Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 14

ما ہی اس وقت اپنی اماں کے ساتھ مل کر روٹیاں پکا رہی تھی اور ساتھ ہی ساتھ انھیں شہر کی مزے دار باتیں بھی سنا رہی تھی جبکہ اسلم چارپائی پر قریب ہی بیٹھا ان کی باتوں سے خوش ہو رہا تھا۔اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی
لگتا ہے انور آگیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسلم کہتا ہوا کھڑا ہوگیا جبکہ نوراں نے حیرت سے دروازے کی طرف دیکھا
اس طرح تو دستک نہیں دیتا اتنی تمیز سے آج تک کبھی دروازہ نہیں کھٹکھٹایا یقینا کوئی اور ہو گا مگر اس وقت ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ نوراں نے حیرت سے ماہی کو دیکھا
اسلم نے جیسے ہی دروازہ کھولا باہر ایک اجنبی کو کھڑے پایا
جی یہ انور کا گھر ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ اجنبی نے پوچھا
ہاں جی اسی کا گھر ہے میں ابا ہوں اس کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیوں کیا ہوا کوئی خاص بات ہے وہ خود کہاں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ اسلم کا دل بھی ڈر رہا تھا
وہ آج دربار پر محفل ہے تو کہہ رہا تھا کہ میں یہاں رہوں گا میرے گھر بتا دینا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اجنبی نوجوان کہتا ہوا چل دیا جب کہ اسلم نے دروازہ بند کیا اور چپ چاپ واپس آکر اپنی چارپائی پر بیٹھ گیا
انور کے ابّا کون تھا۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ نوراں نے پوچھا
پتا نہیں انور کا کوئی دوست تھا کہہ رہا تھا آج دربار پر محفل ہے تو وہ گھر نہیں آئے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسلم نے کھوئے کھوئے سے لہجے میں جواب دیا
آج سے پہلے تو اس نے کبھی ایسا نہیں کیا حالانکہ وہ آگے بھی کئی کئی دن گھر سے غائب رہتا ہے اور ایسا کون سا اس کا دوست پیدا ہوگیا جسے تم نہیں جانتے ۔ اس گاؤں کے تمام بچے تمہاری آنکھوں کے سامنے جوان ہوئے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ نوراں کے پوچھنے پر اسلم نے ایک نظر ماہی کو دیکھا
یہی تو مجھے پریشانی ہو رہی ہے وہ بندہ کم ازکم اس گاؤں کا نہیں ہے ۔کیونکہ میں نے اسے پہلے کبھی یہاں نہیں دیکھا دوسرا میرا نہیں خیال کہ آج دربار پر کوئی محفل ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟
سارا دن میں کھیتوں میں گاؤں والوں کے ساتھ رہا ہوں۔اگر ایسا کچھ ہوتا تو کوئی نہ کوئی ذکر ضرور کرتا ۔۔۔۔۔۔۔ اسلم اب سچ مچ پریشان ہو گیا تھا ۔
ابا چھوڑیں آجائے گا ۔ وہ کونسا دودھ پیتا بچہ ہے جو کہیں گم ہو جائے گا ۔آپ روٹی کھائیں اور پریشان نہ ہوں ۔۔۔۔۔۔۔ ماہی نے تسلی دیتے ہوئے روٹی اسلم کی اگے چارپائی پر رکھی۔
میں آج اکیلے روٹی نہیں کھاؤں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں تو اپنی بیٹی کے ساتھ روٹی کھاؤں گا اسلم نے محبت سے ماہی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جس پر وہ مسکرا دی۔
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
یار ایک بات ہے کمرہ تو بہت ہی “لش پش” ہے میں نے تو کبھی خواب میں بھی ایسا کمرا نہیں سوچا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ علی نے بستر پر گرتے ہوئے کہا
بس تو اپنے بھائی کے سسرال میں عیش کر ۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ میں بھی یہی کروں گا اور آتا ہی کیا ہے ہم دونوں کو ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حسن نے تولیے سے بال رگڑتے ہوئے کہا
تو نہا کر آ رہا ہے۔ ابھی کل ہی تو ہاسٹل میں نہایا تھا ۔ تجھے تو ہفتے میں ایک بار نہانے کی عادت ہے۔ پھر اب کیوں بار بار نہا رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟علی نے حیرت سے پوچھا
زیادہ حیران ہونے کی ضرورت نہیں ہے تو ذرا واش روم سے ہو کر آ تجھے لگ پتہ جائے گا ۔ایسے واش روم سے باہر نکلنے کو دل ہی نہیں کرتا ۔اتنا بڑا اتنا خوبصورت _ یقین مان مڈل کلاس کے پاس ایسا واشروم ہو تو وہ درمیان میں دیوار کھڑی کر کے دو بچے بیاہ دیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حسن کی بات پر علی اور حسن نے مشترکہ قہقہ لگایا
بس مجھے ایک بات اس واش روم کی پسند نہیں آئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حسن نے تولیہ کرسی پر رکھتے ہوئے ناگواری سے کہا
وہ کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ علی نے تجسس سے پوچھا
یار پوری دیوار پر اتنے بڑے شیشے لگے ہوئے ہیں نہاتے وقت شرم سی آتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حسن کی بات پر علی نے پہلے حیرت سے پھر شرارت سے اسے دیکھا
کیا واقعی ہی شرم آتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟علی نے کنفرم کیا
اور نہیں تو کیا بندہ پورے کا پورا نظر آ رہا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ علی کہتا ہوں آپ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بال بنانے لگا جبکہ علی کا ہنس ہنس کے برا حال تھا۔
میں نے اب بس بھی کر دے میرا چہرہ شرم سے لال ہوگیا ہے ۔حسن نے ہیئر برش زور سے علی کے مارا اور خود اپنے چہرے پر ہاتھ پھیر کے اپنی آپ کو نارمل کرنے لگا
اللہ کرے جلدی سے زاویار اور سعد واپس آ جائیں تو تیری حالت بتا بتا کر مزے لوں گا ۔کاش وہ اس وقت یہاں ہوتے سعد کا تو پتہ نہیں مگر زاویار نے بہت انجوائے کرنا تھا۔
بلکہ میرا دل کر رہا ہے کہ میں تجھ پر ایک “مقالہ” لکھوں جس کا عنواں ہو “غریب داماد اور امیر غسل خانہ” علی کا عنواں سن کر حسن کا پارہ چڑھ گیا جبکہ علی قہقہ لگا رہا تھا ۔ اللہ کی شان ہے “بالٹی ڈبے” سے نہانے والوں کو محل جیسا غسل خانہ دے دیا _ یہ تو بالکل ایسا ہی ہے جیسے بندر کے ہاتھ غلیل آگئی۔ علی ابھی مزید روشنی ڈالنے کے موڈ میں تھا مگر اب حسن کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔
ذلیل _ کمینے اگر اب تو نے مزید ایک بھی لفظ منہ سے نکالا تو میں بھول جاؤں گا کہ تو میرا دوست ہے ۔حسن نے اسے تکیہ سے مارتے ہوئے کہا تبھی دروازے پر دستک ہوئی۔دونوں نے پہلے ایک دوسرے کو دیکھا پھر اپنا اپنا حلیہ درست کرنے لگے ۔دوسری دستک سے پہلے ہی حسن نے دروازہ کھول دیا
آپ لوگ کھانا ہمارے ساتھ کھایا کریں گے یا اپنے کمرے میں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ امجد جٹ نے منہ بناتے ہوئے پوچھا
نہیں ہم لوگ صرف رات کا کھانا آپ ساتھ کھایا کریں گے باقی ہم اپنے کمرے میں ہی کھائیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حسن نے شائستگی سے جواب دیا جس پر امجد ایک کڑی نظر اس پر ڈالتے چلا گیا
اس نے اتنی بری شکل کیوں بنائی ہوئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟ حسن نے دروازہ بند کرتے ہوئے اس پر تبصرہ کیا
یہ تو زیادتی ہے اب وہ بے چارہ شکل بھی نہ بنائے ۔تو نے اس کی اتنی بڑی “وہیل مچھلی” جیسی کزن ہتھیالی ۔۔۔۔۔۔۔۔ لوگ تو اپنی دبلی پتلی منگیتر کے بچھڑنے پر اتنا ہنگامہ کرتے ہیں وہ تو پھر پانچ مرلے کے برابر کزن کے چھن جانے پر صرف منہ بنا رہا ہے ۔”حالانکہ اسے تیرا منہ بنا دینا چاہیے تھا “_علی کے تبصرے پر حسن جو اب نارمل تھا ایک بار پھر بھڑک اٹھا ۔
وہیل پانچ مرلے کے برابر یہ کیا بکواس ہے۔۔۔۔۔۔۔؟ حسن چیخا
سوری سوری میں معافی مانگتا ہوں جو بھابھی ماں کی شان میں گستاخی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ علی نے انتہائی سیریس منہ بناتے ہوئے معافی مانگی جب کہ اس کے اس انداز پر حسن کا قہقہہ نکل گیا ۔
“بھابھی ماں”
اب دونوں ہنس رہے تھے اور کمرہ ان کے قہقہوں سے گونج رہا تھا ۔
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
منیر میری بات تجھے اچھے سے سمجھ آگئی ہے یا دوبارہ سمجھاؤں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دلاور نے منیر کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا
سرکار پہلے تو آپ کے پلین میں ایسا کچھ نہیں تھا پھر اب۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ منیر کچھ پریشان نظر آرہا تھا
دیکھ پہلے صرف مجھے وہ لڑکی چاہیے تھی مگر میری اطلاع کے مطابق میرا دشمن بھی کل سے گاؤں میں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اب ہم ایک تیر سے دو شکار کریں گے دلاور ہنسا
اگر کچھ گڑ بڑ ہوگئی اور قتل کا الزام میرے سر آگیا تو ۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟ منیر نے ڈرتے ہوئے پوچھا
ارے تو کیوں خوف زدہ ہو رہا ہے وہ کیا نام ہے اس کا “انور “۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ کس مرض کی دوا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
اول تو ہم پکڑے نہیں جائیں گے اور فرض کر اگر ہم پکڑے بھی گئے تو آگے “انور” کو کر دیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دلاور نے قہقہ لگاتے ہوئے اپنا ہاتھ منیر کے آگے کیا۔
بس تو اسے کسی طرح وہاں لے آنا اور جو میں نے تجھ سے کہا ہے وہ سبق اسے یاد کرا دینا ۔گولیاں جیسے ہی زاویار کے جسم کے آر پار ہوں گئی اسی لمحے ہم لڑکی کو اغوا کر کے دربار میں چھپا دیں گے ۔
میں نے کچھ دنوں کے لیے دربار میں محفل کا بندوبست کیا ہے لوگوں کے رش کی وجہ سے کسی کا وہاں دھیان نہیں جائے گا ۔ اور نہ ہی لڑکی کا “شور” کسی کو سنائی دے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دلاور نے خباثت سے آنکھ ماری جس پر منیر ہنس پڑا۔
اگر انور پکڑا گیا اور اس نے ہمارا نام لے لیا تو ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟ منیر کو پھر فکر ستانے لگی چوریاں تو کرتا تھا مگر کبھی قتل جیسا گناہ نہیں کیا تھا اس لئے ڈرنا فطری عمل تھا ۔
لیتا رہے نام تھانے میں پولیس ہماری گاؤں میں لوگ ہمارے جیب میں پیسے ہمارے _ پھر ڈر کس بات کا ۔۔۔۔۔۔؟ دلاور نے پوچھا
انور کے ماں باپ تو بس زندہ مردہ ایک برابر ہے ان سے کوئی خطرہ نہیں مگر اس کی ایک بہن شہر پڑھتی ہے ۔بڑی پٹرپٹر انگریزی بھی بولتی ہے کہیں وہ کچھ گڑ بڑ نہ کر دے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ منیر نے سوچتے ہوئے کہا
ہم مر گئے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم مجھ سے اس قابل چھوڑیں گے تو وہ گڑبڑ کرے گی نااااا ۔۔۔۔۔۔۔۔ تو مجھے جانتا نہیں ہے ۔دلاور کی بات منیر کو کچھ خاص پسند نہیں آئی ۔
نہ سرکار نہ ۔۔۔۔۔۔۔ اس کی بہن کو کچھ نہیں کہنا وہ آپ کے اس نوکر کی ہونے والی بیوی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ منیر نے جھوٹ کا سہارا لیا کہیں دلاور اسے بھی اغواء کرکہ دربار نہ لے جائے۔
تو یوں بول نا تیری مانگ ہے۔چل بخشا اسے ۔۔۔۔۔۔۔ پھر مسئلہ کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟ تو اسے فورا رخصت کرا کر اس کا منہ بند کروا دینا ۔دلاور کی بات پر منیر کو کچھ سکون ملا اور وہ دل میں ماہی کو حاصل کرنے کے لئے پلان بنانے لگا کہ کیسے وہ ماہی کے ماں باپ سے انور کی رہائی کے بدلے اسےحاصل کرے گا ۔۔۔۔۔۔ یعنی میری طرف بھی ” ایک تین اور دو شکار والا ” معاملہ ہوگا ۔
کیا سوچ رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ کہہ دیا ناااااا تیری منگ کو کچھ نہیں کہتے ۔ دلاور کی بات پر منیر ہنس پڑا۔
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
زاویار اس وقت شاہنواز کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا جبکہ مہرونساء اور سکینہ ان دونوں باپ بیٹے کی گفتگو خاموشی سے سن رہی تھیں۔
میری ایک بات یاد رکھو ماں باپ کبھی اپنی اولاد کے دشمن نہیں ہوتے ۔ساری دنیا پر شک کر لینا مگر کبھی اپنے ماں باپ کی محبت پر شک نہیں کرنا ۔شاہنواز کی بات پر زاویار نے سر ہلایا
میرا سب کچھ تمہارا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ کل بھی تمہارا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ آج بھی تمہارا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ابھی بھی وقت ہے ہماری بات پر سوچنا ضرور کیوں کہ اس میں صرف ہمارے خاندان کی نہیں بلکہ تمہاری بھی بہتری ہے ۔شاہنواز کے آخری الفاظ لیونگ روم میں داخل ہوتی عفت بی نے بھی بخوبی سنے۔
چلےیں تایا سائیں میں تیار ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔ عفت نے کہا
ہلکے سبز رنگ کے کپڑے پہنے بغیر میک اپ کے چہرہ سفید چادر لیے وہ آج بھی زاویار کو متاثر کرنے کی پوری صلاحیت رکھتی تھیں۔ زاویار نے دل میں اپنے خیال کی تصدیق کی ۔
زویا تم عفت کو حویلی لے جاؤ اس نے وہاں سے کچھ سامان لینا ہے اور ساتھ ہی واپس لے آنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شاہنواز کی بات پر جہاں زاویار کی مراد بھر آئی وہاں عفت کے تاثرات بدلے۔
چھوٹا کل ہی واپس آیا ہے آپ اسے آرام کرنے دیں مجھے صدیق ساتھ بھیج دیں ۔۔۔۔۔۔۔ عفت نے بہانہ بنایا
میرے ہوتے ہوئے آپ صدیق ساتھ جا کر دکھائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زاویار کا لہجہ ایک دم سخت ہوا
میں باہر گاڑی میں آپ کا انتظار کر رہا ہوں جلدی آئیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زاویار کہتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا ۔
زی مجھے شہر شاپنگ کے لیے جانا ہے تو مجھے لے جاؤ۔ عفت تصدیق ساتھ چلی جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ سکینہ بی نے زاویار سے کہا جبکہ دل شدت سے خواہش کر رہا تھا کہ لالہ سائیں مجھے صدیق ساتھ بھیج دیں ۔
سکینہ تم صدیق چلی جاؤ اور زاویار عفت کو لے جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کچھ دیر سوچنے کے بعد شاہنواز نے کہا اور سکینہ نے اپنی چالاکی پر خود کو خوب داد دی۔
رہنے دیں بابا سائیں آج میں عفت بی کو لے جاتا ہوں پھر دونوں میرے ساتھ کل شہر چلی جائیں گئیں۔ کیا ضرورت ہے یوں اکیلے نوکر ساتھ بھیجنے کی ۔۔۔۔۔؟ زاویار کو سخت برا لگا سکینہ بی کا نوکر ساتھ اکیلے جانا۔
زاویار مجھے صدیق اپنے بیٹے کی طرح عزیز ہے آج کے بعد اس کے لئے لفظ “نوکر” مت استعمال کرنا __
اور سکینہ تم رہنے دو۔کل زاویار تم دونوں کو شہر لے جائے گا شاہنواز یہ کہتے ہوئے چائے پینے لگے جب کہ سکینہ بی کا سخت موڈ آف ہو گیا ۔
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
جاری ہے