No Download Link
Rate this Novel
Episode 4
مجھے آج تک یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ اتوار کا دن کپڑے دھونے کے لیے مختص کیوں ہے …… ؟
کیا باقی ملکوں میں بھی ویک اینڈ کو ایسے ہی منایا جاتا ہے …… ؟
زبدہ نے بالٹی سے کپڑے نچوڑتے ہوئے انتہائی بیزاری سے پوچھا
باقی ملکوں کا تو مجھے پتہ نہیں لیکن ہمارے ملک میں کام چھٹی والے دن ہی کام کرنے کا رواج ہے.
اس دن کو ہم صرف نام کی حد تک” چھٹی والا دن” کہتے ہیں اور کام پورے ہفتے کے اسی دن کرتے ہیں _ سادہ الفاظ میں کام ادی ایک دن کیا جاتا ہے. چل اب باتیں کم کر اور کام زیادہ اس سے پہلے کہ ہاسٹل کی باقی سوئی مخلوق بھی جاگ جائے اور پانی ختم ہو جائے _ پھر ہم بھی کپڑوں کے ساتھ ساتھ لٹک جائیں گے. ماہین کی بات پر زبدہ نے سر ہلایا. گرلز ہاسٹل اس وقت دھوبی گھاٹ کا نظارہ پیش کر رہا تھا. کپڑوں کو تار پر پھیلانے کے بعد دونوں نے اپنے کمرے کا رخ کیا. اس سے پہلے کہ ماہی زاویار کے بارے میں زبدہ کو کچھ بتاتی دروازے پر دستک ہوئی. آجائیں زبدہ نے بیڈ پر ترچھا لیٹتے ہوئے اونچی آواز میں کہا
زبدہ باجی آپ کے گھر سے فون آیا ہے واڈرن میم آپ کو نیچے بلا رہی ہیں _ زبدہ کی جونیئر اسے دروازے سے ہی میسج دے کر لوٹ گئی جبکہ میسج سنتے ہی زبدہ نے “ماما” کا نعرہ لگایا اور سلیپرپہن کر تیزی سے باہر نکل گئی. زبدہ کتنی خوش قسمت ہے. کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب اس کے گھر سے کال نہ آتی ہو اور ایک میرے گھر والے ہیں کبھی مجھے فون نہیں کرتے ملنے آنا تو بہت دور کی بات ہے.
میں اپنے بچوں کو بہت پیار دوں گی. تاکہ وہ میری طرح بچپن اور جوانی کی محرومیوں سے کوسوں دور رہیں. بس اللہ جی سر زاویار کو مجھے دے دیں. تاکہ میں اپنے خوابوں کو شرمندہ تعبیر کر سکوں.
اکثر عورتیں یہ غلطی کرتیں ہیں کہ وہ مرد کی زندگی میں داخل ہوتے ہی لڑ جھگڑ کر ضد سے ہر بات منوانا چاہتی ہے مگر میں نے اپنی زندگی میں یہ سیکھا ہے کہ مرد سے پیار سے بڑی سے بڑی بات منوائی جا سکتی ہے لیکن زور زبردستی سے مرد چڑ چڑا اور عورت سے متنفر ہوجاتا ہے.
اس لیے میں سر زاویار کے دل میں بسنے کے لیے ان کے پیروں میں اپنی وفا _ مخلصی دوستی کئیر عزت اور حیا کی بیڑی ڈال دوں گی. پھر وہ میرے لیے سب کر جائیں گئے اور میں ان کے اچھے برے حالات دونوں میں ساتھ دوں گی. اسطرح میں ان کی لاڈلی بن جاؤں گی.
سانس لینے سے دینے تک سب لمحے تمہارے ہیں _ ماہین نے دل ہی دل میں اپنی اور زاویار کی ایک خوشگوار زندگی کا خاکہ کھینچا. 🎗️🎗️ Amna mehmood the writer 🎗️🎗️ سعد مسلسل کمرے میں زاویار کی طرف دیکھ دیکھ کر چکر کاٹ رہا تھا. اُس کی یہ حرکت زاویار سے پوشیدہ نہ تھی مگر وہ ابھی بات کرنے کے موڈ میں نہ تھا. اس لیے چپ چاپ اپنے کام میں مصروف رہا. جب زاویار نے کسی قسم کی کوئی بات چیت شروع نہ کی تو بالآخر تھک ہار کر سعد زاویار کے پاس بیٹھ گیا. اگر تو وعدہ کرے کہ میری بات سے ناراض نہیں ہو گا تو میں ایک بات کہوں سعد کے اس طرح اجازت لینے سے زاویار نے اسے مشکوک نظروں سے دیکھا
دیکھ مجھے علی اور حسن کی حرکتیں کچھ مشکوک لگتیں ہیں. آج اتوار ہے پھر بھی دونوں ہاسٹل سے غائب ہیں _ کہیں ایسا نہ ہو ان کی وجہ سے ہم کسی مصیبت میں پھنس جائیں. تو مہربانی کر کہ انھیں کمرے سے نکال دے. میری بات کا مطلب یہ ہے کہ تو انھیں واڈرن سے بات کر کے کمرے سے نکال دے یعنی وہ کسی اور روم میں شفٹ ہو جائیں تُو سمجھ رہا ہے ناااااا کہ میں کیا کہنا چاہ رہا ہوں سعد نے زاویار کے تاثرات نوٹ کرتے ہوئے آخر میں اپنی صفائی دی. پہلی بات تو یہ کہ یہ ہاسٹل میرے باپ کا نہیں ہے دوسرا وہ اپنے حصے کا خرچا خود pay کرتے ہیں تیسرا میں انکی شکایت مر کر بھی نہیں کروں گا.( زاویار کے اس قدر صاف جواب پر سعد چونک پڑا. ) مگر کیوں ……. ؟؟؟ سعد کے پوچھنے پر زاویار مسکرانے لگا تُو اُن دونوں کے بارے میں “کیا” اور “کتنا” جانتا ہے ……… ؟؟؟ زاویار کے سوال پر سعد نے لاعلمی کے طور پر کندھے اچکائے وہ دونوں ایک یتیم خانے میں پرورش پا کر یہاں تک پہنچے ہیں پتہ نہیں پہلے علی کو حسن ملا یا حسن کو علی یہ تو مجھے معلوم نہیں بہرحال دونوں نے ایک دوسرے کا بھرپور ساتھ دیا. دونوں کو پڑھنے کا بہت شوق تھا دونوں نے ہی ہمت نہیں ہاری اور دیکھو آج دونوں ہمارے ساتھ اتنی مہنگی یونی میں پڑھ رہے ہیں.
دونوں کا اس دنیا میں ایک دوسرے کے سوا کوئی نہیں ہے. میں ایسے بہت سے لوگوں کو جانتا ہوں جو فیملی کے بغیر ” نیم پاگل یا سائیکو” ہو جاتے ہیں. جبکہ وہ دونوں کتنے زندہ دل ہیں.
دیکھ لینا ایک نہ ایک دن وہ ضرور کسی اچھے مقام پر ہوں گے اگر ہم ان جیسے لوگوں کی مدد نہیں کر سکتے تو کم از کم اُن کی دلآزاری تو نہ کریں. میری طرف سے معزرت قبول کرو وہ غلط ہیں تب بھی، وہ سہی ہیں تب بھی میں ان کے ساتھ ہوں زاویار نے اپنے دونوں ہاتھ ہوا میں کھڑے کرتے ہوئے کہا وہ سب تو ٹھیک ہے لیکن اگر انھوں نے ہمیں دھوکا دیا تو یا وہ دہشت گرد ثابت ہوئے کیونکہ ہم ان کے بیک گراؤنڈ کے بارے میں کچھ نہیں جانتے _ سعد کی پریشانی اپنی جگہ قائم تھی. میری ایک بات یاد رکھ دھوکا صرف اپنے دیتے ہیں غیر نہیں اپنوں کو معلوم ہوتا ہے ” کب اور کہاں” چوٹ کرنی ہے غیروں کو نہیں زاویار کا لہجہ ایکدم سخت ہوا. اگر تو کہتا ہے تو مان لیتا ہوں مگر میرا دل ان دونوں کی طرف سے پریشان ہی رہتا ہے اللہ کرے ایسا ہی ہو جیسا تیرا ان کے بارے میں گمان ہے سعد کہتا ہوا زاویار کے پاس سے اٹھ گیا جبکہ زاویار پرسوچ انداز میں اس کی پشت دیکھنے لگا.
🎗️🎗️ Amna mehmood the writer 🎗️🎗️
عفت اس وقت اپنے بابا کی لائبریری میں ان کی کرسی پر بیٹھ کر ماضی کے بھول بھلیوں میں کھوئی ہوئی تھی. جب دروازے پر دستک کے ساتھ اُن کی خاص ملازمہ زیبو اندر داخل ہوئی.
بی بی سائیں آج موسم بہت اچھا ہے میری مانیں تو کچھ دیر کے لیے باہر لان میں آ جائیں. آپ کی صحت پر اچھا اثر پڑے گا زیبو اپنی بات کہہ کر عاجزی سے کھڑی ہو گئی. آپ چلیں میں آ رہی ہوں. عفت بی نے کہتے ساتھ ہی کرسی چھوڑ دی اور زیبو کے پیچھے ہی لائبریری سے باہر نکل آئیں. اتنی بڑی حویلی کبھی لوگوں سے بھری ہوتی تھی کتنی گہماگہمی تھی _ خوشیاں تھیں مگر آج یہ حویلی کتنی سنسان پڑی ہے. راہداری سے گزرتے ہوئے عفت بی نے سوچا
زاویار جو اپنے اندر کو پرسکون کرنے کے لیےقریبی پارک میں آیا تھا موسم اچھا ہونے کے باوجود کچھ بےچین سا تھا _ کچھ سوچتے ہوئے اس نے عفت بی کو کال کی. “یونہی موسم کی ادا دیکھ کر یاد آیا کس قدر جلد بدل جاتے ہیں انسان جاناں” کین کی کرسی پر بیٹھی عفت نے موسم کو دیکھ کر سوچا جب فون کی بل نے توجہ اپنی طرف دلائی چھوٹے آج کیسے ہمیں یاد کر لیا ……؟ ؟؟ عفت بی نے حیرت کا اظہار کیا. دیکھیں لیں آج آپ نے بھی نہ خود سلام کیا اور نہ ہی مجھے کرنے دیا. زاویار کی شرارت بھری آواز سپیکر سے ابھری.
اچھا تو حساب برابر کر رہے ہو _ عفت بی مسکرا دیں. نہیں میں آپ کا حساب کبھی برابر کر ہی نہیں سکتا ہوں. آپ کے بےشمار احسان ہیں مجھ پر بس ویَے ہی دل کءا تھا آپ کو تھوڑا تنگ کرنے کا زاویار نے ہری بھری گھاس پر ننگے پاؤں چلتے ہوئے کہا اچھا چھوڑو ان باتوں کو یہ بتاؤ گاؤں کب آ رہے ہو …… ؟؟؟ چچا سائیں تمہیں بہت یاد کرتے ہیں. اب وہ پہلے کی طرح نہیں رہے. بوڑھے ہو گئے ہیں. انھیں تمہاری ضرورت ہے عفت بی کی بات پر زاویار نے قہقہہ لگایا
یاد اور میں وہ بھی انھیں _ چھوڑیں بھی آپ شاید آپ بھول رہی ہیں کہ حویلی سے مجھے انھوں نے خود نکالا تھا وہ بھی دھکے دے کر اور کہا تھا دوبارہ اپنی یہ منحوس شکل مت دکھانا زاویار نے کرب سے آنکھیں بند کیں.
باپ، باپ ہی ہوتا ہے انھیں اپنی غلطی کا احساس ہو گیا ہے مگر وہ تم سے معافی تو نہیں مانگ سکتے ناااااا میں نے ان کی آنکھوں میں پشیمانی دیکھی ہے. عفت بی نے قائل کرنا چاہا
آپ کہتی ہیں تو مان لیتا ہوں مگر میرا دل نہیں مانتا. وہ بہت پتھر دل ہیں اور مجھے حیرت امو جان پر ہوتی ہے جو ان کا ہر غلط درست میں بھرپور ساتھ دیتیں ہیں _ عفت بی زاویار کی بات پر ہنس پڑیں. ہم عورتیں ہر حال میں شوہر کی فرمانبردار ہوتیں ہیں. جب تمہاری بیگم آئے گی تو تمہیں اندازہ ہو گا عفت کی بات پر زاویار کو ماہی کا خیال آیا.
پتہ نہیں میرے حصے میں فرمانبردار بیوی ہو گئی بھی کہ نہیں _ زاویار کی بات پر عفت بی ہنس پڑیں. چھوئے خیر تو ہے آج بڑے جزباتی ہو رہے ہو. کہیں شہر میں دل تو نہیں لگ گیا. ہمیں بتاؤ ہم تمہاری پوری پوری مدد کریں گے عفت بی کی بات پر زاویار نے نفی میں سر ہلایا
فلحال تو ایسا کچھ نہیں ہے لیکن اگر کبھی ہوا تو سب سے پہلے آپ کو ہی بتاؤں گا _ زاویار نے اردگرد چلتے پھرتے لوگوں کی طرف دیکھ کر کہا پھر دونوں طرف خاموشی چھا گئی. آپ ابھی کیا کر رہیں تھیں ………. ؟؟؟ جب خاموشی طویل ہوئی تو اسے زاویار نے توڑا چائے پینے لگی تھی کہ تمہاری کال آ گئی عفت بی کے جواب نے اسے مایوس کیا.
کبھی تو کہہ دیا کریں کہ مجھے یاد کر رہیں تھیں …….. ؟؟؟ زاویار کی بات پر وہ پھیکا سا مسکرائیں
چھوٹے باز آ جاؤ منع کیا ہے تمہیں ایسی باتوں سے ہاں تائی جی اور پھپھو سائیں تمہیں بہت یاد کرتیں ہیں. میری مانو تو ضد چھوڑ دو اور واپس آ جاؤ. اب سب کچھ بدل گیا ہے کچھ بھی پہلے جیسا نہیں رہا _ عفت بی کے جواب پر زاویار نے ایک گہرا سانس خارج کیا اور خدا حافظ کہہ کر فون بند کر دیا.
🎗️🎗️ Amna mehmood the writer 🎗️🎗️
جاری ہے
