Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

ماہین بس میں بیٹھی آج صبح زاویار کے ساتھ ہونے والی ملاقات کا سوچ سوچ کر خوش ہو رہی تھی۔
سر میں آج گاؤں جا رہی ہوں۔ آپ کا تو پتا نہیں مگر میں آپ کو بہت یاد کروں گی ۔پتا ہے جس دن آپ کو نہ دیکھو میرا دن بہت برا گزر تا ہے۔ مجھے آپ سے محبت کے ساتھ ساتھ آپ کو دیکھنے کی عادت ہوگئی ہے۔اور عادت محبت سے زیادہ خطرناک ثابت ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ماہی کی بات پر زاویار جس طرح لیپ ٹاپ پر کام کر رہا تھا کرتا رہا جیسے وہ کسی اور سے مخاطب ہو۔
سر میرے پیپر بھی بہت اچھے ہوئے ہیں ۔امید ہے سکالرشپ ضرور آئے گی۔پھر آپ فیصلہ کیجئے گا کہ میں کس میڈیکل کالج میں داخلہ لوں۔ میں اپنے بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیار آپ کو دیتی ہوں ۔کیونکہ مجھے آپ پر بھروسہ ہے آپ کبھی بھی میرے بارے میں غلط فیصلہ نہیں کر سکتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب بھی ماہی کی بات پر زاویار نے کسی قسم کا کوئی ریکشن ظاہر نہیں کیا ۔
اور آخری بات یہ کہ اگر آپ رشتہ لے کر نہ آئے اور میرے گھر والوں نے میری شادی گاؤں کے کسی جاہل ان پڑھ سے کرنے کی کوشش کی تو میں نے “خود کشی” کر لینی ہے اور مرنے سے پہلے آپ کے نام ایک “مشکوک خط” ضرور چھوڑ جاؤں گی تاکہ میرے مرنے کے بعد بھی آپ کو چین نہ مل سکے اس لیے کوشش کیجئے گا دیر نہ ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔ ماہی کی آخری بات پر زاویار نے سر اٹھایا اور اسے ایک کڑی گھوری سے نوازا
ماہی آپ کس مٹی کی بنی ہوئی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ اتنا تو آج کل لڑکے لڑکیوں کو تنگ نہیں کرتے جتنا آپ مجھے کر رہی ہیں ۔آپ میری شرافت کا ناجائز فائدہ اٹھا رہی ہیں ۔میں کئی بار بتا چکا ہوں کہ میں آپ کو پسند نہیں کرتا پھر ۔۔۔۔۔۔۔۔ زاویار کے لہجے میں بے بسی تھی
پھر میں تو آپ کو پیار کرتی ہوں ناااااا ۔۔۔۔۔۔۔۔ اتنا کافی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ میاں بیوی میں سے ایک بھی دوسرے سے “سچی والی” محبت کرتا ہو تو زندگی مزے سے گزرتی ہے ۔
سر آپ یہ مت سمجھیں کہ آپ کو کوئی بہت “امیرکبیر پری” جیسی لڑکی مل جائے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غریب لڑکوں کو امیر لڑکیاں دیکھتی بھی نہیں ہیں ۔جب یہ طے ہے کہ آپ کی شادی بھی میری جیسی ہی کسی غریب لڑکی سے ہوگی تو پھر میں کیوں نہیں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
میرا تو مستقبل بھی روشن ہے ۔اور پلیز یہ مت کہنا کہ آپ غریب نہیں ہیں۔ بیوقوف سمجھ رکھا ہے مجھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ماہی کی بات پر زاویار نے سر نفی میں ہلایا
آپ کو سمجھانا ناممکن ہے کیونکہ آپ بات سمجھنا ہی نہیں چاہتی ۔اس لیے میں آپ کے لیے کچھ نہیں کر سکتا ۔۔۔۔۔ زاویار کے جواب پر ماہین کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی
آپ میرے لئے اتنا تو کر سکتے ہیں کہ اپنا رشتہ بھیجوا دیں ۔۔۔۔۔۔۔ چلیں میں آپ کو ایک “رعایت” دے دیتی ہوں ۔آپ مجھ سے صرف منگنی کر لیں تاکہ میرے ماں باپ مطمئن ہو جائیں ۔اگر میرے ڈاکٹر بننے تک آپ کو مجھ سے محبت ہوگئی تو شادی کر لیجئے گا نہیں تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ماہین نے جان بوجھ کر جملہ ادھورا چھوڑا چہرے پر شرارتی مسکراہٹ تھی۔
نہیں تو کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟ زاویار نے بے ساختہ دہرایا
نہیں تو میں آپ سے شادی کر لوں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنی بات کے آخر میں وہ خود ہی ہنسنے لگی جبکہ زاویار کے چہرے پر بھی نہ چاہتے ہوئے مسکراہٹ آگئی۔
بہاولپور آگیا بہاولپور والے مسافر تیار ہو جائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کنڈکٹر کی آواز پر ماہی اپنے خیالوں سے نکلی۔
ماہی نے اپنی چادر سے اپنا منہ چھپایا اور اپنا بیگ لے کر کھڑی ہو گئی ۔بس کے رکتے ہی وہ جلدی سے نیچے اتری اور ادھر ادھر دیکھنے لگی ۔
بابا ابھی تک کیوں نہیں آئے میں نے تو بتا دیا تھا پھر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ درخت کے نیچے کھڑے ہوتے ہوئے اس نے چادر سے اپنا پسینہ صاف کیا ۔اتنی دیر میں ایک بلیک کرولا تیزی سے دھواں اڑاتی ہوئی گزری ۔ماہی نے سرسری نظر گاڑی میں بیٹھے ہوئے لوگوں پر ڈالی ۔مگر جتنی دیر میں اسے کچھ سمجھ آیا گاڑی کی دھول ہی پیچھے بچی تھی ۔
یہ کیسے اس گاڑی میں ناممکن مجھے یقیناً غلط فہمی ہوئی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ماہی بری طرح پریشان ہو گئی تھی اتنے میں اسے اپنے بابا کی آواز آئی ۔
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
فرزین کچن میں پکوڑے بنا رہی تھی جب ڈور بل بجی اور پھر بجتی ہی چلی گئی۔
ارے اوووو فرزین ۔۔۔۔۔۔۔۔ دیکھ دروازے پر کون ہے؟؟ ؟ رضیہ بیگم نے اندر سے آواز لگائی ۔
پھوپھو کوئی نہیں ہے برابر والوں کے بچے ہیں ۔ان کی گیند بار بار ہماری چھت پر آ جاتی ہے وہ لینے آتے ہیں۔ مگر اب کی بار میں نہیں دوں گی انہوں نے تماشا لگایا ہوا ہے ۔حالانکہ میں کافی “رحم دل” ہوں مگر اب اتنی بھی نہیں کہ اتنی تیز بارش میں چھت پر جاؤں اور گیند لے کر آؤں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فرزین نے صحن میں پڑتی بارش کو دیکھ کر اونچی آواز میں جواب دیا۔
بری بات ہے بچوں سے ضد نہیں کرتے ۔۔۔۔۔۔۔ انہیں کھیلنے کے لئے گیند دے یہی تو عمر ہوتی ہے موج مستی کی ۔۔۔۔۔۔۔۔ سعد بھی جب چھوٹا تھا تو کبھی گیند ساتھ دوسروں کی کھڑکیوں کے شیشے توڑتا تو ۔۔۔۔۔۔۔۔ کبھی گھنٹی بجا کے بھاگ آتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کبھی بارش میں اپنی پوری کاپی کی کشتیاں بنا ڈالتا ۔۔۔۔۔۔۔۔ رضیہ بیگم اپنی ہی دھن میں بولی جا رہی تھیں جب دوبارہ ڈور بیل بجنے لگی ۔
بڑے کارنامے کرتا تھا آپ کا بیٹا ۔۔۔۔۔۔ یعنی شروع سے ہی لفنگا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔دوسروں کو تنگ کرکے اسے مزا آتا ہے ۔فرزین نے ناگواری سے ایک نظر اندر بیٹھی رضیہ بیگم کو دیکھا اور منہ بناتی دروازہ کھولنے چلی گئی ۔مگر دروازہ کھلتے ہی اس کا منہ بھی بے یقینی سے کھل گیا
اچھی طرح دیکھ لو کہ میں ہی ہوں بھوت نہیں ہے میرا اور اگر یقین آ جائے تو راستہ بھی دے دو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سعد بلیک پینٹ شرٹ پہنے سر سے پاؤں تک بارش میں پوری طرح گیلا کھڑا تھا ۔سعد کی بات پر فرزین ہوش میں آئی اور پاؤں پٹختی ہوئی کچن میں پلٹ گئی ۔
اتنے دنوں بعد گھر آیا ہوں مگر مجال ہے یہ لڑکی اچھے طریقے سے بات کر لے، مجھ سے بات کرنا تو اس پر حرام ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سعد نفی میں سر ہلا تا ہوا اندر آیا دروازہ بند کیا ایک سائیڈ پر اپنا بیگ رکھ کر دبے پاؤں لاؤنچ کی طرف بڑھنے لگا
فرزین دروازہ کھولا نہیں اتنی تیز بارش ہے بچے بیمار ہو جائیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟ رضیہ بیگم بولے جا رہی تھی جب اپنی کمر پر کسی کے گیلے ہاتھ لگنے سے پلٹیں۔
سعد میرا بچہ میری جان ۔۔۔۔۔۔۔ رضیہ بیگم نے بے ساختہ اس کا ماتھا چوما۔
اماں آرام سے آپ کی کپڑے بھی گیلے ہو جائیں گے۔میں بالکل ٹھیک ہوں اور آپ کے سامنے ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سعد نے ماں کو اپنے سے الگ کرتے ہوئے کہا
بتا کر نہیں آسکتا تھا میں تیری پسند کے کھانے بناتی ۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟ رضیہ بیگم بار بار محبت سے سعد کے بالوں میں ہاتھ پھرنے لگیں جہاں سے بارش کے ننھے منے قطرے نیچے گر رہے تھے۔
اگر میں بتا کر آتا تو یہ جو خوشی آپ کے چہرے پر نظر آ رہی ہے وہ میں کیسے دیکھتا ۔۔۔۔۔۔۔؟؟ سعد نے ماں کا ہاتھ چومتے ہوئے جواب دیا
جلدی سے کپڑے تبدیل کر لے کہیں تجھے سردی نہ لگ جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔ تجھے تو ویسے ہی نزلہ زکام بارہ مہینے رہتا ہے رضیہ بیگم کی بات پہ سعد مسکرا دیا
ابا کہاں ہیں ابھی آئے نہیں آج موسم اتنا خراب تھا انہیں آفس نہ جانے دیتیں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟ سعد نے کھڑے ہوتے ہوئے ادھر ادھر نظریں گھمائیں ۔
ابا کے لاڈلے ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ آ جائیں گے۔ پریشان مت ہو۔پہلی دفعہ تو نہیں گئے اس طرح کے موسم میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رضیہ بیگم کے جواب پر سعد نے سونگھنے کی ایکٹنگ کی۔
کہیں کچھ جل رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟ سعد کی بات کا مفہوم رضیہ بیگم نہ سمجھ سکیں اور فرزین کو آوازیں دینے لگی
فرزین تیرادھیان کدھر ہے سارے پکوڑے جلا دیے سعد کہہ رہا ہے جلنے کی بو آرہی ہے اور تو نے مجھے اس کے آنے کا کیوں نہیں بتایا ۔۔۔۔۔۔۔؟ رضیہ بیگم کی بات پر سعد نے سر پکڑ لیا
اماں کیوں آتے ہیں جوتے پڑوانے لگی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟ وہ آگے ہی مجھ سے بدگمان رہتی ہے اوپر سے آپ بھی نااااااا ۔۔۔۔۔۔۔۔ میں تو کہہ رہا تھا کہ آپ ابا سے جل رہی ہیں اور آپ نے اسے کہہ دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سعد افسوس سے سر ہلاتا باہر جانے لگا تبھی فرزین ہاتھ میں پکوڑے چائے لئے اندر داخل ہوئی ۔
آتے ہی بکواس شروع کر دی ہے دیکھ لو ایک بھی نہیں جلا ہے بغیر سوچے سمجھے میرے پر الزام لگانا تو تمہارا پرانا اور محبوب مشغلہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔ فرزین طنز کے تیر چلاتی سعد کے پاس سے گزر گئی جبکہ سعد نے اسے تاسف سے دیکھا
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
تائی جی آج میں حویلی واپس جا رہی ہوں۔ اتنے دن ہو گئے ہیں مجھے یہاں آئے ہوئے وہاں نوکروں نے پتا نہیں کیا حال کیا ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ ویسے تو سب کے سب بابا سائیں کے زمانے سے ہی ہیں مگر پھر بھی مجھے اچھا نہیں لگ رہا اتنے دن حویلی سے غائب رہنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عفت کی بات بے مہرونساء نے اسے دیکھا
کہتی تو تم بالکل ٹھیک ہو مگر میں شاہ جی سے پوچھ لوں ورنہ وہ پھر مجھ سے ناراض ہوں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مہرو نے چائے کا کپ لبوں سے لگاتے ہوئے جواب دیا
آپ رہنے دیں میں خود ہی ان سے بات کر لوں گی۔خامخوا آپ کو میری وجہ سے ڈانٹ نہ پڑ جائے۔بس آپ ڈرائیور سے کہہ دیں کہ وہ مجھے حویلی چھوڑ آئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عفت کو معلوم تھا کہ شاہنواز اجازت نہیں دیں گے اس لیے بہانہ بنایا
عفت میں نے ذرا شہر جانا ہے کپڑے لینے کے لئے کیا تم میرے ساتھ چلو گی شاپنگ کرنے۔۔۔۔۔۔۔؟ سچ میں بہت مزہ آئے گا ۔سکینہ نے عفت کو روکنے کے لیے اپنی سی کوشش کی
نہیں میں نے ابھی شہر نہیں جانا۔ پہلے مجھے حویلی کا ایک چکر لگا لینے دیں۔ پتا نہیں کیوں میرا دل کچھ بے چین سا ہو رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ ایک چکر حویلی کا لگا لوں تاکہ میرا دل مطمئن ہوجائے پھر شہر چلیں گے ۔۔۔۔۔۔۔ عفت نے پھیکا سا مسکرا کر معذرت کی۔
چلو جیسے تمہاری مرضی میں صدیق سے کہتی ہوں کہ تمہیں چھوڑ آئے کیونکہ شاہ جی صدیق کے علاوہ کسی پر بھروسہ نہیں کرتے ۔۔۔۔۔۔۔۔ مہرالنساء نے یہ کہتے ہوئے نوکر کو آواز دی
جی بیگم صاحبہ حکم ۔۔۔۔۔۔۔ آواز دیتے ہی ایک ادھیڑ عمر کا آدمی لاؤنچ میں داخل ہوا
بابا ذرا چیک کریں صدیق سرونٹ کوارٹر میں ہے یا شاہ جی کے ساتھ ڈیرے پر گیا ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ اگر وہ سرونٹ کوارٹر میں ہے تو اسے کہیں کہ عفت بی کو حویلی چھوڑ آئے۔
مہرو النساء نے اک ادا سے حکم دیا جسے سنتے ہی وہ سر ہلاتے باہر چلے گئے.
بھابی آپ کا تو بہت رعب ہے _ عفت متاثر ہوئی. عفت یاد رکھو رعب کبھی عورت کا نہیں ہوتا. رعب ہمیشہ مرد کا ہوتا ہے اور سجتا بھی اسے ہی ہے. یہ جو تمہیں سب میرے فرمانبردار نظر آ رہے ہیں یہ سب کے سب شاہ جی کی وجہ سے ہی ہیں ورنہ مجھ عورت سے کون ڈرتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟ مہرو کی بات پر عفت اور سکینہ بی کچھ پل کے لیے بلکل خاموش ہو گئیں. بیگم صاحبہ صدیق تو شاہ جی ساتھ گیا ہے مگر باقی دو ڈرائیور ادھر ہی ہیں. آپ حکم کریں کس کہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ بابا نے آ کر سکوت توڑا نہیں کوئی اور نہیں ___ میں زرا شاہ جی سے بات کر لوں پھر تمہیں بتاتی ہوں. آپ جائیں اور گاڑی تیار کریں. میں کچھ دیر تک آپ کو بلواتی ہوں. مہرو کے جواب پر وہ سر ہلاتے دوبارہ باہر چلے گئے.
تائی جی یقین مانے کچھ نہیں ہو گا آپ خامخواہ پریشان ہو رہیں ہیں. عفت نے تسلی دی.
مجھے پہلے شاہ جی سے بات کرنے دو پھر وہ جیسا کہیں گے ہم ویسا ہی کریں گے. مہرو نے کہتے ساتھ ہی کال کی جو شاید پہلی بل پر ہی ریسیور کر لی گی.
شاہ جی عفت زرا حویلی جانا چاہتی ہے اسے کچھ سامان لینا جانا ہے. دو دن بعد واپس آ جائے گی. صدیق تو اس وقت یہاں نہیں ہے بتائیں کس ساتھ بھیج دوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟ مہرو نے عفت کے گھورنے کی پرواہ کیے بغیر ہی پوچھا
عفت کو کسی کے ساتھ مت بھیجنا میں کچھ دیر میں فارغ ہو کر صدیق کو بھیج رہا ہوں۔ اسے کہو کہ جو ضروری چیزیں لینی ہے اپنے ساتھ لے آئے ابھی کچھ دن اور اسے یہیں رہنا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شاہ جی کی بات پر مہرو نے سر ہلایا اور فون بند کر دیا
عفت ۔۔۔۔۔۔۔۔ شاہ جی صدیق کو بھیج رہے ہیں تم تھوڑا سا انتظار کر لو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مہرو نے چہرے کے تاثرات نارمل رکھتے ہوئے سمجھایا
بھابھی مجھے کیوں ایسا لگ رہا ہے جیسے آپ اور لالہ ہم سے کچھ چھپا رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔؟ سکینہ جو کب سے یہ سب کاروائی خاموشی سے دیکھ رہی تھی بول پڑی ۔
نہیں سکینہ ایسی کوئی بات نہیں ہے مگر احتیاط اچھی ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مہرو نے زبردستی مسکراتے ہوئے تسلی دی
کہیں دلاور تو جیل سے واپس نہیں آ گیا ۔لالہ کا ہر وقت ہمارے بارے میں فکر مند رہنا ۔۔۔۔۔۔۔۔ صدیق کو حویلی میں رکھنا کیونکہ پہلے تو وہ ڈیرے پر رہتا تھا جبکہ آجکل سرونٹ کوارٹر میں ہے مجھے تو کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا ہے کہیں نہ کہیں گڑ بڑ تو ضرور ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سکینہ کی بات پر مہرو نے عفت کو دیکھا جو انتہائی خوف سے سکینہ کی طرف دیکھ رہی تھی۔
عفت پلیز سنبھالو خود کو کچھ نہیں ہے ۔تمہیں کچھ نہیں ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔ مہرو نے عفت کی حالت دیکھتے ہوئے اٹھ کر اسے اپنے ساتھ لگایا اور ایک نظر سے سکینہ کو گھورا۔
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
جاری ہے۔