One Wheeling by Umme Hani NovelR50409

One Wheeling by Umme Hani NovelR50409 One Wheeling Episode 13

491.3K
42

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

One Wheeling Episode 13

One Wheeling by Umme Hani

نیناں نے رامین کو پارلر ڈروپ کیا پھر شاہزیب۔ کی یونیورسٹی پہنچ گئ ۔۔۔۔۔بڑی مشکل سے ہائی ہیل کے ساتھ وہ چل رہی تھی ۔۔۔پھر اسے معلوم بھی نہیں تھا کہ اسے شاہزیب ملے گا کہاں ۔۔۔۔جیسے جیسے وہ آگے بڑھ رہی تھی لڑکوں کی عجیب عجیب سی نظریں خود پر محسوس کر رہی تھی لڑکے تو لڑکے لڑکیاں بھی دبی دبی ہنسی کے ساتھ اسکے پاس سے گزر رہیں تھیں ۔۔۔۔نیناں نروس سی ہونے لگی ۔۔ایک تو اتنا فٹ ڈریس اور ہائی ہیل پر چلنا اسکے لئے دشوار مرحلہ تھا پھر لوگوں کے عجیب سے رویے ۔اور نظریں ۔۔۔اس نے ایک قریب سے گزرنے والی لڑکی کو روکا

“ایکسکیوز می ۔۔۔۔مجھے ایم کام کے اسٹونٹ مسٹر شاہزیب سے ملنا ہے آپ پلیز بتائیں گئ کہ ان کاڈپاٹمنث کہاں ہے ۔۔۔” نیناں کے استفسار پر اس لڑکی نے اے آر سے پیر تک باغور دیکھا ۔۔۔۔پھر اپنی مسکراہٹ دبائی

“دیکھیں ڈپارٹمنٹ تو وہ سامنے ہی ہے ۔۔۔لیکن اتنے شاہزیب ہیں آپ انکا پورا نام بتائیے “

“وہ ون ویلنگ کرتے ہیں ۔۔۔”نیناں نے کہا

“اوہو شاہو سے ملنا ہے ۔۔۔۔”وہ لڑکی فوراسے پہچان گئ تھی

“جی جی انہیں سے “

“اسے تو میں نے کیٹین میں جاتے دیکھا تھا ۔۔۔۔آپ پارک کی رائٹ سائیڈ کی طرف مڑ جائیں سامنے ہی کینٹین ہے “وہ لڑکی اسے بتا کر فوراسے چلی گئ نیناں دھیرے دھیرے سے چلتی ہوئی ۔۔۔پارک کی طرف جانے لگی ۔۔۔سیٹیوں اور ہسنے کی آوازیں اسے آپ ے عقب سے آ رہیں تھیں ۔۔۔

“کیا لڑکی ہے ۔۔۔کیا فٹنس ہے ۔۔۔۔اففف”لڑکوں کے بے باک کمنٹ پر اس دل چاہا زور زور سے رونے لگے ۔۔۔۔پہلے تو رامین پر غصہ آیا پھر شاہزیب پر ۔۔۔کیاضروری تھا مجھے اس حلیے میں دیکھ کر ہی اسے مجھ سے محبت ہو سکتی تھی ۔۔۔۔بنا پیچھے دیکھے وہ کینٹین کی جانب بڑھنے لگی ۔۔۔۔کینٹین کافی بڑی تھی جگہ جگہ ٹیبل پر اسٹوڈنٹ بیٹھے کھانے پینے میں مصروف تھے ۔۔۔۔لیکن اسے شاہزیب کہیں بھی نظر نہیں آ رہا تھا ۔۔۔

******…….

شاہزیب کو نیناں پر غصہ آنے لگا ۔۔۔۔نا جانے وہ کیوں آئی تھی یہاں اور وہ بھی اس حلیے میں ۔۔۔۔اس سے پہلے کہ اس کا مزید وہاں کوئی تماشہ بنتا ۔۔۔۔۔شاہزیب نیناں کی طرف تیزی سے بڑھنے لگا ۔۔۔۔سامنے آنے والے اسٹوڈنٹ لڑکوں کو پیچھے دھکیلتے ہوئے ۔۔۔نیناں بھی اسے دیکھ چکی تھی ۔۔۔

رامین کہ ایک بات تو ٹھیک ہی ثابت ہوئی ہے وہ بھاگتے ہوئے ہی میرے پاس آ رہا ہے نیناں نے اسے یوں تیزی سے قدم بڑھاتے دیکھا تو سوچنے لگی ۔۔۔شاہزیب نے اسے بازو سے پکڑا اور غصے سے بولا

“باہر چلو میرے ساتھ “وہ حد سے زیادہ غصے میں تھا ۔۔۔نیناں کے پیچھے کھڑے لڑکوں کو اس نے قہر بھری نظروں سے دیکھا

“کوئی تماشہ ہو رہا ہے یہاں پر ۔۔۔یہاں کھڑے کیا دیکھ رہے ہو ۔۔۔۔نکلو سب یہاں سے ۔۔۔”شاہزیب کی دھاڑ پر سب لڑکے منتشر ہوگئے ۔۔۔۔

شاہزیب نے ۔ سامنے سے کینٹین میں کام کرنے والے ایک ملازم کو آواز دے کر بلایا ۔۔۔اور اسکے قریب آتے ہی اس کے کندھے پر رکھے رومال کو اتار کر کھولا نیناں کے گلے کے گرد لپیٹا اور اسے اپنے ساتھ باہر لے جانے لگا ۔۔۔۔۔جمی سیفی اور خرم تو یہ سب دیکھ کر دم بخود سے رہ گئے تھے ۔۔۔۔شاہزیب آج تک یوں کسی لڑکی کے ساتھ کبھی نظر نہیں آیا تھا ۔۔۔وہ لوگ ایک ہی اپاٹمنٹ میں رہتے آ رہے تھے اسکول کالج یہاں تک کہ یونیورسٹی میں بھی انکا گروپ وہی تھا ۔۔اس لئے۔شاہزیب کے مزاج سے اچھی طرح واقف تھے ۔۔۔لڑکیوں سے وہ کوسوں دور بھاگتا تھا ۔۔۔۔۔حالانکہ بہت سی لڑکیاں اس سے دوستی کی۔ خواہش مند تھیں لیکن اس کے rude behavior سے اس سے بات کرنے سے کتراتی تھی ۔۔۔۔اس لئے کسی لڑکی کے ساتھ شاہزیب کو دیکھ کر ان تینوں کا حیران ہونا بنتا تھا ۔۔۔۔پھر جسطرح سے وہ اسے ڈھانپتے ہوئے اسکا بازو بڑی بے تکلفی سے پکڑتے ہوئے اپنے ساتھ باہر لیکر گیا تھا یقینا یہ پہلی ملاقات تو ہر گز بھی نہیں تھی ۔۔۔۔شاہزیب کے کینٹین سے نکلتے کے بعد تینوں نے نافہم انداز سے ایک دوسرے کو دیکھا ۔۔۔

“شاہزیب اور لڑکی ۔۔۔۔”بیک وقت تینوں کے منہ سے نکلا تھا۔۔۔۔۔

شاہ زیب کے تیز قدموں کا مقابلہ نیناں اس ہائی ہیل کے ساتھ نہیں کر پا رہی تھی ۔۔۔

“شاہزیب میں گر جاؤں گی پلیز آہستہ چلیں ۔۔۔”مگر شاہزیب۔ تو یوں لاتعلق تھا کہ جیسے کچھ بھی سنائی نا دے رہا ہو ۔۔۔۔۔یونی کے مین گیٹ کو عبور کرتے سامنے نیناں کی گاڑی کے پاس لا کر اسے جھٹکے سے چھوڑا ۔۔۔۔نیناں گرتے گرتے بچی تھی

“کیا چاہتی ہو تم ۔۔۔پہلے میرے گھر۔۔۔۔۔اور اب یونی میں ۔ وہ بھی اس طرح کا بیہودہ ۔لباس پہن کر ۔کیوں بدنام کر رہی ہو مجھے ۔۔۔۔میری بات کان کھول کر سن لو ۔۔۔۔نیناں میں غصے کا بہت برا لڑکا ہوں ۔۔۔۔۔اگر میں تمہیں بدنام کرنے پر آیا تو کہیں منہ دیکھانے کے قابل نہیں چھوڑو گا ۔۔۔”شاہزیب کی آنکھیں سرخ انگارا بنی رہیں تھیں ۔۔۔۔اور لہجہ بھی ایسا ہی ترش تھا دانت بھنچ کر وہ غصے سے گھورتے ہوئے اسے وان کر رہا تھا

“میرا کیا قصور ہے شاہزیب ۔۔۔آپ ہی نے کہا تھا ۔۔۔۔۔یہ سب پہنے کو۔۔۔۔”نیناں اب رونے لگی تھی پہلے لڑکوں کے ہوٹنگ اور الٹے سیدھے فقرے سن کر دلبرداشتہ ہو چکی تھی پھے شاہزیب۔ کا رویہ دیکھ کر مزید ضبط کھو بیٹھی تھی ۔۔۔۔

“میں نے کہا تھا تم سے یہ سب پہنے کو۔۔آر یو ان یور سنسز نیناں میں ایسا کیوں کہوں گا ۔۔۔۔”شاہزیب کی اسکی عقل پر شبعہ ہونے لگا تھا وہ بھلا اسے ایسا کیوں کہے گا

“صبح ہی تو آپ نے کہا تھا کہ مجھے دیکھ کر آپ کو کوئی فیلنگ نہیں ہوتی ۔۔کیونکہ میں لڑکیوں جیسی نہیں لگتی ۔۔۔۔۔۔اس لئے میں نے یہ سب پہنا ہے وہ بھی پہلی بار صرف آپکے لئے ۔۔۔حالانکہ اتنا تنگ لباس پہننے سے میرا دم گھٹ رہا ہے ۔۔لیکن پھر بھی میں نے پہنا آپکی خاطر ۔۔۔اتنی ہائی ہیل میں مجھ سے چلا بھی نہیں جا رہا کیونکہ میں نے ہمیشہ جوگر ہی پہنے تھے ۔۔لیکن پھر میں نے ہائی ہیل پہنی اور بنا گرے چل رہی ہوں ۔۔۔۔۔۔آپ نے کہاں تھا محبت قربانی مانگتی ہے ۔۔۔محبوب کے رنگ میں خود کو ڈھالنا پڑتا ہے ۔۔۔۔میں نے تو وہی سب کچھ کیا ہے ۔۔۔اب بھی آپ مجھے ہی ڈانٹ رہیں ہیں”نیناں بے تحاشہ روتے ہوئے کہہ رہی تھی ۔۔۔شاہزیب اسے بس تکے جا رہا تھا ۔۔۔۔۔کیا ہے یہ لڑکی “شاہزیب نیناں کے قریب آیا

“تم نے یہ سب میرے کیا ہے ۔۔۔”

“ہمم “وہ آنسوں صاف کرتے ہوئے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے اعتراف کر رہی تھی

“میں نے تم سے کب کہا تھا کہ مجھے ایسا لباس پسند ہے ۔۔مجھے تو تم اس میں ویسے بھی زہر لگ رہی ہو “شاہزیب کی صاف گوئی پر نیناں کی نیناں پھر سے بہنے لگے

“آپ ہی نے کہا تھا کہ لڑکی وہ ہوتی ہے جیسے دیکھ کر نظر پلٹنا بھول جائے ۔۔۔۔اور دل زور زور سے دھڑکنے لگے۔۔۔۔”وہ بہتے آنسوں کے ساتھ اسے اسکی ہر بات یاد کروا رہی تھی

“اووہ ۔۔۔۔تو اس لئے تم نے یہ پہنا ہے ۔۔۔۔”شاہزیب کا غصہ کب کا غائب ہو چکا تھا ۔۔۔اب وہ اسے دیکھ کر مسکرانے لگا ۔۔۔پھر ہسنے لگا ۔۔۔۔۔پھر زور زور سے ہسنے لگا ۔۔۔۔نیناں حیراں پریشان اسے ہنستے ہوئے دیکھ رہی تھی ۔۔۔اور وہ ہنسے جا رہا تھا ۔۔۔۔بڑی مشکل سے اپنی ہنسی پر قابو پا کر اسکے قریب ہو کر بولا

” نیناں ۔۔۔میری میناں ۔۔۔۔میں نے دل دھڑکانے کے لئے کہا تھا ۔۔۔۔ہارث اٹیک کروانے کے لئے نہیں کہا تھا ۔۔۔۔۔۔اور مجھے متاثر کرنے کے چکر میں تم میری یونی کے آدھے لڑکوں کو متاثر کر چکی ہو ۔۔۔۔۔کیا۔ چیز ہو تم یار “نیناں کے آنسوں اب بھی بہہ رہے تھے ۔۔۔پہلی بار شاہزیب نے اسے غور سے دیکھا تھا ۔۔۔۔روئی روئی آنکھوں میں کاجل پھیل چکا تھا ۔۔۔۔مگر اسکے دودھیاں رنگ پر وہ پھیلا ہوا کاجل اسے اور بھی حیسن بنا رہا تھا ۔۔۔۔شاہزیب کچھ پل تو واقع اسے محویت سے دیکھتا رہا ۔۔۔پھر اپنے ہاتھ کی پشت سے اسکے چہرے پر گرتے آنسوں صاف کیے

” اب یہ رونا بند کرو اور چلو میرے ساتھ ۔۔۔میں۔ تمہیں بتاتا ہوں مجھے کیسا لباس پسند ہے ۔۔۔”شاہزیب۔ کی غیر متوقع بات پر نیناں متحیر ہوئی تھی ۔۔۔۔ لیکن پھر ڈرائیونگ سیٹ سنبھال چکی تھی

******…….

شاہزیب کی ساری رپوٹ بختیار صاحب کے ٹیبل پر موجود تھی ۔۔۔ وہ لڑکا بھی جو اسکی انکوائری پر معمور تھا ۔۔۔۔

بختیار صاحب جب اپنے آفس کے روم میں داخل ہوئے وہ لڑکا انکے احترام میں کھڑا ہو گیا ۔۔۔بختیار صاحب نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا اور خود سامنے اپنی ریواونگ پر بیٹھ گئے ۔۔۔۔اور سامنے رکھی سگریٹ کی ڈبیہ نکالی اور اس میں سے سگریٹ نکال ہونٹوں میں دبایا لائٹر سے سگریٹ سلگائی ۔۔۔

“سر یہ اس لڑکے کی پوری انفارمیشن ہے جس کی تصویر آپ نے مجھے بھیجی تھی “۔۔۔۔

“ہمم گڈ پڑھوں اسے “سگڑیٹ کا دھواں باہر نکالتے ہوئے بختیار صاحب نے حکم جاری کیا ۔۔۔۔

“مجھے پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے میں نے خود ہی تو سب لکھا ہے “

“اس لڑکے کا نا شاہزیب ہے والد کا نام محمد زمان ہے جو کہ ایک بوائز کالج کر پروفیسر ہیں متوسط گھرانے سے تعلق رکھتا ہے ۔۔۔۔اس لڑکے کی دو بہنیں۔ اور ایک بھائی ہے ۔۔۔۔بائیک پر کرتب دیکھنا اس کا شوق ہے ۔۔۔۔اپنی یونیورسٹی میں بھی ویلنگ کرنے کی وجہ سے مشہور ہے ۔۔۔لیکن لڑکیوں سے کبھی اس کا کوئی افیر سننے میں نہیں آیا ۔۔۔۔نا سگریٹ پان کا شوق رکھتا ہے ۔۔۔نا ہی کسی غلط کمپنی میں ملوث ہے ۔۔۔۔”

“ہمم تم جا سکتے ہو “بختیار صاحب نے اس لڑکے کے سامنے ٹیبل پر پیسے پھینکے ۔۔۔اس نے مسکرا کر پیسے پکڑ کر چومے اور جیب میں رکھ کر چلا گیا ۔۔۔۔فون۔کی بیل بجنے لگی ڈرائیور کی کال تھی بختیار صاحب نے کال اٹینڈ کی

“ہاں بولو کیا رپوٹ ہے “سگریٹ اب بھی بختیار صاحب کے ہونٹوں پر لگا ہوا تھا بنا منہ سے سگریٹ ہٹائے وہ ماتھے پر تیوری چڑھائے پوچھ رہے تھے چہرے پر تفکر کی گہری لکیریں نمایاں ہو رہیں تھیں۔۔۔۔

“سر بے بی آج پھر سے گاڑی خود ڈرائیور کر کے کالج جانے کی ضد کر رہی تھیں “

“ہمم پھر “بختیار صاحب نے سگریٹ کا دھواں اڑایا

“سر وہ اپنی گاڑی لیکر کر نکلیں تو میں دوسری گاڑی میں انکا پیچھا کرنے لگا لیکن وہ کالج کے بجائے اس لڑکے کے گھر کے باہر کھڑی ہو گئیں ۔۔۔پھر کافی دیر انتظار کرنے کے بعد وہ لڑکا نیچے اترا۔۔۔ بے بی سے کچھ بات کی پھر اسکی بہن نیچے اتری اور تینوں گاڑی میں بیٹھ کر چلے گئے ۔۔۔

“کہاں “بختیار صاحب کی ساری توجہ ڈرائیور کی روداد سننے میں لگی ہوئی تھی

“سر بے بی نے پہلے اس لڑکی کو ایک گرلز کالج ڈراپ کیسا تھا ۔۔۔پھر اس لڑکے کو یونیورسٹی ۔۔اس کے بعد وہ اپنے پاتلو چلی گئیں “

“پھر “

” پھر پارلر والی لڑکی کےساتھ مال میں گئیں تھیں وہاں سے اپنا لباس اور جوتے تبدیل کر کے باہر نکلیں تھیں ۔۔۔مجھے تو لگتا ہے وہ پارلر والی لڑکی بھی شامل ہے اس سارے کھیل میں ۔۔۔۔اور بے بی کو اسی نے بہکایا ہو گا ۔۔۔اس۔ لئے ہر کام میں پیش پیش تھی “

” تم اپنے خدشات اپنے پاس رکھو ۔۔۔مجھے بس وہ بتاؤں جو میں تم سے پوچھ رہا ہوں “بختیار صاحب غصے سے دھاڑے “

“او کے سر “ڈرائیور کی آواز کپکپائی

“پھر بے بی اس لڑکے کی یونیورسٹی گئی۔ کچھ دیر بعد ہی وہ دونوں یونیورسٹی سے باہر نکلے اور کچھ دیر باہر کھڑے ہو کر باتیں کیں ۔۔۔سر بے بی کسی بات پر بہت رو رہی۔ تھی “

“رو رہی تھی کس بات پر “بختیار صاحب نے سگریٹ ایش ٹرے میں بجھایا

“سر وہ مجھے اتنی دور سے آواز نہیں آئی ۔۔۔سر لیکن وہ لڑکا انہیں دیکھ کر جاہلوں کی طرح ہنس رہا تھا ۔۔۔شاید بے بی کے رونے کا مزاق اڑا رہا تھا ۔۔۔۔”

“اس کمینے کی اتنی جرت کہ میری بیٹی کے آنسوں کا مزاق اڑایے۔۔۔ “بختیار صاحب کا بس نہیں چل رہا تھا کہ ،شاہزیب کی گردن ہی دبوچ لیتے۔۔۔اپنی بیٹی کی آنکھ میں آنسوں تو انہیں ویسے بھی برداشت نہیں تھے ۔۔۔۔۔

“یس سر اس کمینے کی اتنی جرت کے وہ بے بی کے رونے پر بھی قہقے لگائے ہنس رہا تھا “ڈرائیور نے مزید تپاتے ہوئے کہا ۔۔۔

“آگے کیا ہوا “بختیار صاحب کی پیشانی سلوٹیں مزید بڑھیں

“سر بے بی اس لڑکے کے ساتھ گاڑی میں پھر سے مال چلی گئی ابھی وہ دونوں ایک لیڈیز ڈریس کی شاپ میں ہیں اس لئے میں اندر نہیں جا سکتا ۔۔۔۔”

“ٹھیک ہے تم سائے کی طرح انکا پیچھا کرو ۔۔۔اور مجھے پہلے پل کی رپورٹ دو ۔۔۔۔”

یس سر “فون بند ہو گیا بختیار صاحب اپنے ہاتھ کا مکا بنا کر دوسری ہتھیلی پر مارنے لگے ۔۔۔۔شاہزیب پر انہیں رہ رہ کر غصہ آ رہا تھا ۔۔۔۔

******…….

اگلے روز باسم نے وہ زیور رائمہ کو تھما دئیے

“یہ اپنی سہیلی کو دینا رائمہ جب اسکی پھپو گھر پر نا ہوں ۔۔۔”,

“ہاں کر دونگی واپس ۔۔۔۔۔باسم ویسے اچھا ہی کیا تم نے جو بات سنبھال لی ورنہ نیلو بچاری کی شامت آنی تھی۔۔۔۔”

“ہمم یہ تو ہے ۔۔۔۔لیکن فری کو کیا ضرورت تھی یہ سب کر کے خطرہ مول لینے کی “

“فری ۔۔۔۔۔۔”رائمہ نے تعجب سے باسم کی طرف دیکھا جو بے اختیار فری کہہ گیا تھا ۔۔ اب مسکرا کر نظریں جھکا گیا رائمہ سمجھ گئ کہ باسم نیلوفر کے لئے الگ سے جذبات رکھنے لگا ہے ۔۔۔۔

“اووہ تو بات ہے “رائمہ بھی مسکرا کر معنی خیز انداز سے بولی

“کیا بات ہے ۔۔۔”باسم نے مصنوعی حیرت کا اظہار کیا

“مجھ سے نہیں چھپا سکتے تم ۔۔۔۔سچ سچ بتاؤں یہ نیلوفر تمہاری لئے صرف فری کب سے بن گئ ۔۔۔مجھے تو خبر تک نہیں ہوئی “

“ہمم بس بن گئ ۔۔۔۔تمہیں شادی کی شاپنگ اور اپنے ڈوپٹے ناکنے سے فرصت ملے تب تمہی۔ معلوم ہو ۔۔۔”باسم نے رائمہ کی گال تھپتھپا کر کہا

“ایسی ہی بات ہے تو ۔۔۔میں اور امی آج ہی نیلو کے والد اور پھپو سے بات کر لیتے ہیں۔۔”

“جی نہیں ۔۔۔کوئی ضرورت نہیں ہے کہ ہاتھ سرسوں جمانے کی ابھی تم بس اپنے گھر رخصت ہونے کی سوچوں ۔۔۔۔یہ سب بعد میں دیکھا جائے گا ۔۔۔۔”باسم نے بات کی ختم کر دی

******……..

شاہزیب نے نیناں کو ایک سی گرین کلر کا اسٹچ ایبل ڈریس لیکر دیا ۔۔۔۔

“یہ اچھا ہے جاؤں چینج کرو اسے “شاہزیب نے ڈریس نیناں کو تھما کر کہا وہ خاموشی سے ٹرائے روم میں۔ چلی گئ کچھ دیر بعد ہی وہ اسی لباس میں اسے نظر آئی جو شاہزیب نے اسے دیا تھا ۔۔۔۔۔اسکی گوری سفید رنگت پر وہ کلر خوب جچ رہا تھا پھر پہلی بار شلوار قمیض میں اسے دیکھ کر کچھ دیر وہ مبہوت سے اسے دیکھنے لگا ۔۔۔۔۔وہ واقع دل کو چھو جانے کی حد تک دلفریب لگ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔نیناں نے ڈوپٹہ بھی سلیقے سے لیا ہوا تھا پھر شاہزیب کی نظروں سے پہلی بار وہ کنفوژ ہوئی تھی ۔۔۔۔۔ورنہ وہ لاپروا سا لڑکا تھا۔۔۔۔۔

“اب اچھی لگ رہی ہو “شاہزیب کی تعریف پر۔۔۔ ایک دلفریب کی مسکراہٹ نیناں کے چہرے پر سج گئ تھی ۔۔۔۔

“تھنک یو ۔۔۔”وہ شرماتے ہوئے بولی

“یو ویلکم “۔۔۔شاہزیب نے بھی مسکرا کر کہا پھر کاؤنٹر پر پیسے دینے لگا

“شاہزیب آپ رہنے دیں ۔۔۔۔پیمنٹ میں کروں گی ٫”نیناں نے پرس میں سے اپنا کریڈٹ کارڈ نکالا

“کیوں میں کیوں نہیں کر سکتا ۔۔۔۔۔جب تمہیں اپنی پسند پہنا سکتا ہوں تو پے بھی کر سکتا ہوں ۔۔۔۔یہ اور بات ہے یہ ڈریس تمہارے ہائی اسٹینڈرڈ کا نہیں ہے “شاہزیب نے جان بوجھ کر جتایا

“نہیں یہ بات ہے ۔۔۔۔بہت اچھا ۔۔مجھے پسند بھی بہت ہے “نیناں برجستہ بولی پیسے کاؤنٹر پر دے کر وہ شاپ سے باہر نکل آئے ۔۔۔۔۔

“شاہزیب “

“ہمم بولو “

“میں کافی لیٹ ہو چکی ہوں ۔۔۔۔اب گھر جاؤں گی “نیناں نے ہاتھ میں بندھی واچ میں دیکھتے ہوئے کہا

“نہیں ۔۔۔۔ابھی نہیں کچھ دیر بیٹھتے ہیں باتیں کرتے ہیں “شاہزیب کی بات پر نیناں کو حیرت ہوئی تھی ۔۔۔۔آج اس ک لہجہ بھی الگ تھا اور انداز بھی ۔۔۔۔

“ایسے کیا دیکھ رہی ہو ۔۔۔۔اگر جلدی ہے تو چلی جاؤ”شاہزیب جو لگاوہ اسکے ساتھ جانا نہیں جانا نہیں چاہتی

‘”نہیں ایسی بات نہیں ہے ۔۔۔۔”

“تو پھر ٹھیک ہے ۔۔۔چلو اوپر کیفے ٹریا ہے وہاں بیٹھتے ہیں “شاہزیب کے ساتھ اوپر آ کر ایک ٹیبل پر بیٹھ گئ شاہزیب نے دو جوس آڈر کیے ۔۔۔۔پھر کچھ دیر نیناں کو دیکھنے لگا ۔۔۔۔۔۔یہ لڑکی اسکی سمجھ سے بالا تر تھی ۔۔۔۔امیر تھی مگر مغرور اور گھمنڈی نہیں تھی ۔۔۔۔۔نا ہی اڑیل اور ضدی تھی ۔۔۔۔پھر اسکی خاطر خود کو بدلنے کے لئے بھی تیار تھی ۔۔۔۔ورنہ اس کے سستے سے لئے گئے ڈریس کو کبھی بھی زیب تن نا کرتی ۔۔۔۔۔

“نیناں تم اچھی لڑکی ہو ۔۔۔۔بلکہ بہت اچھی لڑکی ہو ۔۔۔”شاہزیب کی تعریف کر وہ جھنپ سی گئ

“تھنک یو “

“پہلے میں یہ سمجھتا تھا کہ تم بھی ایک امیر سر پھری سی لڑکی ہو ۔۔۔لیکن میں غلط تھا ۔۔تم اچھی ہو ۔۔۔۔۔پھر ایسے لڑکوں والے کپڑے اور انداز کیوں اپنائے رکھتی ہو ۔۔۔۔حالانکہ ان کپڑوں میں تم ذیادہ حسین لگ رہی ہو ۔۔۔۔۔”شاہزیب کی بات پر وہ مسکرائی پھر سنجیدگی سے بات کا آغاز کیا

“شاہزیب میں بہت چھوٹی تھی جب میری مام کی ڈیتھ ہوئی تھی ۔۔۔۔مجھے تو انکا چہرہ بھی ٹھیک سے یاد نہیں بس ہوش سنبھالتے میں نے پوپس کو ہی دیکھا تھا ۔۔۔وہ میرا خیال رکھتے تھے ۔۔۔۔مجھ سے باتیں کرتے تھے میرے ساتھ کھلتے تھے ۔۔۔پھر یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ لڑکی کا پہلا ائیڈیل اس کا باپ ہی ہوتا ہے ۔۔۔۔

I was also impressed with my father personality..

مجھے انکا ہر انداز اچھا لگتا تھا پوپس ہمیشہ ایسے ہی ڈریس وئیر کرتے تھے اس لئے میں بھی کرنے لگی ۔۔۔مجھے نہیں معلوم تھا کہ لڑکوں اور لڑکیوں کے پہنائے میں فرق ہوتا ہے ۔۔۔۔پھر پوپس نے بھی کبھی نہیں ٹوکا ۔۔۔نا کبھی منع کیا ۔۔۔۔کبھی رحمت بی بی مجھ سے کہہ بھی دیتی کہ نیناں بی بی آپ ایسے کپڑے مت پہنا کریں ۔۔تو پوپس انہیں ڈاانٹ دیتے تھے ۔۔۔۔پھر میری فرینڈز بھی ایسا ہی سب کچھ پہنتی تھی لیکن اب آپ کو پسند نہیں ہیں تو نہیں پہنوں گی ۔۔۔۔۔” شاہزیب بڑی دلچسپی سے اس بات سن رہا تھا

“وہ سب ٹھیک ہے ۔۔۔۔لیکن بات صرف یہیں تک تو محدود نہیں ہے نیناں ۔۔۔۔کیا کیا بدلو گی میرے لئے “

“وہ سب جو آپکا پسند نہیں ہے “

“میری بات کو سمجھو نیناں۔۔۔میں اور تم دونوں الگ الگ ماحول کے باسی ہیں ہیں۔۔۔۔ہمارے درمیان کچھ بھی کامن نہیں ہے ۔۔۔۔۔یہ سمجھ لو کہ تم۔آسمان ہو تو میں زمین ۔۔۔۔دیکھوں میں ایک حقیقت پسند انسان ہوں ۔۔۔۔ایسے۔ خواب نہیں دیکھنا چاہتا جس کا حاصل وصول کچھ بھی نا ہو ۔۔۔۔۔۔میں اپنی حیثیت اچھی طرح جانتا ہوں ۔۔۔۔نا میرے ابو تم سے میری شادی پر رضا مند ہو گئے ۔۔۔ نا تمہارے پوپس یہ چاہیں گئے کہ ان کا اکلوتا داماد ایک میڈل کلاس فیملی سے تعلق رکھتا ہو ۔۔۔۔۔۔

“پوپس میری کوئی بات نہیں ٹالتے ۔۔انہیں۔ کوئی اعتراض نہیں ہو گا ۔۔۔وہ بہت محبت کرتے ہیں مجھ سے “

“اگر اعتراض نا بھی ہوا اور وہ تمہاری خواہش پر مان بھی جائیں تو یقینا گھر داماد پر ہی آمادہ ہوں گئے تمہیں کبھی بھی ایک چھوٹے سے فلیٹ میں نہیں رکھنا چاہیں گئے ۔۔۔اور میں کبھی بھی گھر داماد نہیں بن سکتا ۔۔۔۔یہ میرے مزاج کے خلاف سی بات ہے ۔۔۔دیکھوں ابھی ہم اس مقام تک نہیں پہنچیں جہاں سے واپس پلٹنا مشکل ہو ۔۔۔۔تم اچھی ہو بہت اچھی ہو لیکن میرے لئے نہیں ہو ۔۔۔۔نا ہی میرے ساتھ اتنی ٹف لائف گزار سکتی ہو ۔۔۔۔جن آسائشوں کی تم عادی ہو میں وہ زندگی بھر کما کر تو تمہیں ہرگز نہیں دے سکتا ۔۔۔۔”اسوقت وہ بہت سنجیدگی اور متانت سے بات کر رہا تھا ۔۔۔۔۔۔

“میں چھوڑ دوں گی سب کچھ ‘”نیناں اب بھی جذباتی ہو رہی تھی

“اچھی طرح سوچ لو نیناں ۔۔۔۔۔ کیونکہ اگر میں نے ایک بار قدم أگے بڑھا لیے تو ممکن ہی نہیں کے پیچھے ہٹ جاؤں ۔۔۔ اس لئے تم مجھے سوچ کر جواب دو ۔۔۔۔”شاہزیب کافی سنجیدگی سے بات کر رہا تھا ۔۔۔۔۔

“مجھے آپکا نمبر مل سکتا ہے “نیناں نے ملتجی لہجے میں کہا شاہزیب نے اپنا نمبر اسے بتا دیا ۔۔۔۔

“تھنکس “

“او کے اب تم جاوں جتنا چاہو وقت لے لو بہت سوچ کر جواب دینا مجھے “شاہزیب نے حتمی انداز سے کہا

“میرا جواب وہی ہے ۔۔۔پہلے دن تھا ۔۔۔۔نا میرا فیصلہ کل بدلا تھا نا آئندہ بدلے گا میں اس مقام پر نہیں۔ کہ واپس پلٹ جاؤں ۔۔۔۔۔”نیناں یہ کہہ کر چلی گئ ۔۔۔۔۔”