Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 25

آپ نے ویسے ہی زحمت کی کسی ملازم کو کہہ دیتیں _ زاویار نے عفت کو نظر انداز کرتے ہوئے چائے کا کپ ٹرے سے اٹھایا چھوٹے یہ جو تم نے آج حرکت کی ہے اسے انتہائی “چھوٹی حرکت” کہتے ہیں ۔کم از کم اپنی نہیں تو اس کی “محبت” کا خیال رکھتے۔ اور مجھ سے امید مت رکھنا کہ میں تمہیں ایسی حرکتوں پر کبھی بھی سراہوں گی ۔بہت ہی بے ہودہ حرکت ہے عفت کہتی ہوئیں پلٹنے لگیں۔
ایک تو آپ اتنی جلدی مجھ سے بدگمان ہو جاتی ہیں اگر آپ دو منٹ میری بات سن لیں تو مجھ پر آپ کا احسان ہوگا زاویار کی آواز پر وہ پلٹیں مگر بیٹھیں نہیں ۔
وہ کسی بھی صورت اپنے بھائی کو بچانا چاہتی تھی پھر بتائیں میں کیا کرتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟زاویار نے پوچھا
اچھا چلو یہ بتاؤ کہ محبت تو اس کی تمہیں کبھی نظر ہی نہیں آئی تو پھر اب ماں کی خواہش کو اس کے لئے کیوں درگزر کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عفت نے سوالیہ نظروں سے دیکھا
یہی بات _ یہی بات
تو چین نہیں لینے دے رہی تھی کہ اسے مجھ سے امیدیں ہیں اسے لگتا ہے کہ میں اس کے بھائی کو بچا لوں گا میں نے سوچا اس کی محبت تو اسے دے نہیں سکتا چلو اس کا بھائی ہی لوٹا دوں۔
جب وہ پہلی بار مجھ سے ملنے حویلی آئی تھی تو اس نے بتایا تھا کہ وہ اپنی مدد کے لئے آج مجھے کال کرنے لگی تھی
پھر بابا تو چلے گئے ہیں وہ تو آ نہیں سکتے مگر جو زندہ ہے اسے تو بچایا جا سکتا ہے زاویار نے اپنی بات کے آخر میں سر جھکا لیا
اب ماں کو کیسے مطمئن کرو گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
اور وہ وہ اب مطمئن ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عفت کے پوچھنے پر زاویار نے کندھے اچکا کر لاعلمی کا اظہار کیا
صدیق سے پوچھا تم نے وہ کیا چاہتا ہے
اگر وہ کسی اور کو پسند کرتا ہوا تو ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
میرے خیال سے چار لوگوں کی زندگی تم نے اپنی اس “ذہانت” کی نظر کر دی ہے ۔
اس سے تو اچھا تھا کہ تم خون بہا کے طور پر اس کے بھائی کو ماردیتے ماں بھی خوش ہو جاتی اور باقیوں کی زندگی بھی “برباد” نہ ہوتی عفت کی بات زاویار نے انہیں دیکھا
میرا نہیں خیال کہ صدیق کی زندگی میں کوئی اور ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ زاویار نے پر سوچ انداز میں جواب دیا
تمہارے بارے میں بھی میرا یہی خیال تھا عفت کی بات پر زاویار جو چائے کا گھونٹ بھرنے لگا تھا رک گیا
آپ مجھ پر شک کر رہی ہیں مجھ پر زاویار بے یقین تھا ۔
ہم کسی کے بارے میں یہ رائے قائم نہیں کر سکتے کہ اس کی زندگی میں کیا چل رہا ہے اور کیا نہیں _ خیر باقی باتیں ایک طرف تم نے یہ کیوں کہا کہ ہمارے خاندان کی عورتیں آئیں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
تائی جی تو کبھی اس گھر میں قدم نہیں رکھیں گی اور سکینہ بھی
عفت نے کچھ سوچتے ہوئے کہا
آپ صرف اپنی بات کریں باقیوں کو میں دیکھ لوں گا زاویار کی بات پر عفت چونک پڑیں۔
چھوٹے تمہیں ہمیشہ ایسا کیوں لگتا ہے کہ میں تمہاری بات مان لوں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عفت نے سوالیہ نظروں سے زاویار کی طرف دیکھا
کیونکہ آپ مان لیں گی زاویار نے عفت کے چہرے پر نظر جماتے ہوئے زور دے کر کہا
یہ کیا بات ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عفت کو عجیب الجھن ہوئی
آپ جائیں گی زاویار نے دہرایا۔
اچھا
عفت کھڑی ہوگی۔
دیکھا میں نے آپ پر اپنی نظروں سے جادو کیا جو چل گیا اور آپ نے میری بات مان لی زاویار اب کافی ہلکا پھلکا محسوس کر رہا تھا جب کہ عفت منہ بناتی باہر نکل گئی ۔
ماہی مجھے معاف کر دو مگر میں صرف اس لیے تم سے شادی نہیں کر سکتا کہ تم مجھ سے محبت کرتی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
” ساری زندگی دوسرے کو کوسنے سے بہتر ہے کہ ایک بار اپنے آپ کو کوس لیا جائے “
مجھے عفت بی سے محبت ہے اور میں اپنی زندگی انہیں کے ساتھ گزارنا چاہتا ہوں مجھے تمہارے لئے بہت برا لگ رہا ہے مگر _
زاویار نے چائے کا کپ سائیڈ پر رکھا اور اپنی آنکھیں بند کر کے بیڈ ساتھ ٹیک لگا لی ۔
“کچھ کہانیاں ادھوری رہتی ہیں اور ان کہانیوں کا حسن ان کے ادھورے پن میں ہی ہوتا ہے”
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
آج کل فرزین کو سارا دن رات ہونے کا انتظار رہتا تھا ۔کہ کب رات کے گیارہ بجے اور کب سعد سے بات ہو۔
اسے غیر ارادی طور پر اس سے بات کرنا اچھا لگنے لگا تھا وہ سارا دن پلان کرتی کہ رات کو اسے کیا کہے گی ۔
ابھی بھی وہ بظاہر ٹی وی دیکھ رہیں تھی مگر حقیقت میں وہ سعد کے بارے میں سوچ رہی تھی پھر رات کی چیٹ کا خیال آتے ہی مسکراہٹ اس کے ہونٹوں کو چھو گئی ۔
رضیہ بیگم جو کب سے اس کے چہرے کے اتار چڑھاؤ دیکھ رہی تھیں اس کی مسکراہٹ پر کچھ پریشان سے ہو گی۔
لڑکی “باولی” ہو گئی ہے کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوں اکیلے اکیلے مسکرائے جا رہی ہے ۔ رضیہ بیگم کے ٹوکنے پر فرزین کو اپنی غلطی کا احساس ہوا ۔
پھپھو میں تو ڈرامہ دیکھ کر مسکرا رہی ہوں اور آپ ایسے ہی مجھ پر شک کر رہی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟
فرزین کے جواب پر رضیہ بیگم نے ٹی وی کی طرف اشارہ کیا جہاں شاید کوئی فوتگی کا سین چل رہا تھا پھر آنکھوں ہی آنکھوں میں پوچھا کہ اب بی بی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
پھوپھو آپ کی وی بند کریں اور میری بات سنیں _ فرزین نے ٹی وی بند کیا اور صوفے سے اٹھ کر تخت پوش پر رضیہ بیگم کے سامنے آ بیٹھی۔
پھوپھو آپ کی اور ماموں کی شادی کیسے ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ فرزین کے سوال پر رضیہ بیگم نے نفی میں سر ہلایا
پہلے تو مجھے شک تھا مگر اب یقین ہو گیا ہے کہ تیری طبیعت ٹھیک نہیں ہے تو ٹی وی کبھی خود بند نہیں کرتی اور اوپر سے ایسے سوال ۔۔۔۔۔۔۔؟
پھپھو بتائیں ناااااا
آپ بات کو گھمائیں نہیں پلیز فرزین نے ضدی انداز میں کہتے ہوئے گود میں سر رکھ دیا ۔
تمہارے ماموں ہمارے گھر آتے جاتے تھے رضیہ بیگم نے فرزین کے بالوں میں ہاتھ چلاتے ہوئے بتایا
یعنی ماموں آپ کو دیکھنے آیا کرتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ فرزین پرجوش ہوئی۔
بے شرم مجھے دیکھنے نہیں بلکہ اپنی بہن کے گھر آتے تھے یعنی میری بھابھی
رضیہ بیگم نے فرزین کو ہلکا سا تھپڑ لگایا
تو پھر آپ نے انہیں “تاڑ” لیا ہوگا ۔ ہائے ماموں ہیں بھی تو اتنے پیارے فرزین نے جسکا لیا
یہ تجھے کیا ہوگیا ہے کیسی زبان بول رہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ اللہ معافی کتنا برا لفظ ہے یہ “تاڑ “_
رضیہ بیگم نے منہ بنایا
اچھا “لفظ” کو دفع کریں یہ بتائیں کہ آگے کیا ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ فرزین نے بات میں دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے پوچھا
کچھ نہیں ہونا کیا تھا بھائی میرے لیے رشتہ دیکھ لیتے تھے اور بھابھی اپنے بھائی کے لیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رضیہ بیگم نے پہلی بار مسکراتے ہوئے کہا
جس رشتے والی کو بھابھی کہتیں اسے ہی بھائی میرے لیے بھی رشتہ تلاش کرنے کا کہہ دیتے۔
ایک دن اس نے تنگ آ کر کہہ دیا کہ میرے دکھائے ہوئے تو رشتے تم دونوں میاں بیوی کو پسند ہی نہیں آرہے کیسے رشتے چاہیے تمہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟
وہ دونوں بہت انمول ہیں ہم چاہتے ہیں جوڑی “چاند سورج” کی ہونی چاہیے ۔بھابی نے جواب دیا
اس پر رشتہ کرانے والی کو غصہ آگیا اس نے کہا پھر ایسا کرو دونوں کی آپس میں شادی کر دو رضیہ بیگم تھوڑی دیر رکیں۔
اچھا پھر
فرزین جوش سے اٹھ بیٹھی ۔
پھر کیا بھائی اور بھابھی دونوں مان گے۔ حالانکہ خاندان والوں نے بہت باتیں کیں کہ ان دونوں کا پہلے سے ہی چکر تھا۔
رضیہ بیگم اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر ہنسنے لگیں جبکہ فرزین ان کی بات بہت حیران ہوئی ۔
آپ کو ذرا برا نہیں لگا کہ لوگ آپ پر الزام لگا رہے ہیں اور اگر ہماری شادی ہو گئی تو ساری زندگی ہمیں لوگوں کی باتیں سننا پڑے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ فرزین نے اپنے دل کی بات پوچھی
دفع کرو لوگوں کو میں خوش میرا بھائی خوش تمہارے ماموں خوش ان کی بہن خوش دنیا گئی تیل لینے ۔
تمہارے ماموں نے شادی کے بعد صاف صاف لوگوں کو کہہ دیا تھا اگر کسی نے بھی میری بیوی کے بارے میں ایک لفظ بھی غلط نکالا تو میرے گھر کے دروازے اس پر بند ہیں۔
اس گھر میں وہی آئے گا جو میری بیوی کی عزت کرے گا بس وہ دن اور آج کا دن _ کبھی کسی کی ہمت ہی نہیں ہوئی میرے اوپر انگلی اٹھانے کی ۔
رضیہ بیگم نے فخر سے اپنی گردن اکڑاتے ہوئے اپنی اہمیت جتائی جب کہ فرزین کو آج رات سعد سے بات کرنے کے لیے موضوع مل گیا۔
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
پورے گھر میں شادی کی گہما گہمی شروع تھی کہیں ڈیکوریشن کا سامان بکھرا پڑا تھا تو کہیں نیا فرنیچر بےترتیب تھا تو کہیں مٹھائیاں لوگوں کا رش میوزک کا شور کسی کو کسی کا ہوش نہ تھا ۔ علی نے جیسے ہی دروازہ کھولا حسن کو بیڈ پر اوندھے منہ لیٹا دیکھا اوئے کسی چمگادڑ کے دوست
ہتھنی کے ہونے والے خاوند _ جٹوں کے انتہائی دبلے پتلے دولہا میرے یار کی شادی ہے اور وہ یہاں اتنا اداس لیٹا ہوا ہے۔
آخر معاملہ کیا ہے آج کل تو شادی پہ لڑکیاں اتنی اداس نہیں ہوتی جتنا تو ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ علی نے لہک لہک کر حسن کے برابر لیٹتے ہوئے پوچھا
اوئے نیم زنانہ آواز میں غیر شاعرانہ گفتگو بند کر اس سے پہلے کہ میں ابٹن سے “پیلا” اور تو غصے سے “لال” ہو جائے ۔
اور دادا جی ہم دونوں کو میرے لال میرے پیلے کہہ کر اپنے سینے سے لگا لے اور یقین مان یہ سزا ہم دونوں ہیں برداشت نہیں کر پائیں گے حسن کے جواب پر علی نے قہقہہ لگایا
خیر ہے آج کے دن اتنا اداس کیوں ہے کسی کی یاد آرہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ علی نے پوچھا
تو ایسے پوچھ رہا ہے جیسے یہ میری من پسند شادی ہے۔ یہ ایک ڈرامہ ہے وہ بھی “موٹے والا ” حسن کی بات پر علی دبا دبا ہنسا
اور رہی بات “یاد” کی تو جس کی یاد آرہی ہے وہ کبھی بھولتا ہی نہیں مجھے اب کی بار علی کے لہجے میں بلا کی سنجیدگی تھی ۔
اگر اب میں نے کچھ کہا تو تجھے بہت برا لگے گا لہذا میں اپنا منہ بند رکھتے ہوئے صرف یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ سعد سے ملنے کب جانا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
اگر تو نے نہیں جانا تو کم از کم مجھے ہی بتا دے تاکہ میں تو چکر لگا لو مجھے تو ان دونوں کمینوں کی بہت یاد آ رہی ہے علی نے بیڈ سے اٹھتے ہوئے کہا
جانا ہے جانا کیوں نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ بڑے دن ہوگئے اس کے کریلے کی “کِٹ” لگائے ہوئے ۔چل ایسا کرتے ہیں تو ادھر بیٹھ میں تیار ہو کر ابھی آتا ہوں حسن بیڈ سے اٹھ کر جانے لگا جب اسے علی نے روکا
تیاری شیاری کو چھوڑ بس نکلتے ہیں کل تو پھر ہم دونوں کو ہی فرصت نہیں ہو گی علی میں آنکھ دباتے ہوئے شرارت سے کہا
مطلب کام ہو گیا حسن نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا
تُو ایسے حیران ہو رہا ہے جیسے تیرا کام میں نے کبھی ادھورا چھوڑا ہے جو آج چھوڑوں گا
کام ایک دم زبردست ہوا ہے۔ اتنا زبردست کے تو خوش ہو جائے گا علی کی یقین دہانی پر حسن نے سکھ کا سانس لیا
یہ تو سچ مچ کمال ہوگیا ہے۔ چل اب اس خوشی میں سعد کو مل کر آتے ہیں حسن کہتا ہوا واش روم میں چلا گیا
ویسے حد ہے لوگ کچھ خوشی میں کچھ کھلاتے پلاتے ہیں یا انعام دیتے ہیں یہاں تو سعد سے ملو آ رہا ہے وہ میری “محبوبہ” نہیں تیار کی ہے ۔ہر وقت دونوں چپکے رہتے تھے اللہ جانے کیا کرتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ علی کی بات پر حسن نے واش روم میں سے ہی قہقہ لگایا
زاویار کی کچھ خیر خبر ہے کہ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ جب سے گاؤں گیا واپس ہی نہیں آیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ علی کو اچانک زاویار کا خیال آیا
اسے بھول جا وہ اپنی آنٹی کو پیارا ہو گیا ہے حسن مسلسل واش روم سے بول رہا تھا
شرم کر واشروم میں بولتے نہیں یہ بہت بری بات ہے
علی نے ٹوکتے ہوئے سعد کو میسج کیا
مجھے آج تک یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ باتھ روم میں کیوں نہیں بولتے۔ کیا باتھ روم میں باتیں کرنے سے “فضلاجات” ناراض ہو جاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
حالانکہ ان کی کوئی “عزت نفس” نہیں ہوتی اور نہ ہی اخلاق کے ساتھ ان کا دور دور تک کوئی تعلق ہوتا ہے حسن بالوں کو تولیے سے رگڑتا ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا تھا
مجھے لگتا ہے کہ بہت جلد تو کسی وزارت کو سنبھال لے گا کیوں کہ جس “صفائی” اور “ڈھٹائی” سے تو غلط چیزوں کو ڈیفنڈ کرتا ہے یہ ایک کامیاب “وزیر” کی نشانی ہے۔جو تجھ میں بدرجہ اتم موجود ہے ۔
علی کے کہنے پر حسن نے سینے پہ ہاتھ رکھ کر داد وصول کی ۔جس پر علی نے منہ بناتے ہوئے اپنے موبائل پر رسیو ہونے والے میسج کو کھولا
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
ہر طرف گھپ اندھیرا تھا وہ ڈر ڈر کر قدم رکھ رہا تھا دن میں تو یہ جگہ اور طرح کی لگتی ہے مگر رات میں کافی خوفناک ہے ذرا سی آہٹ پر وہ لرز جاتا ۔کافی دیر بعد وہ مال مویشی کے بیچ میں سے نکلتا ایک بوسیدہ کمرے کے سامنے پہنچ چکا تھا۔اپنے آپ کو حوصلہ دیتا دبی سی آواز میں پکارا ۔
پھپھو آپ اندر ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ مگر کوئی جواب نہ ملا
کیا یہاں پر کوئی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ دوسری بات پھر اس نے کوشش کی ۔
جب اندر سے کسی قسم کی کوئی ہلچل نہ ہوئی تو اس نے اپنے آپ کو حوصلہ دیتے ہوئے اس ٹوٹے ہوئے لکڑی کے تختے نما دروازے کو دھکیلا جس میں سے نکلنے والی عجیب آواز نے ماحول کو مزید خوفناک بنا دیا ۔اگر چاندنی رات نہ ہوتی تو وہ دہشت سے ہی مر جاتا ۔
دروازہ کھلتے ہی اس گھاس پھوس سے بھرے کمرے میں کچھ روشنی داخل ہوئی۔ڈرتے ڈرتے اس نے اندر قدم رکھا تو اس کا پاؤں کسی چیز ساتھ ٹکرایا اور وہ منہ کے بل زمین بوس ہوگیا
کون ہے کون ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ایک نہایت کمزور آواز آئی
پھوپھو میں ہوں
اس نے فورا اپنا آپ صاف کرتے ہوئے آواز کی سمت دیکھا جہاں ایک خوبصورت لڑکی شدید تھکاوٹ یا نیند سے ایک سائیڈ پر سمٹی ہوئی تھی ۔
پھپھو ان لوگوں نے آپ کو سونے کے لیے چارپائی تک نہیں دی ۔کتنے ظالم لوگ ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ اس نے فورا ان کے قریب ہوتے ہوئے پوچھا
تم اس وقت یہاں کیوں آئے ہو۔ چلے جاؤ۔ کسی نے دیکھ لیا تو زندہ نہیں چھوڑیں گے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ زری نے ڈرتے ڈرتے کہا
میں نے صبح کہا تھا ناااااا کہ آپ تیار رہنا ۔ میں آپ کو لینے آؤں گا ۔دیکھیں میں آگیا ہوں اور چھوٹو کو بھی ساتھ لایا ہوں۔
ہم یہاں سے بہت دور چلے جائیں گے اس نے پیار سے زری کے قریب بیٹھتے ہوئے کہا جو چھوٹو کا نام سن کر مزید پریشان ہو گئی تھی ۔
یہ کیا کیا تم نے اور میں نے منع بھی کیا تھا کہ ایسا نہ کرنا ۔وہ بھیڑیے ہیں تم دونوں کو نہیں چھوڑیں گے ۔ تم ابھی بہت چھوٹے ہو ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ۔ میں تم دونوں کے بڑے ہونے کا انتظار کروں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ زری نے پھیکی سی مسکراہٹ سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا
پھپھو بس کر دیں ۔ آپ نے خود ہی کہا تھا بیٹے شیر ہوتے ہیں اور لڑکیاں بکریاں میں بھی شیر ہوں بیٹا ہوں۔
میں آپ کو یہاں سے لے جاؤں گا ۔ورنہ یہ میری بکری کو کھا جائیں گے ۔آپ نے کہا تھا نااااا کہ اپنی بکری کی خود حفاظت کرتے ہیں _
اس کی بات پر زری کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی
تمہیں میری باتیں کتنی اچھی طرح یاد ہیں۔ انہوں نے پیار سے اسے دیکھا
مجھے سب یاد ہے ۔ میں کچھ نہیں بولا ۔بس آئیں چلیں میرے ساتھ ہم دونوں آپ کے بغیر نہیں رہ سکتے اس نے ضد کی۔
میں تمہارے ساتھ چل نہیں سکتیں کیونکہ مجھ سے چلا نہیں جاتا میری ٹانگ میں بہت درد ہے زری نے دکھ سے جواب دیا
یہ لوگ آپ کو بہت مارتے ہے ناااااا اس نے اپنی بات کی تصدیق چاہی
مارنے کی خیر ہے جسم پر لگے داغ ختم ہو جاتے ہیں مگر عزت پر لگے نہیں
زری کی بات اسے کچھ سمجھ نہیں آئی مگر وہ سر ہلا گیا۔ اتنے میں باہر کسی کے قدموں کی چاپ سنائی دی۔
تم فوراً یہاں سے چلے جاؤ کوئی ادھر ہی آ رہا ہے وہ جو کوئی بھی ہے تمہیں زندہ نہیں چھوڑے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ زریں کی آواز کانپنے لگی تھی
مگر اتنی رات کو کوئی اس وقت آپ کے پاس کیوں آئے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ وہ معصوم اپنے ذہن کے مطابق پوچھ رہا تھا
درندے اور بھیڑیے زیادہ تر رات کو شکار کرتے ہیں۔ تمہیں ابھی یہ باتیں سمجھ نہیں آئیں گئیں۔ اس لیے تم یہاں سے جاؤ زری نے اسے دھکا دیا مگر باہر جو بھی تھا وہ اب دروازے پر پہنچ چکا تھا۔
تم ایسا کرو اس گھاس میں چھپ جاؤ
زری کے پاس اور کوئی راستہ نہ تھا اس معصوم بچے کو بچانے کے لئے وہ دل ہی دل میں اس کی زندگی کی دعا مانگنے لگی ۔
ارے بے غیرت رات کے اس پہر کس سے باتیں کر رہی ہے۔ کون آیا ہے یہاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ویسے تو بڑی باتیں کرتی ہے مگر _
دو آدمی جو شاید نشے میں تھے اندر داخل ہوتے ہی بولنے لگے
کوئی نہیں ہے ذری کا ڈر کے مارے برا حال تھا وہ اپنے بھتیجے کے سامنے بے آبرو ہونا نہیں چاہتی تھی ۔
جھوٹ مت بول ہم نے خود تیری باتوں کی آواز سنی ہے ۔بول کون آیا تھا یہاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ایک نے بری طرح زری کے بال کھینچتے ہوئے اس سے پوچھا
باوجود لاکھ برداشت کے اس کے منہ سے دردناک چیخ بلند ہو گئی اب وہ مزید چھپ نہیں سکتا تھا باہر نکل کر اس آدمی کو مارنے لگا ۔
ہاہاہا اچھا تو یہ ہے یعنی تو بچوں کو بھی معاف نہیں کرتی۔ ہمارے سے تیرا گزارہ نہیں ہوتا
گند بکتے ہوئے دوسرے آدمی نے اسے پکڑا مگر وہ تیزی سے اپنا آپ چھڑا کر ادھر ادھر دیکھنے لگا تبھی اس کے ہاتھ میں کدال آ گئی
چھوڑو میری پھپھو کو ورنہ میں تمہیں جان سے مار دوں گا ۔۔۔۔۔۔۔؟ اس نے دھمکی دی
تم چلے جاؤ یہاں سے _ بھاگ جاؤ
چلے جاؤ زری سلسلہ اس آدمی کی گرفت میں بلبلا رہی تھی
جب اس سے مزید برداشت نہ ہوا تو اس نے پوری طاقت سے کدال ایک آدمی کے سر پہ ماری کیونکہ وہ اس حملے کے لیے تیار نہ تھا دوسرا نشے میں تھا اس لئے اپنا دفاع نہ کر سکا
سر پھٹتے ہی خون کے ابل ابل کر باہر نکلنے لگا زری اور دوسرے آدمی کی آنکھیں ڈر سے باہر نکل آئیں۔
دوسرا آدمی زری کو چھوڑ کر اس کی طرف بڑھا مگر زری نے اس کا بازو پکڑ لیا _ بھاگ جلدی بھاگ جا تجھے میری قسم بھاگ جا
زری زور سے چیخنے لگی
صدیق ڈر کے مارے ایک دم چارپائی پر اٹھ بیٹھا چاند رات آج بھی ویسے ہی ڈیرے پر روشنی کیے ہوئے تھی۔مگر اس رات کی طرح خوفناک نہ تھی ۔
آج پھر بیس سال بعد ایک اور لڑکی خون بہا میں دی گئی ہے مگر میں اس لڑکی کو کوئی نقصان پہنچنے نہیں دوں گا ۔پھپھو میں آپ کو نہیں بچا سکا لیکن اسے ضرور بچا لوں گا ___
صدیق نے خود سے وعدہ کیا ۔
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
جاری ہے