Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 30

یہ تم نے سب کیا کیا ہے اور کیوں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ کیا تم بتانا پسند کرو گے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ مہرالنساء نے دھیمی مگر سخت آواز میں پوچھا
کیا تمہیں اپنے باپ کے مرنے کا ذرا بھی دکھ نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ مہرالنساء نے زاویار کو چپ دیکھ کر پھر کہا
ماں جی آپ کیسی باتیں کر رہی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ آپ کو کس نے کہا کہ مجھے اپنے باپ کی موت کا دکھ نہیں ہے ۔
کیا آپ کو میری شکل دیکھ کر احساس نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ زاویار نے ماں کا ہاتھ پکڑا جسے انہوں نے جھٹک دیا
اتنا پیسہ ضائع کیوں کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
کیا لگتی ہے وہ تمہاری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یہ سوال زاویار کو اب تنگ کرنے لگا تھا
کیا کوئی ہمارا کچھ لگتا ہو تبھی اس کے ساتھ نیکی کرنی چاہیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ زاویار کے جواب پر سکینہ بھڑک اٹھی
نیکی _ کیسی نیکی دشمن کے ساتھ نیکی نیکی کرنے کا یہ کونسا انوکھا طریقہ تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
جس میں تم نے صدیق کے ساتھ زبردستی اس لڑکی کی شادی کرا دی سکینہ کی بات پر مہرونساء نے بھی افسوس سے سر ہلایا
میری ایک بات کان کھول کر سن لو۔ مجھے خون بہا میں لڑکی نہیں بلکہ اس لڑکی کے بھائی کا سر چاہیے “خون کا بدلہ خون” مہرالنساء کی بات پر زاویار نے اپنی پیشانی کو مِسلا
ماں جی بدلہ لینا آپ کا حق ہے اور جائز بھی
مگر معاف کرنا سب سے افضل ہے ۔ زاویار نے کمزور سی آواز میں ماں کو قائل کرنا چاہا مگر وہ جانتا تھا یہ دلیل انہیں مطمئن نہیں کر سکتی
زاویار انہوں نے اسے دکھ سے پکارا
اُس لڑکی کو واپس اُس کے گھر بھیج دو۔ تمہارے والد ہمیشہ اس قسم کی رسم کے خلاف رہے ہیں اور سیدھی طرح بدلہ لو۔
یہ بزدلوں والے کام چھوڑ دوں سمجھے
مہرالنساء کی بات پر زاویار نے سر ہلایا اور اٹھ کر چل پڑا
اب کہاں جا رہے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ کچھ دیر ماں کے پاس بھی بیٹھا کرو ۔ انہیں ضرورت ہے تمہاری ، اس بات کو سمجھو سکینہ بی کی آواز پر وہ رکا مگر پلٹا نہیں
میرے سر میں اس وقت شدید درد ہو رہا ہے کچھ دیر آرام کر لو پھر آتا ہوں
زاویار کہہ کر تیزی سے باہر نکل گیا جیسے وہ اس وقت اس ماحول سے بھاگنا چاہتا ہو۔
خامخواہ تم نے اسے بھی پریشان کردیا ۔ تمہارے کہنے پر میں نے اسے بہت ڈانٹتا ہے۔ مگر میرا دل دکھ گیا ہے مہرونساء نے سکینہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
بھابی آپ چھوٹی چھوٹی باتوں پر پریشان ہونا چھوڑ دیں۔ زاویار اب دودھ پیتا بچہ نہیں ہے۔ اب اُسے اُس کی ذمہ داریوں کے بارے میں سمجھانا بہت ضروری ہے ۔
لالہ تو رہے نہیں اگر آپ نے بھی نرمی اختیار کی تو سب کچھ آپ کے ہاتھ سے نکل جائے گا۔
وہ آپ کی کسی بات کو کوئی اہمیت نہیں دے گا اور اپنی ایسی حرکتوں سے سب کچھ لٹا بیٹھے گا اس لئے اسے کھینچ کر رکھیں ۔
اور ہاں جیسے ہی لالہ کا چالیسواں ہو جائے آپ پہلی فرصت میں زاویار کو عفت ساتھ شادی کرنے کے لیے زور ڈالیں۔
یہ لالہ کی خواہش بھی تھی اور اس خاندان کی روایت بھی ہم عفت کو غیر خاندان میں نہیں بھیج سکتے۔
اس کی عمر بھی اب زیادہ ہو رہی ہے ۔ہمیں اپنی نسل کے لیے وارث کی بھی شدید ضرورت ہے۔ آپ سمجھ رہی ہیں کہ میں کیا کہہ رہی ہوں۔ سکینہ بی نے اپنی بات کے آخر میں مہرونساء کی طرف دیکھا جو اب کافی پریشان نظر آ رہی تھیں۔
زاویار جوان ہے خوبصورت ہے اگر کل کو وہ شہر سے کوئی لڑکی اپنی پسند سے بیاہ لایا تو ہم اس کا کیا کر لیں گے اور سوچیں کہ وہ ہمارے ساتھ کیا کرے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
عفت تو اپنے خاندان کی ہے
سلجھی ہوئی ہے _ اور سب سے بڑھ کر ہم دونوں کا احترام کرتی ہے ۔اس سے پہلے کہ پانی سر سے اوپر ہو جائے ہمیں اس مسئلہ کو جلد از جلد حل کر دینا چاہیے ۔ سکینہ نے اپنی بات کے آخر میں مہرالنساء کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا ۔ بھابھی مجھے اس خاندان کی فکر ہے اس لیے کہہ رہی ہوں ویسے بھی زاویار صرف آپ کا ہی نہیں میرا بھی بیٹا ہے تم ٹھیک کہہ رہی ہو۔ میں زاویار سے بات کرتی ہوں مہرالنساء نے سکینہ کا ہاتھ تھپکتے ہوئے اسے تسلی بخش جواب دیا ۔
زاویار کا اس وقت سر درد سے پھٹ رہا تھا ایک طرف وہ ماہی کی محرومیوں کا ازالہ کرنا چاہتا تھا
تو دوسری طرف اپنے ہی گھر والوں کو تکلیف میں دیکھ کر تڑپ رہا تھا ۔
کافی دیر بستر پر کروٹیں بدلنے کے باوجود جب بار بار دھیان اپنے گھر والوں یا ماہین کی طرف جا رہا تھا تو وہ تھک کر اٹھ بیٹھا ۔
یا اللہ میں کیا کروں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ تو جانتا ہے میرا مقصد کیا ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ مگر ایک انسان سب کو راضی نہیں کر سکتا اس بات کا اندازہ مجھے آج ہو رہا ہے ۔
کاش کے میں انہیں اپنی بات سمجھا سکوں _ زاویار بیڈ ساتھ ٹیک لگائے خود ہی اپنا سر دبا رہا تھا جب دروازے پر دستک ہوئی اب پھر کوئی نہ کوئی گلہ دینے آ گیا ہوگا زاویار نے دل میں سوچا اور اندر آنے کی اجازت دی مگر عفت بی کو دیکھ کر اٹھ بیٹھ
آپ اس وقت پلیز یہاں سے چلی جائیں میرا دماغ بہت خراب ہے یہ نہ ہو کہ میں آپ کے ساتھ بدتمیزی کر لوں جو میں نہیں چاہتا زاویار نے لال سرخ آنکھوں سے عفت کی طرف دیکھا
سوچ لو تم مجھے اپنے کمرے سے نکال رہے ہو عفت نے یقین کرنے کے لیے پوچھا
عفت بی پلیز میں شدید تھکا ہوا ہوں۔ سکون کی تلاش ہے
مگر بدقسمتی سے کسی کی بددعا لگ گئی ہے (زاویار کی آنکھوں میں ماہی کا چہرہ آ گیا) سکون ہی نہیں مل رہا
زاویار کے چہرے پر واضح تکلیف کی آثار تھے
چھوٹے اتنی زیادہ پریشان کیوں ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عفت نے اس کے تھکے ہوئے چہرے کو دیکھ کر پوچھا
یہ بات آپ تو مت پوچھیں زاویار نے دوبارہ ٹیک لگا لی
اچھا سوری _
عفت کو اپنے رویے پر افسوس ہو رہا تھا جب کہ عفت کے منہ سے لفظ “سوری” سن کر زاویار کو جھٹکا لگا
آپ مجھے سوری کہہ رہی ہیں مگر کیوں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ زاویار دوبارہ سیدھا ہو کر بیٹھ گیا ۔
میں تمہاری حالت سمجھتی ہوں تم نے جو بھی کیا بالکل ٹھیک کیا ہے مگر شاید طریقہ ٹھیک نہیں تھا یا سب کچھ جلدی ہو گیا عفت زاویار کو اپنے طور پر تسلی دینا چاہ رہی تھی
میں نے جو بھی کیا اپنی عقل کے مطابق سوچ سمجھ کر ہی کیا ہے ۔مگر ماں جی کا یوں مجھ سے بد ظن ہو نا مجھے بہت تکلیف دے رہا ہے زاویار نے کی ہمدردی ملتے ہی اپنا دکھ اس سے بیان کیا
آہستہ آہستہ سب ٹھیک ہو جائے گا ۔میں بات کروں گی۔ تم کھانا کھا کر دوائی لے لو ۔
پھر سونے کی کوشش کرو اور ان سب باتوں کو اپنے ذہن سے نکال دو
عفت کی بات پر زاویار مسکرا دیا
آپ کو کیا لگتا ہے میں نے یہ سب نہیں کیا ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ زاویار نے پوچھا
میں آپ کی نظر میں چھوٹا ہوں مگر دنیا کی نظر میں بہت بڑا اور سمجھدار ہوں زاویار کے کیوں بولنے پر عفت بھی مسکرا دیں۔
ہاں یہ تو ہے تم نے کام تو بڑوں والے ہی کیے ہیں
عفت کا اشارہ ماہی کی شادی کی طرف تھا
وہ کیسی ہے رو تو نہیں رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ کچھ دیر خاموشی کے بعد زاویار نے عفت سے پوچھا
کون
تم کس کی بات کر رہے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عفت نے ناسمجھی سے زاویار کی طرف دیکھا
ماہی زاویار کی طرف سے یک لفظی جواب آیا
تمہیں اب اس کے بارے میں بات کرنے کا کوئی حق نہیں ہے وہ اب کسی کی بیوی ہے اور عفت رکیں
مجھے اس کی فکر تھی اس لئے پوچھا آپ پلیز کوئی اور مطلب نہ لیں زاویار کی بات پر عفت اٹھ کھڑی ہوئیں۔
چھوٹے ایک بات مانو گے عفت نے جاتے جاتے پلٹ کر کہا
کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ زاویار نے سوالیہ نظروں سے دیکھا
اس لڑکی کا ذکر میرے سامنے مت کیا کرو عفت کی بات پر زاویار ہنسنے لگا
آپ سچ مچ اس سے جیلس ہو رہی ہیں
قسم سے مجھے یقین نہیں آرہا زاویار اب باقاعدہ قہقہ لگا رہا تھا جبکہ عفت منہ بناتی کمرے سے باہر نکل گئیں.
“اب تو گورنمنٹ بھی سب کو پاس کر رہی کیا میرے اور آپ کے پاس ہونے کے اب بھی کوئی چانس نہیں۔۔؟؟ ؟”
زاویار نے پیچھے سے اونچی آواز میں کہا جسے عفت نے بخوبی سنا
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
فرزین بیٹا ایک گلاس پانی لانا
اقبال صاحب جو ابھی ابھی باہر سے آئے تھے آتے ہی فرزین کو آواز دینے لگے
کہاں سے آ رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ اب تو موسم اتنا بدل گیا ہے پھر بھی آپ کو آتے ہی پیاس لگ گئی ہے۔ رضیہ بیگم نے ان کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
یہ لیں ماموں پانی فرزین نے گلاس اقبال صاحب کے آگے کرتے ہوئے مخاطب کیا
اقبال صاحب نے فوراً اپنی جیب سے کچھ گولیاں نکال کر پانی ساتھ لیں اور گلاس دوبارہ فرزین کو دے کر جلدی سے وہیں لیٹ گئے۔
کیا ہوا ہے
یہ دوائی کس چیز کی لی ہے بولتے کیوں نہیں یوں کیوں لیٹے ہوئے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ رضیہ بیگم نے ایک ساتھ کئی سوال کر ڈالے۔
کچھ نہیں بس آج ذرا آفس میں طبیعت خراب ہو گئی تھی تو
اقبال صاحب نے بند آنکھوں ساتھ ہی نقاہت بھری آواز میں جواب دیا
فرزین نے ڈرتے ڈرتے اقبال صاحب کے ماتھے پر ہاتھ رکھا تو وہ بالکل ٹھنڈا تھا ہلکے ہلکے پسینے کے قطرے بھی چہرے پر نمایاں تھے
مجھے وہم ہو رہا ہے۔ آج گرمی ہے شاید اسی لیے ماموں کو پسینہ آ رہا ہے۔
نہیں _ ایسا نہیں ہو سکتا ماموں کو “ہارٹ اٹیک” نہیں ہو سکتا۔ دل ہی دل میں اپنی سوچ پر کانپ گئی ۔
یوں چپ کیوں لیٹ گئے ہو میرا دل پریشان ہو رہا ہے آنکھیں کھولو مجھے دیکھو رضیہ بیگم نے اقبال صاحب کا بازو ہلایا
تم میرا یہ بازو دبا دو
درد ہو رہا ہے۔ اقبال صاحب نے اپنا الٹا بازو رضیہ بیگم کی طرف کرتے ہوئے کہا تو فرزین کی آنکھوں میں آنسو آنے لگے وہ جلدی سے اپنے کمرے کی طرف چلی گئی ۔
تم نے اپنے ساتھ ساتھ بچی کو بھی پریشان کر دیا ہے۔ کہا ناااااا کچھ نہیں ہوا ۔ میں ٹھیک ہوں۔ بس زرا آرام کرنے کو دل کر رہا ہے ۔ اقبال صاحب نے رک رک کر رضیا بیگم کو تسلی دی
فرزین نے کمرے میں آتے ہی سعدکا نمبر ڈائل کیا۔ پلیز جلدی کال اٹھا لو پلیز _ فرزین نے تقریبا روتے ہوئے خود کلامی کی سعد جو ابھی ابھی اپنا آخری پیپر دے کر یونی سے نکل رہا تھا اور بہت خوش تھا۔ یوں فرزین کی کال دیکھ کر مسکرا دیا ۔ یعنی دل کو دل سے راہ ہے
آج تو سورج کہیں اور سے ھی نکلا ہے۔
دن میں بھی جناب نے یاد کر لیا رات کا انتظار نہیں کرنا پڑا سعد نے انتہائی خوش اخلاقی کا مظاہرہ کیا
وہ وہ ماموں
فرزین نے اتنا ہی بولا تھا کہ اس کی آواز بھیگ گئی۔
کیا ہوا ہے ابو کو ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ سعد ایک دم اس کی روئی آواز سن کر سنجیدہ ہوا۔
پتا نہیں بتا تو کچھ نہیں رہے مگر جیسے میرے ابو کو فرزین کا گلا سوکھنے لگا
ایک منٹ ایک منٹ تم اس وقت کہاں ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ سعد کو اچانک کچھ خیال آیا ۔
میں گھر پر فرزین نے دبی سی آواز میں جواب دیا
اور ابو اب وہ اپنی بائیک پاس پہنچ چکا تھا
وہ بھی گھر پر فرزین نے گلا صاف کرتے ہوئے اب کی بار قدرے نارمل آواز میں جواب دیا
تو پھر کیا مسئلہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ میں انہیں فون کرتا ہوں۔ تم پریشان نہ ہو سعد کو فرزین کے رونے پر اب حیرت ہو رہی تھی۔
نہیں نہیں انھیں کال مت کریں وہ دوا لے کر لیٹ گئے ہیں۔ ابھی فرزین نے فون پر اتنا ہی بتایا تھا کہ پیچھے سے رضیہ بیگم کے رونے کی آواز سنائی دی۔
فرزین جلدی آ دیکھ تیرے ماموں کو کیا ہوگیا ہے وہ بول ہی نہیں رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ فرزین جلدی میں موبائل وہیں پھینک کر باہر چلی گئی جبکہ سعد نے رضیہ بیگم کی بات کو واضح طور پر سنا ۔
بار بار پکارنے پر بھی جب اقبال صاحب کو ہوش نہ آیا تو فرزین نے جلدی سے 1122 پر کال کرنے کے لئے اپنے کمرے کی طرف دوڑ لگائی .
مگر جلدی میں پھینکا فون اب اسے مل نہیں رہا تھا ۔کہاں چلا گیا ابھی تو یہاں ہی تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ وہ چیزیں الٹ پلٹ کرنے لگی ۔
فرزین اب آ بھی جا
رضیہ بیگم نے سر پر چادر لیتے ہوئے اسے پکارا
بس پھپھو آگئی فرزین نے جلدی سے الماری سے اپنی چادر نکالی اور اقبال صاحب کے فون سے 1122 پر کال کی۔
سعد جو مسلسل فرزین کا نمبر ملا رہا تھا تنگ آ کر اقبال صاحب کو فون کرنے لگا تو ان کا نمبر بھی بزی ملا
کیا مصیبت ہے کوئی تو فون اٹھاؤ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ آج آخری پیپر تھا مگر اس کی خوشی ختم ہوچکی تھی۔
سعد نے جلدی جلدی اپنے کپڑے چیزیں بیگ میں ڈالیں۔ جانا تو تھا ہی مگر اس کا ارادہ دو تین دن بعد جانے کا تھا مگر اب کچھ پیکنگ پہلے ہی کر چکا تھا جو رہ گئی تھی وہ بھی اس نے جیسے تیسے مکمل کی ۔
اور ایک بار پھر اقبال صاحب کے نمبر پر کال کرنے لگا جہاں بل جا جا کر بند ہو رہی تھی ۔
یااللہ اب کیا کرو ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ سب خیر ہو میرے ابو کو کچھ نہ ہو۔
گھر پر کوئی اور مرد بھی نہیں ہے ۔وہ دونوں کیسے سب کچھ کریں گی پتہ نہیں انہوں نے کیا کیا ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ سعد کا سوچ سوچ کر دماغ ماؤف ہو گیا تھا
فرزین اور رضیہ بیگم اقبال صاحب کو لے کر قریبی ہسپتال پہنچی تھیں اور اب اقبال صاحب ICU میں تھے .
پھپھو آپ پریشان نہ ہوں ماموں جلدی ٹھیک ہوجائیں گے۔ فرزین نے انہیں تسلی دی جبکہ وہ خود بھی رو رہی تھی ۔
سعد کو بتایا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ رضیہ بیگم کو اچانک اس کا خیال آیا۔
جی بتا دیا تھا
فرزین نے جواب دیا ۔
تو ابھی تک اس نے فون کیوں نہیں کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ رضیہ بیگم کو حیرت ہوئی ۔
پھپھو میرا فون پتا نہیں کہاں گم ہو گیا ہے اور ماموں کا تو گھر رہ گیا ہے فرزین کے بتانے پر رضیہ بیگم نے افسوس سے سر ہلایا
ہر وقت فون پر لگی رہتی ہو۔ اب ضرورت پڑی ہے تو مل ہی نہیں رہا۔ کم از کم اپنے ماموں کا ہی ساتھ لے آتیں۔ مجھے تو یہ استعمال کرنا نہیں آتا اسی لیے میں نے اپنا نہیں رکھا _
رضیہ بیگم نے افسوس کیا
تبھی ایک نرس نے آکر کو پکارا کہ اقبال کے ساتھ کون ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
فرزین اور رضیہ بیگم فوراً اپنی جگہ سے کھڑی ہو گئیں۔
دیکھیں مریض کو “ہارٹ اٹیک” ہوا ہے ۔زیادہ سیریز نوعیت کا نہیں مگر معمولی بھی نہیں ہے۔
اب مریض کی حالت کافی بہتر ہے ۔ تھوڑی دیر تک انہیں وارڈ میں شفٹ کر دینگے تو آپ لوگ مل سکتے ہیں ۔
مگر پہلے یہ دوائیاں لے آئیں اور بل ادا کر دیں نرس نے ایک پرچی دیتے ہوئے کہا
ہارٹ اٹیک
رضیہ بیگم اپنے سینے پہ ہاتھ رکھتی کرسی پر بیٹھ گئی
پھپھو ماموں ٹھیک ہیں ۔ نرس نے ابھی بتایا تو ہے کہ زیادہ پریشانی والی بات نہیں۔ فرزین پرچی ہاتھ میں لیتی میڈیکل سٹور کی طرف چل پڑی ۔
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
عروسہ روتے ہوئے جن راستوں سے آئی تھی انہیں راستوں سے واپس جانے لگیں کہ اچانک اسے اپنے برابر کسی کے چلنے کا احساس ہوا ۔
“‏سنا تھا حوریں جنت میں ہوتی ہیں آپ ادھر کیا کر رہی ہے محترمہ ؟؟؟؟”
حسن نے اپنے دونوں ہاتھ آپس میں رگڑتے ہوئے کہا
یار موٹی تم تو بہت تیز چلتی ہو۔ میں نے تو سنا تھا کہ موٹے لوگوں سے چلا نہیں جاتا حسن نے عروسہ کے قدم سے قدم ملا تے ہوئے کہا
اچھا سنو تم کہاں جا رہی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حسن نے اسے بولنے پر اکسایا مگر وہ چپ چاپ چلتی رہی ۔
اچھا یہ تو بتا دو کہ تمہارے ساتھ وہ تمہارا وسام نظر نہیں آ رہا۔ وہ کہاں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حسن نے ایک اور سوال کیا
وہ اچانک اسے شہر سے باہر جانا پڑ گیا ہے۔ اس لیے وہاں آ نہیں سکا عروسہ نے جھوٹ بولا وہ اپنی محبت کی توہین نہیں کرنا چاہتی تھی ۔
اچھااااااااا تو یہ بات ہے حسن نے اچھا کو خوب کھینچا
چلو پھر گھر چلتے ہیں پھر آجائیں گے _ حسن نے انتہائی دوستانہ لہجے میں کہا جیسے وہ دونوں کسی سے ملنے آئے ہو اور وہ نہ ملا ہو ۔
اس وقت میں کیسے گھر جا سکتی ہوں ۔ اب تک تو سب کو سب پتہ چل گیا ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عروسہ نے روک کر پریشانی سے حسن کو دیکھا
ہمممممم یہ تو ہے۔چلو ایسا کرتے ہیں پھر کسی ہوٹل میں رات گزار لیتے ہیں اب چار بجنے والے ہیں اور سردی بھی ہو رہی ہے ۔
میرا تو کوئی مسئلہ نہیں میں تو فٹ پاتھ پر بھی سو جاتا ہوں۔ مگر تم
کیا خیال ہے ۔حسن نے عروسہ کی طرف دیکھتے ہوئے آبرو اچکا کر پوچھا
ٹھیک ہے میں بھی بہت تھک گئی ہوں عروسہ نے فورا حامی بھر لی
نے سمجھا تم کہو گی کہ مجھے سخت بھوک لگی ہے
حسن ہنسنے لگا مگر وہ خاموش رہی
تھوڑی دیر تک وہ حسن کی پھولوں بھری گاڑی تک پہنچ گئے۔ جسے دیکھ کر عروسہ منہ پر ہاتھ رکھ کر رونے لگی
اب کیا ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حسن نے اس کے لئے فرنٹ ڈور کھولا اور خود ڈرائیونگ سیٹ پر آ کر بیٹھ گیا
کچھ نہیں عروسہ نے اپنے آنسو صاف کیے
میں کتنی بدنصیب ہوں۔ اللہ نے مجھے اتنا خوبصورت اور محبت کرنے والا شوہر دیا
اتنے ناز اٹھانے والے والدین اور رشتہ دار دیے ۔
پر میں نے کیا کیا ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ سب کو ٹھکرا دیا ۔ایک لالچی شخص کی خاطر اب پتا نہیں باقی زندگی کیسے گزرے گی ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
میں دادا جی کے بغیر کیسے رہو گی ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ کاش میں یہ بات پہلے سوچ لیتی
عروسہ سوچتی جا رہی تھی اور اس کی آنکھوں سے آنسو خود بخود گر رہے تھے ۔
پلیز چپ کر جاؤ یاررررر _ ۔ اتنا تو تم “رخصتی” کے وقت نہیں روئی تھی جتنا اب رو رہی ہو
حسن نے اسے چھیڑا
مگر وہ مکمل خاموش رہی پھر گاڑی ایک فائیو سٹار ہوٹل کے سامنے رکی۔
آئیے دلہن صاحبہ _ حسن نے اپنی طرف کا دروازہ کھول کے باہر نکلا اور پھر وہ بھی دروازہ کھول کے باہر آ گی ۔ دونوں ایک ساتھ چلتے ہوئے ایک ہال نما کمرے میں پہنچے عروسہ نے اسے حیرت سے دیکھا
تم نے ریسپشن سے کوئی چابی نہیں لی اور نہ ہی کسی قسم کی کوئی پیمنٹ کی عروسہ کو یوں حسن کا ایک ہال میں داخل ہونا عجیب لگا
اس سے پہلے کہ وہ مزید سوال حسن سے کرتی۔ کسی نے ایک دم ہال کی تمام لائٹیں آن کر دیں۔
چاروں طرف رنگ برنگی روشنیاں پھیل گئیں۔ ہر طرف رنگ برنگے غبارے اور مختلف سجاوٹ کی چیزوں سے ہال سجا ہوا تھا ۔
ہال میں جتنے بھی ٹیبل تھے ان تمام پر عروسہ کے خاندان والے موجود تھے ۔
دادا جی _ چچا عباس امجد اس کے تایا اور وہ تمام لوگ جو شادی میں آئے تھے۔ عروسہ اور حسن کو اکٹھا دیکھ کر سب نے تالیاں بجائیں اور ایک دیوار پر “Thank uuu” کے ساتھ خوبصورت ٹیبل کیک ساتھ سجایا گیا تھا۔ یہ سب کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عروسہ کو خوشی کے ساتھ ساتھ حیرت ہوئی۔ میں نے اپنی اور تمہاری طرف سے سب گھر والوں کو ایک سرپرائز دیا ہے۔ آخر ان لوگوں نے ہماری شادی پر اتنا خرچہ کیا تو ہمارا اتنا حق بنتا ہے کہ ہم ان کا “شکریہ” ادا کریں۔ حسن اب عروسہ کو لے کر دادا جی کے قریب پہنچ چکا تھا۔ دادا جی کو دیکھتے ہی عروسہ ان کے سینے ساتھ لگ کر رونے لگی ۔ آپ مجھ سے ناراض تو نہیں ۔۔۔۔۔؟؟؟ عروسہ نے پوچھا مجھے تم دونوں پر فخر ہے حسن پتر نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ آج تم دونوں گھر نہیں آؤ گے بلکہ ہوٹل میں ایک سرپرائز ہمارے لیے اپنے ہاتھوں سے تیار کرنا چاہتے ہو۔ دادا جی نے عروسہ کو پیار کرتے ہوئے محبت سے بتایا ۔جبکہ عروسہ نے حسن کی طرف تشکر بھری نظروں سے دیکھا پھر سب نے مل کر کیک کاٹا اور خوب ہلا گلا کیا
جب سب کھانے میں مصروف ہوگئے تو عروسہ نے حسن کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
تم نے مجھے رسوائی سے بچا لیا تمہارا شکریہ میں کیسے ادا کروں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عروسہ نے شرمندگی سے کہا
پیسے دے کر اور کیسے حسن کے جواب پر عروسہ نے اسے زور سے کمر پر ہاتھ مارا ۔
ظالم لڑکی اب جان لو گی
اور پھر دونوں ہنسنے لگے ۔
علی تیرا بہت شکریہ حسن ابن علی کے گلے مل رہا تھا۔
تو نے یہ ثابت کر دیا کہ رشتے صرف خون کے نہیں ہوتے حسن نے سرگوشی کی
جی جناب اب آپ بھی ثابت کردیں کہ رشتے صرف “خون” کے نہیں ہوتے بلکہ “کاغذ” کے بھی ہوتے ہیں۔ میرے لئے ایک عدد لڑکی تلاش کر کے __
اور پھر دونوں نے ایک ساتھ مشترکہ قہقہ لگایا
🎗️🎗️🎗️🎗️
جاری ہے