Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 18

گاڑی میں مکمل خاموشی چھائی ہوئی تھی حسن ڈرائیونگ کے ساتھ ساتھ برابر بیٹھی عروسہ کو بھی دیکھ رہا تھا ۔
‏محبوب کو اگر دل میں رکھنے کی بجائے اوقات میں رکھا جائے تو بہت سارے مسائل حل ہو سکتے ہیں لڑکیاں اپنے محبوب سے ملنے کے بعد چہکتی پھرتی ہیں مگر تم نے اپنا خربوزے جیسا منہ تربوز جتنا کر لیا ہے یہ کیا بات ہوئی بھلا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حسن نے بات کا آغاز کیا یہ سب کچھ آپ منحوس کی وجہ سے ہوا ہے ۔کیا ضرورت تھی میرا باپ بننے کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عروسہ نے وسام کا سارا غصہ حسن پر اتارا ۔ ارے واہ یہ تو وہی بات ہوئی ” گرا گدھے سے غصہ کمہار پر” _ میں نے کیا کر دیا ۔۔۔۔۔۔؟ حسن کے جواب پر عروسہ نے اسے گھورا تمہیں ذرا تمیز نہیں ہے لڑکیوں سے بات کرنے کی _ یہ کس قسم کی باتیں کرتے رہتے ہو عروسہ نے ناگواری سے حسن کو دیکھا
اچھا تو تمہارے وسام جیسی باتیں کروں ۔۔۔۔۔۔؟ حسن نے طنز کیا ۔
مجھے وسام کی باتوں اور اس کی آواز سے عشق ہے۔ وہ جتنا خوبصورت ہے اس سے کئی گناہ زیادہ باتیں خوبصورت کرتا ہے وہ جانتا ہے کہ لڑکیوں سے کیسی باتیں کرنی چاہیے ۔۔۔۔۔۔۔؟ عروسہ کا لہجہ ایک دم شیریں ہوا ۔
مس عروسہ یہ جو “لفظوں کا جال” ہے نااااااا یہی سب سے خطرناک ہوتا ہے ۔نظر بھی نہیں آتا اور بندہ پھنس بھی بری طرح جاتا ہے کہ نکلنا مشکل ہوتا ہے اور مجھے لگتا ہے کہ آپ اس جال میں بری طرح پھنس چکی ہیں _ حسن نے بھرپور سنجیدگی سے کہا مجھے تم سے بات نہیں کرنی اور نہ ہی تم سے مشورہ لینا ہے ۔اس لئے اپنی نصیحت اپنے پاس رکھو۔ شکریہ انداز ایسا تھا کہ دوبارہ بات مت کرنا ۔
آئے ہائے ادھر میں ہوں تمہیں “دریا” میں گرنے سے بچا رہا ہوں ادھر تم ہو کہ “نالے” میں گرنا چاہ رہی ہو _ حسن کی بات پر عروسہ نے تعجب سے اسے دیکھا یہ کیا بول رہے ہو ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ دریا
نالہ عروسہ کو حسن کی ذہنی حالت پر شک ہوا ۔
تمہی وہ “دریا”جیسا لگتا ہوگا مگر مجھے تو “نالہ” لگتا ہے وہ بھی “گندے پانی والا “_ حسن کی بات پر غصے سے عروسہ نے اسے مکا مارا جس پر حسن کا ہاتھ سٹیرنگ پر گھوما اور ساتھ ہی گاڑی بھی گھوم گئی۔
خود بھی مرو گی اور مجھے بھی ماروں گی دیکھ نہیں رہی گاڑی چلا رہا ہوں۔ ساری گاڑی موڑ کر رکھ دی ہے حسن بازو سہلاتے ہوئے گاڑی دوبارہ موڑنے لگا جبکہ عروسہ کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی ۔
سوری
عروسہ کی بات پر حسن نے اسے گھور کر دیکھا
تم وزن کم نہیں کر سکتی تو کم از کم میرا وزن بڑھنے تک اپنے ہاتھوں کو کنٹرول میں رکھو حسن کی بات پر عروسہ مسکرانے لگی ۔
تم یہ “مسکرا پن” چھوڑ نہیں سکتے ۔اچھے خاصے ہینڈسم لڑکے ہو مگر ان حرکتوں کی وجہ سے چھچھورے لگتے ہو عروسہ کی بات پر اب حسن مسکرا رہا تھا ۔
“ہم ترستے ہی ترستے ہی ترستے ہی رہے
وہ فلانے سے فلانے سے فلانے سے ملے”
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
حسن علی اور سعد اس وقت مردان خانے میں زاویار ساتھ بیٹھے تھے جب کہ وہ بالکل خاموش تھا ۔
میں نے یتیمی کے کے دکھ دیکھے ہیں میں بہت اچھے سے سمجھتا ہوں کہ اس وقت تیرے دل پر کیا گزر رہی ہے مگر ہم سب مجبور ہیں اللہ کے فیصلوں کے آگے کیونکہ ہم اس کی حکمت کو نہیں سمجھ سکتے اس لیے سوائے صبر کے اور کر بھی کیا سکتے ہیں بے شک اللہ تعالی صبر کرنے والوں کو پسند کرتا ہے
حسن نے زاویار کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے تسلی دی۔
چھوٹے شاہ جی وہ پولیس والے کل سے کتنے ہی چکر لگا چکے ہیں اب بھی وہ آپ سے ملنے کے لیے باضد ہیں _ صدیق جس کی آنکھیں خود بھی رونے سے سوجھی ہوئی تھیں نے زاویار کے پاس آ کر نرمی سے کہا اچھا انہیں کہو کل ڈیرے پر آئیں ابھی میں مصروف ہوں زاویار نے کہتے ساتھ ہی صدیق کو جانے کا اشارہ کیا
اگر تم برا مت مناؤ تو میرے خیال سے تمہیں یہ کیس پولیس میں ضرور دینا چاہیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ سعد نے آہستہ سے اپنی رائے دی جس پر زاویار نے اسے لہو رنگ آنکھوں سے گھورا
ہمارے ہاں فیصلے پولیس اسٹیشن میں نہیں بلکہ پنچایت میں ہوتے ہیں
زاویار کی بات پر حسن کا رنگ متغیر ہو گیا
تم پڑھے لکھے ہو کر کیسی باتیں کر رہے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ سعد کو زاویار کی بات نہایت عجیب لگی جب کہ زاویار خاموش بیٹھا رہا
حسن نے ماحول کے کھنچاؤ کو کم کرنے کے لیے سعد کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر دبایا مطلب صاف تھا کہ اب مزید کچھ نہیں بولنا ۔مردان خانے میں تعزیت کرنے والوں کی تعداد بڑھتی جارہی تھی اس لیے علی اور حسن اسے لے کر باہر آ گئے ۔
یا تو ہر وقت سڑا سڑا سا کیوں رہتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ اتنا برا منہ تو اس نے نہیں بنایا ہوا جس کا باپ مر گیا ہے جتنا اس وقت تیرا بنا ہوا ہے حسن انہیں لے کر اس وقت حویلی سے ملحقہ ڈیرے پر چہل قدمی کر رہا تھا
تو نے سنا نہیں زاویار نے کیا کہا ہے۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ جب پڑھے لکھے لوگ ہیں ایسی سوچ رکھیں گے تو ہم ان پڑھوں سے کیا امید رکھ سکتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟ زاویار مجھے اس وقت ایک پڑھا لکھا جاھل لگ رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
اب یہ بھائی کے بدلے بہن لیں گے اور اس کو مردانگی سمجھا جائے گا جیسا ہوتا آیا ہے تو سمجھ نہیں سکتا اس لڑکی کا دکھ جو بیچاری بے موت ماری جائی گی ؟ سعد نے نفرت بھری نظروں سے دیکھا مجھ سے بہتر اس لڑکی کا دکھ کون سمجھ سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔؟ میرے ساتھ تو خود حسن نے کہتے کہتے ایک دم اپنی زبان دانتوں میں لی۔
مطلب ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ سعد کے ساتھ ساتھ علی نے بھی اسے حیرت سے دیکھا مگر دونوں کے دیکھنے میں فرق تھا ۔
مطلب یہ ہے کہ ضروری نہیں لڑکی ہی پنچایت کے ظلم کا شکار ہو بعض دفعہ لڑکا بھی اس سسٹم کے آگے کچھ نہیں کر سکتا حسن کی جگہ ڈیرے پر موجود صدیق نے سعد کی بات کا جواب دیا
صدیق کے جواب پر پہلی بار حسن نے چونک کر اسے دیکھا ۔
مجھے بڑے شاہ جی پنچائت کے ایک ظالمانہ فیصلے کے نتیجے میں ہی یہاں لائے تھے مگر میری طرح سب کی قسمت اچھی نہیں ہوتی ۔انہوں نے مجھے اپنے بچوں کی طرح پالا ہے بہت دکھ ہیں مجھے ان کے جانے کا
ایسا لگ رہا ہے کہ آج میں یتیم ہوا ہوں ۔صدیق کی آواز آخر میں نم ہونے لگی ۔
آپ کتنے سے تھے جب اس ڈیرے پر آئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟حسن نے بے تابی سے پوچھا
یاد نہیں مگر شاہ جی بتاتے تھے کہ میں سات آٹھ سال کا تھا
صدیق نے بالکل نارمل انداز میں جواب دیا
اور کس جرم میں پنچایت نے آپ کو یہ سزا سنائی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حسن مصیبت بے چین ہوا
میں نے کہا نااااااا مجھے یاد نہیں _ صدیق نے تلخی سے آنکھیں بند کرکے کھولیں جبکہ سعد اور علی اب خود بھی حسن کی باتوں سے تنگ آ رہے تھے ۔ مجھے تم منع کر رہے تھے کہ اس ٹاپک پر بات مت کرو اور اب خود مسلسل وہی باتیں کر رہے ہو _ سعد کے ٹوکنے پر حسن کو احساس ہوا کہ وہ کہاں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
وہ کہاں گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حسن نے صدیق کو اپنے اردگرد نہ پا کر پوچھا
کون وہ نوکر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ابھی ابھی اس طرف گیا ہے علی نے ایک طرف ہاتھ سے اشارہ کیا جہاں بہت سارے اور لوگ چارپائیوں پر بیٹھے ہوئے تھے ۔
تم کیوں اس میں اتنی دلچسپی لے رہے ہو ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ علی نے پوچھا
پتہ نہیں مگر میرا اس کے ساتھ باتیں کرنے کو دل کر رہا ہے ۔حسن نے لوگوں میں صدیق کو تلاش کرنا چاہا تبھی ایک نوکر بھاگا بھاگا ان کی طرف آیا ۔
بابو لوگ آپ کو چھوٹے جی کھانے پر بلا رہے ہیں ۔نوکر کے بلاوے پر تینوں حویلی کی طرف چل پڑے جب کہ حسن بار بار پیچھے پلٹ کر دیکھ رہا تھا ۔
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
کمرے میں اس وقت چار لوگوں کے باوجود بلا کا سناٹا تھا ۔ایسا لگ رہا تھا جیسے یہ “کمرہ” نہ ہو بلکہ “قبرستان” ہو۔ ہر کسی کے چہرے پر ایک عجیب خوف تھا۔
جو مرضی ہو جائے میں کل صبح پہلی گاڑی سے ماہی کو شہر چھوڑ آؤں گا میں کسی بھی صورت اپنی بیٹی کو اس ذلیل کے گناہ کا کفارہ نہیں بننے دونگا میری بیٹی ڈاکٹر بنے گی اور میرے تمام خواب پورے کرے گی بس اسلم نے اس خاموشی کو چیرتے ہوئے گویا انور کے کانوں میں صور پھونکا
ابا تم ایسے کیسے کر سکتے ہو ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ وہ لوگ مجھے خون بہا کے بدلے میں مار دیں گے جبکہ ماہی کا زیادہ سے زیادہ نکاح ہی ہوگا وہ تو تم نے کرنا ہی تھا آج نہیں تو کل ان کے گھرانے میں صرف ایک ہی “مرد ” ہے اور وہ اس خاندان کا اکلوتا “بیٹا” ہے۔ ہماری ماہی وہاں عیش کرے گی انور نے اپنی جان بچانے کے لئے بہت ہی بھیانک صورتحال کو ایک خوبصورت شکل دی ۔
لعنت ہو تیرے جیسے بیٹے اور بھائی پر شرم نہیں آتی اتنی گھٹیا باتیں کرتے ہوئے ۔ “ونی” کی گئی لڑکیوں کے ساتھ کیسا سلوک ہوتا ہے تجھے نہیں معلوم
انہیں کتنی عزت دی جاتی ہے جانوروں سے بھی برا سلوک کیا جاتا ہے
ساری زندگی وہ اپنے ماں باپ اور ماں باپ ان کی شکل کو ترستے ہیں _ نوراں نے اپنے آنسو چادر سے صاف کرتے ہوئے انور کو کوسا۔ ہم نے کہا تھا یہ سب کرنے کو تو نے مشورہ کیا تھا ہمارے ساتھ اب اگر اپنی اس گندی زبان سے میری بیٹی کا نام لیا تو جان سے مار دوں گا ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ اسلم پھر مارنے کے لئے اٹھا تو ماہی نے روک دیا ابا بس کر دیں کل سے تو اسے مار رہے ہیں ۔مارنے سے کیا ہوگا کیا سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہی نے انور کے آگے کھڑے ہوتے ہوئے اسے بچایا میں تو کہتی ہوں صبح کا انتظار مت کریں ابھی اور اسی وقت ماہی کو لے کر یہاں سے نکل جائیں ۔بعد میں پنچایت والوں نے ہمارے گھر کے باہر پہرہ بٹھا دینا ہے پھر بہت مشکل ہو جائے گی _ نوراں نے ماہی کی طرف محبت بھری نظروں سے دیکھا
اگر ماہی چلی گئی تو ابا وہ لوگ تجھے بھی مار دیں گے یہ مت سمجھنا کہ صرف میں ہی مارا جاؤں گا تجھے بھی لگ پتہ جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ انور نے ڈرانا چاہا
کاش تو پیدا ہوتے ہی مر جاتا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ خیر مجھے ابھی تیرے مرنے کا ذرا دکھ نہیں ہوگا مگر میں اپنی بیٹی کو “قربانی کا بکرا” نہیں بننے دوں گا۔ اسلم نے سفاکی سے انور کو حقیقت بتائی۔
مجھے لگتا ہی نہیں ہے کہ تو میرا باپ ہے
ماہی کم از کم زندہ تو رہے گی جب کہ وہ مجھے مار دیں گے ۔ماہی تو ہی سمجھا ابا کو انورنے ماہی کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھا
ابا ضروری تو نہیں کہ پنچایت “خون بہا” کے طور پر وہی فیصلہ کرے جو آپ نے سوچ رکھا ہے ماہی نے اسلم کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا
بیٹی میں ابھی پیدا نہیں ہوا ہوں اور نہ ہی اس گاؤں میں نیا آیا ہوں
کچھ دیر میں وہ لوگ انور کا پتہ لگا لیں گے۔بلکہ ہو سکتا ہے ان کے آدمی گھر دیکھ بھی گئے ہوں اور ہمارے گھر کا پہرہ بھی دے رہے ہوں۔
میں نے ایسے بہت کیس دیکھے ہیں۔ جیسے ہی مرنے والے کی پہلی جمعرات آئے گی ۔عصر کی نماز کے بعد پنچایت بیٹھ جائے گی
خون بہا کے طور پر پہلے وہ انور کو مانگیں گے اگر ہم نے انور کو دینے کی بجائے رحم کی فریاد کی تو دوسری صورت میں “تم” اسلم نے ایک گہرا سانس لیتے ہوئے ماہی کی طرف دیکھا
یہ میں ہونے نہیں دوں گا۔ میں خود انور کو ان کے حوالے کر دوں گا۔ پر تجھ پر آنچ نہیں آنے دوں گا ۔تو میری “متاع کل” ہے میری جان ہے
اسلم نے ماہی کو اپنے ساتھ زور سے لگایا ۔
میں بھاگ جاؤں گا مگر پنچایت میں کبھی نہیں جاؤں گا ۔مجھے بھی اپنی جان پیاری ہے انور نے ضدی لہجے میں کہا
اسی لئے تو تجھے زنجیر باندھی ہوئی ہے کہ کہیں تو بھاگ کر ہمارے لئے پریشانی کھڑی نہ کرے
اسلم نے انور کی بات پر اس کے پاؤں میں بندھی زنجیر کی طرف اشارہ کیا
ماہی مجھے بچا لے یہ مجھے مار دیں گے۔ دیکھ میں تیرا بھائی ہوں انور نے ماں باپ سے مایوس ہوکر ماہی کی طرف دیکھا
بکواس بند کر اپنی ماہی اپنے کپڑے بیگ میں رکھ اور شہر میں وہ جو تیری دوست ہے ناااااا کیا نام بتایا تھا تو نے اس کا “ذبدہ” اس کے گھر چلی جا جب تک میں خود تجھ سے رابطہ نہ کروں اس طرح بھول کے بھی مت دیکھنا اسلم نے ماہی کو اپنے سے الگ کیا جبکہ نوراں نے جلدی سے ماہی کا بیگ پکڑا تاکہ اس کے کپڑے رکھ سکے۔
ابا صبح چلے جائیں گے ابھی تو بہت اندھیرا ہے مجھے اندھیرے سے بہت ڈر لگتا ہے
ماہین نے خوفزدہ نظروں سے باپ کی طرف دیکھا
میں ہوں نا تیرے ساتھ _ جتنی جلدی یہاں سے نکل جائیں گے اتنا ہی ہمارے حق میں بہتر ہوگا چل اٹھ تیار ہوجا اسلم نے ماہی کے سر پر ہاتھ پھیرا اور وہ کھڑی ہو گئی۔ ماہی تجھے قسم ہے مجھے چھوڑ کر مت جانا تو نے وعدہ کیا تھا کہ تو مجھے بچا لے گی انور رونے لگا
تُو تو اپنا منہ بند کر _
نوراں نے اسے تھپڑ مارا ۔جب کہ ماہی حیران پریشان کبھی باپ اور کبھی بھائی کو دیکھنے لگی۔
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
جاری ہے