One Wheeling by Umme Hani NovelR50409

One Wheeling by Umme Hani NovelR50409 One Wheeling Episode 22

491.3K
42

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

One Wheeling Episode 22

One Wheeling by Umme Hani

نیناں نے نا صبح کا ناشتہ کیا تھا نا ہی دوپہر کا لنچ کیا پورا دن اپنے کمرے میں بیٹھی رہی ۔۔۔۔بختیار صاحب کو چند گھنٹوں کے لئے اپنے آفس ایک ضروری میٹنگ پر جانا تھا ۔۔۔گو کہ آج سنڈے کی چھٹی تھی لیکن انکے کلانٹ آؤٹ آف کنڑی سے آئے تھے اس لئے ان سے ملنا ضروری تھا لیکن نیناں کی باتوں کی وجہ سے وہ اس قدر ڈسٹرب ہوئے کہ کہیں بھی نہیں گئے میٹنگ بھی کینسل کر دی ۔۔۔۔۔صبح ناشتے پر بھی نیناں نہیں آئی تھی اور اب لنچ کا ٹائم ہو چکا تھا وہ کمرے سے نکلی تک نہیں تھی ۔۔۔۔۔بختیار صاحب کو اندر ہی اندر بے چینی سی لاحقتھی مگر لب سے کچھ نہیں کہہ رہے تھے ۔۔حیدر بھی سامنے بیٹھا تھا ۔۔۔۔پریشان تو وہ بھی ہونے لگا تھا ۔۔۔۔

بختیار صاحب چاول پلیٹ میں ڈالے کسی گہری سوچ میں مبتلہ تھے ۔۔۔

“انکل “حیدر کی پکار پر چونکے

“ہمم ہاں بولو “

“کھانا ٹھنڈا ہو رہا ہے ۔۔۔۔”

“ہمم ۔۔۔۔تم کیوں کچھ کیوں نہیں کھا رہے ۔۔۔۔”بختیار صاحب نے حیدر کی پلیٹ خالی دیکھ کر کہا ۔۔۔۔ بختیار صاحب چمچ میں چاول ڈال کر جب منہ کے قریب لے کر گئے تو یاد آیا کہ پہلا نوالہ وہ نیناں کو کھلاتے تھے ۔۔۔۔دل جیسے کسی مٹھی میں لے کر دبوچا تھا وہ کہاں نیناں کو کھلائے بغیر کھاتے تھے ۔۔۔۔۔صبح سے وہ بھوکی اپنے کمرے میں بیٹھی تھی پانی کا گھونٹ نہیں لگا تھا رات کو نہ ڈنر نہیں کیا تھا ۔۔۔۔بختیار صاحب نے چمچ واپس پلٹ میں رکھ دیا ۔۔۔اور کرسی کھنچ کر اٹھ گئے ۔۔۔

“رحمت بی بی ۔۔۔مجھے بھوک نہیں ہے بس ایک کپ کافی بنا کر مجھے میرے کمرے میں دیدو “بختیار صاحب اٹھ کر چلے گئے حیدر نے بھی پلیٹ پیچھے کھسکا دی ۔۔۔بھوک تو اسکی بھی ختم ہو چکی تھی

******……..

نیلو فر جب سے باسم سے مل کر آئی تھی یہی سوچ رہی تھی کہ کیسے اسے بتائے کہ وہ تو کب سے اسکے خواب آنکھوں میں بسائے ہوئے ہے ۔۔۔۔اتنی بولڈ تو تھی نہیں کہ یہ سب اس سے خود کہتی رائمہ سے بھی ایسی بات کرتے ہوئے اسے شرم سی آنے لگی اس لئے سوچا کہ ایک پیپر پر لکھ کر اپنی محبت کا اظہار کر دے ۔۔۔۔ جب پھپو سو چکی تھی تو نیلو فر نے آہستہ سے سائیڈ ٹیبل کے دراز سے اپنی ڈائری نکالی ۔۔۔۔ پین ہاتھ میں پکڑے سوچنے لگی کہ لکھےکیا پین کو ایک صفحے پر چلانا شروع کیا

جان سے پیارے باسم !

“نہیں نہیں نیلو یہ تو بہت چیپ سا ہو جائےگا۔۔۔۔”نیلو فر نے وہ پیپر پھاڑ کر پھنک دیا

“پیارے باسم !

جو سوال آپ نے مجھ سے پوچھا ہے اس کا جواب میں آپکے سامنے لفظوں سے نہیں دے پاؤں گی اس لئے تحریری طور پر جواب دےرہی ہوں ۔۔۔۔مجھے آپ بہت ۔۔۔۔۔۔۔اچھے لگتے ہیں ۔۔۔۔۔۔میری آنکھوں نے ہمیشہ آپکے خواب دیکھے ہیں ۔۔۔۔۔ دل بھی آپکے نام پر دھڑکتا ہے ۔۔۔۔۔۔رات کو خوابوں پر بھی آپکی حکمرانی ہے ۔۔۔۔ پہلی بار جب میں نے آپ کو دیکھا تھا ۔۔۔۔میں تواسی وقت آپ کو دل دے بیٹھی تھی ۔۔۔۔۔ لیکن کہہ نہیں سکتی تھی ۔۔۔۔۔۔آپ بہت اچھے ہیں باسم ۔۔۔۔۔آپکی ہمراہی زندگی گزارنا میری سب سے بڑی خوش نصیبی ہو گی ۔۔۔۔

فقط آپکی فری

نیلو نے خط لکھنے کے بعد کئ بار پڑھا پھر صحفہ تہہ کیا اسپر اچھی سی خوشبو کااسپرے کیااور اپنی الماری میں اپنے کپڑوں کے نیچے رکھ دیا ۔۔۔۔چہرے پر مسکراہٹ تھی اور آنکھوں میں باسم کا چہرہ ۔۔۔۔۔

********………

دوسری تصویر میں شاہزیب نیناں کے آنسوں صاف کر رہا تھا ۔۔۔۔تیسری تصویر پر اسکے ہاتھ تھامے بات کر رہا تھا ۔۔۔۔۔۔زمرد بیگم کو تو جیسے موقع مل گیا

“اے ہائے ۔۔۔۔شاہزیب یہ کیا حرکت ہے ۔۔۔۔یوں کھلے عام اتنی بڑی بے غیرتی ۔۔۔۔میں پوچھتی ہوں عاتقہ میرے شازل نے تو اجازت مانگی تھی شازی کو دعوت پر ساتھ لے جانے کی ۔۔۔مگر تم نے تو باپ دادا مجھے یاد کروا دیے تھے ۔۔۔۔کہاں گئ تمہاری خاندانی عزت ۔۔جیسے تم نے اپنے لاڈلے کو گھٹی میں ڈال کر پلایا تھا کیسے غیر لڑکی کے ہاتھ پکڑے عشق معشوقی کرتا پھر رہا ہے ۔۔۔۔ “زمرد بیگم کی باتوں نے تو چلتی پر تیل کا کام کیا تھاعاتقہ بیگم کی نظریں شرمندگی سے زمین پر گڑ گئیں تھیں زمان صاحب کاغصہ ساتویں آسمان کو چھو رہا تھا ۔۔۔۔زمان صاحب اپنی کرسی سے کھڑے ہوئے شاہزیب بھی کھڑا ہو گیا سمجھ گیا تھا کہ اب بچنے کے چانسز نا ہونے کے برابر ہیں زمان صاحب چلتے ہوئے اس کے قریب آئے

“یہ وہی لڑکی ہے نا جواس دن گھر پر آئی تھی ۔۔۔۔”شاہزیب نے نظریں اٹھا کر باپ کی طرف نہیں دیکھا تھا ۔۔۔۔

“کہا تھا نا میں نے تم سے کہ اگر اس کی وجہ سے کوئی بات شازل اور زمرد بھابی کو پتہ چلی تو وہ دن تمہارا اس گھر میں آخری دن ہو گا ۔۔۔۔”دانت کچکچا کر وہ گھمبیر لہجے میں شاہزیب کو یاد کروا رہے تھے ۔۔۔۔

“تم تو کہہ رہے تھے تمہارا کوئی تعلق نہیں ہے اس لڑکی سے یہ سب کیا ہے شاہزیب “زمان صاحب چلا کر بولے

“ابو مجھے ۔۔۔۔آ آپ سے بات کر۔۔۔۔۔نی ہی تھی ۔۔۔۔۔”شاہزیب کی زبان کی لڑکھڑاہٹ ابھی مٹی بھی نہیں تھی کہ ایک زور دار طمانچہ اسکی گال پر پڑا تھا ۔۔۔۔ شاہزیب۔ کے ہونٹ کے قریب خون سا رسنے لگا انگلیاں رخسار پر چھپ چکی تھیں

“بکواس کر رہے تھے مجھ سے ۔۔۔۔۔جھوٹ بول رہے تھے جانتے بھی ہو کہ نفرت ہے مجھے جھوٹ سے “۔۔۔زمان صاحب کی دھاڑنے کی آواز پر سب کے رنگ اڑے تھے ۔۔۔۔عاتقہ بیگم کے تو کلیجے میں ہاتھ پڑا تھا ۔۔۔۔آج تک صرف ڈانٹا ہی تھا زمان صاحب نے بچوں کو ان پر ہی سب کی آدھی جان نکل جاتی تھی تھپڑ پہلی بار مارا تھا ۔۔۔۔ زمرد بیگم کا بھی رنگ اڑ گیا تھا شازل کے لئے بھی یہ غیر متوقع بات تھی اسے بس یہی اندازہ تھا کہ اچھی خاصی ڈانٹ پڑے گی اور وہ مزے لے گا مگر تھپڑ؟ تھپڑ نے سب کے ہوش اڑائے تھے ۔۔۔۔یہ اسکی سوچ سے اوپر کی کہانی شروع ہو چکی تھی ۔۔۔۔نمیرہ کے آنسوں بہنے لگے تھے شاہزیب میں تو اسکی جان بستی تھی ۔۔۔۔شازمہ بھی پریشان تھی اندر بیٹھے عاصم کا بھی لکھتے ہوئے ہاتھ رکا تھا ۔۔۔باسم بھی زمان صاحب کی با آواز بلند لہجے پر اپنی جگہ سے کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔۔۔

“سر میں ابھی آیا “عاصم نے باسم سے کہا اور ڈرائنگ روم سے باہر نکل گیا ۔۔۔۔۔سامنے اب بھی شاہزیب سر جھکائے کھڑا تھا ۔۔۔۔۔

“کیا چکر ہے تمہارا اس لڑکی سے ۔۔۔۔۔”ایک تھپڑ اور شاہزیب کے منہ پر پڑا تھا ۔۔۔۔عاتقہ بیگم کا صبر جواب دے چکا تھا ۔۔۔۔وہ روتے ھوئے سامنے آ گئیں ۔۔۔۔

“زمان کیا ہو گیا ہے آپ کو ۔۔۔۔جوان اولاد پر ہاتھ اٹھائیں گئے ۔۔۔۔کوئی چکر نہیں ہے شاہزیب کا وہ لڑکی ہی ہاتھ دھو کر اس کے پیچھے پڑی تھی اسی کو منع کرنے گیا تھا ۔۔۔۔بتاوں نا شاہزیب ۔۔۔۔۔منع کر آئے نا اسے ۔۔۔۔اب تو نہیں تنگ کرے گی تمہیں “عاتقہ بیگم نے ہمیشہ کی طرح بہانہ بنا کر شاہزیب کو بچانے کی کوشش کی تھی ۔۔۔لیکن اس بار شاہزیب۔ نے ہاں میں ہاں نہیں ملائی تھی

“امی ۔۔۔۔۔میں ۔۔۔۔میں نہیں چھوڑ سکتا اسے “شاہزیب کے جواب نے سب کو حیرت میں ڈالا تھا ۔۔۔۔۔ زمان صاحب نے عاتقہ بیگم کو پیچھے کیا اور شاہزیب کا گریبان پکڑ لیا

“کیا کہا تم نے ۔۔۔۔۔کیا بکواس کر رہے ہو تم کیا نہیں کر سکتے ۔۔۔۔”زمان صاحب نے اس زور سے اسے جھنجھوڑا کہ شرٹ کے بٹن ٹوٹ کر گر گئے تھے

“تم اب اس سے نہیں ملو گئے سمجھے “زمان صاحب نے زور سے ڈھاتے ہوئے کہا ۔۔۔۔ آنکھوں میں۔ آگ کے شعلے دھک اٹھے تھے ۔۔۔۔اور لہجہ اس قدر بلند تھا کہ دیواریں بھی لزر جائیں

“ابو ۔۔۔میں اسے نہیں چھوڑ سکتا ۔۔۔۔محبت کرتا ہوں اس سے ” یہ سننے کی دیر تھی زمان صاحب کے ہواس کھونے لگے ۔۔۔۔کہاں وہ ایک لفظ انکے سامنے نہیں بول پاتا تھا اور کہاں اب محبت کا کھلم کھلا اظہار وہ بھی یوں سب کے سامنے ۔۔۔۔انہوں نے بہت زور کا دھکا دے کر اسے چھوڑا تھا اس افتاد کے لئے شاہزیب تیار نہیں تھا ۔۔۔۔اس لئے بری طرح سے گرتے ہوئے کرسی سے ٹکرایا تھا ۔۔۔۔سر کے کنارے پر کرسی لگی سر پر زخم سا ہو گیا خون بہنے لگا ۔۔۔۔ زمان صاحب اب اسے مکوں اور پاؤں سے مارنےلگے تھے

“بے غیرت میرے سامنے بکواس کر رہا ہے ۔۔۔۔تمہارے عشق کو میں آج اتار کر رہوں گا۔۔۔۔زبان کو بے لگام چھوڑ رکھا ہے تم نے “۔۔۔شازل اب بری طرح گھبرا گیا تھا ۔۔۔۔فورا سے زمان صاحب کے پاس آگیا

شاہزیب چپ چاپ مار کھا رہا تھا ۔۔۔۔ایک لفظ بھی نہیں بولا نمیرہ کی سسکیاں بلند ہوئیں ۔۔۔شازمہ بھی رونے لگی تھی

“چچا بس بھی کریں ہو گی غلطی اس سے کیا جان سے ماریں گئے ۔۔۔۔”شازل نے زمان صاحب کو پکڑ کر پیچھے کرنا چاہا ۔۔۔۔مگر ان تو جیسے جنون سوار تھا ۔۔۔۔۔

“ہٹو پیچھے ۔۔۔اسے نہیں چھوڑو گا آج ۔۔۔ کمینہ محبت کی بکواس کر رہا ماں بہنوں کے سامنے ۔۔۔۔الو کا پٹھا ” پاؤں سے ایک ٹھوکر اور شاہزیب کو ماری ۔۔۔۔۔

“چچاچھوڑیں اسے ۔۔۔۔ہٹیں پیچھے ۔۔۔۔کچھ نہیں کرے گا یہ ۔۔۔۔” بڑی مشکل سے شازل نے انہیں پیچھے کیا تھا ۔۔۔زمان صاحب پسنے سے شرابور پھولے ہوئے سانس کے ساتھ پیچھے ہٹے ۔۔۔۔

“شازل کو خود پپر افسوس ہونے لگا اتنا سب کچھ ہو جائے گا شازل کے ذہن وگمان میں نہیں تھا شاہزیب کے ہونٹ کے قریب سے بھی خون بہہ رہا تھا ۔۔۔۔شازل نے سہارا دے کر شاہزیب کو اٹھایا ۔۔۔۔وہ اب بھی چپ تھا ۔۔۔۔نظریں جھکائے کھڑا تھا ۔۔۔۔

“شازل اس کہہ دو کہ قسم کھا کر کہے کہ اس لڑکی سے دوبارہ نہیں ملے گا ۔۔۔۔ورنہ میں اسے چھوڑو گا نہیں ۔۔۔”زمان صاحب کا غصہ کسی طور کم نہیں ہو رہا تھا

“کہہ دے گا چچا۔۔۔۔اب نہیں ملے اب دوبارہ ۔۔۔۔”شازل نے بات رفع دفع کرنی چاہے ۔۔۔۔۔اندر باسم کی بھی جان پر بنی ہوئی تھی نیناں کو تواس نے بھی سی ویو پر شاہزیب کے پاس بیٹھے دیکھا تھا آوازیں جنتی بلند تھیں ۔۔۔۔باسم سارا قصہ سمجھ چکا تھا ۔۔۔۔یہ انکا فیملی میٹر تھا ۔۔۔۔۔۔اپنا آپ باسم کو آکوڈ سا لگ رہا تھا مگر اس کشیدگی کے ماحول میں خود سے اٹھ کر گھر سے نہیں نکل سکتا تھا ۔۔۔۔باہر عاتقہ بیگم کے ساتھ ساتھ نمیرہ اور شازی بھی رو رہیں تھیں ۔۔۔۔زمرد بیگم بھی پریشان تھیں ۔۔۔۔شازل نے سامنے رکھے ٹشو بکس سے ٹشو نکال کر شاہزیب کے سر اور ہونٹ سے خون صاف کیا ۔۔۔دکھ اور افسوس تو شازل کو بھی ہو رہا تھا تھوڑی بہت ڈانٹ ڈپٹ تو ٹھیک تھی یوں بےدردیوں کی طرح مار پیٹ شازل کے گمان میں نہیں تھی ۔۔۔۔

“شاہزیب چلو تم کمرے میں “شازل کو یہی بہتر لگا کہ شاہزیب منظر سے غائب ہو جائے ۔۔۔

“پہلے اس سے کہو کہ قسم کھا کر کہے کہ دوبارہ اس لڑکی کی شکل بھی نہیں دیکھے گا “زمان صاحب پھر سے بلند لہجے سے بولے ۔۔۔۔آنکھوں کے ڈورے سرخی مائل ہو رہے تھے ۔۔۔غصہ اتنا تھا کہ نا جانے کیا کر بیٹھیں گئے شاہزیب کے ساتھ

“کہہ دو شاہزیب کہ نہیں ملو اس سے “شازل نے دھیمے لہجے سے کہا

“میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ اسے نہیں چھوڑو گا ۔۔۔۔۔ ابو کو مجھے مارنا ہے ۔۔۔۔مار لیں ۔۔۔۔۔لیکن نیناں کو کبھی نہیں چھوڑ سکتا ۔۔۔۔”شاہزیب کی ڈھٹائی پر زمان صاحب کی تیوریاں پھر چڑھ گئیں ۔۔۔۔

“,پاگل ہو گئے ہو شاہزیب ۔۔۔۔۔”شازل نے حیرت سے اسکے زخمی چہرے کو دیکھا ۔۔۔عاتقہ بیگم اور شازمہ بھاگی ہوئی شاہزیب کے پاس آئیں

“کیا بکے جا رہے ہو تم ۔۔۔۔بولو شاہزیب کے نہیں ملو گئے کسی لڑکی سے” ۔۔۔۔عاتقہ بیگم کی جان پر بن گئ تھی اس بار اگر زمان صاحب نے ہاتھ اٹھاتے تو نا جانے اور کتنا غصب ڈھاتے ۔۔۔

“شاہو اللہ کاواسطہ ہے تمہیں کہہ دو کہ نہیں ملو گئے “شازمہ روتے ہوئے اسکے سامنے ہاتھ جوڑنے لگی ۔۔۔زمرد بیگم بھی زمان صاحب کے پاس آ گئیں

“زمان اٹھو تم اپنے کمرے میں جاؤں میں سمجھاتی ہوں شاہزیب کو اپنا بچہ ہے مان جائے گا ۔۔۔”زمان صاحب کے چہرے پر خطرناک تاثرات دیکھ کر انہوں نے بات سنبھالنے کی کوشش کی ۔۔۔۔

“بھابی میں کہیں نہیں جاؤں گا اس سے کہیں کہ قسم کھا کر کہہ دے کہ نہیں ملے گا اس سے ورنہ یا تو آج یہ میرے ہاتھ مر جائے گا ۔۔۔۔یا ہمیشہ کے لئے اس گھر سے نکل جائے گا ۔۔۔۔زمان صاحب کے الفاظوں سے نمیرہ کی چیخیں نکل گئیں تھی ۔۔۔وہ بھی بھاگ کر شاہزیب کے پاس آئی تھی ۔۔۔۔

“نہیں ابو بھائی کو کچھ مت کیجیے گا “زمان صاحب کی منت کرنے کے بعد شاہزیب کے کندھے سے سر رکھ کر رونے لگی

“شاہو بھائی کہہ دو نا ۔۔۔۔کہہ دو کہ ۔۔نہیں ملو گئے ۔۔۔۔پلیز شاہو بھائی کیوں نہیں کہہ رہے ہو کہہ دو نا ۔پلیز “نمیرہ روتے ہوئے شاہزیب کی منتیں کر رہی تھی ۔۔۔۔۔مگر وہ ایسے کھڑا تھا جیسے سب کا رونا بلبلانا اس پر بے اثر تھا ۔۔۔۔

“نمی تم کمرے میں جاؤں ۔۔۔۔۔”اس نے نمیرہ کاسر اپنے کندھے سے پیچھے کیا نمیرہ کو بھی خود سے الگ کیا ۔۔۔۔اور خود زمان صاحب کے سامنے کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔

“ابو میں نیناں سے شادی کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔اس سے محبت کرتا ہوں ۔۔۔۔اس لئے شادی صرف اسی سے کروں گا وعدہ کر چکا ہوں اس سے پیچھے نہیں ہٹ سکتا ۔۔۔نا ہی ایسی جھوٹی قسم کھاؤں گا ۔۔۔۔۔”زمان صاحب شاہزیب کی اس جرت پر حیران ہوئے تھے ۔۔۔۔پیشانی سے خون ۔۔۔گال پر چھپی انگلیوں کے نشانات ۔۔۔ہونٹوں سے خون ۔۔۔مگر اسے جیسے کوئی پروا نہیں تھی ۔۔۔۔

“شاہزیب تم کمرے میں جاؤں” زمرد بیگم نے چلا کر کہا ۔۔۔۔شاہزیب کی ڈھٹائی پر معاملہ بگڑتا جا رہا تھا ۔۔۔شازل فورا سے زمان صاحب اور شاہزیب کے درمیان کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔کہیں پھر سے مار دھاڑ شروع نا ہو جائے

“شاہزیب تم چپ ہی رہو تو بہتر ہے “شازل زچ ہونے لگا تھا ۔۔۔۔دونوں باپ بیٹا ہی ایک مزاج کے تھے ۔۔۔نا وہ ہار ماننے کو تیار تھا نا زمان صاحب ۔۔۔۔

“پیچھے ہٹ جائیں اب آپ سب لوگ ۔۔۔۔۔۔میرے اور شاہزیب کے درمیان اب جو بھی آیا میں سارے لحاظ بھول جاؤں گا ۔۔۔۔۔”زمان صاحب نے شا،ل کو پیچھے دھکیلتے ہوئے کہا

“چچا پلیز بات سمجھنے کی کوشش کریں ۔۔۔تماشہ لگ جائے گا ۔۔۔میں شاہزیب کو اپنے گھر لے جاتا ہوں میں سمجھاؤں گا اسے یہ وہی کرے گا جو آپ چاہتے ہیں ۔۔۔”

“شازل ہٹ جاؤں بیچ میں سے ۔۔۔۔۔ورنہ میں یہ بھی بھول جاؤں گا کہ تم میرے ہونے والے داماد ہو ۔۔۔”زمان صاحب قہر بھرے لہجے سے بولے ۔شازل کو سامنے سے ہٹا کر اب وہ شاہزیب کے رو با رو کھڑے تھے وہ اب بھی نظریں۔جھکائے کھڑا تھا ۔۔۔۔۔

“ایک بار کہہ دو کہ تم چھوڑ دو گئے اسے میں کچھ نہیں کہوں گا تمہیں ورنہ وہ حشر کروں گا کہ پہچان نہیں پاؤں گئے خود کو “زمان صاحب نے دبے دبے غصے سے آخری بار شاہزیب سے پوچھا ۔۔۔۔سب کے دل یہی دعا گو تھے کہ شاہزیب۔ انکی بات مان لے

” میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں نہیں چھوڑ سکتا “۔۔۔۔اس بار پے در پے کئ تھپڑ شاہزیب کے منہ پر پڑے تھے ۔۔۔۔عاتقہ بیگم بیچ میں آنے لگیں

“خدا کے لئے زمان سب بھی کر دیں ۔۔۔۔بہت ہو چکا ہے “

“عاتقہ میرا ہاتھ آج تم بھی اٹھ جائے گا ۔۔۔۔بیچ میں مت آنا ۔۔۔۔”زمان صاحب کی آنکھوں جیسے خون اتارا ہوا تھا ۔۔۔۔۔

“امی آپ جائیں یہاں سے ۔۔۔۔ابو کو اپنا شوق پورا کر لینے دیں ۔۔۔۔ لیکن میں بھی انہیں کا بیٹا ہوں اپنی بات سے ایک انچ نہیں ہٹوں گا اور شادی تو اب میں انہیں نیناں سے ہی کر کے دیکھاوں گا “شاہزیب کی آنکھوں میں بھی جنون سا اتر گیا تھا اتنی مار کے بعد تو جیسے اسے بھی ضد سی ہو گئ تھی

“زبان چلاؤ گئے میرے آگے اس لڑکی کی خاطر تم میرے سامنے کھڑے ہو گئے میں۔ خون پی جاؤں گا تمہارا شاہزیب “۔۔۔۔اب کی بار اندر بیٹھے باسم کاصبر جواب دے چکا تھا مجبورا اسے باہر آنا پڑا سب لوگ اب پیچھے تھے ۔۔۔۔۔کوئی بھی زمان صاحب اور شاہزیب کے درمیان نہیں تھا ۔۔۔۔س سے پہلے کہ وہ شاہزیب پر پھر سے ہاتھ اٹھاتے

باسم نے زمان صاحب کا ہاتھ پکڑا لیا

“سر پلیز ۔۔۔چھوڑ دیں اسے ۔۔۔۔نادان ہے وہ آپ تو سمجھدار ہیں ۔۔۔۔۔پلیز کول ڈاؤن آپ اب کچھ نہیں کہیں گئے ۔۔۔۔”

“باسم ہٹو پیچھے اسے آج میں چھوڑو گا نہیں ۔۔۔۔”باسم سے ہاتھ چھڑوا کر انہوں نے شاہزیب کو ہاتھ سے پکڑا اور گھر کا میں گیٹ کھول کر باہردھکا دیا ۔۔۔۔

“سامنے آس پاس کے لائن سے جتنے بھی فلیٹ کے لوگ تھے سب انکے دروازے پر موجود تھے خرم سیفی جمی کا بھی رنگ اڑا ہوا تھا باہر کھڑے سب کچھ سن چکے تھے ۔۔۔۔۔اس سے پہلے کہ شاہزیب زمین پر گرتا ۔۔۔۔ خرم نے اسے سنبھالا تھا ۔۔۔۔۔

“زمان صاحب نے خشمگین نظروں سے سب کو دیکھا

“اگر تم لوگوں میں سے کسی نے بھی اسے اپنے گھر میں پناہ دی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا ۔۔۔۔مر گیا یہ آج کے بعد سے میرے لئے ۔۔۔۔”باسم بھی باہر نکل چکا تھا ۔۔۔۔سب لوگ آہستہ آہستہ کھسکنے لگے زمان صاحب کے غصے سے واقف تھے ۔۔۔۔۔بس سیفی جمی اور خرم ہی رہ گئے تھے ۔۔۔۔زمان صاحب نے بڑے زور سے گھر کا دروازہ بند کیا تھا

“سیفی جا پانی لے لیکر آ اپنے شاہو کے لئے “خرم نے شاہزیب کا زخمی چہرا دیکھ کر کہا ۔۔۔

“نہیں پینا مجھے کچھ بھی ۔۔۔۔”شاہزیب نے ہاتھ سے ہونٹ کے قریب بہتا ہوا خون صاف کیا

“شاہو دیکھ کیوں کر رہا ہے یہ سب ۔۔۔۔وہ لڑکی تیرے لئے نہیں ہے ۔۔۔نہیں کرے گی تجھ سے شادی بلا وجہ کی مار کھانے کا فائدہ کیا ہے ۔۔ امیر باپ کی بیٹی ہے وہ تجھ سے پیار کر سکتی ہے شادی نہیں “خرم نے سمجھانے کی نا کام کوشش کی

“اس وقت اگر ایک جمعلہ بھی اور کہا نا تم نے ۔۔۔۔ میں تمہارا سر پھاڑ دونگا خرم۔۔۔۔۔ “شاہزیب۔ پہلے ہی غصے میں تھا نصحت تو بکل سننے کے موڈ نہیں نہیں تھا ۔۔۔۔

“آپ پلیز ابھی چپ ہو جائیں وہ اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ کچھ سن سکے ۔۔۔”باسم نے آگے بڑھ کر خرم کو چپ کرایا

“اچھا چل میں تجھے اپنے ماموں نے گھر چھوڑ دیتا ہوں یہاں تو انکل رہنے نہیں دیں گئے “سیفی نے شاہزیب کا ہاتھ پکڑ کر کہا

“کہیں نہیں جانا مجھے ۔۔۔۔۔یہیں سوں گا میں ۔۔۔دیکھتا یوں کب تک باہر نکال کر رکھیں گئے ۔مجھے “شاہزیب نے نے اپنے دروازے کے باہر اشارہ کرتے ہوئے کہا

“کیوں اپنا حشر کروانا ہے ہے اپنے ابا سے ۔۔۔۔ وہ ابھی غصے میں ہیں ۔۔۔۔تمہیں جب بھی دیکھیں گئے ایسے ہی بھڑکیں گئے ۔۔۔۔”جمی کو شاہزیب کی عقل پر شبعہ ہونے لگا تھا ۔۔۔۔اتنی مار کھا کر بھی اپنی بات پر قائم تھا

“شاہزیب یہ ٹھیک کہہ رہا ہے ابھی سر غصے میں ہیں ۔۔۔تم میرے ساتھ چلو میرے گھر ۔۔۔۔میں خود سر سے بات کرو گا ۔۔۔۔انہیں منانے کی کوشش بھی کرونگا ۔۔ لیکن ابھی کسی کی نہیں سنے گئے ۔۔۔”

“کس بات پر مناوں گئے دیکھوں میں نے ابو کی مار اس لئے نہیں کھائی کہ انکی بات پر سر جھکا دوں “

“جو تم چاہتے ہو ۔۔۔۔اسی بات پر منانے کی کوشش کروں گا بس ۔۔۔۔اب چلو میرے ساتھ “باسم کو اندازہ تو ہو گیا تھا کہ وہ اسوقت کس قدر میں غصے میں ہے ۔۔ اس لئے اسی کی بات کو اہمیت دی تا کہ وہ اس کے ساتھ چلنے کو تیار ہو جائے ۔۔۔۔

“تم کہو گئے اور وہ مان ۔ جائیں گئے ۔۔۔۔؟”شاہزیب نے تسگ سے اسے دیکھا بات کی ضد سے بھی واقف تھا

“یہ میرا مسلہ ہے میں منا لوں گا ۔۔۔فی الحال تم میرے ساتھ چلو ۔۔۔”باسم نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کہا ۔۔۔شاہزیب کو بھی یاد آنے لگا کہ کیسے زمان صاحب باسم کو اہمیت دیتے تھے ۔۔۔۔اسکی اوبھگت کرتے تھے ایک معدوم سی امید شاہزیب کے اندر جاگی تھی ۔۔۔۔۔

“ٹھیک ہے کر کے دیکھ لو ۔۔۔لیکن۔ میں تمہارے گھر نہیں جاؤں گا ۔۔۔۔۔یہیں۔ کہیں سڑک پر رات گزار لوں گا ۔۔۔۔”

“سڑک پر کیوں گزاروں گئے یار میرے گھر چلو میرے ساتھ “باسم نے اپنایت سے کہا ۔۔۔شاہزی۔ پر اسے ترس سا آ رہا تھا

“تمہارے گھر والے کیا سوچے گئے نہیں میں یہیں ٹھیک ہوں “شاہزیب نے سبکی کے مارے نظریں چرائیں

“کچھ نہیں سوچیں گئے چلو میرے ساتھ مجھے تم سے بات بھی کرنی ہے” ۔۔۔باسم نے اس کا ہاتھ نہیں۔ چھوڑا تھا اپنے ساتھ لے کر ہی نیچے اترا تھا ۔۔۔۔شاہزیب بھی خاموشی سے اسکی بائیک پر اس کے پیچھے بیٹھ گیا

******……

رات تک جب نیناں کے کمرے کا دروزہ بند ہی رہا تو بختیار صاحب کو پریشانی لاحق ہونے لگی

انہوں نے دروازے پر خود دستک دی ۔۔۔مگر اندر سے کوئی جواب نہیں آیا۔۔۔۔۔

“نیناں دروازہ کھولو ۔۔۔۔”بختیار صاحب کا لہجہ بلند ہوا مگر اندر سے وہی خاموشی تھی

“نیناں اوپن دا ڈور” بختیار صاحب سخت لہجے سے بولے ۔۔۔کچھ دیر بعد دروازہ کھل گیا ۔۔۔۔۔۔ نیناں کی آنکھیں سوخ اور بے حد سوجی ہوئیں تھیں جیسے مسلسل رو رہی تھی

“What’s wrong with you”بختیار صاحب زچ سے ہو کر بولے

“You know very well pops”نیناں نے دھیرے سے کہا

مجھے مجبور مت کرو نیناں کہ میں تم پر سختی کرو کھانا کھاؤں “

“پوپس میں۔ جیتا جاگتا وجود ہوں ۔۔۔۔۔ بے جان کٹ پتلی نہیں ہوں جسے آپ جیسا چاہیں چلائیں ۔۔۔۔۔میں اسوقت اکیلے رہنا چاہتی ہوں۔۔۔۔

“Please leave me alone”

“رحمت بی بی ۔۔۔کھانا لگائیں بے بی کا ۔۔۔۔آج میں خود اسے کھلاؤ گا “بختیار صاحب نے نیناں کی بات کو یکسر نظر انداز کر کے کہا

“نو رحمت بی بی ۔۔۔۔مجھے بھوک نہیں ہے ۔۔۔۔کچھ نہیں کھانا مجھے ۔۔۔۔۔”نیناں نے صاف انکار کیا

“نیناں ۔۔۔۔نو مور آرگیو ۔۔۔ادھر آؤں میرے ساتھ اور چپ چاپ کھانا کھاؤ ۔۔۔۔”بختیار صاحب نے نیناں کا ہاتھ پکڑا اور اسے سامنے لاونج پر صوفے پر اپنے ساتھ بیٹھایا ۔۔۔رات سے وہ بھوکی تھی ۔۔۔رو رو کر اپنی حالت خراب کر چکی تھی ۔۔۔۔اب بھی آنکھوں میں آنسوں جھلملا رہے تھے ۔۔۔۔خاموشی سے بیٹھ گئ ۔۔۔ایک نظر دیکھ کر بختیار صاحب کا دل بھی پسپسا ہو لیکن اپنا اسٹیٹس اور معاشرے میں اپنا ایک نام اور مقام یاد آتے ہی دل میں جاگے پدرانہ جذبے پر اوس سی پڑھ گئ ۔۔۔۔۔۔

رحمت بی بی نے بختیار صاحب کے کہنے پر نیناں کی پسند کے چائینز رائس بنائے تھے ۔۔۔۔۔لیکن نیناں نے دیکھتے ہی کھانے سے انکار کر دیا

“مجھے یہ پسند نہیں ہیں مجھے بریانی کھانی ہے وہ بھی فل آف سپائز”حیدر نے حیرت سے اسے دیکھا تھا وہ کہاں عادی تھی اسی چیزوں کی لیکن اس وقت وہ کافی گھنٹوں سے بھوکی تھی اس لئے بحث کے بجائے ۔۔۔۔ڈرائیور کو کال کر کے نیناں کے لئے ویسی ہی بریانی منگوائی جیسااس نے کہا تھا ۔۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں بریانی کی پلیٹ اسکے سامنے تھی۔۔۔۔ نیناں نے پلیٹ ہاتھ میں پکڑی آلتی پالتی مارے بیٹھ کر کھانے لگی مرچیں بہت تیز تھیں ۔۔۔۔ چہرا پل میں سرخ ہو گیا تھا مگر وہ کھا رہی تھی۔۔۔۔بختیار صاحب اور حیدر اسے بڑی دلچسپی سے دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔دونوں ہی جانتے تھے کہ وہ اس انداز سے کھاتے ہوئے ان پر کیا جتانا چاہ رہی تھی مگر اس وقت تو دونوں کو نیناں کے پیٹ بھر جانے کی فکر تھی ۔۔۔۔۔کھانا ختم کرتے ہی اپنے کمرے میں چلی گئ ۔۔۔۔پورادن وہ بس بیڈ پر اوندھے منہ لیٹ کر روتی رہی تھی شام تک شاہزیب کی کال مسلسل آتی رہیں ۔۔۔مگر نیناں نے فون نہیں اٹھایا تھا ۔۔۔۔غم اور غصے کے مارے شاہزیب سے بھی بات نہیں کی تھی ۔۔۔لیکن اب احساس ہونے لگا تھا کہ اس کا کیا قصور تھا وہ تو خود بے خبر تھا ہر بات سے ۔۔۔۔۔۔پھر رات سے اسکی آواز نہیں سنی تھی اس لئے کمرے میں آتے ہی اپنے موبائل سے کال کرنے لگی ۔۔۔۔کافی دیر بیل ہوتی رہیں پھر کسی لڑکی نے فون اٹھایا

“کون بول رہا ہے ۔۔۔۔”لڑکی کی آواز بھرائی ہوئی تھی

“جی شاہزیب سے بات ہو سکتی ہے “

“آپ کون بول رہی ہیں “لڑکی کچھ تن کر پوچھنے لگی

“جی اسے کہیں نیناں کا فون ہے “

“اچھا تو تم ہو نیناں ۔۔۔۔کیا چاہتی ہو تم ۔۔۔۔پیچھا کیوں نہیں چھوڑ دیتی میرے بھائی کا ۔۔۔۔۔”دوسری جانب شازمہ تھی شاہزیب کو تو موقع ہی نہیں ملا تھا فون ساتھ لے جانے کا۔۔۔۔شاہزیب کے جاتے ہی عاتقہ بیگم پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں زمان صاحب کی منتیں کرنے لگی۔ کہ شاہزیب کو گھر بلا لیں ۔۔۔مگر وہ نہیں مانے سختی سے منع کرتے ہوئے اپنے کمرے میں چلے گئے زمرد بیگم اور شازل کافی دیر بیٹھے عاتقہ بیگم کی دلجمعی کرتے رہے

“کیا ضرورت تھی شازل تمہیں یہ سب کرنے کی ۔۔۔اپنے چچا کے غصے سے تم واقف ہو ۔۔۔۔مجھ سے کہہ دیتے میں خود اسے سمجھا دیتی ۔۔۔۔نا جانے میرا بچہ رات کہاں بسر کرے گا ۔۔۔۔”عاتقہ بیگم کا دل ہولے جا رہا تھا شاہزیب کے بارے میں سوچ سوچ کر

“چچی قسم لے لیں مجھے نہیں پتہ تھا کہ معاملہ اس قدر سنگین صورت اختیار کر جائے گا ورنہ میں کبھی چچا سے کچھ نہیں کہتا ۔۔۔۔”شازل واقع شرمندہ تھا ۔۔۔۔۔زمرد بیگم نے عاتقہ بیگم کے آنسوں صاف کرتے ہوئے کہا

“اچھا اب تم تو چپ کر جاؤں ۔۔۔۔میں کل آ کر سمجھاؤں گی زمان کو۔۔۔ ابھی تو غصے میں بھپرا پڑا ہے کسی کی نہیں سنے گا ۔۔۔۔۔کیا تھا جو شاہزیب ہی عقل کے ناخن لے لیتا ۔۔۔۔ارے بول دیتا باپ سے کہ نہیں ملے گا کسی لڑکی سے مگر نہیں ۔۔۔۔۔اچھی طرح باپ کے غصے سے واقف ہے۔۔۔۔مجال ہے جو اپنی بات سے ٹلا بھی ہو “زمرد بیگم کےطنزیہ نشتر شروع ہوچکے تھے

“بھابی خدا کا واسطہ ہے شاہزیب کو ابھی کچھ مت کہیں میرا بچہ بھوکا پیاسا رات بھر پتہ نہیں کون کون سی سڑکیں ناپتا پھرے گا ۔۔۔۔۔”عاتقہ بیگم اس وقت شاہزیب کے خلاف کچھ بھی نہیں سننا چاہتی تھیں

“امی آپ بھی موقعے کی نزاکت کودیکھ لیا کریں کبھی ۔۔۔۔یہ کوئی وقت ہے ایسی باتوں کا “شازل نے بھی ماں کو گھرکا وہ بھی کھسیا کرچپ ہو گئیں۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں تسلیاں دلاسے دے کر چلی بھی گئیں ۔۔۔۔۔شازمہ اور نمیرہ کے آنسوں بھی نہیں رک رہے تھے ۔۔۔۔عاوم گم صم ایک کونے کھڑا چشما اتارے آستین سے آنکھوں میں آنے والی نمی صاف کرنے لگا ۔۔۔۔نا کسی کو رات کے کھانے کی ہوش تھی نا ہی کسی نے کھایا تھا ۔۔۔۔۔شازمہ نے زبردستی ماں کو دودھ کے ساتھ نیندکی دوا دی اور اپنے کمرے میں ہی سلادیا ۔۔۔۔شازمہ اور نمیرہ شاہزیب کے کمرے میں آ گئیں دونوں ہی رو رہیں تھیں۔۔۔۔۔۔

“شازی آپی کیا ابو کبھی شاہو بھائی کو گھر پر نہیں رکھیں گئے “نمیرہ کا دل غمزدہ سا تھا پھر شاہزیب کی بھی فکر ستا رہی تھی

“اللہ نا کرے نمی ۔۔۔۔ایس کیوں سوچ رہی ہو ۔۔۔۔آ جائے گا کل واپس ۔۔۔۔۔”شازمہ نے منہ سے رجستہ نکلا

“لیکن آج رات کیا کریں گئے “

“پتہ نہیں نمی ابو نے تو خرم لوگوں کو بھی منع کر دیا تھا ۔۔۔ورنہ ان تینوں میں سے کوئی بھی اسے اپنے ساتھ رکھ لیتا ۔۔۔۔۔

“شازی آپی شاہو بھائی کے موبائل پر خرم سیفی اور جمی کا نمبر ہے ۔۔۔ایک بار پوچھ لو ان سے کہ وہ کہاں ہے “نمیرہ کو شاہزیب کی فکر تھی

“نہیں ابو سے بہت ڈرتے ہیں تینوں کبھی نہیں رکھا ہو گا اسے “شامہ نے کچھ سوچتے ہوئے کہا ساتھ ہی فون کی بیل بجنے لگی ۔۔۔۔

“سامنے موبائل پر “میری مینا “لکھا ہوا تھا ۔۔۔ شازمہ نے فون اٹھایا ۔۔۔۔نیناں کا نام سن کر وہ تلملا کر رہ گئ تھی اسکی وجہ سے آج اس کا بھائی سے گھر باہر رات گزارنے پر مجبور تھا ۔۔۔۔۔پہلی بار اسی کی وجہ سے شاہزیب نے زمان صاحب کی اتنی مار کھائی تھی ۔۔۔۔ لیکن پھر بھی اپنی بات سے ٹس سے مس نہیں ہوا تھا ۔۔۔۔۔

“آپ نمی بات کر رہی ہیں “نیناں نے اسکے تلخ لہجے پر بھی نرمی سے بات کی

“نہیں میں شازمہ بول رہی ہوں شاہزیب کی بڑی بہن ۔۔۔۔دیکھو نیناں ۔۔۔۔آج کے بعد میرے بھائی سے کسی قسم کا تعلق اور رابطہ رکھنے کی کوشش مت کرنا ۔۔۔۔ورنہ تمہارے باپ کو بتا دونگی سب کچھ ۔۔۔۔انجسم کی ذمہ دار تم خود ہو گی ۔۔۔۔۔”شازمہ کے جارحانہ انداز سے نیناں کچھ تذبذب کا شکار ہوئی

“میرے پوپس کو سب پتہ ہے ۔۔۔۔وہ جانتے ہیں سب کچھ ۔۔۔دیکھیں آپ میری بات شاہزیب سے کروا دیں مجھے اس سے ضروری بات کرنی ہے ۔۔۔۔”

“نہیں ہے وہ یہاں نکال دیا ہے اسے ابو نے دھکے مار کے گھر سے وہ بھی تمہاری وجہ سے ۔۔۔۔'”

“جی ۔۔۔۔گھر سے نکال دیا ہے مگر کیوں “نیناں نے حیرت کا اظہار کیا

“دیکھوں ذیادہ معصوم مت بنو ۔۔۔۔ تمہارا ہی سارا قصور ہے تم جیسی لڑکیوں کو عادت ہوتی ہے ۔۔۔۔غریب لڑکوں سے محبت کا ناٹک رچانے کی ۔۔۔۔خدا کے لئے اپنا شوق کسی دوسری جگہ پورا کرو شاہو کا پیچھا چھوڑ دو ” نیناں روہانسی سی یو گئ وہ تو بہت کچھ سہہ رہی تھی

“آپ مجھے غلط سمجھ رہی۔ ہیں۔۔۔۔میں بہت محبت کرتی ہوں اس سے ۔۔۔۔ “

“دیکھوں ایسی رس بھری باتوں سے تم شاہو بیوقوف بن سکتی ہو ہمہں نہیں ۔۔۔اگر ذرا سی بھی انسانیت باقی ہے تو چھوڑ دو میرے بھائی کو

“میں بے وفائی نہیں کر سکتی شاہزیب سے ۔۔۔ نا ہی وعدہ توڑ سکتی ہوں ۔۔۔۔ایم سوری ۔۔۔۔”یہ کہہ کر نیناں نے فون بند کر دیا

“ارے بڑی ڈھیٹ لڑکی ہے “شامہ نے دانت بیچ کر کہا

۔۔۔شازمہ نے کئ بار دوبارہ اسی نمبر پر کال کی مگر نیناں نے فون نہیں اٹھایا تھا ۔۔۔۔

*******……..

باسم نے بائیک اپنے گیٹ کے پاس کھڑی کرتے ہوئے بائیک کا ہارن بجانا شروع کر دیا ۔۔۔۔چند لمحوں میں مین گیٹ کھل گیا ۔۔۔۔ باسم نے بائیک اندر کھڑی کی ۔۔۔۔باسم کے ساتھ کسی غیر لڑکے کو دیکھ کر رائمہ اندر کمرے میں چلی گئ ۔۔۔شاہزیب بھی بائیک سے اتر چکا تھا کچھ دیر میں رابعہ بیگم باہر آئیں ۔۔۔۔شاہزیب سے پہلے مل۔ چکیں تھیں ۔۔۔۔لیکن اسے یوں زخمی حالت میں دیکھ کر گھبرا گئیں

“باسم یہ تو تمہارے سر کا بیٹا ہے نا ۔۔۔۔کیا ہوا ہے اسے ۔۔۔۔”

“کچھ نہیں امی بس میری بائیک سے ٹکرا گیا تھا اس لئے چوٹ آگئ “باسم نے برجستہ بہانا جڑا

“ارے خیال سے چلانی تھی نا بیٹا موٹر سائیکل دیکھوں تو تمہاری ذرا سی لاپروائی نے کیا حال کر دیا بچے کا ۔۔۔۔رابعہ بیگم شاہزیب کے قریب آ کر اپنے ڈوپٹے سے اسکے زخموں سے بہتا خون صاف کرنے لگیں “

“ذیادہ زور سے تو نہیں لگی تمہیں بیٹا “رابعہ بی نے نہایت شفقت سے پوچھا شاہزیب نے ایک نظر باسم پر ڈالی پھر نفی میں سر ہلا دیا

“امی میں اسے گھر اس لئے لے آیا کہ اگر یہ یوں اپنے گھر گیا تو اسکی امی اور گھر والے پریشان ہو جائیں گئے ۔۔۔۔سر سےمیں نے بہانہ کر دیا کہ شاہزیب میرے ساتھ رہے گا ۔۔۔۔اصل میں میری شاہزیب سے بہت اچھی دوستی ہے اس لئے سر نے اعتراض نہیں کیا ۔۔۔۔”باسم نے ماں کو مطمئن کرنا چاہا ۔۔۔۔

“پھر بھی باسم زخم بہت گہرے لگے ہیں اسکے ۔۔۔کل تک کہاں غائب ہوں گئے تمہیں۔ احتیاط سے چلانی چاہیے تھی ۔۔۔ہزار بار تمہیں کہتی ہوں کہ آہستہ چلایا کرو ۔۔۔۔نا حق ہی اس بیچارے کے چوٹ لگوا دی “رابعہ بیگم کو سبکی سی ہونے لگی تھی پھر شاہزیب بلکل چپ تھا کچھ نہیں بولا تھا ۔۔۔۔

“اچھا امی میں ذرا اسے کمرے میں لے جاؤں ۔۔آپ ذرا روبی کو بولیں ڈیٹول اور روئی لا کر دے مجھے ۔۔۔”باسم شاہزیب کو اپنے کمرے میں لے گیا ۔۔۔۔

اپنے کبڈ سے اسے اپنا ایک ٹراوزر اور ،شرٹ دی

“لو کپڑے تبدیل کر لو ۔۔۔۔واش روم وہ سامنے ہے ۔۔۔۔۔”باسم نے سامنے باتھ سے باتھ روم کی طرف شارہ کرتے ہوئے کہا شاہزیب نے خاموشی سے اس کے ہاتھ سے کپڑے لئے اور واش روم میں چلا گیا ۔۔۔۔باسم کا۔گھر انکے فلیٹ کچھ بڑا تھا مگر فرش سادے سے سمنٹ کے بننے ہوئے تھے ۔۔۔۔کافی پرانا تعمیر کردہ گھر تھا ۔۔۔۔شاہزیب نے واش بیسن کے سامنے لگے شیشے پر نظر ڈالی تو سر کے پاس اور ہونٹ کے قریب اب بھی خون رس رہا تھا ۔۔۔۔تکلیف زخموں سے اتنی نہیں ہورہی تھی جتنی ٹیس اس بات پر اٹھ رہی تھی کہ پہلی بار باپ سے مار کھائی تھی ۔۔۔۔وہ بھی اس بات پر جس کی اجازت دنیا اور دین دونوں نے اسے دے رکھی تھی ۔۔۔۔ایک پروفیسر ہوتے ہوئے اتنی تعلیم حاصل کر کے مزید تعلیم کو فروغ دینے کے باوجود کیا یہ بات انہیں زیب دیتی تھی کہ وہ اسے اس بات پر ماریں جس پر مارا تھا ۔۔۔۔شاہزیب کو ذرا بھی افسوس نا ہوتا اگر اسے یہ مار سگریٹ پینے پر پڑتی یا کوئی غیر اخلاقی حرکت پر پڑتی ۔۔۔اپنی مرضی کی شادی اس کا حق تھا ۔۔۔ہونا نا ہونا قسمت کی بات تھی مگر یہ کوئی وجہ تو نہیں تھی مارنے کی وہ کون سا نیناں کے ساتھ ڈانس فلور پر ڈانس کر رہا تھا ۔۔۔۔صرف بات ہی تو کر رہا تھا ۔۔۔اب وہ رونے لگی تو اس میں اس کیا قصور تھا ۔۔۔کوئی لڑکی سامنے بیٹھی آنسوں بہائے تو صاف تو انسان کرتا ہی ہے ۔۔۔ہاتھ پکڑ کے تسلی دینا کون سا گناہ ہے ۔۔۔۔شاہ زیب خود کو بہلاوں سے بہلا رہا تھا پھر نل کھول کر منہ کو اچھی طرح دھویا ۔۔۔۔۔کپڑے بدلے اور باہر آ گیا باسم بیڈ پر روئی اور ڈیٹول رکھے اسی کا انتظار کر رہا تھا

“اس کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔میں ٹھیک ہوں “شاہزیب نے سب چیزیں دیکھ کر کہا ۔۔۔۔

“بیٹھوں ادھر ضرورت کیوں نہیں ہے ۔۔۔”باسم نے اسکے ہاتھ پکڑ کر اپنے سامنے اسے بیٹھایا پھر زخموں کو دوئی سے صاف کرنے لگا

“میں نے دیکھا ہے تھا اس لڑکی کو تمہارے ساتھ جب ویلنگ کرتے ہوئے تم گر گئے تھے ۔۔۔۔شاید اسی نے پکارا تھا تمہیں ۔۔۔۔۔لڑکی اچھی ہے مگر حلیے سے اچھی خاصی امیر لگ رہی تھی ۔۔۔۔”

“میں غریب نہیں ہوں ۔۔۔۔۔اچھی جاب لگنے کی دیر ہے ۔۔۔۔اتنا تو کما ہی سکتا ہوں کہ اسکی ضروریات کے ساتھ ساتھ اسکی چند خواہشیں بھی پوری کر سکوں ۔۔۔۔۔ “شاہزیب یہ سن سن کر تھک۔ کا تھا

“تم بہت ذہین ہو شاہزیب ۔۔۔۔۔۔ سمجھدار بھی ہو پھر زندگی کی حقیقتوں سے واقف بھی ہو کیوں منہ موڑنا چاہتے ہو اس سب سے ۔۔۔محبت کے معاملے میں اتنی نا فہمی کیوں ۔۔۔۔۔”

“دل اور عقل کی تو ازل سے جنگ جاری ہے اور شاید ابد تک قائم رہے گی ۔۔۔۔دل کہاں عقل کی دلیلیوں پر کان دھرتا ہے ۔۔۔۔۔۔ عشق نے تو آدھی دنیا چلانے والے شہنشاہوں کو بھی دھول چٹوائی ہے پھر میں کیا چیز ہوں ۔۔۔۔۔اس لئے مجھے اپنے سر زمان کے لیکچر مت سنانا بلکل موڈ نہیں ہے “شاہزیب کی بات پر باسم مسکرائے بغیر نہیں رہ سکا ۔۔۔۔وہ لڑکا حاضر جواب تھا ۔۔۔۔اور لاجواب کرنے کا ماہر بھی ۔۔۔ایک ہی مثال میں باسم کی بولتی بند کر چکا تھا ۔۔۔۔۔

“اچھا بابا نہیں سناتا کوئی لیکچر لیکن ۔۔۔۔پھر بھی وقتی طور پر کہہ دیتے کہ چھوڑ دونگا اسے ۔۔۔۔جبیسے ہی سر کا موڈ ٹھیک ہوتا پھر اپنی بات رسانیت سے سمجھا دیتے

“یعنی کے جھوٹ بول دیتا ۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔۔ محبت میں جھوٹ نہیں بول سکتا تھا ۔۔۔۔۔پاکیزہ جذبوں میں جھوٹ کی آمیزش رشتوں کو کھوکھلا کر دیتی ہیں ۔۔۔۔سچ کی جوتی کھانا ہی ٹھیک تھا ۔۔۔۔آج اگر ثابت قدم نا رہتا تو کبھی بھی ابو سے بات نہیں کر سکتا تھا ۔۔۔۔جو ہوا اچھا ہی ہوا ۔۔۔۔۔کم از کم اب جھوٹے بہانے بنا کر نیناں سے ملنے نہیں جاؤں گا

” ابھی بھی ملو گئے اس سے “باسم نے تعجب سے پوچھا

“ہاں کیوں نہیں ملو گا ۔۔۔۔اسے دیکھے اور ۔ملے بنا مجھے کہاں چین آتا ہے “

“یار یہ امیر گھر کے لوگ بے لوث نہیں ہوتے ۔۔۔۔۔۔نا ہی بے لوث جذبوں کے قدردان ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔بس ذرا سنبھل کر قدم رکھنا “باسم نے پھر سے کوشش کی

“نیناں ایسی نہیں ہے ۔۔۔۔۔جتنا میں اسے چاہتا ہوں اسے کئ زیادہ وہ مجھ سے محبت کرتی ہے ۔۔۔۔۔میری خاطر سب کچھ چھوڑنے کو تیار ہے “

“اللہ کرے ایسا ہی ہو ورنہ ۔۔۔۔۔محلوں میں وفا نہیں ملتی بہت جلدی آنکھیں بدلتے ہیں یہ لوگ “باسم ابھی بات کر ہی رہا تھا جب رابعہ بیگم گرم دودھ میں ہلدی ڈالے کمرے میں لے آئیں ۔۔۔۔۔

“لو بیٹا جلدی جلدی سے پی لو ابھی دردوں کو آرام ا جائے گا ۔۔۔۔”رابعہ بیگم نے اسٹیل کا گلاس شاہزیب کی طرف۔بڑھایا شاہزیب نے گلاس پکڑ کر دیکھا تو پیلے رنگ کا دودھ تھا

“یہ کیا ہے “

“ہلدی دودھ “

“افف یہ نہیں پیوں گا ۔۔۔۔”شاہزیب نے ناگورای سے کہا

“پی لو بیٹا صبح تک آرام ا جائے گا ۔۔۔”شاہزیب نے کن اکھیوں سے باسم کو دیکھا جو مسکرا رہا تھا ۔۔پھربادل نخواستہ آنکھیں میچ کر ایک ہی گھونٹ میں پی گیا ۔۔۔۔رابعہ بیگم گلاس واپس لے گئیں ۔۔۔۔

“سونا کہاں ہے “شاہزیب نے سنگل سے کچھ بڑے سے پلنگ کو دیکھ کر پوچھا ۔۔۔۔

“تم یہاں سو جاؤں “

“اور تم “

“میں صحن میں سو جاؤں گا ۔۔۔۔میری فکر مت کرو ۔۔۔۔اگر بھوک لگی ہے تو کھانا گرم کروا دوں “بسم بیڈ سے کھڑا ہو گیا تاکہ وہ لیٹ سکے

“نہیں ابو نے خوب کھلا کر نکالا ہے گھر سے ۔۔۔۔پیٹ اور من سب کچھ بھر چکا ہے “شاہزیب کو دل ہی دل میں اب دکھ تھا کہ زمان صاحب نے اسکی پوری بات سننے کی زحمت بھی نہیں کی ہر بار کی طرح بنا سنے ہی وہ مجرم کرار دیا گیا تھا ۔۔۔۔۔چپ چاپ بیڈ پر لیٹ گیا ۔۔۔۔اور آنکھیں بند کر لیں