Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 28

پھر تم نے بتایا نہیں کہ تم اپنی بیوی کو عزت دلانے کے لئے کیا کرو گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ فرزین کی سوئی وہیں رکی ہوئی تھی
تمہیں کیوں بتاؤں میں تو اپنی بیوی کو بتاؤں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ سعد نے اپنی مسکراہٹ کنٹرول کرتے ہوئے جواب دیا
یہ کیا بات ہوئی اس نے تم نے وعدہ کیا تھا کہ بتاؤ گے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
پھر دو دن کے لئے غائب ہو گے اب کہہ رہے ہو کہ نہیں بتاتا فرزین کو شدید غصہ آیا
محترمہ میں نے تو کوئی وعدہ نہیں کیا جاتا تھا اور نہ ہی میں غائب ہوا ہوں میرے پیپرز تھے اور ایک منٹ میں اتنی ہی بات ہو سکتی ہے اپنا خیال رکھنا
سعد نے کہتے ساتھ ہی فون بند کر دیا
یہ کیا بدتمیزی ہے جاھل کہیں کا _ ابھی تو میں بات کر رہی تھی فرزین نے سعد کو کوستے ہوئے دوبارہ کال کی
اب تم “رول” کی خلاف ورزی کر رہی ہوں _ سعد نے کال اٹینڈ کرتے ہی کہا میں “رول” کی کوئی خلاف ورزی نہیں کر رہی ہوں۔ ایک منٹ کی شرط تم پر لاگو ہوتی ہے مجھ پر نہیں فرزین نے جواب دیا
یعنی تم جتنی مرضی دیر چاہو مجھ سے بات کر سکتی ہو اور میں صرف ایک منٹ سعد کو شدید دکھ ہوا جی بالکل ایسا ہی ہے فرزین میں مغرورانہ لہجے میں کہا
یہ تو زیادتی ہے _ سعد نے احتجاج کیا چھوڑو ان باتوں کو اور بتاؤ ناااااا فرزین نے ضد کی
کیا بتاؤں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ سعد بلکل انجان بن گیا
یہی کے تم اپنی بیوی کو کیسے عزت دلاؤں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ فرزین نے سوال دہرایا
میری بیوی عزت دار ہی ہوگی مجھے اس کو عزت دلانے کی کیا ضرورت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ سعد نے اب کی بار رجسٹر پر فرزین کا نام لکھتے ہوئے جواب دیا
مگر تمہارے بیوی تو میں ہوں بے ساختہ فرزین کے منہ سے نکلا
واقعی ہی
سعد نے بے یقینی سے پوچھا
فلحال
فرزین نے اب کی بار سمبھل کر جواب دیا
تو تم بھی تو عزت دار ہی ہو _ سعد بالکل سیریز تھا نہیں میں عزت دار نہیں ہوں کیوں کہ لوگ میرے اور تمہارے بارے میں غلط باتیں کرتے ہیں فرزین الجھی
مثلا کیسی باتیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ سعد کو اب مزہ آ رہا تھا
یہی کہ ہم دونوں نے آپس میں چکر چلا کر شادی کی ہے _ فرزین نے صاف گوئی سے کام لیتے ہوئے کہا شادی نہیں کی ابھی صرف نکاح کیا ہے _ اور رہی بات چکر چلانے کی ۔۔۔۔۔۔؟ تو کس کو کیا تکلیف ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ جسے بہت زیادہ تکلیف ہے وہ بھی چکر چلائے ہمیں اعتراض نہیں ہوگا سعد نے فرزین کے نام سے پورا صفحہ بھرتے ہوئے اب پن صفحے پر رکھ دیا
یہ کیا بات ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ فرزین چونکی
بھئی جو بھی تمہیں ایسی بات کہتا ہے تم اسے منہ توڑ جواب دو کہ آپ کو کیا تکلیف ہے آپ نے اپنی بیٹی دینی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ سعد کے جواب پر فرزین حیران سے زیادہ پریشان ہو گی ۔
کس کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ فرزین کے پوچھنے پر سعد نے اپنا سر پکڑ لیا
میرے خیال سے تمہیں اتنی دور سے میری باتیں سمجھ نہیں آرہی۔ اس لیے مجھے تمہارے قریب آنا پڑے گا تاکہ میں اپنی باتیں صحیح طریقے سے تمہیں سمجھا سکوں سعد کے لہجے میں اب کی بات واضح شرارت تھی
چھچھورے ہونے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا کرو۔
مجھے تمہاری کسی بات کی کوئی سمجھ نہیں آئی کہ تم کیا کہنا چاہ رہے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
مگر اتنا یقین ہے کہ جتنے تم “کپتے” ہو ۔اپنی بیوی کو لوگوں کی نظر میں عزت دلانے کے لئے کچھ نہ کچھ تو ضرور کرو گے
فرزین کی بات پر سعد کا حیرت سے منہ کھل گیا
کپتا _ میں نے ایسی کونسی حرکت کی ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ سعد کو شدید دکھ ہوا کی تو نہیں مگر کرنے کی ہر وقت کوشش کرتے رہتے ہو۔ لوگ تمہیں اچھا خاصا سلجھا ہوا سمجھتے ہیں مگر
فرزین نے بات ادھوری چھوڑی
مگر کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ سعد نے پوچھا
مگر تم ایسے نہیں ہو ۔اب مزید میرا دماغ کھانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ مجھے نیند آرہی ہے _ فرزین نے کہتے ہوئے فون بند کر دیا جبکہ سعد کی بات اس پر اثر کر گئی تھی یعنی “الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے”اب وہ مطمئن تھی کہ سعد میں کم از کم اتنا دم تو ہے کہ وہ اپنی بیوی کے لئے لوگوں کے سامنے کھڑا ہو سکے ۔ مگر پھر اچانک اس کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوگئی۔ مجھے تو اس سے شادی ہی نہیں کرنی ہے مجھے کیا وہ جو مرضی کرتا پھرے فرزین اپنے آپ کو ڈانٹتے ہوئے بستر پر لیٹنے لگی
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
چلیں آپ جلدی سے کپڑے تبدیل کر لیں حسن نے ہوٹل کے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے عروسہ سے کہا جس پر وہ سر ہلاتی واشروم کی طرف چل پڑی ۔
میں نے عروسہ سے سارا قیمتی سامان لے لینا ہے سوائے اس کے موبائل ک ۔
حسن نے علی کو میسج کیا
ٹھیک ہے تم بے فکر ہو میں بالکل تیار ہوں۔ علی کا جواب آیا
بس تم نے بہت احتیاط کرنی ہے میں تم دونوں کا پیچھا کروں گا مگر قدرے فاصلے سے پریشان مت ہونا ۔حسن نے دوبارہ میسج ٹائپ کیا
اوکے علی نے جواب دیا
اتنی دیر میں عروسہ کپڑے ہاتھ میں تھامے باہر آئیں
ارے تم نے اتنی جلدی کیسے اس تمبو سے نجات حاصل کر لی وہ بھی بالکل اکیلے اکیلے
ویسے فلموں میں تو ایسا نہیں ہوتا۔
میں ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ تم مجھے اپنی مدد کے لیے آواز دوں گی ۔ حسن نے اسے دیکھتے ہوئے کہا
میں اور تمہیں مدد کے لیے آواز دوں گی بھول ہے تمہاری عروسہ نے ہنستے ہوئے لہنگا بیڈ پر رکھا
آواز تو تم دو گی بلکہ تمہارے بڑے بھی دیں گے حسن نے دل میں سوچتے ہوئے کہا
سنو ایک آخری بات مانو گی ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حسن نے بیڈ پر نیم دراز ہوتے ہوئے ملائمت سے کہا
بولو مگر جلدی مجھے دیر ہو رہی ہے _
عروسہ نے موبائل پر وسام کا میسج پڑھتے ہوئے ایک نظر حسن کو دیکھا
تم اپنا سارا زیور مجھے دے دو یہاں تک کہ اپنا کریڈٹ کارڈ بھی حسن کی بات پہ عروسہ کے تیور بگڑ گئے
دیکھو میری بات ابھی مکمل نہیں ہوئی اس لیے کچھ مت کہنا
حسن نے ہاتھ کے اشارے سے عروسہ کو بولنے سے منع کیا جو بولنے کے لئے اپنا منہ کھول کر رہی تھی
میں چاہتا ہوں کہ ایک بار اپنی تسلی کر لوں کیونکہ تم نے میری اتنی مالی مدد کی ہے تو میرا بھی حق بنتا ہے تمہاری مدد کرنے کا حسن نے عروسہ کو دیکھا جو اسے خونخوار نظروں سے گھور رہی تھی
تم وسام کو جا کر کہو کہ تمہارے پاس کچھ نہیں ہے ۔دادا جی کو سب معلوم ہو گیا ہے انہوں نے تمہیں جائیداد سے عاق کر دیا ہے ۔
اگر وہ تمہیں ان سب باتوں کے باوجود بھی اپنائے تو میں سب کچھ تمہیں واپس کر دوں گا طلاق کے ساتھ مگر دوسری صورت میں تم اسے ہمیشہ کے لیے بھول جاؤ گی ٹھیک ہے۔
حسن کی بات پر اسے غصہ تو بہت آیا مگر وہ اس وقت الجھنا نہیں چاہتی تھی سو سر ہلا دیا۔
اب چلیں _
عروسہ نے سرسری سے لہجے میں بولا
پہلے اپنا پرس اور یہ زیور مجھے دے دو حسن نے عروسہ کے ہاتھ میں پکڑے اس کے پرس کی طرف اشارہ کیا
نہیں میں نے تمہیں آگے ہی بہت پیسے دیے ہیں اب اور نہیں یہ سب اپنے پاس رکھو گی مگر تمہاری تسلی کے لیے وسام سے جھوٹ بول دوں گی
عروسہ نے زیور پرس میں ڈالے ۔
چلو ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی میرا کام تھا تمہیں مشورہ دینا ۔حسن کہتا ہوں اٹھ کھڑا ہوا ۔
علی نے جیسے ہی عروسہ اور حسن کو پارکنگ میں آتے دیکھا تو گاڑی سٹارٹ کر دی۔
تم اس کے ساتھ چلی جاؤ۔یہ تمہیں بالکل حفاظت سے پہنچا دے گا جہاں تم نے جانا ہے اور ہاں اپنا خیال رکھنا پتا نہیں کیوں مگر حسن کو عجیب سا احساس ہو رہا تھا یوں عروسہ کے جانے سے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
شکریہ
میری مدد کے لئے اور ہاں دادا جی کو اچھے سے سنبھال لینا میں حالات نارمل ہوتی ہیں ان سے ملنے آؤں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ مجھے معلوم ہے یوں میرے گھر سے غائب ہونے پر سب بہت ہنگامہ کریں گے۔
عروسہ نے حسن کی طرف دیکھ کر کہا اور پھر حسن نے آگے بڑھ کر اس کے لیے گاڑی کا دروازہ کھولا جس پر عروسہ مسکراتی ہوئی اندر بیٹھ گئی ۔
لوگ اپنی بہن بیٹیاں رخصت کرتے ہیں اور میں اپنی بیوی حسن آج کل کے دور میں تجھ سے زیادہ شاید ہی کوئی بے غیرت انسان ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
گاڑی کو جاتا دیکھ کر حسن نے خود کلامی کی اور خود اپنی پھولوں سے سجی گاڑی کی طرف بڑھ گیا ۔
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
صدیق کب سے نظریں جھکائے الفاظ تلاش کر رہا تھا کہ وہ کیسے اپنی بات مختصر ترین الفاظ میں ماہی تک پہنچائے جبکہ ماہی اس کو گھور کر دیکھ رہی تھی ۔
ماہی یہ شخص اتنا خوبصورت تو نہیں جتنی تو ہے مگر گزارا ہو سکتا ہے
صورت قابل قبول ہے اور عقل سے بالکل پیدل لگتا ہے ۔ سر جھکا کر ایسے بیٹھا ہے جیسے میں نے اس کا گھونگھٹ اٹھانا ہو ۔
اس کا تو بولنے کا ارادہ نہیں لگ رہا اور مجھے اب شدید نیند آرہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ اتنے دنوں سے ٹنشن میں تھی ۔
ویسے بھی اتنا خوبصورت کمرہ جسے نیند نہ بھی آرہی ہو ایسے آرام دہ بستر پر خود بخود آجاتی ہے ماہی نے پہلے صدیق اور پھر بستر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے سوچا
اگر آپ کا یوں ہی مزید بیٹھنے کا ارادہ ہے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں مگر پلیز لائٹ آف کر دیں ۔مجھے نیند آرہی ہے اور میں روشنی میں سو نہیں سکتی ۔
آج مہربانی فرما دیں کل سے بے شک “ظلم و ستم” شروع کر دیجیے گا ماہی نے جمائی روکتے ہوئے اپنا جملہ پورا کیا
ماہی کی بات پر صدیق نے اپنے ذہن میں بننے والے تانے بانے روکے اور اس کی طرف دیکھا جو تھکن سے کافی مرجھائی ہوئی لگ رہی تھی۔
نیند کی شدت تھی یا کسی بھی اور وجہ سے اس کی آنکھیں لال ہو رہی تھیں۔ جو اس کے جادوئی حسن کو مزید چار چاند لگا رہی تھیں۔
آپ صرف گھورتے ہی ہیں بولتے نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہی نے صدیق کی طرف دیکھتے ہوئے انتہائی سنجیدگی سے پوچھا
میں نے کچھ کہنا تھا مگر آپ شاید بہت تھکی ہوئی ہیں اس لئے پھر سہی صدیق ماہی کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے بستر سے اٹھ گیا
آپ اب کہاں چل دیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہی نے صدیق کو دروازے کی طرف جاتا دیکھ کر پکارا
لائٹ بند کرنے لگا ہوں آپ نے ابھی خود ہی تو کہا تھا ۔صدیق نے مڑ کر جواب دیا
اچھا ٹھیک ہے
ماہی نے بستر پر اپنا لحاف سیدھا کیا
آپ انہی کپڑوں میں سوئیں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ صدیق جو لائٹ بند کرنے لگا تھا ماہی کو لیٹا دیکھ کر حیران ہوا
کیوں اس میں کیا ہے ۔ کہاں لکھا ہوا ہے کہ لہنگا پہن کر سویا نہیں جا سکتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
میرے خیال سے اچھا کھانا کھا کر _ خوبصورت کپڑے پہن کر نرم و ملائم بستر میں سونے سے انتہائی خوبصورت خواب آتے ہیں۔
اب میں اپنی اس “تھیوری” کو “تجربہ” کرنے لگی ہوں۔ ماہی کی بات صدیق کے سر سے اوپر گزر گئی۔
مطلب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ صدیق وہیں دیوار ساتھ ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا
جو دل کرتا ہے نکال لیں مگر مجھے فی الحال سونے دیں
ماہی نے اپنے اوپر لحاف لے لیا
آپ کے کپڑے اس الماری میں پڑے ہیں اگر بدلنا چاہیں تو صدیق کو عجیب سا لگ رہا تھا اس لیے اس نے دیوار میں بنی الماری کی طرف ہاتھ سے اشارہ کیا
کیا آپ ابھی یہ شلوار قمیض بدل کر تھری پیس سوٹ پہن سکتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہی نے مسکین سی شکل بنا کر پوچھا وہ اب بستر پر نیم دراز تھی۔
کیا
کس وقت ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ صدیق نے گھڑی کی طرف دیکھا جہاں رات کے دو بج رہے تھے
ہاں اگر آپ چاہیں تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہی نے صدیق کے لہجے میں ہی جواب دیا
مگر میں ایسا کیوں چاہوں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ صدیق نے کندھے اچکائے
یہی تو بات ہے آپ اس وقت تھری پیس سوٹ نہیں پہن سکتے بالکل ایسے ہی میں بھی اس وقت کپڑے بدل نہیں سکتی کیونکہ مجھے نیند آ رہی ہے _ ماہی کے جواب پر صدیق کے چہرے پر پہلی بار مسکراہٹ آ گئی آپ بہت دلچسپ ہیں میری سوچ سے بھی زیادہ (ورنہ میں تو سوچ رہا تھا کہ ایک روتی دھوتی لڑکی کو کیسے چپ کرواؤں گا ۔دل میں سوچا ) صدیق نے اقرار کیا
اور آپ کافی بور ہیں ماہی منہ بناتے لیٹنے لگی
شب بخیر
صدیق کہتا لائٹ آف کر گیا مگر جیسے ہی اس نے باہر جانے کے لئے دروازہ کھولا ماہی ایک بار پھر چیخ پڑی
اب کہاں چل دیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہی اٹھ کر بیٹھ گئی
میں بھی سونے جا رہا ہوں صرف آپ ہی کو رات میں نیند نہیں آتی بلکہ مجھے بھی رات کو نیند آتی ہے میں “آلو” تھوڑی ہوں صدیق نے درواذے میں کھڑے کھڑے ماہی کے انداز میں ہی اسے جواب دیا
وہ تو ٹھیک ہے مگر آپ کمرے سے باہر کیوں جا رہے ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ماہی نے اٹھ کر بیٹھتے ہوئے پوچھا
کیونکہ میرا بستر باہر ہے۔ میں شروع سے ہی کھلے آسمان کے نیچے سونے کا عادی ہوں۔ بند کمرے میں مجھے نیند نہیں آتی صدیق کو اب ماہی سے بات کرنے میں مزہ آنے لگا تھا وہ بھی رک گیا
اچھا پھر ایک منٹ روکیں ماہی نے انگلی سے اشارہ کیا اور بیڈ سے نیچے اتر کر اپنا لہنگا درست کرنے لگی
یہ اب آپ کیا کرنے لگی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ صدیق نے پوچھا
میں بھی آپ کے ساتھ جاؤں گی نااااا ماہی کی بات میں صدیق کے چھکے چھڑا دئیے
کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ اب کی بار صدیق تھوڑا اونچا بولا
ہاں تو آپ کا کیا مطلب ہے میں یہاں اکیلی سوؤں گئی ؟؟؟ نہ بابا نہ مجھے تو اکیلے نیند ہی نہیں آتی ہے ۔
اکیلے میں بہت ڈر لگتا ہے اور میرے لئے یہ جگہ بھی بالکل نئی ہے۔ ماہی آہستہ آہستہ اپنے کپڑے سنبھالتی صدیق تک پہنچی
میں تو چارپائی پر سوتا ہوں صدیق نے بیچارگی سے جواب دیا
آپ کی معلومات کا شکریہ مگر میں بھی بیذ پر نہیں سوتی ۔
ہمارے گھر میں بھی صرف چارپائیاں ہی ہوتیں ہیں کوئی مسئلہ نہیں میں سو جاؤں گی۔
کون سا پہلی دفعہ سونے لگی ہوں۔ ہم غریب لوگ ہیں چارپائی پر سونے کے عادی ہیں
ماہی اب بالکل صدیق کے سامنے کھڑی تھی
مگر ہم دونوں ایک چارپائی پر کیسے سوئینگے۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ اور آپ ڈیرے پر یوں کھلے عام نہیں یہ تو بہت برا لگے گا صدیق کو اب سچ مچ پریشانی ہونے لگی
میں آپ کے پاؤں کی طرف لیٹ جاؤ گی زیادہ پریشان مت ہوں صبح ہوتے ہی مجھے اٹھا دینا میں کمرے میں آ جاؤں گی
ماہی نے حل پیش کیا
مگر صدیق نے اپنا سر کھجایا وہ کیا سوچ رہا تھا اور یہاں تو معاملہ ہی الٹ تھا۔ یہ لڑکی کیا چیز ہے سمجھ سے باہر ہے۔اسے ذرا بھی احساس نہیں کہ “خون بہا” میں آئی ہے۔
اگر مگر کچھ نہیں یا تو آپ ادھر میرے ساتھ بیڈ پر سوئیں یا پھر میں آپ کے ساتھ بار سو جاتی ہوں وہ کیا ہے نااااا میں اکیلی نہیں سکتی ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہی نے رونے والی شکل بنا کر کہا
اچھا آپ کم از کم یہ تو تبدیل کر لیں کیونکہ اگر ہم دونوں چارپائی پر پورے آ بھی گئے تو یہ لباس نہیں آئے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ صدیق نے گھیرے دار لہنگے کو دیکھ کر کہا
یہ اتارنے میں تو بہت وقت لگ جائے گا ایسا کریں کہ آپ میری مدد کر دیں ماہین نے سوچتے ہوئے صدیق کی طرف دیکھا
میں کیسے آپ کی مدد کر سکتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ صدیق نے دونوں ہاتھ کھڑے کیے
آپ دوپٹہ اتارنے میں مدد کر دیں باقی میں خود کر لوں گی
ماہی نے مڑتے ہوئے کہا
آپ ایسا کریں آرام سے واش روم میں جا کر کپڑے تبدیل کرلیں میں یہاں آپ کا انتظار کرتا ہوں صدیق نے ماہی سے نظر چراتے ہوئے جواب دیا
میں کالج میں لوگوں کو “چونا” لگاتی تھی اور اب آپ مجھے “چونا” لگا رہے ہیں مجھے بیوقوف سمجھ رکھا ہے ۔
میں واش روم میں جاؤ گی تو آپ پیچھے سے رفوچکر ہو جائیں گے پھر میں کہاں ڈھونڈتے پھروں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
یا تو آپ میری مدد کریں ورنہ ایسے ہی ٹھیک ہے
ماہی نے دوبارہ صدیق کی طرف اپنا رخ کیا
یا اللہ اتنا سخت امتحان صدیق نے دل میں سوچا
چلیں صدیق نے ہار مانتے میں ماہی کو اپنے ساتھ چلنے کو کہا کیونکہ اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں تھا
یہ کمرہ ڈیرے کی ایک سائیڈ پر تھا پہلے یہاں مال مویشیوں کا چارہ ہوتا تھا مگر اب چھوٹے شاہ جی نے اسے ہمارے لئے ٹھیک کرایا دیا ہے۔
میرا اپنا تو کوئی گھر ہے نہیں جب سے ہوش سنبھالا ڈیرے پر ہی خود کو پایا صدیق کہتا ہوا آگے آگے چل رہا تھا جبکہ اس کے پیچھے پیچھے ماہی تھی۔
یعنی ہمیں جانوروں کے برابر اہمیت دی ہے حد ہے اتنی بڑی حویلی اور ایک سرونٹ کواٹر تک نہیں دے سکے ماہی نے دل میں زاویار کو کوسا۔
چاند کی چاندنی پوری طرح سے پھیلی ہوئی تھی کمرے کے آگے کھلا صحن جب کہ ایک سائیڈ پر کچھ برآمدے بنے ہوئے تھے۔ صدیق چلتا ہوا ایک چارپائی کے پاس رک گیا
میں شروع سے یہاں ہی سوتا ہوں کیونکہ یہاں سے تقریبا سارے ڈیرے کو دیکھا جاسکتا ہے جبکہ باقی برآمدوں میں باقی نوکر
صدیق نے ماہی کو چارپائی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا
مگر ابھی تو ادھر کوئی نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہی پاؤں اوپر کر کے چارپائی پر سمٹ کر بیٹھ گئی
آپ کو شاید سردی لگ رہی ہے میری مانیں تو کمرے میں ہی سکون سے سو جائیں۔ میں ادھر باہر ہوں اور میرے ہوتے ہوئے آپ کو کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی صدیق نے لحاف کھول کر ماہی پر ڈالا
اکیلے نیند نہیں آتی ناااااا
ماہی نے مسکین سی شکل بنائی۔
اور ایسے مجھے نہیں آئے گی صدیق نے ماہی کی طرف دیکھتے ہوئے سوچا مگر کہا کچھ نہیں
اب آپ گھورنا بند کریں اور لیٹیں تاکہ میں بھی آرام سے سو سکوں ماہی نے صدیق کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
آپ سو جائیں میں ادھر بیٹھا ہوا ہوں صدیق نے چارپائی کے پاؤں کی طرف بیٹھتے ہوئے جواب دیا
وہ اصل میں میں جب تک کسی کو پکڑ نا لو مجھے نیند نہیں آتی آپ لیٹیں میں آپ کے پاؤں پکڑ کر سو جاؤں گی
ماہی نے اپنا ایک اور مسئلہ بتایا جس پر صدیق تقریبا اچھل کر کھڑا ہو گیا ۔
یہ کیسی فرمائش ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ اس طرح کون سوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ صدیق نے اب کی بار حیرانگی سے ماہی کو دیکھتے ہوئے پوچھا
اس طرح میں سوتی ہوں کیونکہ مجھے اکیلے بالکل نیند نہیں آتی ۔ماہی نے جواب دیا
اگر آپ اسی طرح کھڑے ہو کر مجھے گھورتے رہیں گے تو مجھے مجبورا آپ کے ساتھ کھڑے ہو کر سونا پڑے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ماہی نے اپنی طرف صدیق کو گھورتا دیکھ کر کہا
مجبورا صدیق کو بستر پر لیٹنا پڑا کیونکہ اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں تھا __
ماہی نے اپنے نرم و ملائم گرم ہاتھوں سے صدیق کے پاؤں پکڑے اور آنکھیں بند کر کے لیٹ گئ۔
جبکہ ماہی کو یوں اپنے پاؤں میں سوتا دیکھ کر صدیق اپنے بچپن کے دنوں میں چلا گیا جب وہ اور اس کا چھوٹا بھائی اپنی پھپھو کے پاؤں پکڑ کر سوتے تھے ۔
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
جاری ہے.