One Wheeling by Umme Hani NovelR50409 One Wheeling Episode 12
Rate this Novel
One Wheeling Episode 12
One Wheeling by Umme Hani
۔۔شاہزیب لحاف اتارے بغیر غائب دماغی سے بیڈ سے اترا۔۔۔تیزی سے کھڑکی کی طرف لپکا ۔۔۔لحاف پیروں میں لپٹ چکا تھا اس لئے گرتے گرتے بچا پاؤں سے لحاف کو دور پھنکا ۔۔۔۔کھڑکی کے پاس جا کر ایک زوردار جھٹکے سے پردہ پیچھے کیا ۔۔۔نیچے نیناں بیگم گاڑی سے ٹیک لگائے اسے ہی دیکھ رہی تھی اپنا چشمہ اتار کر شاہزیب کو ہاتھ ہلا کر اپنی موجودگی کا احساس دلانے لگی ۔۔۔۔شاہزیب نے سر پر ہاتھ مارا پردہ پھر سے ٹھیک کیا
“یار کیا ہے یہ لڑکی ۔۔۔۔یہ مجھے ضرور ابو کے ہاتھوں ضائع کروائے گئ ۔۔۔۔۔”وہ سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کمرے کے چکر لگانے لگا نمیرہ اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
“نمی ابو کہاں ہیں کالج چلے گئے ۔۔۔ “شاہزیب کو یک دم یاد آیا کہ یہی ٹائم زمان صاحب کے کالج جانے کا تھا ۔۔۔۔۔
“نہیں ابھی تو ناشتہ کر رہےہیں “نمیرہ نے اپنی ازلی لاپروائی کا مظاہر کیا
“مر گئے یار ۔۔۔۔نمی جاؤں باہر ابو کو باتوں میں بہلاؤ ۔۔۔کچھ بھی کر کے رکوں ۔۔۔ “نمیرہ کو ہاتھ سے باہر دھکلتے ہوئے شاہزیب نے عجلت میں۔ کہا
“جا رہی ہوں دھکے کیوں دے رہے ہیں “نمیرہ جاتے ہوئے بولی اور کمرے سے نکل گئ ..شاہ زیب نے سامنے سائیڈ ٹیبل پر رکھی شرٹ پکڑی فٹا فٹ پہنی واش روم کا دروازہ کھولنا چاہا تو وہ لوک تھا ۔۔۔شاہ زیب نے دروازہ دھڑھڑایا ۔۔۔
“عاصم باہر آؤ جلدی سے “عاصم نے دروازہ کھولا
تو شاہزیب۔ اندر گھس گیا ایک منٹ میں برش دانتوں پر رگڑا ۔۔۔منہ پر پانی کے چھینٹے مارے ۔۔۔۔وہی گیلا ہاتھ بالوں پر پھر کر بال سیدھے کیے اور کمرے میں آ کر اپنے جوگر پہنے لگا ۔۔۔عاصم بھی تیار ہو چکا تھا ۔۔۔۔شاہزیب نے سائیڈ پر رکھا اپنا بیگ پکڑ کر شولڈر پر ڈالا اور کمرے سے نکل گیا باہر زمان صاحب اور نمیرہ ناشتہ کر رہے تھے عاتقہ بیگم اور شازمہ کچن میں تھیں ۔۔۔۔عاتقہ بیگم بھی عجلت سے ٹیبل پر بریڈ اور جیم رکھ رہیں تھیں شازمہ نے بھی جلدی میں تھی عاصم کے لئے دودھ ٹیبل پر رکھنے لگی
“شاہزیب ناشتہ کیا کرو گئے ۔۔۔فرائی انڈے کے ساتھ چائے بنا دوں “عاتقہ بیگم
زمان صاحب کے لئے بریڈ پر جیم لگاتے ہوئے شاہزیب۔ سے پوچھنے لگیں
“نہیں امی ۔۔۔آج جلدی جانا ہے ۔۔۔ناشتہ نہیں کرو گا ۔۔۔نمی جلدی کرو یار دیر ہو رہی ہے مجھے “نمیرہ کو مزے سے چائے پیتے دیکھ کر شاہزیب نے نمیرہ کو گھورا
“شاہزیب چلو پہلے کچھ ناشتہ کرو ۔۔۔یہ کیا طریقہ ہے کہ بھوکے گھر سے جاؤ۔ گئے اور وہاں جا کر اوٹ پٹانگ چیزیں کھاؤں گئے “زمان صاحب کی سرزش پر ۔۔۔شاہزیب نے جلدی سے عاصم کے لئے رکھا گیا دودھ کا گلاس پکڑا اور منہ کو لگا کر خالی کر کے ٹیبل پر رکھ دیا ۔۔۔۔
“نمی چلو جلدی کرو چائے ختم ۔۔۔ میں نیچے تمہارا انتظار کر رہا ہوں ۔۔۔”شاہزیب یہ کہتے ہی مین گیٹ کھولے جلدی سے سیڑیاں پھلانگنے لگا ۔۔۔۔۔چند سکینڈ میں وہ نیچے اترا تھا سامنے ہی نیناں کھڑی تھی ۔۔۔۔شاہزیب فورا سے اسکے پاس آ گیا
“تم ۔۔۔کیوں آئی ہو یہاں ۔۔۔۔پاگل واگل ہو کیا ۔۔۔۔ابھی دو دن پہلے تو تمہیں منع کیا تھا ۔میں نے “
“وہ میں یہ بتانے آئی تھی کہ میرے پوپس ۔۔کوئی ڈون نہیں ہیں ۔۔۔۔۔صرف ایک بزنس مین ہیں ۔۔۔”
“تم یہ بات بتانے صبح صبح میرے گھر کے سامنے نا جانے کب سے کھڑی ہو ۔۔۔۔مجھے سمجھ نہیں آتا میں اپنا سر کہاں جا کر پھوڑوں۔۔۔۔۔”شاہزیب زچ کی آخری حد پر تھا
“شاہزیب “
“ایک دم چپ ۔۔۔میری بات سنو ابھی جاؤں یہاں سے ۔۔۔میں پھر کبھی مل کر بات کروں گا ابھی میرے ابو اگر نیچے اتر آئے تو بہت گڑبڑ ہو جائے گی ۔۔۔”شاہ زیب عجلت سے بولا
سامنے کھڑا لڑکا اپنی وین کا انتظار کر رہا تھا ان دونوں کو بڑے غور سے دیکھ رہا تھا عاصم کا دوست تھا اس لئے شاہزیب کو بھی اچھی طرح جانتا تھا ۔۔۔مگر نیناں اسکے لئے نئ تھی اور پراڈو میں نیناں کا آنا اسے ذیادہ دلچسپ بنا رہا تھا ۔۔۔۔شاہزیب کی نظر اس پر پڑی تو اسے ڈانٹنے لگا
“تم یہاں کیا دیکھ رہے ہو ۔۔۔”
“آپکی گرل گرینڈ کو ۔۔۔۔کیا مست چیز پھسائی ہے بھائی ۔۔۔ایک دم ٹائٹ “وہ چودا سالہ بچہ اپنی انگلی اور انگوٹھے ملا کر ہول بنا کر آنکھ مارتے ہوئے بولا ۔۔۔اسکی بات پر نیناں نے بھی حیرت سے پھٹی آنکھوں سے اس بچے کو دیکھا ۔۔۔
“ابے چپ ۔۔۔ایک دونگا کان کے نیچے ۔۔۔۔۔سارے ہوش ٹھکانے آ جائیں گئے ۔۔۔”شاہزیب نے دور سے تھیڑ دیکھایا تو لڑکا چپ ہو گیا ۔۔۔اسی اثنا میں۔ نمیرہ جلدی سے نیچے اتری ۔۔۔اور سیدھا نیناں کی گاڑی کا بیک ڈور کھولنے لگی
“شاہو بھائی جلدی سے گاڑی میں بیٹھو ابو سیڑیوں میں ہیں “نمیرہ کے ساتھ ساتھ شاہزیب کا بھی رنگ اڑا تھا ۔۔۔نیناں بھی جلدی سے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گئ شاہزیب بھی فرنٹ ڈور کھولے اسکے برابر بیٹھ گیا نمیرہ اسوقت تک پیچھے کی نشت سنبھال چکی تھی نیناں نے جلدی سے گاڑی بیک کی تیز اسپیڈ سے اپاٹمنٹ کے مین گیٹ سے گاڑی باہر لے گئ ۔۔۔مین روڈ پر گاڑی اس نے گل اسپیڈ سے ہی چلائی تھی ۔۔۔۔
شاہزیب نے پیچھے دور تک دیکھا لیکن ابا کی وسپا کہیں نظر نہیں آئی تو سکون کا سانس لیا ۔۔۔۔
“کہاں جانا ہے اب “نیناں نے گاڑی ڈرائیور کرتے ہوئے شاہزیب سے پوچھا شاہزیب اب سوچ رہا تھا کہ بائیک تو وہیں اپاٹمنٹ کے پارکنگ ایریا میں کھڑی تھی ۔۔۔نمیرہ نے جلدی سے آگے ہوئی اور اپنے دونوں بازو نیناں اور شاہزیب کہ سیٹوں کی پشت پر رکھے
“فی الحال تو مجھے میرے کالج اتار دو باقی آپ لوگ بعد میں۔ ڈسائیڈ کرنا کہاں جانا ہے “نمیرہ نے جلدی سے اپنی رائے دی ۔۔ساتھ ہی اپنے کالج کا روڈ بتانے لگی ۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں اس کا کالجںا چکا تھا اور اتر کر چلی گئ۔۔۔۔۔
“یہاں سے لیفٹ لو اور سیدھا سیدھا چلو ۔۔”شاہزیب نے آگے کا راستہ نیناں کو بتایا ۔۔۔نیناں نے گاڑی لیفٹ سائیڈ پر لیتے ہوئے مین روڈ پر چلانی شروع کی
“تم کیوں میرے پیچھے پڑی ہو ‘
“میں آپ کو بتا چکی ہوں “نیناں کے حتمی انداز پر وہ تلملا سا گیا تھا لیکن پھر بھی بہت ضبط سے بولا
“دیکھوں کسی ایک کا محبت ہو جانا کافی نہیں ہوتا ۔۔۔مجھے تمہیں دیکھ کر کچھ بھی فیل نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔اور نا ہو سکتا ہے ۔۔۔۔”
“کیوں ۔۔۔کیا خوبصورت نہیں ہوں “وہ روہانسی ہوئی
“وہ تم ہو لیکن لڑکی نہیں ہو “
“واٹ”نیناں اسکے جواب پر اچھنبے میں آ گئ تھی
‘”اتنی حیران کیوں ہو رہی ہو ۔۔۔جا کر حلیہ دیکھو آئنے میں اپنا ۔۔۔ایسی ہوتی ہیں لڑکیاں ۔۔۔۔۔”شیزیب اسکی کیفت دیکھ کر بولا
“کیا مطلب ۔۔۔کیسی ہوتی ہیں لڑکیاں “نیناں اسکی بات سمجھ نہیں پارہی تھی
“میری طرح جیز پہنتی ہو ۔۔۔میری طرح ہی شرٹس پہنتی اور جوگر بھی”شاہزیب اسکے پینٹ شرٹ اور جوگر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا نیناں نے بھی اپنے کپڑوں کو دیکھا
“میں نے ہمیشہ ایسے ہی کپڑے پہنے ہیں ۔۔۔میں کسی کے لئے بھی اپنا لائف اسٹائل نہیں بدل سکتی ۔۔۔”نیناں نے منمناتے ہوئے کہا
” ۔٫۔۔۔ہمم۔۔۔تم بتاؤں مجھے ایسے حلیے میں کون سا لڑکا تمہیں لفٹ کروا سکتا ہے ۔۔۔۔لڑکی تو وہ ہوتی ہے جیسے دیکھ کر انسان کی نظر پلٹنا ہی بھول جائے ۔۔۔۔۔اور سینے میں دل یوں دھڑکے کے ابھی سینہ پھاڑ کے باہر آ جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔ کیا کہتے ہیں ۔۔ہاں ۔۔۔بیٹ مس ہونا ۔۔۔”شاہزیب سر پر ہاتھ مار کر یاد کرتے ہوئے کہا اور پھر نیناں کا ایک ہاتھ پکڑ کر اپنے سینے پر رکھا۔۔۔
“دیکھوں ۔۔۔تمہیں لگ رہا ہے کہ میرا دل زور زور سے دھڑک رہا ہے؟۔۔نہیں نا ۔۔۔۔۔پھر میں کیسے تم سے تعلقات بڑھا سکتا ہوں تم تو خود کو بدلنے کو تیار نہیں ہو ۔۔۔۔نیناں جی ۔محبت قر بانی مانگتی ہے۔۔محبت کرنے والے اپنے محبوب کے رنگ میں ڈھل جاتے ہیں ۔۔۔۔تم کر کیا سکتی ہو میرے لئے اپنی آسائشیں اور لگثری لائف چھوڑ سکتی ہو ۔۔۔۔۔نہیں چھوڑ سکتی ۔۔۔کچھ نہیں کر سکتی تم میرے لئے ۔۔۔۔کچھ بھی نہیں ۔۔۔بات کرتی ہو محبت کی ہنہ ۔۔۔۔دیکھوں میں بار بار تمہیں۔ نہیں سمجھاؤں گا ۔۔۔۔میرے لئے تم کوئی اہمیت نہیں رکھتی ۔۔۔۔بس گاڑی یہی۔ روک دو میری یونیورسٹی آ چکی ہے “۔۔۔شاہزیب تو گاڑی سے اتر کر اندر چلا گیا مگر نیناں کوایک نئے امتحان میں ڈال گیا تھا ۔۔۔۔وہ جو بڑے ضبط سے اس کی باتیں سن رہی تھی اب آنسوں بہانے لگی۔۔۔
*******……..****
نیلو فر سانس ہی لینا بھول گئ تھی ۔۔۔۔
“پھپو وہ ۔۔۔۔وہ ۔۔۔کچھ بھی نہیں “رنگ تو رائمہ کا بھی اڑ گیا تھا ۔۔۔۔
“نیلو ادھر آؤں دیکھاوں کیا ہے تمہارے ہاتھ میں “پھپو کے سخت تیور سے نیلو کی جان نکل رہی تھی اپنی آنے والی نئ شامت پر اسکی روح فنا ہو رہی تھی ۔۔وہ مرے مرے قدم اٹھاتی پھپو کے قریب آئی تھی پھپو نے بےدردی سے اسکے ہاتھ سے ڈوپٹہ پیچھے کیا اور زیوز دیکھ کر ان کی آنکھیں پھٹ گئیں ۔۔۔رائمہ بھی گھبرا گئ تھی البتہ رابعہ بیگم نا فہم انداز سے دیکھ رہی۔ تھیں
“نیلو کیا ہے یہ ۔۔۔کہاں سے آیا یہ زیور “پھپو کی غراتی ہوئی آواز شکن آلود پیشانی سے نیلو فر کہ جان ہوا ہوئی تھی
“رائمہ ۔۔۔رائمہ۔۔۔کہاں ہے وہ زیور جو میں تمہارے لئے ابھی لایا تھا ۔۔”باسم کمرے سے صحن میں رائمہ کو پکارتے ہوئے آیا تھا ۔۔۔رائمہ پہلے ہی نیلوفر کی وجہ سے پریشان تھی باسم کی بات پر سوچنے لگی کہ کونسا زیور اس نے اسے پکڑایا تھا
“باسم”رائمہ نے باسم کی جانب دیکھا اور باسم کے نے چپ رہنے کا اشارہ کیا جسے صرف رائمہ نے ہی دیکھا تھا ۔۔۔۔۔باسم کمرے میں ہی پھپو کہ گل فشانیاں سن چکا تھا
“بھئ وہی زیور جو تم کہہ رہی تھی تمہاری کسی سہیلی نے اپنی پھپو کو دیکھانا تھا ۔۔۔اگر اس نے دیکھا دیاہے تو واپس لے آؤں ۔۔۔اب تمہیں وہ زیور پسند ہی نہیں آیا تو سوچ رہا ہوں واپس کر کے دوسرا لا دوں ۔۔۔۔۔”باسم نے ایک نظر بھی نیلوفر کی طرف نہیں دیکھا تھا وہ ایسے لاتعلق کھڑا تھا جیسے اسے نیلو فر سے کوئی غرض ہی نا ہو ۔۔۔۔رائمہ سمجھ چکی تھی کہ یہ سب وہ نیلوفر کو بچانے کے لئے کہہ رہا ہے ۔۔۔
“ہاں ۔۔۔دیتی ہوں پھپو تو خود ہی نیچے آ گئیں۔۔۔۔”رائمہ کھڑی ہوکر پھپو کے قریب۔ آ گئ نیلو فر کے ہاتھ سے زیور لیکر پھپو کو دیکھانے لگی
“دیکھیں نا پھپو یہ ڈائزائن پرانہ سا لگ رہا ہے ۔۔۔مجھے تو بلکل پسند نہیں آیا ۔۔۔”پھپو اپنی جگہ حیران کھڑی تھی
“تو کیا تم نے نیلوفر کو یہ زیور مجھ سے مشورہ لینے کے لیے دے کر بھیج رہی تھی “پھپو نے حیرت کا اظہار کیا
“جی تو اور کیا اصل میں آپ خاصی سمجھدار اور ذہین ہیں ۔۔۔میری امی کو ان چیزوں کی سمجھ نہیں ہے۔۔۔۔میں نے سوچا آپ کو دیکھا دوں اسلئے نیلو سے کہا کہ اوپر لے جا کر آپ کو دیکھا کر پوچھ لے “
“اچھا اچھا لاؤں دیکھاو”وہ چلتی ہوئی تخت پر بیٹھ گئیں ۔۔۔
“باسم تم زیور لائے تھے ۔۔۔۔”رابعہ بیگم نے کن اکھیوں سے بیٹے کو دیکھا جو شادی کو لیکر انکی ایک نہیں سن رہا تھا
“جی امی ۔۔۔۔رائمہ کو پسند نہیں آیا ۔۔۔”باسم نے بات سنبھالی
“ہاں ویسے ڈیزائن تو واقع خاصا پرانہ سا ہے ۔۔۔لیکن ہے وزنی ۔۔۔۔”پھپو کے ہاتھ پکڑے ہی اندازہ لگا لیا کہ زیور پانچ چھ تولے سے کم کا نہیں تھا ۔۔۔۔”
رائمہ نے فورا سے زیور پکڑ لیا اور سامنے کھڑے باسم۔کو پکڑا دیا
“لو سنبھالو اسے اور کل واپس کر آنا “
“بیٹا میں نے تمہیں کہا بھی تھا کہ زیور رہنے دو ۔۔۔میرے سونے دو کڑے ہیں۔ اسی کو تڑوا کر میں ایک سیٹ بنوا دونگی رائمہ کو ۔۔۔۔کیوں تم زیور کے چکر ۔میں پڑھ رہے ہو ۔۔۔
“بس امی میرے بہت قریبی دوست کا ہے ۔۔۔۔اس نے ہی دیا کہ ابھی میں رائمہ کو پہنا دوں اور پیسے بے شک بعد میں اتار دوں ۔۔۔”باسم نے زیور رائمہ کے ہاتھ سے لیتے ہوئے ماں کو مطمئن کرنا چاہا
“اچھا تو میں اب چلتی ہوں اور تم ۔۔۔۔نیلوفر چلو اوپر چائے۔ چڑھاؤ جا کر ۔۔بھائی صاحب آنے والے ہوں گئے ۔۔۔نیلو فر جلدی سے اوپر کا زینہ۔ چڑھ گئ سیڑیاں چڑھتے ہوئے ایک تشکر بھری نظر باسم پر ڈالی ۔۔۔۔جو چور نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
******……..
پہلے تو نیناں گاڑی میں بیٹھی بیٹھی جی بھر کر روئی ۔۔۔اس کے بعد اپنے کالج جانے کے بجائے اپنی ایک قریبی پارلر پر چلی گئ جہاں وہ ہمیشہ اپنے بالوں کی کٹنگ کروانے جاتی تھی ۔۔۔۔۔بنا اپوانمنٹ لئے وہ سیدھا اندر چلی گئ ۔اتنی صبح صبح وہاں رش نہیں تھا پھر پارلر والی لڑکی اسکی دوست بھی تھی ۔۔۔نیناں کو یوں پریشان حال دیکھ کر خیریت دریافت کرنے لگی
“تم اس وقت اتنی صبح صبح ۔۔۔خیریت تو ہے نا نیناں “
“نیناں نے روئی روئی آنکھوں سے اسے دیکھا۔ ۔۔۔پھر سامنے لگے قد آدم شیشے کے قریب آ کر خود کو غور سے دیکھنے لگی وہ لڑکی بھی اس کے پاس آ کر کھڑی ہو گئ ۔۔۔
“کیا ہوا نیناں “
“کیا میں لڑکا لگتی ہوں “نیناں کے آنکھوں چھلکنے لگیں
“نہیں کیوں “
“نہیں۔۔۔میں لگتی ہوں ۔۔وہ سچ کہتا ہے ۔۔۔میں لڑکا لگتی ہوں ۔۔۔دیکھوں میری طرف ۔۔۔۔کیا لڑکیاں ایسی ہوتی ہیں جیسی میں ہوں ۔۔۔۔” آنسوں ٹپ ٹپ گرنے لگے تھے
“کس نے کہا تم سے ۔۔۔”رامین نے اسے یوں روتے دیکھ کر پوچھا
“شاہزیب نے “وہ سسکی تھی
“تمہارا بوائے فرینڈ؟”
“نو ۔۔۔۔ہی از مائے لو۔۔۔۔۔رامین میں بہت محبت کرتی ہوں اس سے ۔۔۔لیکن وہ نہیں کرتا کہتا ہے میں لڑکی نہیں ہوں “یہ کہتے ہی نینااں نے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔۔۔۔
“نیناں میری جان کیوں رو رہی ہو ادھر آؤں ” رامین نے اسکا ہاتھ پکڑے اسے ریوانونگ چیر پر بیٹھا دیا
اور پھر سامنے رکھے ڈسپنسر سے پانی گلاس میں ڈال کر نیناں کے پاس آ گئ ۔۔۔۔۔۔اسے پانی پلایا ۔۔۔سامنے رکھے ٹشو بکس سے ٹشو نکال کر اسے آنسوں صاف کرنے لگی نیناں اب رو دھو کے خود کو کافی ہلکا پھلکا محسوس کر رہی تھی اس لئے چپ ہو گی
“اب بتاؤں کیا ہوا ہے ۔۔۔۔”رامین دوسری کر سی سے ٹیک لگا کر کھڑی ہو گئ ۔۔۔
“وہ کہتا ہے مجھ میں لڑکیوں والی کوئی بات نہیں ہے ۔۔۔مجھے دیکھ کر اس کی ہارٹ بیٹ نہیں بڑھتی نا ہی اسے مجھے دیکھ کر کچھ فیلنگ ہوتی ہے۔۔۔ ۔۔۔۔تم بتاؤں رامین میں ایسا کرو کہ اسے مجھ سے محبت ہو جائے ۔۔۔۔”نیناں کی بات سمجھ کر رامین بے ساختہ زور زور سے ہسنے لگی ۔۔۔
” بس اتنی سی بات ۔۔۔۔۔تم اب یہ سب مجھ پر چھوڑ دو ۔۔۔۔دیکھوں میں تمہیں آج ایسا بناؤں کے اس کا دل فل اسپیڈ سے بھاگے گا ۔۔۔اور تمہیں دیکھ کر وہ نظریں ہٹانا ہی بھول جائے گا ۔۔۔۔۔پھر تو واقع ایک گھنٹے کی محنت کے بعد رامین نے نیناں کے ہیر اسٹائل کو چینج کیا اسکے آئی برو بنائے اور فیشل کے بعد ہلکے میک پر ڈارک لیپ اسٹک لگائی بالوں کولئیر میں کاٹ کر کھلے رہنے دیا ۔۔۔پھر چہرے پر ایک تنقیدی نظر ڈال کر مسکرانے لگی
“پرفیکٹ ۔۔۔پریٹی گرل ۔۔۔۔چلو اب مال چلتے ہیں ۔۔۔۔بارہ بج رہے ہیں اب تک تو کھل چکے ہوں گئے ۔۔۔۔۔رامین نے اپنے ماتحت کام کرنے والی لڑکیوں سے کہا کہ گر کوئی کسٹمر ا بھی جائے تو وہ سنبھال لیں اور خود نیناں کے ساتھ مال میں چلی گئ ایک فٹنگ اور آگے پیچھے سے گہرے گلے کی فراک اور چوڑی دار پاجامہ لے کر وہیں ٹرائنگ روم میں اسے چینج کروایا ۔۔۔۔نیناں نے پہلی بار اس قسم۔کا لباس پہنا تھا اس لئے انکنفرٹیبل فیل کر رہی تھی ۔۔۔۔۔۔
“رامین یہ بہت فٹ ہے میرا دم گھٹ رہا ہے پھر اس کا گلہ بھی ڈیپ ہے “نیناں پریشان ہوئی
“ابھی پہلی بار پہنا کے نا اسلئے لگ رہا ہے ۔۔آہستہ آہستہ عادت ہو جائے گی ۔۔۔چلو اب تمہارے جوگر بلکل اچھے نہیں لگ رہے ۔۔۔۔باریک نیٹ کا ڈوپٹہ نیناں نے بے نیازی سے لیا تھا ۔۔۔پہلی بار تو ڈوپٹہ پہنے کا اتفاق ہوا تھا اسے ۔۔۔۔رامین اسے جوتوں کی شاپ پر لے گئ اور ایک ہائی ہیل کے سینڈل اسے پہنائے ۔۔۔جسے پہن کر وہ با مشکل ہی چل پا رہی تھی ۔۔۔۔۔۔
“رامین میں گر جاؤں گی ۔۔۔”وہ لڑکھڑا کر سنبھلی تھی
“بی کنفڈسن نیناں ۔۔۔۔بس آرام سے پیر جما کر چلو ۔۔۔۔نہیں گرو گی “۔۔۔۔رامین کی تسلی بھی نیناں کے لئے نا کافی تھی
وہ سیج سیج کر قدم رکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔
چلو اب مجھے پارلر ڈروپ کرو اور جاؤں اسکے پاس”
“تمہیں کیا لگتا ہے کیا وہ مجھے دیکھے گا “نیناں اب بھی بے یقین تھی
“دیکھے گا بھاگتا ہوا آئے گا تمہارے پاس ۔۔۔”رامین نے ایک آبرو چڑھا کر تیقن سے کہا ۔۔۔۔
*****……
آخر کی کلاس بنک کر کے شاہزیب خرم اور سیفی جمی کے ساتھ کینٹین میں بیٹھا تھا ۔۔۔۔
“یار بہت دن ہوگئے کچھ نیا نہیں کیا ۔۔۔۔”سیفی نے شاہزیب کو کندھے پر ہاتھ جڑتے ہوئے کہا۔۔۔
“بس کچھ دن سے ایک مصیب میں پھنس گیا تھا ۔۔۔لیکن آج رات کرتے ہیں کچھ نیا “شاہ زیب کو نیناں کا خیال آنے لگا وہ پچھلے کئ دنوں سے وہ نیناں کے چکر میں ویلنگ نہیں کر پایا تھا
‘ٹھیک ہے سی ویو پر اپنی والی جگہ پر آجانا ۔۔۔سب ملکر سب نے ہوش اڑائیں گئے “خرم نے بھی چیونگم چباتے ہوئے کہا
“نہیں سی ویو رہنے دو ۔۔وہ اپاٹمنٹ کے پیچھے والی گلی ہے ۔۔۔جو ذیادہ تر سنسان ہی رھتی ہے وہیں کریں “شاہ زیب کو سی ویو کا نام سنتے نیناں کا خیال آنے لگا ۔۔۔
“کیوں سی ویو جانے میں کیا پرابلم ہے ۔۔۔وہاں ذیادہ بڑا روٹ مل جاتا ہے ۔۔۔”جمی نے برگر کھاتے ہوئے کہا
“نہیں یار ۔۔۔بس چند لمحے کی تو بات ہوتی ہے وہ ہم گلی میں بھی کر سکتے ہیں ۔۔۔”شاہزیب بار بار ٹال رہا تھا کہ کہیں نیناں سے دوبارہ ملاقات ہی نا ہو جائے ۔۔۔اس خبطی لڑکی سے کچھ بھی بعید تھا اگر وہ وہاں پہنچ گئ تو اسکے سب دوستوں کے سامنے بھی آنے سے گریز نہیں کرے گی ۔۔۔اور وہ نہیں چاہتا تھا ۔۔نیناں کے بارے میں اسکے دوستوں کو کچھ بھی پتہ چلے ۔۔۔۔
“ہاں تم بس چند لمحوں کا ہی رسک لے سکتے ہو۔۔۔۔میں تو تب تمہیں ہیرو مانو جب تم لمحوں کے کھیل کو منٹیوں تک کر کے دیکھاو۔۔۔”سامنے کھڑے ۔۔۔۔دلاور اپنے گروپ کے لڑکوں کے ساتھ شاہزیب۔ کی ٹیبل کے سامنے کھڑے کڑے تیور لئے بولا ۔۔۔جو ہر بار شاہزیب سے بائیک کی ریس اور ون ویلنگ پر ہارتا آ رہا تھا ۔۔۔۔شاہزیب نے ۔۔۔۔تعجب کا اظہار کیا
“یہ تم کہہ رہے ہو ۔۔۔۔شاید بھول رہے ہو کہ ہر بار میرے چند لمحے ہی بھاری ہوتے ہیں تم پر ۔۔۔۔”
“لیکن اس بار میں بھی پوری تیاری سے ہوں ۔۔۔شکست اس بار تمہاری ہو گی ۔۔۔۔”دلاور نے مغرور لہجے میں کہا
“ہممم۔۔۔۔کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ ۔۔۔۔دلاور بابو ۔۔۔۔اپنی ہمت دیکھ کر بات کرو شاہو سے ۔۔۔ورنہ اس بار تم سے ناک سے لکیروں کھنچاوا دونگا “شاہزیب کا وہی لا پروا انداز دلاور کو کھولا کر رکھ گیا تھا
“اس بار دیکھ لینا شکست تمہاری ہی ہو گی ۔۔۔”فلور نے اپنا بھرم رکھنا چاہا
“اچھا اور اگر میں ہر بار کی طرح اس بار بھی جیت گیا تو “شاہزیب نے کرسی سے ٹیک لگا کر پر عتمادی سے پوچھا
“جو تم کہو مجھے منظور ہو گا “
“سوچ لو دلاور ۔۔۔۔شاہزیب کو چیلنج کرنا بہت مہنگا پڑے گا تمہیں”
“منظور ہے شرط بتاؤں “دلاور نے اپنے دونوں ہاتھ ٹیبل پر رکھے جھک کر شاہزیب۔ کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا شاہزیب نے دونوں ٹانگیں سامنے ٹیبل پر رکھ دیں جہاں دلاور کا منہ تھا ۔۔۔۔اور اپنے پاؤں ہلانے لگا دلاور پیچھے ہٹ کر کھڑا ہو گیا ۔۔۔
“اس بار تم شاہو کے جوتے اتارو گئے اور اپنے سر پر مارو گئے ۔۔۔اور کہو گئے کہ شاہو از دا بیسٹ “شاہزیب کی شرط پر سیفی اور خرم بھی سیدھے ہو کر بیٹھے تھے ۔۔۔دلاور کسی ذمیدار کا بیٹا تھا اثرورسوخ رکھتا تھا ۔۔۔۔شاہزیب نے اسے بہت بری طرح للکارا تھا کچھ پل تو دلاور بھی چپ سا ہو گیا لیکن شاہزیب۔ بہت مطمئن سا تھا ۔۔۔۔
“مجھے منظور ہے ۔۔۔لیکن اگر تم ہارے تو تم بھی یہی کرو گئے
“ڈن “
“پھر سنڈے کو سمندر پر آ جانا “دلاور یہ کہہ کر چلا گیا
“شاہو یہ شرط رکھنے کی کی ضرورت تھی کچھ اور رکھ لیتے ۔۔۔۔۔خوہمخواپ میں دشمن بنانے والی بات ہے ‘
“ابے چھوڑ یار ۔۔۔۔شاہو کو چیلنج کر رہا تھا سالا ۔۔۔۔”
“ویسے ایک بات وہ ٹھیک کہہ رہا تھا وہ پچھلی ہار کے بعد سے پریکٹس میں ہے “جمی نے کہا
“اس چھوندر کو تو میں بنا پریکٹس کے بھی ہارا سکتا ہوں “۔۔۔۔شاہزیب نے سامنے رکھی کوک سے اسٹرا نکال کر باہر پھینکا اور بوتل کو منہ لگا لیا
“ابے یار سامنے دیکھ کیا آئٹم ہے یار ۔۔۔۔سو پریٹی “جمی کی آنکھیں۔ پھٹیں خرم نے ببل کا غبارہ بناتے ہوئے سامنے ۔۔آنکھیں۔ پھاڑے اس لڑکی کو دیکھ کر ہونق ہوا ببل کا غبارہ پھول کر پھٹ اس کے ناک منہ پرچپک گئ ۔۔۔صیفی بھی دم بخود ہو کر اسے دیکھ رہا تھا شاہزیب بوتل کو منہ لگا کر پی رہا تھا اس لئے سامنے نظر نہیں۔ پڑی مگر منہ میں بوتل بھر کر جب اس نے سامنے دیکھا تو نیناں کودیکھ کر یک دم ہی منہ سے بوتل فوارے کی طرح نکلی اور برسات کی طرح سیفی ۔۔جمی اور خرم کے منہ پر برسی سب کی نظریں یک دم نیناں سے ہٹ کر شاہزیب۔ کو گھورنے لگیں
“ابے گھامڑ یہ کیا کیا تو نے ۔۔۔۔”سیفی نے بوتل سے بھرے اپنے منہ اور کپڑوں کی طرف اشارہ کیا ۔۔۔خرم کو ہوش آیا تو چیوگم ناک منہ سے اتارنےلگا ۔۔۔۔۔جمی کھا جانے والے انداز سے شاہزیب کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
لیکن شاہ زیب تو سامنے سے نظر ہی نہیں ہٹا پایا ۔۔۔کھے بال تنگ اور چست گہرے گلے کی فراک نیٹ کا ہلکا سا ڈوپٹہ نیناں کو چھپانے کے لئے نا کافی تھا ۔۔۔۔وہ کسی قاتل حسینہ کی طرح نظریں گھمائے اسے ہی ڈھونڈ رہی تھی۔۔۔۔اور اسکے پیچھے لڑکوں کا ہجوم دیکھ کر شاہزیب کے رہے سہے ہوش بھی اڑنے لگے تھے ۔۔۔۔
