One Wheeling by Umme Hani NovelR50409 One Wheeling Episode 17
Rate this Novel
One Wheeling Episode 17
One Wheeling by Umme Hani
رامس کی والدہ نے جب اپنی تینوں بیٹیوں کو بلا کر رامس کے نکاح کی خبر سنائی تو تینوں کے ہی منہ بن گئے ۔۔۔مگر خفگی کا اظہار رقیہ نے ہی کیا تھا
“لو اماں یہ کیا کیا آپ نے ۔۔۔۔ارے میں کیا منہ دیکھاوں گی اپنے سسرال میں ۔۔۔۔میری تو دوٹکے کی عزت نہیں چھوڑی آپ نے ۔۔۔۔ارے ایسے ہوتی ہیں شادیاں پھر میں فرح کے والدین کو کیا کہو گئ جنہیں میں پوری تسلیاں دے بیٹھی تھی کہ فرح کو ہی اپنی بھابھی بناؤں گی ۔۔۔۔”رقیہ تو یوں ںلبلائی کہ جیسے ابھی رو دے گی
“بھلا فرح کا کیا قصہ باقی رہ گیا تھا رقیہ جب رامس نے صاف لفظوں میں انکار کر دیا تھا ۔۔۔۔بس جو ہونا تھا وہ ہو چکا ۔۔۔۔”رامس کی والدہ نے بات تو مدافعانہ انداز سے ہاتھ جھاڑتے ہوئے ختم کرنا چاہا
“کیا ختم ہو چکا اماں۔۔۔۔ لو ہمارے تو ارمان آپ نے خاک میں ملا کر رکھ دیے ۔۔۔بھلا رابعہ خالہ کی بیٹی لا ہی کیا سکتی ہے یہاں ۔۔۔۔سوائے اپنی ظاہری خوبصورتی کے ۔۔۔یہ رامس یہ ہی شروع سے عقل کا چور ۔۔۔۔بس گورا چٹا رنگ کیا دیکھ لیا مر مٹا اس پر ۔۔۔۔ہائے میرے سینے پر تو سانپ لوٹ رہے ہیں اماں ۔۔۔میں نے جواد اور اپنی ساس سے کہا تھا کہ دو سونے کے سیٹ ملیں گئےمجھے بھائی کے سسرال سے ۔۔۔میں تو اپنے سسرال میں منہ دیکھانے کے قابل نہیں رہی ۔۔۔”رقیہ کے آنسوں اس بار بنا کسی ڈرامے کے صل میں بہہ رہے تھے
“رقیہ باجی ٹھیک کہہ رہیں اماں آپ کو کچھ تو ہمارے بارے میں بھی سوچنا چاہیے تھا ۔۔۔۔اب بتائے سیدھا نکاح ہی کر ڈالا ۔۔۔سمجھو شادی تو ہو ہی چکی ۔۔۔پھر رخصتی کا کیا بکھیرا ڈال رہیں ہیں وہ بھی ساتھ ہی کروا لاتیں ۔۔۔اس میم صاحبہ نے کون سا ٹرک لاد کر جہیز لانا ہے جو تین ماہ کا وقت لیا ہے آپ نے “۔۔۔۔رامس جو بہنوں کی آمد کا سن کر بازار سے میٹھائی لینے گیا تھا مین گیٹ پر ان کی گل فشانیاں سن کر دلبرداشتہ ہو گیا ۔۔۔۔۔دروازہ کھلا ہوا تھا اندر داخل ہو کر میٹھائی کا ڈبہ سامنے رکھی چھوٹی تپائی کر پٹخ دیا ۔۔۔۔جو بہنوں کی نرسوں کے سامنے رکھی تھی
“امی ان سے کہیں یہ صرف اپنے سسرال کی فکر کریں ۔۔۔۔۔ میری خوشی اور غم کی پروا مت کریں ۔۔۔۔میں نے کون سی خوشی انکی ادھوری چھوڑی ہے ۔۔۔۔انکی شادیوں سے لیکر ان کے جہیز تک کس چیز کی کمی دی ہے انہیں جو ان لوگوں کی بھوک ہی ختم نہیں ہوتی اور اب میرے سسرال کے دیے ہوئے دو جوڑے اور سونے کے چند زیوازت سے پوری ہو جائے گی ۔۔اگر وہ ایسا کر بھی دیں تب بھی نہیں ہو گی ۔۔۔۔۔زندگی میں نے گزارنی ہے ۔۔۔۔یا انہوں نے ۔۔۔۔اپنی خوشیاں تو انہوں نے پورے ارمانوں سے پوری کر ہی لیں ہیں ۔۔بس میری باری میں اعتراضات ختم نہیں ہو رہے ۔۔۔۔”رامس کے ابا ابھی اسی وقت لاہور سے لوٹے تھے اندر داخل ہوتے ہی بیٹیوں کو براجمان دیکھ کر ماتھے پر تیوری چڑھائے اندر داخل ہوئے ۔۔۔انہیں پتہ تھا تینوں آئیں ہیں تو ایک نیا فساد ہی ساتھ لائیں ہوں گی رامس کے نکاح کا پوراواقع رامس کی والدہ انہیں گوش گزار کر چکیں تھیں ۔۔۔۔اور انہوں نے خوشی کا اظہار ہی کیا تھا ۔۔۔۔انہوں نے اپنا بیگ زمین پر رکھا اور پہلے سیدھا بیٹے کے گلے ملے ماتھا چوما مبارک باد دی
“تم نے جو کیا بلکل درست کیا ہے یہ ایک معصوم بچی اور ہمارے محلے کی عزت کا سوال تھا ۔۔۔ہمہیں ہی عزت دینی چاہیے تھی بیٹی والے ہو کر ہم ہی بیٹی کی عزت اچھالیں گئے تو کل کو ہماری بیٹیوں کے سامنے بھی آ سکتا ہے ۔۔۔۔۔پھر باسم اور اسکے گھر والے نہایت شریف لوگ ہیں۔۔۔۔”باپ کی بات سن کر تینوں کو چپ لگ گئ تھی انہوں نے بھی سیدھا بیٹیوں کو ہی سنانا چاہا تھا تا کہ اپنے منہ بند رکھیں پھر تینوں نے شندہ شرمندہ باپ کو سلام کیا باپ نے تینوں کے سر پر ہاتھ رکھ کر سلام کا جواب نہایت روکھے انداز سے دیا
“بات سنو تم تینوں میری ۔۔۔۔اگر رامس کی۔ خوشیوں میں بھنگ ڈالنے کا ارادہ رکھتے ہوئے تم تینوں میں سے کوئی اس کے سسرال میں قدم رکھنا چاہتی ہے تو سامنے دروازہ کھلا ہے گھر کا ۔۔۔واپس جاسکتی ہوں ۔۔اپنی بہو کو پیار اور سلامی دینے میں تمہاری ماں کے ساتھ اکیلا ہی چلا جاؤں گا ۔۔۔۔مجھے کوئی فرق نہیں پڑے گا کہ۔تم لوگ ساتھ چل رہی ہو یا نہیں ۔۔۔'”بال کے سخت تیوروں پر تینوں کے چہرے کے زاویے درست ہو چکے تھے
“نہیں ابا ایسی تو کوئی بات نہیں ۔۔۔۔ہم جائیں گئے اکلوتا بھائی ہے ہمارا ۔۔۔کیوں نہیں جائیں گئے ۔۔۔۔'”
“ہمم ٹھیک ہے ۔۔میں ذرا منہ ہاتھ دھو لوں رامس تم منہ میٹھا کرواں بہنوں کا “رامس کے ابا اندر کمرے میں چلے گئے۔۔۔۔رامس میٹھائی کا ڈبہ کھولنے لگا ۔۔۔۔
********……..
اگلے روز ہی رامس کی بہنیں رائمہ کے گھر رسم کرنے کے لئے جانے پر راضی بازی اپنے شوہر اور بچوں سمیت تیار ہو کر پہنچ گئیں تھیں ۔۔۔۔رامس کی والدہ نے رابعہ بیگم سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ وہ اپنی شوہر اور بیٹیوں کے ساتھ آئیں گئیں ۔۔۔۔
رامس خود جانے پر تیار نہیں تھا کہ کہیں باسم کو برا ہی نا لگ جائے کہ یہ کیا منہ اٹھا کر پہنچ گیا ہے ۔۔۔۔اس لئے رائمہ کے لئے اپنی پسند سے خریدی انگوٹھی اس نے ماں کے ہاتھ میں تھما دی ۔۔۔۔۔
رامس کی امی نے پرس میں رکھی بیٹے کے سر پر پیار دیا دعائیں دیں ۔۔۔۔وہ لوگ نکلنے ہی والے تھے کہ باسم کی کال رامس کے نمبر پر آنے لگی ۔۔۔۔رامس نے کال اٹینڈ کی
“ہیلو “
“ہاں بھئ ۔۔۔ کہاں غائب ہو دولہے میاں ۔۔۔۔نکاح کے بعد تو شکل ہی نہیں دیکھائی تم نے ۔۔۔۔۔اب جلدی پہنچوں سب انتظار کر رہے ہیں تم لوگوں کا “
“ہاں امی ابا اور بہنیں آ رہیں ہیں “
“اور تم “
“نہیں یار اچھا نہیں لگتا۔۔۔۔روز روز سسرال پہنچ جاؤں “
“تم میرے دوست پہلے ہو اس لئے شرافت سے پہنچ جانا ورنہ میں خود تمہیں لینے آ جاؤں گا اور ہاں اس بار تیار ہو کر آنا ۔۔۔'”
“کیوں “
“کچھ بس رائمہ کہہ رہی تھی ۔۔۔۔تمہارا دوست تو دیکھنے میں ذرا سمارٹ نہیں ہے کس سے شادی کروادی تم نے میری ۔۔۔۔ میں نے کہا وہ اس دن اسے نکاح کی جلدی ورنہ رامس کی کیا بات ہے ۔۔۔”باسم نے مزاق کے انداز میں بات کرتے ہوئے کہا
“یہ تم اپنی طرف سے کہہ رہے ہو ۔۔ورنہ وہ ایسے نہیں کہہ سکتی “رامس نے تیقن سے کہا تووہ ہسنے لگا
“او ہو ۔۔۔بڑی بات ہے بھئ ایک ہی ملاقات میں اتنا بھروسہ ۔۔۔چلو تم آؤں تو سہی یار ۔۔۔میں بھی آج فری ہوں بس یہ رسم سے فارغ ہو کر آج کہیں گھومنے نکلتے ہیں ۔۔۔کل سے تو پھر وہی روٹین شروع ہو جائے گی ۔۔۔۔۔”باسم کاشوہی دوستانہ انداز تھا
“اچھا ٹھیک ہے ۔۔۔آ جاتا ہوں ۔۔۔”رامس آج واقعی دل سے تیار ہوکر وہاں پہنچا تھا اسکے والد نے پہلی بار رائمہ کودیکھا تھا اس کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھا جیب سے پانچ ہزار کا نیا نوٹ نکال کر اسکے ہاتھ میں تھمایا ۔۔۔۔رامس اور رائمہ دونوں ہی سفید سوٹ میں ملبوس تھے ۔۔۔۔۔ایک ساتھ بیٹھا کر ہی انگوٹھی کی رسم بھی ادا ہوئی مگر انگوٹھی رامس کی والدہ نے پہنائی تھی ۔۔۔۔۔کھانے کے فوری بعد رامس اور باسم ایک ساتھ ہی باہر نکلے تھے ۔۔۔۔بائیک باسم چلا رہا تھا اور رامس اسکے پیچھے بیٹھا تھا بائیک باسم نے ساحل سمندر پر جا کر روکی۔۔۔۔۔کچھ دیر سمندر کے پانی میں ٹہلتے رہے ۔۔۔۔۔۔
“رامس ۔۔۔تم سے ایک بات شیر کرنا چاہتا ہوں “بات کی ابتدا باسم نے کی تھی
“ہاں کہو “
“آئی ایم ان لو ۔۔۔۔”
“رئیلی”رامس نے حیرت سے پوری آنکھیں پھیلا کر کہا
“ہاں مجھے بھی یقین نہیں آ رہا کہ میری زندگی میں بھی ایسا انقلاب آنا تھا ۔۔۔۔میری زندگی تو سیدھی سیدھی ہی چل رہی تھی ۔۔۔۔یہی سوچا تھا کہ رائمہ کی شادی کے بعد امی کی پسند سے شادی کرونگا ۔۔۔مگر”باسم کے چہرے پر مسکراہٹ آ کر ٹہر گئ تھی
“کون ہے وہ “رامس پر تجسس تھا
“ہمارے اوپر کرائے دار ہیں انکی بیٹی ۔۔۔”
“تو پھر اس لو کو جلدی سے لو میرج میں بدل دو یہ نا ہو کہ میری طرح ۔۔۔۔۔”رامس نے بعد ادھوری چھوڑ دی ۔۔۔
“یہی سوچ رہا ہوں ۔۔۔رائمہ تو جانتی ہے سب کچھ ۔۔۔بس ایک بار فری سے بھی پوچھ لوں کہ وہ کیا چاہتی ہے ۔۔۔پھر امی کو بھیج دونگا ۔۔۔۔۔”
” ہمم فری ۔۔۔۔چلو یہ تو اچھی خبر سنائی تم نے”رامس بھی خوش ہوا تھا ۔۔۔۔
“چلیں اب بہت لیٹ ہو چکے ہیں “رامس نے گھڑی دیکھتے ہوئے کہا
“ہاں چلو “وہ دونوں جب اوپر سیڑیاں چڑھ کر پہنچے تو سامنے ہی چار پانچ بائیک ریس کے لئے تیار کھڑی تھیں باسم کو ان چیزوں میں کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی ۔۔۔۔مگر شاہزیب کو بائیک بیٹھا دیکھ کر وہ ٹھٹھکا تھا ۔۔۔
“رامس یہ تو شاہزیب ہے سر زمان کابیٹا ۔۔۔”باسم نے انگلی کے اشارے سے رامس کو متوجہ کروایا
“کون “رامس نے باسم کے ہاتھ کے اشارے کاتعاقب کیا ۔۔
“۔۔۔سر کا بیٹا اور بائیک ریسنگ ۔۔۔سر نے اجازت بھی کیسے دیدی اسے “رامس نے شاہزیب کو دیکھ کر حیران ہوا تھا زمان صاحب اکثر اپنے شاگردوں کو اس قسم کے خرافات سے دور رہنے پر اچھا خاصا لیکچر دیا کرتے تھے ۔۔۔
“پتہ نہیں ۔۔۔لیکن یقین نہیں آ رہا ۔۔۔سر کیسے اس بات کی اجازت دے سکتے ہیں ۔۔۔”باسم کو بھی حیرت کا جھٹکا لگا تھا
“چلو ہمہیں کیا ۔۔۔لوگ تو کافی جمع ہیں اور ذیادہ تر یونیورسٹی کے ہی اسٹوڈنٹ لگ رہے ہیں ۔۔۔شاید خاص اسی ریس کو دیکھنے کے لئے یہاں آئے ہیں ۔۔۔۔”رامس کو بھی دلچپسی سی ہونے لگی تھی ۔۔۔۔۔۔باسم اور رامس دونوں ہی اس مجمع میں جا کر کھڑے ہو گئے جہاں شاہو شاہو کے نعرے لگ رہے تھے۔۔۔۔چھ لڑکے بائیک پر اپنی پوزیشن سنبھال چکے تھے ۔۔۔۔شاہزیب اور اسکے دو دوست خرم اور سیفی بھی اس میں شامل تھے ۔۔۔جمی بس تالیاں پیٹنے والوں میں شامل تھا۔۔۔۔باقی تین ساتھی دلاور کے تھے ۔۔۔۔۔۔
******…….
ساحل سمندر پر لوگوں کا رش بہت ذیادہ تھا اس لئے گاڑیوں کی آمدرفت رش کی وجہ سے متاثر ہو رہی تھی ۔۔۔۔قیوم صاحب کی گاڑی بھی وہیں روڈ پر ٹریفک میں پھنس چکی تھی۔۔۔۔ایک روڈ تو بائیک ریسنگ کی وجہ سے خالی تھا اس لئے ٹریفک کا سارا رش دوسری جانب بڑھ چکا تھا ۔۔۔۔
پہلے تو گاڑیوں کے ہارن کا شور بہت ذیادہ تھا ۔۔۔قیوم صاحب کی گاڑی بیچ میں پھنس چکی تھی
“ڈرائیور ذرا باہر جا کر دیکھوں کب تک راستہ کھلنے کا امکان ہے ۔۔۔”قیوم صاحب کی بیزاری عروج پر تھی
“سر ابھی تو کوئی چانس نہیں ہے جب تک کہ یہ لڑکے اپنی بائیک کی ریس ختم نہیں کر لیتے ۔۔۔زندگیاں مفلوج کر کے رکھ دی ہے ان لوگوں نے ۔۔۔اب جب تک انکا یہ مشغلہ جاری رہے گا مسافر یونہی پریشان بیٹھے رہیں گئے ۔۔”ڈرائیور بھی سیٹ سے ٹیک لگائے بڑی فرصت سے تبصرا دے رہا تھا
“نا جانے اس وقت ہماری پولیس کہاں ہوتی ہے “قیوم صاحب نے ہارن کے شور سے زچ ہوتے ہوئے کہا
“سر وہ بھی ان لڑکوں سے رشوت کھا کر خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہی ہوتی ہے ۔۔۔جیسے ہی ریس ختم ہو گی ۔۔۔پولیس آئے گی شور مچائے گی ۔۔۔۔مین روڈ سے ویسے ادھءچسے زیادہ رش چھٹنے لگے گا اور دیکھنے والوں کو لگے گا کہ پولیس نے آ کر سب کچھ سنبھال لیا مگر یہ کوئی نہیں جان پائے گا کہ یہ پولیس ریس کے دوران کہاں تھی ۔۔۔۔۔”ڈرائیور خاصاسمجھدار تھا یا شاید پہلے پولیس محکمے کی ڈرائیونگ کرتا تھا۔۔۔قیوم صاحب گاڑی سے باہر نکل گئے اور چلتے ہوئے وہیں پہنچ گئے جہاں لڑکوں کی ریس شورع ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔بائیک ریس اسٹاٹ ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
لیکن یہ صرف ریس ہی نہیں تھی ایک راؤنڈ پورا ہونے کے بعد دوسرے راؤنڈ کے شروع ہوتے ہی بائیک کے اگلے ٹائر سب لڑکوں نے بیک وقت اٹھائے تھے ۔۔۔مگر چند لمحوں بعد چار لڑکے یکے بعد دیگرے ٹائر نیچے کر چکے تھے مگر دو لڑکے فل اسپیڈ سے اگلہ ٹائر اٹھائے چلا رہے تھے ۔۔۔ان میں سے ایک لڑکے نے بائیک کو کچھ اور اونچا کیا اور پچھلے ٹائر کے آخری سرے پر اسی اسپیڈ سے بائیک دوڑا رہا تھا پھر اپنا ایک ہاتھ ہوا میں لہرانے لگاایک ہاتھ سے وہ بائیک کو کنٹرول کیے ہوئے تھا ۔۔۔۔۔ایک پل تو قیوم صاحب کا بھی دل تھم سا گیا تھا اپنی قریب کی نظر کا۔ چشمہ انہوں نے ناک سے اوپر کیااور غور سے دیکھنے لگے۔۔۔دوسرا لڑکا۔۔۔ اب اس لڑکے سے پیچھے ہونے لگا تھا ۔۔۔پھر وہ بھی اپنی بائیک کو پہلی پوزیشن میں لے آیا یعنی دونوں ٹائر پر چلانے لگا ۔۔لیکن ۔اب صرف ایک ہی لڑکا ون ویلنگ پر اپنےمقررہ مقام تک پہنچنے ہی والا تھا کہ کسی کی پکار پر اچانک سے اس نے پلٹ کر پیچھے دیکھا ۔۔۔۔۔بائیک اس کے کنٹرول سے آؤٹ ہوئی تھی یک دم ہی سب کی چیخوں پکار شروع ہو گئ
“شاہو ۔۔۔شاہو کی آوازیں گونجنے لگیں اس لڑکے نے پھرتی دیکھاتے ہوئے بائیک کو فورا سے چھوڑ کر خود پیچھے ہٹ گیا ۔۔۔بائیک بلکل ایسے چل رہی تھی جیسے بلکل کھڑی ہو اس لئے۔۔۔اس لڑکے کا اترنا مشکل نہیں تھا بائیک بہت دور جا کر بڑی زور سے گری تھی اور وہ لڑکا بھی پیچھے کی جانب پھسلتے ہوئے گرا تھا ۔۔۔۔لیکن ذیادہ برے طریقے سے نہیں ۔۔۔۔”
******……..
شاہزیب اپنی ہی مستی میں بائیک لیکر چل رہا تھا بائیک کو ون ویلنگ پر چلاتے ہوئے وہ ہمیشہ خود کو ہواوں کا مسافر تصور کرتا تھا ۔۔۔کوئی نشہ تھا یا جنون مگر وہ خود میں نہیں ہوتا تھا ۔۔۔لگتا تھا آسمان زمین سب اسکے تابع ہو چکے ہیں وہ جیسے چاہے اپنی مرضی سے اسپیڈ بڑھائے گا اور بائیک کو اپنی مرضی سے زمین سے چلاتے ہوئے ہواوں میں لے اڑے گا ایسا ہی تصور باندھے وہ کب ٹائیر کو اتنا بلند کر لیتا کہ بائیک صرف آخری سرے پر چلنے لگی اس بھی وہ اپنے ٹرانس میں ہی تھا ۔۔۔۔ جب نیناں کی پکار پر بے اختیار ہی وہ پلٹا تھایہ آواز وہ اپنی سماعتوں میں کافی دن سے سن رہا تھا نیناں کے خیالات آجکل اسے اپنے حصار میں لئے ہوئے تھے ۔۔۔۔مگر اگلے ہی لمحے وہ بائیک پر اپنا بیلنس کھو چکا تھااس سے پہلے کہ وہ کسی حادثے کا شکار ہوتا فورا سے سنبھلا اور بائیک کو آگے کی طرف دھکیل کر چھوڑا کر خود کھڑے رہنے کی حد مکان کوشش کی مگر جس اسپیڈ سے بائیک چل رہی تھی وہ گرا ضرور تھا مگر سر کے بل نہیں بچتے بچاتے بھی پیشانی کے دائیں جانب اسے چوٹ لگی تھی کچھ خراشیں بازو اور ٹانگوں پر آئیں تھیں۔گھٹنے پر بھی چوٹ آئی تھی ۔۔۔۔۔سب سے پہلے نیناں بھاگتے ہوئے اسکے پاس پہنچی تھی ۔۔۔۔۔اسکے بعد جمی سیفی اور خرم بھی پہنچ گئے ۔۔۔۔۔
“شاہزیب اٹھ کر بیٹھ چکا تھا ۔اب اپنی رگڑ کھائی ہوئی کہنوں کو دیکھنے لگا ۔۔۔۔سامنے نیناں پریشانی سے آنسوں بہا رہی تھی اپنے ڈوپٹے سے اسکی پیشانی کے قریب آئے زخم سے خون صاف کرنے لگی ۔۔شاہزیب کی نظر س پر اب پڑی تھی وہ روتے ہوئے اپنے ڈوپٹے سے اسکی زخم صاف کر رہی تھی
“کتنی گہری چوٹ لگی ہے تمہارے”نیناں کی ساری توجہ اسکے سر پر لگے زخم کی طرف تھی اور شاہزیب کی نظر نیناں کی طرف جہاں اسکے لگے زخم کی تکلیف کے آثار اسے صاف نظر آ رہے تھے
“شکر کرو مر نہیں گیا میں ۔۔۔۔یو فول ۔۔۔۔آواز کیوں دی تھی مجھے ۔۔۔۔۔”وہ غصے سے غرایا
“مجھے لگا تم گر جاؤں گئے اس لئے بے اختیار ہی تم پکار بیٹھی تا کہ تم بائیک روک کو لیکن مجھے نہیں پتہ تھا کہ یہ سب ہو جائے گا ۔۔۔۔۔بہت درد ہو رہا ہے کیا ۔۔۔”نیناں اب اس کی کہنیوں اور ہاتھوں پر رستے ہوئے خون کو دیکھ کر پوچھنے لگی۔۔۔
“نہیں ہو رہا کہیں بھی درد ۔۔۔اتنے کمزور اعصاب کا مالک نہیں ہوں میں ۔۔۔۔۔ اور تم کہاں غائب تھی اتنے دن سے ۔۔۔کتنے دن سے تمہارے فون کا انتظار کر رہا ہوں میں۔۔۔احساس ہے تمہیں ۔۔۔۔اگر زحمت نا ہو تو آج فون کر لینا مجھے “تینوں دوست چپ چاپ اسکی باتیں سن رہے تھے ۔۔
شاہزیب یہ کہہ کر کھڑا ہو گیا مگر اگلا قدم چلتے ہی لڑکھڑا سا گیا خرم نے فوراسے اسے تھم لیا اسکی ہاتھ پکڑ کر اپنے کندھے میں ڈالے اسے سہار دینے لگا ۔۔۔۔
“جمی جاؤ یار دیکھوں جا کر بائیک کا کیا حشر ہوا ہے ۔۔۔۔۔”اپنے زخم کو بھولے شاہزیب کو بائیک کی فکر تھی ۔۔۔۔اور نیناں کو اسکی جو لڑکھڑاتے قدموں سے اپنے دوست کے کاندھوں پر ہاتھ رکھے اپنی بائیک کی طرف بڑھ رہا تھا وہ بھی وہیں پنجوں کے بل بیٹھی تھی ۔۔۔۔۔۔حیدر پہلے تو ہاتھ باندھے یہ سب دور سے دیکھتا رہا ۔۔۔نیناں کااس لڑکے کو بے اختیار پکارنا اسکی طرف بھاگتے ہوئے جانا ۔۔۔۔والہانہ طریقے سے اپنے ڈوپٹے سے اس کا بہتا ہوا خون صاف کرنا ۔۔۔۔انسوں بہانا ۔۔۔اتنے لوگوں کی پروا کیے بغیر کہ کون کون اسے یہ سب کرتے دیکھ رہا ہے ۔۔۔۔وہ لڑکا جو بھی تھا نیناں کے لئے اجنبی بلکل نہیں تھا ۔۔۔۔حیدر چلتے ہوئے نیناں کے پاس آکر کھڑا ہو گیا نیناں کی نظریں اب بھی شاہزیب۔ کی طرف ہی لگیں ہوئیں تھیں ۔۔۔جو اب اپنی بائیک کو غور سے دیکھ رہا تھا جو کافی ڈیمج ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔
“نین جا چکا ہے وہ کب تک دیکھنے کا ارادہ ہے اسے ۔۔۔ “حیدر کے سخت اور تلخ لہجے پر نیناں ہوش میں آئی تھی۔۔۔۔پلٹ کر اپنے عقب میں کھڑے حیدر کو دیکھا جو کافی سنجیدگی سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
“نین چلیں “اس نے دوبارہ دہرایا “
“ہاں چلو “نیناں کھڑی ہو کر اب اس کے پیچھے چلنے لگی
******………****
باسم اور رامس ہونق بنے شاہزیب کو دیکھ رہے تھے ۔۔۔حفاظت کی جتنی دعائیں یاد تھیں وہ سب باسم نے شاہزیب کے لئے پڑھ لیں تھیں ۔۔۔۔
“کیا چیز ہے یہ لڑکا ۔۔۔۔اتنا اکٹیو اور اتنا انرجیٹک ہے یہ لڑکا ۔۔۔۔اگر اپنی یہ صلاحیت کسی اچھے کام میں لگائے تو نا جانے کیا کچھ نہیں کر سکتا یہ۔۔۔۔۔۔”باسم کی نظریں اب بھی شاہزیب پر ٹکی ہوئیں تھیں ۔۔۔۔اسکی آنکھوں میں شازیب کے لئے رشک تھا ۔۔۔۔
“میرادل کہتا ہے سر واقف نہیں ہونگے اپنے سپوت کی اس قسم کی کارستانیوں سے ۔۔۔باسم اچھا کرو توسر کو بتا دو ۔۔۔۔”رامس نے مشورہ دیا
“ہمم میں بھی یہی سوچ رہا ہوں ۔۔۔”باسم کی نظر اب بھی اس پر تھی جو اپنی بائیک کو غور سے دیکھ رہا تھا
“چلو اب چلتے ہیں “,رامس کے کہنے پر باسم چونکا اور پھر دونوں کی وہاں سے چلے گئے
******……
“نین کون تھا یہ لڑکا “حیدر کار بہت تیز ڈرائیو کر رہا تھا
“نیناں چپ بیٹھی رہی ۔۔۔۔۔
“I asking you nain ..woh was this boy ?حیدر نے بلند لہجے سے پوچھا
“I ….love him “نیناں نے دھیرے سے جواب دیا
حیدر نے ایک سخت نظر نیناں پر ڈالی پھر زور دار ہاتھ اسٹیرنگ پر مارا
“How can you do this with me
حیدر نے دانت کچکچا کر کیا ایک غصیلی نظر نیناں پر ڈالی
نیناں کو یہی سب ٹھیک۔لگا کہ حیدر کو سچ بتا دے ۔۔۔۔شاہزیب کی آنکھوں میں اپنے لئے وہ آج بہت کچھ دیکھ چکی تھی ۔۔۔جس طرح وہ اس سے پوچھ رہا تھا یقینا اسکی کال کا منتظر تھا ۔۔۔۔اس لئے اب نیناں کو کسی کی کوئی پروا نہیں تھی
“نین تم دوبارہ اس لڑکے سے نہیں ملو گی “حیدر کا غصہ بڑھتا جا رہا تھا نیناں کے انتظار نے گویا اسکے ہوش اڑا دیے تھے ۔۔۔۔
اپنے غصے کو ضبط کرتے ہوئے اس نے نیناں سے کہا تھا
“ٹھیک ہے نہیں ملتی ۔۔۔لیکن مجھے یوں پابندیوں میں رکھ کر کیا سمجھتے ہو تم ۔۔۔میرے دل سے اسے نکال دو گئے ۔۔۔۔۔ نو حیدر نیور۔۔۔۔تم اور پوپس مجھے جتنا چاہے اس سے دور کرنے کی کوشش کر لو مگر وہ جب جب میرے سامنے آئے گا میرا ریایکشن ویسا ہی ہو گا جیسا آج تھا ۔۔۔۔۔کیا اب بھی تم مجھ سے رشتہ جوڑنا چاہو گئے ۔۔۔۔”نیناں نے بہت متوازن لہجے سے بات کر رہی تھی مگر حیدر کا اشتعال بڑھنے لگا تھا
“ہاں میں پھر بھی تم سے رشتہ کرنا چاہوں گا کیونکہ تمہاری بیوقوفی پر میں اپنے جذبات کو پس پشت نہیں ڈال سکتا ۔۔۔۔کتنا جانتی ہو تم اسکے بارے میں ۔۔۔چند ملاقاتوں میں ہی تم اسے مجھ پر فوقیت دے رہی ہو اپنی بچپن کے ساتھی پر اپنی محبت پر ” وہ اسے نظریں جمائے نا جانے کس زعم میں بول رہا تھا
” تم میرے بچپن کے ساتھی ضرور تھے مگر محبت کبھی نہیں ۔۔۔حیدر اسے پہلی بار دیکھ کو جو کچھ میں نے فیل کیا وہ تمہارے ساتھ اتنے سال گزارنے پر بھی مجھے کبھی محسوس نہیں ہوا ۔۔۔۔میں بے بس ہوں تمہیں کبھی وہ مقام نہیں دے سکتی جو شاہزیب کو دے چکی ہوں ۔۔۔۔۔نا مجھے کل تم تھی نا آج ہے اور نا ہی کبھی ہو سکتی ہے۔۔بہتر ہے کہ تم اپنے ۔فیصلے پر نظر ثانی کر لو “
گاڑی اب نینان کے بنگلے کے سامنے کھڑی تھی حیدر غصے سے ہارن پر ہارن بجا رہا تھا
******
شاہزیب اپنی بائیک کی بگڑی ہوئی صورت حال دیکھ کر پریشان تھا ۔۔۔۔
“تقریبا ڈھائی سے تین ہزار کا خرچہ ہے ۔۔۔”شاہزیب ۔نے اپنی بائیک کی ٹوٹی پھوٹی حالت دیکھ کر کہنے لگا۔۔۔۔
“اسے چھوڑ اور اپنی سوچ ۔۔۔۔اس حلیے میں گھر جا کے اپنے ابا سے کیا بہانہ کرو گئے ۔۔۔۔”خرم کو افسوس کے ساتھ ساتھ شاہزیب۔ پر غصہ بھی آ رہا تھا ۔۔۔۔جس کی ذرا سی غلطی سے آج اسکی جان بھی جا سکتی تھی
“وہ سب مینج کر لونگا ۔۔۔۔نمی ہے نا ۔۔۔۔سنبھال لے گی ۔۔۔۔۔”شاہزیب۔ نے ایک آنکھ دباتے ہوئے کہا خرم نے تاسف سے اسکی طرف دیکھا ۔۔۔۔
“سیفی تم اسکی بائیک چھوٹو بھائی کے گیرج میں چھوڑ دو ۔۔۔شاہو کو گھر میں۔ چھور دونگا ۔۔۔۔”خرم شاہزیب کو سہارا دیتے ہوئے اپنی بائیک تک لے گیا ۔۔۔۔شاہزیب اسکے کندھے پر ہاتھ ڈالے لڑکھڑاتے ہوئے چل رہا تھا ۔۔۔۔
“پہلے تمہیں ڈاکٹر پر لے چلتا ہوں بینڈیج کروا لو ۔۔۔۔”خرم نے جیب سے چابی نکالیں
” ڈاکٹر واکٹر کے میں نہیں جاؤں گا ۔۔۔یار تم پہلے نمی کا نمبر ملا کر میری بات کرواں “
“وہ کیا کرے گی “
“جو تیرا ڈاکٹر کرے گا مرھم پٹی ۔۔۔”
“نیم حکیم خطرہ جان ہوتا ہے ۔۔۔۔نمی کواپنی ہوش نہیں ہوتی تمہیں کیسے دیکھے گی ۔۔۔حالت دیکھ اپنے تھوبڑے کی جگہ جگہ سے خون بہہ رہا ہے ۔۔۔۔ابھی تو اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ تجھے کچھ کہو لیکن اب مجھے تم سے سیریسلی بات کرنی ہے شاہزیب ۔۔۔ “خرم نے موبائل پر نمیرہ کا نمبر ملایا اور شاہزیب کی طرف بڑھا دیا اس سے پہلے کہ شاہزیب فون پکڑتا ایک پینٹ کوٹ پہنے پچاس سے لگ بھگ عمر کا شخص چہرے پر مسکراہٹ سجائے اس سامنے کھڑی ہو گیا
“اسلام علیکم ۔۔۔۔ایم قیوم صابر “اس شخص نے مصافے کے لئے شاہزیب کے سامنے ہاتھ بڑھایا ۔۔۔۔دوسری جانب نمیرہ بھی فون اٹھا چکی تھی ۔۔۔شاہزیب نے فون خرم کو تھمایا۔۔۔
“بات کرو نمی سے پوچھو ابو کہاں ہیں ۔۔۔ساری پوزیشن بتاؤ اسے ۔۔۔۔”شاہزیب نے سامنے کھڑے شخص سے ہاتھ ملاتے ہوئے خرم سے کہا ۔۔۔۔پھر اس شخص کی طرف متوجہ ہو گیا جو اسکے لئے بلکل انجان تھا
“جی فرمائیے “
“بہت خوب ہو تم لڑکے ۔۔۔۔تمہاتی آنکھوں یہ جو جنوں ہے ایک دن تمہیں بہت اونچے مقام تک لے جائے گا میں نے بہت لڑکوں کو ویلنگ کرتے دیکھا ہے ۔۔۔۔مگر بہت کم ان میں ایسے ہوتے ہیں جنہیں بائیک پر اتنا کنٹرول حاصل ہو ۔۔۔۔ تم تو قابل رشک ہو “قیوم صاحب کی آنکھوں میں بھی اتنی ستائش تھی جتنی ۔۔۔لفظوں میں تھی
“شکریہ “شاہزیب کے لئے یہ سب جمعلے نئے نہیں تھے قیوم صاحب نے اپنا کارڈ نکال کر شاہزیب کی طرف بڑھایا۔۔۔۔
“یہ میرا کارڈ رکھ لو ۔۔۔۔میں ایسے مشاغل سے دلچسپی رکھنے والے افراد کو سپوٹ کرتا ہوں ۔۔۔۔میری پراویٹ کمپنی ہے جہاں ایسے لڑکے جو کچھ کر دیکھانے کا جنون رکھتے ہیں انہیں ہم اپنی کمپنی کی مدد انٹرنشنل لیول پر کچھ کر دیکھانے کا موقع فراہم کرتے ہیں ۔۔۔۔۔اگر تم دلچسپی رکھو تو مجھ سے رابطہ کر سکتے ہو ۔۔۔۔”شاہزیب نے قیوم صاحب جو غور سے دیکھا۔۔۔۔ پھر انکے ہاتھ سے کارڈ لے کر اپنی جیب میں رکھ لیا”دوسری جانب خرم نمی سے بات کر رہا تھا
“جی کون صاحب بات کر رہے ہیں “نمیرہ کی آواز سن کر خرم نے دوبارہ سے فون کو غور سے دیکھا آواز تو نمیرہ کی ہی تھی لیکن اتنی ادب اور تمیز سے پہلے نمیرہ نے کبھی اس سے بات نہیں کی تھی
“نمی میں ہوں خرم “
“تم ۔۔۔۔۔میرا نمبر کیسے آیا تمہارے پاس ۔۔۔۔”
“وہ تو بہت پہلے سے ۔ہے میرے پاس ہے ۔جب تم مجھ سے چپ چپ کر ناول اور ڈائجسٹ منگواتی تھی ۔۔۔۔۔خیر میری بات غور سے سنو “خرم کےنہ سے ناول اور ڈائجسٹ کا سن کر نمیرہ کو لگا کہ شاید اس نے نمیرہ کو بلیک میل کرنا چاہا ہے ۔۔۔۔بچپن سے وہ لوگ ایک ہی اپاٹمنٹ میں رہتے آرہے تھے اس لئے تمام آڑوس پڑوس والے فیملی ممبر کی طرح ہی ہو چکے تھے ۔۔۔۔۔سارا بچپن نمیرہ کا شاہزیب کے دوستوں کے ساتھ کھیل کر ہی گزرا تھا ۔۔شازمہ بڑی تھی اسکی آپ یںالگ ہی دوستیں تھیں ۔۔اس لئے نمیرہ ذیادہ تر شاہزیب کے سات ساتھ ہی رہتی تھی ۔۔۔اش لئے شاہزیب کرکٹ فٹ بال جب بھی کھلنے نکلتا نمیرہ کو ساتھ لے جاتا تھا ۔۔۔۔خرم سیفی کا تواسے دیکھ کر ہی منہ بن جاتا تھا کہ اب آدھا گھنٹہ شاہوں صاحب کی بہن کو بھی آہستہ آہستہ سے بولنگ کروانی پڑے گی جس پر وہ بڑے آرام سے چھکے چوکے مار کر خوش ہو سکے ۔۔۔۔مگر جب نمیرہ کچھ بڑی ہو گئ تو زمان صاحب اور عاتقہ بیگم کی نوک ٹوک پر کھلنا تو چھوڑ دیا تھا مگر اگر شاہزیب گھر ہر نہیں ہوتا تو بلا تکلف خرم سیفی اور جمی سے اپنی مطلوبہ چیزیں منگوا لیتی تھی جس میں سر فہرست ناول ور ڈائجسٹ ہوتے تھے
“دیکھوں شاہو بھائی کے دوست ہو تو مطلب یہ نہیں کہ منہ اٹھا کر مجھ سے فری ہونے کی کوشش کرو گئے ۔۔۔۔۔آنے دو شاہو بھائی کو تمہاری ساری کرتوتیں کھول کر بتاؤں گی کالے کوے “نمیرہ نے ڈارکٹ اسے سانولے رنگ پر چوٹ کی تھی جس پر وہ تپ گیا تھا
“تمہارے شاہو نے ہی کہا ہے مجھ سے کہ میں اسکی گھونسلے سے بالوں والی کم عقل بہن کو یہ بتا دوں کہ ۔۔۔۔۔۔
“میرے بالوں کو گھونسلہ کہنے کی تمہاری ہمت کیسے ہوئی ۔۔۔۔اور کم عقل ہو گئے تم ۔۔۔ تمہاری بہنیں ۔۔۔ تمہارا پورا خاندان “ساتھ ہی فون کھٹاک سے بند ہوا تھا ۔۔۔۔شاہزیب سب خرم کی طرف پلٹا “
“ہو گئ نمی سے بات ۔۔۔سمجھا دیا نا اسے اچھی طرح سے “
“وہ لڑ تو لے پہلے ۔۔۔خود ہی سمجھاؤں اپنی کم عقل بہن کو “خرم نے فون شاہزیب کو تھما دیا ۔۔۔۔۔۔شاہزیب نے فون پر نمیرہ کو سری صورت حال سے آگاہ کیا ۔۔۔۔جب وہ گھر پہنچا ۔۔۔بنا بیل دیےںہی دیے ہیں دروازہ اسے کھلا ہوا ہی ملا تھا نمیرہ نے اسی کے انتظار میں جاگ رہی تھی باقی سب سو چکے تھے خرم اسے کمرے تک چھوڑ کر چلا گیا ۔۔۔۔۔نمیرہ کاٹن اور ڈیٹول لیکر خشمگین نظروں سے شاہزیب کو دیکھتے ہوئے اس کے پاس بیٹھ گئ پہلے اسے زخموں کو ڈیٹول سے صاف کرنے لگی ۔۔۔۔
“آپ کب باز آئیں گئے شاہو بھائی “
“کبھی بھی نہیں “شاہزیب کے جواب پر اس کا ہاتھ رکا تھا ۔بھائی کو غصے سے دیکھا ۔۔۔پھر سے اسکے دوا لگانے لگی ۔۔۔۔۔
“شازی آپی ٹھیک کرتی ہیں آپکے ساتھ ابو سے شکایت لگا دیتی ہیں ۔۔۔۔میں ہی پاگل ہوں جو زخموں پر دوا لگاتی ہوں ۔۔۔۔”
“تم میری پیاری بہن ہواس لئے “شاہزیب نے نمیرہ کا نام دبا کر کہا
“مت کیا کریں نا اس طرح سے ۔۔۔۔کیا
ملتا ہے آپ کو “نمیرہ کو دیکھ کر دکھ ہو رہا تھا پوری کہنیاں چھل چکی تھی
“خوشی۔۔۔ اطمینان ۔۔۔۔سکون ۔۔۔۔تمہیں کیا خبر نمی تالیوں کی گونج مجھے کس دنیا میں لے جاتی ہے ۔۔۔۔'”شازیب کی باتیں نمی کی سمجھ سے بالا تر تھیں اس کے دوا لگا کر اب وہ چیزیں سمیت رہی تھی ۔۔۔۔
“کھانا گرم کر کے لاؤ “
“نہیں بس ایک گلاس دودھ دے دو ۔۔۔”شاہزیب اب پر تکیہ کراؤن سے لگا کر ٹیک لگائے بیٹھ گیا تھا ۔۔۔نمیرہ کچھ دیر میں اسے دودھ دے کر چلی گئ ۔۔۔۔۔رات کے ٹھیک بارہ بجے فون کی بیل بجی تھی ۔۔۔۔شاہزیب نےپہلی بیل پر فون اٹھایا تھا ۔۔۔۔۔دل کی دھڑکنوں نے گواہی دی تھی۔۔۔۔۔۔کہ اس بار نیناں ہی ہو گی ۔۔۔۔۔
“بولو میری مینا ۔۔۔۔”لیکن آگے سے ایک لمبی خاموشی تھی ۔۔۔۔پھر ایک سسکی کی آواز سنائی دی ۔۔۔۔
“نیناں ۔۔۔۔”
“جی “بھرائی ہوئی آواز سنائی دی
“رو کیوں رہی ہو “شاہ زیب کو حیرت ہوئی
“آپ کے میری وجہ سے ۔ چوٹ لگ گئ ۔۔۔۔”
” تو مت دیا کرو ایسی چوٹیں جس پر آنسوں بھی تمہیں بہانے پڑیں ۔۔۔۔۔”وہ مسکرانے لگا وہ اب تک اس تکلیف کو محسوس کر رہی تھی جس کی چوٹیں شاہزیب کو لگیں تھی
“کیا بہت درد ہو رہا ہے “نیناں نے فکر مندی سے پوچھا
“ہاں بہت ذیادہ ۔۔۔ وہ بھی پچھلے آٹھ دن سے ۔۔۔۔اس درد نے تو شاہو کی نیندیں اڑا دیں ہیں ۔۔۔۔”شاہزیب کیں ذومعنی بات نیناں کی سمجھ سے باہر تھی
“پچھلے آٹھ دن ۔۔۔۔۔لیکن چوٹیں تو آج لگیں ہیں ۔۔۔۔”اس نے تصدیق چاہی ۔۔۔۔
“آج والی چوٹوں کی خیر ہے ۔۔۔وہ لگتی رہتی ہیں ۔۔۔اس سے فرق نہیں مجھے ۔۔۔۔۔صرف تمہیں پڑتا ہے ۔۔۔۔مجھ سے تو تم سے صرف ابھی پچھلے درد کا حساب لینا ہے “
“آپ کیا کہہ رہے ہیں ۔۔مجھے سمجھ نہیں آ رہا “نیناں کا کا وہی نا فہم انداز تھا
“کچھ پوچھا تھا میں نے تم سے ۔۔۔۔کچھ باتیں ہوئیں تھیں ہمارے درمیان ۔۔۔۔۔یاد ہے تمہیں کچھ۔۔۔۔ میری مینا ۔۔۔”
“یاد ہے ۔۔۔۔”نیناں کو آخری ملاقات اور سب باتیں یاد آنے لگیں
“گڈ ۔۔۔۔اب بتاو۔۔۔۔ساتھ چلو گئ میرے ۔۔۔۔زندگی بھر ۔۔۔۔میرے انداز سے ۔۔۔۔”آگے سے پھر لمبی خاموشی تھی ۔۔۔نیناں چپ تھی ۔۔۔۔دل تو دھڑکنوں کے شور سے پوری آمادگی کا اعلان کر رہا تھا مگر لب خاموش تھے ۔۔۔۔گھر میں حیدر کی وجہ سے جو سچویشن اب تک پیدا ہو چکی تھی نیناں الجھ کر رہ گئ تھی
“اب چپ کیوں ہو یار ۔۔۔۔اٹھ دن بڑی مشکل سے کٹے ہیں میرے ۔۔۔۔۔جواب دو مجھے نیناں “شاہ زیب تو آج نیناں سے بہت کچھ سننے کے موڈ میں تھا
“وہ میں دے چکی تھی ۔۔۔۔”نیناں نے آنکھیں بند کی اور صرف دل کی آواز پر لبیک کہنا شروع کیا
“دیکھوں بہت مشکلیں آئیں گئیں نیناں ۔۔۔اختلافات بھی اٹھیں گئے ۔۔۔۔ ثابت قدم رہ پاؤں گی ۔۔۔کہیں ڈگمگا تو نہیں جاؤں گی نا ۔۔۔۔”شاہزیب کے خدشات اپنی جگہ ٹھیک تھے ۔۔۔مشکلات تو اسکی زندگی میں شروع ہو چکیں تھیں نیناں کی آنکھیں اب بھی بند تھی ۔۔۔۔اس کبوتر کی طرح جو سامنے بلی دیکھ کر آنکھیں بند کر کے سمجھتا ہے کہ بلی غائب ہو گئ ۔۔۔۔مصبت سے چشم پوشی کرنے سے مصیبت ٹل نہیں جاتی ہے ۔۔۔۔لیکن دل کی تسلیاں اس وقت دماغ میں پیدا ہونے والے سب خدشوں پر بھاری تھیں
“آپ ہاتھ پکڑیں گئے تو کہیں نہیں ڈگمگاوں گی “نیناں کی آنکھوں سے مسلسل آنسوں بہہ رہے تھے
“او کے ۔۔۔۔۔پھر ڈن ہے ۔۔۔۔۔اب چاہے آندھی آئے یا۔طوفان تمہیں مسز شاہزیب زمان بننے سے کوئی نہیں روک سکتا ۔۔۔۔”سامنے سے پھر وہی خاموشی تھی۔۔۔۔نیناں کے دل کی گہرائیوں سے آمین نکلا تھا
“اب کیوں چپ ہو ۔۔۔۔کچھ کہو نا نیناں ۔۔۔۔ویسے تو بڑا بولتی ہو اب جب بولنے کا وقت ہے گونگی کیوں بنی بیٹھی ہو ۔۔۔'”شاہزیب۔ کو اسکی چپ اس وقت گھل رہی تھی
“میں کیا بولو ۔۔”نیناں نے آنسوں سے بھرے اپنے نیناں کھولے
“میرا سر “شاہزیب کا دل سچ مچ سر دیوار پر مارے جو چاہا
۔۔۔”۔تم اب اتنی شرمیلی ٹائپ لڑکی نہیں ہو جو یوں اظہار کرنے سے گھبرائے ۔۔۔اینی وئے ۔۔۔میں لڑکا ہوں چلو ابتدا میں کر دیتا ہوں ۔۔۔۔نینان۔۔۔۔ آئی لو یو ۔۔۔۔۔اب تم کہو “شاہزیب کے برملا اظہار پر می ان کے چہرے پر مسکراہٹ سج گئ ۔۔۔انکھعں میں آنسوں چہرے پر مسکان ۔۔۔دل میں امنگیں اور وہم دونوں کے بسیرے لئے نیناں سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ اسے خوش ہونا چاہیے یا خوفزدہ
“٫تھنکس “اس نے خوش فہمی کو ترجعی دی
“واٹ تھنکس ہاں ۔۔۔۔ اظہار کرو مجھ سے ۔۔۔لفظوں سے ۔چلو شاباش “شاہزیب کی اگلی فرمائش پر وہ چونک سی گئ تھی
“شاہزیب آپ جانتے تو ہیں پھر بھی “نیناں سمجھ نہیں پائی اسے کسوسم کا اظہار چاہیے
“ہاں پھر بھی ۔۔۔۔”
“او کے ۔۔۔آئی لو یو ٹو ۔۔۔بس “نیناں ہنسی تھی
“ارے ابھی” بس” کہاں ۔۔۔میرے راستے میں “بس” کہیں بھی نہیں آتی ۔۔۔۔۔ملنا ہے مجھے تم سے ۔۔۔۔۔۔”” آگے سے پھر خاموشی تھی ۔۔۔۔نیناں کا دل تھما تھا ۔۔۔حیدر آجکل سائے کی طرح اسکے ساتھ ساتھ رہتا تھا شاہزیب کی فرمائش پر اسکے ہاتھوں میں تری سے اترنے لگی
“نیناں تین دن ہیں تمہارے پاس ۔۔۔۔مجھے سوچ کر بتا دو کہ کہاں ملو گی مجھ سے ۔۔۔۔”شاہزیب نے فون بند کر دیا ۔۔۔۔۔۔نیناں سوچ میں پڑ گئ
