Phir Yun Hua By Amna Mehmood Readelle50141 Last Episode
No Download Link
Rate this Novel
Last Episode
ماہی تم سے چھوٹے شاہ جی ملنے آئے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟ صدیق نے کمرے میں آ کر ماہی سے کہا جس پر اس کا موڈ سخت خراب ہو گیا.
میں نے آپ کو بتا تو دیا تھا کہ میں نے ڈاکٹر نہیں بننا پھر وہ کیوں آئے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟
ماہی کی بات پر صدیق نے اسے بازو سے پکڑ کر بیڈ پر بیٹھایا
میں نے جوں کا توں تمہارا میسج انھیں دے دیا تھا مگر وہ کہنے لگے کہ مجھے خود بات کرنی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟
صدیق نے پیار سے ماہی کے بال پیچھے کیے.
میرا دل نہیں کرتا نااااا انھیں دیکھنے کو _ کیسے سمجھاؤ آپ کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟ ماہی نے صدیق کی طرف دیکھتے ہوئے دل میں سوچا آپ نے وعدہ کیا تھا کہ آج مجھے میرے گھر والوں سے ملوا کر لائیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟ ماہی نے یاد دلایا. مجھے یاد ہے پہلے تم شاہ جی کی بات سن لو پھر چلتے ہیں. صدیق نے ماہی نے کہا اور کمرے سے باہر چلا گیا. ” بُہت اذیت ناک ہوتا ہے اس شخص کو دیکھنا جو آپ سے چھینا گیا ہو! ۔ ” ماہی اپنے خیالوں میں گم تھی جب زاویار نے دروازے پر دستک دے کر اپنی موجودگی کا احساس دلایا. جیسے ہی ماہی کی نظر زاویار پر پڑی وہ اپنی جگہ تھم سی گئی. کیوں منع کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟ زاویار سراپا سوال تھا آپ کو تو میں منع کر ہی نہیں سکتی مگر سر میں اب ڈاکٹر بننا نہیں چاہتی.
ماہی نے نظریں جھکا کر جواب دیا جس پر زاویار کافی حیران ہوا
ماہی تم کب سے اتنی کنفیوز ہو گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ سر اٹھا کر بات کرو تم تو سر جھکا کر بات کرنا نہیں جانتی تھی زاویار کی بات پر ماہی نے سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا سر اب پہلے جیسے حالات نہیں ہیں سب کچھ بدل گیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ انتہائی پھیکی مسکراہٹ ماہی کے چہرے پر آئی جسے دیکھ کر زاویار کو دکھ ہوا ۔ سب کچھ بالکل ویسا ہی ہے تمہارا رزلٹ میری سوچ سے بھی زیادہ اچھا ہے اور یاد ہے تم نے ایک دفعہ کہا تھا کہ تمہارے بارے میں _ “میں جو بھی فیصلہ کروں گا تمہیں منظور ہوگا”
اور میں چاہتا ہوں کہ تم ڈاکٹر بنو کیوں کہ تم جیسی قابل لڑکی کی ہمارے گاؤں کو بہت ضرورت ہے ۔ زاویہار نے اپنی پشت پر ہاتھ باندھتے ہوئے جواب دیا
سفید شلوار قمیض کے اوپر کالی چادر _ زاویار ہمیشہ کی طرح ماہی کو بے انتہا خوبصورت لگ رہا تھا گاؤں والوں کا تو میں نے ٹھیکہ نہیں لیا ہوا _ لیکن اگر آپ کو میری ضرورت ہے تو میں تیار ہوں۔ بھائی اب اپنے پرانے روپ میں لوٹ چکی تھی
ظاہری سی بات ہے بڑھاپے کے ساتھ بندے کو بہت ساری بیماریاں لگ جاتیں ہیں تو مجھے بھی ایک ڈاکٹر کی ضرورت پڑے گی زاویار نے مسکرا کر جواب دیا
تو پھر میں آپ کی طرف سے “ہاں” سمجھو _ زاویار نے اپنی کلائی پر بندھی گھڑی کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا میری طرف سے تو ہمیشہ ” ہاں” ہی رہی ہے میں نے کبھی آپ کو ” نہ” بولا ہے جو آج بولوں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہی کی جواب زاویار نے نفی میں سر ہلایا اچھے بچوں کی طرح اپنی پیکنگ کرو اور ہاسٹل کے لیے نکلو زاویار کہتا ہوں جانے کے لیے مڑا
آپ خوش ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہی کے سوال پر پلٹا
ظاہر سی بات ہے بہت خوش ہوں تمہیں لگ نہیں رہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ زاویار کو ماہی کا سوال عجیب لگا
شکل سے تو نہیں لگ رہا کہ آپ خوش ہیں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
ہاں البتہ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ آپ خوش ہونے کی ایکٹنگ کر رہے ہیں _ ماہی کی بات پر زاویار کو دھچکا لگا تم “چہرہ شناس” کبھی بھی نہیں تھی _ زاویار نے یاد کرایا
سر آپ غلط ہیں میں شروع سے چہرہ شناس ہوں ماہی کے چیلنج پر زاویار نے آبرو اچکا کر پوچھا کیسے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ جتنی میں آپ سے “محبت ” کرتی تھی آپ بھی میرے سے ویسے ہی “محبت ” کرتے تھے اگر “نہ ” کرتے ہوتے تو آپ مجھے اتنی سختی سے “جھڑک” دیتے کہ میں آپ کی طرف ایک قدم بھی نہ بڑھا پاتی ۔ عورت اپنی طرف اٹھنے والی مرد کی ہر نظر کو پہچانتی ہے حوس، محبت ، نفرت ، غصہ ، پیار _ آپ مجھے بے وقوف سمجھتے ہیں میں لکھ کر دینے کو تیار ہوں کہ آپ بالکل بھی خوش نہیں ہیں ماہی نے سینے پہ ہاتھ باندھے ہوئے پراعتماد لہجے میں کہا
تمہیں پتا ہے یہ سب تمہاری وجہ سے ہی ہے عفت مجھ پر شک کرتی ہے ۔ زاویار نے پہلی دفعہ اپنے آپ کو بے بس پایا
یہ تو بہت خوشی کی بات ہے پتا میں ہمیشہ سوچتی تھی کہ “محبت” میں جب ناکامی ہوتی ہے تو زندگی صرف “لڑکی” کی خراب ہوتی ہے ۔
مگر لگتا ہے کہ اس دفعہ “تاریخ” بدلے گی وقت بے شک ہر زخم کا مرہم ہے مگر کچھ وقت تو آپ بھی تڑپے گے۔
” اندھیرے میں بہائے گئے آنسوؤں کی قسم! میں نے آپ سے سچ میں شدید مُحبت کی ہے ، اِتنی شدید کہ اِس میں میں نے اپنی ذات کو ہی کھو دِیا ۔ مگر اب کچھ تسلی ہوئی ہے کہ آنسو رائیگاں نہیں گئے۔ “
چلتا ہوں اپنا خیال رکھنا اور کبھی بھی کسی بھی چیز کی ضرورت پڑے تو میرے نمبر پر میسج کر دینا تم تک پہنچ جائے گی ۔ زاویار کے لیے اب ماہی کا سامنا کرنا مشکل ہو رہا تھا
مجھے آپ کا “دل” چاہیے جو “آپ” دے نہیں سکتے _ اور انتہائی “مزاحیہ خیز” بات ہے کہ جسے دینا چاہ رہے ہیں وہ لینا ہی نہیں چاہتی مجھے ایسا لگتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
مگر مجھے ایسا نہیں لگتا کیونکہ مجھے بھی اپنی محبت پر پورا اعتماد ہے زاویار ماہی کو جواب دے کر فوراً کمرے سے باہر نکل گیا
اب مزا آئے گا _ آپ کا کیا خیال تھا کہ میں آپ کو ویسے ہی چھوڑ دوں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
جو چنگاڑی میرے دل میں سلگ رہی ہے اس کی کچھ تپش تو آپ کے دل کو بھی پہنچنی چاہیے “سر زاویار شاہ “
ماہی اتنی بھی “بے مول” نہیں کہ وہ کسی کو چاہے اور وہ اسے بھول جائے ناممکن
آج کے بعد سے آپ کے دل میں ساری زندگی ایک “خلش” تو رہ جائے گی _ اور یہی میں چاہتی ہوں کہ آپ مجھے مرتے دم تک مت بھولیں ۔
کیا محبت میں صرف لڑکی کو ہی سزا ملنی چاہیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
نہیں مرد کو بھی برابر کا حصہ ملنا چاہیے بلکہ زیادہ جیسے جائیداد میں ملتا ہے ۔
“وہ سلیقے سے ہوا مجھ سے گریزاں ورنہ
لوگ تو صاف محبت میں مکرتے دیکھے”
ماہی نے اپنی آنکھوں میں آئی نمی کو صاف کرتے ہوئے الماری کی طرف قدم بڑھا دیے.
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
حسن ، عروسہ ، ماہی اور صدیق ایک ساتھ بیٹھے دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے ۔
چھوٹو کچھ دن اور رک جاؤ ابھی مت جاؤ ابھی تو میں نے تمہیں دل بھر کر دیکھا بھی نہیں ہے صدیق نے محبت سے حسن کو دیکھتے ہوئے کہا
ویسے آپ سب کو نہیں لگتا کہ یہ جملہ انھیں مجھے بولنا چاہیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہی کی بات پر صدیق نے حیرت سے جب کہ حسن نے مسکرا کر اسے دیکھا
ہاں کہہ تو آپ بالکل ٹھیک رہیں ہیں حق تو آپ کا بنتا ہے حسن نے تائید کی
تم چھوڑو اسے _ یہ تو ایسے ہی باتیں کرتی رہتی ہے تم میری بات کا جواب دو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ صدیق نے دوبارہ حسن کی طرف دیکھا
بھائی میں تو کہتا ہوں کہ آپ بھی میرے ساتھ چلیں ۔ یہاں کیوں “مال ڈنگر” ساتھ اپنی زندگی برباد کر رہے ہیں۔
ہم دونوں کا ایک دوسرے کے سوا ہے ہی کون ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
اتنا عرصہ ایک دوسرے کے بغیر گزارہ ہے اب اور نہیں حسن اب بالکل سیریز تھا
نہیں یارررررر چھوٹے شاہ جی بالکل اکیلے ہو جائیں گے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
انہیں ابھی میری ضرورت ہے اور میں نمک حرام بالکل بھی نہیں ۔ ۔ ۔ صدیق کے جواب پہ ماہی نے منہ بنا لیا
چھوٹے شاہ جی کی تو ایسی کی تیسی چھوٹے شاہ جی ہوں گے آپ کے میرے لیے وہ صرف زاویار ہے۔ جسے میں ہاسٹل میں خوب بےعزت کرتا تھا ۔ حسن کی بات پر ماہی مسکرا دی۔
بڑا ہی اچھا لگتا ہے آپ کے منہ سے ان کے شاہ جی کی تعریفیں سننا ماہی کی بات پر حسن نے مسکرا کر اسے دیکھا کیونکہ میں آپ کے حصے کا بھی حساب برابر کر دیتا ہوں ۔ ۔ ۔ حسن کی بات کا مطلب کسی کو سمجھ نہیں آیا مگر ماہی نے مشکوک نظروں سے اسے دیکھا
اس کا مطلب یہ ہوا کہ تم نہیں رکو گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
ماہی بھی کچھ دنوں تک چلی جائے گی صدیق اداس ہوا ۔
آپ کہاں جا رہی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ میرے اتنے پیارے بھائی کو چھوڑ کر حسن نے ماہی سے پوچھا
میں جا نہیں رہی یہ مجھے زبردستی بھیج رہے ہیں “جانے” اور “بھیجنے” میں بہت فرق ہوتا ہے ماہی نے شکایتی نظروں سے صدیق کو دیکھا یار چھوٹے شاہ جی نے اس کا میڈیکل کالج میں داخلہ کرا دیا ہے۔ اور اس کی خواہش بھی تھی ڈاکٹر بننے کی۔ مگر اب یہ ضد کر رہی ہے کہ میں نے ڈاکٹر نہیں بننا کتنی بری بات ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
چھوٹے شاہ جی کے کتنے احسانات ہیں ہم پر مگر اسے احساس ہی نہیں صدیق کی بات پر حسن نے سر ہلایا آپ وہاں ہاسٹل میں رہیں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حسن نے پوچھا ہمممممم ماہی نے بےدلی سے جواب دیا
کیوں جب میرا گھر ہے تو آپ کو ہاسٹل میں رہنے کی کیا ضرورت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حسن نے تعجب سے دونوں کی طرف دیکھا
کیوں عروسہ _ حسن نے اپنی حمایت کے لئے عروسہ کو مخاطب کیا جو بالکل انجان بنی کھانا کھانے میں مصروف تھی۔ ہاں حسن بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں ۔ویسے کھانا بہت مزے دار ہے عروسہ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا
یہ بولتیں بھی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہی نے حیرت کا اظہار کیا
صرف بولتی ہی نہیں بلکہ حسن نے شرارت سے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا
بلکہ ماہی نے لفظ ہرایا
تم نے خیریت سے واپس جانا ہے یا نہیں عروسہ کے پوچھنے پر صدیق سمیت سب ہنسنے لگے
میں ہاسٹل میں ہی رہوں گی اور اگر آپ مجھے اپنے گھر رکھنا چاہتے ہیں تو ان کو بھی راضی کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہی نے صدیق کی طرف اشارہ کیا
میرے لئے فی الحال ممکن نہیں ہے مگر میں کوشش کرتا ہوں۔
اصل میں مجھے اس جگہ سے پیار ہو گیا ہے۔ میرا یہاں سے کہیں بھی جانے کو دل نہیں کرتا صدیق کی بات پر حسن نے سر ہلایا بیوی سے تو ہوا نہیں جس سے ہونا چاہئے تھا ماہی کی بات پر حسن نے ہنستے ہوئے اس کی حمایت کی۔
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
ہاں جی فرزین بی بی پھر آپ نے کیا سوچا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ سعد نے فریج ساتھ ٹیک لگاتے ہوئے اطمینان سے پوچھا
کس بارے میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ فرزین کا اطمینان بھی قابل دید تھا
شادی کے سعد نے پوچھا اگر تم اپنی تمام باتوں پر ابھی تک قائم ہو تو پھر ٹھیک ہے _ فرزین اس وقت پکوڑے بنا رہی تھی
زبردست یعنی میں دولہا بننے کی تیاری کروں سعد نے شرارت کی بالکل کیونکہ لڑکے ہی دولہا بنتے ہیں لڑکیاں تو بننے سے رہیں فرزین ابھی بھی بالکل نارمل انداز میں بات کر رہی تھی جبکہ سعد کو اب خطرے کی بو آنے لگی
فرزین تم ٹھیک ہو ناااااا سعد نے تھوڑا آگے آتے ہوئے پوچھا ہاں بالکل ٹھیک ہوں ۔ویسے بھی اب میں نے سوچا ہے کہ تمہیں تنگ نہیں کیا کرنا فرزین نے ملائمت سے جواب دیتے ہوئے پکوڑوں کی پلیٹ سعد کی طرف رکھی۔
یہ میرے لئے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ سعد نے اشارے سے پوچھا
ہمممممم فرزین نے صرف سر ہلایا
اب تو مجھے پکا یقین ہو گیا ہے کہ تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
اتنی عزت اور وہ بھی میرے لئے اور وہ بھی تم دے رہی ہو _ ہو ہی نہیں سکتا ۔
نہیں یہ حقیقت نہیں بلکہ کوئی خواب ہے۔ سعد نے خود کو چٹکی کاٹی
میں نے تمہارے جانے کے بعد بہت سوچا ہے۔ تم بالکل ٹھیک ہواور میں ہی غلط ہوں ۔
تم جیسا کہو گے میں بالکل ویسا ہی کروں گی۔ لڑکیوں کو اپنی مرضی نہیں کرنی چاہیے فرزین حد سے زیادہ سیریس تھی
ادھر دیکھو میری طرف بتاؤ میرے پیچھے کیا ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ سعد نے فرزین کے ہاتھ سے کفگیر لیتے ہوئے سائیڈ پر رکھی اور چولہا بند کر دیا
کچھ نہیں ہٹو پیچھے کام کرنے دو فرزین نے سعد کو آگے سے پیچھے ہٹنے کا اشارہ کیا
پہلے میں سمجھا تم کو ڈرامہ کر رہی ہو مگر تم تو بالکل سیریز ہو ۔
کیا ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ مجھے تو ایسی فرزین بالکل پسند نہیں سعد نے اسے پکڑ کر کرسی پر بٹھایا اور خود بھی کرسی کھینچ کر اس کے برابر بیٹھ گیا
تمہیں پتا ہے اسے “طلاق” ہوگئی ہے بیچاری میری طرح کتنی خوش دل اور شرارتی تھی۔
مگر اس کی ساس نے اس کے خاوند کے کان بھر دیے اور اس نے اسے چھوڑ دیا۔
اب وہ کہاں جائے گی ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ہائے بے چاری فرزین کہہ کر رونے لگی جبکہ سعد نے ایک دم اس کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے
پلیز چپ کر جاؤ پریشان مت ہوں اور کس ساتھ ایسا ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ سعد نے فکر مندی سے پوچھا
میں تو اب بالکل تمہیں تنگ نہیں کروں گی مجھے تو اس لفظ “طلاق” سے بہت ڈر لگتا ہے۔
سعد پلیز تم مجھے کبھی مت چھوڑنا ورنہ میں کہاں جاؤں گی ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ فرزین کی التجا پر سعد کا دل تڑپ اٹھا
میں پاگل ہوں جو تمہیں چھوڑ دو اور اور خبردار جو یہ کہا کہ تم مجھے تنگ نہیں کروں گی ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
تنگ کرو اور خوب کرو فرمائشیں کرو مجھے مزہ آتا ہے جب تم مجھے تنگ کرتی ہو مجھ سے فرمائشیں کرتی ہو۔
تمہاری وجہ سے ہی تو اس گھر میں “رونق” ہے ٹی وی دیکھو کوئی کام نہ کروں بس ہر وقت ہنستی کھیلتی رہو سعد نے اپنے ہاتھوں سے اس کے آنسو صاف کیے
سچی _ فرزین ایک دم شوخ ہوئی مچی تم میرے جینے کی وجہ ہو ۔ مجھے تم سے شدید محبت ہے سعد نے جذبات سے چور لہجے میں کہا جس پر فرزین مسکرا دی۔
اچھا اب بتاؤ کس کو طلاق ہوئی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ سعد نے فرزین کے چپ ہونے پر پوچھا
وہ رات کے ڈرامے میں _ ابھی فرزین نے اتنا ہی کہا تھا کہ سعد کا حیرت سے منہ کھل گیا
کیا یہ ڈرامے کی سٹوری تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ سعد نے خشگمین نظروں سے پوچھا جس پر فرزین نے زور زور سے سر ہلایا تمہارا ٹی وی بند بالکل بند میں آج کے بعد تمہیں ٹی وی دیکھتا ہوا نہ دیکھو یعنی حد ہوگئی کبھی تو بندہ سیریس ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ سعد زور سے چلایا سعد ٹی وی لاؤنج میں شور مچاتا ہوا داخل ہوا جہاں رضیہ بیگم بھی ایک ڈرامہ پورے انہماک سے دیکھ رہی تھیں۔ چپ کر کیا شور مچایا ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ڈرامہ دیکھنے دے رضیہ بیگم کی بات پر سعد نے اپنا سر پکڑ لیا
یہ گھر ہے بجائے آپ اسے منع کریں آپ خود ڈرامہ دیکھتی رہتی ہیں _ سعد کو ماں پر بھی افسوس ہوا ڈراموں میں بالکل ٹھیک دکھاتے ہیں ۔ اب تو جوان اولاد کو ماں کا بھی لحاظ نہیں ۔ شرم نہیں آتی ماں سے اس طرح بات کرتے ہوئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ کل کو اس بوڑھی ماں کو گھر سے باہر نکال دینا رضیہ بیگم کہتی ہوئی رونے لگ پڑیں۔
جبکہ سعد رضیہ بیگم کو روتا دیکھ کر انھیں چپ کرانے لگا
جب ماں ہی بات کو نہیں سمجھ رہی تو وہ کیا خاک سمجھے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
سعد بچے تیری زندگی بہت مشکل ہونے والی ہے __ سعد نے دل میں سوچا
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
جاری ہے
