Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 31

ارے تم لوگ تو ویسے ہی پریشان ہوگئے تھے دیکھو میں بالکل ٹھیک ہوں _ اقبال صاحب نے اپنے سرہانے بیٹھی رضیہ بیگم کی طرف دیکھ کر کہا ماموں آپ زیادہ باتیں نہ کریں ڈاکٹر صاحب نے آپ کو بولنے سے منع کیا ہے۔ فرزین نے اقبال صاحب کو بولنے سے روکا بیٹا میں اب بالکل ٹھیک ہوں۔ تم ان لوگوں سے بات کرو کہ مجھے جلدی چھٹی دے دیں اقبال صاحب نے فرزین کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
ماموں میں کوشش کرتی ہوں مگر وعدہ نہیں کر سکتی کیونکہ ڈاکٹرز میری بات نہیں سنتے فرزین کہتی ہوئی تیزی سے کمرے سے باہر نکل گئی
فرزین کے جاتے ہی اقبال صاحب نے رضیہ بیگم کی طرف دیکھ کر پوچھا
سعد کو فون تو نہیں کیا نااااا ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
اتنی دور بیٹھا ہے خوامخواہ پریشان ہو جائے گا۔ تم جانتی تو ہو وہ مجھ سے کتنی محبت کرتا ہے
اقبال صاحب نے شرارت سے پاس بیٹھی رضیہ بیگم کی طرف دیکھ کر کہا
ہم باپ بیٹا نہیں بلکہ دوست ہیں۔ اسے دیکھ کر مجھے اپنی جوانی یاد آ جاتی ہے بلکہ یوں کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ اسے دیکھ کر مجھے اپنا آپ بوڑھا نہیں لگتا اقبال صاحب ہنسے
بس کریں زیادہ باتیں نہ کریں ڈاکٹر نے منع کیا ہے رضیہ بیگم نے انہیں ٹوکا
جب میں چپ ہو گیا تھا تو آپ شور مچا رہی تھیں اور اب اگر بولنے کو دل کر رہا ہے تو آپ چپ رہنے کا کہہ رہی ہیں ۔
صحیح کہا ہے کسی نے بیگم کسی حال میں بھی خوش نہیں ہوتی اقبال صاحب کی بات پہ رضیہ بیگم مسکرا دیں۔
آپ نے تو سچ مچ جان ہی نکال لی تھی۔ شکر ہے کہ آپ کو ہوش آگیا اور آپ ٹھیک ہیں
رضیہ بیگم نے اپنی آنکھیں صاف کرتے ہوئے کہا
میرا آپ کے علاوہ کون ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماں باپ پہلے فوت ہوگئے۔ ایک بھائی تھا وہ بھی نہیں رہا رضیہ بیگم اس وقت بہت اداس دکھائی دے رہی تھیں۔
اللہ نہ کرے کہ میری زندگی میں آپ کو کچھ بھی ہو ۔ عورت کی عزت اس کے مرد سے ہوتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں “بیوہ” عورت کی تو زندگی _ اللہ آپ کو میری بھی عمر لگا دے آمین
اچھا چھوڑو بس کرو اب چپ بھی ہو جاؤ ایسے ہی جو منہ میں آرہا ہے بولے جا رہی ہو۔
اور تم اکیلی کہاں ہو یہ سعد اور فرزین ہے ناااااا
اور اگر اللہ کو منظور ہوا تو جلدی ہی ہم ان کی شادی کر دیں گے۔
پھر دیکھنا کیسے رونق لگتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ اقبال صاحب نے رضیہ بیگم کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے تسلی دی
ہاں وہ تو مجھے نظر ہی آرہا ہے کہ کیسی رونق لگے گی ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ دونوں ایک دوسرے سے بات کرکے نہیں راضی رضیہ بیگم کی بات پر اقبال صاحب نے قہقہ لگایا اور پھر درد سے کراہنے لگے
کیا ہوا درد ہو رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ رضیہ بیگم فکرمند ہوئیں۔
ہاں تو تم مجھے ہنسا رہی ہو ۔ پتا بھی ہے کہ سانس مشکل سے لے رہا ہوں اور تم _
اقبال صاحب اب کافی مشکل سے سانس کھینچ کر بات کر رہے تھے
آپ خاموش ہو جائیں۔ پتہ نہیں یہ فرزین بھی کدھر رہ گئی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ رضیہ بیگم نے پہلے اقبال صاحب کو اور پھر دروازے کی طرف دیکھ کر کہا
آ جاتی ہے صبر سے کام لیں۔ سچی مجھے تو بہت شرمندگی ہورہی ہے میری وجہ سے فرزین کتنی تکلیف میں ہے اقبال صاحب نے فرزین کے خیال سے کہا
ہاں تو وہ نہیں خیال کرے گی تو کون خیال کرے گا ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
اب میں اس عمر میں چکر لگاتی کیسی لگوں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ رضیہ بیگم نے اقبال صاحب کو دکھ سے نکالنے کے لیے کہا جس پر انہوں نے سر ہلا دیا
اس بار سعد کے آتے ہی ہم ان دونوں کی شادی کر دیں گے میں نے اس دفعہ دونوں میں سے کسی ایک کی بھی نہیں سننی ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
لڑکا بھی اپنا ہے اور لڑکی بھی
جو بھی تھوڑی بہت تیاری کرنی ہے وہ تم جلدی کر لینا بس اب میں اپنے بچوں کو اکٹھا دیکھنا چاہتا ہوں۔ اقبال صاحب نے بند آنکھوں سے کہا
اچھا جیسا آپ چاہیں گے ویسا ہی ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ بس آپ جلدی سے ٹھیک ہو جائیں۔ رضیہ بیگم نے آہستہ آواز کہتے ہوئے ہاں میں ہاں ملائی
فرزین تیز تیز قدم اٹھاتی ریسپشن کی طرف بڑھ رہی تھی کہ اچانک کسی کے ساتھ ٹکرانے کی وجہ سے اپنا بیلنس برقرار نہ رکھ سکی اور زمین پر پھسل گئی۔
آندھے ہو غصے ممیں بغیر سر اٹھائے فرزین نے کہا
سوری آپ کو لگی تو نہیں
انتہائی پیاری ، دھیمی اور خوبصورت آواز میں پوچھا گیا نہ چاہتی ہوئے بھی فرزین نے اس کی طرف دیکھا
ایک بہت ہی خوبصورت بڑی بڑی آنکھوں والا
ہلکی سی بڑھی داڑھی سفید رنگ کا ڈاکٹری کوٹ پہنے تیکھے نین نقش اور کھلتی رنگت والا شخص اسی کی طرف دیکھ رہا تھا ۔
نیلے پرنٹ سادہ سوٹ پر کالی چادر آنکھوں میں سرخی جس طرح فرزین اسے دیکھ رہی تھی بالکل ویسے ہی مقابل بھی اسے حفظ کر رہا تھا
زیادہ تو نہیں لگی ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ محبت سے ایک بار پھر پوچھا گیا ۔جس پر فرزین نے فوراً اپنی نظریں جھکا لیں۔
وہ میں ڈاکٹر قاسم کو تلاش کر رہی تھی ماموں کی چھٹی لینی ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ فرزین نے سر پر اپنی چادر درست کرتے ہوئے کہا
ویسے یہ میری بات کا جواب تو نہیں تھا _ پر آپ کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ جیسی آپ تلاش کر رہیں ہیں وہ میں ہی ہوں اب کی بات ڈاکٹر قاسم نے دونوں ہاتھ پینٹ کی جیب میں ڈالتے ہوئے کہا
مگر وہ تو کہہ رہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ فرزین نے ایک روم کی طرف انگلی سے اشارہ کیا
سٹاف کو معلوم نہیں ہوگا کہ میں کہاں ہوں کیونکہ میں اچانک راؤنڈ پر چلا گیا تھا۔
ٹوٹل قاسم کے جواب پر فرزین کو حیرت ہوئی اسے کیسے ساری بات پتہ لگی۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
کہ وہ باتیں کرتے کرتے فرزین کے ساتھ اقبال صاحب کے روم کی طرف چل پڑا
عجیب انسان ہے نہ جان نہ پہچان اور خواہ مخواہ فری ہوتا جا رہا ہے اوپر سے بولتا کتنا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ فرزین نے ڈاکٹر قاسم کی پشت کو دیکھتے ہوئے سوچا
معمولی چیک اپ اور پیپرز دیکھنے کے بعد ڈاکٹر قاسم نے ڈسچارج کرنے سے صاف انکار کردیا
سوری مسٹر اقبال ابھی ہمارا آپ کو ڈسچارج کرنے کا دل نہیں کر رہا ۔ آپ ابھی کچھ اور دن ہمیں اپنی مہمان نوازی کا موقع دیں قاسم نے مسکراتے ہوئے فائل پر کچھ لکھا
ڈاکٹر صاحب کوئی پریشانی والی بات تو نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ رضیہ بیگم نے قاسم کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
ہارٹ اٹیک ہے تو پریشانی والی بات تو ہے ناااااا ڈاکٹر قاسم نے اپنی پشت پر ہاتھ باندھتے ہوئے جواب دیا جس پر رضیہ بیگم کے ساتھ ساتھ فرزین کا چہرہ بھی اتر گیا
مگر زیادہ پریشان نہ ہوں ان شاء اللہ یہ جلد صحتیاب ہو جائیں گے اور آپ ذرا میرے ساتھ آئیں ڈاکٹر قاسم جاتے جاتے مڑ کے فرزین کو بلایا
جی ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ فرزین نے کمرے سے باہر آتے ہی کہا
آپ ان کی کیا لگتی ہیں ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ڈاکٹر قاسم اب بالکل نارمل انداز میں گفتگو کر رہے تھے جبکہ کمرے کے اندر ان کا انداز بہت محتاط اور سنجیدہ تھا
میرے ماموں ہیں فرزین نے قدر تعجب سے جواب دیا
ان کی کوئی اولاد نہیں ہے میرا مطلب انکا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ڈاکٹر قاسم نے فرزین کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
جی ایک بیٹا ہے مگر اسلام آباد ہوتا ہے۔ رات تک انشاءاللہ پہنچ جائے گا فرزین کو ڈاکٹر قاسم کا یوں دیکھنا عجیب پریشانی میں مبتلا کر رہا تھا
اچھا رات کو بس ایک ہی فرد ان کے ساتھ یہاں روک سکتا ہے ڈاکٹر قاسم نے بتانا ضروری سمجھا
جی میں ہی ساتھ رہوں گی ۔پھپھو تو خود بیمار ہیں
فرزند نے قاسم کے شوز کی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا کیونکہ وہ مسلسل اسے گھور رہا تھا
چلیں پھر رات میں ملاقات ہوتی ہے۔ میری آج رات کو ڈیوٹی ایمرجنسی میں ہی لگی ہوئی ہے _ جانے لگے مگر پھر دو قدم چل کر پلٹے۔ بات تو کچھ عجیب سی ہے مگر پلیز آپ میرے بارے میں غلط مت سوچیے گا ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ڈاکٹر قاسم نے فرزین کے چہرے کا اپنی نظروں سے احاطہ کرتے ہوئے کہا مجھے آپ بہت اچھی لگی ہیں آپ سے مل کر بہت خوشی ہوئی ڈاکٹر قاسم کی بات فرزین کو بالکل بھی اچھی نہیں لگی جس پر اس نے ناگواری سے انہیں جاتے ہوئے دیکھا
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
تم نے مجھے کوئی طعنہ نہیں دیا اور نہ ہی کسی قسم کی کوئی تفصیل مانگی ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ تم مجھ سے سوال کرو جو تمہارے دل میں ہے عروسہ نے حسن کو دیکھ کر کہا جو اس وقت بند آنکھیں کئے سونے کے لئے لیٹ رہا تھا
طعنہ میں صرف دوستوں کو دیتا ہوں کیونکہ وہ کمینے مجھے کبھی معاف نہیں کرتے۔
اور تفصیل اس لیے نہیں پوچھی کہ ساری بات مجھے پہلے سے ہی پتہ ہے حسن کی بات پر عروسہ اچھل پڑی
وہ کیسے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عروسہ کے لہجے میں حیرت نمایاں تھی۔
وہ ایسے کہ جب تم اور وسام آپس میں باتیں کر رہے تھے تو میں کھڑکی کے پاس کھڑا تھا۔
کمبختوں نے کھڑکی کی گرل اتنی مضبوط بنائی تھی کہ باوجود لاکھ کوشش اور تجربے کے میں دیکھوں نہیں سکا ۔
ابھی میں تنگ آکر جانے کا سوچ ہی رہا تھا کہ تمہارا وہ” نمونہ” آگیا ۔ پھر فطرت سے مجبور ہو کر میں نے وہ تمام باتیں سن لیں جو مجھے سننی نہیں چاہیے تھی ۔
حسن کی تفصیل پر عروسہ شرمندہ سی سر جھکا کر بیٹھ گئی
زیادہ سے شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے
۔ ۔ ۔ اگر میں تمہیں اپنے کارنامے بتاؤں تو میرے کارنامے تمہارے اس کارنامے کے آگے کچھ بھی نہیں ہیں۔
کیونکہ میں اپنے کارناموں پر ذرا بھی شرمندہ نہیں ہوتا لہذا میں چاہتا ہوں کہ میری بیوی بھی نہ ہو۔ تم بے فکر ہو جاؤ _ حسن نے بند آنکھوں سے جواب دیا جب تمہیں سب پتا تھا تو اس وقت کیوں خاموش رہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ جب میں وسام کے بارے میں جھوٹ بول رہی تھی۔ عروسہ کو افسوس ہوا وسام تمہارا تھا تم اس کے بارے میں کچھ بھی کہو مجھے اس سے کیا حسن نے پہلی بار آنکھیں کھولیں۔
میں تمہیں “بدکار” لگ رہی ہوں گی عروسہ کی آنکھوں میں آنسو چمکنے لگے
مجھے صرف اس لفظ “بدکار” سے نفرت ہے
حسن کے لہجے میں ایک دم سختی آگئی ۔
میں نے عورت پر اس ایک لفظ کی وجہ سے بہت ظلم ہوتے دیکھے ہیں ۔ دل ہی نہیں کرتا کہ میں خود کسی پر ظلم کروں حسن اب سیریس تھا
ہممممم عروسہ نے سر ہلایا
تم میری پھوپھو سے کیوں ملنا چاہتے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حسن سونے کے لئے دوبارہ آنکھیں بند کر رہا تھا کہ عروسہ کی بات پر ایک دم اٹھ بیٹھا
کیونکہ میں دیکھنا چاہتا ہوں خود غرض ،قاتل اور دوسروں کے ارمانوں کا خون کر کے لوگ کیسے دکھائی دیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حسن اب بلکل سیریز اور سپاٹ چہرے کے ساتھ مخاطب تھا ۔
مطلب عروسہ کو حسن کی بات سمجھ نہیں آئی
جب تم میری پھوپھو کے بارے میں کچھ جانتے ہی نہیں ہو تو ایسا کیوں کہہ رہے ہو ۔۔۔۔۔؟؟؟
ان کی زندگی دکھوں سے بھری پڑی ہیں۔ ایک حادثہ ہوا تھا تب سے وہ نیم پاگل ہو گئی اور بس عروسہ کو حسن کا اس طرح بولنا برا لگا
عروسہ میڈم آپ ذرا یہ بتانا پسند کریں گی کہ وہ حادثہ کیا تھا ۔۔۔۔۔۔؟؟؟حسن اب کی بار طنزاً بولا
مجھے نہیں پتا میں نے کبھی اس بارے میں دلچسپی نہیں لی عروسہ نے کندھے اچکائے
چلو آج میں تمہیں ایک کہانی سناتا ہوں۔ سنوں گی ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟حسن نے اٹھ کر چوکڑی بنائی اور عروسہ کی طرف اپنا منہ کرتے ہوئے پوچھا
ہاں سنو گی
عروسہ کے جواب پر حسن نے اس کا ہاتھ نرمی سے پکڑا اور اس کی ہتھیلی پر انگلی پھیرنے لگا
کسی گاوں میں دو سہیلیاں رہتی تھیں بہت پیار تھا دونوں میں ایک بہت ہی خوبصورت ، چلبلی، خوداعتماد لیکن غریب تھی۔
جبکہ دوسری سانولی رنگت والی مگر خوب امیر ،اکلوتی اور لاڈلی تھی
امیر لڑکی اور غریب لڑکی میں صرف ایک بات “مشترک” تھی کہ ان دونوں کو پڑھنے کا بہت شوق تھا وہ دونوں ہی بہت لائق لڑکیاں تھیں۔
امیر لڑکی کا ایک بھائی بھی تھا جو نہ صرف اپنی بہن بلکہ اس کی سہیلی کو بھی پڑھایا کرتا تھا
پھر جو ہوتا ہے وہی ہوا وہ امیر زادہ اس غریب لڑکی کے حسن سے متاثر ہو کر اس کے عشق میں گرفتار ہو گیا ۔
حسن نے ایک گہری سانس خارج کی اور عروسہ نے اس کو غور سے دیکھا
ہمیشہ کی طرح جب اس امیرذادی پر مشکل وقت آیا تو اس نے اپنی غریب دوست کو قربان کردیا حسن ہنسنے لگا
اور اس کا بھائی اس نے بھی اپنی محبت کا ساتھ نہیں دیا ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عروسہ نے تجسس سے سوال پوچھا
اس نے بھی اپنی بہن کا ساتھ دیا کیونکہ “خون زیادہ گاڑھا ہوتا ہے پانی سے” یہ محاورہ تو تم نے سنا ہوگا ۔
ویسے بھی اس محبت میں سب سے بڑی خرابی یہ ہے جب اپنا مطلب نکالنا ہو تو “محبت قربانی مانگتی ہے” کہہ کر جان چھڑا لی جاتی ہے حسن کی آنکھوں میں مرچیں چبھنے لگیں اور وہ شدت سے لال ہو گئیں۔
پھر عروسہ نے اس کی طرف اپنا رخ کر کے ٹیک لگا لی کیونکہ اب اسے پوری کہانی سننی تھی جو خاصی دلچسپ لگ رہی تھی
پھر وہاں کی رسم کے مطابق غریب لڑکی کے عاشق نے اپنی بہن کا “گناہ” چھپانے کے لیے غریب لڑکی کو مظلوموں کے حوالے کردیا حسن کے گلے میں پھندا اٹکنے لگا
اچھا اداس مت ہو
عروسہ نے اپنے ہاتھ سے حسن کا ہاتھ دبایا جو اس کی گرفت میں تھا
میں نے اسی وقت سوچ لیا تھا کہ زندگی میں کبھی کسی لڑکی کو اذیت نہیں دوں گا خاص طور پر اس کی کسی غلطی کی صورت میں حسن نے گلا صاف کرتے ہوئے جواب دیا
اس امیر زادی نے کیا گناہ کیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عروسہ نے ایک اور سوال پوچھا
کہانی کافی اداس اور دلچسپ ہے مگر یہ مجھ سے تو نہیں ملتی تم نے مجھے کیوں سنائی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عروسہ سمجھی کہ حسن اس کی حرکت کو تنبیہہ کرنے کے لیے سنا رہا ہے
عروسہ بی بی ابھی کہانی ختم کب ہوئی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حسن پھیکا سا مسکرایا
اس غریب لڑکی کے دو بھتیجے بھی تھے جو بھابی مرنے کے بعد اسی نے پالے تھے ۔
بھائی فوج میں سپاہی تھا اس لئے گھر پہ کم کم ہی ہوتا ویسے بھی وہ عقل سے پیدل تھا اور غصے کا بہت تیز بھی ایک بوڑھی ماں تھی
۔ حسن ایک کچے مگر پرسکون گھر میں پہنچ گیا
تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عروسہ کی آواز وہ کچے آنگن کے صحن سے دوبارہ اس کوٹھی کے بیڈ روم تک پہنچا
اس لڑکی کے “ونی” ہونے پر ماں تو دکھ سے مر گئی _ بچے باپ کی سختی سے تنگ آ کر بھاگ نکلے یوں ایک ہنستا بستا گھر اجڑ گیا۔ حسن نے افسوس سے سر ہلایا ہے
ہممممم عروسہ کی اب دلچسپی ختم ہوگئی تھی تبھی کچھ نہیں بولی تاکہ حسن بھی اب یہ ٹاپک تبدیل کر دے
بڑے لڑکے نے اپنی پھوپھو کو بچانے کے لیے بہت کوششیں کیں مگر اس رات پھر آگے کیا ہوا کچھ پتہ نہیں
جب کہ چھوٹا بچہ ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حسن ایک سرد آہ بھری
جو دن اس معصوم بچے کے کھیلنے کودنے کے تھے _ فرمائشیں کرنے کے شرارتیں کرنے کے وہ زمانے کی سختیوں کی نظر ہو گے اور وہ بچہ اپنی معصومیت کھو گیا بیٹھا حسن بہت رنجیدہ ہوا
چھوٹے بچے کے ساتھ تمہیں اتنی ہمدردی کیوں ہو رہی ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یہاں تو بہت کچھ ہوتا رہتا ہے عروسہ نے بیزاری سے اپنی جمائی روکتے ہوئے کہا
کیونکہ وہ چھوٹا بچہ ” میں” ہوں
حسن کی بات پہ عروسہ کو جھٹکا لگا
اور وہ امیر ذادء تمہاری “پھوپھو” اور وہ امیر لڑکا تمہارا “باپ”
۔ ۔ ۔ ۔ حسن کی بات پر عروسہ سکتے میں آ گئی ۔ جب کہ حسن کے چہرے پر اب شدید نفرت اور درد کے آثار تھے تمہیں کیسے پتہ کہ پھوپھو اور پاپا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عروسہ کو اپنی آواز کسی کھائی میں سے آتی ہوئی محسوس ہوئی تمہارے دادا نے شادی سے پہلے یاد ہے کہا تھا کہ تم باہر جاؤ انہیں مجھ سے کچھ باتیں کرنی ہے حسن نے یاد دلایا
وہ مجھے جب بتانے لگے کہ کس طرح تمہاری پھپھو اپنی دوست کی وجہ سے وہ ذہنی مریض بنی۔
تو مجھے کہانی بالکل اپنی کہانی جیسی لگی مگر تمہارے دادا جو بتاتے جارہے تھے تو مجھے واقعات اپنی آنکھوں کے سامنے چلتے نظر آنے لگے مگر ۔۔۔۔۔۔۔؟
تمہارے دادا کی نظر میں تمہاری پھوپھو اور والد “بے قصور” جب کہ میری پھوپھو “گناہگار” تھی۔
میں ان سے مل کر صرف انہیں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ حقیقت سب کو بتا دیں تاکہ ان پر بھی اللہ رحم کرے اور میری پھوپھو کے اوپر بھی ” بدکار ” کا داغ اتر جائے _
حسن کی آنکھیں شدت دکھ سے لال اور نم تھیں۔
پھر بھی تم نے مجھے بچایا حالانکہ ۔۔۔۔۔ ؟ عروسہ چپ سی ہو گئی
مجھے تم سے محبت نہیں ہے کیونکہ محبت ہو ہی نہیں سکتی تم سوچنا بھی مت کہ کبھی میں تم سے محبت کروں گا۔
مگر کسی سے محبت نہ ہو اور پھر بھی وہ آپ کی جان بن جائے _ اس کی تکلیف میں آپ کو تکلیف ہو
انسان چاہے وہ ہر وقت آپ کی نظروں کے سامنے رہے _ تو تم اس جذبے کو کیا نام دوں گی۔۔۔۔۔؟؟؟ مجھے بھی تم سے وہی ہے اس جذبے کا کوئی نام نہیں مگر یہ محبت نہیں ہے بالکل بھی نہیں میں لاکھ بار جوتے مارتا ہوں اس محبت کو جو ایک پل میں عورت کو ارزاں کر دے
اور ساتھ ہی اس مرد کو بھی جو یہ دعوی کرتا ہے حسن نے نفرت سے کہتے ہوئے دوبارہ سر تکیہ پر رکھ لیا اور آنکھیں بند کر لیں
مگر مجھے تم سے شدید محبت ہو گئی ہے “کل سے آنے والے کل تک” عروسہ نے حسن کے چہرے کو دیکھتے ہوئے سوچا مگر منہ سے کچھ نہ کہا
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
ماہی مسلسل سونے کی کوشش کر رہی تھی مگر بے سود ایک تو رات بھر جاگتی رہی تھی دوسرا تنہائی میسر آتے ہی اپنی زندگی کے ماہ وسال نظروں کے سامنے گھومنے لگے ۔
کیسے اس کے باپ نے انتہائی غربت کے باوجود اسے پڑھایا ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
پھر اس کا شہر جا کر پڑھنا زاویار کا ملنا محبت ہونا اپنی محبت کے لیے دن رات ایک کرنا اور آخر میں ایک اجنبی شخص کی دلہن بن جانا
سب کچھ اسے اس وقت کافی مزاحیہ خیز لگ رہا تھا
ماہی کا سر دکھنے لگا تھا ۔ بار بار سونے کی کوشش ناکام ہونے پر وہ اٹھ کر بیٹھ گئی ۔ شدت سے رونا آنے لگا
میں نے “سر” سے سچی “محبت” کی ہے۔_ مجھے نہیں لگتا کہ میں انہیں بھول پاؤں گی ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ مجھے آج بھی
اب بھی اتنی ہی محبت ہے جتنی پہلے تھی _ باوجود لاکھ کوشش کے میں ان سے نفرت کرنے میں بری طرح ناکام ہوں ۔ماہی پھکا سا ہنسی۔ کتنی عجیب بات ہے کہ انہیں “حیران کن” حد تک میری تمام باتیں یاد ہیں سب کچھ ویسا ہی ہے جیسا سوچا تھا _ ماہی نے کمرے میں نظر گھمائی۔ مگر “جسے” ہونا چاہیے تھا بس “وہ” اپنی جگہ پر نہیں ہے۔ بانو قدسیہ نے بالکل ٹھیک کہا تھا کہ ” ہم اس عورت کی تکلیف کا اندازہ نہیں کر سکتے جسے آنکھیں بند کرنے پر “محبوب” اور کھولنے پر “شوہر” نظر آئے” شدت ضبط سے آنکھیں اب لہو رنگ ہو رہیں تھیں۔
یا اللہ میں کیا کروں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہی نی اپنی بالوں میں انگلیاں پھنسا کر اپنے بال خود ہی کھینچے
ابھی وہ گھٹنوں میں منہ دیے اپنی سوچ میں غرق تھی کہ صدیق نے دروازہ آہستہ سے کھولا
ارے آپ تو جاگ رہی ہیں میں سمجھا سو گئی ہوں گی ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہی کو جاگتا دیکھ کر صدیق کو حیرت ہوئی ۔
آپ کیوں چاہتے ہیں کہ میں سو جاؤں آپ نے ایسا کیا کرنا ہے جو میرے جاگتے میں نہیں کر سکتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہی کی بات پر صدیق کو شدد جھٹکا لگا جب کہ صدیق کو دیکھتے ہی ماہی اس کے اندر شرارت کے رگ پھڑکنے لگتی تھی ۔ آپ میرے بارے میں اتنا غلط سوچتی ہیں
اگر مجھے کچھ کرنا ہوگا تو میں آپ کے جاگنے یا سونے کا انتظار کبھی نہیں کروں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ پہلی بار صدیق کو غصہ آیا
زیادہ حیران مت ہوں میں لوگوں کے بارے میں زیادہ تر غلط ہی سوچ رکھتی ہوں کیونکہ میرے ساتھ لوگوں نے غلط ہی کیا ہے _ ماہی نے صدیق کے غصے کو انجوائے کرتے ہوئے جواب دیا میں عورت کی عزت کرتا ہوں مگر آپ کی عزت صرف آپ کی خوبصورتی یا اعتماد کی وجہ سے نہیں کر رہا نہ ہی اس کے پیچھے یہ وجہ ہے کہ آپ میری بیوی ہیں بلکہ صدیق کہتے کہتے رکا
بلکہ
ماہی نے اسے بولنے پر اکسایا
مجھے آپ میں اپنے کسی بہت “پیارے” کا عکس نظر آتا ہے _ ۔ ۔ وہ بھی بالکل آپ جیسی تھیں
خود اعتماد ، زندہ دل _ صدیق نے کھوئے کھوئے لہجے میں کسی کی تعریف کی ۔ اچھا وہ یقیناً پھر آپ کی پہلی محبت ہوں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہی کو صدیق کی بات میں دلچسپی ہوئی ہاں وہ میری پہلی اور آخری محبت ہیں اور ہمیشہ رہیں گی صدیق نے عجیب سی سرشاری میں جواب دیا
مگر اب آپ بھی تھوڑا سیریس ہو جائیں۔ میں آپ سے عمر اور اس نام نہاد رشتے کی بنیاد پر بڑا ہو۔ اس لئے میری عزت کیا کریں صدیق کہتا ہوں الماری کی طرف بڑھ گیا
ارے واہ میں کیوں آپ کی عزت کروں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ آپ اتنے بڑے ہیں خود کریں اپنی عزت ماہی کے جواب پر صدیق اپنے پاؤں پر ہی گھوم گیا جبکہ ماہی نیم دراز اسے ہی دیکھ کر مسکرا رہی تھی
میں نے عزت کرنے کو کہا ہے _ ۔ ۔ کھانا کھلانے کو یا کپڑے بدلنے کو نہیں
صدیق نے سمجھا کہ شاید اس نے صحیح نہیں سنا
میں نے بھی عزت کا ہی بتایا ہے ماہی مسلسل اسے دیکھ کر مسکرا رہی تھی اور یہاں ہی صدیق کی بس ہوجاتی تھی
ایک تو لڑکیخوبصورت ہو اور اوپر سے آپ کی ملکیت میں بھی تو خود کو سنبھالا تھوڑا مشکل ہو جاتا ہے صدیق نے نفی میں سر ہلایا
آپ کم از کم چپ ہی ہو جائیں ظروری تو نہیں کہ ہر بات کا جواب دیا جائے ۔صدیق کہتا ہوں الماری سے اپنے کپڑے نکالنے لگا
جارج برنارڈ شاہ نے کہا ہے کہ
” عورت کو چپ ہونے کا کہا جائے اور وہ چپ ہو بھی جائے یہ کام صرف مصور ہی کرسکتا ہے ” ماہی کا اطمینان اب بھی قابل دید تھا
ماہی
صدیق نے الماری ساتھ ٹیک لگاتے ہوئے اسے پکارا
جی فرمابرداری سے جواب آیا
آپ پلیز سو جائیں ورنہ بیمار پڑ جائیں گی
صدیق کہتا ہوا دوبارہ ہنگر سے اپنے کپڑے نکال کر الماری بند کرنے لگا
مجھے اکیلے نیند نہیں آتی آپ کچھ دیر یہاں میرے پاس رکے تاکہ میں سکون سے سو سکوں پھر بیشک چلے جانا ماہی نے اپنی گال کے نیچے ہاتھ رکھتے ہوئے فرمائش کی
اسے کہتے ہیں زبردستی خود سے محبت کرانا۔ آپ تو مجھ سے ڈنڈے کے زور پر محبت کروا رہی ہیں __
صدیق دل میں سوچتا ہوا اس کے قریب بیڈ پر آ کر بیٹھ گیا جب کہ اپنی طرف صدیق کو آتا دیکھ کر ماہی نے آنکھیں بند کر لیں ۔
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
جاری ہے