One Wheeling by Umme Hani NovelR50409

One Wheeling by Umme Hani NovelR50409 One Wheeling Episode 20

491.3K
42

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

One Wheeling Episode 20

One Wheeling by Umme Hani

کافی دن گزر گئے تھے ۔۔۔نیلوفر اب نیچے نہیں آ رہی تھی ۔۔۔۔۔رائمہ ایک دو بار اوپر اسکے پاس گئ بھی تو وہ ٹھیک سے بات نہیں کرتی تھی بس کام بہانہ کر کے کچن میں مصروف ہو جاتی ۔۔۔۔۔رائمہ کو بھی محسوس ہو کہ وہ بہت سنجیدہ سی ہو گئ تھی ۔۔۔روئی روئی آنکھیں بجھا بجھا چہرا رائمہ سے اسکے جذبوں کی عکاسی کر رہا تھا دوسری جانب باسم بھی چپ چپ سا تھا ۔۔۔۔ کبھی کبھی جو نیلوفر سے سامنا ہونے پر اس کا چہرا کھل اٹھتا تھا وہ اب آزردگی کی تصویر بنا رہتا تھا ۔۔۔۔رات کو جب رائمہ باسم کو چائے دینے گئی ۔۔۔۔اس وقت باسم لیپ ٹاپ پر مصروف تھا۔۔۔۔رائمہ نے چائے کا کپ رکھا ۔۔۔۔اور وہیں اسکے سامنے بیڈ پر بیٹھ گئ ۔۔۔۔ باسم نے بھی لیپ ٹاپ سائیڈ پر رکھ دیا ۔۔۔۔۔

“باسم مجھے کچھ کہنا ہے تم سے ۔۔۔۔”رائمہ نے ہی بات کی ابتدا کی

“ہاں بولو ۔۔۔۔”چائے کا کپ اپنے لبوں پر لگاتے ہوئے وہ بولا

“میں یہ سوچ رہی تھی کیوں نا امی کے ساتھ اوپر جا کر نیلوفر کی پھپو اور والد سے بات کریں “

“کس سلسلے میں “باسم جانتا تو تھا کہ رائمہ اسکے رشتے کے بارے میں بات کرنے کا کہہ رہی ہے مگر جان بوجھ کر انجان بن گیا ۔۔۔۔۔

“باسم تم جانتے ہو میں کیا کہنا چاہ رہی ہوں ۔۔۔۔ظاہر ہے تمہارے اور نیلو کے رشتے کی بات کرنا چاہ رہی ہوں ۔۔۔۔اب تو اسکی پھپو اس بیچاری کو نیچے بھی نہیں آنے دیتی ۔۔۔۔میں اوپر چلی بھی جاؤں تو نیلو کو مجھ سے بات کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔۔۔۔بڑا ترس آتا ہے مجھے اس پر ۔۔۔بس میں چاہتی ہوں جلد از جلد تمہارا اس سے رشتہ طے ہو جائے ۔۔۔۔۔

” کیوں ترس آتا ہے اس پر۔۔۔۔ معذور ہے وہ ۔۔۔۔۔چل پھر نہیں سکتی ۔۔۔۔۔ہاتھ پاؤں سلامت نہیں ہیں اس کے یا اندھی بہری اور گونگی ہے کیا کمی ہے اس میں ۔۔۔۔بلکل ٹھیک ہے وہ ۔۔۔۔سارے اعضا سلامت ہیں اسکے عقل شعور سمجھ بھی رکھتی ہے ۔۔۔۔قابل رحم نہیں ہے ۔۔۔بس شاید مظلومیت کی تصویر بننے کا شوق ہے اسے ۔۔۔ اسکی پھپو اسے کچھ بھی کہہ دے کوئی بھی الزام لگا دے وہ بس چار آنسوں ہی بہا سکتی ہے ۔۔۔۔کیوں چپ رہتی ہے وہ ۔۔۔۔یہ صبر نہیں ہے کہ کوئی جب چاہے منہ اٹھائے اور تمہارے کردار کو تار تار کر دے اور تم روتے ہوئے چپ ہو جاؤں ۔۔۔ ظلم سہہ کر ہم دوسرے کو ظالم بننے کا موقع دیتے ہیں جس معاشرے میں ہم رہتے ہیں وہاں سب کو اپنی لڑائی خود ہی لڑنی پڑتی ہے ۔۔۔سہاروں کی آس امید پر رہنا بیوقوفی ہے حماقت ہے اور معاف کرنا رائمہ تمہاری دوست دوسروں کے سہارے تلاش کرنے والوں میں سے ہے یا مرے ہوئے لوگوں سے شکوے شکایتیں کر کے انہیں مزید اذیت دینے والوں میں سے ہے ۔۔۔۔خود اپنا دفاع کرنے کی ہمت نہیں رکھتی ۔اور مجھے ایسا ہمسفر نہیں چاہیے ۔۔۔۔۔۔”باسم نے خاموشی سے رائمہ بات سن کر نہایت اطمینان سے جواب دیا تھا ۔۔۔۔رائمہ کو خلاف توقع جواب سن کر حیرت ہوئی تھی باسم اپنی پسندیدگی کا اظہار پہلے کر چکا تھا۔۔۔پھر اب یہ جواب ؟

“باسم کیا فضول بات ہے یہ ۔۔۔۔اب کیا ہو گیا ہے جو تم یوں کہہ رہے ہو کل تک تو اتاولے ہوئے جا رہے تھے ۔۔۔نیلو کے لئے ۔۔۔۔۔

“بیوقوف تھا میں اس لئے ۔۔۔۔۔”چائے کے چھوٹے چھوٹے سپ لیتے ہوئے وہ بنا کسی تاثر کو ظاہر کیے بات کر رہا تھا

“اچھا تو آج کونسی عقل کی بات کر رہے ہو تم ۔۔۔۔ہوا کیا ہے تمہیں “

“غلط تھا میں رائمہ فری کے بارے میں میرے رائے بھی غلط تھی ۔۔۔میں بہرحال ایک بزدل کم ہمت اور ڈر پوک لڑکی سے شادی ہر گز نہیں کر سکتا ۔۔۔۔جس کے کردار کی آئے دن بنا کسی عیب کے دھجیاں اڑائیں جائیں اور وہ بس آنسوں بہاتی رہے ۔۔۔۔۔ایسی کم ہمت لڑکی کے ساتھ میرا ہر گز گزارا نہیں ہے ۔۔۔۔دوبارہ اس لڑکی کا نام بھی میرے سامنے مت لینا “باسم کے سخت اور گھمبیر لہجے پر رائمہ بس اسے دیکھتی ہی رہ گئ

********……….

نیلوفر کچن میں برتن دھو رہی تھی جب پھپو نے آواز لگائی ۔۔۔وہ فورا سے انکے کمرے میں چلی گئ ۔۔۔

“جی پھپو “

“ہائے نیلو میر سر درد سے پھٹا جا رہا ہے ۔۔۔۔مجھے تو لگ رہا ہے بخار ہو گیا ہے ۔مجھے ۔۔۔۔”وہ سر پر دوپٹہ باندھیں بیٹھی ہائے وائے کر رہیں۔ تھیں نیلوفر فورا سے انکے پاس آئی انکا ہاتھ لگایا۔ توواقع وہ بخار سے تپ رہیں تھیں ۔۔۔۔

“پھپو آپ کو توسچ میں بخار ہو گیا ہے ۔۔۔۔اور اس وقت تو بابا بھی سو چکے ڈاکٹر بھی نہیں ملے گا جا چکا ہو گا “نیلو پریشان کوئی تھی

“ہائے نیلو کوئی بخار سر درد کی گولی دیدو مجھے ۔۔۔میرا سر پھٹ جائے گا ۔۔۔۔”پھپو اپنا سر دونوں ہاتھوں سے پکڑے بولی چہرے سے بھی لگ رہا تھا کہ تکلیف برداشت نہیں کر پا رہیں نیلوفر نے دواوں والا بکس درازسے نکالا اور اسے کھول کر بخار کی دوا ڈھونڈنے لگی ۔۔۔مگر وہ شاہد ختم ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔

“پھپو بخار کی دوا تو ختم ہو چکی ہے “

“تو جا کر نیچے سے پوچھ لے ہائے میرا سر ۔۔۔۔”وہ اپناسر پکڑے بلبلا رہیں تھیں نیلو فر نیچے اتری تو صحن میں خاموشی تھی رابعہ بیگم اور رباب سو چکیں تھیں ۔۔۔۔انکے کمرے کی لائٹ بھی بند تھی رات کے گیارہ بج رہے تھے یقین سب سو چکے تھے ۔۔۔۔۔ لیکن باسم کے کمرے کی لائٹ جل رہی تھی اور رائمہ کی بات کرنے کی آواز بھی آ رہی تھی ۔۔۔۔۔اس سے پہلے کہ نیلوفر باسم کی دروازے پر دستک دے کر رائمہ کو بلاتی رائمہ اور باسم کے باہم ہونے والی گفتگوں پر ٹھٹک گی ۔۔۔۔۔کیونکہ انکے بیچ موضوع گفتگوں وہی تھی ۔۔۔۔۔۔کمرے کادروازہ بند نہیں تھا بس پردہ ہی آگے تھا ۔۔۔دروزہ دو پٹ والاتھاایک پٹ کھلاہوا تھا اور دوسرا بند تھا کھلے ہوئے دروزے پر پردہ ڈلا ہو تھا ۔۔۔۔۔باسم کا جواب سن کر نیلو کی آنکھوں سے آنسوں جاری ہو چکے تھے ۔۔۔۔اسے لگتا تھا کہ باسم اسے سمجھتا ہے ۔۔۔۔اسکے دکھ کو محسوس کر سکتا ہے ۔۔۔اسے پسند کرتا ہے لیکن وہ تو اسے اپنانے کے لئے تیار ہی نہیں تھا اسکی نظر میں نیلو ایک بزدل لڑکی تھی جیسے وہ اپنے ہمسفر کے طور پر قبول کرنے کےئے تیار نہیں تھا ۔۔۔۔۔وہ وہیں سے واپس پلٹ گئی ۔۔۔۔ایک بار باسم کے صاف کورے جواب پر تاسف ہوا پھر اپنی بزدلی پر غصہ آیا۔۔۔۔اس کااور پھپو کا کمرہ مشترکہ تھاواپس آ کر ایک کپ چائے آنسوں۔ بہاتے ہوئے بنائی دل میں عہد بھی کیا کہ دوبارہ کبھی بھی باسم سے سامنا بھی نہیں کرے گی ۔۔۔۔۔ اپنی اتنی اہانت پر وہ صرف آنسوں ہی بہا سکتی تھی ۔۔۔۔

“کتنا عجیب شخص ہے ۔۔۔۔پتہ بھی ہے کہ میں مجبور ہوں ۔۔۔۔بے بس ہوں ۔۔۔پھر بھی میرے بارے میں ایسی رائے رکھتا ہے۔۔۔۔میں ہی بیوقوف تھی جو اسے اپنا ہمدرد سمجھ بیٹھی ۔۔۔۔ اس دنیا میں ایسی لڑکیوں کا کوئی بھی نہیں ہوتا جن کی ماں حیات نا ہو۔۔۔۔ اگر امی ہوتیں تو کیا میں اتنی بے بسی کی زندگی گزار رہی ہوتی ۔۔۔۔۔۔چائے پک چکی تھی نیلو فر نے ڈوپٹے کے پلو سے آنکھیں رگڑ کر صاف کیں دل میں ایک نیا عزم اجاگر ہوا کہ اب پھپو کی فضول گوئی ہر گز نہیں سنے گی ۔۔۔چائے کا کپ پکڑ کر ایک چھوٹی پلیٹ میں رکھا اور کمرے میں لے آئی پھپو کی ہائے وائے ابھی تک جاری تھی ۔۔۔۔۔

نیلو نے چائے کا کپ سائیڈ پر پٹخنے کے انداز سے رکھا پھپو نے تیوری چڑھا کر اسے دیکھا ۔۔۔

‘دوا کہاں ہے سر درد کی ۔۔۔لائی نہیں نیچے سے ” وہ کراہ کر رہ گئیں

“وہ سب لوگ سو چکے ہیں پورے گھر میں اندھیرا تھا اس لئے میں سیڑیوں سے ہی لوٹ آئی چائے پی سو جائیں صبح بابا کے ساتھ جا کر دوا لے آئیے گا ۔۔۔۔نیلو نے لہجہ متوازن رکھنے کی کوشش تو بہت کی مگر پھر بھی لہجے کی سختی ختم نہیں کر پائی ۔۔۔۔آج پھپو کی وجہ سے وہ باسم کی نظر سے گر چکی تھی ۔۔۔۔۔اس لئے اسوقت سب اسے ذیادہ تاؤ پھپو پر ہی آرہا تھا ۔۔۔۔۔

“آئے ہائے میں مری جا رہی ہوں درد سے اور تم ہو کہ ۔۔۔نخرے کرتی پھر رہی ہو ۔۔۔۔جگا دینا تھا سب کو ۔۔۔۔۔ارے کیا نام ہے اس موئے کا ۔۔۔۔ہاں باسم ۔۔۔۔”پھپو کو سر درد کے باعث یاداشت بھی کم کام کرتی ہوئی لگ رہی تھی ۔۔۔۔

“ارے اسے کہہ دیتی کہ مجھے ڈاکٹر پر لے جائے ۔۔۔۔ہائے صبح تک تو میرا سر ہی درد سے پھٹ جائے گا ۔۔۔۔”

“کیوں پھپھو کیوں کہوں میں کسی سے ۔۔۔لڑکا ہے وہ ۔۔۔۔میرا اس سے بات کرنا مجھے بدنام کر سکتا ہے ۔۔۔۔رات کے گیارہ بجے کسی غیر لڑکے کے گھر جا کر اسے بلانے سے آپکی غیرت کو خاک میں ملانے کی جرت ۔میں کیسے کر سکتی ہوں ۔۔۔مجھے آپ معاف ہی کر دیں تو بہتر ہے ۔۔۔۔سو جائیں بابا صبح لے جائیں گئے آپ کو ڈاکٹر کے پاس “نیلو یہ کہہ کر بیڈ پر لیٹ گئے پھپو سے مخالف سمت کروٹ بدلی اور آنکھیں بند کر لیں ۔۔۔پھپو کی تو ایسے صاف جواب پر آنکھیں ابل پڑیں تھیں ۔۔۔۔پہلی بار نیلوفر نے انہیں لا جواب کر دیا تھا ۔۔۔انہی کے ہتھیار سے آج انہی کو چوٹ دی تھی ۔۔۔۔۔اس لئے۔ چپ چاپ چائے پینے لگیں

*******……..

شاہزیب نے پیچھے پلٹ کر دیکھا تو جمی خرم اور سیفی اس کے پیچھے کھڑے بڑے خطرناک تیوروں سے اسے گھورتے ہوئے تالیاں بجا رہے تھے

“ویل ڈن ۔۔۔شاہو ۔۔۔۔ کیا کہنے ہیں تمہارے ۔۔۔۔۔محبت کرنا توکوئی تم سے سیکھے۔۔۔۔۔”سیفی نے کہا اور تینوں اب ہاتھ باتھ باندھے شاہزیب کو دیکھ رہے تھے۔۔

۔۔۔۔نیناں ان تینوں سے انجان تھی ۔۔۔۔۔بس اسے حیرت سے دیکھ ہی سکتی تھی ۔۔۔شاہزیب ہڑبڑا سا گیا تھا ۔۔۔۔اس وقت ان تینوں کی موجودگی کی امید اسے ہر گز نہیں تھی ۔۔۔

“ت۔۔تم لوگ “زبان یک دم لڑکھڑائی تھی وہ ایک دم سے وہ کھڑا ہونے لگا

“ہاں ہم لوگ کیوں کیا ہوا شہزادے ۔۔۔اتنا پریشان کیوں ہو بیٹھوں بیٹھوں ۔۔۔۔لنچ انجوائے کروں ۔۔۔۔”خرم نے آنکھیں دیکھاتے ہوئے اسکے کندھے پر ہاتھ جماتے ہوئے زور سے اس کا کندھا دبا کر اپنے غصے کا اظہار کیا تھا ۔۔۔۔ساتھ ہی اسکے برابر کی کرسیوں پر تینوں کے تینوں براجمان ہو چکے تھے ۔۔۔۔۔

“ہیلو بھابی ۔۔۔کیسی ہیں آپ “سب سے پہلے نیناں سے اپنا تعارف سیفی نے کروایا تھا ۔۔۔۔نیناں ہکا بکاسی انہیں دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔

“اس کمینے نے ہمارا تعارف توآپ سے بلکل نہیں کروایا ہو گا ۔۔ یہ ہے ہی ایک نمبر کا دغا باز ۔۔۔اس لئے ہم نے سوچا یہ کام ہم خود ہی سر انجام کر لیں ۔۔۔۔۔کیونکہ جو یہ ارادے رکھتا ہے ۔۔۔نکاح نامے پر اسے گواہوں کے طور پر ہمارے دستخط کی ہی ضرورت پڑنے والی ہے ۔۔۔۔کیوں شاہو “سیفی نے قہر بھری نظر سے شاہزیب کو گھورا تھا ۔۔….شاہزیب نظریں چرانے لگا تھا ۔۔۔۔ویلنگ کے بعد اکثر وہ سب دوست اسی رسٹورنٹ کا رخ کرتے تھے ۔۔۔چائے کولڈرنک یہیں سے پیتے تھے ایک دو بار ڈنر بھی کر چکے تھے ۔۔۔۔ لیکن جب سے نیناں سے ملاقاتوں کا سلسلہ چل نکلا تھاشاہزیب ہر بار منع کر دیتا تھا ۔۔۔۔شاہزیب کے بدلے ہوئے رویے کو وہ تینوں کافی دنوں سے محسوس کر رہے تھے ۔۔۔۔اس لئے آج اسے نیناں کے ساتھ دیکھ کر رنگے ہاتھوں پکڑنے کا ارادہ کرتے ہوئے وہیں پہنچ گئے تھے ۔۔۔کافی باتیں بھی سن چکے تھے جو وہ نیناں سے کر چکا تھا ۔۔۔۔اب اسے جی بھر کر ذلیل کرنا چاہتے تھے ۔۔۔۔شاہزیب بری طرح پھنس چکا تھا ۔۔۔۔راہ فرار بھی اس وقت ممکن نہیں تھی ۔۔۔۔اس لئے خود کو مضبوط ثابت کرتے ہوئے ۔۔۔پہلے اپنا گلا صاف کیا

“نیناں ۔۔۔یہ میرے دوست ہیں ۔۔۔۔ میرے بسٹ فرینڈز ۔۔۔۔”شاہزیب ان تینوں سے نظریں چراتے ہوئے نیناں سے انکا تعارف کروانے لگا ۔۔۔۔انکی گھورتی ہوئی نظروں کو یکسر نظر انداز کیے ہوئے خود کو لاپروا کمپوز کر رہا تھا ۔۔۔۔

“یہ جمی ہے ۔۔۔اصل نام اسکا جمال ہے ۔۔۔اور ہے سیف الرحمن ہے ۔۔۔۔اسے ہم سیفی کہتے ہیں اور یہ خرم ہے ۔۔۔۔ “

“ہائے “نیناں چاہ کر بھی کنفیڈنس سے بات نہیں کر پا رہی تھی ۔۔۔اس طرح غیر متوقع ملاقات کے لیے بلکل تیار نہیں تھی ۔۔۔۔پھر جیسے تاثرات ان تینوں کے چہروں پر تھے ۔۔۔۔۔وہ دوستانہ ماحول تو بلکل نہیں تھے لگ رہا تھا انکی گھورتی نظریں شاہزیب پر ایسے گڑی ہوئیں تھی جیسے شاہزیب کو کچا چبا جانے کا ارادہ رکھتے ہوں ۔۔۔۔

“ہیلو ۔۔۔۔”جمی اور سیفی نے مصنوعی مسکراہٹ سجا کر نیناں کو جواب دیا ۔۔۔لیکن خرم چپ چاپ صرف شاہزیب کو گھور رہا تھا ۔۔۔۔۔

“سیفی نیناں لیٹ ہو رہی ہے تم لوگ جاؤں میں اسے اسکے گھر ڈراپ کر کے آتا ہوں ۔۔۔۔”شاہزیب کو ڈر تھا کہ کہیں نیناں کے سامنے وہ تینوں مزید کوئی اول فول نا بک دیں ۔۔۔۔۔”

“بلکل بلکل ۔تم جاؤں ۔۔۔لیکن بھابی کو چھوڑ کر یہاں مت آنا اپنے علاقے کے” کوئٹہ چائے والے کیفے” پر پہنچ جانا ۔۔۔۔ہم تمہارا وہیں انتظار کریں گئے” ۔۔۔۔جمی نے دانت کچکچا کر کہا ۔۔۔

“چلو نیناں “شاہزیب نے نیناں کو اٹھنے کا اشارہ کیا ریسٹورنٹ کے باہر کھڑی بائیک کے پاس جاتے ہوئے نیناں نے پھر سے پوچھا

“یہ سچ میں تمہارے دوست ہیں “نیناں کی بات پر شاہزیب نے پلٹ کر اسکی طرف دیکھا

“ہاں ۔۔۔کوئی جھوٹ میں بھی دوست ہوتا ہے کیا۔۔۔۔”شاہزیب پہلے ہی پریشان تھا جیب سے بائیک کی چابی نکالتے ہوئے بولا

“نہیں ان لوگوں کا رویہ کچھ عجیب لگ رہا تھا روکھا روکھا سا “

“بہت اچھے ہیں تینوں ۔۔۔۔ جان دیتے ہیں ہم ایک دوسرے پر بچن لڑکپن سب ساتھ گزرا ہے ہمارا روکھے وکھے نہیں ہیں ۔۔۔ایکچلی میں نے انہیں تمہارے بارے میں نہیں بتایا تھا اس لئے یوں ریایکٹ کر رہے ہیں ۔اگلی بار تم سے ٹھیک سے ملیں گئے یو ڈونٹ وری ۔۔۔”شاہزیب اب بائیک پر بیٹھ چکا تھا ۔بائیک کو اسٹاٹ کیا ۔۔ نیناں بھی اسکے پیچھے بیٹھ گئ ۔۔۔۔ شاہزیب نے اسکے بنگلے کے باہر اسے اتارا اور وہیں سے واپس پلٹ گیا ۔۔۔۔

******…….

نیناں نے مین بیل دی چوکیدار نے دروازہ کھولا ۔۔۔۔شام کے پانچ بج رہے تھے اس وقت بختیار صاحب گھر پر موجود نہیں ہوتے تھے ۔۔۔اور حیدر سے اس دن کے بعد سے نیناں کی ذیادہ بات چیت نہیں ہوئی تھی ۔۔۔نا ہی حیدر نے اس موضوع پر کچھ کہا تھا نا ہی نیناں نے مزید بات کو بڑھایا تھا ۔۔۔جب وہ لاونج میں داخل ہوئی حیدر اور بختیار صاحب سامنے صوفے پر بیٹھے بڑے خوشگوار موڈ میں بات کر رہے تھے ساتھ ہی ساتھ چائے بھی پی رہے تھے ۔۔۔۔۔۔بہت سے شاپنگ بیگ بھی صوفے پر رکھے تھے ۔۔۔نیناں کو دیکھ کر دونوں نے مسکراتے ہوئے اس کا استقبال کیا ۔۔۔

“لٹل فرینڈ کہاں غائب رہتی ہو تم آجکل۔۔۔۔آوں ادھر میرے میری جان ۔۔۔”نیناں بختیار صاحب کے ساتھ جا کر بیٹھ گئ ۔۔۔انہوں سے اسکے سر کا بوسہ لیا ۔۔۔اسکا کندھا پیار سے تھتھپایا ۔۔۔۔

بختیار صاحب کے چہرے پر اتنی خوشی تھی کے چہرہ خوشی کے مارے تمتما رہا تھا ۔۔۔۔۔۔

“پوپس میں بس فرینڈ کے ساتھ تھی “نیناں نے وضاحت دی

“کتنی بار تمہیں کہاں ہے کہ اپنی گاڑی میں جایا کرو ۔۔۔۔اینی وئے ۔۔۔۔دیکھوں حیدر نے کتنی اچھی شاپنگ کی ہے تمہارے لئے ۔۔۔۔”بختیار صاحب نے شاپنگ بیگ لیا اوراس میں سے ایک بڑا سائز کا ڈبہ نکالا اسے کھولا تو گرے کلر کی فینسی سی میکسی رکھی ہوئی تھی جس کے ساتھ نیوی بلو کلر کا شفون کا دوپٹہ تھا جس کے کناروں پر بھی فینسی اور نفیس سا کام ہوا تھا ۔۔۔۔دیکھنے سے لگ رہا تھا کہ کسی خاص فنگشن کے لئے خریدا گیا ڈریس ہے ۔۔۔۔

بختیار صاحب نے وہ ڈوپٹہ نکال کر کھولا نیناں کے سر پر رکھ دیا ۔۔۔۔

“پوپس یہ سب کیا ۔۔۔۔۔”نیناں کی بات مکمل ہونے سے پہلے بختیار صاحب نے نیناں کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا ۔۔۔

“ابھی کچھ مت کہو ۔۔۔مجھے دیکھ لینے دو کہ میری بیٹی دلہن بنی کیسی لگے گی ۔۔۔۔”بختیار صاحب کے الفاظ تھے یا قیامت ۔۔۔۔۔نیناں سن سی ہو کر رہ گئ پھٹی پھٹی آنکھوں سے انہیں دیکھنے لگی ۔۔۔۔۔۔ اسے لگا کوئی آسمان تھا جو اسکے سر پر آن گرا تھا ۔۔۔۔دل دھڑکنا بھول ہی گیا تھا زبان جیسے کنگ ہو گئ تھی گلے میں گرہیں پڑنے لگیں تھیں ۔۔۔۔۔بختیار صاحب نے اسکے ہونٹوں سے ہاتھ ہٹا کر اسکے چہرے کو اپنے دونوں ہاتھوں کے پیالے میں لے لیا ۔۔۔۔۔دوبارہ سے اسکی پیشانی پر بوسہ دیا ۔۔۔۔

“نیناں میری جان ۔۔۔میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ تم کبھی مجھ سے جدا بھی ہو سکتی ہو ۔۔۔۔لیکن اب سمجھ چکا ہوں بیٹی چاہے کسی بادشاہ کی بھی ہو اسکی رخصتی کاغم ہر باپ کو سہنا پڑتا ہے ۔۔۔”بختیار صاحب کی آنکھوں کے ساتھ لہجہ بھی بھیگا ہوا تھا ۔۔۔۔نیناں کی پتھرائی ہوئی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسوں گرنے لگے ۔۔۔۔۔بختیار صاحب نے بے اختیار اسے اپنے سینے سے لگا لیا اب وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی ۔۔۔۔۔ رو تو بختیار صاحب بھی رہے تھے ۔۔۔انسوں ایک جیسے تھے مگر آنسوں کی وجہ الگ الگ تھی جذبے مختلف تھے ۔۔۔۔۔۔حیدر اٹھ کر بختیار صاحب کے پاس آ گیا انکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر تسلی دینے لگا

“انکل میں نین کو آپ سے دور کہیں نہیں لیکر جاؤں گا ۔۔۔۔۔ آئی پرومس ۔۔۔۔بہت جلد اسی ایریے میں ایک بنگلا نین کے لئے خرید لوں گا ۔۔۔۔۔آپ کو کبھی نہیں لگے گا کہ وہ آپ سے دور ہوئی ہے ۔۔۔۔”بختیار صاحب نے اپنے کندھے پر رکھے حیدر کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا

“تم پر مجھے بھروسہ ہے جھبی اپنی نیناں کے لئے تمہیں چنا ہے ۔۔۔۔” نیناں کے دل پر چھریاں چلتی ہوئی محسوس ہونے لگیں ۔۔۔۔کیا ہونے والا تھا اسکے ساتھ اب ۔۔۔۔منگنی حیدر سے ۔۔۔مگر کیوں ۔۔۔۔حیدر کو وہ سچ بتا چکی تھی ۔۔۔۔۔پھر وہ کیسے اس سے منگنی کے لئے تیار ہو گیا تھا ۔۔۔کیوں کیا اسکے ساتھ اس طرح سے حیدر نے ۔۔۔۔۔

بختار صاحب کے گلے میں بانہیں ڈالے وہ بھی انکے سینے کے ساتھ لگی آنکھوں سے گرم گرم آنسوں بہا رہی تھی ۔۔۔۔۔اب شاید وقت آ چکا تھا کہ وہ خود ان سے شاہزیب کے بارے میں بات کرے ۔۔۔۔۔

“پوپس مجھے کچھ بات کرنی ہے آپ سے “اپنی ہمت مجتمع کر کے نیناں نے سسکیوں کے ساتھ یہ بات کہی تھی ۔۔۔۔”

بختیار صاحب نے نیناں کا چہرا اپنے ہاتھوں میں لیا اپنے انگوٹھوں کے پوروں سے اسکے آنسوں صاف کیے ۔۔۔۔

“بولو میری جان ۔۔۔۔کیا کہنا ہے تمہیں کچھ چاہیے تو بتاؤں مجھے ۔۔۔۔۔سارا شہر تمہارے سامنے رکھ دونگا ۔۔۔۔”بختیار فرحت جذبات میں کہہ رہے تھے

“مجھے آپ سے اکیلے میں بات کرنی ہے پوپس “نیناں نے حیدر کی طرف ایک اچٹتی سی نظر ڈال کر کہا ۔۔۔۔۔بختیار صاحب کی پیشانی پر چند لکیریں سی پڑ گئیں

“میں اندر چلا جاتا ہوں انکل۔۔۔۔اپ نین کی بات سن لیں “حیدر نے نہایت مہذب لہجے سے کہا

“نہیں حیدر تم کوئی غیر نہیں ہو ۔۔۔۔۔۔نیناں نے جو کہنا ہے تمہارے سامنے بھی کہہ سکتی ہے ۔۔۔بولوں نیناں “بختیار صاحب اب نیناں سے سنجیدگی سے پوچھنے لگے ہاتھ بھی اسکے چہرے سے ہٹا لئے

*******………

شاہزیب سیدھا اسی کیفے میں پہنچا تھا جہاں وہ سب دوست پہلے مل کر بیٹھا کرتے تھے ۔۔۔۔۔شاہزیب جب اندر داخل ہوا وہ تینوں اسی کے منتظر تھے ۔۔۔۔۔

وہ سیدھا جا کر انکے ٹیبل پر رکا کرسی کھنچی اور ٹانگ ہے ٹانگ رکھ کر بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔چند لمحے خاموشی کی نظر گزر گئے ۔۔۔۔

“کیا تھا یہ سب شاہو “بات خرم نے شروع کی اور سب سے ذیادہ سنجیدہ بھی وہی لگ رہا تھا ۔۔۔۔۔باقی دونوں تو غصے سے بھپرے بیٹھے تھے

” سیدھی بات ہے ۔۔۔محبت کرنےلگا اس سے ۔۔۔۔”شاہزیب نے بنا تمہید باندھے بلا جھجک اعتراف کیا تھا

“تم اپنے ہی بنائے ہوئے اصولوں سے منحرف ہو رہے ہو “سیفی نے تلملا کر کہا

“مجھے نہیں معلوم تھا کہ یہ جذبہ بے اختیار ہوتا ہے ۔۔۔کسی اصول کو نہیں مانتا ورنہ ایسی کوئی شرط نا رکھتا ۔۔۔۔ایم سوری ۔۔۔مجھے یہ بات تم لوگوں کو پہلے بتا دینی چاہیے تھی “شاہزیب نے اعتراف کیا

“بکو مت سمجھے ۔۔۔۔تم کرو تو محبت ایک بے اختیار جذبہ ہو گیا ۔۔۔جب ہمہیں ہوئی تھی تو تم نے ہی سب سے ذیادہ مخالفت کی تھی ۔۔۔۔تب تمہیں یہی جذبہ سب سے بڑی بیوقوفی لگتا تھا ۔۔۔۔۔شاہو قصہ ختم کرو اس لڑکی کا جتنی جلدی ہو سکے “سیفی غصے سے بھڑکا تھا

“اگر نا کروں تو کیا کرو گئے “شاہزیب نے بھی اسی انداز سے سیفی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے کہا

” اصول تم نے بنائے تھے ۔۔۔۔تمہیں اب نبھانا بھی پڑے گا ۔۔۔ہم نے بھی اپنی اپنی محبت کی قربانی دی ہے ۔۔۔اب تمہاری باری ہے ۔۔۔”جمی نے اسے ماضی میں اپنی محبت کی دی جانے والی قربانیاں یاد دلائیں

“میں نے بنایا تھا یہ اصول۔۔۔ ٹھیک ہے ۔۔آج میں نے توڑ دیا ۔۔۔۔جاوں تم لوگ بھی آزاد ہو جس سے چاہو محبت کی پینگیں بڑھاو مجھے کوئی اعتراض نہیں ۔۔۔۔” شاہزیب کی بات پر سیفی نے بے ساختہ غصے سے اس کا گریبان پکڑ لیا

“بکو مت سمجھے ۔۔۔۔ اپنی باری آئی تو اصول توڑ دیے ۔۔۔۔ میری والی کی شادی ہو چکی ہے دو بچے ہیں اس کے ۔۔۔بات کرتا ہے سالا اصول توڑنے کی کوئی اصول نہیں ٹوٹے گا۔۔۔۔۔۔”سیفی کا غصے سے پارہ ہائی ہوا تھا ۔۔۔۔

” بھاڑ میں گئے سارے اصول اور قوانین۔۔۔ گریبان چھوڑو میرا ورنہ منہ توڑ دونگا تمہارا ۔۔۔۔”شاہزیب کی آنکھوں کے ڈورے بھی غصے سے سرخی مائل ہونے لگے لہجہ اس کا بھی بلند ہونے لگا تھا

“سیفی گریبان چھوڑو شاہو کا ۔۔۔۔ایک لڑکی کی خاطر بچپن کی دوستی توڑو گئے دونوں ۔۔۔پاگل ہو گئے ہو کیا ۔۔۔۔”خرم دو ن دونوں کے بیچ میں بیٹھا تھا سیفی کے ہاتھ سے شاہزیب کا گریبان چھڑوایا

“تو سمجھا دے اسے ۔اچھی طرح سے ۔۔۔چھوڑے اس لڑکی کا چکر وکر ورنہ “سیفی نے انگلی اٹھا کر تنبیہہ لہجے میں کہا

“ہاں ۔۔ہاں ۔۔چھوڑ دے گا ۔۔۔۔تمہیں ذیادہ غصے میں آنے کی ضرورت نہیں ہے “خرم نے بات سنبھالنے کی کوشش کی

“کبھی بھی نہیں چھوڑو گا اسے ۔۔۔۔۔ جھوٹی تسلیاں ااور دسلاسے مت دو خرم ۔۔۔۔۔”شاہزیب نے برجستہ کہا خرم کو شاہزیب اس وقت احمق ہی لگ رہا تھا

“شاہو ذیادہ جذبات میں آنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔سیفی اور جمی کی بات کو ایک طرف رکھ کر بھی دیکھوں تو ۔۔۔وہ لڑکی بہت ہائی کلاس سے تعلق رکھتی ہے ۔۔۔۔تم سے محبت کا کھیل تو رچاسکتی ںے تمہارے ساتھ زندگی نہیں گزارے گی میں تو تبھی ہی سمجھ گیا تھا شاہو جب ویلنگ کے دوران اس لڑکی کی پکار پر تم نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر پلٹ کر اسے دیکھا تھا کہ وہ ضرور کوئی خاص اہمیت رکھتی ہے تمہارے لئے ۔۔۔تب ہی میں نے اس لڑکی کے بارے میں معلومات حاصل کر لی تھی ۔۔۔۔ کیوں اپنے جذبوں کو بے مول کرنا چاہتے ہو ۔۔۔۔تمہیں کیا لگتا ہے اپنا محل چھوڑ کر تمہارے ساتھ اس تین کمروں کے چھوٹے سے فلیٹ میں آ کر بسے گی وہ ۔۔۔”خرم نے ایک حقیقت کا تلخ رخ اسکے سامنے رکھا

“ہاں اپنا محل چھوڑ کر میرے ساتھ میرے اسی تین کمروں کے فلیٹ میں آ کر ویسے ہی زندگی بسرکرے گی جیسے میں چاہوں گا ۔۔۔”شاہزیب کا اعتماد ایک پل کے لئے بھی نہیں ڈگمگایا تھا

“خوش فہمی ہے تمہاری “جمی نے تمسخرانہ انداز سے کہا

“محبت کرتی ہے وہ مجھ سے ۔۔۔میری خاطر بدل کر رکھ دیا ہے اس نے خود کو ۔۔۔۔۔”

“اچھا ذرا ہم بھی سنے کیا بدلہ ہے اس نے ۔۔”جمی نے لفظ جماتے ہوئے کہا

“اپنا پہننااوڑھنا ۔۔۔اپنا کھانا پینا اپنا لائف اسٹائل ۔۔۔سب کچھ یہاں تک کے میرے علاوہ اپنے سب دوستوں کو چھوڑ چکی ہے وہ ۔۔۔۔۔۔”

“بیوقوف بنا رہی ہے تجھے ۔۔۔۔تمہاری عقل پر اس امیرزادی خوبصورت حسینہ کی محبت کی پٹی بندھ گئ ہے تجھے کیوں کچھ نظر آئے گا ۔۔۔ تیرے علاؤہ اور نا جانے کتنے یار پال رکھیں ہوں گئے اس نے ۔۔۔”سیفی پھر طیش میں بولا

” ابے او۔۔۔۔۔زبان سنبھال کر بات کرو اسکے بارے میں ورنہ تمہاری زبان کھنچ لوں گا “شاہزیب اتنی زور سے دھاڑا تھا کہ کیفے پر بیٹھے سب لوگوں کی نظریں انہی پر مبذول ہو گئیں ۔۔۔۔۔

“اچھا تو ٹھیک ہے ۔۔۔۔پھر آج کے بعد خیر آباد کر دے دوستی کو ۔۔۔۔”سیفی بھی اونچے لہجے میں بولا

“کر دیا خیر آباد ۔۔۔۔گڈ بائے ۔۔۔۔”شاہزیب نے ایک لمحہ بھی سوچنے کے لئے نہیں لیا تھا یہ کہہ کر کھڑا ہوا کرسی کو پاؤں سے زور سے ٹھوکر مار کر گرایا

اور وہاں سے چلا گیا ۔۔۔۔کافی تیز اسپیڈ سے بائیک چلاتے ہوئے گھر پہنچا تھا ۔۔۔۔۔سیفی اور جمی کا تو حیرت سے منہ کھلے کا کھلا رہ گیا ۔۔۔۔اتنا پرانا ساتھ ایک لمحہ لگائے بغیر وہ توڑ کر جا چکا تھا ۔۔۔۔۔لیکن خرم سمجھ گیا تھا کہ وہ اب نیناں کے معاملے میں پیچھے نہیں ہٹے گا ۔۔۔۔۔

“کیسا مطلبی نکلا یہ کمینہ ۔۔۔۔بھاڑ میں جائے اسکی دوستی “سیفی تپ کر بولا

“بکواس مت کرو ۔۔۔۔ گناہ نہیں کیا ہے اس نے جو تم ذرا سی بات پر دوستی توڑنے کی شرط رکھتے پھرو ہم ایسا کچھ نہیں کریں گئے کل ہی اس معاملے کو خوش اسلوبی سے نمٹائیں گئے اتنا بڑا بھی ایشو نہیں ہے کہ اس حد تک بات کو بڑھایا جائے ۔۔۔۔”خرم نے بات سلجھانے کی کوشش کی

“دیکھ خرم میرا میٹر پہلے ہی اس آلو کے پیٹھے نے شاٹ کر کے رکھ دیا ہے ۔۔۔۔میرے سامنے ناصحاں بننے کی کوشش مت کر میں لعنت بھیجتا ہوں اسکی دوستی پے۔۔۔۔۔ ۔۔”سیفی کو اندر ہی اندر شاہزیب کے رویے پر افسوس بھی ہو رہا تھا ۔۔۔۔اسے لگا تھا اس بات پر شاہزیب اس لڑکی سے دستبردار ہونے میں وقت نہیں لگائے گا مگر سب الٹا ہی ہو گیا تھا

“تجھ سے ذیادہ اس کا میٹر آؤٹ آف کنٹرول ہے یہ تو بھی اچھی طرح جانتا ہے ۔۔۔۔اس کے غصے سے بھی تو واقف ہے ۔۔۔۔آج کے بعد اسکے سامنے اس لڑکی کے لئے الفاظ کا چناؤ ٹھیک رکھنا ورنہ جیسے اس نے دوستی توڑنے میں لمحہ نہیں لگایا تیرا منہ توڑنے میں بھی وقت نہیں لگائے گا ۔۔۔۔۔”خرم نے سیفی کو سمجھانے کی کوشش کی

“خرم ٹھیک کہہ رہا ہے سیفی ۔۔۔۔ یہ اتنی بڑی بات بھی نہیں ہے ۔۔۔۔میں تو دو دن شاہو سے بات کیے بنا نہیں رہ سکتا ۔۔۔اور پھر تمہیں اور مجھے ایسی خطرناک محبت بھی نہیں۔ ہوئی تھی ۔۔۔یاد کر شائستہ کی شادی کا کھانا تو تم نے بھی ڈٹ کر کھایا تھا ۔۔۔۔۔اور اسکے دونوں بچوں کی پیدائش پر اسکی ماں سے میٹھائی بھی منہ سے مانگ کر کھائی تھی ۔۔۔۔۔سارا الزام شاہو پر مت لگاؤں ۔۔۔۔۔”جمی کی بات پر سیفی خاموش ہو گیا تھا ۔۔۔۔۔سچ بھی یہی تھا اسی اپاٹمنٹ میں رہنے والی شائستہ اسے پسند ضرور تھی ۔مگر ایسی محبت نہیں تھی جیسی شاہزیب کر بیٹھا تھا ۔۔۔۔۔

******…….*****

رات بھر رونے کے بعد صبح صبح نیلوفر سوجی سوجی آنکھوں کے ساتھ کچن میں مصروف تھی پھپو اسکے بابا کے ساتھ ڈاکٹر پر گئیں تھیں ۔۔۔وہ پیاز کاٹ رہی تھی اور ساتھ ہی ساتھ باسم کی باتوں پر آنسوں بھی بہا رہی تھی۔۔۔۔جب رائمہ اسکے پاس آئی

“نیلو کیا کر رہی ہو ۔۔۔”رائمہ کی آواز پر نیلوفر نے جلدی سے آنسوں صاف کیے

“بس پیاز کاٹ رہی تھی پھپو کے لئے یخنی رکھنی ہے اور کھانا بھی بنانا ہے ۔۔۔تم سناؤں کیسی ہو ۔۔۔۔”بھرائی ہوئی آواز سے نیلو نے جواب دیا

“میں بھی ٹھیک ہوں ۔۔۔۔”رائمہ مسلسل اسکی سوجی ہوئی آنکھیں دیکھ رہی تھی دل بھی ملول سا ہو گیا تھا باسم کی باتوں کی وجہ سے ورنہ وہ سوچے بیٹھی تھی کہ اس پیاری سی لڑکی کو ہمیشہ کے لئے اپنے بھائی کے لئے مانگ لے ۔۔۔

“مجھے تو تمہاری طعبیت بھی ٹھیک نہیں لگ رہی ۔۔۔لاو دو مجھے یہ پیاز میں بنا دیتی ہوں یخنی “رائمہ نے نیلوفر کے ہاتھ سے چھری لینا چاہی

“نہیں میں کر لوں گی ۔۔۔ویسے بھی انسان کو اپنا بوجھ خود ہی اٹھانا چاہیے ۔۔۔۔تم آج کر لو گی کل کر لو گی ۔۔۔۔لیکن بعد میں تومجھے ہی کرنا ہے ۔۔۔پھر کیا فائدہ جھوٹے سہاروں کو اپنا عادی بناؤں “نیلو کے لہجے میں تلخی عود آئی تھی اب وہ فریج میں سے چکن نکال کر ایک باؤل میں ڈالے سنک سے پانی بھرنے لگی

“کیا ہو ہے تمہیں کس قسم کی باتیں کر رہی ہو “

“وہی جو تمہارا بھائی کر رہا ہے ۔۔۔۔ٹھیک کہتا ہے وہ میں ایک کم ہمت اور بزدل لڑکی ہوں۔۔۔ اس کے قابل نہیں ہوں ۔۔۔۔پلیز رائمہ مجھے میرے حال پر چھوڑ دو ۔۔۔۔جاوں یہاں سے ۔۔۔اور اپنے بھائی سے بھی کہہ دینا کہ ڈھونڈ لے اپنے لئے کوئی بہادر اور دلیر لڑکی ۔۔۔کیونکہ میں ایسی ہی ہوں اور ایسی ہی رہوں گی ۔۔۔۔۔غلطی میری ہی ہے جو میں اسے سب کچھ سمجھ بیٹھی ۔۔محبت کرنے لگی ۔۔۔۔۔”نیلو اب ضبط کر کر کے تھک چکی تھی اس لئے رونے لگی تھی ۔۔۔۔رائمہ اسکے پاس آکر کھڑی ہو گئ ۔۔۔۔

“چپ کرو تم ۔۔۔۔تم نے باسم کی باتیں سنی ہیں ۔۔۔۔کب آئی تھی تم نیچے “رائمہ نے سنک کا نل بند کیا اور بازو سے پکڑ کر سے سیدھا کیا اس کے چہرے پر بہتے آنسوں صاف کیے ۔۔۔۔۔

“بس آئی تھی کسی کام سے ۔۔۔۔لیکن اچھا ہی ہوا جو سب کچھ سن لیا ۔۔۔۔”

“نیلو وہ ایسا نہیں ہے پتہ نہیں کیوں غصے میں تھا ۔اس لئے نا جانے کیا کچھ بول گیا ۔۔میں سمجھاؤں گی اسے “رائمہ کو دکھ ہونے لگا تھا

“کوئی ضرورت نہیں کچھ بھی کہنے کی ۔۔۔۔مجھے گر کر کسی سے کوئی تعلق نہیں جوڑنا “نیلو نے ترش لہجے سے کہا

باہر کے دروازے کی دستک پر نیلو فورا سے کچن سے نکل گئ ۔۔۔۔۔رائمہ بس اسے دیکھتی ہی رہ گئ