One Wheeling by Umme Hani NovelR50409 One Wheeling Episode 33
Rate this Novel
One Wheeling Episode 33
One Wheeling by Umme Hani
گھر پہنچتے ہی عاتقہ بیگم شاہ زیب کو سینے سے لگائے روتی رہیں کبھی فرحت محبت سے اس کا ماتھا چومنے لگتیں ۔۔۔کبھی اسکے زخمی چہرے پر ہاتھ پھیرنے لگتیں ۔۔۔۔
“امی میں ٹھیک ہوں بلکل ۔۔۔کیوں رو رہیں ہیں “شاہزیب ماں کو تسلی دینے لگا ۔۔۔۔نمی۔ بھی اسکے ساتھ لگ کر رونے لگی شازمہ البتہ دور کھڑی ہی آنسوں بہاتی رہی ۔۔۔۔۔۔ نمیرہ کو تسلی دینے کے بعد سامنے شازی کو دیکھ کر خود اسکی طرف آیا تھا۔۔۔۔۔وہ بھی اسے آنکھوں میں آنسوں لئے دیکھ رہی تھی
“شازی آئی ایم سوری ۔۔۔بہت بدتمیزی کی تم سے ” شازمہ کے آنسوں میں تیزی آئی تھی شاہزیب کے ساتھ لگ کر رونے لگی
“میں کب رہ سکتی ہوں تم سے ناراض کب کا بھول چکی ہوں کہ تم نے کیا کہا تھا ۔۔۔۔۔ “
“لیکن میں نے تو غلط کیا تھا نا ۔۔۔۔۔”شاہزیب نے اس کاسر سہلایا تھا
“مجھے کوئی شکایت نہیں ہے ۔۔۔”شازمہ نے پیچھے ہٹ کر پیار سے بھائی کی طرف دیکھ کر کہا
خرم سیفی جمی باسم سب ہی وہیں موجود تھے ۔۔۔زمان صاحب کے۔ چہرے پر سکون سا تھا ۔۔۔۔شاہزیب اب عاصم سے گلے مل رہا تھا دو دن میں اسکا بھی۔ چہرااترا ہوا لگ رہا تھا ۔۔۔۔۔
“بھئ نمی شازی جلدی سے کھانا لگاؤں بھوک لگی ہو گی سب کو ۔۔۔۔۔”زمان صاحب کی بات پر دونوں آنسوں صاف کرتی ہوئیں کچن میں چلی گئیں ۔۔۔۔۔
“سر مجھے اب اجازت دیں ۔۔۔۔”باسم نے خود کو وہاں ان فٹ سا محسوس کیا
“کیوں بھئ باسم میاں ۔۔۔۔کھانا کھا کر جانا دوپہر سے میرے ساتھ ایک ٹانگ پر کھڑے ہو ۔۔۔۔۔۔” ،مان صاحب نے اسکے عجلت بھرے انداز کو دیکھ کر کہا
“نہیں سر بس گھر جاؤں گا تکلف کی کوئی بات نہیں ہے “
٫تکلف ہی تو کر رہے ہو “زمان صاحب مبہم سا مسکرائے
“بیٹھوں یار کیوں شرما رہےںو “شاہزیب نے بھی اسے یوں جھجکتے دیکھ کر کہا ۔۔۔۔سیفی جمی خرم تو بچپن سے آتے جاتے رہتے اس کے گھر اس لئے بڑے پر تکلف انداز میں ٹیبل پر بیٹھ چکے تھے ۔۔عاتقہ بیگم بھی کچن میں چلی گئیں ۔۔۔۔۔
شاہزیب اپنے کمرے میں چلا گیا ۔۔۔دو دن سے باسم کے ٹراوزر شرٹ میں ملبوس تھا ۔۔۔۔۔ اس لئے اپنے کپڑے نکال کر واش روم میں گھس گیا ۔۔۔۔جب فریش ہو کر باہر آیا تو کھانا لگ چکا تھا ۔۔۔۔۔ سیفی جمی تو شروع بھی ہو چکے تھے البتہ خرم شاہ زیب کے انتظار میں تھا شاہزیب اسکے برابر میں ہی بیٹھ گیا ۔۔۔۔بیس گھنٹے بعد دوبارہ کھانا نصیب ہوا تھا ۔۔۔۔۔ پہلے نوالے پر جیل کی دال یاد آنے لگی دوسرا خیال نیناں کی طرف چلا گیا ۔۔۔۔خود باخود نظر گھڑی پر جا کر ٹک گئ ۔۔۔۔۔ رات کے آٹھ بج رہے تھے ۔۔۔۔ اسکے نکاح کا وقت وارث نے یہی بتایا تھا
“نکاح تو نہیں کر سکتی ۔۔۔۔۔کیسے کر سکتی ہے” ۔۔۔دل نے پھر سے بے چینی سے دھڑکنا شروع کیا ۔۔۔۔۔ شدت سے لگی بھول پل میں غائب ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔
“کیا بات ہے شاہو کھانا کیوں نہیں کھا رہے ۔۔۔”خرم نے اسکے ہاتھ میں نوالہ پکڑے دیکھ کر پوچھا
“نہیں کچھ نہیں “زہر مار کر کے وہ روٹی کھانے لگا ۔۔۔۔۔زمان صاحب بھی اب پیٹ ھد کھا رہے تھے ورنہ دو دن سے۔ بھوک پیاس سب غائب تھا
“ویسے تم سب نے صحیح دوستی کا حق نبھایا ہے ۔۔۔ورنہ میں تو تم لوگوں کو آوارہ گرد ہی سمجھتا تھا ۔۔۔”زمان صاحب کی بات پر سیفی جمی کے نوالے رکے تھے ۔۔۔۔دونوں نے تعجب سے زمان صاحب کی بات سنی اور اگلے نوالے کے ساتھ منہ لیکر بامشکل ہضم کی ۔تھی ۔۔۔۔
” نہیں ابو یہ سب پڑھنے میں بھی بہت اچھے ہیں ۔۔۔۔۔ “شاہزیب نے دوستوں کی طرف داری کی ۔۔۔باسم بھی بول اٹھا
“ویسے واقع جس طرح سے ان لوگوں نے جرت کا مظاہرہ دیکھاتے ہوئے یہ اسٹپ اٹھایا ہے ۔۔۔۔۔ آئی جی مجبور تھاانکی بات ماننے کے لئے ۔۔۔۔۔ شاہزیب میں تو پہلے ہی تمہاری قابلیت کاقائل ہوں ۔۔۔۔۔لیکن آج جو تم نے ڈی آئی جی کے ساتھ کیا وہ واقع قابل رشک ہے ۔۔۔۔۔ اب میڈیاتو چھوڑے گی نہیں انہیں جب تک اس وارث خانزادہ کو سزا نا مل جائے “
نمیرہ باہر تازہ روٹی دینے آئی تھی جب باسم کی بات پر اسے دیکھنے لگی ۔۔۔۔ ابھی تو ٹھیک سے بات بھی انکے بیچ میں نہیں ہوئی تھی محبت کی ابتداء سے پہلے ہی اختتام ہو چکا تھا ۔۔۔۔نظریں باسم پر تھیں روٹی ہاتھ میں مگر چونکی تب جب اسکے ہاتھ سے روٹی کی پلیٹ خرم نے پکڑی برجستہ نظر خرم پر پڑی ۔۔۔۔۔
“تھنکس نمی ۔۔۔”وہ شاید اپنی ہی دھن میں تھا اس نے توجہ نہیں دی تھی کہ نمیرہ صاحبہ اس وقت کس غم میں مبتلہ تھیں نمیرہ نے ایک نظر دوبارہ سامنے بیٹھے باسم پر ڈالی جو اپنی تمام تر وجاہت کے ساتھ اس سے بہت دور جا۔ چکا تھا دوسری نظر خرم کی سانولی رنگت پر
“کالا کوا بھوکا ندیدا کہیں کا “خفگی غصے سے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کچن میں چلی گئ ۔۔۔چوں نکے وہ خرم کے سر پر کھڑی تھی اس لئے خرم اس کی گل فشانی سن چکا تھا ۔۔۔۔۔ اس نے ایک تیکھی نظر اس پر ڈالی
“پتہ نہیں کہاں کی قلو پترا ہے یہ لڑکی ۔۔۔اترانا ہی ختم نہیں ہوتا اس کا “خرم نے دل میں سوچا اور پھر سے کھانے میں مصروف ہو گیا ۔۔۔۔کھا۔ے کے دوران ہلکی پھلکی باتیں ہوتی رہیں جب سب نے کھانا کھا لیا
اور سب ہی اٹھنے لگے تھے جب زمان صاحب نے بلند آواز سے نمیرہ کو بلایا
“نمی بھئ وہ میٹھائی کا ڈبہ تو لاؤں ۔۔جو باسم میاں لائے تھے”کچن میں۔ روٹی سنکتے ہوئے نمیرہ کی جان ہی جل گئ تھی ۔۔۔۔
روٹی پلیٹ میں ڈالے کچن کی شلف پر رکھا میٹھائی ڈبہ بھی ساتھ اٹھائے سامنے ٹیبل پر رکھ دیا ۔۔۔۔
“ارے انکل میٹھائی کی کیا ضرورت تھی ۔۔۔۔”سیفی نے للچائی نظروں سے میٹھائی کے ڈبے کو دیکھ کر مروتا کہا
“عاتقہ بیگم اور شازمہ بھی اب کچن سے باہر آ چکی تھیں ۔۔۔۔۔کھاناسب مرد حضرات کھا چکے تھے اس لئے وہ بھی باہر آ گئیں زمان صاحب نے ڈبہ کھولا اور سب کے سامنے رکھ دیا
” یہ میری باسم میاں لائیں ہیں خیر سے بات پکی ہو گئ ہے اسکی “زمان صاحب نے محبت پاش نظروں سے باسم کو دیکھا
“مبارک ہو بھئ ۔۔۔۔ سیفی جمی نے سب رسما ہی باسم سے کہااور کرسی سے اٹھ کر ڈبے میں سے گلاب جامن اٹھایا اور پورے کا پورا منہ میں لیا تھا ۔۔۔۔
“بات پکی ہوئی ہے۔۔۔۔ کس سے باسم عبدالرحمان۔۔۔ وہی خط والی سے “شاہزیب نے حیرت اور بے تکلفی سے پوچھا باسم اپنے سر کے سامنے سبکی میں ڈوبا تھا تھا ۔۔۔۔خفت کے مارے چہرہ سرخ ہوا
“”خط والی “”زمان صاحب جو میٹھائی منہ میں ڈالنے ہی والے تھے رک کر پوچھنے لگے ۔۔۔۔
“کوئی نہیں سر ایسے ہی بول رہا ہے مزاق کی عادت ہے اسے “باسم نے ایک گھورتی نظر شاہزیب پر ڈالی ۔۔۔۔وہ سمجھ کر ہسنے لگا ۔۔۔۔پھر میٹھائی۔ سب نے ہی تھوڑی تھوڑی کھائی تھی مگر سیفی اور جمی تو شاید ٹکر کے مقابلے پر بیٹھے تھے ۔۔۔۔ایک کے بعد ایک گلاب جامن منہ ڈال رہے تھے ۔۔۔۔
شاہزیب نے ڈبہ اٹھا کر شازمہ کی طرف بڑھایا ۔۔۔۔
“یہ باقی کی تم لوگ کھا کو ورنہ یہ لوگ نہیں چھوڑنے والے “شازمہ نے ڈبہ پیر لیا
“بہت بہت مبارک ہو تمہیں بیٹا “عاتقہ بیگم نے بھی باسم کو مبارک باد دی
“ایسے نہیں آنٹی آپ کواور سر کو گھر آنا ہے امی سے مل کر مبارک باد دینی ہے ۔۔۔۔۔ “باسم نے ۔ہدب انداز سے کہا
“کیوں نہیں ضرور آؤں گی ۔۔۔۔بس ذرارزلٹ آجائے میرے شاہزیب کا چاند سی لڑکی ڈھونڈو گی اس کے لئے بھی ۔۔۔۔”عاتقہ بیگم نے محبت سے بیٹے کی طرف دیکھا بے اختیار ہی کہہ دیا تھا مگر شاہزیب کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوئی تھی آدھا گلاب جامن وہ کھا چکا تھا باقی کا دوبارہ پلیٹ میں رکھا اور اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا ۔۔۔۔۔ عاتقہ بیگم کو خفت نے ان گھیرا تھا ۔۔۔ابھی تو اتنی تکلیف سہ کر آیا تھا ۔۔۔پھر کیا ضرورت تھی یہ سب کہنے کی یک دم ہی دوبارہ سے خاموشی چھا گئ تھی
“اچھا اب مجھے اجازت دیں سر “باسم کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔۔
زمان صاحب بھی سنجیدہ سے ہو گئے تھے جانتے تھے کہ اسوقت وہ کس اذیت سے گزر رہا یو گا ۔۔۔۔
باسم سے ہاتھ ملایا ۔۔۔۔۔سیفی جمی باسم کے ساتھ ہی باہر نکل گئے ۔۔البتہ خرم وہیں بیٹھا تھا
“انکل شاہو کی کمر پر زخم بہت گہرے ہیں ۔۔۔۔۔ گھر کی مرھم پٹی کافی نہیں رہے گی ۔۔۔۔اگرآپ مناسب سمجھیں تو اسے ڈاکٹر کو دیکھا دوں ۔۔۔”خرم کو اپنی دوست کے زخموں کی فکر ستا رہی تھی
“ہاں ٹھیک کہہ رہے تم لے جاؤں اسے “زمان صاحب نے فکرمندی سے کہا
“جاؤں اندر جا کر کہو اس سے “
“جی “خرم اٹھ کر اسکے کمرے میں آ گیا ۔۔۔جہاں وہ بیڈ کے کروان سے شاید ٹیک لگانے سے زخم دکھنے پر کراہیا تھا
“افف “دونوں آنکھیں میچ کر خود کو ضبط کیا
“اٹھو شاہو اور چلو میرے ساتھ “خرم اسکے سر پر پہنچ کر بولا
“کہاں “۔شسہزیب نے نا فہمی سے اسے دیکھا
“ڈاکٹر کے “
“لیکن کیوں “
“جن زخموں پر بے اختیار چیخ رہے ہو وہ گھر پر ٹھیک ہونے والے نہیں ہیں “
“ہو جائیں یار ۔۔۔کون سازخم ہے جو بھرتا نہیں ہے ابھی تو پتہ نہیں کن کن زخموں نے اڈھیڑنا ہے شاہو کو ۔۔۔۔” شاہزیب نے زخمی سی مسکراہٹ سے کہا
“اٹھو شاہو “خرم سمجھ تو گیا ک
تھا اسکی ذومعنی بات کو لیکن نظر انداز کر گیا
“خرم ادھر بیٹھ نا یار ۔۔۔۔ تم میرے بس ایک زخم کا مدواکر دو۔۔۔۔قسم سے سب سے زیادہ ٹھیس وہیں سے اٹھ رہی ہے اسوقت “خرم کا ہاتھ پکڑے اسے اپنے برابر میں بیٹھا کر بولا تم نے پوچھا تک نہیں کہ کون سا زخم اس لئے کہ جانتا تھا کہ اسوقت اسے کون سی بی یعنی لاحق ہے
“خرم ایک بار جاؤں نیناں کے گھر آس پاس سے بس اتنا معلوم کر دو کہ کہیں نکاح تو نہیں کر بیٹھی ہےوہ ۔۔۔”خرم نے تاسف سے اسکے بےقرار چہرے کو دیکھا
“اگر ہو گیا تو کیا کروں گئے تم ۔۔۔۔۔ مار ڈالو گئے اسکے شوہر کو ۔۔۔۔”خرم کو شاہزیب پر ترس بھی آ رہا تھا اور غصہ بھی
“ہاں مار ڈالو گا ۔۔۔۔۔ جان سے مار ڈالو گا اسے ۔۔۔۔۔ جب وہ میری نہیں ہو سکتی تو کسی بھی ہونے نہیں دونگا “وہی جنون کی رمق دوبارہ اسکی انکھوں میں امڈی تھی
“اور تمہارا کیا ہو گا یہ سوچا ہے تم نے ۔۔۔۔ “خرم کا دل۔ اک ہی تو ہوا تھا اتنا سب ہونے کے بعد بھی اسے فکر تھی تو بس نیناں کی
“میں بھی نہیں بچوں گا پتہ ہے مجھے ۔۔۔۔ “شاہزیب نے بلا تامل بولا
“اور تمہارے گھر والے اور میں ۔۔۔۔سیفی لوگ ۔۔۔۔ ان سب کا کیا ہو گا شاہو اس لڑکی کے علاؤہ بھی بہت سے لوگ ہیں تمہاری ،زندگی میں ۔۔۔۔۔ میں تمہارا ساتھ ہر گز نہیں دونگا ۔۔۔۔۔بھول کیوں نہیں جاتے اسے ۔۔۔۔۔”اب کہ چار خرم غصے سے بولا تھا
“ٹھیک ہےتم ۔ نہیں جاؤں گئے تو میں جاؤں گا ۔۔۔۔”شاہزیب کھڑا ہوا تھا
“میں زمان انکل سے جا کر ابھی بول دونگا شاہو “خرم نے بلا تامل کہا
“اچھی دوستی نبھا رہے ہو مجھ سے ۔۔۔۔ “شاہزیب باپ سے وعدہ کر چکا تھا مجبور تھا کہہ چکا تھا کہ نہیں ملے گا نیناں سے مگر دل پر اختیار کب تھا اس کے پاس ۔۔۔۔۔ نیناں کا۔ کسی اور کا ہونے کی سوچ ہی ۔روح فرسا تھی ۔۔بیقراری ایسی تھی کہ اڑ کراس تک پہنچ جائے۔۔۔لیکن بنا کسی زنجیر کے پاؤں جیسے جھکڑے ہوئے محسوس ہو رہے تھے ۔۔۔۔ مگر دل ایک بند پنجرے کے قیدی پرندے کی طرح پھٹپھڑا رہا تھا ۔۔۔۔۔۔ جیسے اسکی آزادی اور جینے کا حق چھین لیا گیا ہو ۔۔۔۔
“دوستی ہی نبھا رہا ہوں ۔۔۔۔۔ وہ لڑکی کبھی تمہارے ساتھ اس تنگ ماحول میں رہتی بھی نہیں شاہو چند دن میں اپنی محبت پر افسوس کے آنسوں بہاتی نظر آتی تمہیں ۔۔۔۔۔پھر کیا کر لیتے تم ۔۔۔۔۔۔۔ “
“تم سمجھے ہی نہیں پھر اسے خرم ۔۔۔۔۔ میری نیناں ہے وہ ۔۔۔۔۔۔۔ اپنے زخموں پر تڑپتے دیکھا ہے میں نے اسے اسکی آنکھوں میں اپنے آنسوں بہتے دیکھے ہیں میں نے۔۔۔۔ تمہیں اندازہ ہی کہاں ہے کتنا ٹوٹ کے چاہتی ہے وہ مجھے ۔۔۔۔ بہت خوشی سے رہے گی یہاں دیکھ لینا تم ۔۔۔۔ ایک دن۔ اپنے منہ سے اعتراف کرو گئے تم ۔۔۔۔پھر پوچھوں گا تم سے ۔۔۔۔۔شاہزیب کی آنکھوں میں یقین کی شمعیں۔ آب وتاب سے روشن تھیں۔۔خرم شاہد اسکی تاب نہیں لا سکتا تھا اس لئے اسکے پاس سے کھڑا ہو گیا
“میں ڈاکٹر کو لینے جارہا ہوں ۔۔۔۔۔۔”جان چکا تھا کہ شاہزیب اسکے ساتھ جائے گا نہیں اگر گھر سے نکلا بھی تو سیدھا نیناں کے گھر ہی پہنچے گا اس لئے یہی مناسب سمجھا کہ ڈاکٹر کو گھر ہی لے آئے ۔۔۔۔۔خرم کمرے سے نکل گیا
*******…….
نیلوفر کے والد اگلے روز کی صبح ہی اپنی روتی دھوتی بہن کو دارلامان چھوڑ آئے تھے ۔۔۔۔اسکے بیٹے کو بھی فون کر کے مطلع کر دیا تھا ساتھ میں ہر بات سے بھی آگاہ کر دیا تھا ۔۔۔۔۔وہ ویسے بھی لاپرو تھا اس لئے کچھ خاص نہیں بولا بس فون بند کر دیا ۔۔۔۔۔
نیلو خوش تھی ۔۔۔۔بار بار اپنی انگلی پر پہنی انگوٹھی دیکھ کر مسکرا رہی تھی جہاں اسے باسم کے ہاتھ کا لمس اب بھی محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔۔۔
رائمہ نے نیچے سے آواز دی تووہ اپنے حسین تصور سے چونکی تھی ۔۔۔جلدی سے اپنی گیلری سے نیچے جھانکا ۔۔۔۔۔
“نیلو نیچے آؤں ذرا بہت ضروری کام ہے تم سے ۔۔۔۔۔”
رائمہ نے نیچے سے اسے اشارہ کیا نیلو نیچے اتر آئی رات کے آٹھ بج رہے تھے اس کے بابا نماز ادا کرنے مسجد میں گئے تھے باسم بھی گھر پر موجود نہیں تھا ۔۔۔۔۔ اب تو اسکی بائیک کے ہارن پر ہی اسکے دل کی دھڑکنیں بتا دیتی تھی وہ آ چکا ہے
پھر اب وہ اسکے ساتھ جس رشتے ۔میں جڑ چکی تھی شرم آنا تو نیچرل سی بات تھی اس لئے اس کا سامنا کرنا بھی نہیں چاہتی تھی ۔۔۔۔۔رائمہ نے اسکا ہاتھ پکڑااوراندر کمرے میں لے گئ جہاں رابعہ بیگم اور رباب بھی موجود تھیں سامنے بیڈ پر قیمتی جوڑے رکھے بیٹھیں تھیں ۔۔۔۔۔نیلو کو لگا شاید رائمہ اپنے جہیز کے کپڑے دیکھانے لائی ہے ۔۔۔۔۔۔
” اب جلدی سے بتاؤں ان ۔میں کون سا تمہیں سب سے ذیادہ پسند ہے “رائمہ نے پوچھا
“مجھے ۔۔۔مجھے کیوں “نیلو نے نافہمی سے پوچھا
“بیٹا تم نے ہی منگنی پر پہننا ہے ۔۔۔۔اگر ان میں سے پسند ہے تو بتاؤں وہی سلوا دونگی ورنہ چند دنوں تک چلنا میرے ساتھ بازار اپنی پسند کا لے لینا ۔۔۔۔
ابھی بات مکمل بھی نہیں ہوئی تھی کہ باسم کی بائیک کا ہارن نیلو کا دل دھڑکا گیا تھا ۔۔۔رباب فوراسے باہر کی طرف لپکی تھی
“اچھا میں چلتی ہوں ۔۔۔۔ بابا آنے والے ہوں گئے ۔۔۔۔”
نیلو جانے کے لئے پر تول رہی تھی ۔۔۔۔۔ جب باسم اندر داخل ہوا ۔۔۔۔ نیلو کے یوں شرمائے گھبرائے چہرے کو دیکھ کر مسکرانے لگا ۔۔۔پھر پورے بیڈ پر جا بجا کپڑے دیکھ کر رابعہ بیگم سے پوچھنے لگا
” امی رامس نے رخصتی کا شور مچا دیا ہے جو یہ سب بکھیرے لگائے بیٹھیں ہیں آپ “
“ارے نہیں بیٹا میں تو نیلو سے پوچھ رہی تھی کہ منگنی کے لئے اگر اس میں سے پسند ہے تو پہن لے ورنہ میرے ساتھ چلے بازار اپنی پسند سے خرید لے “رابعہ بیگم نےنیلو کو فرحت محبت سے دیکھا تھا باسم سے کچھ فاصلے پر کھڑی بہت جچ رہے تھے دونوں
“اپنی پسند سے کیوں امی ۔۔۔۔۔ میری پسند سے کیوں نہیں ۔۔۔۔بھئ منگتر میری ہے ۔۔۔منگنی میری ہے پسند بھی میری ہونی چاہیے ۔۔۔۔کیوں فری آپکی کیا رائے ہے “باسم کا یوں سب کے سامنے اس سے بات کرنا اسے خجل سا کر گیا تھا وہ مزید گردن جھکا کر جھنپ سی گئی تھی چہرہ شرم سے گلنار ہونے لگا تھا
” م۔۔میں اوپر جارہی ہوں ۔۔۔بابا آنے والے ہوں گئے “نیلو نے دامن بچا کر نکلنا چاہا مگر باسم نے قدم۔ بڑھا کر اسے رکنا چاہا
“چلی جائیے گا لیکن مجھے ایٹلیس بتا تو دیں اگر میں اپنی پسند سے آپکے لئے کچھ لے آؤں تو اعتراض تو نہیں ہو گا آپ کو ۔۔۔۔”باسم کے استفسار ہو وہ اثبات میں سر ہلا گئ
“مطلب اعتراض ہو گا” باسم سمجھ تو گیا تھا مگر اسے چھوڑتے ہوئے بولا نیلو نے جھٹ سے اسے کی طرف دیکھا ۔۔۔جہاں چہرے کے ساتھ اس شخص کی آنکھیں بھی مسکرا رہی۔ تھیں آنکھوں میں شوخی تھی شرارت تھی
“۔۔۔۔ٹھیک ہے پھر امی آپ فری کی پسند سے ہی لے آئیے گا اب اگر اسے میری پسند پر اعتراض ہے تو لازمی تو نہیں کہ میں ،زبردستی اپنی پسند مسلط کروں ” باسم نے جان بوجھ کر ایسا کہا تھا جانتا تھا کہ وہ کیا چاہتی ہے ۔۔۔لیکن اسکے منہ سے سننا چاہتا تھا
“نہیں میرا یہ مطلب نہیں تھا ۔۔۔۔مطلب آپ جو لائیں گئے مجھے کوئی اعتراض نہیں ہو گا میں خوشی خوشی پہن لوں گی “
“تو پھر کہنا چاہیے تھا ۔۔۔ یوں سر ہلاتی رہیں گئ تو بہت مشکل ہو جائے گی میرے لئے ۔۔۔۔خاموشی کی زبان سمجھنے سے بلکل قاصر ہوں میں ۔۔۔۔اس لئے تھوڑی زحمت لفظوں کو دے دیا کیجیے ” باسم کے لہجے کی شرارت سمجھ کر نیلو وہاں سے تیز قدم اٹھاتے ہوئے باہر چلی گئ ۔۔۔۔۔ رائمہ رابعہ بیگم اور ربات بسسپ۔ی ہنسی ہی دبائے کھڑی تھیں
“افف کیا ہو گا آپکی بہو کا ۔امی ۔۔۔۔ مجھے تو گونگوں کی زبان سمجھنی پڑے گی ۔۔۔ ‘اب وہ رابعہ بیگم نے پاس آ کر بیٹھ گیا
“کوئی نہیں ۔۔۔۔بہت باتونی ہے میری سہیلی بعد میں تم ہی اسکے سامنے ہاتھ جوڑتے۔ نظر آؤں گئے کہ اللہ کی بندی کتنا بولتی ہو تم ۔۔۔کبھی تو مجھے بھی کچھ کہنے دیا کرو “رائمہ بھی مسکراتی ہوئی بھائی کو چھیڑنے لگی ۔۔۔
“”اچھا تم دونوں بیٹھوں میں ذرا کچن دیکھ لو “رابعہ بیگم اٹھ کر چلی گئیں
“رائمہ پلیز اسٹرونگ سی چائے بنادو ۔۔۔۔۔سر میں درد ہو رہا ہے “
“ہاں بنا دیتی ہوں لیکن یہ تم آج کچھ زیادہ دیر سے نہیں آنے لگے ۔۔۔۔وقت دیکھا ہے تم نے۔۔۔۔ پہلے کھانا گرم کر دیتی ہوں “
” نہیں وہ میں کھا کر آیا ہوں بس چائے بنا دو ۔۔آج تو مت پوچھو کہ کیا کیا دیکھ کر آ رہا ہوں امیزنگ “باسم متعجب سا بولا آنکھوں کے سامنے سارام منظر گھوم گیا تھا
“کیوں ایسا کیا دیکھ لیا “
چائے بنا کر لاؤں پھر بتاتا ہوں “رائمہ اٹھ کر چائے بنا کر اسکے برابر میں بیٹھ گئ
چائے پیتے ہوئے باسم نے شاہزیب کے بارے میں مختصر سا رائمہ کو بتایا وہ حیرت سے بھائی شکل دیکھ رہی تھی
“باسم یہ لڑکا واقع کچھ الگ سا ہے۔۔۔۔۔ جانتے ہو اس دن بھی ۔۔۔اس لڑکی کو زبردستی اپنے ساتھ ناصرف لے آیا تھا بلکہ نکاح کا انتظام بھی کیے ہوئے تھاوہ بھی ایک اجنبی گھر میں ۔۔۔ ہمہیں اپنا آپ یہاں اجنبی لگ رہا تھا اور وہ یوں بے تکلف اور بے خوف سا پورے گھر میں اپنے دوستوں کے ایسے بات کر رہا جیسے کوئی بڑی بات ہی نا ہو ۔پولیساسکتی تھی اس لڑکی کا باپ پہنچ سکتا تھا کچھ بھی ہو سکتا تھا ۔۔۔ وری اسٹرینج ۔۔۔۔۔اور اب جو بات تم بتا رہے ہو ۔۔۔۔کسی عام سے انسان کی بس کی نہیں۔ ہے افف مجھے سوچ کر وحشت ہو رہی ہے “رائمہ خود بھی متحیر تھی پھر اسکی محبت کی دل سے قائل بھی ہونے لگے ایک لڑکی کی محبت میں کس حد تک پہنچ چکا تھا وہ
“سچ میں وہ الگ ہی اپنے نام کا ایک ہی انٹیک پیس ۔۔۔رائمہ اگر یہ لڑکا کسی بھی سوشل فیڈ کو جوائن کرے تو انقلاب بھرپا کر سکتا ہے قسم سے جسطرح سے ڈی آئی جی کے ہوش اس نے دو منٹ میں اڑائے تھے میں دیکھ کر حیران تھا” ۔۔۔۔۔۔باسم شاہزیب کے بارے میں جتنا جانتا جارہا تھا مزید حیرت میں پڑتا جا رہا تھا ۔۔۔۔۔
*******…….
نیناں کو گود میں لئے بختیار صاحب اندھا دھن پورچ کی طرف بھاگے تھے ۔۔۔۔حیدر بھی اڑی ہوئی رنگت کے ساتھ بھاگنے انداز سے گاڑی میں بیٹھا ایک افراتفری کا عالم تھا ۔۔۔۔۔ ایک ایک لمحہ قیمتی تھا ۔۔۔۔کب نیناں نے اتنا بڑا یہ قدم اٹھایا کسی کو کان وکان خبر نہیں ہوئی تھی ۔۔۔۔۔ ہاسپٹل میں اسٹیچر پر لٹائے بختیار صاحب چیخ چیخ کر ڈاکٹر کو بلا رہے تھے پورا عملہ چند لمحوں میں چیخ و پکار سن کر وہیں پہنچ چکا تھا ۔۔۔۔ رانا بختیار ویل مینرز ڈیسنٹ طعبیت۔۔۔نرم لہجہ اور خوش گفتاری سے اپنے حلقے میں جاننے جاتے تھے مگر اسوقت پورے ہاسپٹل میں انکی آوازیں گونج رہیں۔ تھیں ۔۔۔۔ بلیک پینٹ کوٹ میں ملبوس وہ دیوانوں کی طرح اسٹیچر پر لیٹی نیناں کے رخسار کو تھپتھپارہے تھے بلک بلک کر رو رہے تھے ۔۔۔
“نیناں ۔۔۔میری جان آنکھیں کھولو ۔۔۔۔آنکھیں کھولو ۔”
“بختیار صاحب پلیز آپ پیشن سے کام لیں “ایک نوجوان ڈاکٹر اپنی ٹیم کے ساتھ وہاں پہنچ چکا تھا ۔۔۔۔
“اسٹاف انہیں ایمرجنسی میں لے کر جائیے جلدی ۔۔۔۔شی از ٹیک آ پوئزن ۔۔۔فورااسٹمک واش کریں انکا ۔۔۔۔۔ کہیں زہر پوری باڈی میں نا پھیل جائے ۔۔۔۔”ڈاکٹر نے نیناں کی نیلی پڑتی رنگت دیکھتے ہی فوراسے اسٹاف سے کہا
“ڈاکٹر میری بیٹی کو کچھ نہیں ہونا چاہیے ۔۔۔سمجھ رہے ہو نا ۔۔۔۔میری بیٹی کو کچھ ۔۔۔۔بھی نہیں ہونا چاہیے ۔۔۔۔مہنگے سے مہنگی ٹریٹمنٹ کرو ۔۔۔۔۔پیسوں کی فکر مت کرنا ۔۔۔۔۔ “بختیار صاحب کی بی نہ اضطراری قابل دید تھی
“یہ ہمارا فرض ہے بختیار صاحب ۔۔۔۔۔ ہم اپنی کوشش پوری کریں گئے لیکن زندگی موت اللہ کے ہاتھ میں ہے ۔۔۔۔پیسوں کے ہاتھ میں نہیں “ڈاکٹر کافی سمجھدار تھا ۔۔۔اس لئے انکا کندھا تھپتھپا کر
خود بھی اسٹیچر کے ساتھ آئ سی یو میں چلا گیا ۔۔۔۔۔
حیدر بختیار صاحب کو تھامے سامنے کوریڈور میں لائن سے لگیں کرسیوں پر لے گیا اور لے جا کر بیٹھا دیا ۔۔۔۔۔خود بھی انکے برابر میں بیٹھ گیا ۔۔۔۔بختیار صاحب کے آنسوں نہیں تھم رہے تھے ۔۔۔۔ نیناں نے اتنا بڑا قدم اٹھا کیسے لیا ۔۔۔۔ ذرا سا بھی شک نہیں ہونے دیا تھا ۔۔۔۔۔
“انکل کچھ نہیں ہو گا نین کو آپ فکر مت کریں “حیدر نے انکا ہاتھ تھام کر تسلی دی
٫حیدر ۔۔۔۔ میری زندگی میں نیناں کے علاؤہ اور کچھ نہیں ہے ۔۔۔۔ اس نے ایک پل کے لئے میرے بارے میں کیوں نہیں سوچا ۔۔۔کیوں نہیں سوچا اس نے ۔۔۔۔۔ آخر آج تک کس چیز کی کمی کا احساس ہونے دیا ہے ۔میں نے اسے ۔۔۔۔”بختیار صاحب کے آنسوں تواتر سے بہہ رہے تھے
“آپ روئے مت ٹھیک ہو جائے گی “حیدر نے گہری سانس لیتے ہوئے تسلی دی اندر سے خود بھی پریشان تھا
” میں نے اس شہر کے ایک اور بڑے ڈاکٹر کو بھی یہیں کنسلٹ کیا ہے ابھی پہنچتا ہو گا ۔۔۔ حیدر ۔۔۔حیدر وہ ٹھیک تو جائے گی نا “بختیار صاحب کی بنا پانی مچھلی کی طرح مچل رہے تھے بس نہیں چل تھا کہ کچھ بھی وہ ڈاکٹر گی ان پہنچا تھا۔ ختیار صاحب سے ہاتھ ملا کر اپنا تعارف کرایا اور وہ بھی سیدھا آئی سی یوں کی طرف بڑھ گیا۔ ختیار صاحب پر امید ہوئے کے جیسے وہ ڈاکٹر نیناں کو ٹھیک ٹھاٹ کر ہی دے گا ۔۔۔۔۔۔دو گھنٹے کسی آزمائش کی طرح گزرے تھے سامنے ڈاکٹر کو آئی سی یو سے چہرہ لٹکائے ہوئے نکلتے دیکھ کر بختیار صاحب کا دل تھما تھا ۔۔۔۔۔
*****……
خرم محلے کے کسی ڈاکٹر کو اپنے ساتھ لیکر شاہزیب کے گھر پہنچا تھا اسکے زخموں پر نمک کی وجہ سے انفیکشن ہونے لگا تھا انجکشن اور دوائیں دینے کے بعد ڈاکٹر وہاں سے خرم کے ہی ساتھ ہی باہر نکلا تھا جب سامنے سے شازل زمرد بیگم اور جاوید صاحب تیزی سے قدم۔ بڑھاتے ہوئے ادھر ہی آرہے تھے شازل نے خرم کو دیکھ کر رسما سلام کیا
اور پھر اندر داخل ہوئے زمان صاحب اور باقی سب بھی شاہزیب کے کمرے میں موجود تھے ۔۔۔عاتقہ بیگم زبردستی شاہزیب کو دوا کے ساتھ دودھ پلانے پر با ضد تھیں ۔۔۔۔
“امی ابھی تو کھانا کھایا ہے ۔۔۔۔دودھ نہیں پیو گا ۔۔۔۔”شاہزیب نے گلاس پیچھے ہٹاتے ہوئے کہا
“میں کچھ نہیں سنو گی شاہزیب چلو دودھ کے ساتھ دوا لو حالت دیکھی ہے تم نے اپنی ۔۔۔۔”۔ عاتقہ بیگم کا دل بھر آیا تھا شاہزیب نے ماں کی بھرائی آواز سنی تو فورا سے گلاس پکڑ لیا اس سے پہلے کہ وہ پھر سے رونے لگتیں اسے یہی حل نظر آیا کہ زبردستی دودھ ہی اپنے اندر اتار لے دوا منہ ڈال کر ایک ہی چیت میں دودھ حلق سے اتارا اور خالی گلاس ماں کو تھما دیا ۔۔۔۔۔ ساتھ ہی کمرے کادروازہ کھلا سب سے پہلے زمرد بیگم اندر داخل ہوئیں
“ہائے ہائے میرا بچہ ۔۔۔۔۔”زمرد بیگم سب۔ کو نظر انداز کر کے سیدھا شاہزیب کے پاس پہنچی تھیں شاہزیب کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لئے پہلے ماتھا چوما پھر باری باری دنوں گال چومے ۔۔۔۔شاہزیب کو تو کچھ سوجنے سمجھنے کا موقع ہی نہیں ملا۔۔۔۔۔
“تائی امی منہ تو چھوڑ دیں میرا ۔۔۔۔۔ “وہ تلملا سا گیا ۔۔۔۔ مگر دبے لہجے میں ناگواری سے بولا ۔۔۔۔۔
“ارے نیک بخت بچہ بڑی تکلیف میں ہے اس وقت تم کیا اس کے سر پر سوار ہو گئ ہو پیچھے ہٹو ” جاوید صاحب نے آگے بڑھ کر شاہزیب کی جان بخشی کروائی شاہزیب اپنے ہاتھ سے اپنے دونوں گال ناگوری سے صاف کرنے لگا
،متد بیگم پھر پلٹ کر عاتقہ کے سامنے تن کر کھڑی ہو گئ ۔۔۔۔
“ہائے اتنا کچھ ہو گیا میرے بچے کے ساتھ تمہیں ذرا توفیق نہیں ہوئی کہ بتا ہی دیتیں ۔۔۔۔ہم کوئی غیر تھے کیا ۔۔۔”زمرد بیگم نے چہرے پر مظلومیت سجائی ڈوپٹے کے پلو کا آخری کنارا پکڑ کر آنکھوں کو زور سے رگڑ کر آنکھوں کے کناروں کو سرخ کیا ۔۔۔۔۔ جلدی جلدی آنکھیں۔ جھپکیں تا کہ ایسا معلوم ہو کہ تکلیف سے رو رہیں ہیں
“ہمہیں ہوش ہی کہاں تھا بھابی ۔۔۔۔۔ میراتو رو رو کے براحال تھا ۔۔۔۔۔۔۔ بچیاں مجھے سنبھالنے میں لگیں رہیں کسی کو کچھ سجھائی دیتا توبتاتیں “عاتقہ بیگم کی آنکھیں پھر سے چھلکیں تھیں ۔۔۔۔
“چچا آپ تو کم از کم مجھ سے کہتے ۔۔۔میرے باس کے بہت اثر رسوخ ہیں دو منٹ لگتے مجھے شاہزیب کو رہا کروانے میں ” شازل نے کیے کرایے کام پر اپنی بات رکھنی چاہی ۔۔۔۔۔
“ہاں ہاں زمان تمہیں بتانا چاہیے تھا ۔۔۔میں ۔ بھی
تمہارے ساتھ پولیس اسٹیشن پہنچ جاتا “جاوید صاحب نے بھائی کا کندھا تسلی سے تھپتھپاتے ہوئے کہا
“میں بھی پہنچ جاتی اپنے شاہزیب کی خاطر پولیس اسٹیشن ۔۔۔۔مت پوچھوں ٹی وی پر زمان کو اکیلا دیکھ کر کتنا قلق ہوا مجھے کہ اکیلا بیچارہ مارا مارا پھر رہا تھا ۔۔۔۔۔ میڈیا کے سوالات کے بھی جواب نہیں دے پارہا تھا ۔۔۔۔اگر میں ہوتی تو ایسے ٹیکا ٹیکا کے جواب دیتی یاد رکھتے سب کہ زمرد بیگم کے بھتیجے کو نا جائز جیل میں رکھنے کا انجام کیا ہوتا ہے ۔۔۔”پوری خبریں شاید بڑی دلچسپی سے سنی گئ تھیں۔ زمرد بیگم نے ۔۔۔۔اور لوگوں کی داد شاہوں کے نعروں بھی ۔۔۔۔۔ شاید قلق اسی بات کا تھا ٹی وی پر آنے کا موقع ہاتھ سے نکل گیا ۔۔۔۔۔
“چلیں اب سب ٹھیک ہو گیا ہے ۔۔۔ ختم کریں اس قصے کو “زمان صاحب نے موضوع بدلا
شاہز،یب نے بھی اکتائے ہوئے زمان صاحب کی جانب دیکھ کر کہا
“ابو میں سونا چاہتا ہوں “جیل میں ایک نیند ہی میسر نہیں ہوئی تھی اسے اور اسوقت واقعے نیند سے آنکھیں بند ہو رہیں تھیں ۔۔۔۔۔
“ہاں ہاں چلیں ہم سب باہر جا کر بیٹھتے ہیں اسے آرام کرنے دیں ” زمان صاحب سب کو باہر لے گئے بس عاصم وہیں رکا رہا
“شاہزیب نے آبرو آچکا کر عاصم سے یہ پوچھنا چاہا کہ تم کیوں نہیں گئے وہ خرما۔خرما قدم اٹھاتے ہوئے اس کے پاس آ کر بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔سائیڈ ٹیبل پر رکھی زخموں پر لگانے والی مرھم اٹھائی ۔۔۔۔
“لائیں شاہو بھائی آپکی کمر پر لگا دوں ۔۔۔۔۔ “عاصم نے نرمی سے کہا
“میں خود لگا لوں گا “
“آپ نہیں لگا سکتے ۔۔۔۔” یہ کہہ کر عاصم نے اسکی کمر سے شرٹ اوپر کر کے بڑی نرمی سے مرھم اسکے زخموں پر لگائی تھی ۔۔۔۔۔
پھر شرٹ نیچے کی تو شاہزیب نے پلٹ کر دیکھاتو عاصم خاموشی سے آنسوں بہا رہا تھا
“اب تم کیا عورتوں کی طرح رو رہے ہو ۔۔۔۔چپ کرو شاباش ۔۔۔۔”شاہزیب نے اس کے آنسوں صاف کیے بے اختیار ہی وہ اس کے سینے کے ساتھ لگ کر رونے لگا ۔۔۔۔شاہزیب نے بھی اسے ساتھ لگا لیا
“شاہو بھائی ۔۔۔۔۔ میں بہت ڈر گیا تھا ۔۔۔۔۔۔ مجھے لگا پولیس اب آپ کو چھوڑے گی نہیں “
“کیوں نہیں چھوڑتی مجھے میں کوئی مجرم تو نہیں تھا عاصم ۔۔۔۔۔ پھر تمہاری طرح کمزور اور ڈپو نہیں ہوں چپ کرو اب ۔۔۔۔۔ مرد بنتے ہیں یار یوں رونے والوں کو دنیا بہت رلاتی ہے ۔۔۔۔۔”شاہزیب نے اسکی کمر تھپتھپائی۔۔۔۔۔۔
وہ پیچھے ہٹ کر اپنے آنسوں پونچتے ہوئے کھڑا ہو گیا ۔۔۔
آپ آرام کریں شاہوں بھائی ۔۔۔۔”عاصم یہ کہہ کر باہر چلا گیا ۔۔۔۔سیدھا لیٹنا تو ممکن نہیں تھا اسکے لئے پیٹ کے بل لیٹ گیا ۔۔۔۔آنکھیں ۔ بند کیں تو نیناں کا روتا ہوا چہرا آنکھوں کے سامنے نظر آنے لگا پھر سے آنکھیں کھولیں
“حکم کریں ابو “
“چھوڑ دو اس لڑکی کو “
“چھوڑ دیا “۔۔۔سماعت پر اپنے ہی جمعلے عذاب بن کر ٹکرائے تھے ۔۔۔۔۔
“میری مینا ۔۔۔۔ تو یہ تھا انجام ہماری محبت کا ۔۔۔۔۔ تم بھی اپنے اسٹیس کی وجہ سے مجبور ہو کر حیدر کے ساتھ زندگی گزاروں گی اور میں بھی وعدے کا پابند رہو گا ۔۔۔لیکن تمہاری قسم شاہو۔ کی زندگی میں اب کیوں دوسری لڑکی کبھی نہیں آئے گی “بند آنکھوں سے ایک عہد کیا گیا تھا پھر نیند نے اسے اپنی آغوش میں لے لیا
*******…….
ڈاکٹر کو دیکھ کر بختیار صاحب اور حیدر تیزی سے اسکی طرف بڑھے تھے ۔۔۔۔
“نینان کیسی ہے ۔۔۔۔”بختیار صاحب نے بے اختیاری سے پوچھا
“بختیار صاحب ۔۔۔۔۔۔ زہر نیناں کی باڈی میں پھیل چکا ہے ۔۔۔۔پھر شاید وہ کافی گھنٹوں سے بھوکی پیاسی تھی اسکا اسٹمک بری طرح سے متاثر ہوا ہے ۔معدہ تو واش کر دیا ہے زہر پوری باڈی سے نکالنا ایک مکمل امر ہے انکی کمشین اسٹیبل نہیں ہو پا رہی ۔۔۔ابھی ہم کچھ بھی نہیں کہہ سکتے لیکن اپنی کوشش کر رہے ہیں ۔۔۔”بختیار صاحب جو کچھ اچھی خبر سننے کے لئے بے تاب تھے ڈاکٹر کا گریبان پکڑ کر چلانے لگے
“کوشش مائے فٹ ڈاکٹر ۔۔۔۔۔ کہاں ہیں یہاں کا سینر اسٹاف ۔۔۔۔ ہیڈ کون ہے یہاں کا اونر کہاں ادھر بلاؤں اسے ابھی کے ابھی ۔۔۔۔۔میری بیٹی کو اگر کچھ ہو گیا نا ڈاکٹر آگ لگا دوں گا ہاسپٹل کو رانا بختیار کی جان بستی ہے نیناں میں “وہ غم اور غصے سے اپنا آپا کھو رہے تھے
“چھوڑیں میرا گریبان بختیار صاحب ۔۔۔میں ڈاکٹر ہوں خدا نہیں ہوں ۔۔۔۔۔ جان بچانے کی کوشش کر سکتا ہوں زندگی نہیں۔ دے سکتا ۔۔۔۔۔ ایک تو سو سائیڈ کیس تھا آپکی بیٹی کا ۔۔۔۔ سیدھا سیدھا پولیس کیس بنتا تھا بنا پولیس کے ہم ایسے کیس کو ہاتھ بھی نہیں لگاتے ۔۔۔۔کسی ہاسپٹل میں یہ الاؤ نہیں لیکن میں نے دوسرا کوئی سوال نہیں کیا آپ سے ۔۔۔۔۔
ایسے کیس کی وجہ ماں باپ کی بے جا ضد ہوتی ہے جو بچوں کو اس حد تک لے جانے پر مجبور کر دیتی ہے ۔۔۔۔۔ اتنا ہی بیٹی سے پیار تھا تو مان لینی۔ چاہیے تھی اسکی بات ۔۔۔۔۔جائیے بختیار صاحب دعا کیجیے بیٹی کے لئے ۔۔۔۔ اور ہمہیں ہمارا کام کرنے دیں “ڈاکٹر تیس بتیس سالہ نوجوان تھا ۔۔۔۔۔ اپنا گریبان چھڑاتے ہوئے انہیں حقیقت سے روشناس کروا گیا تھا ۔۔۔
“حیدر چپ ہی کھڑا رہا ۔۔۔۔۔ کافی دیر بختیار صاحب کچھ نہیں بول پائے مرے مرے قدم اٹھائے دوبارہ کرسی پر ڈھے گئے
اندر آئی سی یو میں وہ زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہی تھی ۔۔۔۔۔ حواش وہواس سے بے خبر لمبے لمبے سانس بھر رہی تھی ایک پل کو نیناں کے ہاتھوں میں ہلچل ہوئی ۔۔۔۔۔ ہونٹ کپکپائے ۔۔۔۔ چہرے پر تکلیف اور اذیت رقم ہوئی تھی
شاہ۔۔۔۔۔زیب ۔۔۔۔۔۔ش۔۔۔ا۔۔زی۔۔۔ب “با مشکل دوبار ہی یہ نام اسکے منہ سے ادا ہوا تھا ڈاکٹر اسکے پاس پہنچ گیا ۔۔۔۔۔
“آر یو آلرائٹ مس نیناں ٹل می ۔۔۔۔۔۔۔۔”ڈاکٹر نیناں کو پکارنے لگا وہ پل بھر کے لئے ہی ہوش میں آئی تھی مگر اگلے لمحے سانس اکھڑنے لگا تھا ۔۔۔بی پی لو ہونے لگا تھا
“نرس انجکشن بھریں پلیز فورا ۔۔۔۔۔”ڈاکٹر نے اشکی نبض چیک کرنی شروع کی جو اب ڈوب رہی تھی شام ے لگی مشین اسکی ڈوبتی ہوئی دھڑکنوں کو دیکھا رہی تھی
نرس نے انجکشن بھرا تھا تھا ۔۔۔۔۔ڈاکٹر نے جلدی سے انجکشن اسکی ہاتھ کی نس میں دھیرے دھیرے ڈالنا ،شروع کیا لیکن ہارٹ بیٹ مسلسل کم ہو رہی تھی سانس بھی اب اکھڑنے لگا تھا ۔۔۔
“او مائی گاڈ “ڈاکٹر حدزے ذیادہ پریشان ہوا تھا
*****
“نیناں “ہڑبڑا کر شاہزیب اٹھ بیٹھا تھا ۔۔۔۔ دل یوں دھڑک رہا تھا کہ پسلیاں توڑ باہر نکل آئے گا پورا جسم پسینے سے شرابور تھا ۔۔۔۔۔سانس بری طرح سے پھول رہا تھا ۔۔۔۔خواب میں نیناں کو بے چین اور روتے ہوئے دیکھا تھا پھر لگا کہ وہ کسی گہری کھائی میں جا گری ہو ہاتھ بڑھا کر بھی وہ اسے بچا نا سکا تھا
