Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 38

ماہی آپ جلدی سے اپنا منہ ڈھانپ لیں _ صدیق نے کمرے کے اندر جھانکتے ہوئے اونچی آواز نے کہا مگر کیوں ۔۔۔۔۔ ؟؟ ماہی نے کہتے ساتھ ہی اپنا دوپٹہ سر پر لیا جتنی دیر میں ماہی نے اپنے منہ کو دوپٹے سے ڈھانپاصدیق ایک بندے کے ساتھ کمرے میں داخل ہوا ڈاکٹر صاحب ان کے دائیں پاؤں میں موچ آگئی ہے آپ” کچا پلستر” کر دیں صدیق نے ماہی کا پاؤں پکڑ کر ٹیبل پر رکھا اور خود ماہی کے برابر بیٹھ گیا
مگر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہی نے آہستہ آواز میں سرگوشی کی
پلستر کرنے میں کوئی درد نہیں ہوتا اس لیے آپ خاموش بیٹھیں صدیق نے قدرے سخت آواز میں تنبیہہ کی
ڈاکٹر صاحب ذرا جلدی کریں۔ مجھے چھوٹے شاہ جی کے پاس بھی جانا ہے ۔کافی کام ہے حویلی میں
ڈاکٹر جو بہت غور سے ماہی کے پاؤں کا معائنہ کر رہا تھا صدیق کی بات پر چونکا
لیکن میرے خیال سے موچ زیادہ نہیں ہے آپ گرم پٹی کریں اس سے بھی پاؤں ٹھیک ہو جائے گا ۔ ڈاکٹر نے اپنی رائے دی۔
آپ سے جیسا کرنے کو کہا ہے ویسا کیجئے میرے پاس زیادہ ٹائم نہیں ہے
ماہی نے اس سے پہلے صدیق کو کبھی اتنے غصے میں نہیں دیکھا تھا ۔
ماہی کو خود بھی سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اچانک تصدیق کو کیا ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
پھر کچھ دیر میں ڈاکٹر نے صدیق کے حکم کے مطابق ماہی کے پاؤں کا پلستر کر دیا ۔
چلیں ڈاکٹر صاحب میں آپ کو فیس کے ساتھ آپ کی کلینک چھوڑ آؤں۔ صدیق نے کہتے ہوئے ڈاکٹر صاحب کا باکس اٹھایا
آپ میری بات سن کر جائیں ماہی نے پیچھے سے ہلکی آواز میں صدیق کو مخاطب کیا
ماہین ابھی اپنے پاؤں کا جائزہ ہی لے رہی تھی کہ صدیق دوبارہ کمرے میں داخل ہوا
جی فرمائیں صدیق نے سینے پر ہاتھ باندھتے ہوئے غور ماہی کے چہرے کی طرف دیکھا جو ناراض ناراض لگ رہا تھا
یہ سب کیا ہے اور کیوں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہی نے اپنے پاؤں کی طرف اشارہ کیا
آپ نے خود ہی تو کہا تھا کہ آپ شادی پر جانا نہیں چاہتیں اب اگر آپ کے پاؤں میں موچ آگئی ہے تو ڈاکٹر نے پندرہ دن کے لئے پلستر کر دیا ہے ۔
میں نے بڑی بیگم صاحبہ کو بتا دیا ہے کہ آپ شادی میں شرکت تو کرنا چاہتی تھیں مگر
پاؤں میں موچ کی وجہ سے بستر سے نیچے نہیں اتر سکتیں۔
وہ آپ کے لئے کافی پریشان بھی ہوئی ہیں اور انہیں کے کہنے پے میں ڈاکٹر کو لے کر آیا تھا ۔
اور کچھ ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ صدیق نے مسکراتے ہوئے ماہی سے پوچھا
ویسے میں آپ کو اتنا چالاک نہیں سمجھتی تھی ماہی کو اس وقت صدیق پر بہت پیار آیا تھا کیونکہ اس نے اتنی آسانی سے ماہی کی مشکل حل کردی تھی۔
میں نے کونسی چالاکی کی ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
بجائے اس کے کہ آپ میرا شکریہ ادا کریں آپ یوں بول رہی ہیں
صدیق ناراض ناراض سا بیڈ پر بیٹھ گیا ۔
آپ بہت اچھے ہیں اللہ کرے آپ کی دلی خواہش پوری ہوجائے _ ماہی نے محبت سے کہتے ہوئے صدیق کندھے پر سر رکھا ماہی کی بات پر صدیق کا چہرہ ایک دن مرجھا گیا اس نے ماہی کے گرد اپنے بازو حائل کیے ۔ اللہ کرے مجھے میرا بھائی مل جائے ۔بس یہی ایک خواہش ہے میری صدیق نے اپنی ٹھوڈی ماہی کے سر پر رکھتے ہوئے آہستہ سا کہا
ارے واہ بس ایک ہی خواہش یہ کیا بات ہوئی ۔۔۔۔۔؟؟؟ وہ جو مجھے اتنے ڈھیر سارے بچے چاہیے ان کا کیا ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہی نے ناراضگی سے اپنا سر فوراً صدیق کے کندھے سے اٹھایا ۔ فی الحال مجھے حویلی میں بہت کام ہے اس بارے میں بعد میں بات کرتے ہیں
صدیق کہتا ہوا اٹھنے لگا جب ماہی نے صدیق کا ہاتھ پکڑ لیا
مجھے سچ مچ بچے بہت اچھے لگتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہی کی آنکھوں میں واضح شرارت تھی
اور مجھے آپ _ اب اجازت ہے جاؤں۔ ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ صدیق نے ماہی کے ماتھے پر پیار کیا اور محبت سے پوچھا ٹھیک ہے مگر جلدی آئیے گا
کیونکہ میرے پاؤں میں تو چوٹ لگی ہے میں تو کہیں آنے جانے کے قابل نہیں ہوں ۔
اب ایسی صورتحال میں اگر مجھے واش روم جانا ہوا تو ۔۔۔۔۔۔؟
آپ خود سمجھ دار ہیں کہ بندہ کتنی دیر واش روم میں جائے بغیر رہ سکتا ہے اتنی دیر میں واپس آ جائیے گا ماہی کی معصومیت پر صدیق کو ٹوٹ کر پیار آیا
قسم سے ماہی آپ ایک ہی پیس ہیں جو میرے حصے میں آئیں ہیں
مجھے اپنی زندگی حسین لگنے لگی ہے ۔
صدیق نے کھلے دل سے اعتراف کیا۔
ظاہری سی بات ہے میرے جیسا بندہ جس کی زندگی میں آ جائے اسے تو اپنی زندگی حسین ہی لگے گی ناااااا ۔۔۔۔۔۔
ماہی کے جواب پر صدیق نے سر کو خم دیتے ہوئے اپنا ہاتھ سینے پر رکھا اور دروازے کی طرف اشارہ کیا ۔
ٹھیک ہے ٹھیک ہے جائیں مگر جلدی آئے گا ۔۔۔۔۔ ماہی نے مسکراتے ہوئے صدیق کو رخصت کیا ۔
صدیق کے جاتے ہیں ماہی نے ایک سرد آہ بھری ۔
کاش کہ سر میرے ہوتے تو میری زندگی بھی بہت خوبصورت ہوتی مگر ایسا ہوتا تب نا سر میرے ہوتے جب نا ااااا ۔۔۔۔۔۔۔ ماہی نے اپنی انگلی سے اپنی آنکھوں میں آئے آنسوؤں کو چنا ۔ 🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️ پوری حویلی کو دلہن کی طرح سجایا گیا تھا ۔ سجاوٹ اتنی شاندار تھی کہ دیکھنے والوں کی آنکھوں کو خیرہ کر رہی تھی ۔شادی کے تمام انتظامات کا انچارج صدیق تھا ۔ صدیق کی شادی پر جس طرح زاویار نے حصہ لیا تھا صدیق کی کوشش تھی کہ وہ اس سے بھی بڑھ کر اس کی خوشیوں میں اس کا ساتھ دے ۔ کیونکہ صدیق کو اپنی زندگی کی سب سے بڑی خوشی “ماہی” کی شکل میں زاویار کی وجہ سے ہی ملی تھی ۔ ابھی بھی وہ زاویار سے مل کر کھانے کے بارے میں گفتگو کر رہا تھا ۔ شاہ جی میرے خیال سے ہرن کے گوشت کے علاوہ مچھلی اور چکن کی بھی علیحدہ علیحدہ ڈشیں ہونی چاہیے ۔ آپ کے حکم کے مطابق بار بی کیو کا پورا انتظام کرلیا گیا ہے اگر آپ بتا دیں کہ شہر سے آپ کے دوستوں یا جاننے والوں کی تعداد کتنی ہے تو میں ان کا علیحدہ سے بندوبست کر دو ۔ صدیق یار ویسے شادی بہت مشکل کام ہے ناااااا
زاویار نے تھک کر پیچھے ٹیک لگائی
شاہ جی پھر انتظامات میں تھکاوٹ تو ہوتی ہے نااااا _ آخر ہم اپنی خوشیوں میں اتنے لوگوں کو جمع کرتے ہیں۔ صدیق کے جواب پر زاویار نے ہلکا سا سر ہلایا اتنی دیر میں نوکر نے آکر کسی مہمان کی اطلاع دی صدیق دیکھو کون ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟ بلکہ ایسا کرو کہ کہہ دو میں ابھی بزی ہوں ۔میں کچھ دیر آرام کرنا چاہتا ہوں ۔ زاویار کی بات پر صدیق سر ہلا کر جانے لگا مگر پھر کسی خیال کے تحت پلٹا شاہ جی اگر آپ کے کوئی دوست ہوئے تو ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ میرے دوستوں کے پاس اتنا ٹائم نہیں کہ وہ مجھے فون ہی کر لیں تو وہ کہاں آئیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ تُو تو جیسے روز فون کر کر کے تھک گیا ہے شرم نہیں آتی یہ گلہ کرتے ہوئے ۔۔۔۔۔۔؟
بندہ کم ازکم پہلے اپنے گریبان میں جھانکتا ہے پھر دوستوں کو ذلیل کرتا اچھا لگتا ہے _ اس سے پہلے کہ صدیق کوئی جواب دیتا حسن کمرے میں داخل ہوتا ہوا بولا بلیک شرٹ اور کیمل کلر کی پینٹ پہنے وہ بہت خوبصورت لگ رہا تھا۔ What a pleasent surprise ……??? زاویار نے خوشدلی سے اٹھتے ہوئے حسن کو گلے لگایا لیکن اس نے محسوس کیا کہ حسن اسے پہلے سے زیادہ محبت سے ملا ہے ۔ لگتا ہے جدائی نے تیرے دل میں میری کافی محبت پیدا کر دی ہے زاویہ نے ہنستے ہوئے حسن کو صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کیا اور ساتھ ہی صدیق کو کھانے کا آرڈر دیا ۔
تجھے پتا ہے میں تیرا بھائی ہوں ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حسن نے بات کا آغاز کیا
“‏ترکی کی ایک کہاوت ہے
کہ یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ تم میرے بھائی ہو یہ بھی بتاؤ کونسے ۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟
حابیل یا قابیل ۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟”
زاویار نے ہنستے ہوئے حسن کی بات کا جواب دیا ۔
یار آج میں تم سے ایک ضروری بات پوچھنے آیا ہوں بلکہ شاید بتانے آیا ہوں .
حسن کے اچانک سنجیدہ ہونے پر زاویار نے اسے حیرت سے دیکھا
آج سورج کہاں سے نکلا ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
جب زاویار کی بات پر حسن کے چہرے پر کوئی مسکراہٹ نہ آئی تو اسے بھی سنجیدہ ہونا پڑا ۔
یار بات تو بیس سال پرانی ہے اور تو بھی اس وقت بہت چھوٹا ہوگا مگر شاید تیرے والد صاحب نے تجھے اس بارے میں کچھ بتایا ہو ۔
حسن نے بات شروع کی صدیق جو کسی چیز کے بارے میں پوچھنے کمرے میں داخل ہو رہا تھا حسن کی بات سن کر وہیں رک گیا ۔
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
فرزین کب سے ایک کے بعد دوسرا فیشن میگزین دیکھ رہی تھی مگر اب تک اسے کوئی بھی برائیڈل ڈریس پسند نہیں آیا تھا ۔
بالآخر تھک کر اس نے سارے میگزین نیچے کارپٹ پر پھینکے اور خود صوفے ساتھ ٹیک لگا کر آنکھیں بند کر لیں ۔
ایسے کپڑے پہنے کے لئے بندے کی اپنی شکل بھی ایسی ہی ہونی چاہیے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ سعد کے طنز پر فرزین نے آنکھیں کھول کر دیکھا
تم اپنا منہ بند رکھا کرو ۔یقین مانو کہ جب تک تمہارا منہ بند ہوتا ہے تم کافی مناسب لگتے ہو فرزین نے سعد کی طرف دیکھ کر جواب دیا جو اب صوفے پر اس کے مقابلے بیٹھ چکا تھا
فرزین دیکھو اس میں جیولری کے ڈیزائن کتنے خوبصورت ہیں۔ تمہارے ماموں یہ بک سنار کی دکان سے لائے ہیں ۔جو ڈیزائن تمہیں پسند ہیں بتا دو اسی کا آرڈر کر دیتے ہیں ۔
اس سے پہلے کہ فرزین مزید سعد کو کچھ کہتی رضیہ بیگم ہاتھ میں ایک کتاب لیے ٹی وی لاؤنچ میں داخل ہوئی ۔
ساتھ تم بھی دیکھ لو کہ تم نے منہ دکھائی میں کیا دینا ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟ رضیہ بیگم نے کتاب فرزین کو دیتے ہوئے سعد سے کہا
چلو جی سو دفعہ دیکھے ہوئے منہ کو بھی منہ دکھائی دینی ہے
یہ تو قیامت کی نشانی ہے ۔
سعد نے ہنستے ہوئے کہا جس پر فرزین کا موڈ خراب ہو گیا
پھپھو آپ اسے دیکھ رہی ہیں کیا بکواس کر رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
یہ تو ایک رسم ہوتی ہے نااااا اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ کتنی دفعہ منہ دیکھا ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ فرزین نے رضیہ بیگم سے گلہ کیا
فرزین بالکل ٹھیک کہا ہے رہی ہے بیٹا یہ تو بس ایک رسم ہوتی ہے خوشی کے لیے رضیہ بیگم نے فرزین کی سائیڈ لیتے ہوئے سعد سے کہا
خوشی کیسی خوشی ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ہر پانچ منٹ کے بعد تو یہ مکر جاتی ہے کہ میں نے شادی نہیں کرنی ۔
جتنی جلدی یہ شادی سے مکرتی ہے اتنی جلدی تو سیاستدان اپنے وعدوں سے بھی نہیں مکرتے سعد ہنسنے لگا
پھپھو آپ اسے دفع کریں آپ دیکھیں یہ والی انگوٹھی کتنی خوبصورت ہے نااااا ۔۔۔۔۔؟ فرزین نے کتاب رضیہ بیگم کے آگے کرتے ہوئے کہا
ہاں ڈیزائن تو بہت ہی خوبصورت ہے میرے خیال سے یہ منہ دکھائی کے لیے بنوا لیتے ہیں ۔
تمہارا کیا خیال ہے۔۔۔۔۔۔۔؟ رضیہ بیگم نے سعد کی طرف دیکھ کر پوچھا
بنوا لیں مگر میں منہ دکھائی تین چار مہینے بعد دونگا جب مجھے یقین ہو جائے گا کہ اب یہ نہیں مکرے گی سعد نے تپا دینے والی مسکراہٹ فرزین کی طرف اچھالی۔
میں نے اس کمینے سےشادی نہیں کرنی
نہیں کرنی میں نے شادی فرزین غصے سے اٹھ کھڑی ہوئی
دیکھا میں نے کہا تھا نہ کہ اسے دورے پڑتے ہیں “شادی نہ کرنے کے ” سعد مزید جلتی پر تیل کا کام کر رہا تھا
فرزین غصے سے اپنے کمرے میں چلی گئی جبکہ رضیہ بیگم نے افسوس سے سعد کی طرف دیکھا
بیٹا ایسی باتیں کرنے سے دلوں میں میل آجاتی ہے تم اپنی نئی زندگی شروع کرنے لگے ہو اب یہ بچوں کی طرح باتیں کرنا لڑنا جھگڑنا چھوڑ دو ۔
بیوی چاہے آپ کی اپنی کزن ہی کیوں ناااا ہو ہزار بار آپ اسے پہلے دیکھ چکے ہوں۔
مگر پھر بھی وہ چاہتی ہے کہ اس کا خاوند اس کی تعریف کرے۔ تم اپنی ایسی باتوں سے اس کا دل کیوں کھٹا کرتے ہو ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
رضیہ بیگم نے اپنے طور پر بیٹے کو سمجھایا
ڈرامے دیکھ دیکھ کر اس کا دماغ آگے ہی خراب ہے اور آپ چاہتی ہیں جو تھوڑی بہت اکثر رہ گئی ہے وہ میں اس کی تعریفیں کر کے نکال دوں۔
مجھے اس سے محبت ھے یہ بات وہ اچھی طرح جانتی ہے ورنہ کب کا میں اسے چھوڑ چکا ہوتا ۔
اب چھچھورے لوگوں کی طرح دن رات یہ راگ الاپنا مجھے اچھا نہیں لگتا ۔
آپ جانتی ہیں کہ میری ایسی طبیعت نہیں ہے مجھے باتیں کم اور عمل زیادہ کرنا پسند ہے ۔
میں اپنے عمل سے ثابت کروں گا کہ مجھے اپنی بیوی سے بہت محبت ہے اور میرے نزدیک اس کی عزت اور احترام بہت معنی رکھتا ہے ۔
مگر مجھ سے ہمایوں سعید نہیں بنا جاتا اور نہ ہی اس جتنا گردہ میرے پاس ہے کہ جیسی بھی لڑکی ہو اس کی تعریفیں شروع کر دیتا ہے کمال ایکٹر ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
سعد اتنا اونچا بول رہا تھا کہ کمرے میں بیٹھی فرزین کو اس کی ہر بات صاف سنائی دے رہی تھی۔
پتا نہیں تم دونوں کا کیا بنے گا ۔۔۔۔۔؟؟؟ ایک کا مزاج مشرق ہے تو دوسرے کا مغرب ___
رضیہ بیگم بھی بڑبڑاتی ہوئیں کچن کی طرف چلی گئی۔
جبکہ ان کے جاتے ہی سعد نے بن دروازے کی طرف دیکھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ فرزین نے اس کی تمام باتیں سن لی ہیں۔
🎗️🎗️🎗️🎗️
جیسے جیسے حسن بتاتا جا رہا تھا ویسے ویسے صدیق کا رنگ اڑتا جا رہا تھا ۔
خوشی اور غم کے ملے جلے تاثرات اس کے چہرے پر آ اور جا رہے تھے ۔
حسن نے جب اپنی بات ختم کی تو زاویار نے حسن کو غور سے دیکھا
اگر تم مجھے یہ بات پہلے بتا دیتے تو شاید میں تمہیں مزید اذیت سے بہت پہلے بچا لیتا۔
پتہ نہیں ہم لوگ کیوں اپنے خول میں بند رہتے ہیں اور اپنے دل کی باتیں اپنوں سے بھی چھپاتے ہیں اسی وجہ سے ہماری زندگی میں مشکلات پیدا ہوتیں ہیں۔
میں واقعی بہت چھوٹا تھا لیکن کیونکہ میری امی اور بابا نے مجھے یہ قصہ سنا رکھا ہے اس لیے میں تمہیں آگے کی بات بتاتا ہوں ۔
جب اس چھوٹے سے بچے نے اپنی پھپھو کو بچانے کے لیے ایک شخص کا قتل کیا بلکہ یوں کہنا زیادہ درست ہوگا کہ اس نے صرف اپنی پھپھو کو بچایا تھا اور غلطی سے دوسرا بندہ مارا گیا ۔
پنچایت نے اس معصوم بچے کو بھی “ونی” کیا مگر کیونکہ اس وقت میرے والد پنچایت کے ممبر تھے میرے بابا کو اس معصوم بچے پر بہت ترس آیا ۔
میرے والد اس بچے کو پنچایت سے لے کر حویلی لے آئے ۔انہوں نے بہت کوشش کی کہ وہ اس بچے کو اعلی تعلیم دلوائیں ۔
مگر وہ بچہ باضد تھا کہ وہ یہاں سے کہیں نہیں جائے گا شاید کبھی اس کا بھائی لوٹ آئے۔
زاویار کی باتوں پر حسن کی آنکھوں میں نمی اترنے لگی۔
تم جانتے ہو کہ وہ کون ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
زاویار کے پوچھنے پر حسن پھیکا سا مسکرایا
یقیناً تم تو نہیں ہو ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حسن کی بات پر زاویار نے سر ہلایا
مجھے اس وقت دل سے افسوس ہو رہا ہے کہ وہ میں کیوں نہیں ہوں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
کیونکہ تمہارا جیسا بھائی خوش قسمتی ہے۔ خیر میں تمہیں اس سے ملاتا ہوں ۔ویسے تم بابا کی وفات پر اس سے ملے ہوں گے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
زویار نے اندازے سے کہا اور ساتھ ہی صدیق کو آواز دی ۔
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
جاری ہے