Phir Yun Hua By Amna Mehmood Readelle50141 Episode 33
No Download Link
Rate this Novel
Episode 33
دادا جی میں اور حسن آج بہاولپور جا رہے ہیں _ عروسہ نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے کہا جبکہ خلاف معمول اس کے پیچھے کھڑا حسن بالکل سنجیدہ تھا پتر دو سو دفعہ جاؤ تجھے وہاں جانے سے کس نے روکا ہے مگر ابھی تو تم دونوں کے گھومنے پھرنے کے دن ہیں میری مانو مری یا گلگت کی طرف چلے جاؤ تم لوگوں کو بہت اچھا لگے گا چچا عباس نے دادا کی جگہ پر جواب دیا
نہیں وہ حسن چاہتے ہیں کہ پھوپھو سے مل لیں کیونکہ وہ ہماری شادی میں شرکت نہیں کر سکیں تھی
تو اب ہمارا حق بنتا ہے کہ ہم ان سے جاکر خود مل کر آئیں۔ انہیں خوشی ہوگی عروسہ کی بات پر حسن نے کمرے میں موجود کھڑکی سے باہر دیکھنا شروع کر دیا جب کہ دادا جی اداس ہو گے
تم لوگوں کی مرضی ہے مگر اس کی حالت کے بارے میں حسن تو نہیں جانتا مگر تمہیں تو اندازہ ہوگا دادا جی نے اجازت دینے کے ساتھ ساتھ سنگین صورتحال سے آگاہ کیا
کوئی بات نہیں ہم سنبھال لیں گے عروسہ نے تسلی دی
چلو ٹھیک ہے مگر واپسی کب تک ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ اب کی بار چچا عباس نے حسن کی طرف دیکھ کر پوچھا
اگر ہم لوگوں کا دل لگ گیا تو کچھ دن وہاں پر رہیں گے ورنہ کل تک انشاءاللہ واپس آ جائیں گے یہ تو پھوپھو سے ملنے کے بعد ہی صحیح پتہ چلے گا حسن نے کھوئے کھوئے سے لہجے میں جواب دیا
کیا مطلب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ دادا حسن کی بات پر چونکے
مطلب یہ ہے کہ اگر پھوپھو ہم سے مل کر خوش ہوئی اور ان کی طبیعت ہمیں دیکھنے کے بعد خراب نہ ہو گئی تو ہم کچھ دن ان کے ساتھ گزاریں گے ورنہ واپس آ جائیں گے۔ عروسہ نے حسن کی بات سنبھالتے ہوئے تحمل سے جواب دیا
اچھا اچھا دادا نے سر ہاں میں ہلایا
حسن پتر تیری طبیعت ٹھیک تو ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ آج اتنا چپ چاپ کیوں بیٹھا ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ دادا نے اب حسن کی خاموشی کو نوٹ کرتے ہوئے پوچھا
وہ آج دانت میں درد ہے بولا نہیں جا رہا حسن کا کیونکہ یہاں سے جلد از جلد نکلنے کو دل کر رہا تھا اس لئے بہانہ بنایا ارے تو جاکر ڈاکٹر کو دکھاؤ ناااااا اتنی تکلیف سے کیسے سفر کرو گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ میری مانو تو جب تک دانت میں درد ہے سفر مت کرو چچا عباس ایک دم فکر مند ہوئے
گاڑی چلانے کے لیے ہاتھوں کی ضرورت ہے دانتوں کی نہیں حسن نے مصنوعی مسکراہٹ چہرے پر سجاتے ہوئے جواب دیا بس پتر مجھے تیری یہی باتیں بہت اچھی لگتی ہیں تو ہماری عروسہ سے محبت کرتا ہے اور ہم سب تجھ سے _ دادا نے کھلے دل سے حسن کی تعریف کی جبکہ عروسہ کو دادا جی کی بات پر گہرا صدمہ ہوا
میں تم سے محبت کر ہی نہیں سکتا حسن کے الفاظ عروسہ کے کانوں میں گونجتے
محبت میں وہ بھی اس موٹی سے حسن نے دل میں سوچتے ہوئے عروسہ کی طرف دیکھا دونوں اس وقت اپنے اپنے دل کی کیفیات سے بے خبر تھے
محبت ایک بہت ہی خوبصورت جذبہ ہے مگر یہ مزید خوبصورت اور مضبوط بن جاتا ہے جب یہ میاں بیوی کے درمیان ہو اور ماشاءاللہ تم دونوں کے درمیان مجھے یہ جذبہ نظر آتا ہے چچا عباس نے بھی دادا کی بات آگے بڑھائی
اب تو حسن سے محبت کے بارے میں ہضم کرنا کافی مشکل ہو رہا تھا ۔
دادا کو تو وہ جواب نہیں دینا چاہتا تھا کیونکہ وہ ایک بزرگ تھے مگر چچا عباس کو قابو کرنا اس کے لئے بہت آسان تھا
چچا آپ کو پتہ ہے کہ محبت کیا ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حسن نے انتہائی معصوم شکل بناتے ہوئے سوال کیا جس پر عروسہ چونکی کیونکہ اب حسن کوئی شرارت کرنے والا تھا
رہنے دو چچا کی عمر تم سے زیادہ ہے انہیں پتہ ہی ہوگا اب ہم چلتے ہیں عروسہ نے حسن کی بات کاٹتے ہوئے کہا نہیں بیٹا میں حسن کے خیالات جاننا چاہتا ہوں ہاں تم بتاؤ کہ تمہاری نظر میں محبت کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ چچا عباس اور دادا اس وقت پوری توجہ سے حسن کو دیکھ رہے تھے “میرے نزدیک محبوب کی ہر اس بات کو اگنور کرنا جس پر اس کا منہ توڑ دینے کا دل کرے محبت ہے ” حسن کے جواب پر پہلے تو خاموشی چھا گئی مگر پھر سب نے مشترکہ قہقہ لگایا سوائے عروسہ کے ۔ ابھی تو تمہارے دانت میں بہت درد تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عروسہ نے گھورتے ہوئے پوچھا میں نے دانت میں درد بتایا تھا مگر کس کے درد ہے یہ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حسن نے کندھے اچکائے مجھے دکھ ہے کہ تمہیں مجھ سے کبھی محبت نہیں ہو سکتی اس لیے پلیز یہ محبت کی توہین بھی نہ کیا کرو بلکہ کوشش کیا کرو کہ اس لفظ کا استعمال میرے سامنے نہ ہو عروسہ نے دکھی لہجے میں حسن سے سرگوشی کی اور دادا جی اور چچا سے ملنے آٹھ کھڑی ہوئی
حسن نے احتیاط کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے دروازے سے ہی ہاتھ ملایا کہیں دادا اسے گلے نہ لگاتا لیں۔
“مجھے کچھ اور اب کرنا پڑے گا محبت سب کو کرنا آگئی ہے”
حسن نے عروسہ کا موڈ ٹھیک کرنے کے لئے اس کے برابر چلتے ہوئے اس کی طرف جھک کر کہا
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
سعد اس وقت اقبال صاحب کے قریب بیٹھا انہیں غور سے دیکھ رہا تھا جب کہ وہ دوائیوں کے زیر اثر خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہے تھے
بابا پلیزززز آپ جلدی سے ٹھیک ہو جائیں مجھے آپ کو یوں بیڈ پر لیٹا دیکھ کر بہت تکلیف ہو رہی ہے سعد اپنے آپ سے محو گفتگو تھا جب کوئی کمرے میں داخل ہوا میں تو سمجھا تھا کہ یہ اکیلے ہوں گے مگر آپ _ ڈاکٹر قاسم نے انتہائی خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فائل اٹھائی جب کہ قاسم کو دیکھ کر سعد کے زخم تازہ ہو گے
اب کیسی طبیعت ہے بابا کی ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ اپنے جذبات پر قابو پاتے ہوئے سعد نے اقبال صاحب کے بارے میں پوچھا
سچ تو یہ ہے کہ آپ کے بابا کو شدید قسم کا ہارٹ اٹیک ہوا ہے اگر دوبارہ انہیں اس قسم کا کوئی بھی مسئلہ ہوا تو شاید یہ ڈاکٹر قاسم نے فائل پر کچھ لکھتے ہوئے جواب دیا
اب آپ لوگوں کو بہت احتیاط کی ضرورت ہے میں نے ایک میڈیسن یہاں پر لکھ دی ہے یہ دن میں ایک بار دینی ہے وہ بھی صرف آدھی گولی ڈاکٹر قاسم ساتھ ساتھ پیشہ ورانہ طریقے سے سعد کو سمجھا بھی رہے تھے
ڈاکٹر صاحب زیادہ پریشانی والی بات تو نہیں ہے ناااااا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ سعد کے سوال پر ڈاکٹر قاسم نے اسے آبرو آچکا کے دیکھا
مجھے ایک بات کی آج تک سمجھ نہیں آئی پڑھے لکھے لوگ بھی جاہلوں والے سوال کیوں کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
ہارٹ اٹیک ہے اور آپ پوچھ رہے ہیں کہ پریشانی والی کوئی بات تو نہیں حیرت ہے ڈاکٹر قاسم نے اپنی پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالتے ہوئے جواب دیا سوری سعد کو اس وقت سچ مچ شرمندگی ہوئی
اٹس اوکے مگر اب ان کا بہت زیادہ خیال رکھیں اور کوشش کریں کہ انھیں کسی قسم کا کوئی صدمہ نہ پہنچے _ ڈاکٹر قاسم نے سعد کا کندھا تھپتھپایا اور باہر کی طرف چل پڑے ویسے آپ کے خاندان کی عورتیں بہت بہادر ھیں میں بہت متاثر ہوا ہوں ان سے _ عام طور پر عورتیں ایسے حالات میں اپنے ہوش کھو دیتی ہیں۔
مگر انہوں نے وقت پر انہیں ہسپتال پہنچا کر ان کی زندگی کو محفوظ بنایا ہے قاسم کو جاتے جاتے فرزین کا خیال آیا ۔
جی سعد نے بمشکل ایک لفظ ادا کیا اور خونخوار نظروں سے قاسم کو گھورا ابھی ڈاکٹر قاسم کو گئی تھوڑی دیر ہی ہوئی تھی کہ اقبال صاحب نے اپنا سر ہلاتے ہوئے اپنی آنکھوں کو کھولنے کی کوشش کی ۔ بابا آپ کو کوئی چیز چاہیے پیاس لگی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ سعد نےجلدی سے اقبال صاحب کے اوپر جھکتے ہوئے آہستہ آواز میں پوچھا پانی پانی اقبال صاحب نے بھی آہستہ آہستہ الفاظ ادا کیے اور اپنی پوری آنکھیں کھول کر سعد کی طرف دیکھا
پانی پینے کے بعد اقبال صاحب کافی حد تک ہوش میں آ کر سعد کو دیکھنے لگے اور ان کے چہرے پر ایک خاص طرح کی خوشی تھی
میں ڈر گیا تھا مجھے لگا شاید میں تمہیں دوبارہ کبھی نہ دیکھ سکوں اقبال صاحب نے اپنا ہاتھ سعد کے ہاتھ پر رکھتے ہوئے آہستگی سے کہا پتا نہیں جو بھی شخص بیمار ہوتا ہے وہ ایسی باتیں کیوں کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ سعد کوئی اقبال صاحب کی بات سخت بری لگی اچھا تو پھر کیسی باتیں کرنی چاہیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ اقبال صاحب نے مسکراتے ہوئے سعد سے پوچھا ضروری تو نہیں کہ بیمار شخص صرف “مرنے” کی باتیں کرے وہ اس کی جگہ رنگ برنگی “فرمائشیں” بھی تو کرسکتا ہے _ سعد کی بات پر اعتبار سب کو حیرت ہوئی
کیسی فرمائشیں ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ اقبال صاحب نے سوال کیا
یہی کے مجھے کھانے کے لیے وہ چیز بنادو _ یا میں نے فلاع جگہ سیر کے لیے جانا ہے اور کچھ نہیں تو اپنے جوان بیٹے کی شادی ہی کروا دیں وغیرہ وغیرہ سعد نے شرارت سے باپ کی طرف دیکھ کر کہا
میرے خیال سے تیسری آپشن سب سے بہترین ہے اقبال صاحب ہنسنے لگے مگر فوراً اپنے دل پہ ہاتھ رکھا
اب یہ اتنی بھی زیادہ خوش کی بات نہیں ہے آپ کی طبیعت خراب ہے اپنے دل کا ہمارے ساتھ ساتھ خیال رکھیں _ سعد نے فوراً اقبال صاحب کے سینے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے جواب دیا میں نے اور تمہاری ماں نے بھی یہی فیصلہ کیا ہے کہ میں سب سے پہلے ٹھیک ہو کر تم لوگوں کی شادی دیکھنا چاہتا ہوں ۔ اقبال صاحب کی بات پر سعد کو اطمینان ہوا کیونکہ ڈاکٹر قاسم نے اس کے آگے پیچھے خطرے کی گھنٹیاں بجا دی تھیں۔ اور اسے اپنا آپ ہسپتال کی جگہ کسی “گرجا گھر” میں محسوس ہو رہا تھا۔ ” مجھے طلب ہے فرزین بی بی تمہاری تم مجھے طالبان بننے پر مجبور نہ کرو ” دل ہی دل میں سعد نے فرزین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا اور پھر اپنی پیپرز کے بارے میں اقبال صاحب کو بتانے لگا ۔ 🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️ ماہی جب بھی اکیلی یا فارغ ہوتی اس کے ذہن میں فوراً زاویار کا خیال آ جاتا وہ اپنی اس حالت سے خود بھی بہت تنگ اور پریشان تھی وہ زیادہ سے زیادہ صدیق کے بارے میں سوچتی تاکہ زاویار اس کے دل و دماغ سے اتر جائے مگر یہ اتنا آسان نہیں تھا جتنا وہ سمجھ رہی تھی ابھی بھی وہ اکیلی ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بیٹھی اپنے آپ سے باتیں کر رہی تھی میرا پسندیدگی کی لسٹ بہت لمبا تھی بہت سے لوگ تھے ان میں _ مگر اتنی لمبی لسٹ میں آپ پسندیدہ ترین ہی رہے ہو ہمیشہ
حالانکہ آپ کے بعد بہت سے لوگ آئے۔
میں انہیں بھی لسٹ میں شامل کرتی رہی مگر سب سے پہلا نمبر سب سے اوپر سب سے زیادہ آپ ہی رہے ہو _ میں بدل ہی نہیں سکی آپ کی جگہ میں ریپلیس نہیں کرسکتی آپ کو _ وقت کے ساتھ رفتہ رفتہ میری لسٹ چھوٹی ہو جائے گی ۔ میری زندگی میں لوگ کم ہو جائیں گے کچھ باتوں پر
وہ میرے دل سے اتر جائیں گے میں ان کے نام اپنی لسٹ سے نکال دوں گی یہاں تک کہ پھر وہ ساری لسٹ خالی ہو جائے گی ۔
جیسا کورا کاغذ ہوتا ہے مگر آپ آپ ہی رہو گے جس کا نام روز اول کی طرح لسٹ کے سب سے اوپر جگمگاتا رہے گا ۔
میں آپ میں خامیاں کمیاں ڈھؤنڈ ہی نہیں سکتی _ اب آپ پسندیدہ ترین ، کم پسندیدہ ،زیادہ پسندیدہ ہر خانے کو فل کر چکے ہیں۔ اور میں ہاتھ میں پکڑی اس خالی لسٹ کو گھورتی رہتی ہوں اور سوچتی رہتی ہوں کہ “آپ کا نام کب مٹے گا نہ جانے کب مجھے سکون ملے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہی نے اپنے خالی ہاتھوں کی لکیروں کو گھورتے ہوئے کہا وہ جب بھی اکیلی بیٹھتی زاویار کی باتیں اور اس کا خیال اس کو ذہنی طور پر شدید اذیت پہنچاتے اور اب بھی وہ شدید ذہنی انتشار کا شکار تھی اسے معلوم ہی نہیں ہوا کہ صدیق کمرے میں داخل ہوا ۔ آئینے میں جیسے ہی صدیق کا عکس لہرایا ماہی اپنے خیالوں کی دنیا سے باہر آئی۔ ارے آپ کو اتنی جلدی میرا خیال آگیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ صدیق کو دیکھتے ہی ماہی نے انتہائی خوشی سے پوچھا آپ نے کہا جو تھا “کہ جلدی آنا” صدیق نے ماہی کے کندھوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے آئینے میں ہی اسے دیکھ کر جواب دیا
آپ تو بہت فرمابردار ہیں ماہی مسکرائی اور صدیق کے ہاتھ پیچھے کرتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی
ماہی نے بستر پہ بیٹھتے ہوئے اپنے اوپر لحاف لیا _ ماہی کو یوں لحاف اوڑھتے دیکھ کر صدیق نے پوچھا
میرے خیال سے آپ سونے لگی ہیں مگر مجھے تو آپ سے کچھ باتیں کرنی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
کچھ باتیں کرنے میں ذرا مزہ نہیں آتا کچھ باتوں کے لیے میں اپنی نیند خراب نہیں کرسکتی ۔
البتہ اگر آپ نے مجھ سے زیادہ زیادہ میٹھی میٹھی پیاری پیاری باتیں کرنی ہے تو میں آپ کے لئے سونے کا ارادہ ترک کر سکتی ہو ۔ ماہی کی شرارت کو سمجھتے ہوئے صدیق مسکراتا ہوا اس کے برابر آ کر بیٹھ گیا ۔ میں چاہتا ہوں آپ مجھے اپنے بارے میں کچھ بتائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ کیوں کہ آپ کے نام کے سوا میں کچھ بھی نہیں جانتا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ صدیق نے محبت سے ماہی کا ہاتھ پکڑا ارے واہ اگر آپ میرے بارے میں “نام” کے سوا کچھ نہیں جانتے تو میں بھی تو آپ کے بارے میں کچھ نہیں جانتی۔ آپ بڑے ہیں پہلے آپ اپنے بارے میں بتائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہی کی بات پر صدیق کے چہرے پر اداسی چھا گئی میرے پاس بتانے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے کیا بتاؤں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ صدیق کو اداس دیکھ کر ماہی کو دکھ ہوا آپ مجھے اپنی اس ہردل عزیز شخصیت کے بارے میں بتائیں جس سے آپ کو بہت محبت تھی ماہی نے پوچھا
تھی نہیں ہے مجھے ان سے محبت ہے اور مرتے دم تک رہیں گی صدیق کے لہجے میں کچھ ایسا تھا جس پر ماہی حیران رہ گئی
تو پھر بتائیں نا ماہی نے اصرار کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
وہ میری پھپھو تھیں جنہوں نے مجھے اور میرے چھوٹے بھائی کو ماں بن کر پالا تھا صدیق نے بتانا شروع کیا ہم صرف دو بھائی تھے میرا نام “کمال” اور میرا چھوٹا بھائی کیونکہ بہت خوبصورت تھا اس لیے اس کا نام “جمال” رکھا تھا ۔ میری پھپھو کی ایک سہیلی ہوتی تھی “عالیہ “ صدیق نے انتہائی تکلیف سے نام لیا
اچھے خاصے خوشیوں بھرے دن گزر رہے تھے ہم دونوں بھائیوں کو اپنی دادی اور پھپھو کی محبت میں یہ دنیا جنت لگتی تھی
اور آپ کے ابو۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہی نے صدیق کو ٹوکا
ابو ہمارے فوج میں سپاہی تھے چھے چھے مہینے گھر نہیں آتے تھے اور جب آتے تو زیادہ تر باہر ہی رہتے _ ویسے بھی وہ غصے کے تیز تھے ہم دونوں بھائیوں کو زیادہ پیار نہیں کرتے تھے۔ اس لیے ہمیں ان سے کوئی محبت نہیں تھی ۔ صدیق کی بات پر ماہی نے سر ہلایا پھر ایک دن اچانک ہمارے گھر شور سا مچ گیا۔ ابو چھٹی پر آئے ہوئے تھے عجیب قیامت کا دن تھا ۔ پھپھو صحن میں بہت رو رہی تھیں۔ ابو انہیں مار بھی رہے تھے ۔
وہ مسلسل ہوتے ہوئے ابو کی ہر بات سے انکار کر رہی تھی _ محلے والے گلی والے _ سب ہمارے گھر کے باہر کھڑے تماشہ دیکھ رہے تھے۔ دادی نے ہم دونوں کو اپنے ساتھ لگایا ہوا تھا اور وہ کسی قسم کی کوئی بات نہیں کر رہیں تھیں نہ ہی ابو کو منع اور نہ ہی پھپھو کا ساتھ دے رہی تھیں _ یہ بات مجھے بہت تکلیف پہنچا رہی تھی ۔ بالآخر کافی دیر خاموش رہنے کے بعد میں بول پڑا کہ “دادی آپ کو کیوں نہیں بچا رہی”۔۔۔۔۔؟؟؟ دادی پھر بھی کچھ نہیں بولیں اور چپ چاپ اپنی آنسو صاف کرتی رہیں کچھ لوگ پھپھو کو زبردستی گھر سے باہر لے گئے۔ صدیق نے تکلیف سے اپنے سر کو اپنے ہاتھوں پر گرا لیا پھر کیا ہوا ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ وہ پھپھو کو کیوں مار رہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ انہوں نے کیا کیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہی نے پریشانی سے پوچھا اس بات کا جواب تو مجھے آج تک نہیں ملا تمہیں کیا بتاؤں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ بس سنا تھا کہ انہیں “خون بہا” میں کسی کو دے دیا گیا ہے ۔ اسی لئے مجھے اس “خون بہا” کی رسم سے شدید نفرت ہے ماہی نے حیرت سے صدیق کی آگ برساتی آنکھوں میں دیکھا
یہ کیا بات ہوئی انہیں “خون بہا” میں کیوں دیا گیا ؟؟؟ ماہی کے سوال پر صدیق ہنس پڑا صرف انہیں ہی نہیں مجھے بھی “خون بہا” میں دے دیا گیا تھا صدیق کی بات پر ماہی کچھ بھی سوال نہ کر سکی بس اسے دیکھتی ہی رہی
یوں کیوں دیکھ رہی ہیں میں جھوٹ تھوڑا ہی بول رہا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ صدیق نے ہلکا سا مسکرا کر ماہی کا ہاتھ تھپکا.
میرا قصور یہ تھا کہ میں نے پھوپھو کو بچانے کے لیے ایک شخص کو مارا تھا _ جس کے لئے مجھے بھی پھپھو کے ساتھ اسی فیملی کو دینے کا فیصلہ کیا مگر بڑے شاہ جی نے مجھ پر ترس کھاتے ہوئے مجھے بچا لیا اور پھپھو ماہی نے پوچھا
میرے شاہ جی کے پاس آنے کے بعد وہاں کیا ہوا مجھے نہیں معلوم ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ مگر ایک ہفتے بعد مجھے شاہ جی نے بتایا کہ انہوں نے خودکشی کرلی ہے ۔
صدیق کی آنکھوں میں یہ بتاتے ہوئے پانی اتر آیا جبکہ ماہی کو بھی سمجھ نہیں آئی کہ وہ کن الفاظ میں صدیق کو تسلی دے۔
کافی دیر کمرے میں سوائے گھڑی کی ٹک ٹک کے اور کوئی آواز نہ تھی۔
اور آپ کا بھائی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ بالآخر ماہی کی آواز میں خاموشی کو توڑا
پھپھو کو جب خون بہا میں دیا گیا تھا تو اس کے کچھ دن بعد ہی دادی فوت ہو گئی تھیں میں اور میرا چھوٹا بھائی ہم دونوں نے یہ فیصلہ کیا کہ ہم پھپھو کو یہاں سے لے کر شہر چلے جائیں گے صدیق نے پانی بھری آنکھوں سے بیڈ کی چادر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے منظر کلیئر کرنے کی کوشش کی مگر میں جب پھوپھو کو چھڑوانے حویلی گیا تو وہاں پر پکڑا گیا _ اس کے بعد سے آج تک مجھے جمال کی کوئی خبر نہ مل سکی ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ صدیق کی آنکھوں سے اب قاعدہ آنسو رواں تھے
مجھے آج بھی ہر پل چھوٹے کی یاد آتی ہے اور میں اسی لیے یہاں سے کہیں نہیں جاتا کہ کیا پتا وہ کب تلاش کرتا ہوا پہنچ جائے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
کیونکہ میں تو اسے پہچان نہیں سکتا اس وقت وہ اتنا چھوٹا تھا اب تو بڑا ہو کر بالکل بدل گیا ہوگا لیکن میرا دل کہتا ہے کہ وہ مجھے ضرور پہچان لے گا ۔
صدیق نے دھندلی آنکھوں سے ماہی کی طرف دیکھ کر کہا
میں تو سمجھی تھی کہ میرا دکھ بہت زیادہ ہے مگر آپ کے آگے مجھے اپنا دکھ محسوس نہیں ہو رہا ۔
میری دعا ہے کہ آپ کو جلد سے جلد اپنا کھویا ہوا بھائی مل جائے کیونکہ میں بھائی کی تکلیف کو سمجھتی ہوں ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
ماہی نے صدیق کے ہاتھ کو اپنے دونوں ہاتھوں میں لیا اور پیار سے کہا جس پر صدیق نے سر ہلایا
اب آپ بھی مجھے اپنے بارے میں بتائیں صدیق نے اپنے ہاتھ سے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا
پھر ماہین نے آہستہ آہستہ صدیق کو اپنے بارے میں سب کچھ بتایا یہاں تک کہ زاویار کو بھی نہیں چھپایا ہاں اتنا ضرور کیا کہ اس کا نام نہیں لیا ۔
ماہی کے خاموش ہونے پر صدیق نے اس کی طرف دیکھا جب کی ماہی نیچے دیکھ رہی تھی
آپ کو وہ اب بھی یاد آتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ صدیق نے ماہی کے چہرے پر نظریں جماتے ہوئے سوال کیا
میں آپ سے جھوٹ نہیں بولوں گی “کہ وہ مجھے یاد نہیں آتے” ۔
یہ جو لوگ کہتے ہیں ناااا کہ ہم بھول گئے ہیں وہ جھوٹ بولتے ہیں کیونکہ بھولتا کوئی بھی نہیں سب کو اپنا ماضی کی یاد رہتا ہے۔
ہاں البتہ ہم اپنی زندگیوں میں مصروف ہو جاتے ہیں اس لیے ان کی یاد رات دن نہیں آتی مگر “کبھی کبھی “__ ماہی نے صدیق کی طرف دیکھتے ہوئے پراعتماد لہجے میں جواب دیا
میں آپ سے کبھی جھوٹ نہیں بولوں گی اور اس رشتے کے تقدس کو بھی کبھی پامال نہیں کروں گی ۔
مگر اس کے لیے آپ کو مجھ پر اعتبار کرنا ہوگا کیوں کہ شکی مرد ہی عورت کو غلط راستے پر ڈالتا ہے ۔
ماہی کی بات پر صدیق نے سر ہلایا اور رات آہستہ آہستہ اپنے پر پھیلانے لگی
🎗️🎗️🎗️🎗️🎗️
جاری ہے
