One Wheeling by Umme Hani NovelR50409 One Wheeling Episode 4
Rate this Novel
One Wheeling Episode 4
One Wheeling by Umme Hani
رامس کچھ دنوں سے پریشان بولایا بولایا پھر رہا تھا ۔۔۔باسم کی باتوں سے پریشان تھا ۔۔۔رائمہ۔ خوش شکل تھی تعلیم یافتہ تھی اور گھر گرہستی سے خوف واقف تھی اس کا رشتہ ہونا کوئی مشکل بات تو نہیں تھی ۔۔۔۔رامس کی والدہ بھی اچھے مزاج کی خاتون تھیں بس بیٹیوں کے آگے انکی ذراکم ہی چلتی تھی ۔۔۔۔جنہیں آج کل امیر لڑکی کو بھابی بنانے کا خبط سوار تھا ۔۔۔۔۔۔کئ بار رامس رائمہ کے لئے ماں سے بات کرنے کا ارادہ باندھتا اور پھر باسم کی باتوں کو سوچ کر بات کرنے کا ارادہ ملتوی کر دیتا
“انکار سے تو بہتر ہے کے رشتے کا سوال ہی نا اٹھایا جائے ۔۔۔۔لیکن اس دل کا کیا کرو ۔۔۔۔یار ۔۔۔۔باسم سے سیدھی بات کر لیتا ہوں ۔۔۔۔ہو سکتا ہے مان جائے ۔۔۔۔آخر کم تنخواہ کے علاؤہ کمی کیا ہے مجھ میں ۔۔۔۔پان سگریٹ تک کی عادت نہیں ہے ۔۔۔اچھا خاصاشریف ہوں کالج یونیورسٹی تک پہنچ کر ایک افیر نہیں چلایا ۔۔۔۔اور کیا چاہیے اسے اپنی بہن کے لئے ۔۔۔۔”جب سے رائمہ کے رشتے کے بارے میں سنا تھا رامس کو ایک پل چین نہیں مل رہا تھا ۔۔۔۔خود ہی دل کو بہلاتا ایک نئ امنگ جگاتا اور اگلے ہی لمحے خود ہی مایوس ہو جاتا
“نہیں ۔۔۔۔نہیں مانے گا۔۔۔۔صاف منہ پر منع کر دے گا ۔۔۔۔میرا گھر تو اسکے گھر سے بھی چھوٹا ہے ۔۔۔۔بس دو ہی تو کمرے ہیں ۔۔۔۔اور ایک چھوٹی سی بیٹھک ہے۔۔۔۔جس میں ایک صوفے کے ساتھ ایک میز ہی بامشکل کمرے آتے ہی کمرہ ختم ۔۔۔۔۔۔ایک کمرہ میرا،اور دوسرا اماں ابا کا جس دن کوئی بہن رہنے آ جائے تو میرا بستر ہی باہر صحن میں لگ جاتا ہے۔۔۔۔اسے کہاں رکھوں گا ۔۔۔۔میں لائق ہی نہیں ہوں اس کے ۔۔۔۔خود تو دلاسے دینے کے بعد بھی اسے ین نہیں آ رہا تھا ۔۔۔
*******……….
نیناں نے آنکھیں زور سے میچ لیں ۔۔۔۔۔اسے لگا اب یہ لڑکا گر جائے گا ۔۔۔۔لیکن کچھ ہی لمحے سرکنے کے بعد تالیوں کی گونج اور واہ واہ کی آوازوں پر نیناں نے آنکھیں دھیرے سے کھولیں ۔۔۔وہ لڑکااب بائیک سے نیچے اتر کر اپنے دوست کی طرف بڑھ رہا تھا ۔۔۔۔۔دیکھنے میں اسمارٹ تھا ۔۔۔۔عمر بھی زیادہ نہیں تھی شکل و صورت کا بھی اچھا تھا ۔۔۔۔لیکن بائیک پر اس کا کنڑول غضب کا تھا نیناں کا دل اسوقت اس لڑکے کو داد دے رہا تھا ۔۔۔ خود با خود ہی نیناں کے ہاتھ بھی اسکی ستائش پر تالیوں میں بجنے لگے ۔۔۔۔۔۔وہ لڑکا اپنے اوپر بجنے والی تالیوں اور واہ واہ سنے کا شاید عادی تھا اس لئے بے نیازی دیکھاتے ہوئے اپنے دوست کے ہاتھ سے کولڈ ڈرنک لے کر پینے لگا ۔۔۔۔۔نیناں نے باغور اس لڑکے کو دیکھنے لگی ۔۔۔۔جو عام سے حلیے میں لاپروا ہونے کے باوجود اسے اچھا لگا تھا ۔۔
“ہائے۔۔۔۔۔۔۔ نیناں مجھے تو لگا تھا یہ لڑکا آج گیا کام سے ۔۔۔۔کتنا نڈر ہے یہ ۔۔۔میری تو دیکھ کر ہی جان نکل گئ تھی اور یہ کرنے کے بعد بھی بڑے آرام سے کولڈرنک پی رہا ہے ۔۔۔۔”نیناں کی ایک دوست نے کہا مگر وہ سن ہی کب رہی تھی وہ بڑی دلچسپی سے شاہزیب کو ٹکٹکی باندھے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔
“ونڈر فل ۔۔۔۔اٹس امیزنگ ۔۔۔۔۔اینڈ ۔۔۔۔۔۔لونگ “نیناں کے دل کی آواز اب لبوں سے نکل رہی تھی ۔۔۔۔۔
Love at first sight
کا مطلب اسے آج سمجھ آ رہا تھا ۔۔۔۔۔سامنے کھڑا لاپروائی سے کولڈرنک پیتا ہوا لڑکا اسکا سکون چین اڑا چکا تھا
نیناں کی والد بچپن میں ہی وفات پا چکی اور والد نے دوسری شادی بھی نہیں کی تھی۔۔۔۔اپنی بیوی اور بیٹی سے بہت محبت کرتے تھے اس لئے نیناں پر سوتیلی ماں نہیں لانا چاہتے تھے ۔۔۔۔بہت بڑے بزنس مین ہونے کے باوجود نیناں سے۔ بلکل کسی دوست کی طرح فرینکلی بات کرتے تھے ۔۔۔وہ بھی ان سے کچھ نہیں چھپاتی تھی ۔۔۔۔پھر جس ماحول میں نیناں نے آنکھ کھولی تھی وہاں لڑکا لڑکی کی دوستی کو معیوب نہیں سمجھا جاتا تھا ۔۔۔۔۔ڈنر پر ڈائنگ ٹیبل پر آتے ہی وہ سب سے پہلے اپنے والد کے پاس مسکراتے ہوئے آئی انکے گلے میں ہاتھ ڈالے پیشانی پر بوسہ دینے لگی
“پوپس ۔۔۔۔ہاو آر یو ۔۔۔۔۔۔۔۔”بختیار صاحب نے مسکراتے ہوئے نیناں کے دونوں ہاتھوں کو شفقت سے ہونٹوں پر لگایا ۔۔۔۔
“ایبسولوٹلی آل رائٹ مائے چائلڈ ۔۔۔۔”اور اسے اپنے برابر ہی بیٹھا لیا ۔۔۔۔
خود نیناں کی پلیٹ میں چکن کا سالن ڈالا ۔۔۔اور اپنے ہاتھ سے اسے نوالے کھلانے لگے اور اس سے پورے دن کی روٹین پوچھنے لگے ۔۔۔۔۔
“ہاں تو کیا کیا میری لٹل فرینڈ نے پورا دن “
“پوپس آپکو پتہ آج کتنی امیزنگ چیز دیکھی ہے ۔میں نے ۔۔۔۔۔”نیناں خوشگو لہجے سے بولی
“اچھا کیا دیکھا میری لٹل فرینڈ نے” وہ پوری دلچسپی سے پوچھنے لگے ساتھ ساتھ اسے نوالے بنا بنا کر اپنے ہاتھ سے ایسے کھلارہے تھے جیسے وہ چھوٹی سی بچی ہو
“پوپس میں نے ایک لڑکے کوون ویلنگ کرتے ہوئے دیکھا ۔۔۔۔پوپس اٹس امیزنگ نا ۔۔۔۔۔اسکی بائیک یوں چل رہی تھی جیسے بلکل کھڑی ہو ۔۔۔اور وہ لڑکا ۔۔۔۔۔پوپس اسے بلکل ڈر نہیں لگ رہا تھا ۔۔۔۔ڈس امیزنگ نا ۔۔۔”شاہزیب کا نقشہ اسکی آنکھوں کے سامنے لہرانے لگا ۔۔۔۔وہ ہمیشہ ایسے ہی لاڈ سے بختیار صاحب سے بات کیا کرتی تھی
“کون تھا وہ تمہارا کوئی فرینڈ تھا “روٹی کا نوالہ نیناں کے منہ ڈالتے ہوئے انہوں نے پوچھا
“نہیں ۔۔۔لیکن مجھے اسے فرینڈ بنانا ہے ۔۔۔”
“او کے لیکن بی کیر فل جانو ۔۔۔۔پہلے مجھ سے ضرور ملوانا پھر ملکر ڈسائیڈ کریں گئے کہ اس سے میری گڑیا کی دوستی ہو سکتی ہے کہ نہیں “بختیار صاحب نے کبھی بھی اسے فوراسے انکار نہیں کیا تھا لیکن اتنا اختیار بھی نہیں۔ دیا تھا بنا انکی اجازت سے کسی دوستی کرے اس لئے اسکی گیدرنگ سے بختیار صاحب خوب واقف تھے ۔۔۔
“او کے پوپس ۔۔۔۔۔۔آپ تو کچھ کھائیں۔۔۔کب سے صرف مجھے ہی کھلا رہے ہیں “
“تم کھالو پہلے میں بعد میں۔ کھاؤں گا ۔۔۔چلو منہ کھولو “بختیار صاحب کی یہ شروع سے عادت بن چکی تھی رات کا ڈنر وہ نیناں کو اپنے ہاتھ سے ہی کھلاتے تھے
******……….
رائمہ کو دیکھنے کچھ لوگ آئے تھے ۔۔۔۔لڑکے کا اپنا کاروبار تھا اور رائمہ کے لئے پسندیدگی بھی دیکھا رہے تھے ۔۔۔۔
“بچی تو آپکی ماشاللہ سے بہت پیاری ہے۔۔۔۔۔گھر تو اپنا ہے نا آپ کا”لڑکے کی ماں نے رائمہ کو دیکھنے کے بعد پورے کمرے پر نظریں دوڑاتے ہوئے کمرے کا جائزہ لیتے ہوئے پوچھا
“جی بہن اللہ کا شکر ہے۔۔۔۔۔بس اللہ کا بڑا کرم ہے ۔۔۔”رابعہ بیگم نے جواب دیا ۔۔۔ باسم نے بیکری کا سامان لے آیا تھا اور رائمہ نے گھر ہر بھی بہت کچھ بنایا تھا ۔۔۔۔وہ دو خواتین اور ایک صاحب تھے جو اپنے بیٹے کے لئے رائمہ کو دیکھنے آئے تھے ۔۔۔ خواتین میں ایک تو لڑکے کی والدہ تھیں اور دوسری بہن تھی ۔۔۔
“دیکھیں بھئ ۔۔۔بیٹی تو ہمہیں آپکی بہت پسند آئی ہے ۔۔۔۔لیکن ہم شادی ایک مہنے میں کرنا چاہتے ہیں ۔۔۔۔۔”لڑکے کی ماں کی بات پر رابعہ بیگم نے سوچنے کے لئے وقت مانگ لیا تھا ۔۔۔۔راشتہ پر لحاظ سے اچھا تھا ۔۔۔۔لیکن اتنی جلدی شادی مانگنے پر رابعہ بیگم کچھ پریشان تھیں ۔۔۔۔۔
“امی کیا سوچ رہیں ہیں ۔۔۔۔ہاں کر دیں ہو جائے گا سب کچھ “باسم نے ماں کو تسلی دی
باسم کیسے کر دوں ہاں ۔۔۔۔ایک مہنے گزرنے کا پتہ بھی نہیں چلتا کیسے کروں گئے سب ۔۔۔۔چلو جہیز تو میں نے بنا کے رکھا ہوا ہے لیکن فرنیچر ہے شادی کے ہال کھانے کا خرچہ ۔۔۔اور وقت بھی وہ دینے کو تیار نہیں ہیں ۔۔۔”۔
“امی میں ہوں نا آپ کیوں فکر کر رہیں ہیں ۔۔۔۔جہاں میں ٹیوشن پڑھانے جاتا ہوں ان سے میری بات ہوئی تھی امی وہ کچھ قرض دینے کو تیار ہیں پھر میرے باس نے بھی کہا تھا کہ اگر چاہوں تو لون لے سکتا ہوں آپ فکر مت کریں ۔۔۔۔کب سے رائمہ کے رشتے کے لئے پریشان تھیں آپ ۔۔۔اب اگر ہو رہا ہے تو ۔۔۔۔اللہ کا شکر ادا کریں “
“ٹھیک ہے تم ہاں کر دو “رابعہ بیگم نے بھی ہامی بھر لی تھی اب باسم کو رائمہ سے پوچھنا تھا ۔۔۔۔۔
رات کو جب رائمہ باسم کے کمرے میں اسے چائے دینے آئی تو باسم بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا ۔۔۔۔رائمہ چائے رکھ کر جانے لگی
“ادھر رائمہ مجھے کچھ کہنا ہے تم سے “باسم اٹھ کر سیدھا ہو کر بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔رائمہ اسکے سامنے بیٹھ گئ ۔۔۔
“تم یہ تو جانتی ہو کہ لڑکے والوں کی طرف سے ہاں ہے ۔۔۔۔میں نے اپنی پوری تسلی بھی کروا لی ہے بظاہر سب کچھ ٹھیک ہے لیکن پھر بھی مجھے تمہاری رائے جاننی ہے “
“جب تمہیں اور امی کو کوئی اعتراض نہیں ہے باسم تو ۔۔۔ٹھیک ہے ۔۔۔۔”
“نہیں پھر بھی تمہاری اپنی بھی کوئی رائے ہو گی ۔۔۔تمہیں اختیار ہے رائمہ چاہوں تو انکار کر دو یہ بات میں امی کے ذریعے بھی تم سے پوچھواسکتا تھا لیکن میں تمہارا بھائی ہی نہیں ہوں ۔۔۔مجھے دوست سمجھ کر وہ کہو جو تم چاہتی ہو بلا جھجک
۔۔۔۔ ۔۔۔”باسم نے چائے کا کپبوں سے لگاتے ہوئے کہا
“باسم میں نے ہر اختیار تمہیں دیدیا ہے ۔۔۔میں جانتی ہوں جو تم میرے لئے سوچوں گئے وہ یقینا اچھا ہو گا ۔۔۔۔جو تمہیں اچھا لگے گا وہی۔ میرے لئے بہترین ہو گا ۔۔۔۔۔باقی دلوں کے بھید تو اللہ ہی جانتا ہے ۔۔۔تم نے اپنی تسلی کر تو ٹھیک ہے ۔۔۔باقی میرا نصیب ۔۔۔”رائمہ اٹھ کر وہاں سے چلی گئ ۔۔۔۔
*********………
نیناں اپنے ماں باپ کی اکلوتی بیٹی تھی ۔۔۔۔۔۔اس لئے بچپن سے لاڈ اٹھواتی رہی تھی ۔۔۔۔پھر دولت کی ریل پھیل کی وجہ سے اپنی خواہشات کو پورا کرنا اس کے لئے کبھی بھی دشوار نہیں ہوا تھا ۔۔۔۔پہلے بائیک چلانا سیکھی تھی اور اب ضد کر کے ہیوی بائیک لی تھی لیکن اجازت اتنی ہی ملی تھی کہ گھر سے ساحل سمندر تک جا سکتی تھی۔۔۔اسکا بنگلہ ساحل سمندر کے قریب ہی تھا ۔۔۔۔۔۔اس لئے وہیں آس پاس ہی بائیک چلا کر اپنا شوق پورا کر لیتی تھی ۔۔۔۔۔۔لیکن جو کچھ وہ آج شام کو دیکھ کر آئی تھی اپنے ذہن سے فراموش نہیں کر پا رہی تھی رات کو آنکھیں بند کرتی تو شاہزیب کا سراپا آنکھوں میں گھومنے لگا تھا ۔۔۔۔ایسا نہیں تھا کہ اس نے کسی کو پہلے ون ویلنگ کرتے دیکھا نہیں تھا ۔۔۔۔ہلکا پھلکا آگے کے ٹائر کو اکثر لڑکے اٹھا لیتے تھے ۔۔۔۔لیکن شاہزیب نے جو کیا تھا جس انداز سے کیا تھا وہ عام لڑکوں کے بس کی بات ہی نہیں تھی ۔۔۔۔نیناں چاہ کر بھی یہ سب فراموش نہیں۔ کر پا رہی تھی ۔۔۔۔ اگلے روز وہ پھر سمندر کے کنارے وہیں پہنچ گئ جہاں کل اس نے شاہزیب کو دیکھا تھا ۔۔۔۔کافی دیر وہ بلا وجہ ہی وہاں کھڑی رہی ۔۔۔اسکا انتظار کرتی رہی لیکن وہ نہیں آیا تھا ۔۔۔۔اب تو نیناں کی روٹین ہی بن گئ تھی وہ روزانہ وہاں جانے لگی تھی ۔۔۔۔کہ شاید کبھی کہیں اسے شاہزیب نظر آ جائے ۔۔۔۔مگر انتظار لا حاصل ہی رہتا تھا ۔۔۔روز وہ مایوس ہو کر ہی لوٹتی تھی ۔۔۔۔
******………
“شاہو بھائی لے چلو نا مارکیٹ میری ایک ہی دوست ہے ۔۔۔اور سال میں ایک ہی دفع تواسکی برتھ دے آتی ہے ۔۔۔۔مجھے اسکے لئے گفٹ خریدنا ہے “نمیرہ پچھلے دو گھنٹے سے شاہزیب کی منتیں کر رہی تھی کہ وہ اسے مارکیٹ لے جائے ۔۔۔۔۔لیکن وہ مسلسل ٹی وی پر موٹر بائیک کی ریس دیکھنے میں یوں مصروف تھا کہ دنیا جہان سے بے خبر ہو ۔۔۔۔۔۔
“شاہزیب بند کرو یہ ٹی وی لے جاؤں بہن کو “عاتقہ بیگم نے کہا مگر وہ ٹس سے مس ہونے کو تیار نہیں تھا ۔۔۔۔
“امی چپ بھی کریں دیکھنے دیں مجھے ۔۔۔۔”شاہزیب کے مدافعانہ انداز پر عاصم نمیرہ کو دیکھتے ہوئے ہسنے لگا ۔۔۔۔۔
“نمی آپی بھول جاؤ کہ بھائی تمہیں لیکر جائیں گئے ۔۔۔یہ نہیں ہلنے والے “عاصم کی بات پر شاہزیب نے ایک اچٹتی سی نظر اس پر ڈالی
“اتنی ہمدردی ہو رہی ہے بہن سے تو تم لے جاؤں نا ۔۔۔”شاہزیب نے چڑ کر کہا
“مجھے بائیک چلانی کہاں آتی ہے “عاصم نے صاف ہاتھ جھاڑے
“تمہاری عمر میں ہی میں نے بھی سیکھی تھی ۔۔۔۔”
“لیکن مجھے نہیں سیکھنی میں تو ڈارکٹ گاڑی چلانا سیکھوں گا ۔۔۔۔اور ابو سے اپنے لئے گاڑی مانگوں گا ۔۔۔۔”
“ہممم وہ تو جیسے لے دیں گئے تمہیں گاڑی ۔۔۔۔یہ منہ اور مسور کی دال “شاہزیب نے منہ بناتے ہوئے کہا ۔۔۔۔توعاصم منہ بسور کر بیٹھ گیا
“شامی کباب بھوک لگ رہی یار کیا پکایا ہے آج “شاہ زیب نے ٹی وی دیکھتے ہوئے وہیں سے ہانک لگائی شازمہ چکن میں مصروف تھی ۔۔۔۔
“وہی جو تم عاصم کو دیکھ کر کہہ رہے تھے ۔۔۔۔”مسور کی دال “شازمہ نے کچن سے نکل کر بلند آواز سے کہا ۔۔۔۔شاہزیب دال کا سن کر ہی بد مزہ سا ہو گیا نمیرہ الگ منہ پھلائے سامنے صوفے پر بیٹھی اپنے گھنگرالے بالوں کی لٹوں کو مزید گھما رہی تھی
“نمی تم نے جانا ہے گفٹ لینے “شاہزیب نے ایک نظر نمیرہ پر ڈالی وہ سن کر ہی چہک اٹھی
“ہاں نا شاہو بھائی ۔۔۔کب سے کہہ رہی ہوں “
“ایک شرط پر لیکر جاؤں گا ۔۔۔برگر کھلانا پڑے گا ۔۔۔۔وہ بھی زنگر “شاہزیب کی فرمائش پر عاتقہ بیگم نے ایک تھپکی بیٹے کی کمر پر لگائی تھی
“شرم نہیں۔ آئے گی بہن کے پیسوں سے برگر کھاتے ہوئے ۔۔۔۔”
“ارے امی ہم بے شرم قوم کے باسی ہیں ہمارے حکمرانوں کو کبھی عوام کا پیسہ کھاتے شرم نہیں آئی ۔۔۔میں تو پھر اپنے باپ کا کھاؤں گا جو مجھ پر سو فیصد حلال ہے ۔۔۔نمی کون سا خود کماتی ہے ابو سے ہی پیسے بٹورتی ہے میٹھی چھری بن کر ۔۔۔۔”
“ہاں بھائی کھلا دونگی ۔۔۔۔اب چلو بھی ” نمیرہ فوراسے تیار ہو گئ ابھی تو اسے شاہزیب سے مطلب تھا اس لئے اسکی بات پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ورنہ اچھا سا ٹکا کے جواب دیتی ۔۔۔شاپنگ مال سے گفت خرید کر اسی کے ٹاپ فلور میں چھوٹے سے بنے کیفے ٹریا میں وہ دونوں اب برگر کھانے میں مصروف تھے
۔۔۔۔کہ ایک نسوانی آواز اپنی عقب میں سن کر چونک گئے
“ایکسکیوز می “شاہزیب کے ساتھ نمیرہ نے بھی پلٹ کر اس خوبصورت سی حسینہ کو دیکھا جو جینز کی بلو پینٹ اور گرے شرٹ پہلے ڈوپٹے سے بے نیازِ ایک مفلر گلے میں لٹکائے بلیک گلاسز پہنے انکے عقب میں کھڑی تھی ۔۔۔۔۔
“جی “شاہزیب نے ایک نظر میں اس کا جائزہ لیتے ہوئے پوچھا
“میں نیناں ہوں ۔۔۔۔کیا میں یہاں بیٹھ سکتی ہوں” “شاہزیب ایک پل میں اسکی بے تکلفی پر تحیر سا ہوا پھر سامنے بیٹھی نمیرہ کو دیکھا تو وہ معنی خیز مسکراہٹ منہ پر سجائے شاہزیب کو اشارے سے پوچھ رہی تھی کیا چکر کیا ہے ۔۔۔۔یہ تو وہ خود بھی نہیں جانتا تھا کہ وہ محترمہ ہے کون ۔۔۔۔۔
“ایم سوری ۔۔۔میں نے آپکو پہنچانا نہیں ۔۔۔۔”شاہزیب نے کندھے اچکا کر کہا نیناں کرسی کھنچ کر اسکے برابر میں ہی بیٹھ چکی تھی ۔۔۔۔
“آپ مجھے جانتے ہی نہیں ہیں تو پہچانے گئے کیسے ۔۔۔۔”نیناں نے برجستہ جواب دیا اور اپنے گلاسز اتار کر سامنے ٹیبل پر رکھ دیے ۔۔۔۔
“ہائے میں نمیرہ ہوں ۔۔۔۔شاہزیب بھائی کی چھوٹی بہن “نمیرہ نے خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نیناں کی طرف ہاتھ بڑھایا ۔۔۔نیناں نے بھی مسکراتے ہوئے اس سے ہاتھ ملایا ۔نیناں نے نا تو شاہزیبنام پر توجہ دی نا ہی نمیرہ کے نام پر اسکی توجہ اسوقت سام ے بیٹھے اس لڑکے پر تھی جو اکھڑے موڈ سے بیٹھا ہوا تھا ۔۔نمیرہ کی نظر جب شاہزیب پر پڑی تو وہ اسے بری طرح سے گھور رہا رہا تھا ۔۔۔۔۔نمیرہ سیدھی ہو کر بیٹھ گئ دوبارہ سے اپنا برگر کھانے لگی ۔۔۔۔نیناں پھر سے شاہزیب کی طرف متوجہ ہو گئ
“ایکچلی میں نے آپ کو سی ویو پر ون ویلنگ کرتے ہوئے دیکھا تھا ۔۔۔۔بہت کمال کی ویلنگ کرتے ہیں آپ ۔۔۔۔”
“اوہ اچھا ۔۔۔۔دیکھا ہو گا ۔۔۔۔میں تو اکثر کرتا رہتا ہوں “شاہزیب کا وہی لا پروا انداز تھا۔۔۔۔
“نہیں۔۔۔۔ آپ دوبارہ وہاں نہیں آئے ۔میں تو پچھلے دس دن سے آپ کا ویٹ کر رہی ہوں ۔۔۔”شاہزیب جو کولڈرنک پی رہا تھا نیناں کی غیر متوقع بات پر بوتل سیدھی حلق پر لگی تھی ۔۔۔۔یک دم ہی گلے کو اچھو لگ گیا ۔۔۔۔نمیرہ کی دبی دبی ہنسی پر وہ کچھ بوکھلا سا بھی گیا تھا نا جانے کیوں شاہزیب کو کچھ نا کر کے بھی اپنا آپ مجرم سا لگ رہا تھا ۔۔۔۔۔بے شک وہ بولڈ قسم کا لڑکا تھا لیکن لڑکیوں میں اسکی دلچسپی نا ہونے کے برابر تھی ۔۔۔۔پھر کوئی لڑکی خود سے یہ کہہ رہی ہو کہ وہ پچھلے دس دن سے اس کا انتظار کر رہی ہے ۔۔۔مگر کیوں ۔۔۔
“آر یو اوکے “شاہزیب کے کھانسنے پر نیناں گھبرا گئ ۔۔۔۔شاہزیب کو اس لڑکی کی بولڈنس پر حیرت تھی ۔۔۔۔شاہزیب اب سنبھل گیا تھا ۔۔۔۔۔
” یس ایم آل رائٹ۔۔۔۔بٹ آپ میرا انتظار کیوں کر رہیں تھیں ۔۔۔۔دیکھیے میں کوئی شعبے باز نہیں ہوں اور نا ہی یہ میرا پروفشن ہے ۔۔۔ میں یہ سب شوقیہ کرتا ہوں ۔۔۔۔آپ کو یہ سب دیکھنے کا اتنا ہی شوق ہے تو ۔۔۔کسی سرکس میں جا کر پورا کر لیں ۔۔۔۔چلو اٹھو نمی “شاہزیب کے اکھڑے جواب کا بھی برا مانے بغیر نیناں اس سے بات کرنے کو بیقرار تھی
“آپ میری بات کو غلط سمجھ رہے ہیں ۔۔میری بات تو سنے پلیز ۔۔۔۔”لیکن شاہزیب کھڑا ہو گیا مجبورا نمیرہ کو بھی کھڑا ہونا پڑا ۔۔۔۔
“سنیں مسٹر ۔۔۔۔میں آپ کا انتظار کروں گی ۔۔۔وہیں جہاں آپ نے ویلنگ کی تھیں آپ آئیں گئے نا ۔۔۔۔؟نیناں نے بڑی آس سے پوچھا
“جی نہیں۔۔۔۔۔۔”وہ سختی سے کہنے کے بعد نمیرہ کا ہاتھ تھامے اسے اپنے ساتھ کھسٹنے لگا
“شاہزیب بھائی کولڈرنک تو ختم کرنے دیتے ابھی تو پی بھی نہیں ہے میں نے اور بل بھی پے نہیں دیا ” “نمیرہ نے جلدی سے اپنا پرس ٹیبل سے اٹھایا ۔۔۔دوسرا ہاتھ شاہزیب کے ہاتھ میں تھا
“وہ میں کاؤنٹر پر دیدوں گا “شاہزیب جلدی سے وہاں سے نکل گیا ۔۔۔۔
“شاہزیب ۔۔۔۔۔”نیناں نے منہ میں اسکا نام دہرا کر ذہن نشین کیا ۔۔۔۔اس مال میں وہ شاپنگ کے غرض سے آئی تھی ۔۔۔۔اپنی شاپنگ۔ بیگ ڈرائیور کو پکڑا کر گاڑی میں رکھنے کا کہہ کر جوس پینے کے غرض سے اوپر کیفے ٹریا میں آ گئ تھی لیکن سامنے اس بائیک والے لڑکے کو دیکھ کر اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا تھا پچھلے دس دن سے اسکا انتظار کر رہی تھی اس لئے اسے سامنے دیکھ کر فورا سے اسکے پاس پہنچ گئ ۔۔۔۔شاہزیب کے اکھڑے رویے کی اسے پروا نہیں تھی ۔۔۔۔کچھ فاصلہ رکھ کر وہ شاہزیب کا پیچھا کرنے لگی جیسے ہی وہ مال سے نکلا وہ بھی اپنی گاڑی میں بیٹھ گئ
“ڈرائیور فلو دس بائیک “
“لیکن کیوں بے بی ۔۔۔۔کون ہے یہ “
“ڈونٹ مور کویسچن ۔۔۔۔پیچھا کرو اس کا ۔۔۔۔”وہ اپنا غصہ ڈرائیور پر نکالنے لگی
“جی بہتر “وہ ادھیڑ عمر کا ڈرائیور شاہزیب کا پیچھا کرنے لگا ۔۔۔۔شاہزیب کی اسپیڈ بہت تیز تھی ۔۔۔۔۔۔اور وہ تھا بھی بائیک میں پھر دائیں بائیں سے گاڑیوں کے بیچ سے نکلنے کا ماہر بھی تھا ۔۔۔ڈرائیور کو اس لڑکے کا پیچھا کرنے میں کافی دکت کا سامنا ہو رہا تھا ۔۔۔۔لیکن پھر بھی وہ اس کا پیچھا کرتا رہا ۔۔۔۔بیس منٹ بعد وہ بائیک ایک اپاٹمنٹ کے اندر داخل ہوئی جہاں پہلے سے بہت ساری بلڈنگ آمنے سامنے بنی ہوئیں تھیں علاقہ بھی مناسب سا تھا ۔۔۔۔انہیں تین منزلہ عمارتوں میں سے ایک کے سامنے وہ بائیک کھڑی ہو گئ
“اب واپس گھر چلو “نیناں کی اگلی بات سن کر ڈرائیور نے حیرت سے پیچھے دیکھا ۔۔۔۔اتنی دور ایک بائیک کا پیچھا کرنے کے بعد وہ بنا کچھ کہے اب واپسی کے لئے کہہ رہی تھی ۔۔۔لیکن چاہ کر بھی وہ اپنی مالکن سے سوال کا حق نہیں رکھتا تھا ۔۔۔
“جی “گاڑی کو پیچھے ریورس کرتے ہوئے ڈرائیور نے موبانہ انداز سے کہا۔۔۔۔
کچھ دیر وہ چپ چاپ بیٹھی شاہزیب۔ کے رویے کے بارے میں سوچتی رہی ۔۔۔جس کلاس سے وہ تعلق رکھتی تھی وہاں لڑکا لڑکی کی دوستی اور بے تکلفی کو برا نہیں سمجھا جاتا تھا ۔۔۔۔پھر وہ تھی اچھی خاصی خوبصورت اور موڈرن۔۔۔ کسی لڑکے کا اسے یوں کھرا جواب دینا اسے برا سا لگا تھا ۔۔۔۔پھر اس لہجے میں پہلے کسی نے اس سے بات بھی نہیں کی تھی ۔۔۔۔اور شاہزیب نے اسکی بات سننے کی زحمت ہی نہیں کی کہ وہ کہنا کیا چاہتی تھی ۔۔۔۔۔لیکن اسکے باوجود اسے شاہزیب پر غصہ بلکل نہیں آیا تھا ۔۔۔۔اسے لگا کہ وہ ضرور اسے ملنے آئے گا ۔۔۔۔۔شام وہ پھر سے سی ویو پر اسکا انتظار کرتی رہی لیکن انتظار انتظار ہی رہاوہ نہیں آیا
******………
بائیک سے اتر کر سب سے پہلا سوال نمیرہ نے شاہزیب سے اس لڑکی کے متعلق ہی پوچھا تھا
“بھائی یہ کون تھی “
“مجھے نہیں معلوم کون تھی “شاہزیب کی وہی لاپرواہی ہنوز قائم تھی
“ویسے تھی بڑی پیاری ۔۔۔اگر کوئی چکر ہے تو مجھے بتا دیں میں کسی سے شیر نہیں کروں گی “
“شیٹ آپ نمی ۔۔۔۔میں نے پہلی بار اس لڑکی کو دیکھا ہے ۔۔۔۔اور مجھے ایسے کاموں میں دلچسپی بھی نہیں ہے ۔۔۔۔۔دیکھ لیا ہو گا کہیں مجھے ویلنگ کرتے ہوئے ۔۔۔۔اس لئے آ گئ ہو گئ یونہی ۔۔۔۔۔فوگیٹڈ یار ۔۔۔۔اور اب تم اوپر جا کر اعلان مت کرتی پھرنا سب کے سامنے ۔۔۔ورنہ یہ جو گفٹ لائی ہو نا اپنی دوست کے لئے پیکٹ سمیت توڑ کر پھنک دونگا ۔۔۔۔”شاہزیب کے تپے لہجے پر وہ گھبرا گئ
“اچھا نا ۔۔۔نہیں۔ کہتی کچھ بھی ” نمیرہ نے فوراسے گفٹ والا ہاتھ پیچھے کر لیا ۔۔۔۔۔
********…………
مین گیٹ کی مسلسل گھنٹی بج رہی تھی آج چھٹی کا دن تھا دوپہر کے بارہ بجے بھی رامس سو رہا تھا ۔۔۔۔
“رامس ۔۔۔۔۔اٹھ کر دیکھ بیٹا کون آیا ہے ۔۔۔۔”رامس کی والدہ کچن میں مصروف تھیں ۔۔۔لیکن رامس ٹس سے مس بھی نہیں۔ہوا ۔۔۔۔تو نا چارا انہیں ہی باہر آ کر دروازہ کھولنا پڑا ۔۔۔۔۔سامنے باسم کو دیکھ کر وہ مسکرانے لگیں
“سلام آنٹی “باسم نے جھک کر سلام کیا
“ارے جیتے رہو بیٹا ۔۔۔۔بڑے دن بعد چکر لگایا ہے امی کیسی ہیں تمہاری انہیں ساتھ لے آتے “باسم کے سر پر پیار دیتے ہوئے وہ پیچھے ہٹ گئیں باسم اندر داخل ہوا ۔۔۔۔
“جی اگلی بار ضرور لاؤں گا ۔۔۔۔رامس گھر پر نہیں۔ ہے ۔۔باسم نے ۔۔دائیں بائیں ۔ نظریں گھما کر دیکھا تو صحن بلکل خالی تھا
“ارے سو رہا ہے ابھی تک ۔۔۔۔ایک اتوار کا دن ملتا ہے اسے ۔۔۔اس لئے میں نہیں جگاتی ۔۔۔۔تم بیٹھوں بیٹا میں اٹھاتی ہوں اسے “
“آنٹی میں خود جگا دیتا ہوں ۔۔۔۔اپ یہ میٹھائی پکڑیں ۔۔۔۔رائمہ کی بات پکی ہو گی ہے ۔۔۔۔اسی مہنے کے آخر میں شادی ہے “باسم نے ہاتھ میں پکڑا میٹھائی کا ڈبہ انہیں تھمامتے ہوئے کہا
“ہیں ۔۔۔اچھا ۔۔۔۔چلو شکر ہے میرے رب کا ۔۔۔۔بہت پریشان تھی تمھاری امی رائمہ کے لئے ۔۔۔۔یہ تو بہت اچھی خبر سنائی ہے تم نے ۔۔۔میں آؤں گی تمہاری امی کو مبارک باد دینے ۔۔۔۔۔”
“جی ضرور آنٹی آپ آئیے گا “باسم یہ کہہ کر رامس کے کمرے میں چلا گیا سنگل بیڈ پر اوندھے منہ وہ آڑا ترچھا لیٹا ہوا تھا ۔۔۔۔باسم نے اسے کندھے سے پکڑ کر ہلایا
“کیا ہے امی سونے دیں نا ۔۔۔۔”وہ کسمسا کر کروٹ بدل گیا
“امی کے بچے اٹھ جاؤں اب یا پوری چھٹی سو ہی گزارو گئے ۔۔۔۔۔”باسم کی آواز پر وہ بے ساختہ سیدھا ہوا اپنی آنکھیں کھولیں ۔۔۔۔
“تم یہاں۔۔۔۔ میرے گھر ۔۔۔۔اس وقت ۔۔۔۔۔۔”رامس نے بے یقینی سے اسے دیکھنے لگا کافی عرصے کے بعد وہ رامس کے گھر آیا تھا ۔۔۔۔رامس فورا ہی اٹھ کر بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔
“ہاں خبر ہی کچھ ایسی تھی ۔۔۔۔”باسم وہیں اس کے پاس بیڈ پر بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔۔ رامس نے بامشکل اپنے ہاتھ سے اپنی جمائی روکی اسی اثنا میں رامس کی والدہ میٹھائی پلیٹ میں ڈالے کمرے میں لے آئیں ۔۔۔۔
“ارے رامس اٹھ گئے بیٹا ۔۔۔جاوں پہلے ہاتھ منہ دھو لو منہ ہاتھ دھو لو میں چائے بنا رہی ہوں ۔۔۔۔ناشتہ آج تم میٹھائی کا کر لو باسم لایا ہے “رامس کی والدہ نے سامنے رکھی چھوٹی سی تپائی پر مٹھائی کی پلیٹ رکھی اور چائے لینے چلی گئیں
“کیا بات ہے ۔۔۔صبح ہی صبح ۔۔۔میٹھائی” ۔۔۔رامس ایک رس گلہ اٹھا کر منہ میں ڈالنے لگا تو باسم نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا
“بھائی پہلے منہ تو تو دھو لو ایسے ہی کھاوں گئے “
“شیروں کے منہ دھلے ہوئے ہی ہوتے ہیں ۔۔۔۔اب یہ بتا تنخواہ بڑھ گئ ہے یا پرموشن ہو گیا ہے” ۔۔۔۔۔رامس نے باسم کا ہاتھ پیچھے کیا اور رس گلہ منہ میں ڈالنے لگا
“نہیں ۔۔۔۔رائمہ کا رشتہ طے ہو گیا ہے ۔۔۔۔”رامس کا منہ کھلے کا کھلا ہی رہ گیا اور رس گلہ بھی ہاتھ میں پکڑے کا پکڑا رہ گیا
“رائمہ ۔۔۔۔۔۔”سر ایک دم سے بہت زور سے چکرایا تھا ۔۔۔۔دل جیسے کسی نے میٹھی میں لیکر مسل دیا تھا ۔۔۔۔
“اچھا ۔۔۔۔۔۔”بڑی مشکل سے رامس کے منہ سے الفاظ ادا ہوئے تھے ۔۔۔۔اسی خبر کا ڈر لگا رہتا تھا اسے ۔۔۔۔۔۔رس گلہ اسے اسوقت زہرگلہ لگنے لگا تھا ۔۔۔۔رامس نے وہ پلیٹ میں واپس رکھ دیا ۔۔۔۔
“بہت مبارک ۔۔۔۔۔ہو ۔۔۔۔”چہرے پر آسودگی کی جگہ آزردگی چھا گئ تھی ۔۔۔۔۔
“کیا ہوا واپس کیوں رکھ دی میٹھائی ۔۔۔۔تمہاری پسند کی کے حلوائی کی دوکان سے لایا ہوں ۔۔۔۔یاد ہے کالج کے زمانے میں کیسے ملکر کھایا کرتے تھے ۔۔۔۔اور تم ہمیشہ میرے ہاتھ سے چھین کر کھا جاتے تھے کھا لو ورنہ آج میں چھین کے کھا لوں گا “باسم نے ہنستے ہوئے اسے یاد دلایا ۔۔۔۔۔
“تم کھا لو میرا منہ دھلا ہوا نہیں ہے ۔۔۔۔”رامس یہ کہہ اٹھ کر کر واش روم چلا گیا ۔۔۔مزید ضبط اب اس بس کی بات نہیں تھی
