Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5

کیا کمال کی کوٹھی ہے ایسا لگتا ہے جیسے جنت کا ٹکڑا ہے _ میں نے کبھی اتنی زبردست کوٹھی نہیں دیکھی علی نے لان میں کودنے کے بعد حسن کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے سرگوشی کی.
ابھی تُو نے دیکھا ہی کیا ہے _ ؟؟؟ ابھی تو اندر کے نظارے دیکھنا باقی ہیں. جنت بغیر حوروں کے نہیں سجتی. حسن نے آنکھ ماری. یار اگر پکڑے گئے تو ……. ؟؟؟ علی نے رازداری سے کیاری کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے پوچھا یہ کوئی پوچھنے والی بات ہے پھر ہماری تشریف ہو گی اور نو نمبر چھتر حسن کی منظر کشی پر علی نے جھرجھری لی. تو یہاں اس درخت کی اوٹ میں بیٹھ کر میرا انتظار کر میں زرا سپائیڈر مین بن کر یوں گیا اور یوں واپس آیا. حسن چٹکی بجاتے جانے لگا جب علی کی آواز پر پلٹا
اب کیا ہے ……. ؟؟؟ حسن نے ناگواری سے پوچھا
یاررر اگر اطلاع غلط نکلی اور گھر میں لوگ موجود ہوئے تو _ علی کی بات پر حسن نے اس کا کندھا تھپک کر “شاباش” دی. میرے خیال سے آج کا مزاق ختم ہوا اب تُو آرام کر میں زرا گھر اندر سے دیکھ کر آتا ہوں. حسن کہتا ہوا علی کی نظروں سے دور ہو گیا.
حسن نے پائپ کی مدد سے دوسری منزل کی بالکونی میں چھلانگ لگائی. پھر آہستہ آہستہ کمرے کی کھڑکی جو بالکونی میں کھل رہی تھی اُس کی ریلنگ کو کھسکایا _ حیران کن طور پر وہ کھل بھی گئی. چل حسن شہزادے یہ تو بہت ہی زبردست ہو گیا
ویسے تو ہے بڑا لکی جس چیز کو بھی ہاتھ لگاتا ہے وہ تیری تابع ہو جاتی ہے.
کمرے انتہائی تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا اتنا کہ باوجود لاکھ کوشش کے حسن کچھ بھی دیکھنے سے قاصر تھا. دیوار کو ایک سرے سے ٹٹولتے ہوئے جیسے ہی اس کا ہاتھ سوئچ پر پڑا پورا کمرہ روشنی میں نہا گیا.
حسن نے ستائشی نظروں سے کمرے کا جائزہ لیا واہ رے مزے ہیں امیروں کے ہم تو پتہ نہیں کہاں زندگی گزار رہے ہیں …… ؟؟؟
حسن ابھی کمرے کا جائزہ لے ہی رہا تھا کہ کوئی آندھی طوفان کی طرح کمرے میں داخل ہوا. اس سے پہلے کہ حسن سنبھلتا وہ خوشبو میں بسا وجود اُس کے سینے سے لگ چکا تھا.
🎗️🎗️ Amna mehmood the writer 🎗️🎗️
اقبال صاحب کوئی تیسری بار گھر کی گھنٹی بجا رہے تھے. مگر ابھی تک نہ تو کوئی دروازہ کھولنے آیا تھا اور نہ ہی کسی قسم کی گھر کے اندر ہلچل ہوئی تھی.
بالآخر تنگ آ کر انھوں نے رضیہ بیگم کے نمبر پر کال کی. جو دوسری ہی بل پر اٹھا لی گئی.
بیگم صاحبہ آپ کہاں ہیں ؟؟؟ کال اٹینڈ ہوتے ہی اقبال صاحب نے بھرپور طنزیہ انداز میں پوچھا
اقبال صاحب میں اور فرزین اصل میں
رضیہ بیگم سے بولا نہیں جا رہا تھا شاید وہ رو رہیں تھیں.
آپ رو کیوں رہیں ہیں اور اس وقت کہاں ہیں ……. ؟؟؟ اقبال صاحب نے فکرمندی سے پوچھا
اقبال صاحب اب کیا بتائیں اتنی دعاؤں کے باوجود بھی وہ مر گیا یہ کہہ کر رضیہ بیگم کے ساتھ ساتھ پیچھے سے فرزین کے رونے کی بھی آواز آنے لگی.
اللہ خیر اقبال صاحب کا دھیان سیدھا سعد کی طرف گیا.
کیا ہوا ہے سعد کو اور آپ دونوں اس وقت کہاں ہیں میرا مطلب کس ہسپتال میں ہیں …… ؟؟؟ اقبال صاحب پوچھنے کے ساتھ ہی دوبارہ اپنی بائیک پر بیٹھ چکے تھے.
ہیں کیا کہا کیا ہوا سعد کو کہاں ہے میرا بیٹا
رضیہ بیگم اس اب باقاعدہ دہائی دینے لگیں.
مجھے کیا پتہ یہ تو آپ بتائیں گی ناااا _ اقبال صاحب کنفیوز ہوئے جب مجھے کچھ پتہ ہی نہیں ہے تو کیا بتاؤں ……؟ ؟؟ رضیہ بیگم کے رونے کو اچانک بریک لگی ساتھ ہی اقبال صاحب نے بھی بائیک دوبارہ سٹینڈ پر کھڑی کی. اگر سعد ٹھیک ہے اسے کچھ نہیں ہوا تو تم رو کیوں رہی ہو اور کون مر گیا ہے اب کی بار اقبال صاحب نے قدرے سخت لہجے میں پوچھا
اوہو _ وہ تو ڈرامے میں “ہمایوں سعید” کا ایکسیڈنٹ ہو گیا تھا میں نے اور فرزین نے اتنی دعائیں کی مگر “ڈائریکٹر” منحوس نے اسے چند قسطوں بعد ہی مار دیا
سارے ڈرامے کا ستیاناس کر دیا ہے روتے ڈرامہ بنانے کو رضیہ بیگم کی بات پر اقبال صاحب کے غصے کا گراف تیزی سے اوپر گیا.
اور آپ دونوں دکھی آتمائیں اس وقت کہاں ہیں …..؟ ؟؟ اقبال صاحب بمشکل اپنے غصے کو کنٹرول کیے ہوئے تھے.
ہم دونوں نے کہاں ہونا ہے ٹی وی لاؤنچ میں ہیں. مگر آپ کیوں پوچھ رہے ہیں ……. ؟؟؟ رضیہ بیگم کے پوچھنے پر اقبال صاحب نے گھنٹی پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا
زرا باہر تشریف لائیں
آج میں دفتر سے جلدی گھر اس لیے آیا ہوں تاکہ آپ دونوں ساتھ ہمایوں سعید کی موت کا افسوس کر سکوں _ میں کب سے گھنٹی بجا رہا ہوں. گرمی شدید ہے اگر آپ دونوں کا غم کچھ کم ہوا ہو تو میرے لیے دروازہ کھول دیں اقبال صاحب نے دبے دبے غصے سے کہا
اچھا اچھا ایک منٹ فرزین جلدی کر دروازہ کھول
تیرے چچا آئے ہیں.
وہ اصل میں فرزین نے گھنٹی اندر سے بند کر دی تھی تاکہ کوئی ڈرامہ خراب نہ کرے بس بچی ابھی دروازہ کھول رہی _ رضیہ بیگم نے وضاحت دی. آج سے تم دونوں کی کیبل بند اقبال صاحب نے بائیک کھڑی کرتے ہی اعلان کیا جس پر فرزین اور رضیہ بیگم نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا
🎗️🎗️ Amna mehmood the writer 🎗️🎗️
آج پھر ماہین زاویار کو ” سن” کم اور “دیکھ” زیادہ رہی تھی. کیمل کلر کی شرٹ اور بلیک پینٹ سر پر کتنی پیاری لگ رہی ہے. ماہی نے زبدہ کے کان میں سرگوشی کی.
تمہیں کب سر اچھے نہیں لگتے مجھے بس یہ بتا دو ؟؟؟ زبدہ ہنسی
زاویار نے تمام لیکچر کے دوران ایک بار بھی ماہین کی طرف نہیں دیکھا. لیکچر ختم کرتے ہی وہ تیزی سے کلاس سے باہر نکل گیا.
زبدہ یہ میری چیزیں لے کر کینٹن میں پہنچ میں ابھی اتی ہوں زبدہ کا جواب سنے بغیر ہی وہ زاویار کے پیچھے دوڑی.
زاویار نے سٹاف روم میں آکر اپنی تمام چیزیں ٹیبل پر رکھیں اور خود فریش ہونے واشروم میں چلا گیا. مگر واپسی پر ماہین کو اپنا منتظر پایا.
آپ یہاں کیا کر رہیں ہیں …..؟ ؟ زاویار نے ماتھے پر بل ڈالتے ہوئے پوچھا
سر آپ نے میری بات کا جواب نہیں دیا. میرے خیال سے سوچنے کے لیے ایک ہفتہ کافی ہوتا ہے ماہی کی بات پر زاویار نے اسے ناسمجھی سے دیکھا.
کیسا جواب …..؟؟ زاویار نے بھولنے کی ایکٹنگ کی.
سر مانا کہ آپ بلکل ” ہیرو” جیسے ہیں مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ ایکٹنگ بھی اچھی کرتے ہیں ماہی کی بات پر زاویار کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ ظاہر ہوئی.
ماہین آپ ایک ذہین لڑکی ہیں. مجھے پورا یقین ہے کہ آپ fsc میں ضرور اپنے سابقہ ریکارڈ کو بحال رکھتے ہوئے وظیفہ لیں گئیں. اس وقت آپ کو صرف اپنے مستقبل کا سوچنا چاہیے. آپ ڈاکٹر بن سکتی ہیں زاویار نے اس بار قدرے نرم لہجے سے سمجھایا.
سر میں اپنے مستقبل کی ہی فکر کر رہی ہوں. مجھے پورا یقین ہے کہ آپ اپنی بیوی کو سٹوڈنٹ سے زیادہ اچھا پڑھائیں گے ماہی کے جواب نے زاویار کو صحیح معنی میں پریشان کر دیا.
آپ سے کس احمق نے کہا کہ میں آپ سے شادی کر رہا ہوں زاویار اب صوفے سے کھڑا ہو گیا تھا.
سر اب زیادہ غصہ نہ کریں مانا کہ آپ غصے میں مزید خوبصورت ہوجاتے ہیں. غصہ آپ پر بہت سجتا ہے مگر میں آپ کے غصے سے ڈرتی نہیں ہوں ماہین نے نوٹ کیا تھا کہ جب بھی وہ زاویار کی تعریف کرتی تھی اس کے چہرے پر مسکراہٹ ٹہر جاتی تھی. اور اب بھی ایسا ہی ہوا تھا.
تمہیں مجھ سے ڈر نہیں لگتا ……. ؟؟؟ مجھے خوداعتماد لڑکیاں پسند ہیں مگر تم جتنی خود اعتمادی تمہیں نقصان بھی پہنچا سکتی ہے زاویار نے ماہی کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے اسے ڈرانا چاہا.
مجھے آپ کی “شرافت” پر پورا یقین ہے اگر آپ “حرامی ٹائپ” ہوتے تو ان دو سالوں میں کھل کر سامنے آ چکے ہوتے. آپ سے “ڈرنے” کا نہیں بلکہ “محبت” کرنے کا “من” کرتا یے
ماہین کے لفظ حرامی پر زاویار سکتہ میں آگیا.
سر میں کل پھر آؤں گی یقین مانے ہماری جوڑی بہت شاندار ہو گی. میری جیسی بیوی آپ کو نہیں ملے گی ماہی کہتی ہوئی باہر جانے لگی جب زاویار نے اسے پکارا
میں شادی شدہ ہوں کیا تم مجھ سے دوسری شادی کرنا پسند کرو گی ……. ؟؟ زاویار نے ایک اور پتا پھینکا
مجھے منظور یے. دوسری شادی میں کیا برائی ہے ……. ؟؟؟ مجھے آپ سے ہی شادی کرنی ہے پہلی ہو یا دوسری
ماہین کہتی ہوئی باہر نکل گئی جبکہ زاویار نے اپنا سر دونوں ہاتھوں میں تھام لیا.
مان نہ مان میں تیرا مہمان نہیں بلکہ بیوی
اففففففف مجھے کیا ہو گیا ہے. زاویار نے سر جھٹکا اور صوفے ساتھ ٹیک لگا لی.
🎗️🎗️ Amna mehmood the writer 🎗️🎗️
جاری ہے.