو سن لے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حسن نے آنکھ ماری جس پر دونوں مسکرا دیئے
بابا سائیں بھی یہی چاہتے تھے اور اندر سے میں بھی مگر میری میری کزن کسی بھی صورت ماننے کو تیار نہیں ہے ۔
اس کا کہنا ہے کہ مجھے انہوں نے اپنے چھوٹے بھائیوں کی طرح پالا ہے وہ میرے بارے میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتی ۔انہیں کے اصرار پر میں نے بابا جان کو نہ کر دی۔ بس وہیں سے میری شامت شروع ہوگئی ۔نافرمانی کی سزا کے طور پر مجھے بابا نے گھر سے نکال دیا اور اب میں تم دونوں کے سامنے ہوں ۔زاویار نے کندھے اچکائے
اور تُو گاؤں سے سیدھا ہمارے اس ہاسٹل میں گرا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حسن کی بات پر زاویار نے سر ہلایا اور دوبارہ کام کرنے لگا
اب میں تجھے بتاتا ہوں وہ جو تیری اکیڈمی میں لڑکی پڑھتی ہے ناااااااا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا نام ہے اس کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حسن نے شرارت سے جملہ ادھورا چھوڑ دیا جبکہ سعد نے ایک بار پھر موبائل سے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا
چل اب نام بتا بھی دے ویسے مجھے معلوم ہے شاید “ماہین ” ہے۔ حسن کی ایکٹنگ پر زاویار نے سر نفی میں ہلایا
وہ ایک انتہائی احمق اور خوابوں کی دنیا میں رہنے والی لڑکی ہے ویسے ہی بہت ذہین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زاویار نے پن انگلیوں میں گھماتے ہوئے جواب دیا
احمق اور ذہین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ دونوں باتیں کم از کم مجھے تو ہضم نہیں ہو رہی ہیں ذہین احمق نہیں ہوسکتا ۔۔۔۔۔۔۔ بالکل اسی طرح احمق ذہین نہیں ہو سکتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خیر وہ تیری دیوانی ہے میں نے خود اس کے کچھ “محبت نامے” یعنی” پیپرز ” دیکھے ہیں۔حسن کے جواب پر سعد مسکرا دیا
یہ ایک نہایت غیر اخلاقی اور غیر مہذب حرکت ہے مگر تمہارا ان دونوں سے ہی کچھ خاص تعلق نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بالکل ایسے ہی جیسا ذہین اور احمق کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ سعد کی بات پر حسن زبردستی مسکرایا
علی کہاں ہے کتنی دیر سے نظر نہیں آیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟ حسن نے گھڑی کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا جہاں دن کے 12 بج رہے تھے ۔
تجھے پتا ہوگا ۔۔۔۔۔؟؟؟ دونوں نے لاعلمی کا اظہار کیا اور اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہو گے جبکہ حسن موبائل پر علی کا نمبر ڈائل کرنے لگا
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
مہرو میرے خیال سے تمہیں کچھ دنوں کے لیے عفت کو اپنے پاس بلا لینا چاہیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شاہنواز جو کب سے بیڈ ساتھ ٹیک لگائے بیٹھے تھے مہرو کو کمرے میں داخل ہوتا دیکھ کر بولے
شاہ جی آپ ابھی سوئے نہیں میں تو سمجھی کہ آپ سو گئے ہوں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ مہرالنساء نے ان کے برابر بیٹھتے ہوئے کہا
پتہ نہیں کیوں مگر میرا دل بہت گھبرا رہا ہے ایسا لگتا ہے جیسے کچھ ہونے والا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شانواز میں کہتے ہوئے سائیڈ لیمپ آن کیا اور خود اٹھ کر کمرے میں موجود واحد کھڑکی کے پاس کھڑے ہو گے ۔
یہ آپ آج کیسی باتیں کر رہی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ وہم کرنا بہت بری بات ہوتی ہے۔اللہ سے ہمیشہ خیر کی امید رکھنی چاہیے کیوں کہ ہم اپنے رب سے جیسا گمان رکھتے ہیں وہ ہمارے ساتھ ویسا ہی معاملہ کرتا ہے۔
یاد ہے آج سے دو سال پہلے بھی آپ ایسے ہی وہم کر رہے تھے تو آپ کے چھوٹے بھائی اور بھاوج کا قتل ہو گیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مہرالنساء نے اپنے طور پر سمجھانے کی کوشش کی ۔
میں بھی تم سے ابھی یہی کہنے لگا تھا دیکھو آسمان پر آج پھر کس قدر سرخ بادل چھائے ہوئے ہیں ۔اگر مجھے کچھ ہوجاتا ہے تو تم لوگوں کا کیا بنے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
زاویار کیسے سب کچھ سنبھالے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ مجھے اس کی بہت فکر ہے ۔اسے خاندانی معاملات اور زمینوں کے معاملے سنبھالنے کا کوئی تجربہ نہیں ہے وہ نا سمجھ ہے ۔اگر میرے ساتھ رہا ہوتا تو اسے اب تک اپنے اور پرائے کی سمجھ آگئی ہوتی مگر افسوس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شاہنواز نے سر نفی میں ہلایا اور چلتے ہوئے مہرالنساء کے سامنے آ بیٹھے۔
دیکھو فرض کرو اگر مجھے کچھ ہوجاتا ہے تو تم مجھ سے وعدہ کرو کہ کسی بھی طرح تم اس عفت کا نکاح زاویار سے کروا دوں گی۔
میں نہیں چاہتا کہ وہ دربدر کی ٹھوکریں کھائے ۔آگے ہی میں سکینہ کی وجہ سے بہت پریشان رہتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شاہنواز کی بات پر مہرو نے تڑپ کر انہیں دیکھا
پلیز چپ کر جائیں ایک تو مجھے ایسے موسموں سے ڈر لگتا ہے دوسرا آپ کی باتیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ مہرالنساء نے شاہنواز کے ہاتھ کو مضبوطی سے اپنے ہاتھوں میں پکڑ لیا
پتا نہیں کیوں ہمارے بڑوں نے اتنے غلط فیصلے کیے۔ میں “ونی” کی رسم کے سخت خلاف رہا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بلکہ ہمیشہ ہر اس رسم کی مخالفت کی ہے جو میرے خیال سے ہمارے معاشرے اور اسلام کے خلاف ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں اللہ کو سکینہ کے معاملے میں کیا منہ دکھاؤں گا۔
اگر مجھے کچھ ہو جائے تو صدیق تم لوگوں کا خیال رکھے گا مجھے بالکل وہ اپنے زاویار کی طرح عزیز ہے اور میں اس پر اندھا اعتماد بھی کرتا ہوں ۔
سکینہ اور عفت دونوں ہم عمر ہیں اور دونوں ہی اب ہماری ذمہ داریاں ہیں شاہنواز نے دکھ سے گہرا سانس لیا اور پشت کے بل بیڈ پر لیٹ گئے
اگر صدیق سید فیملی سے ہوتا تو میں دونوں میں سے ایک کا نکاح ضرور صدیق سے کرا دیتا مگر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شاہنواز کی بات پہ مہرو بول پڑیں۔
یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں چپ کر جائیں اگر کسی نے سن لیا تو غضب ہو جائے گا ۔کبھی کسی سید زادی کا نکاح بھی نوکر سے ہوا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مہرالنسا کی بات پر شاہنواز سے سر ہلایا اور اس پر اپنی جگہ آگے جب کہ کمرے کے باہر کھڑے ایک فرد نے یہ بات بہت غور سے سنی اور واپس پلٹ گیا ۔
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
جاری ہے.