One Wheeling by Umme Hani NovelR50409 One Wheeling Episode 9
Rate this Novel
One Wheeling Episode 9
One Wheeling by Umme Hani
باسم ایک بک شاپ میں میں سے رباب کی مطلوبہ بک ڈھونڈ رہا تھا ۔۔۔۔جو اس نے منگوائی تھی ۔۔۔۔۔۔کہ اسی ریک پر زمان صاحب اپنے نئے دیے جانے والے لیکچر کے لئے مزید مواد اکھٹا کرنے کے لئے اپنی مطلوبہ کتاب تلاش کر رہے تھے انکی مطلوبہ کتاب سب سے اوپر کے ریک پر تھی ۔۔۔ہاتھ اس ریک پر جا نہیں رہا تھا ۔۔۔سامنے کھڑے لڑکے پر سرسری سی نظر ڈالی وہ کوئی کتاب ہاتھ میں لئے اسے پڑھ رہا تھس،اور بار بار صفحے پلٹ کر دیکھ رہا تھا
“ایکسکیوز می بیٹا ۔۔۔مجھے ذرا یہ کتاب اتار کر دیدو “زمان صاحب کی آواز پر باسم نے پلٹ کر دیکھا ۔۔۔اور دیکھتا ہی رہ گیا
“سر زمان آپ ۔۔۔”باسم خوشی سے مسکراتا ہوا انکے پاس آیا تھا ۔۔۔۔۔کیسے ہیں سر آپ “
“کون ہو بیٹا میں نے پہچانا نہیں “زمان صاحب نے چشمہ درست کرتے ہوئے سامنے بڑے مہذب انداز سے کھڑے لڑکے کو غور سے دیکھا اور پہچاننے کی کوشش کرنے لگے چہرہ تو جانا پہچانا سا لگ رہا تھا مگر یاد نہیں آ رہا تھا کہ کون ہے ۔۔۔۔۔۔۔”
“سر میں باسم ۔۔۔باسم عبدالحمان “باسم نے سینے پر ہاتھ رکھ کر مہذب انداز سے کہا
“ارے باسم میاں ۔۔۔۔ ارے بھئ کیسے ہو تم ۔۔ کالج سے کیا گئے واپس پلٹ کر استاد کا حال بھی نہیں پوچھا “زمان صاحب کو اپنا ہونہار شاگرد یاد آ چکا تھا اس سے بگل گیر ہو کر ملے ۔۔۔۔
“سر آپ تو جانتے ہیں انہیں۔ دنوں میرے بابا کی ڈیتھ ہوئی تھی کچھ عرصہ تو حالات کو سنبھالنے میں فرصت ہی نہیں مل سکی لیکن میں گیا تھا کالج آپ سے ملنے ۔۔۔۔لیکن اسوقت تک آپ کا ٹرانسفر دوسرے کالج میں ہو چکا تھا ۔۔۔۔۔لیکن آپ کو آج سامنے دیکھ کر یقین جانے بہت خوشی ہو رہی ہے مجھے “
“ارے میں تمہیں دیکھ کر بہت خوش ہوا ہوں ۔۔۔میرے بیسٹ اسٹوڈنٹ میں سے تھے تم ۔۔۔۔آجکل کیا کر رہے ہو ۔۔۔”
“”سر ایک کمپنی میں اچھی پوسٹ پر ہوں۔۔۔۔۔ اسکے علاؤہ شام کو ٹیوشن پڑھاتا ہوں ۔۔۔۔”
“چلو اللہ تمہیں کامیاب کرے ۔۔۔کبھی میرے گھر پر آؤں ساتھ چائے پیئں گئے خوب باتیں کریں گئے ‘”زمان صاحب باسم کو دیکھ کر بہت خوش تھے
“جی سر یہ تو میری خوش قسمتی ہو گی ۔۔۔۔”زمان صاحب نے اپنا نمبر باسم کو دیا اور گھر آنے پر اصرار بھی کرتے رہے ۔۔۔۔
*******………..
“شازو آخر اس میں حرج ہی کیا ہے یار ۔۔۔۔میرے سب دوست اپنی فیانسی کے ساتھ آ رہے ہیں کسی کوئی مسلہ نہیں ہے ۔۔۔۔۔ایک تم ہو کہ تمہارے اعتراضات ہی ختم نہیں ہوتے “شازل کوفت بھرے لہجے میں فون پر شازمہ سے بولا
“شازل سمجھنے کی کوشش کریں ۔۔۔۔ابو کبھی نہیں مانے گئے اور امی بھی اجازت نہیں دیں گئ۔۔۔۔میں کیسے آ سکتی ہوں ۔۔۔اگر آپ کو ذیادہ ہی شوق ہے تو آپ خود بات کر لیں “شازمہ ساری بات شازل پر ڈال دی
“ٹھیک ہے میں امی سے کہو گاوہ خود چاچو سے بات کر لیں گئیں ۔۔۔۔بس تم اپنی تیاری رکھنا ۔۔۔ میں خود تمہیں لینےآوں گا اور چھوڑ کر بھی خود جاؤں گا ۔۔۔۔”شازل کے سب دوستوں نے ملکر ایک رسٹورنٹ میں گیٹ ٹو گیدر ارینج کیا تھا ان میں کچھ میرڈ تھے اور کچھ انگیجڈ تھے اس لئے شازل کو بھی خاص تاکید کی تھی کہ اپنی منگتر کے ساتھ آئے ۔۔۔۔وہ تو ہامی بھر چکا تھا مگر شازمہ کی وہی ایک شرط تھی ۔۔۔۔شازل نے یہی بات زمرد بیگم سے کہی ۔۔۔اور انکے جواب سے پہلے ہی جاوید صاحب بول پڑے (زمان صاحب کے بڑے بھائی)
“ارے بھئ یہ کیا کھلی بے حیائی ہے ۔۔۔۔کوئی ضرورت نہیں ہے ایسے کسی بہودہ پروگرام کی ۔۔۔۔یہ سارے شوق شادی کے بعد پورے کرنا ۔۔۔”۔یعنی کے حد ہی ہو گئ ہے ۔”۔۔۔شادی سے پہلے منگتر کو گھمائے گھمائے پھرو ۔۔۔۔”جاوید صاحب نے اخبار ایک طرف پٹخ کر کہا زمرد بیگم کی پیشانی پر بل پڑے
“شازل کوئی غیر ہے کیا۔۔۔ اسی خاندان کا بچہ ہے زمان اور عاتقہ کے سامنے پلا بڑا ہے ۔۔۔۔اب دور بدل گیا ہے ۔۔۔میں کہتی ہوں حرج ہی کیا ہے اس میں ۔۔۔ڈیفنس میں آ کر بھی تمہاری سوچ نا بدلی جیدی ابھی بھی اسی ناظم آباد کے چھوٹے چھوٹے فلیٹوں میں رہنے والوں کی طرح ہی سوچنا ۔۔۔۔بیٹی اگر منگتر کے ساتھ چلی جائے گی تو برابر والے پڑوسی کیا کہیں گئے ۔۔۔ لوگ باتیں بنائے گئے ۔۔۔ارے میں پوچھتی ہوں اس دور میں فرصت کس کے پاس ہے یہ سب سوچنے کی ۔۔۔۔ایک ہی بیٹا ہے میرا ۔۔۔۔۔۔کیا اپنی خواہش بھی پوری نا کرے ۔۔۔”اپنا پان دان کھولے وہ پان کے پتے پر کتھا لگاتے ہوئے بولیں
“امی بات خواہش کی نہیں ہے میرے سب کولیگ اور دوست اپنی منگتر کے ساتھ آ رہے ہیں سوچیں سب کے سامنے میں اگر یونہی اکیلا چلا گیا کتنی ایمبرسمنٹ ہو گی ۔۔۔”شازل کو اپنی فکر تھی
“میں زمان سے ایسی کوئی بات نہیں کرونگا تم خود سنبھالو ۔۔۔”۔یعنی کہ حد ہوگی” ۔۔۔۔”جاوید صاحب نے عادت جمعلہ ادا کیااور اخبار پکڑے دوبارہ پڑھنے لگے
“شازل تم فکر مت کرو میں کروں گی بات زمان سے مجھے منع نہیں کر سکتا ۔۔۔۔”زمرد بیگم نے پان منہ میں رکھا اور کتنے والا ہاتھ شازل کے بالوں پر پھیرنے لگیں ۔۔۔انداز پیار جتانے کا تھا لیکن شازل نے ناگواری سے دیکھا
******………
شاہ زیب چلتے ہوئے لاونج کے ٹیبل تک آیا ۔۔۔۔ٹیبل پر ۔۔۔فرائی چکن ۔۔۔نوڈلز ۔۔۔کباب ۔۔۔۔نگٹس ۔۔۔۔۔کیک بسکٹ ۔۔۔۔نمکو ۔۔۔کیا کچھ نہیں تھا ۔۔۔۔اس پر بھی نیناں کا بس نہیں چل رہا تھا اور بھی کیا کچھ اس کے سامنے نا رکھ دے ۔۔۔ٹیبل سجاتی ہوئی دو کم عمر لڑکیوں پر وہ برس رہی تھی ۔۔۔تم لوگ اتنی ست کیوں ہو ۔۔۔جلدی سے چائے بناؤں اب ۔۔۔اور رحمت بی بی سے کہو کہ فش اگر فرائی ہو گئ تو جلدی سے لا کر رکھے ” وہ دونوں لڑکیاں سر ہلاتی ہوئیں چکن کی طرف چل دیں
شاہ زیب کو دیکھ کر نیناں اسے بیٹھنے کا کہنے لگی
“آپ بیٹھیں نا پلیز ۔مجھے معلوم ہوتا کہ آپ میرے گھر آنا چاہیے ہیں تو کچھ اسپشل بنواتی لیکن بس اب جو کچھ گھر میں تھا وہی ۔۔۔۔۔”
“یہ جو کچھ ہے ۔۔۔۔۔”شاہزیب نے لباب بھرے ٹیبل کی طرف اشارہ کیا اور صوفے پر بیٹھ گیا
“میں یہاں تمہارے گھر کھانے پینے اور مزے اڑانے نہیں آیا ۔۔۔۔اب بیٹھوں ادھر ۔۔ کچھ بات کرنی ہے مجھے تم سے “شاہزیب نے سنجیدگی سے کہا ۔۔۔۔نیناں کچھ فاصلے رکھ کر اس کے برابر میں بیٹھ گئ۔۔۔۔
اور پلیٹ اٹھا کراس میں مختلف چیزیں رکھنے لگی
“بات تو مجھے بھی آپ سے کرنی ہے ۔۔۔لیکن پہلے کچھ تو لیں ۔۔۔”نیناں نے پلیٹ اسکی طرف بڑھا دی ۔۔۔۔
شاہزیب نے کن اکھیوں سے اسے دیکھا اور پلیٹ اسکے ہاتھ سے لیکر کھانےگا ۔۔۔۔۔
“میرا پیچھا کیوں کر رہی تم ۔۔۔۔۔۔”کھاتے ہوئے بڑے لاپروا انداز سے شاہزیب۔ نے پوچھا
“پیچھا تو نہیں کیا میں نے ۔۔۔۔”نیناں نے نظریں چرائیں جو اسکی بات کی چغلی کھا رہیں۔ تھیں
“تو گھر کا کیسے معلوم ہوا “شاہزیب نے جتاتے ہوئے پوچھا
“وہ ۔۔آپ میری بات نہیں سن رہے تھے۔۔۔ اس لئے مجبورا کرنا پڑا “وہ جھجکی تھی
“کونسی بات ۔۔۔۔”منہ میں کباب ڈالتے ہوئے شاہزیب نے پوچھا
“وہ میں نے آپ کو ویلنگ کرتے دیکھا تھا ۔۔۔۔تو۔۔۔۔”نیناں ایک دم چپ سی ہو گئ ۔۔۔اپنے ہی منہ سے اپنی ۔محبت کا اظہار کچھ عجیب سا لگ رہا تھا
” ہممم آگے “شاہزیب نے اسے چپ دیکھ کر پوچھا
“وہ ۔۔۔۔ہاں ۔۔۔آپ نے نوڈلز تو لئے نہیں ۔۔۔رحمت بی بی بہت مزے نوڈلز بناتی ہے ۔۔۔۔میں ڈال کر دیتی ہوں “نیناں نے موضوع بدلا اور پلیٹ پکڑ کر نوڈلز ڈالنے لگی
“بات کو بدلو مت۔۔۔ آگے بتاؤں۔۔۔ مجھے ویلنگ کرتے دیکھا تو ۔۔۔۔آگے بولو ۔۔۔ہمم ۔۔۔۔۔۔۔” شاہزیب نے سنجیدگی سے ائیبرو اچکا کر پوچھا نیناں نے کھسیا کر پلیٹ واپس رکھ دی سامنے والا بیوقوف بلکل نہیں تھا جیسے باتوں سے بہلایا جاتا ۔۔۔۔
“مجھے ۔۔۔۔آآ۔۔پ اچھے ۔۔۔۔لگے تھے ۔۔۔۔۔”نیناں نے ہچکچاتے ہوئے نظریں جھکا کر کہا
“اسپورٹ چینلز میں مجھ سے زیادہ شعبے باز نظر آئیں گئے تمہیں ۔۔۔اور ان میں سے بہت سے اچھے بھی لگیں گئے تو کیا ان سب کے گھر بھی پہنچ جاوگی ان نے ملنے ۔۔۔۔۔کچھ عجیب سی بات نہیں ہے نیناں ۔۔۔ ۔۔۔۔۔”شاہزیب کی بات پر وہ کچھ نہیں بولی وہ بھی اب سنجیدگی سے بات کر رہا تھا
ایک لڑکی فش کے پلیٹ رکھ کر جا چکی تھی ۔۔۔شاہ زیب نے فش کا پیس اٹھا کر اپنی پلیٹ میں رکھا اور فورک سے کھانے لگا نیناں کے جواب کا منتظر تھا کہ وہ نظریں جھکائے خاموش بیٹھی تھی۔۔۔شاہزیب نے ہی بات آگے بڑھائی
” تمہاری اس حرکت کی وجہ سے میں نے اپنے ابا سے بہت ذلت اٹھائی ہے بہت ڈانٹ بھی کھائی ہے وہ بھی بنا کسی غلطی کے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔جو کچھ بھی میں نے سی ویو پر تمہارے کیا یا کہا وہ تمہارے عمل کا ردعمل تھا ورنہ میں لڑکیوں سے اس قسم کی باتیں نہیں کرتا ۔ ۔۔۔۔۔۔ لیکن حیرت اس بات کی ہے کہ میں نے جو کچھ تمہارے ساتھ کیا کوئی اور ہوتی تو مجھے دھکے دیتے ہوئے باہر نکالتی ۔۔۔مگر تم تو ۔میری میزبانی میں لگ گئ ہو ۔۔۔۔تمہارا رویہ میری سمجھ سے باہر ہے ۔۔۔۔۔”شاہزیب ساتھ ہی ساتھ اپنی پلیٹ میں رکھی چیزوں سے بھی لطف اندوز ہو رہا تھا ۔۔۔گھر میں سب کا موڈ آف تھا اسلئے صبح سے بس اس نے چائے ہی پی تھی ۔۔۔بھوک تو اسے لگ رہی تھی ۔۔۔پھر ٹیبل پر رکھی ہر چیز ہی اسکے مطلب کی تھی ۔۔۔۔
” مجھے آپکے غصے کا اندازہ تھا ۔۔۔۔ میں اپنی غلطی پر نادم بھی ہوں ۔۔۔۔اور آپکی بات ٹھیک ہے شعبہ باز تو بہت ہوتے ہیں لیکن دل ہر ایک کے لئے نہیں دھڑکتا۔۔۔میں آپکو اپنے دل میں آنے سے نہیں روک سکی تو گھر سے کیسے نکال سکتی ہوں “نیناں کی بات پر شاہ زیب کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا ۔۔۔۔ہاتھ میں پکڑا نگٹس اس نے دوبارہ پلیٹ میں رکھا ۔۔۔۔اور پلیٹ واپس ٹیبل پر رکھ دی ۔۔۔۔اپنے ہاتھ جھاڑے اور پورا رخ نیناں کی طرف کر کے اسکے چہرے کو کھوجتی نظروں سے دیکھنے لگا جو اسے کچھ اور ہی کہانیاں سنا رہیں تھی ۔۔۔کچھ شرمائی شرمائی گھبرائی سی ۔۔۔نظریں۔چراتی ہوئی مسکراتی ہوئی نیناں اسے زہر لگ رہی تھی ۔۔۔۔
“دیکھوں ۔۔۔۔اب یہ مت کہنا کہ تمہیں مجھے سے محبت ٹائپ کی چیز ہو گئ ہے ۔۔۔۔۔یا مجھے دیکھ کر تمہارا دل ہواؤں میں اڑنے لگا تھا ۔۔۔۔۔
Love at first sight
وغیرہ وغیرہ ۔۔۔۔۔”شاہزیب نے سخت تیور اپنائے
“آپ کہتے ہیں تو نہیں۔ کہتی ۔۔۔۔لیکن سچ تو یہی ہے ۔۔۔ “نیناں کا اعتراف اسے مزید تپا گیا تھا
“دیکھوں میری بات سنو ۔۔۔۔ میں اس ٹائپ کا لڑکا نہیں ہوں ۔۔۔میرے خواب کچھ اور ہیں ۔۔۔۔ان جھمیلوں میں پھنسنا نہیں۔ چاہتا ۔۔تمہیں یہاں یہی کہنے آیا ہوں کہ آئندہ میرے گھر دوبارہ مت آنا ۔۔۔۔۔” وہ سختی سے بولا
“میں آپ سے دوستی تو کر سکتی ہوں ۔۔۔۔؟نیناں نے ایک نئ راہ نکالنا چاہیے
“بلکل بھی۔ نہیں ۔۔۔۔میں یہ سب افوڈ نہیں کر سکتا ۔۔۔۔”
“ایم سوری شاہزیب میں پیچھے نہیں ہٹ سکتی “وہ اٹل انداز سے بولی شاہزیب اسکی بات پر اچھنبے میں آ گیا
“واٹ ۔۔۔۔۔۔پیچھے نہیں ہٹ سکتی سے مطلب کیا ہے تمہارا ۔۔۔میں ایک لڑکا ہو کر تمہیں انکار کر رہا ہوں ۔۔۔۔تمہیں۔ میری شکل بھی دوبارہ نہیں دیکھنی چاہیے اور تم ۔ہو کہ ۔۔۔۔عجیب ہو بھئ ۔۔”شاہزیب۔ نے تپ کر کہا پھر اسے گھور کر دیکھا اور اپنا غصہ ضبط کیا
۔۔”اینی وئے ۔۔۔۔تمہاری امی ابو کہاں ہیں نظر نہیں آ رہے “شاہزیب کو لگا کہ اگر وہ یہ بات اسکے والدین سے کرے گا تو وہ ضرور اس سر پھری لڑکی کو روکیں گئے جو خواہمخواہ اسکے گلے پڑ رہی تھی پھر وہ جس کلاس سے تعلق رکھتی تھی اسکے پیرنٹس کبھی نہیں چاہیں گئے کہ وہ شاہزیب جیسے میڈل کلاس لڑکے سے مراسم بڑھائے ۔۔۔۔۔۔۔
“موم تو میرے بچپن میں ہی انتقال کر گئیں تھیں ۔۔۔۔۔۔آپ چائے پیجیے ۔۔۔۔پوپس ابھی آتے ہی ہوں گئے “نیناں کپ میں چائے ڈالنے والی تھی کہ شاہزیب نے ہاتھ کے اشارے سے منع کر دیا
“رہنے دو چائے ۔۔۔اور یہ ٹوپ پوپس ۔۔۔وغیرہ میں نہیں کھاتا ۔۔۔۔بس اپنے ابا کو بلاؤ ۔۔۔یا وہ بھی لوڑک چکے ہیں (مر چکے ہیں ) تمہاری اماں کے ساتھ ۔۔۔ نیناں نامی عذاب ۔میرے لئے چھوڑ کر ۔”۔۔۔۔شاہزیب نے ترش لہجے میں کہا ۔۔۔۔۔اور عذاب والی بات منہ میں بڑبڑائی ۔۔۔نیناں اسکی اس طرح کی لینگویج سے نا واقف تھی
“لوڑک چکے ہیں ۔۔۔کیا مطلب “نیناں نے معصومیت سے پوچھا ۔۔۔
شاہزیب اس لڑکی سے زچ ہو چکا تھا اس سے پہلے کہ اسے کچھ کہتا ۔۔۔۔۔سامنے لاونج کا دروازہ کھولا ایک شاندار شخصیت کے مالک شخص پینٹ کوٹ میں پہنے اندر داخل ہوا ۔۔۔گوری رنگت فٹ اینڈ سمارٹ پچاس کے لگ بھگ وہ شخص ایک زبردست پرسنیلٹی رکھتا تھا ۔۔۔۔
“لو پوپس آ گئے “نیناں چہک کر کھڑی ہوئی اور جا کر اس شخص کے ساتھ لگ گئ
“کیسی ہو لٹل فرینڈ۔۔۔”انہوں نے نیناں کی پیشانی پر بوسہ دیا ۔اس اسکوساتھ لگائے اسکی کمر کو سہلاتے ہوئے بولے ۔۔۔شاہزیب کی آنکھیں پھٹی
“عجیب ماحول ہے یار ۔۔۔اماں ابا اسکے ہیں نہیں ۔۔۔۔اور ہر قسم اور عمر کے مردوں سے دوستیاں پال رکھیں ہیں اس نے ۔۔۔اب یہ پوپس نامی شخص بھی اسے فرینڈ ہی کہہ رہا ہے اوپر سے کیا انداز ہے ملنے کا۔۔۔ واہ بھئ ۔۔۔”شاہزیب کو یہ سب کچھ عجیب وغریب سا لگ رہا تھا اس لئے اس نے سوچا نکل جانا ہی بہتر ہے ۔۔۔
سامنے والا شخص اب اپنی زریک نظریں شاہزیب پر ہی گاڑے ہوا تھا اسے سر سے پیر تک بڑے غور سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔شاہزیب کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ اسے سلام کرے یا ویسے ہی نکلنے کی کرے ۔۔۔۔
“پوپس یہ۔۔۔وہیں ہے جس کا میں نے آپ کو بتایا تھا ۔۔۔۔میرا فرینڈ “۔۔چلو بھئ تعارف کا مرحلہ تو نیناں نے خود ہی حل کر دیا تھا ۔۔۔۔اب وہ شخص اسکے قریب قدم بڑھانے لگا ۔۔۔۔ اسے پھر سے سر سے پیر تک دیکھا ۔۔۔اور اپنا ہاتھ مصافے کے لئے آگے بڑھایا
“ہیلو ینگ مین ۔۔۔۔میں بختیار رانا راجپوت ۔۔۔۔نیناں کا فادر “شاہزیب اس شخص کے تعارف پر چونکا تھا ۔۔۔۔وہ کیا سوچ رہا تھا اور وہ باپ تھا نیناں کا ۔۔۔۔شاہزیب نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا ۔۔۔۔
“ہائے میں “
“انہمم۔۔۔۔تعارف کی ضرورت نہیں ہے ینگ مین ۔۔۔۔میں جانتا ہوں تم نیناں کے فرینڈ ہو ۔۔۔۔۔بیٹھوں “بختیار صاحب نے شاہزیب کو بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔۔۔۔وہ دوبارہ سے صوفے پر بیٹھ گیا ۔۔۔اور دائیں جانب والے سنگل صوفے پر بختیار صاحب بیٹھ گئے ۔۔۔۔
“نیناں چائے بناؤں ۔۔۔”بختیار صاحب نے نیناں سے کہا وہ دو کپ چائے بنانے لگی اتنی دیر بختیار صاحب صرف شاہزیب کی جانب جانجتی ہوئی نظروں سے دیکھتے رہے پہلی بار شاہزیب کچھ نروس ہوا تھا ۔۔۔نیناں نے ایک کپ بختیار صاحب کی طرف بڑھایا دوسرا شاہزیب کی طرف
اور خود باپ کے صوفے کی پائنتی پر بیٹھ گئ ۔۔۔۔
“کرتے کیا کو تم “
“بی کم کے سکینڈ لاسٹ سمسٹر میں ہوں ۔۔۔۔۔”
“ہممم اس کے علاؤہ “شاہزیب کو اپنا انٹر ویو دینا بلکل اچھا نہیں لگ رہا تھا وہ کون سا اپنا رشتہ انکی بیٹی کے لئے لایا تھا ۔جو سوالوں کے جواب ٹھیک ٹھیک دیتا ۔۔۔۔۔۔پھر اس نے سوچا کیوں نا اپنا انداز ایسا برا اپنائے تا کہ اس کا باپ خود ہی اپنی بیٹی کو اس سے دور کر دے ۔۔۔اس لئے اپنی ٹانگ ہے ٹانگ رکھ کر بیٹھ گیا ۔۔۔
“دیکھے مسٹر پوپس مجھے انٹر ویو دینا سخت نا پسند ہے ۔۔۔۔میں تو ایسا ہی ہوں جیسا نظر آ رہا ہوں ۔۔۔۔۔آوارہ گردی کرنا ۔۔۔لڑکیوں سے دوستی کرنا انکے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنا میرے پسندیدہ مشغلوں میں سے ہے ۔۔۔”شاہ زیب کی بات پر نیناں کا رنگ اڑا تھا لیکن بختیار صاحب کے چہرے پر ایک شکن تک نہیں آئی ۔۔۔وہ بڑے غور سے اسے دیکھ رہے تھے
“ہمم۔۔۔۔ وہ تو تمہارے حلیے سے لگ رہا ہے ۔۔۔”انہوں نے کمال اطمینان سے کہا پھر اپنی دونوں جیبیں ٹٹولیں اور پھر ایک کے اندر سے ہاتھ ڈال کر سگریٹ کی ڈبیہ نکالی۔۔۔شاہزیب کو انکے اطمینان پرحیرت تو ہوئی مگر ڈھیٹوں کی طرح ہسنے لگا ۔۔۔۔
“میں تو ایسا ہی ہوں ۔۔۔۔من موجی ٹائپ کا ۔بندہ ۔۔۔اس لئے یہاں بھی ایسے ہی آیا ہوں تا کہ آپ مجھے اچھی طرح دیکھ لیں ۔۔۔۔میں سمجھتا ہوں انسان کو اپنے اصل کے ساتھ ملنا چاہیے ۔۔۔۔دیکھلاوئے کا لبادہ اوڑھنا میرے مزاج کے خلاف ہے “اتنی صاف گوئی پر شاہزیب کو لگاوہ کہیں گئے اٹھوں اور دفع ہو جاؤں یہاں سے ۔۔۔۔
“ہمم۔۔۔۔گڈ ۔۔۔۔وری گڈ ۔۔۔۔ انڈرسٹنگ ۔۔۔آئی ایم امپریس ینگ مین “بختیار صاحب کی غیر متوقع بات پر شاہ زیب کا حیرت سے منہ کھلا تھا ۔۔۔۔
باپ بیٹی دونوں کھسکے ہوئے لگتے ہیں میری باتوں میں امپریس ہونے والی کیا بات تھی ۔۔۔۔۔کہاں ۔ پھنس گیا شاہزیب ۔۔۔”شاہزیب کچھ نروس ہوا تھا
بختیار صاحب مسکرائے اور سگریٹ کی ڈبیہ سے ایک سگریٹ نکال کر اپنے ہونٹوں پر دبایا اور باقی کی ڈبیہ شاہزیب کے سامنے کی
“سگریٹ تو پیتے ہو گئے تم “
“جج۔جی ۔۔۔۔ہاں ۔۔۔۔بلکل میں تو بچپن سے عادی ہوں ۔۔۔”شاہزیب جھجکا تھا سگریٹ کو تواس نے آج تک ہاتھ بھی نہیں لگایا تھا مگر ۔۔۔انکے سامنے خود کو برا ثابت کرنے کے لئے ۔۔۔۔بول پڑا تھا ۔۔۔۔شاہزیب نے سگریٹ لیا اور اسے غور سے دیکھنے لگا پھر ہونٹوں پر لگا لیا ۔۔۔بختیار صاحب نے لائٹر جلا کر پہلے اپنی سگریٹ جلائی پھر سامنے بیٹھے شاہزیب کی ۔۔۔۔پہلاکش لیتے ہی دھواں سیدھا اسکے حلق پر لگاوہ بری طرح سے کھانسنے لگا۔۔۔۔کچھ دیر بعد اس کا سانس بحال ہوا آنکھوں سے پانی بہنے لگا ۔۔۔۔سگریٹ اس نے ایش ٹرے میں بجھا دی بختیار صاحب اطمینان اسے دیکھتے رہے
“واقع تم تو عادی ہو سگریٹ پینے کہ ورنہ جب میں نے پہلی بار سگریٹ پیا تھا تو اسے کھانسا تھا جیسے تم کھانس رہے تھے ۔۔۔۔۔تمہاری میری تو خوب نبھنے والی ہے ۔۔۔مجھے اپنی بیٹی کے لئے ایسے ہی لڑکے کی تلاش تھی ۔۔۔۔”
“جی ۔۔۔”شاہزیب حلق کے بل چیخا اور کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔۔۔
“
” بیٹھ جاؤ کھڑے کیوں ہو ۔۔۔تم میرے کام کو ضرور آگے لیکر چلو گئے …”
“کون سا کام ۔۔۔۔دیکھیں میں “اس سے پہلے کہ شاہزیب وضاحت دیتا بختیار صاحب بول پڑے
“ارے اب تم سے کیا چھپانا ۔۔۔میں انڈر ورلڈ کا بے تاج بادشاہ ہوں ۔۔۔۔چوری ڈاکہ قتل یہ سب کرنا تو کوئی بات ہی نہیں ہے ۔ میرے لئے ۔۔تمہارے حلیے اور تمہاری باتوں نے مجھے بہت متاثر کیا ہے لڑکے “شاہزیب کے تو سارے کے سارے طبق پورے آب وتاب سے روشن ہو چکے تھے ۔۔۔۔پیشانی سے پسینہ بہہ کر چہرے اور گردن پر آنے لگا تھا ۔۔۔۔وہ جو نیناں کے ہوش اڑانے آیا تھا اپنے حواس کھونے لگا تھا ۔۔۔۔اپنے آنے پر پچھتا رہا تھا کن لوگوں میں پھنس چکا تھا ۔۔۔۔
“پوپس آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں “نیناں اپنی جگہ حیران پریشان تھی اپنے باپ کے منہ سے اس قسم کی گلفشانیاں سن کر ۔۔۔۔
“نیناں جسٹ کیپ کوائٹ ناؤ ۔۔۔۔مجھے تمہاری پسند پر ناز ہے ۔۔۔۔۔یہ لڑکا ہمارا گروہ سنبھالے گا “۔۔۔
“ہ۔۔ہر گز بھی نہیں میں ہر گز بھی ایسا کچھ نہیں کرو گا ۔۔۔میں جا رہا ہوں ۔۔۔”شاہزیب تیز قدم بڑھاتے ہوئے وہاں سے جانے لگا
“پوپس۔۔۔کیاہو گیا ہے آپ کو۔۔۔۔”وہ شاہزیب کے پیچھے بھاگی تھی۔۔۔۔۔
“شاہزیب میری بات سنیں پلیز “نیناں لان میں تیز قدم۔ بڑھاتے ہوئے شاہزیب کی طرف پہنچی تھی جو میں گیٹ تک پہنچ چکا تھا
“دیکھیں وہ سچ نہیں ہے جو پوپس نے کہا ہے وہ ایسے نہیں ہیں “
“شاہزیب نے اپنے دونوں ہاتھ اس کے سامنے جوڑے اور سر جھکا کر بولا
“یہ دیکھ میری ماں ہاتھ جوڑتا ہوں تمہارے آگے معاف کرو مجھے ۔۔۔۔۔اور جان چھوڑو میری ۔۔۔۔مجھے۔تم سے کوئی واسطہ نہیں رکھنا ۔۔۔۔”یہ کہہ کر وہ مین گیٹ عبور کر گیا نیناں رونے لگی ۔۔۔۔واپس غصے سے بھری لاونج میں آئی جہاں بختیار صاحب مزے سے پلیٹ میں فش ڈالے کھا رہے تھے
