Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 17

حسن اس وقت عروسہ کے ساتھ ایک فائیو سٹار ہوٹل میں بیٹھا کافی کا انتظار کر رہا تھا جبکہ عروسہ بےچین سی ادھر ادھر دیکھ رہی تھی.
اتنی بےچین کیوں ہو ………..؟ کیا پہلی بار مل رہے ہو ……….. ؟عروسہ کی بےچینی کو نوٹ کرتے ہوئے حسن نے پوچھا
نہیں وہ اصل میں تمہاری وجہ سے عروسہ کی بات پر حسن کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی.
مطلب میری وجہ سے میں سمجھا نہیں. حسن نے مصنوعی سنجیدگی سے کہا میں انھیں کیا بتاؤں گی کہ آپ میرے کون ہیں ………. ؟عروسہ نے ٹشو پیپر سے اپنا ماتھا صاف کیا جہاں پسینہ نام کا بھی نہیں تھا. یہ تم مجھے “آپ” کیوں کہہ رہی ہو ……… ؟ مجھے اتنی عزت راس نہیں آتی. دوسرا تمہیں اسے کچھ بھی بتانے کی ضرورت نہیں ہے میں اپنا تعارف ہمیشہ خود کرانا پسند کرتا ہوں. حسن کی بات پر عروسہ نے سکھ کا سانس لیا تبھی ویٹر کافی کے گرما گرم کپ لے آیا. پتہ تو کرو تمہارا “ہیرو” ابھی تک کیوں نہیں آیا ……… ؟حسن کے کہنے پر عروسہ نے میسج ٹائپ کرنا شروع کیا. سادہ بلیک سوٹ پہنے بالوں کا رف سا جوڑا بنائے کانوں میں چھوٹے چھوٹے گولڈ کے ٹاپس پہنے دائیں ہاتھ کی تیسری انگلی میں ایک رنگ صاف شفاف رنگ حسن نے بڑی فرصت سے عروسہ کا جائزہ لیا.
(اگر یہ موٹی نہ ہو تو اچھی خاصی خوبصورت ہے مگر پتہ نہیں کیوں آٹے کا تھیلا بننا اسے پسند ہے سارے حسن کا بیڑہ غرق کر کے رکھا ہوا ہے.) حسن نے گلا صاف کرتے ہوئے اس کی توجہ اپنی طرف مبذول کروائی.
ایک بات پوچھو اگر تم برا نہ مناؤ تو
؟حسن نے کافی کا کپ اپنے قریب کرتے ہوئے سرسری سے انداز میں کہا
ہاں پوچھو _ عروسہ نے موبائل سائیڈ پر رکھتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھ جوڑ کر ٹیبل پر رکھے. لڑکیاں تو اپنے بارے میں بہت فکر مند ہوتیں ہیں. مگر تم تو اپنے بارے میں ایسے لاپرواہ ہو جیسے ہم لوگ اپنے سیاستدانوں کے کہ جو دل آئے کرو ہمیں کیا ……… ؟ حسن نے کندھے اچکائے.
یہ تم بات گھما پھرا کر میرے اوپر کیوں لے آتے ہو. عروسہ کا موڈ سخت خراب ہوا.
میں تو تمہاری بہتری کے لئے کہہ رہا ہوں. اگر تم صرف اپنا وزن 50 kg تک کم کر لو اور کسی اچھی برینڈ کے کپڑے جیسے Beech tree یا Maria B وغیرہ کے پہنو تو میرے خیال سے تم اچھی خاصی خوبصورت لگو گی حسن نے کافی کا گھونٹ بھرتے ہوئے عروسہ کو دیکھا
وہ میں کوشش تو کرتی ہوں مگر مجھ سے بھوک برداشت نہیں ہوتی
عروسہ کی شکل پر حسن کو ہنسی آ گئی. اتنی دیر میں ایک انتہائی سمارٹ اور خوبصورت نوجوان تھری پیس سوٹ پہنے اسے اپنی طرف آتا نظر آیا.
حسن نے آنکھوں کے اشارے سے عروسہ کی توجہ ادھر دلوائی تو وہ اس شخص کو دیکھ کر لال ہونے لگی. جبکہ حسن کسی گہری سوچ کا شکار ہوا.
ہائے میرا نام وسام ہے. انتہائی دوستانہ اور خوشدلی سےوسام نے اپنا تعارف کرواتے ہوئے حسن ساتھ مصافحہ کیا جبکہ حسن کے اندر تجسس کی گھنٹیاں بجنے لگیں.
عروسہ تم کیسی ہو ……… ؟ وسام نے عروسہ کے مقابل اور حسن ساتھ بیٹھتے ہوئے پوچھا
بلکل ٹھیک _ عروسہ کے چہرے پر حیا کی سرخیاں نمایاں تھیں. یہ جافی کا آڈر تم نے کیا ہے جبکہطتم جانتی ہو مجھے کافی بلکل پسند نہیں وسام نے کافی کے کپ کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
وہ حسن نے آڈر کیا تھا مجھے تو خود بھی کافی پسند نہیں عروسہ نے اپنے سامنے پڑے کپبکو ہاتھ کی پشت سے پیچھے کیا.جس پر حسن کو شدید حیرت ہوئی. ( موٹی جھوٹی گھر میں تو بار بار پیتی ہے. ) میں نے آڈر دیا تھا مجھے معلوم نہیں تھا. حسن نے اخلاق کا اعلیٰ نمونہ پیش کرتے ہوئے معزرت کی. مگر عروسہ کو تو پتہ تھا ناااااا وسام کا لہجہ سخت ہوا جس پر عروسہ کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں.
سوری وسام میں جوس کا آڈر کرتی ہوں عروسہ نے ادھر ادھر نظریں گھما کر ویٹر کو تلاش کیا. رہنے دو اور بتاؤ کہ مجھے کیوں بلایا ہے ………. ؟ میرے پاس زیادہ وقت نہیں ہے. مجھے ایک ضروری میٹنگ اٹینڈ کرنی ہے. ابھی بھی آفس سے ہی آ رہا ہوں. تمہیں تو پتہ ہی ہے کہ میرا وقت کتنا قیمتی ہے
؟ وسام کی بات پر عروسہ نے ہلکا سا سر ہلا کر حسن کی طرف دیکھا
میں اس کا کزن ہوں کل ہی لندن سے آیا ہوں. عروسہ اپنی ہر بات مجھ سے شئیر کرتی ہے میں نے سوچا پہلے آپ سے مل لوں پھر دادا جی کو منانا میرا کام ہے _ حسن کے پر اعتماد لہجہ پر عروسہ نے اسے حیرت سے دیکھاجبکہ حسن مسکرا دیا. (ایسے کیوں دیکھ رہی ہو موٹی اگر تم نے جھوٹ بولنے میں ماسٹرز کیا ہے تو میں پی ایچ ڈی ہوں. ) اوہ اچھا مگر اس نے کبھی ذکر نہیں کیا. وسام کی آنکھوں میں اب کی بار حیرت تھی. تو مسٹر وسام اب زرا اپنے بارے میں کچھ بتائیں جیسے آپ کی فیملی، بزنس اور شوق وغیرہ کیونکہ جب تک میں مطمئن نہیں ہونگا تو دادا جی کو کیسے کروں گا ………..؟ حسن نے وسام کی طرف مڑتے ہوئے کہا کیا ضرورت تھی اس سب کی _ عروسہ نے دل ہی دل میں حسن کو خوب کوسا جبکہ وسام اب حسن کی باتوں کا جواب پوری سنجیدگی سے دے رہاتھا.
وسام سے بات کرتے ہوئے جو ایک چیز حسن نے نوٹ کی وہ یہ تھی کہ وہ عروسہ کو بہت کڑے تیوروں سے گاہے بگاہے دیکھ رہا تھا. ہر بات میں اس کی مخالف کر رہا تھا. ایک بار بھی اس نے عروسہ کی تعریف نہیں کی.
اچھا میں اب چلتا ہوں پھر ملاقات ہو گی امید ہے آپ کی تسلی ہو گئی ہو گی. ویسے مجھے آپ سے مل کر بہت اچھا لگا وسام حسن سے ہاتھ ملاتا ہوا اٹھ کھرا ہوا اور اس کے ساتھ ہی عروسہ اور حسن بھی کھڑے ہو گئے. میرے خیال سے عروسہ ہمیں بھی اب چلنا چاہیے. حسن کی بات پر تینوں ایک ساتھ ہال سے پارکنگ کی طرف بڑھے. پھر حسن نے جان بجھ کر سر پر ہاتھ مارتے ہوئے بھولنے کی ایکٹنگ کی جبکہ اس نے ٹیبل سے اٹھتے ہی بل مینیو بک میں رکھ دیا تھا. ارے میں بل دینا بھول ہی گیا آپ دونوں پارکنگ میں چلیں میں بس ابھی آتا ہوں. حسن کہتا ہوا مڑ گیا جبکہ وہ دونوں پارکنگ کی طرف بڑھ گئے. ہال میں پہنچ کر حسن نے گلاس ڈور سے پارکنگ میں کھڑے عروسہ اور وسام کو دیکھا جو کسی بات پر لڑ رہے تھے.. وسام مسلسل انگلی اٹھا اٹھا کر کسی بات پر عروسہ کو تنبہہ کر رہا تھا جبکہ عروسہ سر جھکائے خاموش کھڑی تھی. یہ کیسی محبت ہے میں نے تو آج تک نہ دیکھی نہ سنی نہ تعریف بس تنقید
رعب اور ڈانٹ ہی ڈانٹ حسن خود کلامی کرتے ہوئے اب پارکنگ کی طرف چل پڑا.
وہاں پہنچ کر جو آخری جملہ وسام کا اس کے کانوں میں پڑا اس نے حسن کے رہتے سہتے اوسان بھی خطا کر دیے.
آئندہ ایسا نہ ہو ورنہ میرا تعلق تم سے ختم وسام کی بات پر عروسہ کی آنکھوں میں جگنو چمکنے لگے جو حسن کو بہت برے لگے.
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
ماہی صحن میں جھاڑو دے رہی تھی کہ کسی نے بری طرح دروازہ پیٹنا شروع کیا.
اللہ رحم کرے. کیا مصیبت آن پڑی ہے جو اس طرح دروازہ توڑنے لگے ہو. چل کر ہی آنا ہے اڑنے سے تو رہے
ماہی نے سر پر دوپٹہ لیتے ہوئے آنے والی کی کلاس لی اور دروازہ کھولنے لگی.
دروازہ کھلتے ہی انور گرتا پڑتا اندر کمرے میں بھاگ گیا جبکہ ماہی اسے دیکھ کر حیرت سے دروازہ بند کرنے لگی.
یہ کیا بدتمیزی ہے _ کہاں سے آ رہے ہو _ حلیہ دیکھا ہے اپنا نہ پاؤں میں جوتی ہے کپڑے مٹی سے بھرے ہیں ؟ ماہی نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے انور کو باتیں سنائیں اس بات سے بےخبر کہ وہ اس وقت کس ذہنی اذیت سے گزر رہا ہے.
بولو بھی کچھ کیا ہوا ہے …….. ؟؟؟ بھوت ووت تو نہیں دیکھ لیا جو یوں کانپ رہے ہو انور جو چارپائی کے نیچے گھسا بری طرح کانپ رہا تھا ماہی نے اسے دیکھ کر پوچھا
ماہی مجھے بچا لو میں نے کچھ نہیں کیا وہ سب تو منیر نے کیا ہے ماہی مجھے مرنے سے بہت ڈر لگتا ہے ماہی کسی کو کچھ مت بتانا کہ میں یہاں ہوں
انور ہاتھ جوڑتا مسلسل بول رہا تھا ماہی کو اس وقت انور کی حالت پر شدید ترس آیا.
اچھا اچھا ٹھیک ہے تم پریشان مت ہو اور اوپر چارپائی پر بیٹھو میں تمہارے لیے پانی لاتی ہوں. ماہی نے انور کا بازو پکڑ کر اسے اوپر بیٹھایا.
ماہی وہ لوگ مجھے پولیس کے حوالے کر دیں گے پولیس تو بہت مارتی ہے ماہی میں جیل نہیں جانا چاہتا تو مجھے بچا لے گی ناااااا آخر میں تیرا بھائی ہوں انور نے ماہی کا ہاتھ پکڑتے ہوئے التجا کی.
کچھ نہیں ہوتا تجھے _ منہ ہاتھ دھو اور کچھ کھا پی لے پھر بات کرتے ہیں. ابا اماں ابھی گھر پر نہیں ہیں وہ آتے ہیں تو _ ماہی نے ابھی اتنا ہی کہا تھا کہ ایک بار پھر دروازہ بجنے لگا
ماہی وہ لوگ مجھے لینے آ گئے ہیں. تجھے قسم ہے مجھے بچا لے میں نے کہیں نہیں جانا انور اب رونے کے ساتھ ساتھ اب باقاعدہ چیخنے لگا تھا. اس کی حالت اب سچ مچ ماہی کو پریشان کرنے لگی تھی.
تو ایسا کر وہ گندم والے ڈرم کے پیچھے چھپ جا میں دروازے پر دیکھتی ہوں کہ کون یے ……. ؟ اور ہاں جب تک میں آواز نہ دوں باہر مت آنا. ماہی کمرے کا دروازہ بند کرتی ہوئی باہر نکل گئی.
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
فرزین ٹیرس پر بیٹھی سڑک پر برستی بارش کو بہت غور سے دیکھ رہی تھی. ٹھنڈی ہوا کے جھونکے اسے خود میں سمٹنے پر مجبور کر رہے تھے.
فرزین نے خود کو سردی سے بچانے کے لیے اپنے وجود کو کرسی پر سمیٹا تبھی ایک شال اس کے کندھوں پر گری. جسے اس نے فوراً اپنے گرد لپیٹا.
آج کل انسان کسی بھی وجہ سے ایمرجنسی میں جائے تو ہسپتال والے اسے ” کرونا” کا ٹیگ لگا کر گھر والوں کو سفید کپڑوں والا فنکشن کروا دیتے ہیں جبکہ تمہاری عمر ابھی سفید نہیں سرخ کپڑوں والی ہے سعد انتہائی سنجیدگی سے کہتا ہوا ریلنگ ساتھ کھڑا ہو گیا جہاں کچھ دیر پہلے فرزین کھڑی تھی.
میرے ذاتی اندازے کے مطابق عام لڑکیاں بولتے ہوئے جبکہ تم خاموش زیادہ اچھی لگتی ہو سعد کی بات پر فرزین نے اسے غصے سے دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا.
تم نے میری زندگی حرام کر دی ہے دو پل سکون کی خاطر یہاں بیٹھی تھی مگر تم سے وہ بھی برداشت نہ ہوا چلے آئے میرا سکون برباد کرنے. فرزین نے کرسی سے نیچے پاؤں اتارتے ہوئے کہا
جینا حرام تو تم نے کیا ہوا ہے وہ بھی سب کا کل امی ساتھ کیا بکواس کی تھی ……. ؟ وہ اتنی پریشان ہیں مگر تمہیں احساس ہو تب ناااااا خود غرض لڑکی سعد نے اس کے مقابل بیٹھتے ہوئے اپنی ٹانگیں اس کی کرسی ساتھ لگائیں.
وہ میرا اور پھپھو کا معاملہ ہے تمہیں اس میں اپنی ٹانگیں اڑانے کی ضرورت نہیں
اور انھیں پیچھے کرو مجھے جانا ہے. فرزین نے سعد کی ٹانگوں کی طرف اشارہ کیا.
بیٹھ جاؤ مجھے تم سے صاف صاف ایک بات کرنی ہے وہ یہ کہ آخر تم چاہتی کیا ہو ……… ؟ سعد نے انگلی کے اشارے سے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا.
میں تمہاری غلام نہیں کہ جو تم کہو وہ میں کروں اور رہی بات صاف صاف کی تو مسٹر سعد مجھے تم سے “طلاق” چاہیے میں کسی اور ساتھ اپنی زندگی گزارنا چاہتی ہوں. جو پورے مان کے ساتھ مجھے یہاں سے لے کر جائے فرزین کی بات پر سعد اس کے بلکل سامنے کھڑا ہو گیا.
یہ جو تمہارا دماغ ہے نااااا یہ انڈین ڈراموں نے خراب کر دیا ہے. صرف ایک ماہ اگر تمہارا ٹی وی بند کر دیا جائے تو مجھے پکا یقین ہے کہ تم بلکل سیدھی ہو جاؤ گی سعد نے اپنی دو انگلیاں اس کے سر پر مارتے ہوئے لاڈ سے کہا
میں بلکل سیریس ہوں. مذاق نہیں کر رہی مجھے ایسے شخص ساتھ شادی کرنی ہے جو پہلے منتوں سے میرا رشتہ مانگے تاکہ اسے میری قدر ہو پھر پورے زمانے کے سامنے بھری بارات ساتھ مجھے ڈنکے کی چوٹ پر لے کر جائے.
نہ کہ ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں چوروں کی طرح پتہ محلے والے تمہارے اور میرے “نکاح” کے بارے میں کیسی باتیں کرتے ہیں ……. ؟ فرزین نے دکھ سے سعد کی طرف دیکھا
کیا باتیں کرتے ہیں ……. ؟؟؟ سعد نے تعجب سے اسے دیکھا
یہی کہ میں اور تم پھر اچانک فرزین کو کچھ خیال آیا تو چپ کر گئی.
میں اور تم آگے سعد کو اپنا ایسا افئیر سننے کا دل کر رہا تھا جو سرے سے تھا ہی نہیں.
میں نے اور تم نے کوئی “گل” کھلایا ہو گا تبھی گھر والوں نے چپ کر کہ ہمارا “نکاح” کر دیا فرزین نے نم آنکھوں ساتھ باہر گرتی بارش کو دیکھا.
مجھے تمہاری حالت پر افسوس ہے. بجائے اس کہ تم لوگوں کو کھری کھری سناؤ کہ سعد تو یہاں رہتا ہی نہیں ہے. تم ان کی باتوں سے دکھی ہو رہی ہو.
میں نے اپنی زندگی کا تقریباً سارا عرصہ مختلف ہاسٹلز میں گزارا ہے. چھٹی کلاس سے کبھی ” بوڈنگ ہاؤس” اور کبھی “ہاسٹل” اپنی زندگی گزار رہا ہوں. میں جب یہاں رہا ہی نہیں تو باوجود شدید خواہش کہ افئیر کیسے چلاتا _ سعد کچھ دیر رکا اور اس کے پاس ریلنگ ساتھ کھڑا ہو گیا.
تمہیں لوگوں کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے. وہ تو تم سے جلتے ہیں کہ تمہیں مجھ جیسا لڑکا خودبخود مل گیا بغیر کسی محنت کے سعد اپنی بات پر خود ہی ہنسا
تمہیں صرف امی ابو کی پرواہ ہونی چاہیے جو تم سے بےحد پیار کرتے ہیں اتنا کہ میں بھی تم سے جیلس ہو جاتا ہوں سعد نے کہتے ہوئے نرمی سے فرزین کے کندھے پر شال درست کی.
میں امی ابو سے کہہ کر ایک ماہ کے لیے تمہارا ٹی وی بند کروا رہا ہوں. تم اس ایک ماہ میں میرے بارے میں خوب سوچو اور ایک ٹھوس وجہ تلاش کرو جس کی بنا پر میں تمہیں “طلاق” دے سکوں.
پیپرز سے واپسی پر اگر مجھے لگا تمہاری وجہ “قابل قبول” ہے تو میں تمہیں آزاد کر دوں گا. بصورتِ دیگر تم پھر کبھی یہ موضوع نہیں چھیڑو گی اور میری اچھی بیوی بننے کی کوشش کرو گی سعد فرزین کو ہکا بکا چھوڑ کر ٹیرس سے چلا گیا.
خبردار جو میرا ٹی وی بند کیا تو پھپھو __
ہوش میں آتے ہی فرزین اوازیں لگاتی اس کے ہیچھے لپکی کیونکہ ڈرامہ دیکھے بغیر تو اس کا دن نہیں گزرتا تھا.
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
جاری ہے.