Phir Yun Hua By Amna Mehmood Readelle50141 Last updated: 17 August 2025
Rate this Novel
Phir Yun Hua
By Amna Mehmood
اتنے دنوں بعد گھر آیا ہوں مگر مجال ہے یہ لڑکی اچھے طریقے سے بات کر لے، مجھ سے بات کرنا تو اس پر حرام ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سعد نفی میں سر ہلا تا ہوا اندر آیا دروازہ بند کیا ایک سائیڈ پر اپنا بیگ رکھ کر دبے پاؤں لاؤنچ کی طرف بڑھنے لگا فرزین دروازہ کھولا نہیں اتنی تیز بارش ہے بچے بیمار ہو جائیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟ رضیہ بیگم بولے جا رہی تھی جب اپنی کمر پر کسی کے گیلے ہاتھ لگنے سے پلٹیں۔ سعد میرا بچہ میری جان ۔۔۔۔۔۔۔ رضیہ بیگم نے بے ساختہ اس کا ماتھا چوما۔ اماں آرام سے آپ کی کپڑے بھی گیلے ہو جائیں گے۔میں بالکل ٹھیک ہوں اور آپ کے سامنے ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سعد نے ماں کو اپنے سے الگ کرتے ہوئے کہا بتا کر نہیں آسکتا تھا میں تیری پسند کے کھانے بناتی ۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟ رضیہ بیگم بار بار محبت سے سعد کے بالوں میں ہاتھ پھرنے لگیں جہاں سے بارش کے ننھے منے قطرے نیچے گر رہے تھے۔ اگر میں بتا کر آتا تو یہ جو خوشی آپ کے چہرے پر نظر آ رہی ہے وہ میں کیسے دیکھتا ۔۔۔۔۔۔۔؟؟ سعد نے ماں کا ہاتھ چومتے ہوئے جواب دیا جلدی سے کپڑے تبدیل کر لے کہیں تجھے سردی نہ لگ جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔ تجھے تو ویسے ہی نزلہ زکام بارہ مہینے رہتا ہے رضیہ بیگم کی بات پہ سعد مسکرا دیا ابا کہاں ہیں ابھی آئے نہیں آج موسم اتنا خراب تھا انہیں آفس نہ جانے دیتیں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟ سعد نے کھڑے ہوتے ہوئے ادھر ادھر نظریں گھمائیں ۔ ابا کے لاڈلے ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ آ جائیں گے۔ پریشان مت ہو۔پہلی دفعہ تو نہیں گئے اس طرح کے موسم میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رضیہ بیگم کے جواب پر سعد نے سونگھنے کی ایکٹنگ کی۔ کہیں کچھ جل رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟ سعد کی بات کا مفہوم رضیہ بیگم نہ سمجھ سکیں اور فرزین کو آوازیں دینے لگی فرزین تیرادھیان کدھر ہے سارے پکوڑے جلا دیے سعد کہہ رہا ہے جلنے کی بو آرہی ہے اور تو نے مجھے اس کے آنے کا کیوں نہیں بتایا ۔۔۔۔۔۔۔؟ رضیہ بیگم کی بات پر سعد نے سر پکڑ لیا اماں کیوں آتے ہیں جوتے پڑوانے لگی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟ وہ آگے ہی مجھ سے بدگمان رہتی ہے اوپر سے آپ بھی نااااااا ۔۔۔۔۔۔۔۔ میں تو کہہ رہا تھا کہ آپ ابا سے جل رہی ہیں اور آپ نے اسے کہہ دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سعد افسوس سے سر ہلاتا باہر جانے لگا تبھی فرزین ہاتھ میں پکوڑے چائے لئے اندر داخل ہوئی ۔ آتے ہی بکواس شروع کر دی ہے دیکھ لو ایک بھی نہیں جلا ہے بغیر سوچے سمجھے میرے پر الزام لگانا تو تمہارا پرانا اور محبوب مشغلہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔ فرزین طنز کے تیر چلاتی سعد کے پاس سے گزر گئی جبکہ سعد نے اسے تاسف سے دیکھا 🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️ تائی جی آج میں حویلی واپس جا رہی ہوں۔ اتنے دن ہو گئے ہیں مجھے یہاں آئے ہوئے وہاں نوکروں نے پتا نہیں کیا حال کیا ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ ویسے تو سب کے سب بابا سائیں کے زمانے سے ہی ہیں مگر پھر بھی مجھے اچھا نہیں لگ رہا اتنے دن حویلی سے غائب رہنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عفت کی بات بے مہرونساء نے اسے دیکھا کہتی تو تم بالکل ٹھیک ہو مگر میں شاہ جی سے پوچھ لوں ورنہ وہ پھر مجھ سے ناراض ہوں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مہرو نے چائے کا کپ لبوں سے لگاتے ہوئے جواب دیا آپ رہنے دیں میں خود ہی ان سے بات کر لوں گی۔خامخوا آپ کو میری وجہ سے ڈانٹ نہ پڑ جائے۔بس آپ ڈرائیور سے کہہ دیں کہ وہ مجھے حویلی چھوڑ آئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عفت کو معلوم تھا کہ شاہنواز اجازت نہیں دیں گے اس لیے بہانہ بنایا عفت میں نے ذرا شہر جانا ہے کپڑے لینے کے لئے کیا تم میرے ساتھ چلو گی شاپنگ کرنے۔۔۔۔۔۔۔؟ سچ میں بہت مزہ آئے گا ۔سکینہ نے عفت کو روکنے کے لیے اپنی سی کوشش کی نہیں میں نے ابھی شہر نہیں جانا۔ پہلے مجھے حویلی کا ایک چکر لگا لینے دیں۔ پتا نہیں کیوں میرا دل کچھ بے چین سا ہو رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ ایک چکر حویلی کا لگا لوں تاکہ میرا دل مطمئن ہوجائے پھر شہر چلیں گے ۔۔۔۔۔۔۔ عفت نے پھیکا سا مسکرا کر معذرت کی۔ چلو جیسے تمہاری مرضی میں صدیق سے کہتی ہوں کہ تمہیں چھوڑ آئے کیونکہ شاہ جی صدیق کے علاوہ کسی پر بھروسہ نہیں کرتے ۔۔۔۔۔۔۔۔ مہرالنساء نے یہ کہتے ہوئے نوکر کو آواز دی جی بیگم صاحبہ حکم ۔۔۔۔۔۔۔ آواز دیتے ہی ایک ادھیڑ عمر کا آدمی لاؤنچ میں داخل ہوا بابا ذرا چیک کریں صدیق سرونٹ کوارٹر میں ہے یا شاہ جی کے ساتھ ڈیرے پر گیا ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ اگر وہ سرونٹ کوارٹر میں ہے تو اسے کہیں کہ عفت بی کو حویلی چھوڑ آئے۔ مہرو النساء نے اک ادا سے حکم دیا جسے سنتے ہی وہ سر ہلاتے باہر چلے گئے. بھابی آپ کا تو بہت رعب ہے _____ عفت متاثر ہوئی. عفت یاد رکھو رعب کبھی عورت کا نہیں ہوتا. رعب ہمیشہ مرد کا ہوتا ہے اور سجتا بھی اسے ہی ہے. یہ جو تمہیں سب میرے فرمانبردار نظر آ رہے ہیں یہ سب کے سب شاہ جی کی وجہ سے ہی ہیں ورنہ مجھ عورت سے کون ڈرتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟ مہرو کی بات پر عفت اور سکینہ بی کچھ پل کے لیے بلکل خاموش ہو گئیں. بیگم صاحبہ صدیق تو شاہ جی ساتھ گیا ہے مگر باقی دو ڈرائیور ادھر ہی ہیں. آپ حکم کریں کس کہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ بابا نے آ کر سکوت توڑا نہیں کوئی اور نہیں _______ میں زرا شاہ جی سے بات کر لوں پھر تمہیں بتاتی ہوں. آپ جائیں اور گاڑی تیار کریں. میں کچھ دیر تک آپ کو بلواتی ہوں. مہرو کے جواب پر وہ سر ہلاتے دوبارہ باہر چلے گئے. تائی جی یقین مانے کچھ نہیں ہو گا آپ خامخواہ پریشان ہو رہیں ہیں. عفت نے تسلی دی. مجھے پہلے شاہ جی سے بات کرنے دو پھر وہ جیسا کہیں گے ہم ویسا ہی کریں گے. مہرو نے کہتے ساتھ ہی کال کی جو شاید پہلی بل پر ہی ریسیور کر لی گی. شاہ جی عفت زرا حویلی جانا چاہتی ہے اسے کچھ سامان لینا جانا ہے. دو دن بعد واپس آ جائے گی. صدیق تو اس وقت یہاں نہیں ہے بتائیں کس ساتھ بھیج دوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟ مہرو نے عفت کے گھورنے کی پرواہ کیے بغیر ہی پوچھا عفت کو کسی کے ساتھ مت بھیجنا میں کچھ دیر میں فارغ ہو کر صدیق کو بھیج رہا ہوں۔ اسے کہو کہ جو ضروری چیزیں لینی ہے اپنے ساتھ لے آئے ابھی کچھ دن اور اسے یہیں رہنا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شاہ جی کی بات پر مہرو نے سر ہلایا اور فون بند کر دیا عفت ۔۔۔۔۔۔۔۔ شاہ جی صدیق کو بھیج رہے ہیں تم تھوڑا سا انتظار کر لو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مہرو نے چہرے کے تاثرات نارمل رکھتے ہوئے سمجھایا بھابھی مجھے کیوں ایسا لگ رہا ہے جیسے آپ اور لالہ ہم سے کچھ چھپا رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔؟ سکینہ جو کب سے یہ سب کاروائی خاموشی سے دیکھ رہی تھی بول پڑی ۔ نہیں سکینہ ایسی کوئی بات نہیں ہے مگر احتیاط اچھی ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مہرو نے زبردستی مسکراتے ہوئے تسلی دی کہیں دلاور تو جیل سے واپس نہیں آ گیا ۔لالہ کا ہر وقت ہمارے بارے میں فکر مند رہنا ۔۔۔۔۔۔۔۔ صدیق کو حویلی میں رکھنا کیونکہ پہلے تو وہ ڈیرے پر رہتا تھا جبکہ آجکل سرونٹ کوارٹر میں ہے مجھے تو کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا ہے کہیں نہ کہیں گڑ بڑ تو ضرور ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سکینہ کی بات پر مہرو نے عفت کو دیکھا جو انتہائی خوف سے سکینہ کی طرف دیکھ رہی تھی۔ عفت پلیز سنبھالو خود کو کچھ نہیں ہے ۔تمہیں کچھ نہیں ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔ مہرو نے عفت کی حالت دیکھتے ہوئے اٹھ کر اسے اپنے ساتھ لگایا اور ایک نظر سے سکینہ کو گھورا۔
