Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 39

کہاں مر گیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
فون کیوں نہیں اٹھا رہا تھا ۔۔۔۔۔؟؟؟
میں کب سے تجھے کال کر رہا ہوں ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
جیسے ہی علی نے حسن کا فون اٹینڈ کیا اس کے کانوں میں حسن کی غصہ سے بھری آواز آئی ۔
میں وہیں ہوں جہاں تم مجھے “دفنا” کر گئے تھے ۔
دنیا جہان کے بے شرم ایک طرف _ علی تو دوسری طرف مگر پھر بھی یقین مان تو جیت جائے گا ۔ علی کے جواب پر حسن نے چڑ کر کہا
انسان کو گلہ کرنے سے پہلے اپنے گریبان میں بھی جھانکنا چاہئے تو مجھے اپنے سسرال میں چھوڑ کر ایسے غائب ہوا ہے جیسے گدھے کے سر سے سینگ بجائے اس کے کہ میں تجھ سے گلہ کرو الٹا تو مجھے ڈانٹ رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟ علی نے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے جواب دیا ہاں تو کون سا تجھے جیل میں چھوڑ کر گیا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ تو میرے سسرال میں عیاشی کر رہا ہے۔ دعائیں دے مجھے تیرا تو گلہ کرنا بنتا ہی نہیں ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ وہ بھی حسن تھا اپنی غلطی مان جائے ایسا کبھی ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔۔؟ عیاشی کا لفظ تو آپ یوں استعمال کر رہے ہیں جیسے میرے لئے “ستر حوریں” چھوڑ کر گئے ہیں۔ اگر اللہ نے تجھے اس دنیا میں ہی “ستر حوروں” کے برابر “ایک بیوی” دے دی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ تو دوسروں پر طنز کرے علی نے اپنی ہنسی دبا تے ہوئے حسن کو تپایا۔
بڑی ہی کوئی کمینی چیز ہے شرم نہیں آتی اپنی بھابھی کے بارے میں ایسے الفاظ استعمال کرتے ہوئے حسن کو عروسہ کے بارے میں علی کا یوں کہنا بہت برا لگا اچھا تو اب بیوی دوست سے زیادہ پیاری ہو گئی جسے کل تو “بھائی بھائی” کہتا نہیں تھکتا تھا۔ کسی نے بالکل ٹھیک کہا ہے
“بھائی بھائی نہ رہا دوست دوست نہ رہا ” _ علی نے رونے کی مصنوعی ایکٹنگ کی۔ اگر تیری “بکواس” بند ہو تو مجھے بتاؤ نااااااا کہ اللہ نے مجھے کتنی بڑی “خوشخبری” دی ہے علی کی آواز میں خوشی جھلک رہی تھی ۔ کیا میں “چاچو” بننے والا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ کمینے تو نے تو کہا تھا کہ مجھے “چاچو” بنانے سے پہلے اپنے “تایا” بننے کا بھی بندوبست کرے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حسن تو بہت بدل گیا ہے ۔ اب تجھے میرا کوئی خیال نہیں علی باقاعدہ بین ڈال رہا تھا
اس وقت اگر تو میرے سامنے ہوتا تو یقین مان علی میں نے تیرا گلا دبا دینا تھا۔
تو میری بات سن ہی نہیں رہا اور عورتوں کی طرح آگے سے خود ہی بکواس کرتا جا رہا ہے _ حسن کو جتنی جلدی تھی بات بتانے کی علی اتنا ہی آگے سے اس کا موڈ خراب کر رہا تھا ۔ اچھا تو تیرے خیال سے عورتیں بکواس کرتیں ہیں ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ تو نے عورتوں کی اتنی بےعزتی کی ہے مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ عروسہ نے کیسے اب تک یہ سب برداشت کیا ہوا ہے ۔۔۔۔۔؟؟؟ علی کو تجسس ہوا مجھ سے غلطی ہوگئی جو میں نے تجھے فون کرکے اپنی خوشی میں شریک کرنا چاہا اس سے اچھا تو میں اس “سڑے کریلے” کو فون کر لیتا کم از کم وہ میری بات تو پوری سنتا کیونکہ جواب دینے کی تو اسے عادت ہی نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حسن ہنسا
مجھے پتہ چل گیا ہے کہ میں “چاچو” بننے والا ہوں اور میں تجھے بتا رہا ہوں تیرے “جڑواں” ہوں گے اور ان کے نام میں رکھوں گا ۔۔۔۔۔۔۔؟
مگر مبارک تجھے اس لیے نہیں دے رہا کیونکہ تو نے میرا ابھی تک کوئی بندوبست نہیں کیا میں جیلس ہو رہا ہوں یار علی نے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے خود کو ڈریسنگ ٹیبل کے شیشے میں دیکھا
تیری طرف سے اگر ہوگیا ہو تو اب میں کچھ کہوں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حسن نی طنزاً اجازت مانگی
یقین مان دل ہی نہیں کر رہا تیرے سے بات کرنے کو یا تری بات سننے کو مگر اب تو اتنی عاجزی دکھا رہا ہے تو بتا کیا بات ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
بہت شکریہ آپ نے حاتم طائی کی قبر پر لات مارتے ہوئے اتنی “دریا دلی” کا مظاہرہ کیا میں آپ کا یہ احسان ساری زندگی یاد رکھوں گا
حسن نے علی کے جواب پر طنز کیا۔
چل بول بھی دے کیا بات ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟ علی اب سنجیدہ ہوا
یار میرا بھائی مل گیا ہے _ میں نے کمال کو ڈھونڈ لیا ہے
حسن کی آواز میں نمی گھلنے لگی جسے علی نے واضح محسوس کیا
کیا ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
زبردست یار _ تجھے بہت بہت مبارک ہو مگر تو نے یہ سب کیسے کیا ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
تجھے یقین ہے کہ وہ کمال ہی ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
علی نے ایک ساتھ کئی سوال کر ڈالے جس پر حسن ہنسنے لگا
صبر صبر تھوڑا صبر کر میں تجھے ساری بات شروع سے بتاتا ہوں ۔حسن نے اب کی بار تحمل سے علی کو جواب دیا
جلدی جلدی بتا مجھ سے صبر نہیں ہو رہا علی بھی جذباتی ہوا کیونکہ اس کا اپنا بھی کوئی نہیں تھا ۔
کاش علی تو اس وقت میرے سامنے ہوتا تو میں تجھے گلے لگا کر اپنے احساس اپنے جذبات کے بارے میں بتاتا ہے کہ وہ اس وقت کیسا محسوس کر رہا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ علی کی آواز دوبارہ نمی سے بھر گئی
شکر ہے کہ میں تیرے سامنے نہیں ہوں ورنہ تجھ پر تو دادا جی کا رنگ چڑھ گیا ہے علی نے حسن کو دکھ سے نکالنے کے لیے کہا جس پر علی ہنس دیا ۔
پھر حسن نے اپنی اور عروسہ کی بہاولپور آمد سے لے کر زاویار کی ملاقات تک سب کچھ علی کو تفصیل سے بتایا ۔
ہممممم یار ویسے پھپھو زریں ساتھ تو بہت ظلم ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
کیا تو عالیہ کو کو معاف کردے گا ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
علی کے سوال پر حسن نے ایک سرد آہ بھر کر نیلے آسمان کی طرف دیکھا
جو چلے گئے ہیں وہ تو واپس نہیں آ سکتے نہ ہی ہم ان کی تکلیف کم کر سکتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
مگر جو زندہ ہیں ہم انھیں تکلیف میں کیوں ڈالیں ۔۔۔۔۔؟؟؟
مطلب یہ کیا بات ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ علی کو حسن کی بات سمجھ نہیں آئی ۔
یار بات بالکل صاف ہے۔ زریں پھپھو اپنے حصے کی تکلیف دیکھ کر چلی گئیں ہیں۔ شاید ان کے لئے اللہ نے آگے کچھ اچھا رکھا ہو مگر میں اب عروسہ کو تکلیف نہیں دیتا چاہتا ۔
وہ آگے ہی اپنے خاندان والوں کی حرکت پر بہت شرمندہ ہے اور جسے ہم پسند کرتے ہوں اسے شرمندہ نہیں دیکھ سکتے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
میں یہ بات عروسہ کو نہیں بتاؤں گا کبھی بھی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
عالیہ پھپھو اپنے ضمیر کی قیدی ہیں اور وہ مرتے دم تک قیدی ہی رہیں گی یہی سزا ان کے لیے بہت ہے۔ حسن کے جواب پر علی نے ہاں میں سر ہلایا
اچھا چھوڑ یہ بتا کہ تو واپس کب آ رہا ہے ۔۔۔۔۔؟؟؟ علی نے حسن سے پوچھا
تو نے اپنی بکواس میں سب کچھ بھلا دیا ہے میں نے فون تجھے اسی لیے کیا تھا کہ جلدی سے بہاولپور آجا یہاں زاویار کی شادی ہے خوب ہلہ گلہ کریں گے ۔آپ کی بار حسن کی آواز میں واضح خوشی تھی۔
میری جیب بالکل خالی ہے میں کیسے بہاولپور آجاؤں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ علی نے فوراً پیسے کا رونا رونا شروع کر دیا
وہ جو گھر میں ایک بندہ ہے جسے سب “دادا جی داداجی” بولتے ہیں جا کر اس کے گلے لگ جا وہ تیرا کام کر دیں گے
حسن نے شرارت سے بھرپور قہقہہ لگایا
تیری تو _ اس سے پہلے کہ علی اسے کسی موٹی تازی گالی سے نوازتا حسن نے کال کاٹ دی ۔ شکر ہے حسن کو اس کے بچھڑے مل گئے کاش کہیں سے میرے بھی کسی اپنے کا کوئی سراغ ملے ۔۔۔۔۔۔؟ علی نے سوچتے ہوئے بستر سے نیچے قدم اتارا ۔ 🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️ ماہی ماہی آپ کہاں ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ صدیق نے کمرے میں قدم رکھتے ہی قدرے اونچی آواز میں اسے پکارا اور ایسا پہلی بار ہوا تھا اس سے پہلے کبھی اس نے ایسا نہیں کیا تھا ۔ ماہی جو واش روم میں وضو کرنے گئی تھی صدیق کے اس طرح پکارنے پر حیران ہو کر واش روم سے باہر نکلی ۔ ماہی میرا چھوٹا مل گیا ہے اللہ نے مجھے جمال دے دیا ہے تمہاری دعا قبول ہو گئی ہے صدیق نے ماہی کو اپنے ساتھ لگاتے ہوئے خوشی سے بتایا
صدیق کی خوشی سے زیادہ ماہی کو اس کے “عمل” کی خوشی تھی کیونکہ پہلی بار صدیق نے خود سے ماہی کو اپنے ساتھ لگایا تھا
چلیں یہ تو بہت اچھا ہو گیا کہاں ہیں وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہی نے صدیق سے الگ ہوتے ہوئے پوچھا
آپ کو پتا ہے وہ چھوٹے شاہ جی کا دوست ہے ایک دفعہ پہلے بھی آیا تھا بالکل انگریز لگتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
صدیق کے لہجے میں اپنے بھائی کے ملنے کی خوشی اور آنکھوں میں شاید شکر کی نمی تھی ۔مگر لفظ “چھوٹے شاہ جی” نے ماہی کے چہرے کے تاثرات بدل دیے۔
اچھا پھر تو وہ بھی اپنے دوست جیسا ہی ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہی دوپٹے سے اپنا ہاتھ منہ صاف کرتی بیڈ کی طرف بڑھ گئی
ارے چھوٹے شاہ جی جیسا ہو تو اور کیا چاہیے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ میرے لئے تو چھوٹے شاہ جی فرشتے ہیں (انہیں کی بدولت تو تم مجھے ملی ہو۔ صدیق نے دل میں سوچا )
ہاں “فرشتے” ہیں مگر “موت ” کے
ماہی نے آہستہ آواز میں جواب دیا
کیا بول رہی ہوں کھل کر بولو نا مجھے سمجھ نہیں آئی ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ صدیق نے ماہی کے پاس بیٹھتے ہوئے پوچھا
کیا چھوٹے شاہ جی ہماری زندگی سے کبھی بھی نہیں نکلیں گے یہ اسی طرح ہماری زندگی اور ہماری باتوں میں موجود رہیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟
ماہی کے اس طرح بولنے پر صدیق بہت حیران ہوا ۔
ماہی میں نے اکثر یہ بات نوٹ کی ہے کہ آپ چھوٹے شاہ جی کے ذکر پر بہت تلخ ہو جاتیں ہے ایسا کیا ہے جو آپ مجھ سے چھپا رہی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
صدیق کے سوال پر ماہی کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ مرد جتنا بھی کھلے دل و دماغ کا مالک ہوںمگر وہ اپنی بیوی کی محبت نہیں نہیں
ماہی نے دل میں نفی کی
نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے وہ آپ ہر وقت چھوٹے شاہ جی کرتے رہتے ہیں تو مجھے جیلسی ہوتی ہے ۔
میں چاہتی ہوں کہ آپ کے منہ پر ہر وقت میرا نام ہو ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہی نے اپنی بات کے اثر کو زائل کرنے کے لئے فورا صدیق کے بازو کو تھام لیا
ماہی آپ تو میری حواسوں پر سوار ہیں
دن رات اٹھتے بیٹھتے _ سوتے جاگتے
آپ ہی کا چہرہ اور آپ کی باتیں میرے کانوں میں گونجتی ہیں ۔
میں آپ کو کیسے یقین دلاؤں مجھے آپ سے محبت ہو گئی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ صدیق نے ماہی کے گرد اپنے بازوؤں کا گھیرا تنگ کرتے ہوئے جواب دیا
سچی مچی _ ما ہی نے شرارت سے صدیق کی طرف دیکھا بالکل سچ صدیق نے محبت سے ماہی کا گال چوما
اچھا آپ مجھے اپنے بھائی سے کب ملوائیں گے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہی کے سوال پر صدیق کے چہرے پر مسکراہٹ آ گی ۔
فلحال تو وہ چھوٹے شاہ جی کے پاس بیٹھا ہوا ہے ابھی کچھ دیر تک میں تم سے ملوانے کے لیے آتا ہوں۔
میں اسی لئے تمہارے پاس آیا تھا تاکہ تم اپنا حلیہ درست کر لو ۔ آخر پہلی بار اس نے اپنی بھابھی سے ملنا ہے تو اسے پتہ چلنا چاہیے کہ اس کی بھابھی کتنی پیاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ صدیق کے لہجے میں محبت ہی محبت تھی
ٹھیک ہے آپ جائیں میں تیار ہو جاتی ہوں ماہی نے صدیق کی طرف دیکھ کے کہا بس تم تیار ہو جاؤ ۔ میں اسے تھوڑی دیر میں لے کر آتا ہوں صدیق ماہی کا کندھا تھپتھپاتے ہو ئے کمرے سے باہر چلا گیا۔
کسی نے بالکل ٹھیک کہا ہے کہ” ‏مٙن پسند” شخص اگر ہر مرض کی دوا ہے تو دُوسری طرف “ڈپریشن” کی سب سے بڑی وجہ بھی وہی ہوتا ہے”۔
میں جب جب سر کا نام سنتی ہوں مجھے ڈپریشن ہونے لگتا ہے ۔
بے شک محبت سب کے لیے “سرخ گلاب ” نہیں ہوتی۔
دنیا کے تمام نشے جیتنا مرضی نقصان دہ ہو “تباہ” کرنے میں “انسان” کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔
مجھے سر کی محبت نے اندر سے تباہ کردیا ہے مگر میں خود کو کبھی بھی بکھرنے نہیں دوں گی ۔
میری زندگی میں ایک بہت “خوبصورت رشتہ” ہے جس کی وجہ سے میری زندگی میں “خوبصورتی” ہے اور اس کی “خوبصورتی” میں ہمیشہ برقرار رکھوں گی ۔
سب لڑکیاں میری طرح خوش قسمت نہیں ہوتیں
کتنی عجیب بات ہے کہ میں سر کے پیچھے بھاگتی ہوں جنہوں نے میری پرواہ نہیں ۔
جبکہ صدیق جو مجھ پر جان دیتا ہے مجھے اس کی پرواہ کرنی چاہیے ہم ہمیشہ لاحاصل کے پیچھے کیوں بھاگتے ہیں ۔۔۔۔۔۔؟
جو کچھ ہمیں حاصل ہوتا ہے اس کی قدر کیوں نہیں کرتے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
مجھے آپ کی شادی کی ذرا بھی خوشی نہیں ہے لیکن پھر بھی میں آپ کو بد دعا نہیں دے سکتی ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
اس سے آپ اندازہ لگا لیں کہ مجھے آپ سے کتنی پاکیزہ محبت ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
خوش رہیں اور خدا کے لئے میری یادوں سے جا کر مجھے بھی اپنی زندگی میں خوش رہنے دے
ماہی نے اپنے خیالوں میں زاویار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا
پھر اچانک صدیق کی بات یاد آتے ہی فورا الماری کی طرف بڑھ گئی
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
اب تم کہاں جارہے ہو گھر میں تو تمہارا دل لگتا ہی نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ فرزین نے سعد کو اپنی بیگ میں کپڑے ڈالتے دیکھ کر پوچھا
اس گھر میں کوئی ایسا ہے ہی نہیں جس سے میں اپنا دل لگاؤں اس لئے کہیں اور جاکر ٹرائی کرنے کا سوچا ہے ۔ سعد نے ایک نظر دروازے کے بیچ کھڑی فرزین کو دیکھا اور دوبارہ اپنے کپڑے رکھنے لگا
وہ میں تم سے بھی یہی کہنے آئی تھی کہ اگر میں تمہیں اچھی نہیں لگتی تو
پھر میں ڈاکٹر قاسم سے شادی کر لیتی ہوں۔
میں نہیں چاہتی کہ ساری زندگی تمہارے ساتھ میری وجہ سے کوئی زبردستی ہو۔
فرزین کی بات کے سعد نے بیگ کی زپ بند کی اور کھڑے ہو کر اس کی طرف غور سے دیکھا
“یعنی تم مجھ سے شادی نہیں کر رہی ” سعد نے تصدیق چاہی جس پر فرزین نے سر ہلایا
گڈ ویری گڈ
اب تم اپنی بات پر قائم رہنا۔ فی الحال تو میں زاویار کی شادی میں شرکت کے لیے بہاولپور جا رہا ہوں واپس آ کر دیتا ہوں کہ اب کیا کرنا ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
سعد کی بات پر فرزین کو بہت حیرت ہوئی۔ اس نے آرام سے اس کی بات سن لی اور کوئی ری اکشن نہیں دیا ۔
اب کیوں کھڑی ہو کوئی اور بات بھی کرنی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ سعد نے اپنے وائیلٹ میں پیسے رکھتے ہوئے پوچھا
فرزین نے نفی میں سر ہلایا مگر منہ سے کچھ نہیں بولی۔
تمہیں خود بھی نہیں معلوم کہ تمہارے ساتھ کیا مسئلہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ جب کافی دیر تک فرزین دروازے میں کھڑی رہی تو اپنی چیزیں اکٹھی کرتے ہوئے سعد نے کہا
کبھی تم اس شادی سے انکار کرنے کے لئے کہتی ہو_ کہ لوگ کیا کہیں گے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ کبھی تمہیں مجھ سے اپنی عزت کروانے کا دورہ پڑتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ کبھی تم چاہتی ہو کہ میں تم سے اظہار محبت کرو ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ اور جب تمہارے سارے مسئلے حل ہو جاتے ہیں تو پھر تمہارے دل میں خیال آتا ہے کہ شاید تمہیں زبردستی میرے ساتھ رحم کھا کر باندھا جا رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ فرزین بی بی یہ زندگی ہے کوئی ڈرامہ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ تم اپنی زندگی کے ساتھ ساتھ میری زندگی سے بھی کھیل رہی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ میں تمہیں ایک بار پھر ٹائم دے رہا ہوں ۔جب تک میں شادی سے لوٹ نہیں آتا تم اچھی طرح سوچ لو کہ تمہیں میرے ساتھ رہنا ہے یا نہیں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ سعد نے کہتے ہوئے اپنے بیگ کا ہنڈل پکڑا اور اپنی ضروری چیزوں کو لیے اس کے پاس سے گزرنے لگا تبھی فرزین نے اس کا بازو پکڑ کر رونا شروع کر دیا یہ سب اتنا اچانک اور غیر متوقع تھا کہ سعد بالکل حیران رہ گیا اور اس کے ہاتھ سے ہنڈل چھوٹ گیا کیا ہوا ہے کیوں اس طرح رو رہی ہو ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ پلیز چپ کر جاؤ ورنہ ابا اماں مجھے جوٹے ماریں گے ۔ سعد نے فورا سے فرزین کو اپنے ساتھ لگایا اور اسے چپ کرانے لگا تمہیں میری بات سمجھ کیوں نہیں آتی ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ میں تمہیں پاگل لگتی ہو ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ فرزین کے سوالوں پر سعد نے ایک سرد آہ بھری ۔ اچھا آج مجھے تم بتاؤ کہ تم مجھ سے کیا چاہتی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ سعد نے کہتے ہوئے فرزین کو اپنے سے الگ کرتے ہوئے سامنے کھڑا کیا اور اس کے آنسو صاف کیے۔ میں چاہتی ہوں کہ تم پورے مان کے ساتھ مجھے اپناؤ
میرے لیے لڑو جھگڑو اور مجھ سے کھل کر اظہار محبت کرو کہ تم مجھ سے شادی کرنا چاہتے ہو۔
اور اگر میں تمہیں نہ ملی تو تم مر جاؤ گے تاکہ مجھے اندازہ ہو کہ میں تمہارے لئے کتنی قیمتی ہوں کتنی اہمیت ہے میری زندگی میں ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ فرزین کی بات پر سعد نے اپنے منہ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے خود کو نارمل کیا اور بمشکل اپنی مسکراہٹ کا گلا گھونٹا ۔ پھر سب مجھ سے ناراض ہوتے ہیں کہ میں اس کے ڈراموں پر پابندی لگاتا ہوں یہ سب ڈراموں کا ہی اثر ہے ۔سعد نے فرزین کی طرف دیکھتے ہوئے دل میں سوچا ابھی تو مجھے دیر ہو رہی ہے بس نکل جائے گی تو واپس آکر تم جیسا کہو گی میں ویسا ہی کروں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ مگر فلحال تم اپنا پروگرام ملتوی کر دو
اور پلیز چپ کر جاؤ تمہیں یوں روتا چھوڑ کر مجھ سے جایا نہیں جائے گا ۔سعد نے فرزین کی طرف دیکھ کر کہا
کیا تمہیں میرے رونے سے فرق پڑتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ فرزین نے بے یقینی سے پوچھا
تمہیں کس نے کہا ہے کہ مجھے تمہاری پروا نہیں ہے یا تم میرے لیے اہم نہیں ہو تم کیسی بچوں جیسی باتیں کر رہی ہو ؟؟؟
پھر تم نے کیوں کہا تھا کہ تم مجھے منہ دکھائی نہیں دوں گے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ سعد کے جواب پر فرزین نے پوچھا
اچھا تو تمہارے دماغ میں اب تک وہ بات پھنسی ہوئی ہے وہ تو میں نے ویسے ہی مذاق کیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ سعد مسکرایا
ایسی باتیں کون مذاق میں کہتا ہے ۔۔۔۔۔؟؟؟ فرزین نے منہ بنایا
ایسی باتیں مذاق میں ہی کہتے ہیں ۔ سعد نے پیارسے فرزین کے سر پر تھپڑ لگایا
اچھا فرزین نے آہستہ آواز میں کہا اور جانے لگی۔
مجھے تم سے بہت محبت ہے تمہارے علاوہ میں کسی سے شادی نہیں کروں گا میری یہ بات لکھ کے رکھ لو سعد بالکل سنجیدہ اپنی پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالے فرزین کو ہی دیکھ رہا تھا
تم میرا مذاق کبھی نہیں اڑاؤں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ فرزین نے مڑتے ہوئےانگلی اٹھا کر کہا
کبھی بھی نہیں
سعد نے انتہائی فرماں برداری سے جملہ دوہرایا
میرا ٹی وی بند نہیں کرو گے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ دوسری فرمائش آئی
نہیں کروں گا سعد نے پھر اسی انداز میں جواب دیا
اور مجھے منہ دکھائی بھی دو گے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ تیسری بات منائی گئی
بالکل دوں گا
سعد نے سینے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے سر کو خم دیا
اچھا ٹھیک ہے میں تم سے ہی شادی کروں گی ۔ جلدی واپس آ جانا فرزین مسکرا کر کہتی پلٹنے لگی مگر پھر کچھ سوچ کے رکی
مجھے تم سے تب تک محبت ہے جب تک تم اپنی بات سے “مکرو” گے تو نہیں __
اور شرارت سے ہنستی ہوئی چلی گئی ۔ جبکہ سعد کا حیرت سے منہ کھل گیا۔
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
جاری ہے.
پیارے ریڈرز اس کی ایک آخری قسط رہ گئی ہے۔ میں چاہتی ہوں جس نے بھی یہ ناول پڑھا ہے کم از کم وہ دو لائنوں کا اپنا تبصرہ آخری قسط کے آنے سے پہلے دے ۔
کون سا کردار بہت اچھا لگا اور کیوں ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
میں نے ہمیشہ “خون بہا” پر رونے دھونے والے ناول ہی پڑھیں ہیں ۔
کوشش کی ہے کہ اس ٹاپک کے اوپر کچھ مختلف لکھا جائے ۔
زندگی دکھوں سے بھری پڑی ہے اگر ہم کسی کے چہرے پر تھوڑی سی مسکراہٹ لا سکیں تو کیا ہی بات ہے ۔۔۔۔۔؟
خوش رہے 😍