One Wheeling by Umme Hani NovelR50409

One Wheeling by Umme Hani NovelR50409 One Wheeling Episode 15

491.3K
42

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

One Wheeling Episode 15

One Wheeling by Umme Hani

شاہ زیب ابھی شازمہ اور شازل کی باتوں کے تانے بانے ہی بھن رہا تھا جب زمان صاحب کی کال آئی

انہوں اسے ایک گھر کا پتہ بتایا اور فورا آنے کا حکم جاری کر کے فون بند کر دیا ۔۔۔کچھ دیر تو شاہزیب نے فون کو گھورا ۔۔۔پھر فون سائیڈ پر رکھ دیا۔۔۔۔خود کھڑا ہو کر اپنی بائیک کی چابی اٹھائی اور کمرے سے نکل گیا ۔۔۔۔موبائل ساتھ لیجانا بھول گیا

******……..

نیناں بے چینی سے اپنے کمرے کے چکر کاٹ رہی تھی ۔۔۔۔بختیار صاحب کی بات ہی ایسی تھی ۔۔۔۔کتنے آرام سے بنا اس سے پوچھے وہ کیسے اسکی زندگی کا اتنا بڑا فیصلہ کر سکتے ہیں ۔۔۔۔۔ابھی تو اس نے شاہزیب۔ کی بات اپنے والد سے کرنی تھی ۔۔۔لیکن جو کچھ ان سے سنا کر آ رہی اس کا تصور بھی نیناں کے لئے سوہان روح تھا ۔۔۔۔۔شاہزیب کے بغیر تو اب وہ کسی اور کا تصور بھی نہیں کر سکتی تھی ۔۔۔۔۔۔

******………

“باسم مجھے کسی کی زندگی میں زبردستی شامل نہیں ہونا یہ ایک جذباتی فیصلہ ہے “۔۔۔۔۔۔رائمہ نے سب کو نظر انداز کر کے باسم کا ہاتھ تھامے کہا ۔۔۔۔زمان صاحب رائمہ کی پریشانی بھانپ گئے تھے ۔۔۔۔اس لئے شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا

“بیٹا تم فکر مت کرو ۔۔۔۔۔۔تمہارے ساتھ زیادتی یا بے انصافی نہیں ہو گی ۔۔۔۔شاہزیب میری بات نہیں ڈال سکتا ۔۔۔”

“عاتقہ بیگم کرسی سے اٹھ کر زمان صاحب کے پاس کر کھڑی ہو گئیں شاہزیب کے مزاج سے بھی واقف تھیں ۔۔۔بے شک وہ زمان صاحب سے ڈرتا تھا لیکن زبردستی کا نکاح تو کسی قیمت پر کرنے پر راضی نہیں ہوتا ۔۔۔اور شاہزیب کا انکار ان لوگوں کو پھر سے ذلت کی پستیوں میں گرا سکتا تھا

“زمان آپ میری بات سنے ذرا اکیلے میں “عاتقہ بیگم کی اڑی ہوئی رنگت باسم رابعہ بیگم اور رائمہ سے بھی چھپی ہوئی نہیں تھی ۔۔۔۔

“نہیں ۔۔۔کچھ نہیں سننا مجھے تم جاؤں اور بیٹھوں جا کر “زمان صاحب نے ہاتھ اٹھا کر عاتقہ بیگم کو چپ کروادیا ۔۔ ۔

کافی لوگ اٹھ کر واپس جانے کے ارادے سے کھڑے ہونے لگے ۔۔۔سب کی چہ میگوئیاں شروع ہو چکیں تھیں

“چلو بھئ بہت دیر ہو گئ ہے ۔۔۔۔اب ہمہیں چلنا چاہیے ۔اجازت دو رابعہ “۔۔محلے کی ایک عمر رسیدہ خاتون رابعہ بیگم کے پاس آ کر بولیں

“نکاح سے پہلے یہاں سے کوئی نہیں جائے گا بیٹھ جائیے آپ لوگ “زمان صاحب کی با رعب آواز پر وہ خاتون دوبارہ جا کر بیٹھ گئیں باقی بھی جو لوگ واپس جانے کا ارادہ باندھ رہے تھے اپنی اپنی نشستوں پر بیٹھ گئے ۔۔۔۔۔مین گیٹ کے پاس بائیک رکنے کی آواز آئی ۔۔۔ زمان صاحب کے سات ساتھ سب کی نظر میں گیٹ پر ہی تھیں ۔۔۔

رامس کو اندر داخل ہوتا دیکھ کر سب ہی حیران تھے ۔۔۔وہ پریشان سا اندر داخل ہوا ۔۔۔رامس کی والدہ فوراسکے پاس آئیں

“کیا ہوا ہے امی آپ کو ۔۔۔وہ لڑکا بتا رہا تھا کہ آپکی طعبیت خراب ہو گئ ہے ۔۔۔”ماں کے کو ٹھیک ٹھاک دیکھ کر رامس نے پوچھا ۔۔۔

“میں ٹھیک ہوں ادھر آؤں میرے ساتھ” ۔۔۔سامنے کھڑے زمان صاحب اور باسم اور رابعہ بیگم کے پاس آ کر وہ رکیں

“رابعہ رائمہ ٹھیک کہہ رہی ہے ۔۔۔ اسے زبردستی کے رشتے میں مت باندھو ۔۔۔۔اسے وہاں رخصت کرو جہاں کوئی اسے چاہت سے اپنائے ۔۔۔۔”

“دیکھیں محترمہ میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ رائمہ کی عزت اور حترام میں کمی نہیں آئے گی ۔۔۔آپ بے فکر رہیں “

“یہ تو آپ کہہ رہے ہیں ۔۔۔آپ کا بڑا پن ہے ۔۔۔لیکن آپکی بیگم کی اڑی ہوئی رنگت اس بات کی منافی ہے ۔۔۔رائمہ کا نکاح آج ہی ہو گا لیکن اسکی رضامندی سے ۔۔۔۔”زمان صاحب سے بات کرنے کے بعد وہ دوبارہ رابعہ بیگم کی طرف متوجہ ہوئیں

“رابعہ رائمہ میری اور رامس کی دلی پسند ہے ۔۔۔لیکن اس پہلے کہ میں تم سے سوال کرتی رائمہ کی بات تم لوگ کہیں اور طے کر چکے تھے ۔۔۔۔یہ میری بدنصیبی تھی کہ مجھے کچھ دیر ہو گئ ۔۔۔لیکن اب اگر میرے رب نے مجھے دوبارہ یہ موقع دیا ہے تو تمہارے سامنے دامن پھلانے سے گریز نہیں کروں گی ۔۔۔۔۔میرا بیٹا بہت خوش رکھے گا اسے ۔۔۔۔۔۔رائمہ کو میرے رامس کے نکاح میں دیدو ۔۔مجھے رائمہ کے علاؤہ تم سے کچھ بھی نہیں چاہیے ۔۔۔۔”رامس کی والدہ اپناڈوپٹہ پھیلائے بہت عاجزانہ انداز سے کہہ رہیں تھیں ۔۔۔۔۔

رامس ہونق سا کھڑا وہاں کی سچویشن کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔۔۔چند لمحوں میں کیا سے کیا انقلاب اسکی زندگی میں رونما ہو چکے تھے ۔۔۔ابھی کچھ دیر پہلے وہ اپنے کمرے میں اپنی محبت کے بچھڑ جانے کا سوگ منا رہا تھا ۔۔۔رائمہ اسکی دسترس سے بہت دور نظر آرہی تھی ایک حسین خواب بن رہی تھی جس کا دور دور تک حقیقت سے کوئی تعلق نہیں تھا ۔۔۔۔آنسون سے تکیہ بھگوئے وہ بس اسوقت کو کوس رہا تھا جب اس نے باسم سے رائمہ کے لئے بات کہنے کے لئے لب کھولنے چاہے مگر کھول نہیں۔ پایا تھا ۔۔۔کاش کہ ایک بار باسم سے بات کر کے دیکھ لیتا ہوں سکتا تھا کہ وہ مان جاتا ۔۔۔رامس اسی غم میں نڈھال اور مضمحل سا اپنے کمرے میں اندھیرا کیے لیٹا تھا ۔۔۔جب باہر کی مسلسل بیل سے زچ ہو کر صحن میں آیا ۔۔۔۔دروزے پر کوئی آندھی طوفان کی طرح مین گیٹ ڈھڑڈھڑا رہا تھا ۔۔۔۔رامس نے دروازہ کھولا تو ایک پندرہ سالہ لڑکا جو اسکے گھر کے سامنے ہی رہتا تھا گھبرایا ہوا بولا

“رامس بھائی آپکی امی کی طعبیت بہت خراب ہو گئ ہے جلدی سے باسم بھائی کے گھر پہنچیں”

“کیا ہوا ہے امی کو “رامس سب کچھ بھول بھال کر اپنی ماں کے لئے پریشان ہو گیا تھا ۔۔۔

“آپ وہاں جائیں تو ۔۔۔”وہ لڑکا یہ کہہ کر چلا گیا رامس نے جلدی سے بائیک نکالی اور باسم کے گھر پہنچ گیاوہسے بھی چند گلیوں کا ہی تو فاصلہ تھا مگر اندر داخل ہوتے ہی وہاں کا منظر ہی الگ تھا ۔۔۔۔۔آج وہ خود رائمہ کاسوالی بنا کھڑا تھا ۔۔۔۔۔رائمہ کے سسر کے تیور اور زمان صاحب کاحتمی فیصلہ سنتے ہی رامس کی والدہ نے وقت ضائع کیے بغیر اپنے سامنے پڑورس میں رہنے والے لڑکے کو کہا کہ رامس سے کہے کہ اسکی والدہ کی طعبیت خراب ہے ۔۔۔اس لئے وہ فورا یہاں پہنچے ۔۔۔۔وہ نہیں چاہتی تھی کہ اب وقت انکے ہاتھ سے نکل جائے ۔۔۔۔۔اور عاتقہ بیگم کے چہرے کے اتار چڑھاؤں بھی دیکھ چکیں تھیں ۔۔۔پھر زمان صاحب کا بیٹا اسطرح سے اچانک ہونے والے نکاح پر اتنی جلدی کہاں راضی ہو سکتا تھا ۔۔۔۔پھر رامس کی خاموشی کی وجہ سے جو حالات پیدا ہو چکے تھے وہ نہیں چاہتی تھی کہ اب وہ بھی خاموش رہ کر وہیں غلطی دہرائیں ۔۔۔۔

باسم رامس کے بکھرے ہوئے حلیے کو دیکھ رہا تھا گھر کے عام سے ٹراوزر شرٹ ۔۔بکھرے بال بڑی ہوئی شیو سوجی ہوئی آنکھیں صاف صاف اسکی محبت کی داستاں سنا رہیں تھیں۔۔۔۔ساری گھتیاں اسکے سامنے جیسے کھلنے لگیں تھیں ۔۔۔۔میٹھائی وہ کیوں رائمہ کا نام سن کر کھا نہیں پایا تھا شادی پر آنے سے انکار کیوں کر رہا تھا ۔ ۔ ۔۔۔۔۔حیرت اسے یہ ہو رہی تھی اگر رامس کے دل میں ایسا کچھ تھا تو کہا کیوں نہیں ۔۔۔۔باسم نے ایک نظر سوالیہ انداز سے زمان صاحب کی طرف دیکھا ۔۔۔انہوں نے آنکھوں کے اشارے سے اثبات میں جواب دیا ۔رامس انکا شاگر رہ چکا تھا ۔۔۔پھر اس کا بکھرا حلیہ اور اسکی والدہ کی منتیں ۔۔۔وہ بہت چاہت سے مانگ رہیں تھیں اس لئے وہ بھی خوش ہوئے تھے ۔۔۔۔۔باسم نے آگے بڑھ کر رامس کو گلے لگا لیا رامس کی آنکھوں سے شکر کے آنسوں ٹپکے اس نے بھی باسم کو اپنے ساتھ بینچ لیا

“غلط کیا تم نے رامس ایک بار تو مجھ سے کہتے ۔۔۔۔تم سے ذیادہ بھروسہ میں کسی اور پر کر نہیں سکتا تھا ۔۔۔۔”باسم نے اسے کان کے پاس سرگوشی کی

“بس یار یہی غلطی ہو گئ مجھ سے ۔۔۔۔لیکن یقیں جانو مجھے لگتا تھا کہ شاید میں رائمہ کے قابل نہیں ہوں سے وہ سب سہولیات نہیں دے سکتا جو تم اسکے لئے خواہش رکھتے ہو ۔۔۔۔'”رامس اپنے خدشے بتانے لگا

“پاگل ہو تم بلکل ایسا کیوں سوچا ۔۔۔۔میری بہن عزت اور محبت ملنے پر بھی تمہارے ساتھ ہر حالات میں سمجھوتا کر لیتی ۔۔۔۔اتنا یقین میں آنکھیں بند کر کے رائمہ پر کر سکتا ہوں ۔۔۔”باسم نے سام ے کھڑی آنسوں بہاتی رائمہ کی طرف دیکھا

باسم نے اسے سینے سے بینچ کر کہا آنسوں پھر سے سب کی آنکھوں سے بہنے لگے مگر اب کیفت بدل چکی تھی ۔۔اس بار برسنے والی برسات مسکراہٹوں کو لئے ہوئے تھی ۔۔۔۔خوشی کی نوید سنا رہی تھی ۔۔۔۔نیلو فر اور رباب رائمہ کو کمرے میں لے گئیں نکاح کی رسم صحن میں ہی ادا ہوئی ۔۔۔۔۔نکاح کے بعد سب گلے مل رہے تھے جب شاہزیب ادھر ادھر سے پوچھتا پاچھتا بڑی مشکل سے باسم کے گھر پہنچا تھا وہ پسماندہ سا علاؤہ تھا پھر باسم کا گھر اس چھوٹی سی کالونی کے آخری حصے میں تھا ۔۔۔۔پھٹے ہوئے سلنسر کی آواز پر عاتقہ بیگم سمجھ گئ کہ شاہزیب پہنچ چکا ہے کب سے اٹکا ہوا انکا سانس نکاح کے ایجاب وقبول کے بعد ہی بحال ہوا تھا دل میں پہلی بار یہ دعا کرتی رہیں کہ شاہ زیب کی بائیک خراب ہو جائے اور وہ پہنچ ہی نا سکے ۔۔۔۔۔جب تک شاہزیب پہنچا کھانے کا شور شروع ہو چکا تھا ۔۔۔۔۔لوگ زیادہ نہیں۔ تھے اس لئے صحن میں سب کھانا کھا رہے تھے ۔۔۔شاہزیب نے پورے صحن میں نظریں دوڑائیں سامنے زمان صاحب کسی سے بگل گیر ہو کر مل رہے تھے ۔۔۔شاہزیب بھی وہیں پہنچ گیا ۔۔۔۔زمان صاحب نے جب اسے دیکھا تو رامس سے اس کا تعارف کروانے لگے ۔۔۔

“رامس یہ میرا بیٹا ہے ۔۔۔۔شاہزیب ۔۔۔”

“رامس نے شاہزیب سے گلے ملا “

“سر آپ کے بیٹا بلکل آپ پر ہے “رامس بھی زمان صاحب کا شاگرد تھا باسم اور وہ ساتھ ہی کالج میں پڑھتے تھے لیکن یہ اور بات تھی کہ رامس انکا نالائق اسٹوڈنٹ تھا ۔۔۔۔جس پر انہیں آج پہلی بار فخر محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔۔۔

“باسم اور رامس سے گلے مل کر انہیں مبارک باد دے کر وہ زمان صاحب کے قریب کھڑا ہو گیا

“ابو آپ نے مجھے کیوں بلوایا تھا کچھ ضروری کام تھا “شاہزیب کے سوال کا طویل جواب دینے کا وقت زمان صاحب کے پاس نہیں تھا پھر بات بھی بے معنی سے لگنے لگی تھی

“کھانا کھایا تم نے ؟”

“نہیں “

‘بس اسی لئے بلایا تھا کھانا کھا لو پھر چلے جانا” “زمان صاحب نے یہ کہہ کر بات ختم کر دی ۔۔۔شاہزیب تعجب سے باپ کی شکل دیکھتے رہ گیا ۔۔صرف کھانے کے لئے وہ پچھلے پونے گھنٹے سے گلیاں ناپتا پھر رہا تھا ۔موبائل بھی گھر بھول گیا تھا اس لئے فون پر رابطہ ہو نہیں سکتا تھا ۔۔۔۔اسے زمان صاحب کے جواب پر حیرت ہونے لگیں

“کمال ہے ۔۔۔۔میرے کھانے کی فکر بڑی ستانے لگی ہے ابو کو ۔۔۔۔فون پر تو ایسے دھاڑ رہے تھے ۔۔۔۔۔جیسے نا جانے کون سی مصیبت آن پڑی ہو اور اب یہاں ۔۔۔۔۔میرا باپ میری سمجھ سے باہر ہے “شاہزیب سوچ کر ہی رہ گیا

۔۔۔سامنے عاتقہ بیگم نے شاہزیب کو دیکھا تو اسکے پاس چلی آئیں

“تم کب آئے “وہ رازداری سے دھیمے لہجے سے پوچھنے لگیں

“بس ابھی “اسے ماں کی سرگوشی بھی کچھ عجیب سی لگی یہ بات وہ آرام سے بھی پوچھ سکتیں تھیں

“شکر ہے شاہزیب کے تم دس منٹ پہلے نہیں آئے “عروہ بیگم نے گہری سکون دا سانس خارخ کرتے ہوئے کہا

“میں تو بیس منٹ پہلے بھی پہنچ چکا ہوتا اگر مجھے گھر کا ایڈریس صحیح سے پتہ ہوتا ۔۔۔آدھے گھنٹے سے گلیوں میں گھوم رہا ہوں ۔۔۔۔یہ ابو شاگرد اور عاصم۔کا استاد بھی محلے کے آخری کونے میں رہتا ہے ۔۔۔خوار کروا کے رکھ دیا ۔۔۔اب جلدی کچھ کھانے کو لا کر دیں پیٹ میں چوہے دوڑ رہے ہیں ۔آج تو ۔۔شازی کی بچی بھی سڑا ہوا منہ بنا کر بیٹھی تھی اس نے بھی کھانا نہیں دیا مجھے “شاہزیب کا وہی لاپرونداز تھا ۔۔۔۔۔

“اچھا تم بیٹھوں ادھر میں لاتی ہوں ۔۔۔”عاتقہ بیگم نے دل میں شکر ادا کیا کہ وہ ہر بات سے انجان ہی تھا ۔۔۔۔شاہزیب وہیں ایک چھوٹے سے ٹیبل کے پاس بیٹھ گیا زمان صاحب تو یوں مہمانوں کے پاس جا جا کر کھانے کا پوچھ رہے تھے جیسے انکی اپنی سگی بیٹی کی شادی ہو عاتقہ بیگم نے بریانی کی پلیٹ شاہزیب کو دی اور باقی سلاد رائتے کی پلیٹ سامنے ٹیبل پر رکھ کر دوبارہ چلی گئیں شاہزیب نے رائتہ سلاد ڈالا اور کھانا شروع ہو گیا ۔۔۔کچھ دیر میں عاتقہ بیگم بھی اپنی پلیٹ میں بریانی ڈالے شاہزیب کے۔ برابر رکھی کرسی پر بیٹھ گئیں شاہزیب بڑی رغبت سے بریانی کھا رہا تھا

“امی ویسے عاصم کے استاد نے بریانی بڑی ٹائٹ بنوائی ہے بلکل میرے مطلب کی فل اسپائسی”دو چار چمچ لینے کے بات ہی شاہزیب کا تبصرہ شروع ہو گیا

“اچھا وہ سب چھوڑو یہ بتاؤ اپنے ابو سے ملے تم “عاتقہ بیگم کی تشویش شروع ہو چکی تھی

“ہاں سب سے پہلے انہیں سے ملا تھا ۔۔۔پھر وہ عاصم کے استاد صاحب اور انکے دولہا میاں سے بھی ۔۔۔۔٫”وہ لاپروائی سے جواب دے رہا ۔۔۔۔۔

“کچھ بتایا تمہارے ابو نے کہ کیوں تمہیں بلایا تھا “عاتقہ بیگم نے کھوجنے کی کوشش کی مگر وہ صرف کھانے میں مگن تھا

“,ہاں ۔۔۔بتایا ہے ۔۔۔۔بریانی کھانے کے لئے ۔۔۔کہہ رہے تھے “کھاؤ اور جاو ” ویسے مجھے حیرت ضرور ہوئی ابو کو میرا اتنا خیال آ کیسے گیا جو خاص طعام نوش فرمانے کے لئے مجھے خاص طور پر بلایا ہے ۔۔۔امی یہ بریانی کی ایک پلیٹ اور لادیں وہاں سب خواتین ہی کھڑی نظر ا رہیں ہیں “شاہزیب ایک پلیٹ خالی کر چکا تھا اس لئے خالی پلیٹ ماں کے ہاتھ میں تھمائی ۔۔۔اور سامنے رکھے ٹیبل کی طرف اشارہ کیا جہاں بریانی کی ڈشز اور پلٹیں وغیرہ رکھیں تھیں ‘”

“اور کچھ نہیں بتایا تمہارے ابو نے “عاتقہ بیگم کو بس یہی ٹینشن تھی

“امی اور کیا بتانا تھا انہوں نے آپ جائیں نا ساتھ میں کوک کے کریٹ سے دو کوک بھی لے آئیے گا ۔۔۔۔”شاہزیب کی نظر سامنے رکھے بوتل کے کریٹ پر تھی جو جلد از جلد خالی ہوتا نظر آ رہا تھا

“اچھا لا رہیں ہوں” عاتقہ بیگم اٹھ کر چلی گئیں ۔۔۔۔کچھ دیر میں کوک اور بریانی شاہزیب کو تھمائی

“کھاؤں اور نکلو یہاں سے۔۔۔ اسی عام سے گھر کے کپڑوں میں منہ اٹھا کر آ گئے ہو ۔۔۔” عاتقہ بیگم کی بلا وجہ کی ڈانٹ پر شاہزیب کا چمچ وہیں اٹک گیا ۔۔۔

“ابو نے مہلت دی تھی کپڑے بدلنے کی ۔۔۔۔ایمرجنسی الٹمیٹ آڈر جاری کیے تھے کہ فورا پہنچو ۔۔۔۔اور مجھے تو چھوڑیں میں تو پھر مہمان ہوں ۔۔۔۔دولہے کو دیکھا ہے آپ نے کہیں سے لگ رہا کہ وہ دولہا ہے ۔لگتا ہے ۔۔منہ دھوئے بغیر ہی اٹھ کر آگیا ہو شیو تک نہیں بنائی ۔۔۔۔اتنی خوشی تھی اپنی شادی کی کہ کپڑے بدلنے کا وقت ضائع نہیں کیا ۔۔۔۔کہ مبادا کہیں دلہن مکر ہی نا جائے ۔۔۔”شاہزیب کی بات پر عاتقہ بیگم اپنی ہنسی روکنے لگیں ۔۔۔وہ تو جانتی تھی کہ قصہ کیا ہوا ہے ۔۔۔۔۔مگر شاہزیب انجان تھا ۔۔۔کھانے کے بعد زمان صاحب نے رائمہ کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھا دعائیں دیں ۔۔۔۔رامس سے گلے ملے ۔۔۔۔پھر باسم سے ملکر جانے کی اجازت مانگی عاتقہ بیگم بھی رابعہ بیگم کے گلے ملیں ۔۔۔۔۔۔۔

آہستہ آہستہ سب مہمان جا چکے تھے بس رامس اور اسکی والدہ ہی رہ گئیں تھیں ۔۔۔۔اس لئے وہ سب ڈرائنگ روم میں بیٹھ گئے

“دیکھیں۔ بہن نکاح تو خیر سے ہو گیا اللہ بس ان دونوں کو آباد رکھے “رامس کی والدہ نے بات شروع کی رامس بھی انکے ساتھ ہی بیٹھا ہوا تھا

“آمین آمین “رابعہ بیگم نے تشکر بھرے لہجے سے کہا

“دیکھیں بہن اصل بات تو یہ ہے کہ سب کچھ اتنی جلدی میں ہوا ۔۔۔مجھے کسی بھی بیٹی کو بتانے کا موقع نہیں ملا ۔۔۔۔اور صحیح بات ہے کہ میرا ایک ہی ایک بیٹا ہے میں تو پورے ارمانوں سے رائمہ کو رخصت کروا کر لے جانا چاہتی ہوں “رامس کی والدہ کے چہرے پر بے تحاشہ خوشی تھی کافی دن بعد انہوں نے اپنے بیٹے کے چہرے پر رونق دیکھی تھی

“کیوں نہیں ۔۔۔۔۔آپ جو چائیں اپنے ارمان پورے کریں ہمہیں بھلا کیوں اعتراض ہو گا “رابعہ بیگم نے بھی مسکراتے ہوئے کہا

“بہن اس کے لئے مجھے کچھ وقت درکار ہے ۔۔۔۔میں پندرہ دنوں میں رخصتی نہیں لے سکتی ۔۔۔بس تین مہنے کاوقت اگر مل جائے تو مجھے کچھ سہولت رہے گی ایک دو کمیٹیاں میں نے محلے میں ڈال رکھی۔ ہیں ۔۔۔پھر رامس کے ابا تو ویسے ہی چار دن سے لاہور میں ہیں آئیں گئے تو یہ خبر سنے گئے ۔۔۔۔۔

“جی آنٹی میں سمجھ سکتا ہوں ۔۔۔۔اپ کو جب مناسب لگے آپ بتا دیجیے ہمہیں کوئی اعتراض نہیں ۔۔۔۔”باسم نے انکی بات کو ہی اوپر رکھا تھا ۔۔۔۔

“بس مجھے یہی پریشانی تھی ۔۔۔۔بہت بہت شکریہ اب ہمہیں اجازت دیں ۔۔۔۔”رامس کی والدہ کھڑی ہو گئیں۔۔۔۔

“ایک منٹ امی ۔۔۔مجھے کچھ کہنا ہے “رامس کب سے خاموش ہی بیٹھا تھا ۔۔۔لیکن واپسی کے نام پر بول اٹھا

“بولو بیٹا کیا کہنا چاہتے ہو “رابعہ بیگم نے رامس سے پوچھا

“آنٹی مجھے جہیز بلکل نہیں چاہیے ۔۔۔۔۔اور اسے میری شرط سمجھ لیں ۔۔۔۔۔۔آپ کو کچھ بھی لینے دینے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔۔”رامس کی بات پر رابعہ بیگم کچھ نروس سی ہوگئیں

“مگر۔۔۔ بیٹا رائمہ کا سب کچھ تیار ہی رکھا ہے ۔۔۔وہ تو ہمہیں دینا ہی تھا “

“رامس صحیح کہہ رہا ہے رابعہ بہن آپ بلکل زحمت مت کیجیے گا ۔۔بے شک میرا گھر چھوٹا ہے مگر ضرورت کی ہر چیز موجود ہے ۔۔۔اور اگر رائمہ کو کسی چیز کی ضرورت ہوئی تو وہ خود بعد میں منگواتی رہے گی “رامس کی والدہ نے بھی بیٹے کہ بات کی تائید کی

“ایک بات کی اجازت اور چاہیے تھی مجھے ۔۔۔آ آپ سے “رامس نظریں چراتے ہوئے کچھ جھجک کر بولا

“وہ کیا ‘”باسم سیدھا ہو کر بیٹھ گیا ۔۔۔

“اگر ۔۔۔ک۔۔کسی کو اعتراض ۔۔۔۔نا ہو ۔۔۔۔میں ایک بار۔۔۔۔۔۔رائمہ سے مل سکتا ہوں “‘با مشکل ہی یہ بات رامس کے منہ سے ادا ہوئی تھی ۔۔۔۔دل تو نکاح کے دو بول کے بعد سے سینے میں مچل رہا تھا ایک بار اسے دیکھنے کے لئے مگر ۔۔۔۔یہ بات کہتے ہوئے زبان ضرور لڑکھڑا گئ تھی ۔۔۔۔

“بلکل بھی نہیں ۔۔۔۔ایسی کوئی اجازت نہیں ہے “باسم نے مصنوعی سنجیدگی چہرے پر سجاتے ہوئے کہا ۔۔۔۔اپنے دوست کی کیفت پر اسے جی بھر کر پیار آنے لگا تھا ۔۔۔۔لیکن اسے تنگ کرنا چاہتا تھا باسم کی بات پر رامس نے نظریں جھکا لیں چہرہ ایک دم بجھ سا گیا تھا ۔۔۔۔

” باسم ۔۔۔۔مل لینے میں حرج ہی کیا ہے اب تو بیوی ہے اسکی “,رابعہ بیگم نے باسم کو گھور کر دیکھا

“چلیں کوئی بات نہیں مجھے برا نہیں لگا ۔۔۔۔چلیں امی “رامس کھڑا ہو گیا

“جب رائمہ بیوی ہے اسکی تو مجھ پوچھ کیوں رہا ہے ۔۔۔پورے حق سے کہہ سکتا ہے کہ “دیکھوں بھئ ۔میں اپنی بیوی سے ملے بغیر نہیں جاؤں گا “باسم کے ہنستے ہوئے چہرے کو دیکھ کر رامس کی جان میں جان آئی تھی ۔۔۔۔۔۔

“چلو آؤں میرے ساتھ “باسم نے اس کا ہاتھ پکڑا اور رائمہ کے کمرے کے پاس لے گیا ۔۔۔ذرا سا پردا ہٹا کر دیکھا تو رائمہ ویسے ہی سجی سنوری ہوئی بیٹھی تھی ۔۔۔۔اور رباب اسکے برابر بیٹھی کچھ کہہ رہی تھی جس وہ شرمائے شرمائے رباب کو گھور رہی تھی وہ خوش تھی یہ اسکا چہرہ بتا رہا تھا باسم کو اپنے اندر ایک سکون سا اترتا ہوا محسوس ہوا ۔۔۔۔

“روبی ۔۔۔”باسم نے روباب کو پکارا

“جی باسم بھائی ‘

“آپ باہر آ جاؤں گڑیا ۔۔۔رامس بھائی کو اپنی نئ نویلی دلہن صاحبہ سے بات کرنی ہے ۔۔۔”باسم کی بات پر برجستہ رائمہ کی نظریں باسم پر اٹھی تھی ۔۔۔

“وہ کیوں باسم ۔۔۔مجھے نہیں ملنا کسی سے بھی تم منع کر دو “رائمہ کی آواز سن کر رامس مسکرانے لگا

“ارے میں کیوں منع کرو ۔۔۔۔تمہارا شوہر ہے تم جانو وہ جانے میرا بھلا کیا تعلق ہے ۔۔۔۔”باسم یہ کہہ کر واپس پلٹ گیا ۔۔۔۔اس سے پہلے کہ رباب اٹھ کر جاتی رائمہ اپنے سرد پڑتے ہاتھ سے رباب کا ہاتھ پکڑ کر اسے روک لیا ۔۔۔

“آپاں میرا ہاتھ تو چھوڑیں ۔۔۔”

“رامس اندر آچکا تھا ۔۔۔۔۔اور رائمہ کی حرکت بھی دیکھ چکا تھا ۔۔۔۔۔

“چپ چاپ یہیں بیٹھی رہو “رائمہ نے گھورتے ہوئے رباب سے کہا

رامس نے اپنا گلہ کھنکھار کر اپنی موجودگی کااحساس دلایا ۔۔۔

“آپاں میرا چھوڑیں ۔۔۔”رباب نے دبے دبے لہجے میں کہا مگر رائمہ کی گرفت اور بھی مضبوط ہو گئ۔۔۔۔۔

“رباب گڑیا آپ باہر جائیں گئیں مجھے آپکی آپاں سے کچھ بات کرنی ہے ۔۔۔”رامس کی بات سن کر رائمہ سمجھ گی تھی کہ بنا بات کیے اسکی خلاصی ممکن نہیں ہے اس لئے رباب کا ہاتھ چھوڑ دیا اور خود سمٹ کر بیٹھ گئ رباب باہر چلی گئ ۔۔۔۔

“اگر اجازت ہو تو یہاں آپ کے پاس بیٹھ سکتا ہوں ۔۔۔۔رامس بیڈ پر اسکے سامنے بیٹھ گیا ۔۔۔۔

رائمہ اپنی دھڑکنوں کی بے اختیاری پر کنفوژ ہوئی تھی ۔۔۔۔

“میرے خیال سے اب میرا آپ سے اتنا تعلق تو بن گیا ہے میں بنا اجازت کے بھی آپ کے ساتھ بیٹھ سکتا ہوں

“رائمہ اب آپ یوں نروس ہوں گئیں تو میں وہ بات کہہ نہیں پاؤں گا جو برسوں سے دل میں چھپائے بیٹھا ہوں ۔۔۔۔۔۔مجھے اپنی خوش نصیبی پر اب بھی یقین نہیں آرہا ۔۔۔۔لگ رہا کوئی حسین خواب دیکھ رہا ہوں ۔۔۔۔۔آنکھیں کھولو گا تو آپ سامنے نہیں ہوں گئیں ۔۔۔۔۔مجھے اپنا ایسا کوئی نیک عمل نہیں یاد جس کے طفیل مجھے آپ کا ساتھ نصیب ہوا ہے ۔۔۔۔۔آپ کو میری خوشی کا اندازہ نہیں ہے ۔۔۔۔بس یہ جاننا چاہتا ہوں کہ ۔۔۔آ۔۔آپ خوش تو ہیں نا ؟رامس نے دل تھام کر یہ سوال پوچھا تھا

“جی “رائمہ کے مختصر جواب پر اسے اندر تک اطمینان سا اتر گیا تھا

“افف شکر ہے خدا ورنہ مجھے لگا شاید آپ کو اپنے سابقہ رشتہ ٹوٹنے کا کوئی ملال نا ہو “

“میری کسی سے دلی وابستگی تو کبھی نہیں تھی نا ہی کبھی بات چیت ہوئی ۔۔۔۔پھر جو کچھ بھی ہوا ۔۔۔مجھے افسوس صرف اس بات کا ہے باسم کو انکے آگے جھک کو انکی منتیں کرنی پڑیں ۔۔صرف میری عزت کی خاطر ۔۔۔۔۔رامس اگر میں آپ سے کچھ مانگو تو کیا آپ انکار تو نہیں کریں گئے “رائمہ کا لہجہ بھیگا ہوا تھا

“بس جان نا مانگ لیجیے گا قسم سے انکار نہیں کر پاؤں گا “رامس کی بات پر رائمہ کی بے اختیار ہی جھکی نظریں رامس کی طرف اٹھیں تھیں جو آنکھوں میں شوخی محبت اور وارفتگی لئے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔پھر فورا ہی دوبارہ نظریں جھکا گئی ۔۔۔۔

“اللہ نا کرے آپ کو کچھ ہو ۔۔۔۔بس میں یہ چاہتی ہوں ۔۔۔۔کہ باسم کبھی بھی کسی بھی وجہ سے آپ کے سامنے جھک کر بات نا کرے ۔۔۔۔۔میں نہیں چاہتی کہ وہ کبھی کسی سامنے میری وجہ سے جھکے ۔۔۔۔”رائمہ کوسب سے ذیادہ تکلیف اسی بات کی تھی ۔۔۔کہ اسکا بھائی کیسے اسکے لئے دوسروں کے سامنے منتیں کر رہا تھا ۔۔۔گڑگڑا رہا تھا رورہا تھا

“بس اتنی سی بات ۔۔۔۔اس نے اپنی اتنی قیمتی چیز مجھے سونپ دی ہے ۔۔۔میں تو اسکے سامنے شاید اپنا سر ہی نا اٹھا پاؤں ۔۔۔۔بیٹی دینے والے ۔۔۔لڑکے والوں کے سامنے چھوٹے اور بے قیمت نہیں ہو جاتے ۔۔۔نا ہی بیٹی کے ساتھ اپنی عزت لڑکے والوں کو سونپ دیتے ہیں کہ وہ جب چاہیں انہیں ذلیل کرتے پھریں ۔۔۔۔رائمہ باسم پہلے میرا دوست ہے اسکے بعد میری بیوی کا بھائی ۔۔۔۔اس لئے آپ بے فکر رہیں ایسا کبھی کچھ نہیں ہو گا کہ اسکی عزت میری نظر میں بدل جائے ۔۔۔۔”

“شکریہ “رائمہ اب مطمئن سی ہو گئ تھی ۔۔۔

“آج سب کچھ بہت اچانک سے ہوا ہے اس لئے آپ کو دینے کے لئے کوئی قیمتی تحفہ میرے پاس نہیں ہے ۔۔۔جو آپکی شایان شان ہو سوائے محبت بھرے لفظوں کے ۔۔۔امی اور میری بہنیں کچھ دنوں میں آ کر آپکے ہاتھ میں میرے نام کی انگوٹھی پہنا جائیں گئ۔۔۔۔۔ جوآپ کا حق ہے ۔۔۔اب مجھے اجازت دیں ۔۔۔رامس نے فاصلہ برقرار رکھ کر اپنی بات رائمہ سے کی تھی ۔۔۔۔نا اسے چھونے کی کوشش کی نا ہی لفظوں میں کسی قسم کی بے باکی کا اظہار کیا ۔۔۔۔محبت ایک خوبصورت جذبہ ہے ۔۔۔۔اور نکاح ایک پاکیزہ رشتہ ۔۔۔اگر اسے اتنے ہی خوبصورت انداز سے برتا جائے تو اسکی خوبصورتی اور بھی بڑھ جاتی ہے ۔۔۔۔۔ہر رشتے کے اپنے ہی کچھ تقاضے اور ضوابط ہوتے ہیں جب تک وہ اپنے دائرے میں رہتے ہیں زندگی پر سکون سی نظر آتی ہے ۔۔۔۔۔۔رامس جانتا تھا کہ نکاح کا رخصتی سے پہلے کیا مقام ہے ۔۔۔۔۔اس لئے وہیں۔ سے اٹھ کر کمرے سے باہر نکل گیا

******……..

دوسرے دن بھی نینان کی لاکھ کوشش کے باوجود بختیار صاحب اسے بات کرنے کا موقع نہیں دے رہے تھے ۔۔۔۔اپنے دوست سے کہہ کر حیدر کو بھی پاکستان بلوا لیا تھا ۔۔۔۔۔بختیار صاحب کا دوست نے تین سال پہلے امریکہ جانے سے پہلے ہی اس بات کی خواہش ظاہر کی تھی کہ وہ اپنے بیٹے حیدر کے لئے نیناں کو پسند کرتے ہیں مگر بختیار صاحب نے یہ کہہ کر ٹال دیا تھا کہ ایک تو وہ ابھی نیناں کی شادی کا سوچ بھی نہیں سکتے اور دوسرا وہ اپنی اکلوتی بیٹی کو شہر سے باہر بھجنے کو تیار نہیں ہیں تو دوسرے ملک بھجنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔۔۔۔مگر اب نیناں کے بڑھتے ہوئے قدموں سے ڈر گئے تھے ۔۔۔۔

******………..

اگلے روز شاہزیب کی نظر شازمہ کی ہر حرکت پر تھی وہ بار بار میسج کرنے میں مصروف تھی اور بار بار اسکے موبائل پر میسج ٹیون بھی بج رہی تھی ۔۔۔۔یونی سے واپس آ کر شاہزیب باہر کہیں نہیں گیا تھا اپنے دوستوں کو منع کر چکا تھا کہ وہ آج پریکٹس پر بھی نہیں جائے گا ۔۔۔۔زمان صاحب کالج سے واپس آ کر کھانا کھا کر سو گئے شام کی چائے پر بھی شاہزیب ٹیبل پر بیھٹا ہوا تھا خلاف توقع چائے بھی پی رہا تھا ورنہ وہ گھر پر زمان صاحب کی موجودگی میں کم ہی ٹکتا تھا ۔۔۔۔شازمہ بھی ٹیبل پر بیٹھی چائے پی رہی تھی ۔۔۔

“ابو ۔۔وہ مجھے اپنی دوست کے گھر جانا ہے کافی مہنے ہی گزر گئے ہیں کہیں گئے ہوئے ۔۔۔میں جاؤں “شازمہ کو کس دوست کے پاس جانے کی بے چینی تھی وہ شاہزیب خوب جانتا تھا

“ہاں تو چلی جاؤں مگر جلدی واپس آ جانا “زمان صاحب چائے کاسپ لیتے ہوئے اپنی کتاب پکڑے کچھ ٹک مارک کرتے ہوئے بولے ۔۔۔۔

“جی ابو “شازمہ کے۔ چہرے پر خوشی چھلکی مگر اگلے ہی لمحے شاہزیب کی بات پر وہ بجھ سی گئ

“شازی تم تیار ہو جاؤں میں تمہیں چھوڑ دیتا ہوں “مزے سے چائے پیتے ہوئے وہ شازمہ کے بدلتے کئ رنگ دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔

“نہیں بس قریب ہی تو جانا ہے میں چلی جاؤں گی ۔۔”شہ نے پہلو بدلہ ۔

“ہاں تو میں چھوڑ دیتا ہوں “شاہزیب بھی ٹلنے والوں میں سے نہیں تھا

“لیکن میں نے کہا نا کہ “

“شازمہ بحث مت کرو جب شاہزیب کہہ رہا ہے کہ وہ تمہیں چھوڑ دے گا تو انکار کس جواز ہی کیا ہے ۔۔۔”زمان صاحب کے بارعب لہجے پر کس کی جرت تھی کہ بحث کرے ۔۔۔”

“جی ابو “شازمہ خالی کپ لیکر کچن میں چلی گئ کچھ دیر میں تیار ہو کر باہر آئی شاہزیب ٹی وی دیکھ رہا تھا ۔۔۔شازمہ کو تیار دیکھ کر کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔

شازمہ اپنے ایرے سے نکل کر کچھ فاصلے پر بنی ایک انجان سی کالونی میں شاہزیب کو لے گئ پھر ایک گھر کے سامنے بائیک رکوائی ۔۔۔

“بس یہیں۔ روک دو اور دو گھنٹے بعد ۔مجھے یہیں سے لے لینا ۔۔۔مجھے کال کر کے آنا گھر کی ڈور بیل دینے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔'”شازمہ نے تاکید کرنا ضروری سمجھا

“شاہزیب جان چکا تھا کہ سامنے والے گھر میں اسکی کوئی دوست نہیں ہے یقینا شازل یہیں کہیں قریب ہی اپنی گاڑی میں ہو گا ۔۔۔شاہزیب کے جاتے ہی اسے لینے پہنچ جائے گا

“یہ کون سی دوست ہے تمہاری اس علاقے میں تومیں پہلے کبھی تمہیں لیکر نہیں آیا “

“یونیورسٹی کی ہے۔۔۔تم نہیں جانتے “شہ نے نظریں چراتے ہوئے کہا

“ہمم جاؤں اندر ۔۔۔”شاہزیب نے اپنے آبرو سچجاتے ہوئے کہا

‘میں چلی جاؤں گی تم جاؤں اب “شازمہ نے گھبرا کر پیشانی کا پسینہ ہاتھ میں پکڑے ٹشو سے پونچا

“میں کہیں نہیں جا رہا یہیں تمہارا یہیں انتظار کروں گا تم آرام سے اپنی سہیلی کے گھر جاؤں گپیں لگاؤں اور بے شک بڑی فرصت سے وقت گزار کر باہر آنا میں تمہیں یہیں ملوں گا “شاہزیب کے جواب نے شازمہ کے ہوش اڑائے تھے وہ کون سا سچ مچ کسی دوست کے گھر آئی تھی ساری سہلیاں اسکی اپنے علاقے کی ہی تھیں ۔۔۔۔وہ تو شازل کے بتائے ہوئی جگہ پر پہنچ گئ تھی جہاں سے وہ اسے پک کرنے آنے والا تھا

‘”تم کیا کروں گئے اتنے گھنٹے دھوپ میں سر کر ۔۔۔رنگ دیکھا ہے اپنا کتنا خراب ہوتا جا رہا ہے “شامہ نے فکر مندی جتانے کی کوشش کی ۔۔۔یا سیدھے لفظوں میں بھائی کو مکھن لگایا

“میری شامی کباب اسوقت تو تم جل کر خاک ہو رہی ہو ۔۔میری فکر چھوڑو میری چندہ اپنی سہیلی کے گھر کی بیل دو اور اندر جاؤ” ۔۔۔شاہزیب بائیک سے اتر اب شازمہ کے دو با دو کھڑا ہو کر بات کرنے لگا

“شاہو “شازمہ سب کوئی نیا بہانہ ڈھونڈنے لگی

“دیکھو مجھے ذیادہ بنانے کی کوشش مت کرو شازی مجھے معلوم ہے تمہیں کس دوست کے ساتھ جانا ہے اور کہاں جانا ہے ۔۔۔ میری پیاری سی بہن عمر میں بڑی ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ تم عقل میں بھی مجھ سے بڑی ہو جاؤں گی ۔۔۔۔”شاہزیب کے منہ سے سچ سن کر وہ منت پر اتر آئی

“شاہزیب پلیز ۔مجھے شازل کے ساتھ جانے دو اسکی عزت کا سوال ہے ۔۔۔میرا پیاراسا بھائی ۔۔۔پلیز شاہزیب “شازمہ اب خوشامد پر اتر آئی تھی

“شازی اگر بات صرف ڈنر تک محدود ہوتی تو میں کبھی منع نہیں کرتا ۔۔۔لیکن۔ وہاں ڈانس کا پورا پروگرام سجائے بیٹھا ہے تمہاراشازل یونی سے واپسی پر میں وہیں۔ سے ساری انفارمیشن لیکر آ رہا ہوں اس لئے چلو بیٹھو گھر لیکر جاؤں تمہیں “شاہزیب دوبارہ بائیک پر بیٹھنے لگا

“تمہیں غلط فہمی ہوئی ہے “شازمہ کا شازل پر کچھ زیادہ ہی بھروسہ تھا ۔۔۔۔اس سے پہلے کہ شاہزیب کچھ کہتا شازمہ کا فون بجنے لگا شازل کی ہی کال تھی ۔۔۔۔شامہ نے فون اٹھایا تووہ غصے سے پھنکارا تھا وہ کہیں کسی گلی میں گلی روکے سب دیکھ رہا تھا

“یہ شاہزیب گیا کیوں نہیں ابھی تک”

“شازل وہ “

“فون شاہزیب نے اسکے ہاتھ سے چھین لیا ۔۔۔۔۔

“شال بھائی آپ جہاں بھی ہیں یہاں تشریف لاسکتے ہیں۔۔۔۔کیونکہ میں سب کچھ جانتا ہوں “فون بند کر کے اس نے شازمہ کو پکڑا دیا ۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں شازل کی گاڑی وہیں آ کر رکی وہ غصے سے نیچے اترا ۔۔۔اور شاہزیب کو نظر انداز کر کے شازمہ سے کہنے لگا

“چلو شازو ہم لیٹ ہو رہے ہیں ‘”

“شازی اگر تم اسکے ساتھ گی تو میں ابھی ابو کو فون کر کے بتا دونگا ۔۔۔۔”

شازل نے پلٹ کر شاہزیب کی طرف دیکھا جو اسوقت کافی سنجیدگی سے اسے گھور رہا تھا ۔۔۔۔

“مسلہ کیا ہے تمہارے ساتھ ۔۔۔شازو میری منگتر ہے اسے میرے ساتھ شادی کے بعد بھی اسی سوسائٹی میں موو کرنا ہے۔۔۔۔سو بہتر ہو گا کہ تم منہ بند رکھو اور جاؤں یہاں سے ‘”شازل نے غصے سے پھنکارتے ہوئے کہا

“میری بہن ایک نہایت شریف خاندان کی باعزت خاتون ہے تمہارے ساتھ ڈانس فلور پر بانہوں میں بانہیں ڈال کر سب کے سامنے نہیں ناچے گی ۔۔۔۔جاوں اور اپنی کوئی اور ڈانس پاٹنر ڈھونڈ لو ۔۔۔۔”شاہزیب۔ کے تیور بھی کڑے تھے

“شاہو بےہیو یور سیلف ۔۔۔۔شال مجھے صرف ڈنر کر لے جا رہا ہیں بس۔۔۔ اس سے آگے کچھ نہیں ہے ۔۔۔۔اور مین کیا پاگل ہوں جو اسی بیہودہ حرکتیں کرو گی”

“شازو ۔۔۔۔تم میرے ساتھ صرف ڈنر پر نہیں جا رہی بلکہ ڈانس پاٹنر بھی بن کر جاؤں گی چونکہ میرے سب دوست اپنی فیانسی کے ساتھ ڈانس کریں گئے تو تمہیں بھی کرنا پڑے گا “‘شازل نے ساری بات کھل کر اب شازمہ کو بتائی تھی لیکن وہ دیکھ شاہزیب کی طرف رہا تھا جو غصے کے مارے لال سرخ چہرے سے شازل کو قہر بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔

“شازل آپ نے تو کہا تھا کہ “

“تمہیں زندگی میرے ساتھ گزارنی ہے ۔۔۔اس لئے میرے طریقے اپنانے پڑیں گئے “شازل۔کا اندا، دو ٹوک تھا

“شازل “شامہ نے تاسف بھری نظر اپنے مغرور ہوتے منگتر پر ڈالی

“شازی بائیک پر بیٹھو “شاہزیب نے غصے سے کہا

“شازو اگر تم آج میرے ساتھ نہیں گئیں تو یاد رکھنا انجام بہت برا ہو گا ۔۔۔”,شازل دانت بیچ کر بولا

“شازمہ تم بیٹھ رہی ہو یا میں ابو کو فون کرو “شازیب کے لہجے میں بھی تلخی عود آئی تھی ۔۔۔۔۔شامہ کبھی شاہزیب کو غصے سے بھرا دیکھ کر خوف زدہ ہونے لگی کبھی شازل کی گھورتی نظر سے سہم سی گئ ۔۔۔۔۔۔