One Wheeling by Umme Hani NovelR50409

One Wheeling by Umme Hani NovelR50409 One Wheeling Episode 37

491.3K
42

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

One Wheeling Episode 37

One Wheeling by Umme Hani

قیوم صابر جب سے شاہزیب سے ملا تھا ۔۔۔۔چند دن تو اسے بھلا نہیں پایا تھا اسے شاہزیب کی کال کا بھی بے صبری انتظار رہا تھا مگر جب یہ انتظار طویل ہونے لگا تو وہ بھی بھول بھال گئے مگر کبھی کبھی انہیں شاہزیب کا خیال آتا تو سوچتے ضرور تھے کہ کاش وہ ان سے ملاقات کرے ۔۔۔۔ ایسے لڑکوں کی وجہ سے تو عیش عشرت کی زندگی گزار رہے تھے ۔قیوم صابر اس قسم کے جوشیلے نوجون انکہںاول ترجعی کے حامل تھے ۔۔۔۔

جس قدر وہ جوشیلہ تھا بہت جلد انکی ڈیمانڈ کے مطابق خود کو ڈھال سکتا تھا ۔۔۔۔پھر چند دن پہلے۔ جب نیوز چینل پر اسے ایک پولیس آفیسر کے چھکے چھڑاتے دیکھا تو حیراں رہ گئے۔۔۔۔۔ وہ لڑکا اچھا خاصا نڈر تھا ۔۔۔۔۔اصل معاملہ کیا تھا یہ بات وہ جان نہیں پائے تھے مگر اس لڑکے کی خوبیوں کے قائل ضرور ہو چکے تھے ۔۔۔۔

******…..

رات کے ڈنر پر نیناں جان بوجھ ڈائنگ روم میں نہیں گئ ۔۔۔۔کھانا بھی بختیار صاحب کے آنے سے پہلے ہی کھا لیا ۔۔۔۔

ڈنر کے بعد ہی بختیار صاحب کی کال پر نیناں کو انکے کمرے میں جانا پڑا وہ تیوری چڑھائے سگریٹ پی رہے تھے ۔۔۔۔جب وہ کمرہ نوک کر کے داخل ہوئی

بختیار صاحب کے سامنے خاموشی سے کھڑی رہی

“تمہاری ضد پر میں نے وہ فیصلہ کیا ہے نیناں جس پر مجھے ذرا بھی دلی مسرت نہیں ہے لیکن صرف اس لئے کیا کہ تم ایسا چاہتی ہو لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم روز میل ملاقاتوں میں مجھے تھرڈ کلاس لوگوں کی طرح سمندر اور پارکوں میں اس کے ساتھ نظر آؤں ۔۔۔۔۔۔ اچھی طرح کام کھول کر سن لو ۔۔۔۔ جب تک تمہاری تعلیم مکمل نہیں ہو جاتی اور تمہاری شادی شاہزیب سے نہیں کو جاتی میں نہیں چاہتا کہ تم ملاقاتیں کے سلسلے بڑھاو اسکے ساتھ۔۔۔۔۔

اسے بھی میں نے بہت اچھی طرح سمجھا دیا ہے ۔۔۔۔مجھے تم سے بھی دوبارہ ایسی شکایت کا موقع نہیں ملنا چاہیے ۔۔۔۔۔۔بس یہی کہنا تھا مجھے ۔۔۔جاوں جا کر آرام کرو “بختیار صاحب کی بات نیناں نے خاموشی سے سنی تھی ۔۔۔۔۔اس رات شاہزیب کی کوئی کال نہیں آئی تھی ۔۔۔۔۔

چند دن تو نیناں نے بھی بات نہیں کی لیکن پھر خود سے اسے کال کرتی بھی تھی تو وہ اٹھاتا نہیں تھا ۔۔۔۔پتہ نہیں ایسا کیا کہا ہے پوپس نے جو فون تک نہیں اٹھا رہا نیناں پریشان ہونے لگی تھی ۔۔۔میسج کا رپپلائے بھی نہیں آ رہا تھا ۔۔۔۔وہ فکرمند تھی بے تحاشہ پریشان بھی تھی ۔۔۔۔۔۔ پورے دو مہنے بعد شاہزیب کی کال آئی تھی ۔۔۔۔۔۔

شاہزیب آپ کہاں تھے بات کیوں کر رہے تھے مجھ سے “

“بزی تھا یار ۔۔۔۔جاب شروع کر دی ہے

میں نے ۔۔۔۔”وہی لاپرواسا انداز تھا جیسے کوئی بڑی بات ہی نا ہو

ایسی کون سی جاب ہے کہ رات کو دو منٹ کال کرنے کاٹائم بھی نہیں ہے “

“رات کی نہیں ہے میری مینا صبح کی تو ہے رات کو جلدی سو جاتا ہوں ‘

“پوپس نے کیا کہا تھا آپ سے اس دن سے آپ نے بات نہیں کی “

“کچھ نہیں کہا تھا ۔۔۔ٹھیک ہی کہہ رہے تھے ہمہیں اب اس طرح سے ملنا نہیں چاہیے ۔۔۔۔اینی وئے

مجھے تم سے بس یہی کہنا تھا تھا کل ایک آڈر آئے گا تمہارے نام پر وہ رسیو کر لینا امی نے بھیجا ہے تمہارے لئے منگنی کا جوڑا اور چیزیں ہیں ۔۔۔۔۔ “

“وہ خود نہیں۔ لائی گئیں “نیناں روہانسی ہوئی تھی

“نہیں سب اپنی اپنی تیاریوں میں بزی ہیں ۔۔۔۔وقت بھی تو کم ہے دس دن ہی باقی رہ گئے ہیں ۔۔۔۔۔ اچھا نیناں مجھے صبح جاب پر بھی جانا۔ ہے گڈ بائے ۔۔۔۔”

شاہزیب نے فون رکھ دیا

*****…….

عاتقہ بیگم اپنی سونے کی جیولری کا بکس نکالے بیٹھیں تھیں جب شاہزیب دروازہ نوک کر کے اندر داخل ہوا ۔۔۔۔۔۔

زمان صاحب بھی وہیں موجود تھے مگر اپنی کتابوں میں مگن تھے

شاہزیب نے اندر آنے کی اجازت طلب کی

“آ جاؤں بیٹا ادھر بیٹھوں ۔میرے پاس “عاتقہ بیگم نے شاہزیب کو بلایا ۔۔۔۔وہ بھی انکے پاس جا کر بیٹھ گیا

“یہ سب کیا ہے امی “

“کچھ زیور ہیں بیٹا شازمہ نمیرہ کی شادی کے الگ کر کے بس یہی بچے ہیں ۔۔۔۔۔سوچ رہی ہوں یہ دو کڑے بیچ کر نیناں کے لئے نئے ڈائزن کے بنوا لوں ۔۔۔۔۔ منگنی پر پہنا دوں گی “شاہزیب نے بکس کی طرف دیکھا جہاں سونے کے نام پر دوکڑوں کے علاؤہ اور کچھ بھی نہیں تھا ۔۔۔۔۔

“امی آپ یہ رہنے دیں آپ پہن لیجیے گا ۔۔۔۔اسکے لئے رنگ میں خود خرید لوں گا “شاہزیب نے عاتقہ بیگم کے ہاتھ سے کڑے پکڑ کر واپس بکس رکھ دیے ۔۔۔۔۔۔زمان صاحب کو کتاب لئے بیٹھے تھے مگر کام کے ساتھ ساتھ عاتقہ بیگم اور شاہزیب کی باتیں بھی سن رہے تھے کتاب بند کر کے شاہزیب سے مخاطب ہوئے

“تم کہاں سے کر لو گئے “

“ابو میں نے بتایا تو کہ ایک جاب شروع کی ہے

“ہاں بتایا تھا مگر کون سی جاب اور کس کمپنی میں یہ نہیں بتایا ۔۔۔۔کیا پے ملتی ہے تمہیں بنا کسی ڈگری کے وہاں سے “زمان صاحب نے کتاب سائیڈ پر رکھی چشمہ اتارتے ہوئے سنجیدگی سے پوچھا

“ابو ۔۔۔میں کل ۔۔۔۔آپکی اپنے باس سے بات کروا دونگا ۔۔۔۔انکی کمپنی میں کمپوٹر ڈپاٹمنٹ میں ہوں ۔۔۔بے شک پوچھ لیجیے گا “شاہزیب نے نظریں چراتے ہوئے کہا ۔۔۔

“کتنی تخواہ ملتی ہے تمہیں جو سونے کی انگوٹھی خرید لو گئے تم ۔۔۔۔”

“ابو ۔۔۔۔۔میں نے پیسے پہلے سے جوڑ رکھے تھے ہیوی بائیک کے لئے جمع کر رہا تھا ۔۔۔۔اب اسی پیسوں کی رنگ لے لوں گا ۔۔۔۔۔”شاہزیب نے انہیں مطمئن کرنا چاہا

“چلو نیناں کی وجہ سے بائیک کا خبط تو اترا تمہارے سر سے ۔۔۔۔لیکن انگوٹھی ٹھیک نہیں لگے گی ۔۔۔۔ تمہاری امی کے کنگن ٹھیک ہیں منگنی پر بہت سے لوگ آئیں گئے وہاں ۔۔۔ سب ہی دیکھیں گئے کہ کیا پہنایا ہے ۔ہم نے بچی کو ۔۔۔کپڑے اور باقی چیزیں تو پہلے ہی منع کر دیں ہیں انہوں نے ۔۔۔۔ ایک سونے کی چیز ہی تو پہنانی ہے کم از کم وہ تو انکے معیار کی ہو ۔۔۔۔”زمان صاحب نے متانت سے بات کی

“ابو پلیز ان کے معیار کے نہیں ہیں یہ ایک اٹل حقیقت ہے ۔۔۔۔۔ آپ ہی کہتے ہیں کہ دوسروں کا منہ لال دیکھ کر اپنا پیٹ کر لال نہیں کرنا چاہیے ۔۔۔ویسے۔ بھی میں انگوٹھی لے آیا ہوں ۔۔۔۔”شاہزیب نے جیب سے ایک چھوٹی سی مخملی ڈبیہ نکال کر عاتقہ بیگم کو پکڑا دی ۔۔۔۔۔عاتقہ بیگم نے ڈبیہ کھول کر دیکھی انگوٹھی بہت خوبصورت بھی تھی اور وزنی بھی ۔۔۔۔زمان صاحب بھی اپنی کرسی سے اٹھ کر وہیں آ کر بیٹھ گئے

“شاہزیب یہ تو خاصی وزنی ہے اور نگ بھی بہت چمکدار ہے ۔۔۔۔”عاتقہ بیگم نے انگوٹھی ہتھیلی پر رکھ کر وزن کا اندازہ لگایا

“امی سونا کم اور چاندی زیادہ ڈلوائی ہے ۔۔۔۔۔”شاہزیب کے جواب پر وہ مطمئن سی ہو گئیں انگوٹھی زمان صاحب نے پکڑ لی ۔۔۔۔۔۔۔

اسے غور سے دیکھنے لگے

“مجھے تو خیر ان سب چیزوں کی خاص پہچان نہیں ہے لیکن میرامشورہ تو یہی ہے کہ تمہاری ماں کے کنگن ہی ٹھیک تھے ۔۔۔۔۔”

“ابو کوئی فرق نہیں پڑتا نیناں کو کوئی اعتراض نہیں ہے “شاہزیب نے بات ختم کر دی

جب شاہزیب کے رشتہ طے ہونے کی خبر زمرد بیگم کو ہوئی وہ تو ہتھے سے اکھڑ گئیں شازل اور جیدی صاحب کے ساتھ گھر پہنچ گئیں ۔۔۔۔نا میٹھائی کو ہاتھ لگایا نا ہی مبارک باد دی بس جیدی صاحب ہی زمان اور شاہزیب کے گلے ملے ۔۔۔۔مبارک باد بھی دی

شاہزیب نے میٹھائی پکڑ کر خود تائی اماں کے پاس بیٹھ گیا

“تائی امی رشتہ ابھی چند دن میں ہی تو طے ہوا ہے ۔۔۔۔اب چھوڑیں بھی غصے کو منہ میٹھا کریں “شاہزیب نے برفی انکے منہ کے قریب کہ لیکن انہوں نے ہاتھ سے پیچھے کر دی

“رہنے دو میاں بھلا یہ کوئی بات ہوئی ۔۔۔۔منگنی کی تاریخ تک رکھ لی اور ہم بے خبر ہیں ۔۔۔۔”

“تائی امی امیر لوگ ہیں وہ ۔۔۔۔چار دن میں منگنی رکھ دی ہے تو ہم ۔ کیا کرتے ۔۔۔۔ اچھا اب چھوڑیں بھی ۔۔۔۔منہ کھولیں آپکی پسند کی برفی لایا ہوں” ۔۔۔۔۔زمرد بیگم نے تیوری چڑھاتے ہوئے للچائی ہوئی نظروں سے برفی دیکھی منہ میں پانی بھر آیا ۔۔۔پھر منہ کھول کر برفی منہ میں ڈالی تو شازمہ کا بھی رکا ہواسانس بحال ہوا تھا ۔۔۔۔۔شازل بھی منہ پھیلائے بیٹھا تھا شاہزیب خود ہی آگے بڑھ کر اس سے ملنے لگا ۔۔۔۔۔کچھ دیر کے بعد ہی کشیدگی ختم ہو گئ تھی ۔۔۔۔۔رات ڈنر کے بعد زمرد بیگم اور انکی فیملی جا چکی تھی زمان صاحب نے عاتقہ بیگم اور شاہزیب کو اپنے کمرے ۔میں بلوا لیا ۔۔۔۔۔

“شاہزیب دو ماہ بعد ہی تمہارے پیپر ختم ہو جائیں گئے ۔۔۔۔جاب بھی تم اسٹاٹ کر چکے ہو ۔۔۔بختیار صاحب کو میں منا لوں گا ۔۔۔۔میں چاہتا ہوں کہ تمہاری شادی بھی جلد کر دوں۔ جیدی بھائی صاحب بھی شازمہ کی شادی چند ماہ تک مانگ رہے ہیں ۔۔۔۔میں ہاں کر چکا ہوں ۔۔۔۔لیکن نمی سے پہلے تمہاری شادی کے حق نہیں نہیں ہوں ۔۔۔۔۔اگر نمی کا بھی کہیں رشتہ ہو جائے تو آگے سال ہی تم دونوں کی بھی شادی کر دونگا ۔۔۔۔۔یہ چار پانچ سال کی منگنیاں مجھے سمجھ میں نہیں آتیں ۔۔۔۔۔ایم بی اے کا کیا ہے شادی کے بعد کرتے رہنا ۔۔۔۔”

“شاہزیب تو نمی کو بھولے ہی بیٹھا تھا وہ کون سی چھوٹی تھی ۔۔۔۔سال دو سال ہی چھوٹی تھی ۔اس سے۔۔۔۔پڑھائی میں ذرا کمزور تھی اس لئے شاہزیب سے کچھ زیادہ پپچھے تھی ۔۔۔۔۔

اپنے کمرے میں آ کر اب وہ نمی کے بارے میں سوچنے لگا مگر اب رشتہ ڈھونڈا کون سی آسان بات تھی اتفاق سے بھی ابھی تک نمی کا کہیں سے رشتہ نہیں آیا تھا ۔۔۔۔اگلے روز بھی جمی سیفی اور خرم کے ساتھ چائے والے ہوٹل میں بیٹھے ہوئے بھی وہ ذہنی طور پر نمی کے بارے میں ہی سوچ رہا تھا ۔۔۔۔۔

“شاہو تجھے پتہ ہے ہماری ریشماں بھی جوان ہو گئ ہے “جمی نے ہنستے ہوئے شاہزیب کو ٹہکا لگا کر کہا تو وہ یکلخت ہی چونکا تھا

“کون سی ریشماں ۔۔۔کیا مطلب “وہ ویسے بھی ذہنی طور پر وہاں موجود نہیں تھا اس لئے جمی کی معنی خیز بات کو سمجھ نہیں پایا

“ابے اپنے۔ خرم کا رشتہ دیکھنے جا رہیں ہیں اسکی اماں بس اب اسکے ہاتھ بھی جلد پیلے ہونے والے ہیں ۔۔۔”جمی نے اپنے دانت نکالتے ہوئے خبر دی شاہزیب نے سوالیہ نظروں سے خرم کی طرف دیکھا

“بکواس کر رہے دونوں کمینے “خرم نے بیزاری سے کہا

“ابے چل نا مجھے خود تیری اماں نے کہا ہے کہ کل تیرے لئے لڑکی دیکھنے جا رہیں ہیں “سیفی نے اسکے سر پر چت لگائی

“ہاں ابھی دیکھنے جا رہیں کون سا پسند کر چکی ہیں ۔۔۔”خرم نے مدافعانہ انداز سے کہا

“اگر رشتہ طے ہو گیا تو کب ہو گی تمہاری شادی شاہزیب نے تشویش سے پوچھا

“کر دیں گی چھ آٹھ ماہ میں ۔۔۔۔۔”خرم کی بات سن کر کافی دیر شاہزیب بہت غور سے اسے دیکھتا رہا ۔۔۔۔خرم دو بھائی تھے لیکن بڑا بھائی شادی کے فورا بعد ہی الگ ہو گیا تھا ۔۔۔۔۔خرم کی والدہ کو اب اسکی شادی کی جلدی تھی باپ کی اپنی مردانہ کپڑوں کی دوکان تھی خرم بھی یونیورسٹی سے واپسی پر وہی۔ بیٹھتا تھا کام اچھا خاصا تھا وہ تھا بھی اکیلا فیملی بھی بڑی نہیں تھی ۔۔۔۔ پھر عاتقہ بیگم اور خرم کی امی کی آپس میں بنتی بھی بہت تھی ۔۔۔۔۔جتنی دیر سب دوست بیٹھے چائے پیتے رہے شاہزیب خرم اور نمیرہ کے بارے میں ہی سوچتا رہا ۔۔۔۔

سیفی جمی کے جانے کے بعد بھی شاہزیب چائے والے ہوٹل سے واپسی کے لئے اٹھا نہیں تو خرم نے خود ہی س سے کہا

“شاہو واپس نہیں چلنا “

“چلتے ہیں ذرا بیٹھوں مجھے کچھ بات کرنی ہے تم سے”خرم دوبارہ سے کرسی پر بیٹھ گیا

“خالہ جس لڑکی کو دیکھنے جارہیں ۔ ہیں تم کر لو گئے اس سے شادی “شاہزیب اسکی رائے جاننا چاہتا تھا

“ہاں مجھے بھلا کیا اعتراض ہو گا۔۔۔۔۔اچھا ہی کہ امی اپنی پسند سے لے آئیں پورادن تو ساس نے ہی بہو کے ساتھ گزارنا ہوتا ہے ۔۔۔”

“خرم تمہیں کوئی بھی لڑکی چلے گی ۔۔۔مطلب تمہاری کوئی ڈیمانڈ نہیں ہے “

“نہیں کچھ خاص نہیں ۔۔۔۔ تیرے اصولوں کے چکر میں میں نے خاص اس طرف توجہ ہی نہیں دی ۔۔۔۔جو بھی ہو کیا فرق پڑتا ہے ” خرم نے شاہزیب کے کندھے پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا

“نمی کیسی لگتی ہے تمہیں “شاہزیب کی غیر متوقع بات پر خرم نے ماتھے پر بل ڈالے اسے دیکھا

“نمی کا کیا تذکرہ ہے “وہ سمجھا نہیں تھا

“یار میری بات سنو ۔۔۔۔”شاہزیب سیدھا ہو کر بیٹھ گیا

“تمہیں شادی ہی کرنی ہے تو نمی کے بارے میں کیا خیال ہے “شاہزیب کی بات پر وہ اچھنبے میں آ گیا تھا

“نمی ۔۔۔۔نہیں بھئ ۔۔۔۔شادی کرنی ہے مجھے موت کو دعوت نہیں دینی ۔۔۔۔”نمیرہ کا رویہ یاد کر کے پہلی رائے خرم یہی دے پایا تھا ۔۔۔بنا سوچے سمجھے

“کیا مطلب نمی میں کیا برائی ہے”

“بات برائی کی نہیں ہے ۔۔۔۔نمی کے بارے میں ۔۔۔میں نے کبھی ایسا سوچا ہی نہیں ہے ۔۔۔۔”,خرم کچھ سنبھل کر بولا

“تواب سوچ لو ۔۔۔۔”

“لیکن کیوں سوچ لوں ۔۔۔۔یہ تمہیں نمی کی شادی کی کیا پڑ گئ ہے وہ بھی مجھ سے ‘” خرم اب بھی متذبذب تھا بیھٹے بیٹھائے اسے نمیرہ کا خیال کہاں سے آ گیا تھا

“یار کیسے سمجھاؤں تمہیں بڑی مشکل سے نیناں سے رشتہ ہونے جا رہا ہے میرا ۔۔۔۔۔لیکن ایک تو اسکے باپ کی شرطیں اتنی ہیں اور دوسرا میرے ابو نمی سے پہلے میری شادی نہیں کریں گئے اور بختیار صاحب کے ارادے ۔مجھے کچھ ٹھیک نہیں لگ رہے۔۔۔۔مجھے گڑبڑ کی بو آتی ہیں انکی باتوں سے ۔میں جلد از جلد شادی کرنا چاہتا ہوں نیناں سے ۔۔۔ اس لئے میں چاہتا ہوں کہ تم نمی کے لئے اپنا رشتہ بھیج دو ۔۔۔۔”شاہزیب نے اپنا موقف بیان کیا

“اچھا تو بکرا بنانے کے لئے تمہیں میں ہی ملا ہوں ۔۔۔۔ مرواں گئے مجھے ۔۔۔۔۔میں نہیں کر سکتا ۔۔۔۔”

“کیوں کیا برائی میری بہن میں “

‘نا نا نا برائی کہاں ہے ۔۔۔۔برائی تو مجھ میں ہے اس میں اچھائی بہت ذیادہ ہے ۔۔۔۔ خوابوں اور ڈائجسٹ کی دنیا کی بے تاج ملکہ ہے تمہاری نمی ۔۔۔۔۔اسے کوئی جہان سکندر جیسا لڑکا ہی اچھا لگ سکتا ہے میں تو ویسے ہی اسے کالا کوا لگتا ہوں ۔۔۔۔ایم سوری ٹوسے شاہو۔۔۔۔ مجھے تم معاف ہی رکھو “خرم نے ملتجی لہجے میں ہاتھ جوڑ کر کہا

“اب یہ جہان سکندر کون ہے ٫'” شاہزیب نے نافہم انداز سے پوچھا

“ہے ایک کہانی کا ہیرو “

“تم بھی کس کی باتوں میں آرہے ہو عقل ہے اسے اتنی کہ اپنا اچھابراسوچ سکے ۔۔۔۔نمی میری ذمہ داری ہے میں منا لوں گا اسے ۔۔۔تم اب سب سے پہلے کل شام کو خالہ کو اس لڑکی کے بجائے ہمارے گھر لے آؤں رشتے کے لئے “شاہزیب کی جلد بازی پر خرم نے صاف منع کیا تھا

“جی نہیں ۔۔۔پہلے اپنی بہن سے بات کرو ۔۔۔۔۔میں بس یہ کر دوں گا کہ امی کو منع کر دونگا کہ کل امی کہیں بھی رشتہ دیکھنے نا جائیں ۔۔۔۔

“او کے ٹھیک ہے نمی کو سمجھانا کون سا مشکل ہے بائیں ہاتھ کا کام ہے “شاہزیب نے بات چٹکی میں اڑائی تھی

” دیکھوں شاہزیب میں اس کی مرضی کے بغیر کوئی بھی رشتہ قائم نہیں کرونگا ۔۔۔۔”خرم نے دو ٹاک انداز سے کہا

“ہاں ہاں ٹھیک ہے “شاہزیب کو یہ سب کچھ بہت آسان لگ رہا تھا

******…….

رات کو پہلے تو نمیرہ کا ہاتھ پکڑے شایزیب اپنے کمرے میں لے گیا دروازہ بند کر کے اسے اپنے ساتھ بیڈ پر بیٹھایا پھر ایک چھوٹے سے شوپر میں سے آئسکریم کا کپ نکال کر نمی کے ہاتھ میں آئسکریم کا کپ تھمایا ۔۔۔۔وہ خوش ہو گئ ۔۔۔وہ جلدی سے آئسکریم کھانے لگی تو شاہزیب نمیرہ سے یونہی سرسری سا خرم کے بارے میں پوچھنے لگا لیکن وہ تو خرم کے نام پر ہی بدکنے لگی تھی ۔۔۔

“زہر لگتا ہے مجھے یہ خرم لیکن آپ کیوں پوچھ رہے ہیں ” آئسکریم کا چمچ اس نے غصے سے منہ ڈالتے ہوئے کہا

“بس یونہی ۔۔۔۔ اتنا اچھا تو ہے ۔۔۔۔پھر ہم سب دوستوں میں اس وقت اسکی ہی کمائی ٹائٹ ہے ۔۔۔۔۔سمجھدار بھی بہت ہے ۔۔۔۔اور

“مجھے کیوں بتا رہے ہیں یہ سب ” کپ خالی ہو چکا تھا اس لئے وہ اٹھ کر جانے لگی لیکن شاہزیب نے اس کا ہاتھ تھام کر اسے اپنے ساتھ بٹھا لیا

“دیکھوں نمی ۔۔۔۔ میری بات غور سے سنو ۔۔۔اب تم چھوٹی بچی نہیں ہو ۔۔۔شازی کی شادی تایا ابو مانگ چکے ہیں “

“ہاں پتہ ہے مجھے ۔۔۔پھر “وہ شاہزیب کی بات سمجھ نہیں پا رہی تھی

“میری بھی نیناں سے منگنی ہونے والی ہے “

“یہ بھی پتہ ہے ‘”

“ہاں تو تم بھی نیناں کی ہی ہم عمر ہو “

“جی نہیں وہ دو ماہ مجھ سے بڑی ہے “نمیرہ کی یہ وجہ احمکانہ سی لگی تھی شاہزیب کو

“واہ کیا کہنے ہیں تمہارے ۔۔۔۔بات تو ایک ہی ہے ۔۔۔ایک دو ماہ سے کیا فرق پڑتا ہے ۔۔۔۔”

“بڑی تو بڑی ہی ہوتی ہے ۔۔۔۔”

“اچھا یار میں بحث نہیں کرنا چاہتا میرا کہنے کا مطلب ہے تمہاری بھی تو کہیں منگنی ہونی چاہیے “شاہزیب کی بات پر نمی کی آنکھوں کے سامنے باسم۔کا چہرہ گھوم گیا ساتھ ہی آنکھوں سے آنسوں بہنے لگے

“اب اگر میری کہیں بات نہیں ہو پائی تو میں کیا کر سکتی ہوں “باسم کی بے رخی یاد آتے ہی وہ روتے ہوئے کہنے لگی ۔۔۔

“تو اس میں رونے کی کیا بات ہے نمی ۔ میں ہوں نا تمہارا بڑا بھائی ۔۔۔میں بس دو دن میں خرم کے ساتھ تمہاری بات طے کروا دونگا ۔۔۔کوئی مسلہ ہی نہیں ہے” ‘شاہزیب کو لگا کہ وہ اپنی بات کہیں بھی نا طے ہونے پر رو رہی ہے ۔۔۔۔اب اصل بات سے تو نمیرہ ہی واقف تھی لیکن خرم کا نام سن کر اسکی سسکی وہیں دم توڑ گئی تھی ۔۔۔۔

“خرم سے ۔۔۔۔اس کالے کوے سے ۔۔۔۔۔شاہوں بھائی کبھی بھی نہیں مجھے نہیں کرنی اس سے شادی “باسم کو بھول بھال اسے اس وقت اپنی پڑ گئ تھی

“نمیرہ میری چندہ میری بات تو سنو ۔۔۔۔۔” نمیرہ کاریاکشن دیکھ کر شاہزیب خوش آمد پر اتر آیا تھا

“نہیں شاہو بھائی وہ ذرا بھی خوبصورت نہیں ہے “

“یار بہت پیارا ہے میری نظر سے دیکھوں گی تو دنیا کا سب سے خوصورت لڑکا تمہیں وہی لگے گا قسم سے ۔۔۔۔بہت اچھی نیچر کا ۔مالک ہے تمہارا بہت خیال رکھے گا ۔۔۔یاد کرو نمی ابو تمہیں کہانیاں پڑھنے پر کتنا ڈانتے تھے ۔۔۔۔میں بھی تمہیں نہیں لا کر دیتا تھا ۔۔۔۔لیکن اپنی جان پر کھیل کر ہمیشہ اسی نے تمہیں ناول لا کر دیے ہیں ۔۔۔یاد کرو ” ۔۔۔۔شاہزیب اب بچپن سے جوانی تک کے وہ سارے احسان نمیرہ کو یاد دلانے لگا جو خرم نے اس پر کیے تھے

“اور یاد ہے وہ موٹے عبید نے جب بلا تمہاری کمر پر مارا تھا خرم نے کیا حشر کیا تھا اس کا ۔۔۔۔یاد آیا “شاہزیب نے بچپن کا ایک قصہ سنایا جو نمیرہ کے ساتھ ساتھ خرم بھی بھول چکا تھا ۔۔۔۔اگر خرم نے ایسا کوئی احسان کیا بھی تھا تو شاہزیب کی دوستی کی وجہ سے ہی کیا تھا

نمیرہ اب چپ تھی ۔۔۔باسم سے ویسے شادی ممکن نہیں تھی ۔۔۔۔۔پھر شاہزیب کے یاد دلانے پر ۔۔۔اسے خرم کے سارے احسانات یاد آنے لگے

لیکن جب اسکی رنگت پر غور کرتی تو آنسوں پھر سے بہنے لگتے

“لیکن شاہو بھائی وہ کالا بھی تو ہے ‘,

“نمی کیا ہو گیا ہے تمہیں ابو نے ہمہیں کیا یہ تعلیم دی ہے ۔۔۔۔کہ ہم کالے گورے کا فرق رکھیں ۔۔۔۔۔

یہ تو کوئی وجہ نہیں ہے انکار کی اتنا بھی کالا نہیں ہے بس ذرااا سا ڈراک رنگ ہے ۔۔۔۔بس ۔۔۔۔باقی تو ماشاللہ سے بہت پیارا ہے ۔۔۔۔۔سوچو اگر تمہاری کہیں اور شادی ہو گئ اور اس نے تمہارے ناول پڑھنے پر پابندی لگا دی تو کیا کروں گی تم اور خرم تو خود تمہیں کا لا کر دیا کرے گا ۔۔۔۔سوچوں ۔۔۔۔”شاہزیب نے اسکی کمزوری پر ہاتھ رکھا تھا نمیرہ سوچ میں پڑ گئ

“ٹھیک ہے ہے اس سے پوچھیں وہ لا کر دیا کرے گا نا مجھے ناول بعد میں مکرے گا تو نہیں “نمی کو وہ تقریبا خرم کے لئے راضی کر چکا تھا

“نہیں مکرے گا ۔۔۔۔اس بات کی گارنٹی میں لیتا ہوں ۔۔۔پکا ۔۔۔۔”شایزیب نے سینے پر ہاتھ رکھ کر کہا

“ٹھیک ہے ۔۔۔مجھے کوئی اعتراض نہیں “نمیرہ کے ساتھ دو گھنٹے کی مغز ماری کرنے کے بعد آخر کار اس نے یہ معارکہ بھی حل کر ہی لیا تھا ۔۔۔۔

اگلے روز خرم کی امی رشتہ لیکر انکے گھر پہنچ گئیں تھیں انہیں تو نمیرہ ویسے بھی بہت پسند تھی خرم کے ایک بار کہنے پر فورا سے مان۔ گئیں عاتقہ بیگم پہلے تو حیران ہوئیں کیونکہ پہلے تو انہوں نے ایسی کوئی خواہش ظاہر نہیں کی تھی پھر زمان صاحب کے بھی خرم کے والد سے دوستانہ تعلقات تھے ۔۔۔۔اس لئے آنا فانا رشتہ بھی طے ہوگیا تھا ۔۔۔۔

شاہزیب نے سکھ کا سانس لیا تھا ۔۔۔۔۔

جب یہ خبر سیفی اور جمی کو ملی تو وہ ہونقوں کی طرح شاہزیب اور خرم کی شکل دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔ لیکن خرم سے ٹریٹ سب نے رسٹورنٹ میں لی تھی ۔۔۔۔

شاہزیب کی منگنی کا دن بھی آن پہنچا تھا زمان صاحب نے باسم کی پوری فیملی کو مدعو کیا تھا لیکن نیلو فر کو ساتھ لانے کی ضد شاہزیب نے خود باسم سے کی تھی ۔۔۔۔کہ اپنی خط والی کے بغیر مت آنا ورنہ تمہیں اندر نہیں گھسنے دونگا ۔۔۔۔رامس کو دعوت نامہ زمان صاحب نے دیا تھا ۔۔۔۔۔منگنی ایک شاندار ہال میں ارینج ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔ بختیار صاحب نے اپنے سارے نامی گرامی بزنس مین دوستوں کو بلایا تھا ۔۔۔۔۔

نیناں نے وعدے کی مطابق شاہزیب کا بھیجا ہوا گفٹ پیک منگنی کے دن کی کھولا تھا

جوڑا دیکھ کر وہ حیران رہ گئ تھی اچھا خاصافینسی اور مہنگی بوتیک سے خریدا گیا جوڑا تھا۔۔۔۔پنک کلر کی بہت حسین میکسی تھی ۔۔۔ اس کی قیمت پچاس ساٹھ ہزار سے کم کی نہیں تھی ۔۔۔۔۔اور اسکے ساتھ میچنگ ہر چیز برینڈ کی تھی ۔۔۔۔۔کچھ پل تو متحیر سی رہ گئ تھی ۔۔۔شاہزیب نے تواسے کہا تھا کہا تھا کہ سب کچھ نارمل سی رینج کا ہو گا لیکن سب کچھ اسکے اسٹنڈر کے عین مطابق تھا ۔۔۔۔۔

تیار نیناں کو رامین نے ہی کیا تھا ۔۔۔۔وہ بنا میک اپ کے بہت خوبصورت تھی لیکن اب تیار ہو کر تو کسی اسپرا سے کم نہیں لگ رہی تھی پھر چہرے پر خوشی کے دلفریب رنگوں نے کچھ ایسا نکھارا تھا کہ بختیار صاحب نے بھی ایک بھر پور نظر ڈال کر ہٹا لی تھی ۔۔۔آج تو یہ ڈر لگا کہ کہیں انکی ہی نظر نیناں کو نا لگ جائے ۔۔۔۔۔

بیٹی کے سر پر بوسہ دیا ۔۔۔۔وہ مسکرا کر ان کے سینے سے لگ گئ

“پوپس آئی لو یو سومچ”

“آئی لو یو ٹو میری جان ۔۔۔خوش رہو “

بلیک کلر کے پینٹ کوٹ میں شاہزیب بھی کسی سے کم نہیں لگ رہا تھا ۔۔۔۔۔جب تیار ہو کر باہر آیاتو ۔عاتقہ بیگم نے بیٹے کی بلائیں اتاریں تھیں ۔۔۔۔

شازمہ نے اپنی منگنی کا جوڑا پہنا تھا اور نمیرہ کا جوڑاخرم کی امی نے گرے کلر کا بنوا کر دیا تھا جو خرم کے گرے کوٹ کے ساتھ میچ تھا ۔۔۔۔۔۔جب سب ہال میں پہنچے تو بختیار صاحب باہر ہی انکے استقبال کے لئے کھڑے تھے ۔۔۔۔

زمان صاحب ان سے گلے ملنے لگے لیکن وہ پیچھے ہٹ گئے بس اپنا ہاتھ ہی انکی طرف بڑھایا تھا۔۔۔۔زمان صاحب نے بھی ہاتھ ملا کر پیچھے کر لیا ۔۔۔۔بظاہر توبختیار صاحب مسکرا رہے تھے مگر خوش نہیں تھے شاہزیب کی انکی ہر ہر حرکت پر نظر تھی ۔۔۔۔۔

جب وہ شاہزیب کے پاس ملنے کے لئے بڑھے تواس نے بھی انکی جانب اپنا ہاتھ ہی بڑھایا تھا ۔۔۔۔اب بھی وہ۔ بے خوف آنکھوں سے بختیار صاحب کو دیکھ رہا تھا جیسے اپنی جیت کی نوید سنا رہا ہو ۔۔۔۔۔

بختیار صاحب باقی مہمانوں سے ۔ملنے لگے ۔۔۔۔۔

زمرد بیگم کا تو اتنا شاندار ہال دیکھ کر آنکھیں پھٹی کی پھٹی کی رہ گئیں ۔۔۔۔شازل بھی شاہزیب کی قسمت پر رشک کرتا نظر آ رہا تھا ۔۔۔۔

سامنے دلہن بنی بیٹھی نیناں کی نظریں صرف شاہزیب کا ہی تعاقب کر رہیں تھیں ۔۔۔۔اسے لگ رہا تھا کوئی حسین خواب دیکھ رہی ہے ۔۔۔۔اگر پل بھر ہی آنکھیں جھپک بھی لے گئ تو خواب ٹوٹ جائے گا ۔۔۔۔۔ کسی پتھر کے مجسمے کی طرح وہ اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔جو کسی شہزادوں کی چال چلتا ہوا اس تک پہنچ رہاتھا ۔۔۔

ایک پل دونوں کی نظروں کا تصادم ہوا تھا ۔۔۔۔۔دونوں کے دل بیک وقت ایک ہی رفتار سے دھڑکے تھے یا شاید دھڑکتے ہوئے تھم سے گئے تھے ۔۔۔۔نیناں کا سجا سنوار روپ شاہزیب کے ہوش اڑا گیا تھا ۔۔۔۔۔

اسی کی پسند میں ڈھل کر وہ اسے اور بھی حسین لگ رہی تھی ۔۔۔۔نیناں کی ساری دوستیں اسٹیج پر ہی کھڑی تھیں شازیب کو دیکھ کر

“واہ کتنا ڈیشنگ ہے نیناں کا فیانسی “رابی نے دل تھام کر کہا تھا ۔۔۔۔۔ہال کی لائٹس بند ہو چکیں تھیں ۔۔۔۔

صرف فوکس لائٹ تھیں جو شاہزیب پر تھیں اب وہ نیناں کے برابر میں بیٹھ گیا تھا

“ہائے میری مینا آج تو شاہوں کی جان لینے کا ارادہ کر کے آئی ہو قسم سے ۔۔۔”نیناں کے کان میں گھمبیر لہجے میں سرگوشی کر کے وہ سیدھا ہو کر بیٹھ گیا ۔۔۔۔اب ہال کی لائٹس واپس سے جل چکی تھیں ۔۔۔۔۔۔

نیناں کی دھڑکنیں تھمی تھیں ۔۔۔۔۔اگلے ہی پل صوفے پر دھرا نیناں کا ہاتھ شاہزیب کے ہاتھ میں تھا ۔۔۔۔۔جو سب کی نظروں سے اوجھل تھا ۔۔۔۔نینان نے برجستہ شاہزیب کی شوخ بھری نظروں کو دیکھا مگر خود پر اٹھتی اسکی وارفتگی سے دیکھتی ہوئی نظروں کی تاب نا لاتے ہوئے چھنپ کر نظریں جھکا گئیں تھیں ۔۔۔۔۔

“کیا خیال ہے رانا صاحب سے نکاح کا مطالبہ نا کر دوں ۔۔۔۔۔ منگنی میں کیا رکھا ہے یار سیدھا سیدھا نکاح کر کے ابھی رخصت کروا لیتا ہوں تمہیں “اسکے ادارے نیناں کو یک دم ہی بوکھلا کر رکھ دیتے تھے

“شاہزیب ۔۔۔۔پلیز میرے لئے کوئی نئ مشکل پیدا مت کریں ۔۔۔پتہ ہے کتنا کچھ جھلنے کے بعد یہ دن دیکھنا نصیب ہوا ہے۔۔۔ یہ نا ہو آپکی جلد بازی سب کچھ بگاڑ دیں “نیناں باپ اور پیار کے بیچ میں پھنس گئی تھی ۔۔۔مزاج میں دونوں ہی ایک جیسے تھے ۔۔۔اپنی بات کو اوپر رکھنے والے ۔۔۔۔

“اور تم جو میرے لئے مشکل پیدا کر رہی اس کا کیا ہے ۔۔۔۔اچھا جلدی سے آئی لو یو بول دو ورنہ ہاتھ نہیں چھوڑو گا تمہارا انگوٹھی کس میں پہنوں گی پھر ۔۔۔”

“۔شاہزیب یہ موقع ہے اس بات کا ۔۔۔سب لوگ اسٹیج کی طرف رسم۔کرنے آ رہے ہیں چھوڑیں میرا ہاتھ ۔۔”نیناں نروس سی اپنا ہاتھ چھڑوا رہی تھی ۔۔۔۔سامنے سے عاتقہ بیگم شازمہ نمیرہ زمرد بیگم اور زمان اور بختیار صاحب سب ہی اسٹیج کی طرف ہی بڑھ رہے تھے ۔۔۔۔

“شاہ زیب ۔۔میرا ہاتھ چھوڑیں ‘

“جلدی سے کہہ دو میری مینا ورنہ میں تو ہٹنےوالا نہیں ہوں “اب سب مسکراتے ہوئے اسٹیج کی سیڑیاں چڑھ رہے تھے

“شاہزیب آئی لو یو “نیناں بے ساختہ بولی تھی شاہزیب نے بھی اس کا ہاتھ چھوڑ دیا سامنے سے باسم اور رامس بھی نیلو فر اور رائمہ کے ساتھ اسٹیج کی طرف ہی بڑھ رہے تھے ۔۔۔۔

سب کی موجودگی میں شاہزیب نے نیناں کے ہاتھ میں اپنی خریدی ہوئی انگوٹھی پہنائی تھی ۔۔۔۔جسے دیکھ کر جہاں نیناں حیران ہوئی تھی بڑے زور کا جھٹکا تو بختیار صاحب کو بھی لگا تھا ۔۔۔۔انگوٹھی اچھی خاصی قیمتی تھی ۔۔۔۔

“بختیار صاحب نے ایک مخملی ڈبیہ نیناں کی طرف بڑھائی اس سے پہلے نیناں شاہزیب کو رنگ پہناتی ۔۔۔۔۔شاہزیب نے منع کر دیا

“ہمارے ہاں مرد سونا نہیں پہنتے ۔۔۔۔سونا مرد پر حرام ہوتا ہے ۔۔۔میری طرف یہ انگوٹھی میری نیناں کی نظر ہے ۔۔۔نیناں کے ہاتھ سے وہ رنگ لیکر شاہزیب نے اسی کے انگوٹھے میں پہنا دی کیونکہ وہ شاہزیب کی انگلی کے ناپ کی تھی

“ہاں ہاں یہ تو ہمارے خاندان میں کوئی بھی مرد نہیں پہنتا ۔۔۔۔میرا شاہزیب تو رسموں کے پاسداری کرنا بہت ہی اچھے جانتا ہے “…زمرد بیگم نے اپنے نمبر بڑھانے چاہے ۔۔۔۔ بختیار صاحب کو لگا کہ وہ ان کا کوئی بھی احسان نہیں لینا چاہتا ۔۔۔۔اود یہ بات سچ بھی تھی ۔۔۔۔

منگنی کی رسم کے بعد شاہزیب اٹھ کر باسم اور رامس سے ملنے لگا ۔۔۔۔اور عاصم نیناں کے پاس بیٹھ گیا

“آپی بہت پیاری لگ رہیں ہیں آپ بلکل گڑھا جیسی “

“تھنک یو عاصم “نیناں نے مسکرا کر کہا

“مجھ سے دوستی کریں گئ ۔۔۔۔’عاصم نے اسکی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا

“ہاں کیوں نہیں” نیناں نے بھی عاصم سے ملایا ۔۔۔۔

نمیرہ اور شازمہ بھی نیناں کے پاس بیٹھ کر باتیں کرنے لگیں ۔۔۔۔

شاہزیب دوبارہ نیناں کے پاس نہیں بیٹھا تھا باسم کے ساتھ ہی اسٹیج سے نیچے اتر گیا کھانے کے دوران بھی خرم سیفی اور جمی کے ساتھ ہی رہا ۔۔۔۔

“دیکھ تو کیا لمبا ہاتھ مارا کے اپنے شازیب نے کیا ٹھاٹ ہیں اس سیٹھ کے ۔۔۔شازل تو نے تو ڈیفنس میں رہ کر بھی خاک ہی چھانی ہے ۔۔۔اور وہ ناظمہ آباد کا۔ چھوکرہ دیکھ کہاں سے کہاں پہنچ گیا ہے ۔۔۔۔”زمرد بیگم کے سینے پر سانپ لوٹ رہے تھے ٹھنڈی آہ بھر کر حسرت سے کبھی شاہزیب کو دیکھ رہیں تھیں کبھی نیناں کے دھکمتے روپ کو

“ہک ہا ۔۔۔۔ فرش سے عرش پر پہنچ جانا سنا تو تھا لیکن آج اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کیا قسمت کا دھنی ہے یہ شاہزیب دولت تو جو ملی سو

ملی لڑکی تو دیکھ ہیرا ہے ہیرا شازمہ تو اسکے آگے پانی بھارتی ہوئی نظر آئے ۔۔۔۔۔” دل تو شازل کا بھی جل بھون سا گیا تھا ہمیشہ شاہزیب پر یہ جتاتا رہا تھا کہ پورے خاندان میں بس وہ ہی ڈیفنس میں رہتا ہے لیکن اب تو جہاں اسے شاہزیب نظر آ رہا تھا اپنا آپ کے سامنے ہیج سا لگنے لگا تھا ۔۔۔۔ایک پل میں کسی انسان کی قدرو قیمت پیسہ کیسے بڑھ دیتا ہے ۔۔۔ یہ شازل شاہزیب کو دیکھ کر سوچ رہا تھا ۔۔۔۔

نمیرا کی نظریں کبھی باسم پر تھی تو کبھی اسکے ہمراہ بیٹھی۔ بھولی بھالی خوصورت سی نیلو فر پر تھیں باسم کے چہرے پر پھیلی مسکراہٹ نمیرہ کی جان جلا رہی تھی ۔۔۔۔پھر نا جانے اسے کیا سوجی کے پورے ہال میں خرم کو ڈھونڈنے لگی وہ شاہزیب اور سیفی اور جمی کے ساتھ بیٹھا مزے سے کھانے میں مصروف تھا ۔۔۔شاید اس نے ایک بار بھی نمیرہ کو دیکھنے کی کوشش بھی نہیں کی تھی ۔۔۔۔

“کیسا بےمروت ہے یہ کالا کوا ۔۔۔۔یہ نہیں کہ اگر اتنی خوبصورت لڑکی مل گئ ہے تو اسکی قدر کرے ۔۔۔۔اسکی طرف دیکھے ۔۔۔نہیں بس کھانے میں مصروف ہے پیٹو کہیں کا “۔۔۔۔شاید ٹیبل پر کوک کم تھیں اس لئے خرم کوک لینے کے لئے اٹھ کر ادھر ادھر کوک دیکھنے لگا اتفاق تھا کہ جہاں نمیرہ کھڑی تھی کوک بھی وہیں پڑیں تھیں خرم اپنی دھن میں چلتا ہوا نمیرہ کی جانب بڑھ رہا تھا نمیرہ کے دل میں ایک خوشگوار سا احساس جاگا

“شاید میرے پاس آ کر میری تعریف کرے گا ۔۔۔پھر وہی محبت کا اظہار وغیرہ ۔۔۔ضرور اس کی بہت پہلے سے ہی مجھ پر نظر تھی شاہوں بھائی سے بھی اسی نے منتیں کیں ہوں ۔ گئیں جبھی وہ اسکی اتنی تعریفیں کر رہے تھے ۔۔یہ سوچ کر

نمیرہ کچھ اترا کر کھڑی ہو گئ خرم اسکے پاس پڑی کوک اٹھا کر جانے لگا تو نمیرہ حیرت سے پاگل ہونے کو تھی

“خرم”بے اختیار ہی اسے پکار بیٹھی وہ بھی یک دم ہی پلٹا تھا اسے یہ تک معلوم نہیں تھا کہ وہاں

نمیرہ کھڑی بھی ہے کہ نہیں

“تم یہاں کیا کر رہی ہو ۔۔۔۔جاوں جا کر لیڈیز میں بیٹھوں یہاں زیادہ تر مرد ہی بیٹھے ہیں ” خرم کی بات پر وہ مزید تلملائی تھی لیکن ضبط کر کے بولی اسوقت تووہ کچھ اور ہی سوچے بیٹھی تھی

“مجھے کسی سے ملوانا ہے تمہیں ” نمیرہ نے برجستہ کہا خرم نے اسکی طرف دیکھ کر پوچھا

” وہ کیوں “

“اس لئے کہ ۔۔۔اب تم میرے منگتر ہو “وہ نظریں بدل کر بولی خرم نے ایک نظر اسکے اترائے ہوئے چہرے پر ڈالی

“کس سے۔ ملوانا ہے ۔۔۔اب میں اچھا لگوں گا تمہاری درجن بھر سہلیوں کے بیچ میں کھڑا اپنا تعارف کرواتا ہوا ۔۔۔۔”خرم تعجب سے اسے دیکھ رہا تھا

” میرے ساتھ چل رہے ہو یا نہیں “خرم کی وضاحت نمیرہ کو ہضم نہیں ہو رہی تھی

“نہیں “خرم یہ کہہ کر پلٹنے لگا تھا جب نمیرہ نے کوک اسکے ہاتھ سے چھین کر واپس ٹیبل پر رکھ دی ۔۔۔۔

“اب چلو میرے ساتھ ۔۔۔۔”خرم کا ہاتھ تھامے وہ اس طرف چلنے لگی جہاں باسم نیلو فر اور رامس اور رائمہ کے ساتھ بیٹھا تھا ۔۔۔۔

“نمی کیا پاگل پن ہے یہ ۔۔۔۔ہاتھ چھوڑو میرا میں ویسے بھی تمہارے ساتھ چل سکتا ہوں ۔۔۔۔” لیکن نمیرہ سیدھا باسم کے ٹیبل پر جا کر رکی تھی۔۔نمیرہ کو دیکھ کر ۔ایک پل تو باسم کا رنگ ہی اڑ گیا تھا ۔۔۔۔۔وہ جھٹ سے کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔

اسکے ساتھ خرم کو دیکھ کر بھی کچھ نہیں سمجھا تھا لیکن چونکہ خرم جو پہلے سے باسم کو جانتا تھا اس لئے اس سے ہاتھ ملانے لگا

“ہی از مائے فیانسی “نمیرہ نے باسم کی جانب دیکھ کر کہا ۔۔۔۔باسم نے حیرت سے اسے دیکھا پھر مسکرا کر خرم سے بولا

“مبارک ہو تمہیں “

تم ان سے ملوانے لائی ہو مجھے یہاں باسم سے ۔۔۔۔”

خرم نے تاسف اور حیرت سے نمیرہ کو دیکھا تھا

“ابو کے بہت ہونہار شاگرد ہیں یہ ۔۔۔۔عاصم کے ٹیچر بھی ہیں ۔۔۔۔”نمیرہ نے وضاحت دی جو بے بے وقعت سی تھی

“میں اچھی طرح سے جانتا ہوں اسے ۔۔۔۔ بہت بار مل بھی چکا ہوں ۔۔۔۔عجیب ہو نمی تم بھی ۔۔۔۔لاسٹ ٹائم تمہارے ہی گھر پر ہم سب نے ملکر کھانا کھایا تھا ۔۔۔۔”نمیرہ کو فوراسے اپنی غلطی کا احساس ہوا تھا

“نہیں ان سے کیوں ۔ملواں گی۔۔۔۔اتنے بھی خاص نہیں ہیں یہ ۔۔۔ مجھے تو اپنی دوستوں سے ہی ملوانا تھاوہ پیچھے ٹیبل پر بیٹھیں ہیں یہ بیچ میں آ گئے تو سوچا تعارف کروا دوں ۔۔۔۔”نمیرہ نے بروقت بات بدلی

“ہاں تو اچھا کیا آپ نے ملنا چاہیے ایک دوسرے سے ان سے ملیے یہ فری ہیں ۔۔۔۔اور فری یہ سر زمان کی بیٹی ہیں نمیرہ زمان “باسم نے بات کو خوش اسلوبی سے سنبھالتے ہوئے پہلے نیلوفر اور پھر رائمہ سے نمیرہ کا تعارف کروایا ۔۔۔۔ورنہ اس لڑکی کی حماقت سے نا جانے خرم کیا سوچنے لگتا ۔۔۔۔

“چلو اب کون سی دوستیں ہیں تمہاری ملواؤں جلدی سے تا کہ میں واپس جاؤں ۔۔۔۔” خرم عجلت سے بولا دھیان اس کا شاہزیب اور جمی کی طرف ہی لگا ہوا تھا

نمیرہ وہاں سے ہٹ کر خرم کے ساتھ اسی ٹیبل کے سامنے بیٹھیں اپنی دوستوں کے پاس چلی گئ باسم نے سکھ کا سانس لیا تھا ۔۔۔۔۔

کھانے کے بعد تقریبا سب لوگ جا چکے تھے ۔۔۔۔بس بختیار صاحب اور نینان اور چند لوگ ہی وہاں موجود تھے ۔۔۔۔

سامنے ہال کے مالک کسی بات پر بختیار صاحب سے بحث کر رہا تھا نیناں بھی اٹھ کر انکے پاس آ گئ

“بختیار صاحبب میں آپ سے یہ پیسے نہیں لے سکتا ۔۔۔۔اس ہال کا بل پے ہو چکا ہے اور جو چیک آپ نے ایڈوانس دیا تھاوہ بھی واپس لے لیں ۔۔۔۔کیونکہ اس کی فل پیمٹ ہو چکی ہے “وہ شخص ایک چیک انہیں واپس دتے ہوئے بول رہا تھا

“لیکن جب یہ ہال میں نے بک کروایا تھا کھانے اور ہر چیز کا ارینج میں نے کیا تھا تو کوئی کیسے پے کر سکتا ہے ۔۔۔کس نے کیا ہے یہ سب ۔۔۔۔”بختیار صاحب حیران پریشان کھڑے تھے

“وہ ہمہیں بتانے سے منع کیا گیا ہے ۔۔۔۔ نہیں بتا سکتے ۔۔۔۔”

“واٹ ڈو یو مین کہ نہیں بتا سکتے ۔۔۔۔”بختیار صاحب کڑے تیوروں سے بولے

“دیکھیں بل پے کرنے والے نے منع کیا ہے بتانے سے ۔۔۔۔

“ٹھیک ہے مرضی ہے آپ لوگوں کی میرے لئے یہ سب معلوم کرنا مشکل نہیں ہے ایسا کون سا نواب کا بچہ پیدا ہو گیا ہے جو رانا بختیار کی اکلوتی بیٹی کی منگنی کے سارے ارنجمنٹ کا بل بھر سکے “بختیار صاحب کا وہ گھمنڈ ہنوز قائم تھا ۔۔۔۔۔نیناں کو سامنے کھڑا دیکھ کر بختیار صاحب خاموش ہو گئے

“نیناں تم جا کر گاڑی میں بیٹھوں ۔۔۔۔میں آ رہا ہوں “

نیناں خاموشی سے باہر کی جانب بڑھ گئ ۔۔۔۔سوچ میں تو وہ بھی پڑ گئ تھی

دو مہنے اسی طرح خاموشی سے گزر گئے تھے ۔۔۔۔۔شاہزیب اب نیناں سے کبھی کبھی ہی بات کرتا تھا ۔۔۔۔۔۔نیناں وجہ پوچھتی بھی تو وہ یہ کہہ کر ٹال جاتا کہ پیپر کی تیاریوں میں مصروف ہے۔۔۔۔لیکن پیپر ہونے کے بعد بھی شاہزیب کی وہی روٹین تھی ۔۔۔۔۔بیچ میں ایک بار بس اسکی کال آئی یہ بتانے کے لئے کے وہ پندرہ دن کے لئے اپنی کمپنی کے کام کے سلسلے میں اسلام آباد جا رہا ہے ۔۔۔۔۔وہ وہاں بہت بزی رہے گا اس لئے بات نہیں کر پائے گا ۔۔۔۔۔

شاہزیب کے بدلے ہوئے رویے کی وجہ وہ سمجھ نہیں پائی تھی ۔۔۔۔۔

اول تو وہ اس سے بات ہی نہیں کرتا تھا اور اگر کبھی کر بھی لیتا تو بس پانچ منٹ بس حال چال پوچھ کر یہ کہہ کر فون بند کر دیتا کہ صبح آفس سے لیٹ ہو جاؤں گا ۔۔۔۔۔مجھے نیند آ رہی ہے وغیرہ “

نیناں اب باقاعدگی سے کوکنگ کرنے لگی تھی رحمت بی بی سے پوچھ کر سب سے پہلے اس نے بریانی بنانی ہی سیکھی تھی ۔۔۔۔ عاتقہ بیگم شازمہ اور نمیرہ سے بھی وہ تقریبا روز ہی بات کرتی تھی ۔۔۔۔۔شاہزیب کی پسند کے بارے میں پوچھتی رہتی تھی ۔۔۔۔۔۔

ایک دن لاونج میں بیٹھی ایل ای ڈی پر چینل سرچ کرتے ہوئے نیناں کی ریموڈ پر چلتی ہوئی محترک انگلیاں رکی تھیں ۔۔۔۔۔جو کچھ وہ اسکی آنکھیں دیکھ رہیں تھیں نا قابل فراموش تھا ۔۔۔۔۔۔۔ بنا آنکھ جھپکائے وہ دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔بیس منٹ کے بعد نیناں کی آنکھوں سے آنسوں جاری ہونے لگے ۔۔۔۔۔۔۔۔دل جیسے تھمنے لگا تھا ۔۔۔۔۔۔

“شاہزیب۔ “وہ زیز لب پکار کر اپنے ہونٹ کاٹنے لگی