Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

حسن ابھی ابھی یونی میں داخل ہوا تھا کہ اس کی نظر علی پر پڑی جو لڑکوں کے گروپ میں کھڑا تھا ۔ یہ صبح صبح یہاں کیا کر رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ مجھے تو ایک ہفتے سے اپنی شکل نہیں دکھائی اور خود یہاں عیاشی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حسن دل میں سوچتا ہوا اس طرف چل دیا مگر وہاں پہنچ کر صورتحال بالکل مختلف نکلی۔ چند لڑکے اسے پریشان کر رہے تھے ۔
کیا میں پوچھ سکتا ہوں یہاں کیا ہو رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حسن نے قریب جا کر پوچھا
یہاں تیرے “ابا کا ولیمہ” ہو رہا ہے چل اب نکل یہاں سے ۔۔۔۔۔۔ ایک لڑکے نے حسن کو دکا دے کر پیچھے کیا مگر علی کی آنکھوں میں حسن کو دیکھ کر سکون اتر آیا۔
اگر میرے باپ کا ولیمہ ہے تو میرا شریک ہونا پھر لازمی ہے وہ کیا ہے نااااااا ۔۔۔۔۔۔۔ بہت عرصہ ہوگیا مجھے اپنے ابا سے ملے ہوئے ۔حسن نے کہتے ساتھ ہی اپنی شرٹ کے بازو فولڈ کرتے ہوئے علی کو اشارہ کیا ۔
لگتا ہے تجھے پہلے سبق دینا ہوگا اس کو بعد میں دیکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان چار لڑکوں میں سے ایک لڑکے نے علی کو پیچھے کرتے ہوئے حسن کی طرف اپنا رخ کیا اور اس بات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے علی وہاں سے غائب ہو گیا ۔
علی کے غائب ہوتے ہیں حسن نے دونوں ہاتھ ہوا میں کھڑے کرتے ہوئے انہیں روکا ۔۔۔۔۔۔۔۔ تم جانتے ہو میں کس کا بیٹا ہوں ۔۔۔۔۔؟ اگر مجھے ذرا بھی تکلیف پہنچی تو تمہاری خیر نہیں ۔پہلے معلوم کر لو کہ میں کون ہوں پھر بے شک جو دل چاہے میرے ساتھ کرنا ۔۔۔۔۔۔؟ حسن کی بات پر چاروں نے ایک دوسرے کو دیکھا
پہلے ہم تیری “ٹھکائی” کریں گے اس کے بعد تو خود بتا دینا کہ تو کون ہے ۔۔۔۔۔۔؟ لڑکوں نے حسن کو گھیرتے ہوئے کہا
چلو مرضی ہے تمہاری۔۔۔۔۔۔۔ ویسے میرے ابا بہت پہنچی ہوئی چیز ہیں۔ اگر ان کے پاس کوئی پہنچ جائے تو پھر واپس آنا آسان نہیں ہے ۔بلکہ یوں کہنا زیادہ درست ہوگا کہ جو ان کے پاس جائے پھر واپس نہیں آتا ۔اسی لئے میں تو خود ان کے پاس نہیں جاتا۔ آگے تمہاری مرضی ۔۔۔۔۔۔۔۔ حسن نے کہتے ساتھ اپنے ہاتھ نیچے کر دیے حسن کا اطمینان چاروں کو حیران کر دیا ۔
اتنی دیر میں یونی کے گیٹ سے تین وی آئی پی گاڑیاں اندر داخل ہوئیں۔۔۔۔۔۔۔ دیکھو کون آ رہا ہے لگتا ہے میرے ابا کے جاننے والے ہیں اب تو تم چاروں کی خیر نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ حسن نے ہوا میں تیر چلایا جیسے ہمیشہ چلایا کرتا تھا مگر اس سے پہلے کہ وہ ہمیشہ کی طرح ان کادھیان اپنے سے ہٹا کر بھاگتا ایک بندے کی آواز نے اسے رکنے پر مجبور کیا ۔
اوئے حسن پتر تو یہاں کیا کر رہا ہے ۔۔۔۔۔۔؟ اچھا تو تم اس یونی میں پڑھتے ہو مگر تم نے بتایا نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عباس جٹ جو یونی کے وائس چانسلر سے ملنے آئے تھے۔ حسن کو دیکھ کر حیران ہوئے مگر ان سے زیادہ حیرت حسن کو تھی ۔
سسرالیوں نے جتنا ابھی مجھے “فائدہ” پہنچایا ہے شاید ہی کبھی کسی “داماد” کو پہنچایا ہو ۔ہڈیاں بھی ٹوٹنے سے بچ گئیں اور رعب مفت میں حاصل ہوا ۔۔۔۔۔۔۔ حسن نے سوچتے ہوئے پیچھے مڑ کر دیکھا جہاں اب کوئی نہیں تھا کیوں کہ چچا عباس کے ساتھ جو اسلحے سے لیس گارڈز تھے وہ ان لڑکوں کو خوفزدہ کر گئے تھے
یقین مانے پہلی دفعہ آپ کے گلے لگنے کو خود میرا اپنا دل کر رہا ہے سسرال ہو تو آپ لوگوں جیسا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حسن ہنستا ہوا ان کے گلے لگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیوں کہ میں اپنی خوشی سے آپ کے گلے لگ رہا ہوں تو آپ نے دھیان رکھنا ہے مجھے زیادہ دبانا نہیں وہ کیا ہے نااااااا کہ میری ہڈیوں میں اتنی جان نہیں ہے کیلشیم کی کمی ۔۔۔۔۔۔۔ حسن کی بات پر چچا عباس نے ہنستے ہوئے اسے اپنے ساتھ لگایا
جیسے ہی حسن مڑا علی کچھ لڑکوں کو لے کر وہاں کھڑا حیرت سے سے ان کا “ملن” دیکھ رہا تھا ۔پھر حسن کے اشارے پر عباس صاحب کو ملا
پتر میں ذرا وائس چانسلر سے مل لوں پھر آپ سے بات کرتا ہوں ۔بلکہ یوں کرو کہ آپ لوگ بھی میرے ساتھ چلو تاکہ میں آپ کا تعارف ان سے کروا دو ں۔ اگر کبھی کوئی ضرورت پڑے تو وہ آپ کے کام آ سکیں ۔تم انہیں بھی اپنا چچا ہی سمجھو میرے بچپن کے دوست ہیں۔
عباس صاحب کی بات پے حسن اور علی باقی لڑکوں سے معذرت کرتے ہوئے ان کے پیچھے پیچھے چل پڑے ۔
آپ کے ہاں ویسے صرف مرد ہی گلے ملتے ہیں یا عورتوں کے ہاں بھی رسم پر عمل کیا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ حسن نے وائس چانسلر کے گلے لگتے ہوئے چچا عباس کے کان میں سرگوشی کی جس پر انہوں نے قہقہ لگایا
عورتیں بھی لگاتی ہیں مگر اس کے لیے پہلے آپ اپنی صحت تو بنا لیں۔ کیا بلی کے “بلونگڑے” جیسے ہو ۔ہماری عورتیں بھی کھاتی پیتیں ہیں۔عروسہ تو دیکھی ہے آپ نے ۔۔۔۔۔۔۔ چچا عباس کی بات پر چانسلر کے ساتھ ساتھ علی نے بھی ایک جاندار قہقہ لگایا
کمینے تو دشمنوں کے ساتھ نہ مل ۔۔۔۔۔۔۔ حسن نے علی کی کمر میں مکا مارا۔
میں اس وقت صرف سسرالیوں کا ساتھ دے رہا ہوں ۔کسی سے سنا تھا جتنا سسرالیوں کی عزت کی جائے اتنا ہی اچھا سسرال بندے کو ملتا ہے ۔اب تو تو سسرال کو پیارا ہو گیا ہے مجھے بھی تو اپنی فکر کرنے دے ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ تو ہو نہیں سکتا کہ میں چچا بن جاؤں اور تجھے “تائے” جیسے عہدے سے محروم رکھوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ علی کے جواب پر حسن نے اسے غصیلی نظروں سے گھورا
آفس سے باہر نکل سب سے پہلے تجھے چچا بناؤں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔ علی نے حسن کی بات پر مسکرا کر اسے دیکھا
غصے میں بھی تو اپنا ہی فائدہ سوچتا ہے ۔ بڑی کمال چیز ہے تو ۔۔۔۔۔۔۔ ورنہ غصے میں تو انسان اپنا نقصان کر بیٹھتا ہے علی نے سرگوشی کی
اے لڑکوں کیا بات ہے کیوں کھسرپھسر لگا رکھی ہے ۔۔۔۔۔۔؟چچا عباس نے دونوں کی طرف دیکھ کر پوچھا
انکل “کھسر پھسر” نہیں بلکہ “سسر سسر” لگا رکھی ہے۔۔۔۔۔۔۔ حسن کے جواب پر سب ہنسنے لگے
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
سعد اس وقت اقبال ساتھ کے ساتھ بیٹھا شطرنج کھیل رہا تھا جبکہ فرزین اور رضیہ بیگم ڈرامہ دیکھنے میں مصروف تھیں۔
اب چلو چال دیکھا میں نے تمہیں کس طرح پھنسایا اب بچ کے دکھاؤ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ اقبال صاحب نے لہک کر کہا
ابا اب ایسی بھی بات نہیں کہ میں آپ کو ہرا نہیں سکتا مانا کہ میں آپ کی طرح اچھا کھلاڑی نہیں ہوں مگر اب اتنا “نکما” بھی نہیں جتنا آپ نے سمجھا ہوا ہے ۔ یہ دیکھیں میں نے آپ کی گوٹی مار دی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سعد نے کہتے ساتھ ہی اقبال صاحب کی گوٹی اٹھا کر باہر رکھ دیں ۔
ہممممممم ۔۔۔۔۔۔ صاحبزادے اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ اب تم بڑے اور ہم بوڑھے ہو گئے ہیں ۔اقبال صاحب نے اپنی عینک درست کرتے ہوئے بساط کو غور سے دیکھا
بڑا تو خیر میں ہو گیا ہوں مگر آپ ابھی بوڑھے نہیں ہوئے ۔۔۔۔۔۔ سعد نے بھی گیم کو دیکھتے ہوئے جواب دیا
اگر بڑے ہو گئے ہو تو مہربانی کرکے اپنی ذمہ داریاں بھی نبھاؤ ۔ بڑے ہونے کا حق ادا کرو تاکہ ہمارے کندھوں سے بوجھ کم ہو ۔۔۔۔۔۔۔ اقبال صاحب کھیل تو گیم رہے تھے مگر سمجھا کچھ اور ہی رہے تھے ۔
سعد نے ایک نظر ڈرامہ دیکھتی فرزین کی طرف دیکھا جو بلیک سوٹ میں بہت پیاری لگ رہی تھی ۔”کالی چڑیل” سعد نے زیر لب دہرایا۔
ذمہ داریوں سے مراد آپ کی اس “کالی چڑیل” سے ہے ناااااا ۔۔۔۔۔۔ سعد نے اقبال صاحب کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا جس پر وہ مسکرا دیئے
بتمیززز انسان اپنی منکوحہ کو کیا کہہ رہے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ میں تو گیم کی بات کر رہا ہوں اور تم پتا نہیں کس طرف نکل گئے۔ اقبال صاحب بھی اب بالکل سیدھے ہو کر بیٹھ گئے تھے ۔
ابا میں بے وقوف نہیں ہوں ۔۔۔۔۔؟ سعد نے منہ بنایا
مگر عقلمند بھی نہیں ہو ورنہ آج ہمارے گھر میں بچے گھوم رہے ہوتے ۔۔۔۔۔۔۔ تین سال ہوگئے ہیں تمہارے اور فرزین کے نکاح کو ۔۔۔۔۔۔۔ مگر اب تک نہ تم اس رشتے کی نزاکت کو سمجھ رہے ہو اور نہ ہی وہ ۔۔۔۔۔۔ُ زندگی اس طرح نہیں گزرتی اقبال صاحب اب بالکل صاف صاف بات کر رہے تھے۔ سعد نے چور نظروں سے فرزین اور رضیہ بیگم کو دیکھا
ان کی طرف سے بے فکر ہو جب یہ دونوں ڈرامہ دیکھ رہی ہوتی ہیں تو بالکل “گونگی بہری” ہو جاتیں ہیں ۔سوائے ڈرامے کے انہیں کوئی آواز سنائی نہیں دیتی ۔۔۔۔۔ اقبال صاحب کی بات پر سعد مسکرا بھی نہ سکا جبکہ وہ خود ہنس رہے تھے۔
اب آپ بتائیں میں کیا کروں ۔۔۔۔۔؟ آپ لوگوں نے جیسا کہا میں نے ویسا ہی کیا مگر ۔۔۔۔۔۔ صاحب نے بے بسی سے باپ کو دیکھا
آپ اس کو کیوں نہیں سمجھاتے مجھے ہی کیوں سمجھاتے رہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ مجھے اچھا نہیں لگتا آپ دونوں اس کی سائیڈ زیادہ لیتے ہیں ۔ جب کہ میرا حق زیادہ ہے۔ میں آپ کی اپنی اولاد ہوں۔ وہ غیر ہے میں آپ کا اپنا خون ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔ سعد نے ہزار دفعہ کا کیا گیا شکوہ ایک دفعہ پھر کیا۔
اگر ہم اسے کچھ کہیں گے تو وہ “احساس محرومی” کا شکار ہوجائے گی۔ کیونکہ اس کے اپنے لوگوں نے اس کی قدر نہیں کی۔۔۔۔۔۔۔ اور وہ ہم سے امید رکھتی ہے کہ ہم اسے ہمیشہ مان دیں گے ۔جب کہ تم اس سے عمر اور رشتے دونوں میں بڑے ہو ۔تم ہماری بات بہتر سمجھ سکتے ہو ۔پھر اپنے ہو ہم تمہیں ڈانٹ بھی سکتے ہہیں مگر اسے نہیں کیونکہ بقول تمہارے وہ غیر ہے ۔۔۔۔۔۔ اقبال صاحب آپ بالکل سیریس تھے
ابا آپ لوگوں کو اس سے پوچھے بغیر یہ سب نہیں کرنا چاہیے تھا وہ مجھے پسند نہیں کرتی ۔۔۔۔۔ سعد نے اب کی بار فرزین کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
اس وقت وہ بہت چھوٹی تھی۔ اپنا اچھا برا نہیں سمجھ سکتی تھی۔ میں نے اور تمہاری ماں نے اس کے ساتھ اپنے اپنے رشتے کے لحاظ سے بہتر سوچا ۔۔۔۔۔ وہ میری بہن اور تمہاری ماں کے بھائی کی بیٹی ہے ۔ہم اسے رُلتا نہیں دیکھ سکتے تھے ۔ اقبال صاحب کی بات پر سعد طنزاً ہنسا
بھانجی بچالی اور بیٹا ضائع کردیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ابھی آپ اپنے آپ کو عقلمند اور مجھے بیوقوف سمجھتے ہیں۔ انسان سب سے پہلے اپنی اولاد کا سوچتا ہے مگر آپ نے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سعد نے سر نفی میں ہلایا
دیکھو اس بچی کی ماں فوت ہو گئی تھی۔ باپ نے دوسری شادی کر لی ۔ غیر عورت اسے رکھنا نہیں چاہتی تھی۔
میری بہن نے فرزین کو اپنے ہتھیلی کا چھالا بنایا ہوا تھا۔ میں کیسے اسے سوتیلی ماں کے ظلم کا شکار ہونے دیتا ۔۔۔۔۔۔؟
پھر بغیر رشتے کے ہم اسے اپنے گھر کیسے رکھ سکتے تھے ۔۔۔۔؟ جب میں اور تمہاری ماں اسے لے کر اپنے گھر آئے تو ہم دونوں نے پورے خاندان کے طعنے برداشت کیے۔
کوئی کہتا ہے اپنے بیٹے کی عیاشی کے لئے لے کر جارہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کوئی جائیداد کا طعنہ دیتا ۔۔۔۔۔۔۔۔ تو کوئی کہتا گھر کے لئے نوکرانی چاہیے تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔آخر ہم کب تک لوگوں کے منہ بند کرتے۔ اس لیے ہمارے پاس مسئلہ کا یہی حل تھا ۔ اقبال صاحب نے سعد کو پیار سے سمجھایا ۔
آپ مجھے یہ کہانی بہت بار سنا چکے ہیں۔ میں نے یہ رشتہ قبول بھی کرلیا تھا مگر وہ جو “الٹی کھوپڑی” والی ہے ۔ وہ بہت بدتمیز ہے ۔ مجھے اس کی زبان بالکل پسند نہیں۔ کسی دن وہ میرے سے اپنی بد تمیزی پر تھپڑ کھا لے گی ۔ پھر نہ کہنا کہ میں نے پہلے نہیں بتایا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنی بات کی آخر میں سعد چڑ گیا ۔
بری بات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس طرح کرو گے تو بات بگڑ جائے گی۔ ہم نے سوچا ہے کہ تمہاری تعلیم مکمل ہوتے ہی ہم تم دونوں کی شادی دھوم دھام سے کریں گے پھر آہستہ آہستہ سب ٹھیک ہو جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔ بس تم یہ پیپر دے کر فارغ ہو جاؤ۔ اقبال صاحب کی بات پر سعد نے حیرت سے انہیں دیکھا
آپ مذاق کرتے ہوئے بہت اچھے لگتے ہیں ۔۔۔۔۔؟سعد نے طنز کیا
سعد میں سیریس ہوں۔ اب بہت ہو گیا ۔۔۔۔۔۔۔ میرے خیال سے فرزین کو اب تمہاری منکوحہ سے بیوی بن جانا چاہیے اور یہ جو گھر کی فضا میں ایک کھچاؤ ہے۔ اسے ختم ہونا چاہیے۔ بس بہت ہوگئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اقبال صاحب نے اپنا حتمی فیصلہ سنایا
چلیں دیکھ لیں مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے مگر اگر اس نے تب بھی اپنی زبان میرے ساتھ درست نہ کی تو میں اسے درست کر دوں گا ۔ شرم تو اسے آتی نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔ میں اسے بن ماں کی بچی سمجھ کر، مسکین سمجھ کر ،کچھ نہیں کہتا ۔۔۔۔۔۔۔ اس کے لار اٹھاتا ہوں اور وہ مجھے ہی جوتے مارتی ہے ۔ یہ کیا بات ہوئی بھلا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ مجھے فرماںبردار بیوی چاہیے نہ کہ ایسی ۔۔۔۔۔؟ سعد کی بات پر اقبال صاحب مسکرا دیئے
پہلے خود تو فرماں بردار بیٹے بن جاؤ پھر بیوی کی بھی بات کرنا ۔۔۔۔۔ اقبال صاحب کی بات پر سعد نے انہیں حیرت سے دیکھا
ابھی بھی میں فرمابردار بیٹا نہیں ہوں ۔۔۔۔۔۔۔؟ سعد کو افسوس ہوا جس پہ اقبال صاحب ہنس دیے۔
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
جاری ہے