Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 40

یار ویسے ایک بات کہوں پلیز برا مت منانا _ حسن نے جس طرح کی شکل بنا کر کہا تھا سب کو خطرے کی گھنٹی بجتی محسوس ہوئی مجھے یقین ہے کہ کوئی فضول بات ہی ہوگی مگر پھر بھی کہہ دے جو کہنا چاہتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ زاویار جو اس وقت دولہا کے لباس میں بہت ہی خوبصورت لگ رہا تھا نے آہستہ آواز میں حسن کو جواب دیا مجھے حق تو نہیں پہنچتا ایسا کہنے کا مگر یقین مان تو نے برینڈ نیو مرسڈیز چھوڑ کر 1970 کے ماڈل کا ٹریکٹر پسند کیا ہے ۔ حسن کی بات پہلے تو کسی کو سمجھ نہیں آئی مگر پھر سب نے ایک مشترکہ قہقہ لگایا جب کہ زاویار نے اس بات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کہ وہ دولہا ہے ایک مکہ اسے رسید کیا تو نے خود “بنڈوزر” خریدا رکھا ہے ہم نے تو تجھے کچھ نہیں کہا علی کی بات پر ایک بار پھر سب نے قہقہ لگایا مگر اس بار حسن کا منہ بند تھا
یہ تو بہت بری بات ہے کہ تم لوگ کسی کے موٹاپے کا مذاق اڑا رہے ہو _ اول تو وہ اتنی موٹی ہے ہی نہیں اور دوسرا اس پر موٹاپا اچھا لگتا ہے ۔ ہائے اوئے محبتاں حسن کے جواب پر علی نے زور سے نعرہ لگایا مگر اب اس کی گردن پر حسن کا ہاتھ تھا
کمینے ذلیل تیرے جیسے بھائی ہوں تو انسان کو دشمن کی ضرورت نہیں پڑتی ۔
بھول گیا وہ سب کیسے میں نے تجھے دودھ پلا پلا کر بڑا کیا ہے
؟؟ حسن کے ڈائیلاگ پر زاویار نے اپنی ہنسی کو بمشکل کنٹرول کیا ہے
میرے خیال سے تم غلط موقع پر غلط ڈائیلاگ بول گئے ہو _ یہ تو خالصاتاً زنانہ ڈائیلاگ ہے سعد نے بھی اپنا حصہ ڈالا ویسے تو تیرا صرف سر ہی ہلاتا ہے مگر آج تو تیری زبان بھی چل رہی ہے خیر ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حسن نے علی کا بازو مڑتے ہوئے کہا
تم لوگ اپنا یہ “سرکس تماشا” اسٹیج سے نیچے اتر کر نہیں کر سکتے۔ سب لوگ ادھر ہی دیکھ رہے ہیں زاویار نے انہیں آپس میں لڑتا دیکھ کر منع کیا
یہ جو تو آج اتنا مہذب بن کر بیٹھا ہوا ہے ناااااا مت بھول کے دوسروں کی شادیوں میں تو کیا کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
اگر خوشی کے مارے تیری یاداشت چلی گئی ہے تو میں تجھے بتاؤں۔۔۔۔۔۔؟؟؟
حسن اب علی کو چھوڑ کر پورا زاویار کی جانب مڑ گیا تھا۔
سعد یار تو ان کو سمجھانا ااااااا زاویار نے مدد طلب نظروں سے اپنے دائیں جانب بیٹھے سعد کی طرف دیکھ کر کہا
اچھا زیادہ مسکین شکل بنانے کی ضرورت نہیں ہے میں نیچے جا رہا ہوں حسن کے اٹھتے ہی زاویار اور علی بھی اٹھ گئے۔
صدیق جو بہت مصروف انداز میں سٹیج کی طرف آ رہا تھا حسن کو دیکھ کے رک گیا
بھائی ان سے ملیں یہ ہے سعد اور یہ علی
حسن نے دونوں کی طرف اشارہ کیا جب کہ صدیق انتہائی خوش دلی سے دونوں کے گلے ملا
میں آپ لوگوں کا بہت احسان مند ہوں کہ آپ نے میرے چھوٹے سے “معصوم بھائی” کا بہت خیال رکھا _ صدیق نے جیسے ہی جملہ ادا کیا علی اور سعد چیخ پڑے معصوم بھائی اور وہ بھی حسن کچھ تو خیال کریں آگے ہی بارش نہیں ہو رہی ۔۔۔۔۔۔؟ علی کی بات صدیق کے اوپر سے گزر گئی مگر وہ ہنستا ہوا آگے بڑھ گیا ۔
خبردار جو آئندہ میں بھائی کے سامنے کسی نے کوئی بھی بکواس کی تو علی نے دونوں کے ساتھ چلتے ہوئے وارننگ دی ویسے تم دونوں کی معلومات میں اضافے کیلئے ایک دلچسپ بات بتاؤں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ وہ تینوں اب کھانے کی میز پر بیٹھے رنگ برنگے کھانوں ساتھ انصاف کر رہے تھے تجھے اجازت کی ضرورت کب سے پڑ گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ سعد نے چالوں کا چمچ منہ میں ڈالتے ہوئے کہا جب سے بیچارے کی شادی ہوئی ہے علی نے لقمہ دیا
پتہ نہیں تم دونوں کی اتنی زبانیں کیوں چلنے لگی ہیں پہلے تو تم لوگ بہت خاموش رہتے تھے حسن نے منہ بناتے ہوئے اپنے آگے پلیٹ کی اچھا ناراض نہ ہو بتا کیا بات ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
جب کافی دیر تک حسن خاموش بیٹھا رہا تو سعد نے اس کا کندھا ہلایا
اس پر حسن نے اسے ایک گھوری سے نوازا اور دوبارہ اپنا کھانا کھانے لگا
یار میری بیگم نہیں ہے مجھے روٹھے کو منانے کا کوئی تجربہ نہیں ہے لہذا اب بول بھی دے کیا بولنا ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ علی نے حسن کی طرف دیکھ کر شرارت سے کہا جس پر سعد بھی مسکرا دیا
بچو یاد رکھ
تیرے لیے تو میں ایسی لڑکی کی تلاش کروں گا جو تجھے سب کچھ سکھا دے گی “منانا” تو بہت چھوٹی بات ہے _ حسن کی بات پر علی نے اس کی طرف جھکتے ہوئے سرگوشی کی تو بس میری شادی کرا دے آگے میں جانو اور میرا کام تو پریشان مت ہو۔ تو بس اپنی “موٹو” کی فکر کیا کر علی کی بات پر سعد مسکرانے لگا جبکہ حسن نے ہاتھ صاف کرتے ہوئے اسے دیکھا
اب تو اپنی بات پر قائم رہیں کہ میں نے صرف ” موٹو ” کی فکر کرنی ہے تیری نہیں حسن اب کرسی ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گیا تھا۔
بس کرو تم لوگوں نے تو باقاعدہ لڑنا شروع کر دیا ہے سعد بھی اب اپنا کھانا ختم کر چکا تھا۔
وہ جو لڑکی تھی ناااااا
وہی جو زاویار کو بہت تنگ کیا کرتی تھی۔ اسی کی شادی بھائی سے ہوئی ہے یعنی وہ لڑکی اب میری بھابھی ہے ۔
ہے ناااااا عجیب بات ۔۔۔۔۔۔۔؟ حسن نے دور کھڑے صدیق کی طرف دیکھتے ہوئے بتایا
تجھے کیسے پتا ۔۔۔۔۔۔۔؟ سعد نے تعجب سے پوچھا
مجھے تار آئی تھی حسن نے چڑ کر جواب دیا
یہ کیا بات ہوئی بھلا علی نے حسن کی طرف دیکھ کر پوچھا
ظاہر سی بات ہے زاویار نے بتایا ہے اور کیسے پتہ چلتا ۔۔۔۔۔۔۔؟ حسن کو دونوں کی عقل پر افسوس ہوا
اچھااااااااااااا سعد نے اچھا کو خوب کھینچا
کیا بات ہے تیرا پٹرول ختم ہوگیا ہے جو اس طرح کر رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ علی نے سعد کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
محبت اندھی ہوتی ہے آج میں اس بات پر “ایمان” لے آیا ہوں
حسن اب بلکل سیریس تھا
میں تو اسی دن “ایمان” لے آیا تھا جس دن تیری عروسہ سے شادی ہوئی تھی علی کے جواب پر سعد اپنا قہقہ نہ روک سکا جبکہ حسن نے اسے ایک تھپڑ لگایا
میری بات کرنے کا مطلب یہ ہے کہ صدیق بھائی کی بیوی بہت خوبصورت ہے بانسبت زاویار کی بیگم کے
حسن نے دونوں کا موازنہ کیا
محبت میں محبوب کا خوبصورت ہونا معنی نہیں رکھتا سعد نے سنجیدگی سے اپنی رائے دی۔
اووووووو
سعد کی بات پر حسن اور علی نے اپنی توپوں کا رخ اس کی طرف کر دیا
یاررررر پلیززززز ہم شادی انجوائے کرنے آئے ہیں لڑنے نہیں سعد نے دونوں کے بولنے سے پہلے ہی بات ختم کی ۔
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
آج زاویار کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا جو حسرت وہ کب سے دل میں لیے پھر رہا تھا اللہ نے وہ پوری کر دی تھی. اب وہ ساری زندگی اس کی ذات کا حصہ بن گئی تھی.
اس کی “من پسند”اور “محبوب شخصیت” اس کے سامنے انتہائی خوبصورت لباس میں اس کی خوابوں کی تعبیر بنی بیٹھی تھیں۔
مجھے یہ سب بالکل ایک خواب لگ رہا ہے لگتا ہے میں آپ کو چھوؤں گا تو سب ختم ہو جائے گا زاویار نے عفت کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
اب ایسا بھی کچھ نہیں ہے ۔ عفت نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا
آپ کو پتا ہے آپ مجھے بہت اچھی لگتی ہیں۔ پتا نہیں کیوں مگر مجھے آپ کے علاوہ کبھی کسی لڑکی کو دیکھ کر یہ احساس نہیں ہوا کہ وہ میری ہو۔
لیکن میں نے جب بھی آپ کو دیکھا میرے دل نے کہا کہ یہ میری ہو اور شکر ہے کہ آج آپ میری ہوگی ۔
پورے کمرے میں گلاب اور موتیا کی بھینی بھینی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔ عفت مہرون کلر کے بنارسی جوڑے میں زاویار کو دنیا کی سب سے خوبصورت دلہن لگ رہی تھی۔
میں وعدہ تو نہیں کرتا لیکن پوری کوشش کروں گا کہ آپ کے تمام دکھوں کا مداوا کر سکوں جو چچا سائیں اور چچی جان کی جانے سے آپ نے برداشت کیے۔
آپ کو ہمیشہ خوش رکھوں گا۔ آپ کو مجھ سے کبھی کوئی شکایت نہ ہو گی ۔ لیکن پھر بھی میں ایک انسان ہوں مجھ سے غلطی ہو سکتی ہے۔
آپ سے ایک گذارش ہے کہ کبھی بھی میری غلطی پر آپ مجھ سے بدگمان مت ہونا ۔
بس ایک بات اپنے دل میں رکھنا کہ میں آپ سے بہت محبت کرتا تھا بہت محبت کرتا ہوں اور مرتے دم تک کرتا رہوں گا ۔
زاویار نے محبت سے عفت کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا اور یہ خوبصورت سی انگوٹھی ان کی انگلی میں پہنا دی۔
چھوٹے تم شروع سے میرے نصیب میں لکھ دیے گئے تھے عفت بی نے جیسے ہی یہ جملہ ادا کیا زاویار نے انہیں چپ رہنے کا اشارہ کیا
آج کے بعد آپ مجھے جھوٹا نہیں بولیں گی کیونکہ اب میں چھوٹا نہیں ہوں۔ اب میری شادی ہوگئی ہے۔ اب میں بڑا ہو گیا ہوں ۔
ہاں یہ تو ہے زاویار کی بات پر عفت بی مسکرانے لگیں۔
آپ مسکراتی ہوئی بہت خوبصورت لگتی ہیں ۔ زاویار نے کھلے دل سے تعریف کی۔
ہم سب کے دل میں کچھ محرومیاں ہوتی ہیں لیکن اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ ہم اپنی محرومیوں میں اپنی ساری زندگی گزار دیں۔
آج ہم اپنی نئی زندگی شروع کر رہے ہیں میں چاہتا ہوں کہ آپ کے دل میں جتنی بھی فضول باتیں ہیں وہ یا تو آپ مجھے بتا دیں یا پھر ان کو دفنا دیں۔
زاویار کی بات پر عفت بی کچھ دیر خاموش رہیں پھر آہستہ سا بولیں۔
مجھے تم سے اب کسی قسم کی کوئی شکایت نہیں ہے میں بہت خوش ہوں کیونکہ تمہیں اللہ نے میرے لئے چنا ہے مگر صرف ایک بات کا جواب دے دو اس کے بعد کبھی نہیں پوچھوں گی ۔
عفت کی بات پر زاویار نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا
میں امید کرتا ہوں کہ وہ سوال ماہی کے بارے میں بالکل بھی نہیں ہوگا ۔
زاویار کے جواب پر عفت خاموش ہوگئی اور اپنی گود میں رکھے ہوئے اپنے ہاتھوں کو دیکھنے لگی
پوچھیں نااااا خاموش کیوں ہو گئی۔۔۔۔۔؟ زاویار نے محبت سے دوبارہ ہاتھ پکڑ لیے
مجھے کچھ بھی نہیں پوچھنا ہے ۔ عفت پھیکا سا مسکرائیں
یہ تو بہت اچھی بات ہے باتوں میں ٹائم ضائع کرنے کا کیا فائدہ ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
چھوٹے
زاویار کی شرارت کو سمجھتے ہوئے عفت نے کہا
پھر چھوٹے
چھوٹے چھوٹے چھوٹے چھوٹے زاویار نے غصہ کیا
کیا کرو عادت پڑی ہوئی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ عفت نے معذرت کی
آپ صرف تب تک مجھے چھوٹا کہہ سکتیں ہے جب تک ہمارا چھوٹا نہیں آ جاتا اتنی ہی رعایت دے سکتا ہوں میں آپ کو زاویار کی بات پر عفت نے مسکرا کے نظریں جھکا لیں
(میں اچھے سے جانتا ہوں کہ آپ نے ماہی کے بارے میں ہی پوچھنا تھا ۔
عورت کبھی دوسری عورت کو برداشت نہیں کرتی خاص طور پر اس انسان کے ساتھ جو اس کا ساتھی ہو
مجھ سے زندگی کی بہت بڑی بھول ہو گی جو میں نے عفت کو ماہی کے بارے میں بتایا
اب یہ ساری زندگی اسی دکھ میں گزاریں گی کہ میری زندگی میں کبھی ماہی تھی
حالانکہ میں نے اس معصوم کو کبھی کوئی اہمیت دی ہی نہیں ۔
مگر میں اس چیز کا اعتراف کبھی نہیں کروں گا کہ مجھے بھی ماہی سے محبت ہو گئی تھی۔
ماہی کو تو صدیق جیسا اچھا انسان مل گیا اور اگر وہ نا بھی ملتا تو کوئی اور مل جاتا ۔
مگر آپ ساری زندگی سکینہ پھپھو کی طرح رہتیں۔ جو مجھے منظور نہ تھا۔
ہمارے معاشرے میں ایسی بہت ساری لڑکیاں اپنے ماں باپ کے گھر ہی بیٹھی بوڑھی ہوجاتی ہیں
کیا ان کا زندگی کی خوشیوں پر کوئی حق نہیں ۔۔۔۔۔۔؟
جب ہم چھوٹی عمر کی لڑکیوں سے شادی کرنا برا نہیں سمجھتے تو پھر بڑی عمر کی لڑکی سے شادی کرتی کیوں موت پڑتی ہے ۔۔۔۔۔۔؟
اگر ہم اپنے معاشرے میں سکون چاہتے ہیں تو ہمیں غلط روایات ختم کرنی پڑیں گی۔
مجھے پورا یقین ہے کہ آپ میری بہت اچھی شریک حیات ثابت ہوں گی ۔
ماہی میرا ماضی تھا
اور کوئی بھی انسان اپنا ماضی نہیں بھولتا خاص طور پر اگر وہ اتنا خوبصورت ہو تو پھر میں کیسے بھول سکتا ہوں ۔؟؟؟
ماہی تم نے بالکل ٹھیک کہا تھا کہ “بھولتا تو کوئی بھی نہیں ہے ۔ “
عفت میری پہلی محبت تھی اور تم دوسری کچھ بھی کر لو پہلی محبت پہلی ہی ہوتی ہے )
زاویار نے عفت کی طرف دیکھتے ہوئے محبت سے اس کے ہاتھ کو چوما۔
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
حسن میں تمہیں اب بھی اچھی لگتی ہو نا اااااا
عروسہ نے حسن کے پاس بیٹھتے ہوئے پوچھا
اب بھی سے کیا مراد ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حسن اپنے موبائل پر کچھ دیکھ رہا تھا
میرا مطلب ہے کہ عالیہ پھوپھو نے اب ساری بات تمہیں بتا تو دی ہے عروسہ نے ہچکچاتے ہوئے کہا
آج تو تم نے یہ بات کی ہے عروسہ مگر اب دوبارہ مت کرنا ۔ میں اس قصے کو ہمیشہ کے لئے ختم کرنا چاہتا ہوں کیونکہ میں جتنا اس کے بارے میں سوچتا ہوں سوائے دکھ کے مجھے کچھ حاصل نہیں ہوتا
اور شدید تکلیف سے میں گزرتا ہوں۔ میرا دل تڑپتا ہے۔ اور یہ احساس کہ میں اپنی پھوپھو کے لیے کچھ نہیں کر سکا مجھے ذہنی اذیت دیتا ہے
سوری میں آج کے بعد ایسا نہیں بولوں گی عروسہ نے محبت سے حسن کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر تسلی دی
عروسہ تم مجھ سے ایک وعدہ کرو _ حسن نے اپنا ہاتھ عروسہ کے آگے کیا
کیسا وعدہ ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عروسہ نے ہچکچاتے ہوئے اپنا ہاتھ حسن کے ہاتھ پر رکھا
تم آج سے “ڈائیٹنگ” کرو گی اور اپنا وزن جتنا ہو سکا کم کروگی حسن کی بات پر عروسہ نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے کھینچ لیا تم چاہتے ہو کہ میں بھوکی مر جاؤں
عروسہ نے احتجاج کیا
اور تم چاہتی ہو کہ میں تمہارے وزن سے مر جاؤں _ حسن نے بھی اسی انداز میں جواب دیا یار بات سمجھنے کی کوشش کرو سب مجھے تمہارے موٹاپے کا طعنہ دیتے ہیں۔ کہاں میں اتنا اسمارٹ ، خوبصورت
اور کہاں تم اتنی حسن نے ہاتھوں سے مختلف سائز بنائیں
ایک تو تمہارا سائز انسان ہاتھوں سے بتا بھی نہیں سکتا بس مجھے نہیں پتہ تم تھوڑا کنٹرول کرو۔
حسن کہتا ہوا دوبارہ اپنے موبائل کی طرف متوجہ ہو گیا جبکہ عروسہ کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے
کیا میں واقعی ہی بہت موٹی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عروسہ نے نم آواز میں پوچھا
اب کون کافر حمایت کرے گا ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حسن زیرلب بڑبڑایا
نہیں یار میں مذاق کر رہا تھا پلیز چپ کر جاؤ حسن نے عروسہ کے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا
پکی بات تم مذاق کر رہے تھے
عروسہ نے تصدیق چاہی
ہاں نہیں تو اور کیا ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ مجھے تو تم “گول گپا” سی اتنی پیاری لگتی ہو۔ کہ کیا بتاؤں ۔۔۔۔۔؟؟؟
حسن کی بات پر عروسہ کا چہرہ ایک دم کھل گیا ۔
Thank u so much and I love u
عروسہ نہ کہتے ہوئے حسن کے کندھے پر سر رکھ لیا۔
دیکھو محبت اپنی جگہ میں بھی تم سے بہت محبت کرتا ہوں مگر پلیز اپنا سر اٹھا لو کندھے کا جوڑ نکل جائے گا ۔
حسن کی بات پر عروسہ نے سر اٹھا کر اسے غور سے دیکھا جبکہ حسن مسکرا دیا
میں ڈائیٹنگ کرنے کی کوشش کروں گی ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عروسہ کی بات پر حسن حیرت سے اسے دیکھنے لگا
لوگ محبت میں اتنا کچھ کرتے ہیں کیا میں ایک ڈائیٹنگ نہیں کر سکتی ؟؟؟؟ عروسہ نے جتلایا
یہ محبت بھی عجیب چیز ہے کبھی انتہائی “خود غرض” ہو جاتی ہے اور کبھی “قربانیاں” دیتے نہیں تھکتی ۔
خیر جو بھی ہے ہم کو آپ سے پیار ہے حسن کی بات پر عروسہ کی روح سرشار ہوگی۔
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
شاہ جی آپ نے مجھے بلایا تھا کوئی ضروری بات تھی ۔۔۔۔۔۔۔؟ صدیق نے عاجزی سے زاویار کے پاس کھڑے ہو کر پوچھا
پہلی بات تو یہ کہ تم اب مجھے شاہ جی مت بولا کرو مجھے میرے نام سے بلایا کرو۔
حسن کی طرح میں بھی تمہارا بھائی ہوں اور بابا نے بھی ساری زندگی تمہیں اپنا بیٹا ہی سمجھا ہے ۔
ایف ایس سی کا رزلٹ آگیا ہے تمہاری بیگم بہت زبردست نمبر لے کر پاس ہوئی ہے ۔
میری اور بابا کی ہمیشہ سے یہ خواہش رہی تھی کہ ہمارے گاؤں میں بھی ایک اچھی لیڈی ڈاکٹر ہو جو یہاں کی عورتوں کے مسائل حل کر سکے ۔
اگر تمہیں برا نہ لگے تو میں تمہاری بیگم کا داخلہ میڈیکل کالج میں کروا دو ۔۔۔۔۔؟؟؟
زاویار کو پہلی بار عجیب سا محسوس ہورہا تھا کسی کے خاوند سے اس کی بیوی کے بارے میں بات کرنا ۔
آپ کا بہت بہت شکریہ مگر اس بات کا فیصلہ ماہی کر سکتی ہے ۔ مجھے تو پڑھائی لکھائی کی کچھ سمجھ نہیں ہے ۔
اگر وہ ڈاکٹر بننا چاہے تو مجھے کیا اعتراض ہو سکتا ہے مگر میں اتنے پیسے کہاں سے لاؤں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟
تم اس بات کی فکر مت کرو پیسے کا بندوبست بھی میں ہی کروں گا بس تم مجھے یہ پوچھ دو کہ اسے کوئی اعتراض تو نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔؟ زاویار کی بات پر صدیق نے ہاں میں سر ہلایا
حسن چاہتا ہے کہ تم اس کے ساتھ شہر چلو اگر تم جاننا چاہو تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔
مگر میرا دل کرتا ہے کہ تم یہیں میرے پاس رہو۔ بابا کو تم پر بہت اعتبار تھا اور اب مجھے بھی میں تمہارے بغیر اپنے آپ کو بہت تنہا محسوس کروں گا ۔
زاویار کی بات پر صدیق کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی
عفت جو اس وقت لیونگ روم میں داخل ہو رہی تھی ان کے چہرے سے یہ بات سن کر مسکراہٹ ختم ہوگی۔
آخر تم ان میاں بیوی کو یہاں سے جانے کیوں نہیں دے رہے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
صدیق کے جاتے ہی عفت نے زاویار کے برابر صوفے پر بیٹھتے ہوئے پوچھا
بابا کو صدیق پر بہت اعتبار تھا اور ویسے بھی میں اکیلا ہوں صدیق کی وجہ سے مجھے بہت آسرا رہتا ہے وہ قابل اعتماد بھی ہے اور وفادار بھی زاویار نے ٹی وی کی طرف دیکھتے ہوئے آرام سے جواب دیا
اور یہ اس کی بیگم پر کس خوشی میں تم خرچہ کرنے لگے ہو ۔کیا ضرورت ہے اسے ڈاکٹر بنانے کی ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
عفت کے لہجے میں جیلسی کا عنصر نمایاں تھا ۔
آپ کو کیا ہو جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ وہ ڈاکٹر بنے گی تو گاؤں کی عورتوں کو اس سے فائدہ پہنچے گا وہ ہمارے علاقے کی ہے _
زاویار نے سمجھایا
پتا نہیں تم مجھے کیا سمجھانا چاہ رہے ہو مگر مجھے تو کچھ اور ہی سمجھ آ رہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
عفت بی پاؤں پٹختی ہوئیں لیونگ روم سے باہر چلی گئی جبکہ زاویار نفی میں سر ہلانے لگا
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
جاری ہے