One Wheeling by Umme Hani NovelR50409 One Wheeling Episode 40 (Last Episode Part 1)
Rate this Novel
One Wheeling Episode 40 (Last Episode Part 1)
One Wheeling by Umme Hani
باسم نے نیلوفر کے لئے گجرے اور باقی پھولوں کا زیور لیا ۔۔۔لیکن اس دوکاندار کے پاس اور گجرے نہیں تھے ۔۔۔۔
“بھائی دو اور بھی چاہیے ۔۔۔۔ “
“باقی تو ختم ہو چکے ہیں ۔۔۔۔ ہاں وہ سامنے روڈ کراس کر کے مل جائیں گئے ” دوکان نے مین روڈ کی دوسری جانب اشارہ کیا ۔۔۔۔
“چھوڑو بھی باسم ۔۔۔۔۔ لے تو لیا ہے سب کچھ “رامس نے کوفت کا اظہار کیا
” رباب برا مان جائے گی پھر کبھی کبھی تو فرمائش کرتی ہے تم یہ پکڑو میں بس دو منٹ میں آیا ۔۔۔۔۔”باسم نے ہاتھ
میں پکڑا شوہر رامس کے ہاتھ میں پکڑایا ۔۔۔اور خود مین روڈ کراس کر کے سامنے سے گجرے خریدنے لگا ۔۔۔۔۔
******…….
شاہزیب نے جب یہ سنا کہ قیوم صابر کے ساتھ وہ سری لنکا جا رہا ہے خوشی کے مارے بائیک کی اسپیڈ تیز ہوئی ۔۔۔۔عاصم نے چلا کر کہا
“شاہو بھائی آگے دیکھیں “
شاہزیب نے سامنے دیکھنا شروع کر دیا مگر جوش و ولولہ ایسا تھا کہ ۔۔۔۔ خود پر کنٹرول نہیں کر پایا ۔۔۔چند مہنوں سے وہ بائیک بہت تیز اسپیڈ سے چلانے لگا تھا ون ویلنگ میں خود کو منوانے کے لئے دن رات بائیک مختلف طریقوں اور اسپیڈ سے چلا چلا کر اب اس سے بائیک نارمل اسپیڈ میں چلانی مشکل ہوتی تھی ۔۔۔۔۔ فل اسپیڈ پر بائیک دوڑاتے ہوئے اسے احساس تک نہیں ہوتا تھا کہ وہ خالی گراؤنڈ میں نہیں ہے ۔۔۔نا ہی سڑکیں ویران ہیں ۔۔۔۔اب بھی ایسا ہی ہوا تھا بے اختیار ہی خوشی کے مارے شاہزیب کی بائیک کی اسپیڈ بڑھی تھیں چند لمحوں کے لئے وہ بھول گیا تھا کہ وہ مین روڈ پر ہے ۔۔۔۔ یہ بھی ذہن سے محور ہو گیا کہ پیچھے عاصم بھی بیٹھا ہے ۔۔۔۔ یہ بھی کہ سڑک پر اس وقت ٹریفک رواں دواں ہے ۔۔۔۔۔بس یاد تھا تو صرف یہ کہ اب وہ بختیار صاحب کو شکست دیدے گا ۔۔۔۔۔
عاصم بلکل اس بات کے لئے تیار نہیں تھا کہ شاہزیب ویل اٹھانے والا ہے ۔۔۔۔ پھر ایسا اتفاق پہلے کبھی ہوا بھی نہیں تھا کہ عاصم کے ہوتے ہوئے شاہزیب نے بائیک کو ون ویل پر اٹھایا ہو ۔۔۔۔یہ سب بے اختیار سا عمل تھا کیونکہ وہ عادی ہو چکا تھا مسلسل پے در پے ایسے خطرنا کھیل کھلنے کے لئے خود کو تیار کرنے کے چکر میں بائیک کو اب نارمل چلانا بھول بیٹھا تھا ۔۔۔۔بس چند لمحے ہی تھے ۔۔۔۔
بائیک ون ویل پر اٹھی ۔۔۔۔ عاصم کی چیخیں نکل گئیں ۔۔۔
“شاہوں بھائی” اس نے کس کے شاہزیب کی کمر پکڑی تھی ۔۔۔۔۔شاہزیب اپنے ٹرانس سے نکلا تھا ۔۔۔ فورا سے پلٹ کر ایک ہاتھ پیچھے کر کے اس نے عاصم کو گرنے سے بچایا تھا اسی اثنا میں سامنے ریڈ لائٹ کے اشارے کو فراموش کرتے ہوئے سڑک پر گزرتے ہوئے ایک مسافر سے ٹکرا گیا تھا ۔۔۔۔مسافر بڑی زور سے سامنے فوتھ پاتھ پر گرا تھا ۔۔۔۔ شاہزیب کی بائیک اب اسکے کنٹرول سے باہر ہو چکی تھی ۔۔۔۔ بہت بری طرح سامنے آنے والے ٹرک سے ٹکرا گئ تھی ۔۔۔۔۔
******…….
خرم نے نمیرہ کو رنگ پہنائی ۔۔۔۔ اب وہ بھی مسکرا رہی تھی رنگ بہت خوبصورت تھی دوسرا تحفہ ۔۔۔۔۔ چار نئے ناول کا تھا ۔۔۔۔جس سے نمیرہ کی بانچھیں کھل گئیں تھیں
“خرم کتنے اچھے ہو تم ۔۔۔۔ کتنا خیال ہے تمہیں میرا “
ناول ہاتھ میں پکڑے نمیرہ کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا ۔خرم اسے مسکراتے ہوئے دیکھ رہا تھا ۔۔۔کمرے کا دروازہ نوک ہوا ۔۔۔۔۔
“تم اب یہ ناول دراز میں رکھ دو میں دیکھتا ہوں کون ہے ۔۔۔۔”خرم بیڈ سے کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔دروازہ کھولنے پر سامنے اسکی امی نہایت پریشانی کے عالم میں کھڑی تھیں
“خرم ذرا باہر آ کر میری بات سنو ۔۔۔۔۔ ” خرم کمرے سے باہر نکل گیا اور کمرے کا دروازہ بھی بند کر دیا سامنے۔ چھوٹے سے لاونج میں سیفی اور جمی پریشان کھڑے تھے خرم کس دیکھ کر جمی اس کے پاس آ کر بولا
” خرم شاہزیب کا روڈ ایکسڈنٹ ہو گیا ہے ۔۔۔چل جلدی کر ہاسپٹل جانا ہے ۔۔۔”
“ایکسڈینٹ ۔۔۔او گاڑ یہ لڑکا پتہ نہیں کب سدھرے گا ۔۔۔۔ میں بس دو منٹ میں کپڑے بدل کر آتا ہوں”خرم نے جھنجلاہٹ سے کہا پہلے بھی کئ بار اس کا روڈ ایکسڈینٹ ہو چکا تھا خاص کر جب اس نے نئ نئ بائیک چلانی شروع کی تھی ۔۔۔۔
“۔”ابے چھوڑ نا کپڑے یار۔ ایسے ہی چل ۔۔۔۔”جمی بہت بے چین سا تھا ۔۔۔۔
“اچھا ٹھیک ہے ۔۔۔۔ “خرم نے اوپر سے شیروانی کا لونگ کورٹ اتارا ۔۔۔۔اور کرسی کی پشت پر رکھ دیا
٫امی آپ نمی سے کو مت بتائیے گا ۔۔۔ایسے ہی پریشان ہو جائے گی ۔۔۔۔”خرم اپنی والدہ سے یہ کہہ کر جمی اور سیفی کے ساتھ ہاسپٹل پہنچ گیا تھا جہان زمان صاحب شازل اور جیدی صاحب اور خرم کے والد بھی وہاں پہنچ چکے تھے ۔۔ابھی سب لوگ زمان صاحب کے گھر ہی موجود تھے جب شاہزیب اور عاصم زمان صاحب سے اجازت لیکر باسم کی مہندی پر گئے تھے ۔۔۔۔بس بیس منٹ بعد ہی کال آ گئی تھی کہ انکے بیٹے روڈ ایکسڈنٹ سے زخمی ہو چکے ہیں اور ہاسپٹل میں ہیں ۔۔۔۔
*****……
نیناں اپنے کمرے میں تھی۔۔۔جب کمرے کا دروازہ ناک ہوا تھا ۔۔۔۔نیناں چینج کر کے بیڈ پر ہی بیٹھی تھی سوچ رہی تھی کہ بختیار صاحب سے کیسے بات کرے
“کون ہے “نیناں نے کہااور ساتھ ہی دروازہ بھی کھول دیا ۔۔۔۔۔سامنے بختیار صاحب کھڑے تھے مگر بہت پریشانی کے عالم میں ۔۔۔۔
“نیناں چلو میرے ساتھ ” سرخ آنکھوں میں پشیمانی تھی
“کہاں پوپس “نیناں کے استفسار پر وہ اپنے آنسوں ضبط کیے ہوئے تھے
“ہاسپٹل ” بامشکل حلق سے آواز نکلی تھی
“ہاسپٹل کیوں کون ہے ہاسپٹل میں “
“شاہزیب اور عاصم کا ایکسڈینٹ ہو گیا ہے ۔۔۔۔اب جلدی چلو “بختیار صاحب کی اطلاع سے نیناں کے ہوش اڑے تھے
“عاصم ۔۔۔شاہزیب۔۔۔۔ایکسڈنٹ ۔۔۔۔پوپس کیسے ہو گیا ؟”
“چلو نیناں “بختیار صاحب نیناں کا ہاتھ تھام کر اسے باہر پورج تک لے گئے ہاسپٹل تک کا راستہ نیناں کے لئے کسی عذاب سے کم نہیں تھا۔۔۔۔ہاسپٹل پہنچ کر گاڑی ٹھیک سے کھڑی۔ بھی نہیں ہوئی تھی جب نیناں نے بیک ڈور کھولا اور فورا سے اتر کر ہاسپٹل کے اندر بھاگی تھی ۔۔۔۔ںختیار صاحب بھی نیچے اتر کر نیناں کے پیچھے بھاگنے لگے مگر وہ اندھا دھن بھاگ رہی تھی آئی سی یو کے سامنے زمان صاحب بے جان سے کرسی پر بیٹھے تھے ۔۔۔۔۔ خرم سیفی جمی بے تحاشہ رو رہے تھے ۔۔۔۔۔جیدی صاحب زمان صاحب کے پاس گم صم بیٹھے تھے ۔۔۔۔شازل بھی آنسوں بہا رہا تھا ۔۔۔۔ نیناں ہونقوں کی طرح غائب دماغی سے سب کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔دل تھا کہ لگتا تھا آج پھٹ ہی جائے گا ۔۔۔۔ وہ سیدھا آئی سی یو کی طرف بھاگی تھی
خرم وہیں کھڑا تھا اس نے نیناں کو بازو سے پکڑ لیا
“
“بھابی اندر مت جائیں “
“کیوں نا جاؤں ۔۔۔۔میرا شاہزیب ہے اندر ۔۔۔۔ چوٹیں لگیں ہوں گئی انہیں ۔۔۔۔ کب ہوتی ہے انہیں اپنی پروا ۔۔۔۔۔ عاصم کیسا ہے اب ؟”نیناں ہر چیز سے بے خبر تھی
خرم نیناں کو دیکھ کر رونے لگا ۔۔۔۔
” شاہزیب ۔۔۔اور عاصم اب اس دنیا میں نہیں رہے” “ایک آسمان تھا جو نیناں کے سر پر گرا تھا ۔۔۔۔زمین اور آسمان دونوں یکلخت ہی چکر کھا گئے تھے
خرم بے تحاشہ رونے لگا تھا نیناں فوراسے پیچھے ہٹ گئ
“جھوٹ ہے ۔۔۔۔جھوٹ ہے یہ سب ۔۔۔۔”بختیار صاحب اب روتے ہوئے نیناں کے پاس آ کر اسے سنبھالنے لگے
“جھوٹ ہے یہ سب ۔۔۔۔شاہزیب کو کچھ نہیں ہو سکتا ۔۔۔۔ پوپس ۔۔۔پوپس یہ جھوٹ ہے نا ۔۔۔جھوث ہے نا یہ سب ۔۔۔میں نے خود اسے بہت خطرناک خطرناک کھیل کھلتے دیکھا ہے ۔۔۔کئ بار وہ بائیک سے گرا ہے ۔۔۔۔لیکن اسے کبھی کچھ ہوا نہیں تھا ۔۔۔۔۔۔نہیں ۔۔۔نہیں ۔۔۔مر کیسے سکتا ہے ۔۔۔چوٹیں لگیں ہوں گی اسے ۔۔۔میں دیکھتی ہوں جا کے”نیناں ذہی طور پر یہ سب قبول ہی نہیں کر پا رہی تھی ۔۔۔۔ بختیار صاحب سے خود کو چھڑوانے لگی تھی چیخنے چلانے لگی تھی
“پوپس مجھے چھوڑیں وہ ٹھیک ہے ۔۔۔۔ مجھے اس سے ملنا ہے ۔۔۔مجھے اسے دیکھنا ہے ۔۔۔جھوٹ ۔”
بختیار صاحب کی گرفت سے وہ نکل کر آئی سی یو میں چلی گئ ۔۔۔۔
بختیار صاحب اس کے پیچھے بھاگے تھے ۔۔۔۔سامنے ہی دو وجود اسٹیچرز پر سفید چادروں میں لپٹے پڑے تھے ۔۔۔۔۔ چہرے تک چھپے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔ نیناں کے قدم یہ دیکھ کر ہی جم گئے تھے ۔۔۔۔۔۔سفید چادروں میں بھی جگہ جگہ خون کے دھبے تھے ۔۔۔
نیناں مرے مرے قدم بڑھا کر ان تک پہنچی تھی ۔۔۔۔۔ آنسوں آنکھوں میں ٹہرے ہوئے تھے ۔۔۔۔ رنگت زرد سی ہو چکی تھی ۔۔۔۔مانو کسی نے جسم کا خون کی نچوڑ ڈالا ہو ۔۔۔ دل سوکھے پتے کی طرح لرز رہا تھا ۔۔۔۔
دونوں ہاتھوں سے سے دونوں کی چادریں ہٹائیں تھیں ۔۔۔۔ایک چیخ کے ساتھ اس نے چادریں چھوڑیں تھیں ۔۔۔۔۔ دونوں ہاتھوں اپنے چہرے پر رکھ کر کئ قدم وہ پیچھے ہٹی تھی ۔۔۔۔ اسے ذیادہ ان کے مسخ ہوئے چہرے دیکھنے کی نیناں میں تاب نہیں تھی
“شاہزیب ۔۔۔۔عاصم ۔۔۔۔”یہ کہتے ہی وہ وہیں گر کے بے ہوش ہو چکی تھی
بختیار صاحب نے فورا سے نیناں کو زمین سے اٹھانے کی کوشش کی ڈاکٹر کو آوازیں دینے لگے
******……
عروہ بیگم ہر بات سے انجان دل جلائے بولے جا رہیں تھیں
“یہ لڑکا کبھی باز نہیں آ سکتا لگا بیٹھا ہو گا اپنے چوٹ لگوا کر اور عاصم پتہ نہیں عاصم کے کہاں چوٹ لگی ہو گی ۔۔۔۔
اسے تو ویسے ہی چوٹ لگ جائے تو دو گھنٹے چپ نہیں کرتا ۔۔۔اب تو رو رو کے میری جان کھائے گا ۔۔۔۔”عاتقہ بیگم اپنا دل جلائے بول رہی۔شازمہ بھی پریشان بیٹھی تھی عاتقہ بیگم سمجھ رہی۔ تھیں کہ ہر بار کی طرح معمولی سی چوٹیں لگ گی ہوں گی۔ یہ نہیں معلوم تھا کہ وہ کون سی گہری چوٹ اپنے ماں باپ کو دے چکے ہیں ۔۔۔۔
زمان صاحب جیدی صاحب اور شازل با مشکل خود پر ضبط کے بندھن باندھے گھر پہنچے تھے شاہزیب اور عاصم کی ڈیڈ باڈی گھر لانے کے قابل نہیں تھیں ۔۔۔۔بائیک چلتی ہوئی پوری قوت سے سامنے آتے ٹرک سے ٹکرائی تھی ۔۔۔۔پل میں بائیک گرتے ہی ٹرک کے نیچے آ چکی تھیں روکتے روکتے بھی ٹرک کا ٹائر دونوں بھائیوں کو کچل چکا تھا ۔۔۔۔۔ انکے چہرے اسقدر مسخ ہو چکے تھے کہ دیکھ کر پہچاننا مشکل تھا ۔۔۔۔۔
سیفی اور جمی بھی شاہزیب کے گھر ہی گئے تھے جاتے ہوئے سیفی نے خرم سے کو مخاطب کیا
“خرم نمی کا شاہزیب سے بہت زیادہ پیار تھا ۔۔۔۔اسے سنبھالنا سب سے ذیادہ مشکل ہے ۔۔۔۔۔جاوں لے آؤں اسے “نا تو سیفی کے آنسوں رک رہے تھے نا خرم کے ۔۔۔۔اثبات میں سر ہلاتا ہوا وہ سامنے اپنے گھر کا دروازہ بجانے لگا
اسکی والدہ نے دروازہ کھولا نہیں وہ فون پر بتا چکا تھا لیکن نمی کو بتانے کا حوصلہ ان میں بھی نہیں تھا ۔۔پہلے تو خرم اپنی ماں کے گلے لگ کر دھاڑتے مار کر رویا تھا بچپن سے اب تک کا ساتھ تھا شاہزیب سے ۔۔۔۔ ہر روز کئ کئی بار ملتے تھے ۔۔۔۔ ایک دوسرے سے چھین کر کھاتے تھے ۔۔۔۔۔ کسی ایک کو بھی کوئی تکلیف ہوتی تو سب اکھٹے ہو جاتے تھے اور شاہوں میں تو جان بستی تھی سب کی
“امی ۔۔۔۔امی میرا دوست چلا گیا ۔۔۔۔چھوڑ گیا مجھے اکیلا ۔۔۔۔ کیوں چلا گیا وہ ۔۔۔کیسے چلا گیا ۔۔۔۔ اتنی جلدی کیسے جا سکتا ہے وہ امی ۔۔اسکے بغیر جینے کی عادت ہی کب ہے ہمہیں ۔۔۔امی یہ کیا ہو گیا ۔۔۔۔”
“چپ ہو جاؤں خرم ۔۔۔۔روں مت ۔۔۔۔سنبھالو خود کو تم یوں روں گئے تو نمی کو کون سنبھالے گا ” اسکی امی بھی رو رہیں تھیں ۔۔۔خرم نے اپنے آنسوں صاف کیے اپنی ماں سے پیچھے ہٹ گیا ۔۔۔۔ مگر آنسوں پر ضبط باندھے نہیں بندھ رہا تھا ۔۔۔۔بامشکل خود کو سنبھال کر وہ کمرے میں داخل ہو تھا نمی اب بھی دلہن بنی تکیے سے ٹیک لگائے بیٹھے بیٹھے سو رہی تھی شاید خرم کا انتظار کرتے کرتے اسکی آنکھ لگ گئی تھی۔۔۔۔خرم نے اسکے سجے سنوارے روپ کو دیکھا تو دل مزید کٹ کے رہ گیا ۔۔۔۔ با مشکل اسکے قریب پہنچا ہاتھ سے اسکا کندھا ہلا کر اسے جگایا تھا شاید وہ کچی نیند میں تھی اس لئے ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی موندی موندی آنکھوں سے خرم کو دیکھنے لگی پھر جمائی ہاتھ سے روکتی ہوئی ٹھیک سے بیٹھ گئ
“اب آئے ہو تم ۔۔۔کتنے برے ہو تم خرم ۔۔۔۔کب سے تمہاراانتظار کر رہی ہوں ۔۔۔مجھے معلوم تھا تم ایسا ہی کروں گئے میرے ساتھ مجھے چھوڑ کر سیفی اور جمی کے ساتھ چلے جایا کروں گئے ۔۔۔لیکن یہ نہیں پتہ تھا کہ آج بھی ۔۔۔آج بھی اپنی نئ نویلی دلہن کو چھوڑ کر یوں جاؤں گئے ۔میں نے سوچا بھی نہیں تھا دیکھ لینا صبح ہی شاہوں بھائی سے تمہاری شکایت لگاؤں گی ۔۔۔”نمیرہ اپنی ہی دھن میں بولے جا رہی تھی
“نمیرہ بدلو اپنا لباس اور منہ دھو کر آؤں اپنا ۔۔۔”خرم کو نا چاہتے ہوئے بھی اپنا لہجہ سخت کرنا پڑا نمیرہ چپ سی ہو گئ خرم کو اس قدر سنجیدہ دیکھ کر خفا خفا سی اپنا لہنگا اٹھائے الماری سے ایک سادہ ساسوٹ نکالا اور واش روم میں گھس گئ خرم کی آنکھوں سے آنسوں رواں تھے جب نمیرہ باہر ایک تو خرم کی سرخ آنکھوں کو دیکھ کر پریشان سی ہو گی
“خرم کیا بات ہے ۔۔۔۔ “
“ادھر بیٹھوں میرے پاس” ۔۔۔۔ خرم نے اس کا بازو پکڑ کر اسے اپنے پاس بیٹھا لیا
“نمی ۔۔۔۔ تم بہت بہادر ہو ۔۔۔پتہ ہے تمہیں ۔۔۔۔بہت بہادر ہو ۔۔۔ہو نا “خرم کے آنسوں مسلسل بہہ رہے تھے آواز بھی بھرائی ہوئی تھی ۔۔۔۔ نمیرہ کو بے چینی سی ہونے لگی
“خرم کیوں رو رہے ہو “
“نمی ۔۔۔شا ۔۔۔۔ہو ۔۔۔۔۔” خرم پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا تھا نمیرہ نے دل پر رکھا تھا
“کیا ہو ہے شاہوں بھائی کو ۔۔۔خرم بولو نا “نمیرہ کے پاؤں کے نیچے سے زمین کھسکی تھی
“ایکسڈینٹ ہو گیا ہے اس کا ” وہ روتے ہوئے بولا
“ہاں تو یوں کہوں نا تم نے تو میری جان ہی نکال دی تھی ۔۔۔”نمیرہ کا ہاتھ اسکے سینے پر تھا تنفس بھی بری طرح سے چل رہا تھا
“لگ گئے ہوں گئے زخم ابھی جاؤں گی مرھم پٹی لگا دونگی تو بھلے چنگے ہو جائیں گئے ۔۔۔۔ “نمرہ بیڈ سے اٹھ کر کھڑی ہو گئ
خرم بھی اسکے ساتھ کھڑا ہو گیا سمجھ نہیں پا رہا تھا اتنی بڑی خبر نمیرہ کو کیسے بتائے کیسے اسے سنبھالے ۔۔۔۔اس لئے نمیرہ کو کھنچ کر اپنے ساتھ بینچ لیا
“شاہزیب اب نہیں نمی ۔۔۔ ہم سب کو چھوڑ کر جا چکا ہے ۔۔۔۔ مر چکا ہے وہ ۔۔۔”نمیرہ کو لگا خرم کا دماغ چل گیا ہے ۔۔۔خرم رونے لگا تھا ۔۔۔
“کیا بکواس کر رہے تم خرم شرم نہیں آتی تمہیں ۔۔۔۔چھوڑو مجھے۔۔۔۔ مجھے شاہوں بھائی کے پاس جانا ہے ۔۔۔خرم کیوں جھوٹ بول رہے ہو ۔۔۔۔۔”خرم نے اس خود سے جدا کیا وہ ہک دق اسے دیکھ رہی تھی
“میں سچ کہہ رہا ہوں شاہزیب اور عاصم۔کا ایکسڈینٹ ہوا ہے دونوں ہی نہیں رہے نمی ۔۔۔۔ ” یہ سنتے ہی نمیرہ خرم کے ہاتھوں میں ہی اپنے ہوش کھو بیٹھی تھی ۔۔۔اسکے بے جان ہوتے وجود کو خرم نے سنبھال کر بیڈ پر لیٹایا بری طرح گھبرا گیا تھا
“نمی اٹھوں ۔۔نمیرہ ہوش میں آؤں ۔۔۔امی امی جلدی اندر آئیں “خرم اپنا دکھ بھول بھال نمیرہ کے گال تھپتھپانے لگا ۔۔۔ خرم کی امی بھی روتی ہوئیں اندر آئیں تھیں قیامت سی۔ برپا تھی اس کے دلوں پر ۔۔۔۔ خرم کی امی نے پانی کے چھینٹیں نمیرہ کے۔ چہرے پر ڈالے مگر وہ بے سود تھی
*****…….
باسم جیسے ہی رباب کے لئے گجرے لیکر روڈ کراس کرنے لگتا ٹریفک رک چکا تھا ۔۔۔۔۔ ریڈ لائٹ سے ساری گاڑیاں رکی ہوئی۔ تھیں اس لئے وہ مطمئن انداز سے گزر رہا تھا جب یکلخت ہی ایک تیز بائیک اس سے ٹکر کر فوراسے پلٹی تھی وہ الٹ کر فوتھ پاتھ پر گرا بائیک تھا چوٹ سر پر لگی تھی خون ابل ابل کر بہنے لگاوہ بائیک اب بڑی زور سے سامنے سے گزرتے ٹرک سے ٹکرائی تھی ایک ادھم تھی جو مین روڈ پر مچ چکی تھی رامس بھاگتے ہوئے باسم۔کے پاس پہنچا تھا ۔۔۔۔۔ لوگوں کی چیخ وپکار تھی گاڑیوں کے ہارن ۔۔۔لوگوں کی بھیڑ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر بائیک سے گرنے والے لڑکوں کی طرف بھاگے تھے کافی لوگ باسم کے پاس بھی پہنچ گئے ۔۔۔۔
“باسم ۔۔۔۔تم ٹھیک تو ہو ۔۔۔پلیز میری کوئی مدد کرے
مجھے اسے فوراسے ہاسپٹل لے جانا ہے “رامس حد درجہ پریشان تھا ۔۔۔۔باسم کے سر سے خون نکل رہا تھا
“ہاں ہاں ۔میرے پاس گاڑی ہے میں لے چلتا ہوں “ایک نوجوان نے رامس کے ساتھ ۔ملکر باسم کو گاڑی کی پچھلی نشست پر لیٹایا ۔۔۔۔لیکن وہ سانس بھی ٹھیک سے نہیں لے پا رہا تھا
“رامس بھی پیچھے باسم کے پاس بیٹھ گیا تھا
رامس ۔۔۔۔مجھے گھر ۔۔۔۔۔لے جاؤں ۔۔۔۔وقت بہت ۔۔۔۔کم ہے میرے پاس۔۔۔۔”باسم ٹھیک سے بول نہیں پا رہا تھا
“یوں مت کہو باسم پلیز ٹھیک ہو جاؤں گئے
“گھر لے چلو رامس “باسم اکھڑے اکھڑے سانس کے رہا تھا ۔۔۔۔۔
رامس نے گاڑی گھر کی طرف مڑوا لی ۔۔۔۔ لیکن جیسے ہی رامس باسم کو اس لڑکے کے ہمراہ گھر کے اندر لیکر آیا سب کی چیخیں بلند ہوئیں تھیں ۔۔۔۔۔
باسم کو رامس نے سامنے رکھے تخت پر لیٹا دیا رابعہ بیگم کا ہاتھ سینے پر گیا تھا ۔۔۔۔۔
“باسم۔۔۔ کیا ہوا ہے اسے رامس ۔۔۔”رائمہ۔۔رباب اور نیلو فر بھاگتی ہوئی اسکے پاس پہنچی تھی ۔۔۔۔۔
“روڈ کراس کر رہا تھا بائیک والے سے ٹکرا گیا ۔۔۔۔”رامس روتے ہوئے بتانے لگا
“امی مجھے ۔۔۔۔معاف کر دیں ۔۔۔۔۔میں ۔۔۔۔۔۔”
“ایسا کیوں کہہ رہے ہو باسم ۔۔۔۔ میرے بچے ۔۔۔۔کوئی ہے ڈاکٹر پر لے جاؤں میرے بچے کو رامس باسم کو ڈاکٹر پر لے چلتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ “رابعہ بیگم کی بے تابی اور اضطراری قابل دید تھی
“نہیں امی ۔۔۔۔۔اتنا وقت نہیں ہے ” نےباسم نے اٹکتے ہوئے کہا
“”فری ۔۔۔”
نیلوفر اسکے پاس بیٹھی رو رہی تھی مہندی کے پیلے جوڑے میں ۔۔۔۔باسم کے پکارنے پر جلدی سے اس کا خون سے لے پت ہاتھ تھام لیا ۔۔۔۔۔
“باسم ۔۔۔۔” نیلو کے مہندی سے سجے ہاتھ باسم کے خون سے رنگنے لگے تھے ۔۔۔۔
” فری میں نے ۔۔۔۔آپ کو ہر رشتے سے آذاد کیا ۔۔۔۔۔۔ “
“نہیں باسم آپ کو کچھ نہیں ہو گا آپ ٹھیک ہو جائیں گئے ۔۔۔۔”لیکن نیلو بات بھی مکمل۔ نہیں ہوئی تھی اور باسم کا ہاتھ اسکے ہاتھ میں بے جان سا ہو چکا تھا آنکھیں ویسے ہی کھلی ہوئی تھیں ان سب خوشیوں کی منتظر جو وہ دیکھنے والا تھا ۔۔۔۔مگر دیکھ نہیں سکا ۔۔۔۔۔
نیلو نے باسم کا بے جان ہاتھ دیکھا پھر باسم کے چہرے کی طرف دیکھا جہاں آنکھوں سے آنسوں بہہ کر رک چکے تھے
“باسم “وہ زور زور سے چیخنے لگی تھی رائمہ اور رباب رونے لگیں تھیں رباب نے بھائی کا دوسرا ہاتھ روتے ھوئے پکڑا تو اس میں دو تازہ کلیوں کے گجرے ابھی بھی پکڑے ہوئے تھے جو وہ رباب کے لئے خرید چکا تھا ۔۔۔رباب کے ہاتھ پکڑنے سے وہ خون سے لت پت گجرے رباب کے ہاتھ میں گر گئے ۔۔۔
“یہ وہ آخری فرمائش تھی جو باسم نے اپنی چھوٹی بہن کی پوری کی تھی۔۔۔۔۔ سب رو رہے تھے چلا رہے تھے بس ایک رابعہ بیگم تھیں جو گم صم تھیں ۔۔۔۔باسم کے مردہ وجود کو دیکھ رہیں تھیں ۔۔۔۔۔
*****…..
زمان صاحب اور باقی سب کے اندر داخل ہوتے ہی عاتقہ بیگم زمان صاحب کے پاس آگئیں
“کہاں ہیں عاصم اور شاہزیب ۔۔۔۔ زمان آج تو ۔میں شاہزیب کو چھوڑو گی نہیں ۔۔۔۔ ہمیشہ آپ اسکی بائیک کی چابی چھپاتے ہیں اور میں منتیں کر کے آپ سے لیکر اسے دیتی ہوں لیکن اس بار تو میں۔ چھپاوں گی ۔۔۔ کرتا رہے میری منتیں ۔۔۔۔اب نہیں دونگی ۔۔۔کہاں ہے یہ شاہزیب ۔۔۔میرے عاصم۔کو ذیادہ چوٹ تو نہیں آئیں” ۔۔۔۔عاتقہ بیگم مین گیٹ سے باہر جھانکنے لگے ۔۔۔زمان صاحب یوں کھڑے تھے جیسے وجود میں جان ہی باقی نا رہی ہو ۔۔۔۔۔۔
شازل نے عاتقہ بیگم کو دونوں بازوں سے پکڑ لیا
“چچی ۔۔۔۔چچی ۔۔۔”شازل سے اگلہ لفظ منہ سے نہیں نکل رہا تھا وہ آنسوں بہانے لگا عاتقہ بیگم اسے خاموشی سے دیکھنے لگی زمرد بیگم اور شازمہ بھاگتی ھوئیں شازل کے پاس آئیں تھیں
“شازل کہاں ہے شاہزیب اور عاصم “شازمہ نے شازل کو روتے ہوئے دیکھ کر پوچھا
“شازو وہ نہیں رہے ۔۔۔۔انکی بائیک ٹرک سے ٹکرائی تھی ۔۔۔۔ چھوڑ گئے ہیں ہمہیں وہ دونوں “عاتقہ بیگم نے ایک زور دار تھپڑ شازل کے منہ پر مارا تھا
“کیا بک رہے ہو شاز،ل ۔۔۔۔شرم نہیں آتی یہ کہتے ہوئے ۔۔۔۔زمرد بیگم اپنا سینہ پکڑ کر بیٹھ گئیں تھیں ۔۔۔شازمہ کی چیخیں بلند ہوئیں تھیں زمان صاحب بے بسی کی تصویر بنے بیٹھے تھے ۔۔۔۔۔
عاتقہ بیگم کا دیوانوں والا حال تھا زور زور سے کبھی شاہزیب کو پکارنے لگتیں کبھی عاصم کو ۔۔۔۔۔کبھی ہنسنے لگتیں کبھی رونے لگتیں زمان صاحب میں اتنی بھی ہمت نہیں بچی تھی کی کسی کو حوصلہ دے سکیں ۔۔۔۔۔۔ شازل ہی تھا جو کبھی شازمہ کو سنبھال رہا تھا کبھی عاتقہ بیگم کو ۔۔۔۔ زندگی میں شاہزیب سے لاکھ رنجشیں سہیں مگر ایسا تواسکے گمان۔میں نہیں تھا ۔۔۔۔۔ خود بھی بہت پریشان تھا ناقابل یقین واقع تھا ۔۔۔۔ ہنستے کھیلتے شادی دیکھتے وہ لوگ نکلے تھے کیا خبر تھی کہ کب دوسرے جہاں کوچ کر جائیں گئے۔۔۔
نمیرہ کو بڑی مشکل سے ہوش آیا تھا خرم کے ساتھ وہ اپنے گھر داخل ہوئی شازمہ نے اسکی طرف بڑھ کر اسے گلے لگا لیا ۔۔۔۔
“شازی آپی شاہو بھائی کیوں چلا گیاعاصم۔کو بھی ساتھے لے گیا کیوں چلا گیا وہ ۔۔۔۔شازی آپی ۔۔۔۔اسے کہو نا واپس آ جائے
عاتقہ بیگم ۔۔۔گم صم بیٹھ گئی۔ تھیں
سب کی رات آنکھوں میں گزری تھی ۔۔۔۔صبح جب دونوں بھائیوں کی میتیں گھر کے نیچے پہنچیں ۔۔۔۔ایک کہرام سا مچ گیا تھا ۔۔۔۔ سارا ہی اپاٹمنٹ جمع تھا افسوس کرنے والوں کا تانتا بندھ گیا تھا ۔۔۔۔ عاتقہ بیگم اس وقت سو چکیں تھیں ۔۔۔زمان صاحب نے کسی بھی خاتون کو ان دونوں کا چہرہ دیکھنے نہیں دیا تھا ۔۔۔۔۔ جسے ایک پل وہ خود دیکھ کر وہ لزر کے رہ گئے تھے ۔۔۔۔ جو جبر وہ اپنے دل پر سہہ گئے تھے وہ نا تو شازمہ اور نمیرہ سہہ سکتیں تھیں نا ہی عاتقہ بیگم برداشت کر سکتیں تھیں ۔۔۔۔زمان صاحب نے کچھ دیر بعد ہی انہیں اٹھانے کا حکم دیا نماز جنازہ ادا کرتے ھوئے زمان صاحب خوب روئے تھے ۔۔۔۔ اپنے جھکے بوڈھے نا توان کندھوں پر جوان بچوں کا جنازہ باپ پر کتنا بھاری ہوتا ہے یہ شاید وہ باپ ہی جان سکتا ہے ۔جس نے اپنی زندگی میں یہ غم سہا ہو ۔۔۔ کمر توانکی شاہزیب اور عاصم کے مر جانے کی خبر سے ہی ٹوٹ چکی تھی ۔۔۔دو ہی بیٹے تھے دونوں ہی یکلخت سے موت کی نظر ہوچکے تھے ۔۔۔۔ دونوں کو سپرد خاک کر کے وہ مرے مرے قدموں سے لوٹے تھے ۔۔۔خرم اور شازل ہر پل انکے ساتھ تھے ۔۔۔۔۔۔ گھر پہنچے تو عاتقہ بیگم اٹھ۔ چکیں تھیں ۔۔۔۔
زمان صاحب کو دیکھ کر انکے پاس آکر انکا گربیان پکڑ کر روتے ہوئے جھنجھوڑنے لگیں
“زمان کہاں ہیں میرے بچے ۔۔۔۔کیون چھوڑ آئے ہو انہیں ۔۔۔۔کہاں چھوٹ آئے ہو ۔۔۔دیکھوں ۔۔۔۔دیکھوں
میرا گھر ویران ہو چکا ہے ۔۔۔۔۔۔ کتنی خاموشی ہے یہاں میرا دم گھٹ رہا ہے ۔۔۔۔ بلاؤں میرے شاہزیب کو ۔۔۔۔عاصم۔کو بلاؤں ۔۔۔۔ کل دونوں ہی تو تھے ۔۔۔کیسے ناچ رہے تھے نمی کی شادی پر ۔۔۔۔ کیسے رونق لگا رکھی تھی دونوں نے ” نمیرہ کی مہندی والے دن شاہزیب اور عاصم نے خوب ڈانس کیا تھا ۔۔۔۔پورے گھر والوں کو اپنے ساتھ نچوایا تھا یہاں تک کہ زمان صاحب کو بھی ۔۔۔۔۔۔۔
عاتقہ۔ بیگم کو ایک پل چین نہیں تھا ۔۔۔۔ لیکن زمان صاحب کو تو چپ سی لگ گئ تھی ۔۔۔۔
*****…..
نیناں میری بلبل ۔۔۔میری مینا اٹھوں نا دیکھوں تمہارا شاہزیب تمہارے پاس ہے ۔۔۔۔نیناں “
“شاہزیب “نیناں چلا کر بولی اور یک دم اٹھ کر بیٹھ گئی ۔۔۔۔اس وقت ہاسپٹل میں تھی ۔۔۔۔۔ بختیار صاحب بھی اسکے پاس موجود تھے فورا سے نیناں کے پاس آگئے
“پوپس ۔۔۔پوپس میں نے بہت برا خواب دیکھا ہے ۔۔۔پوپس شاہزیب کہاں ہے ۔۔۔اسےابھی اسی وقت بلائیں ۔۔۔۔۔ کہاں ہے وہ ‘” نیناں کو لگا شاہزیب کی موت کا اس نے خواب دیکھا ہے
“نیناں میری جان تم ٹھیک ہو جاؤں ۔۔۔۔پھر “بختیار صاحب اپنے آنسوں ضبط کر رہے تھے
“نہیں ابھی بلائیں اسے ۔۔۔جب تک اسے دیکھوں گی نہیں مجھے چین نہیں آئے گا ۔۔۔” وہ بے چین تھی۔ ے قرار تھی
“نیناں نیناں کہاں سے لاؤں اسے ۔۔۔۔ جا چکا ہے وہ ۔۔۔بہت دور۔۔۔ کبھی نہیں لوٹے گا ۔۔۔۔ یہی سچ ہے ” بختیار صاحب کی آنکھیں رونے کی وجہ سے سوج چکیں تھیں ۔۔۔ھو کہ شاہزیب کبھی انہیں پسند نہیں تھا مگر ۔۔۔۔نینسں کے لیے کیا تھا وہ اچھی طرح جانتے تھے
“جھوٹ ہے پوپس مجھے چھوڑ کر نہیں جا سکتا ۔۔۔۔۔ ابھی تو سب کچھ ٹھیک ہوا تھا ۔۔۔ابھی تو اس نے نکاح کیا تھا ۔مجھ سے ۔۔ابھی تو سب مانے تھے ہمارے لئے ۔۔۔ کیا کچھ نہیں سہا تھا اس نے ۔۔۔کب پیچھے ہٹا تھا وہ کب مجھے چھوڑنے کے لئے تیار تھا ۔۔۔۔ پیچھے ہٹنے والوں میں سے نہیں تھا وہ ۔۔۔۔اس نے اپنے ابو سے بھی مار کھائی تھی ۔۔۔۔لیکن
مجھے چھوڑنے پر راضی نہیں ہوا تھا ۔۔۔۔ہوپس آپ نے بھی تو مارا تھا نا اسے ۔۔۔کیا ہٹا تھا وہ پیچھے۔ چھوڑا تھا مجھے ؟ نہیں چھوڑا تھا ۔۔۔نہیں نا نہیں چھوڑا تھا ۔۔۔نبیں نا نہیں ہٹا تھا پیچھے”نیناں رو رہی تھی بلک بلک کر رو رہی تھی بختیار صاحب کی آنکھوں سے بھی آنسوں جاری تھے ۔۔ ۔۔۔۔۔
“ہاں نہیں ہٹا تھا پیچھے نہیں چھوڑا تھا تمہیں ۔۔۔۔”وہ روتے ہوئے اسکے آنسوں۔ پونچ رہے تھے
“پولیس سب نے بہت مارا تھا اسے وہ پھر بھی پیچھے نہیں ہٹا تھا ۔۔۔مجھ سے بیوفائی نہیں کی تھی ۔۔۔۔اب کیسے کر سکتا ہے ۔۔۔۔ کیسے چھوڑ کے جاسکتا ہے۔۔۔۔ میں زندہ کیوں ہوں
میری سانس کیوں چل رہی ہے۔۔۔۔ میں کیسے اسکے بنا جی سکتی ہوں ۔۔۔۔ “یہ کہتے ہوئے وہ دوبارہ بے ہوش ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔
“نیناں ۔۔۔نیناں میری بچی ہوش میں آؤں “بختیار صاحب سمجھ نہیں پا رہے تھے کہ کیسے اسے ہوش دلائیں
*****….
ایک کہرام مچ گیا تھا قیامت کا آنا کیا ہوتا ہے یہ کوئی اسوقت ان دونوں کے گھر کے مکینوں سے پوچھتا ۔۔۔۔۔۔
رائمہ کے آنسوں نہیں رک رہے تھے ۔۔۔۔ نیلوفر کی آنکھیں پتھرا گئیں تھیں ۔۔۔۔ رباب کا رو رو کر برا حال تھا ۔۔۔رابعہ بیگم ایک ٹک دیکھے جا رہی۔ تھیں نا بول رہیں تھیں نا رو رہیں تھیں نا کچھ کھا رہی تھیں ۔۔۔۔۔ بس گم صم باہر گیٹ پر نظریں گاڑے دیکھ رہیں تھی جیسے اب بھی باسم کا انتظار ہو رامس اور اسکی امی سب کی دلجوئی میں لگے ہوئے تھے نیلو کے بابا کی تو رو کے آنکھیں خشک ہو چکیں تھیں ۔۔۔۔باسم۔کو دفنانے کے بعد سے رات تک رامس اور اسکی والدہ رابعہ بیگم کے پاس بیٹھے رہے ۔۔۔۔
نا انہوں نے کچھ کھایا تھا نا پیا تھا ایک گھونٹ بھی پانی کا انکے اندر نہیں اترا تھا رابعہ بیگم کے حلق سے
نیلو اب تک مہندی کے جوڑے میں تھی ۔۔۔۔۔
“رامس کس نے ٹکر ماری تھی باسم کو ۔۔۔۔کیسے ٹکرا گیا تھا ۔۔۔۔وہ تو بہت محتاط ہو کر بائیک چلاتا تھا روڈ بھی بہت احتیاط سے کراس سے کرتا تھا ۔۔۔۔۔ اندھے کیوں ہو جاتے ہیں مین روڈ پر گاڑی اور بائیک چلانے والے ۔۔۔۔خدا کرے وہ بھی برباد ہو جائے “رائمہ بلکتے ہوئے بد دعا دینے لگی
“چپ ہو جاؤں رائمہ انکی بائیک بھی ٹرک سے ٹکرائی تھی۔۔۔۔ بہت تیزی سے مین روڈ سے گزر رہے تھے اشارہ تک توڑ دیا تھا ۔۔۔۔دو لڑکے تھے موقع پر ہی جان بحق ہو گئے ۔۔۔۔ “رامس نے لوگوں کے شور میں جو آوازیں سنی تھی اس سے یہی معلوم ہوا تھا کہ دونوں لڑکے ختم ہو چکے ہیں
“ان کا تو پھر قصور تھا ۔۔میرا بھائی تو بے گناہ تھا ۔۔۔۔وہ کس سزا کا حقدار ہے وہ رامس ۔۔۔اس نے کیا کیا تھا وہ کیوں چلا گیا ۔۔۔۔ کیا کریں گئے ہم اس کے بغیر ۔۔۔۔۔ ایک ہی تو ہمارا سہارا تھا ایک ہی ہمارے گھر کا واحد کفیل تھا وہ ہم تو بے آسرا اور بے سہارا ہو کر رہ گئے ۔۔۔۔ یوں مین روڈ پر اندھا دھن بائیک چلاتے ہوئے کوئی یہ کیوں نہیں سوچتا کہ حادثے میں مر جانے والا اپنی خاندان کو پل پل مرنے کے لئے چھوڑ جائے گا ۔۔۔۔ اس ایک شخص کی موت ۔۔۔۔ اسکے گھر والوں کو روز مارے گی روز زندہ کرے گی ۔۔۔۔۔ مار ڈالا اس نے ہمہیں ۔۔۔۔ مار ڈالا میرے بھائی کو رامس ۔۔۔۔ “رائمہ کارم کم نہیں ہو رہا تھا
“چپ ہو جاؤں رائمہ ۔۔۔۔۔اللہ کی یہی مرضی تھی “
“نہیں اللہ کی مرضی نہیں تھی ۔۔۔۔۔یہ قتل تھا رامس یہ قتل ہے ۔۔۔۔۔ سر عام قتل ہوا ہے باسم کا کیوں اندھا قانون ہے ہمارے معاشرے کا ۔۔۔۔ یہ قتل ہے ۔۔۔رول کی خلاف عرضی کے باعث ہونے والے حادثے کی موت قتل ہے ۔۔۔۔ظلم ہے ۔۔۔۔”رائمہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی ۔۔۔۔شادی والا گھر ماتم کدہ بن کر رہ گیا تھا
*****……..
دن گزرنے لگے تھے ۔۔۔۔ نمیرہ شاہزیب کے بیڈ پر بیٹھ کر رو رہی تھی ۔۔۔جب خرم اندر داخل ہوا ۔۔۔۔ خرم کو دیکھ کر وہ پھر سے رونے لگی ۔۔۔
“خرم تمہیں پتہ ہے عاصم بہت پیار کرتا تھا شاہو بھائی سے ۔۔۔۔وہ بہت چڑتے تھے عاصم کے جنونی پیار سے ۔۔۔لیکن پھر بھی وہ زبردستی انہیں گلے لگاتا تھا ۔۔۔کہتا تھا شاہوں بھائی میں ہمیشہ آپکے ساتھ ہی سویا کروں گا ۔۔۔دیکھوں نا خرم ۔۔۔۔وہ قبر میں بھی شاہوں کے ساتھ ہی سو گیا ۔۔۔۔اور میں پاگل یہ سمجھتی رہی کہ شاہوں بھائی سے سب سے ذیادہ مجھے پیار ہے “خرم کے آنسوں بہہ رہے تھے ۔۔۔
“نمیرہ “
٫”میں ٹھیک کہہ رہی ہوں خرم دیکھوں میں تو زندہ ہوں میں نہیں مری عاصم کو زیادہ پیار تھا بھائی سے دیکھوں وہ انکے ساتھ چلا گیا ۔۔۔۔۔ “خرم نمیرہ کے پاس آکے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا ۔۔۔۔
“نمی مرنے والو کے ساتھ ہم چاہ کر بھی مر تو نہیں سکتے نا ۔۔۔۔ “
“مر ہی تو گئے ہیں ۔۔۔۔ خرم ہم سب مر چکے ہیں ۔۔۔بس سانس لے رہے ہیں کھا پی رہے ہیں لیکن جی نہیں رہے ۔۔۔۔ابو کو دیکھوں وہ چپ سے ہو گئے ہیں امی کبھی ہنستی ہیں کبھی روتی ہیں ۔۔۔اکیلے میں کبھی عاصم سے تو کبھی شاہو بھائی سے باتیں کرتی ہیں شازی آپی ہر وقت روتی رہتی ہے ۔۔۔۔ کیا یہ زندگی ہے ۔۔۔۔موت ہے خرم پل پل کی موت سنا گئے ہیں وہ ہمہیں ۔۔۔۔”نمیرہ پھر سے رونے لگی تھی ۔۔۔۔
“اچھا نا نمی پلیز چپ ہو جاؤں ۔۔۔۔”خرم نے اسکے آنسوں صاف کیے
“اٹھوں اب میرے ساتھ گھر چلو جب تک یہاں رہوں روتی رہو گی “خرم نے نرمی سے اسکے ہاتھ تھام کر کہا
“خرم مجھے کہیں نہیں جانا یہیں رہنا ہے عاصم اور شاہو بھائی کے کمرے میں ۔۔۔مجھے یہاں سے مت لے کر جاؤں مجھے یہاں اپنے بھائیوں کی خوشبو آتی ہے ۔۔۔۔پلیز خرم “خرم تڑپ ہی تو گیا تھا فوراسے اسے وہیں چھوڑ کر کمرے سے نکل گیا ۔۔۔۔ باہر صوفے پر بیٹھ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا
“یہ کیا کر دیا تم نے شاہو ۔۔۔۔ اتنا بڑا ظلم خود کے ساتھ بھی اور اپنے گھر والوں کے ساتھ بھی ۔۔۔۔۔ابھی تو وہ سچ نہیں جانتے ” تم سر پکڑے رو رہا تھا
*****……
قیوم صابر تک جب یہ خبر ٹی وی پر چلنے والی دو منٹ کی خبر کے ذریعے پہنچی تو وہ کچھ دیر تو سن ہو کر بیٹھا رہا
“کراچی حادثے کا شکار ہونے والے دونوں بھائی بائیک کی تیز رفتاری کے باعث ٹرک سے ٹکرا کر موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے ۔۔۔۔ حادثہ ناظمہ آباد کے علاقے میں وقوع پزیر ہوا ۔۔۔۔ لڑکوں کے نام شاہزیب زمان اور عاصم زمان تھے ۔۔۔ لواحقین کا شدت غم سے برا حال ۔۔۔۔ ” سامنے نیوز کاسٹر نے یہ قیامت خیز خبر تین سکینڈ میں مکمل کی تھی
قیوم صابر نے خبر سنتے ہی جب تصدیق کرائی تو شاہزیب کی موت کا درد ناک خبر انہیں مل گئ تھی ۔۔۔۔
۔۔۔شاہزیب اسکے لئے سونے کے انڈے دینے والی مرغی تھا ۔۔۔۔جو اب جا چکا تھا ۔۔۔۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ دیوار سے سر پیٹے سری لنکا میں سارے انتظامات مکمل ہو چکے تھے ۔۔۔۔
کچھ دن پہلے ہی وہ شاہزیب کے لئے ایک ایسا ہی موت کا خطرناک کھیل وہاں آرگنائز کروا چکا تھا ۔۔۔۔یہ قیوم صابر کی زندگی کا لگنے والا سب سے بڑا سٹا تھا ۔۔۔۔۔
اس کے گروپ کے سینر لڑکے نے قیوم صابر سے کہا بھی تھا
“سر یہ کھیل بہت خطرناک ہے “
“پیسے بھی تو بہت ذیادہ ملیں گئے ۔۔۔”دولت کی پٹی تھی جو قیوم صابر کی آنکھوں میں بندھ چکی تھی۔۔۔۔
“سر اس کھیل میں موت کا خطرہ ستر فیصد ہے اور آپ نے شاہزیب کو اس بات سے انجان رکھا ہے “
“میں نے اسے انجان رکھا ہے تو تم بھی منہ بند رکھنا۔۔۔وہ لڑکا کر گزرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔۔۔۔ “قیوم صابر کا لہجہ ترش تھا
“اور اگر اسے کچھ ہو گیا تو “لڑکے نے تشویش ناک انداز سے دریافت کیا
“تو ۔میرے لئے یہ اور بھی اچھا ہے ۔۔۔۔لوگوں کی ساری ہمدردیاں مرنے والے کے ساتھ ہو جاتی ہیں ۔۔۔
پیسے بھی ڈبل ملتے ہیں ۔۔۔بس تم شاہزیب کے سامنے منہ بند رکھنا
اسے میں ڈیر کڑور پر راضی کر چکا ہوں “قیوم صابر کا لہجے میں رعونیت تھی
“اور اگر وہ یہ کر گیا تو ستر کروڑ آپکے ۔۔۔۔اور مر گیا تو بات ایک ارب تک جا پہنچے گی ۔۔۔۔ ہے نا “اس لڑکے نے تاسف سے قیوم صابر کو دیکھا تھا
“یقینا ۔۔۔۔”لیکن قیوم صابر کی بے حسی کی حد تھی ۔۔۔ کہ وہ خود غرصی کا مظاہرہ کر رہا تھا ۔۔۔۔
لیکن شاہزیب کی اچانک موت نے اسکے سارے پلان پر پانی پھیر کے رکھ دیا تھا ۔۔۔۔
“کاش ۔۔کاش اس لڑکے کو چند دن بعد موت آجاتی کم از کم میرا اتنا نقصان تو نا ہوتا ۔۔۔”قیوم صابر کا بس نہیں چل رہا تھا کہ پیسوں کی خاطر شاہزیب کو چند دن کے لئے زندہ کر دیتا ۔۔۔
اپنا ایک چیک شاہزیب نے اس لڑکے کے پاس بطور امانت رکھوایا تھا کہ چند دن تک اس سے لے لے گا ۔۔۔لڑکا ایماندار تھا ۔۔۔۔۔ اس لئے چیک لیکر اس کے گھر پہنچ گیا ۔۔۔۔
زمان صاحب کو جب شاہزیب کے بارے میں یہ سب معلوم ہوا تو ان کے ہوش اڑانے لگے تھے ۔۔۔۔یہ سب کر رہا تھا وہ ۔۔۔۔تو یہ وہ جاب تھی جو اس نے اپنائی تھی ۔۔۔۔۔وہ لڑکا چیک دے کر جا چکا تھا ۔۔۔۔ زمان صاحب تاسف سے ٹیبل پر رکھے اس چیک کو دیکھنے لگے ۔۔۔۔ جس کی وجہ سے وہ اپنی زندگی کی کل متاع ہار چکے تھے ۔۔۔۔
******……
نیناں گھر لوٹ آئی تھی لیکن نا کچھ کھا رہی تھی نا پی رہی تھی ۔۔۔ بس ہر تھوڑی تھوڑی دیر بعد رونے اور چلانے لگتی تھی ۔۔۔۔
کبھی اکیلی سمندر پر نکل جاتی ۔۔۔۔اب بھی ڈرائیور سے زبردستی چابی چھین کر سمندر چلی گئ تھی ڈرائیور نے فورا سے بختیار صاحب کو فون پر بتا دیا
نیناں سمندر پر بنی شلف پر بیٹھ گئی
“چلو نیناں دونوں آنکھیں بند کر کے ب آواز آئی لو کہتے ہیں ۔۔۔۔”شاہزیب کی آوازیں اسکے کانوں میں گونج رہی۔ تھیں یک دم ہی نیناں نے اپنی آنکھیں بند کر لیں
“شاہزیب آئی لو یو “پورے سمندر پر وہ چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی لیکن اس بار صرف اسکی آواز گونج رہی تھی ۔۔۔۔شاہزیب کی نہیں
پھر آنکھیں کھول کر چاروں طرف دیکھیں لگیں سامنے سمندر کی لہریں ٹھاٹیں مار رہیں تھیں وہ سمندر کے پانی میں چلی گی بہت آگے اتنا کہ پانی اسکے گھنٹوں سے بہت اوپر تھا پھر اپنی آنکھیں بند کر لیں ۔۔۔۔
“نہیں نا شاہزیب میں گر جاؤں گی ۔۔بیلنس نہیں کر پاؤں گی ۔۔۔
Please hold my hand
نیناں کو وہ وقت یاد آنے لگا جب پہلی بار اس نے شاہزیب کے ساتھ ایڈونچر کیا تھا
“No meena ….. force on keeping your feet balance ….dear ….you can do it ….”شاہزیب کی آواز اسے صاف سنائی دے رہی تھی
نہیں گرو۔ گی یار آنکھیں بند کرو اپنی ….تمہارے پیچھے ہی تو ہوں میں۔۔۔ نہیں گرنے دونگا تمہیں ۔۔۔آنکھیں بند کرو اپنی “نیناں کو لگا کہ وہ اب بھی اسکے ساتھ ہے ہر پل وہ اسکی آواز کی باز گشت میں رہتی تھی ہر وقت اس کا تصور اسکی آنکھوں میں رہتا تھا ۔۔۔۔ اپنی آنکھیں بند کیے وہ بیچ سمندر ہاتھ پھیلانے پیچھے کو قدم بڑھانے لگی لیکن ہوا بہت تیز تھی ۔۔۔۔ پانی کا زور بھی زیادہ تھا ایک قدم بڑھاتے ہی دوسرے قدم پر ڈگمگا کر گر گئ تھی ۔۔۔۔ پانی اسکے سر تک پہنچ چکا تھا جب بختیار صاحب اندھا دھن بھاگتے ہوئے اس تک پہنچے تھے کب اس اسے سمندر پر ڈھونڈ رہے تھے لیکن سامنے پانی کے بیچوں بیچ دیکھ کر اس طرف بھاگنے لگے ۔۔۔۔اور اب نیناں کو پکڑ کر کھڑا کر چکے تھے
“پاگل ہو گئ ہو تم ۔۔۔”بختیار صاحب چلا کر بولے
“پوپس چھوڑیں میرا ہاتھ وہ پکار رہا ہے مجھے ۔۔۔مجھے اسکے پاس جانا ہے وہ اکیلا ہے مجھے جانے دیں اسکے پاس ۔۔۔۔۔میں نہیں رہ سکتی ہوں ۔۔کیوں نہیں سمجھتے آپ ۔۔۔”وہ خود کو انکی گرفت سے چھڑوا کر پانی کی جانب بڑھ رہی تھی ۔۔۔بختیار صاحب کے قابو سے باہر ہو رہی تھی ۔۔۔مجبورا انہیں نیناں کے ایک تھپڑ مارنا پڑا وہ اپنے ہواسوں میں نہیں تھی
زبردستی بختیار صاحب اسے اپنے ساتھ لیے گھر پہنچے تھے ۔۔۔۔لاونج کے صوفے پر اسے بیٹھایا ۔۔۔خود بھی اسکے پاس بیٹھ گئے ۔۔۔۔
” میری بات غور سے سنو نیناں ۔۔۔۔ یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ شاہزیب مر چکا ہے ۔۔۔۔تم مانو یا نا مانو ۔۔۔۔وہ واپس کبھی نہیں آئے گا ۔۔۔۔ اس لئے سنبھالو خود کو ۔۔۔۔ تم چاہ کر بھی وقت سے پہلے مر نہیں سکتی ۔۔۔۔ “
نیناں چپ چاپ خالی آنکھوں سے انہیں دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
*****……
رابعہ بیگم باسم کی حادثاتی موت کے بعد بستر سے لگ گئیں تھیں ۔۔۔۔ رائمہ انکا خیال پہلے سے زیادہ رکھنے لگی تھی ۔۔۔۔ رامس نے رائمہ کے لاکھ انکار پر بھی پورے گھر کاراشن ڈال دیا تھا ۔۔۔ اور رابعہ بیگم کی دعائیں بھی لا کر دیں تھیں ۔۔۔رباب کو بھی چپ سی لگ گئ تھی نیلو اب نیچے نہیں جاتی تھی سب کے ہوتے ہوئے بھی گھر ویران لگنے لگا تھا ۔۔۔۔
باہر کا دروازہ کھٹکا ۔۔۔۔ رائمہ نے دروازہ کھولا تو باسم کا باس گیٹ پر کھڑا تھا ۔۔۔رائمہ اس کا تعارف سن کر پیچھے ہٹ گئ وہ گھر تک آیا تھا توصرف تعزیت ہی مقصد تو نہیں ہو سکتا تھا ۔۔۔رائمہںسء چند رسمی تعزیت کے جمعلوں کے بعد ہی اسکے باس نے ایک پیپر رائمہ کو تھما دیا ۔۔۔
“باسم نے دو لاکھ کا قرضہ لیا تھا ۔۔۔جیسے وہ ہر ماہ اپنی سیلری سے اتارتا تھا ۔۔۔ لیکن اب ۔۔۔۔”
“اب کتنا قرضہ ہے باسم پر “رائمہ نے بے تاثر پوچھا
“ایک لاکھ بیس ہزار “
“ٹھیک ہے ایک ماہ کے اندر آپ کو پیسے مل جائیں گئے ۔۔۔”رائمہ کا لہجہ اسپاٹ تھا
رامس اسی وقت گھر میں کچھ سبزیاں اور ضرورت کا کچھ سامان لایا تھا ۔۔۔۔ ڈرائنگ روم سے رائمہ کی آواز پر اندر داخل ہو گیا ۔۔۔۔ باسم کا باس رامس کو دیکھ کر کھڑا ہو گیا
“ٹھیک ہے میں چلتا ہوں ایک مہنے بعد میراڈرائیور آ کر پیسے لے جائے گا ” باس اپنا چشمہ پہنے باہر نکل گیا تھا ۔۔۔
“کہاں سے دو گی ایک لاکھ “رامس نے رائمہ کی طرف دیکھ کر پوچھا
“گھر بیچ دیں گئے ۔۔۔_”رامس نے تاسف سے رائمہ کو دیکھا تھا
“رائمہ کچھ نہیں بیچوں گی تم ۔۔۔۔۔پیسوں کا انتظام میں کر لوں گا ٫”
“کہاں سے “
“تمہارے لئے امی نے کچھ زیور بنائے تھے وہ بیچ دیں گئے۔۔۔۔پیسے میں دو چار دن میں ہی باسم کے باس کو لوٹا دوں گا “
“کب تک احسان کریں گئے ہم پر ۔۔رامس پہلے بات اور تھی ۔۔۔لیکن میں اب رباب اور امی کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتی ۔۔۔۔۔ سوچ رہی ہوں باسم کی جگہ میں جاب پر لگ جاؤں “
“تو یہ حل ہے تمہارے پاس “رامس رائمہ کو دکھ سے دیکھ رہا تھا جو اسے اجنبیوں کی طرح بات کر رہی تھی ‘
“جی یہی حل ہے ۔۔۔ “
“یہ حل میری موت کے بعد نکالنا رائمہ “
“رامس “رائمہ نے تڑپ کر رامس کی طرف دیکھا
“خدا کے لئے ایسا کچھ مت کہیں “۔”وہ موٹے موٹے آنسو۔ آنکھوں میں لئے بولی
“تم بھی ایسا کچھ مت کہو۔۔۔ باسم غیر تھا کیا میرے لئے ۔۔۔۔ جب تک میں ہوں تم لوگوں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ‘”
رائمہ سے یہ کہہ کر وہ پلٹ گیا تھا
