One Wheeling by Umme Hani NovelR50409

One Wheeling by Umme Hani NovelR50409 One Wheeling Episode 8

491.3K
42

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

One Wheeling Episode 8

One Wheeling by Umme Hani

گھر آکر بھی رائمہ رامس کی بات کے بارے ۔میں سوچنے لگی ۔۔۔۔آخر اس نے ایسا کیوں کہا کہ وہ خوش نہیں ہے۔۔۔لیکن پھر خود کو جھٹکا ۔۔۔۔باسم بھی گھر پر تھا ۔۔۔پھر اسکی طعبیت بھی نا ساز تھی ۔۔۔اس لئے ہاتھ منہ دھو کر کچن کا رخ کیا کہ پہلے چائے بنائے سب کے لئے پھر رات کے کھانے کی تیاری کرے لیکن جب کچن میں داخل ہوئی باسم خالی کپوں میں چائے ڈال رہا تھا

“باسم تم یہ کیا کررہے ہو ۔۔۔پہلے ہی تمہاری طعبیت ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔۔چھوڑو یہ سب “رائمہ نے اسے پیچھے کرنا چاہا

“تم لوگ بھی تو بازار سے تھک کر آئے ہو ۔۔۔ میں اب بلکل ٹھیک ہوں میڈسن کھا کر سویا تھا ۔۔۔۔اب بلکل فرش ہوں۔۔۔۔۔ لو چائےپیو ۔۔۔۔۔۔”باسم نے ایک کپ رائمہ کی طرف بڑھایا ۔۔۔۔رائمہ کپ پکڑ کر کچن سے باہر صحن میں آ گئ ۔۔۔۔باسم نے ایک بڑی پلیٹ میں تین کپ چائے کے رکھے اور باہر صحن میں بیٹھی رابعہ بیگم اور رباب کے سامنے چائے رکھ کر۔ اور بھی بیٹھ گیا ۔۔۔

“باسم تمہیں کیا ضرورت تھی یہ سب کرنے کی ۔۔۔۔رائمہ بنا لیتی ۔۔۔پہلے تھکن کے مارے بخار چڑھائے بیٹھے ہو “رابعہ بیگم نے فکر مندی سے کہا

“اب ٹھیک ہوں امی ۔۔۔۔رائمہ تو اب ویسے بھی مہمان ہے ۔۔۔۔اور روبی ابھی چھوٹی ہے ۔۔۔اس لئے اب مجھے ان کاموں کی بھی عادت ڈال لینی چاہیے ۔۔۔ ۔”باسم نے رائمہ کی طرف مسکرا کر دیکھ کر بولا ۔۔۔۔ابھی وہ چائے پی ہی رہے تھے کہ سیڑیوں میں لگے لوہے کے جنگلے پر لگا چھوٹا سا دروازہ بجنے لگا روباب اٹھ کر گئ اور دروازہ کھول دیا نیلو فر پلیٹ میں پکوڑے لیے اندر داخل ہوئی تھی لیکن صحن کے تخت پر سب کے ساتھ باسم کس دیکھ کر وہیں ٹھٹک کر رک گئ باسم کی نظر بھی اسی پر تھی ۔۔۔۔

“کیا ہوا نیلو آپی ۔۔۔آپ یہاں کیوں رک گئیں ۔۔ا۔ندر آئیں ۔۔۔”رباب نے نیلوفر کو وہیں کھڑے دیکھ کر کہا

“ارے نیلوفر بیٹا آ جاؤں یہاں کیوں کھڑی ہو ۔۔۔”رابعہ بیگم نے اسے دیکھ کر کہا وہ وہیں کھڑی رہی ۔۔۔ کچھ دیر پہلے ہی باسم کے سامنے رو چکی تھی اس لئے یوں سامنے آنے پر سبکی سی محسوس ہو رہی تھی

“ن۔۔نہیں آنٹی ۔۔۔وہ میں بعد میں آ جاؤں گی ۔۔۔یہ پلیٹ پکڑو روباب ۔۔۔تمہیں پکوڑے پسند ہیں نا اس لئے میں نے بنائے تھے تو تمہارے لئے لے آئی ۔۔۔”نیلو فر نروس ہو رہی تھی پھر باسم کی مسکراہٹ اور ٹکٹکی باندھے اسی کو دیکھنا اسے مزید پریشان کر رہا تھا ۔۔۔کہیں سب کے سامنے اس کے رونے کا ہی نا بتا دے مگر وہ بس مسکراتے ہوئے اسے دیکھتے ہوئے چائے پی رہا تھا

“نیلو آپی ۔۔۔کچھ دیر تو رک جائیں ۔۔۔ابھی تو میں نے آپ کو اپنے شادی کے جوڑے بھی نہیں دیکھائے ۔۔۔”رباب اس کا ہاتھ پکڑے بولی

“ہاں نیلو آ جاؤں جوڑے تو میں نے بھی اپنے تمہیں دیکھانے ۔ہیں ۔۔۔۔۔۔

رائمہ بھی اٹھ کر نیلو فر کے پاس چلی گئ ۔۔۔

“وہ میں بعد میں۔ آ کر دیکھ لوں گی “نیلوفر وہاں نا رکنے کے بہانے تراش رہی تھی

“رائمہ میں اندر کمرے میں چلا جاتا ہوں ۔۔۔۔شاہد میری وجہ سے یہ کترا رہیں ہیں” ۔۔۔۔باسم اٹھ کر کھڑا ہو گیا

کیا شخص ہے یہ فورا سے دل کی بات سمجھ جاتا ہے ۔۔۔۔نیلو فر نے سوچا ۔۔۔اور برجستہ بولی

“ایسی بات نہیں ہے ۔۔۔م۔۔مجھے اوپر کام ہے ۔۔۔۔”نیلوفر کی ہچکچاہٹ پر باسم کی مسکراہٹ اور گہری ہو گئ۔۔۔

“کر لینا کام آؤں نا ۔۔۔’رائمہ اس کا ہاتھ تھامے تخت کے پاس ہی لے آئی باسم نے خالی کپ رکھا اور رائمہ سے بولا

“رائمہ بس یہ پکوڑے مجھے کمرے میں دے جاؤں ۔۔۔۔”

یہ کہہ کر اپنے کمرے میں چلا گیا ۔۔۔ اس گھبرائی اور پریشان حال لڑکی کو مزید پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا ۔۔۔۔

******…….

“رامس حد ہوتی ہے کسی بات کی ۔۔۔کوئی اس طرح سے باتیں سناتا ہے بڑی بہن کو “رامس اپنے کمرے کے بیڈ پر بیٹھا تھا جب اسکی والدہ اندر داخل ہو کر غصے سے اسکے پاس بیٹھ کر بولیں

“امی آپ کو صرف بجو نظر آتیں ہیں ۔۔۔کبھی میری خوشی میری خواہش کو جاننے کی کوشش کی ہے آپ نے ۔۔۔۔”رائمہ سے ملنے اور اسے دیکھنے کے بعد تو دل کی بے اختیاری میں اور بھی اضافہ ہو گیا تھا ۔۔۔۔۔آج بھی وہ ویسی ہی تھی معصوم سی سنجیدہ سی نرم لہجے سے بات کرتی ہوئی سیدھی دل میں اتر جانے والی اس لئے ماں کے سامنے سارے ضبط ہی کھو بیٹھا تھا کچھ دیر تو وہ بھی بیٹے کے بجھے بجھے چہرے کو دیکھنے لگیں ۔۔۔

“کیا بات ہے رامس ۔۔۔۔”ماں کی کھوجتی نظروں کی تپش سے رامس نے نظریں بدلیں تھیں

“کچھ نہیں ۔۔۔”

“کچھ تو ضرور ہے ۔۔۔ادھر دیکھوں میری طرف ۔۔۔۔”رامس کا چہرا اپنے دونوں ہاتھوں میں لیکر انہوں نے اپنی طرف کیا ۔۔۔لاکھ ضبط کے آنسوں ٹوٹ کر رامس کے رخسار پر گرے تھے ۔۔۔اپنی دونوں آنکھیں اس نے بند کر لیں ۔۔۔۔

“رامس ۔۔۔۔رو رہے بیٹا ۔۔۔کیا ہوا ہے ۔۔بتاو مجھے “

“امی اس کی شادی ہو رہی ہے ۔۔۔۔اورمیں یہ سب نہیں دیکھ سکتا اپنے سامنے اسے کسی اور کا ہوتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا ۔۔۔۔”

“کون ہے وہ رامس ۔۔۔۔اگر کوئی لڑکی تھی تومجھ سے کہتے تو صحیح ۔۔۔”اب تو انکی آنکھوں میں بھی نمی اترنے لگی تھی مشکل سے مشکل حالات میں بھی انہوں کبھی اپنے بیٹے کی آنکھوں میں آنسوں نہیں دیکھے تھے ۔۔۔۔اور اب بچوں کی طرح رو رہا تھا

“ر۔۔۔رائمہ “

“رائمہ ۔۔۔۔تمہیں رائمہ پسند تھی رامس ۔۔۔کہا کیوں نہیں مجھ سے ۔۔۔اسکا حصول کونسا مشکل تھا ۔۔۔۔میں ایک بار رابعہ سے کہتی وہ مجھے منع کر ہی نہیں سکتی تھی ۔۔۔۔”رامس کی والدہ کو حیرت کے ساتھ افسوس بھی ہونے لگا تھا

“امی بس مجھے لگا میں اس کے لائق نہیں ہوں ۔۔۔۔۔کہیں انکار نا کر دے ۔۔۔میں اپنے دل کو سمجھا چکا تھا لیکن آج اسے دیکھ لگتا ہے سارے زخم ہی ادھڑ چکے ہوں ۔۔۔۔”رامس نے آنسوں پر بندھ تو باندھ لیا تھا مگر لہجہ مغموم ہی تھا

“مجھ سے کہتے تو ۔صحیح بیٹا ۔۔میں رابعہ کے پاؤں میں بیٹھ کر جھولی پھیلا کر اسے مانگ لیتی ۔۔۔ یوں چپ رہ کر تم نے ظلم کیا ہے خود پر ۔۔۔۔۔”رامس کی والدہ کو دکھ کے سات ساتھ افسوس ہو رہا تھا ۔۔۔۔۔

“اب تو ہو چکا امی “وہ اب ماں کی گود میں سر رکھے آنکھیں بند کیے اپنے پچھتاوے کے آنسوں بہانے لگا تھا۔۔۔۔

*****……..*****

صبح سے نیناں کے ایک دوست نے اسکے ناک میں دم کر کے رکھا تھا ۔۔۔۔۔نیناں کا ایک فرینڈ گروپ تھا کالج میں بھی وہ سب اکھٹے پڑھتے تھے اس لئے باہر کہیں بھی جانے کا پروگرام ہوتا تو اکھٹے ہی جاتے تھے ۔۔۔لیکن راحیل کافی دنوں سے اسے اکیلے ملنے پر بضد تھا حالانکہ وہ صاف منع کر چکی تھی لیکن وہ بار بار کال ہے کال کیے جا رہا تھا صبح ناشتے پر بھی اسکی کال کو نیناں نے گواری سے ڈسکنکٹ کیا ۔۔۔۔سامنے بختیار صاحب بیٹی کی ناگواری کو اچھی طرح دیکھ چکے تھے ۔۔۔۔

“لٹل فرینڈ اینی پروبلم “فلاسک سے چائے کپ میں انڈیلتے ہوئے بولے

“یس ۔۔پوپس ۔۔۔یہ جو راحیل ہے نا ۔۔۔۔بار بار کہہ رہا ہے کہ مجھ سے اکیلے ملو ۔۔۔مجھے نہیں ملنا اس سے اکیلے ۔۔۔”وہ منہ بنا کر بولی

“تو منع کر دو ۔۔۔مسلہ کیا ہے “

“کیا تو ہے ۔۔پر پھر بھی تنگ کر رہا ہے “

“او کے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔مجھے آج آفس میں زیادہ کام نہیں ہے ۔۔۔چھ بجے تک تم اسے گھر بلا لو ۔۔۔میں اسے منع کر دونگا ۔۔۔۔اپنے انداز سے دوبارہ تم سے دو میل دور رہ کر بات کیا کرے گا ۔۔۔”

“آپ کیا کریں گئے “نیناں نے دلچسپی سے پوچھا

“وہ تم مجھ پر چھوڑ دو ۔۔۔”وہ مسکرا کر بولے

“او کے میں بلا لوں گئ “نیناں اب گلاس میں جوس ڈالتے ہوئے بے فکر سی ہو گئ تھی اسے پتہ تھا کہ باپ سب کچھ سنبھال لیتا ہے اب وہ ٹینشن فری ہو سکتی ہے

“اچھا پھر میں چلتا ہوں ” بختیار صاحب چائے کا خالی کپ رکھ کر چلے گئے ۔۔۔۔راحیل کی کال بھی دوبارہ نہیں آئی ۔۔۔۔نیناں بھی اس بات کو بھول بھال گئ آج اسے پانچ بجے شاہزیب سے ملنا تھا ۔۔راحیل کے چکر میں وہ بختیار صاحب کو شاہزیب کے بارے میں بتانا بھول گئ تھی ۔۔۔۔۔پھر سوچا کہ پہلے خود مل لے ۔۔۔بعد میں ان سے بھی ملوا دے گی ۔۔۔وارڈ راب سے ایک بلیک جینز اور سکن کلر کا ٹاپ نکال کر پہن لیا بالوں کی ایک اونچی سی ہونی بنائی اور ہونٹوں پر صرف لپ گلو لگا کر وہ تیار تھی میک وہ ویسے بھی زیادہ نہیں کرتی تھی ۔۔۔۔کچھ وہ ویسے بھی اتنی خوبصورت تھی کہ سادگی میں اٹریک کرتی تھی ۔۔۔۔پھر شروع سے ایسے ہی کپڑے پہنے کی عادی تھی ۔۔۔۔۔ساڈھے چار بجے ہی وہ تیار ہو کر گاڑی خود ڈرائیو کر کے سمندر میں اسی جگہ پہنچ گئ جہاں پہلی بار شاہزیب کو دیکھا تھا

اپنی گاڑی سے ٹیک لگائے نیناں شاہزیب کا انتظار کرنے لگی ۔۔۔۔۔۔پورے پانچ بجے ایک بائیک کی بے ہنگم سی آواز پر نیناں کا دل دھڑکا تھا ۔۔۔۔پھر سامنے بہت دور سے وہ آتا ہوا نظر آیا ۔۔۔۔۔۔۔وہ سیدھی ہو کر کھڑی ہو گئ ۔۔۔۔۔صرف چند لمحے ہی لگے تھے شاہزیب کو نیناں کے پاس پہنچنے میں بائیک اس نے عین نیناں کے برابر کھڑی کی ۔۔۔۔نیناں نے اپنے بلیک گلاسز آتارے اور ایک نظر سر سے پیر تک شاہزیب پر ڈالی پرانی جینز کی پینٹ جس کا رنگ تک جگہ جگہ سے اڑا ہوا تھا ۔۔۔۔اس پر نیوی بلو پرانی سی شرٹ ۔۔۔۔ہاتھ میں ایک بڑی سے سلور چین لپیٹی ہوئی تھی اور گلے میں ایک سلور زنجیر ٹائپ کی چین پہنے اور پاؤں میں مٹی سے اٹے پھٹے سے جوگر پہنے وہ شاہزیب کہیں۔ سے نہیں۔ لگ رہا تھا ۔۔۔۔بے شک وہ پہلے بھی بہت قیمتی لباس نہیں پہنتا تھا لیکن ویل ڈریس ہی نظر آتا تھا دو تین بار اس نے شاہزیب کو دیکھا تھا ویلنگ کرتے ہوئے ۔۔۔کیفے میں۔۔۔ اور اسکے گھر پر تینوں جگہ وہ اس حلیے میں ہر گز نہیں تھا جس میں آج اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔

شاہزیب نے نیناں کے چہرے پر پھیلی ناگواری دیکھ کر خود کو دل میں داد دی تھی ۔۔۔۔۔۔۔ابھی ان میں ہیلو ہائے بھی نہیں ہوا تھا کہ ایک گاڑی ان کے سامنے کھڑی ہوئی اس میں دو تین لڑکیاں نیناں جیسے لباس تن زیب کیے اتریں تھی ان کا پہناوا اور بات کرنے کا انداز نیناں جیسا ہی تھا شاید اسی کی کلاس سے تعلق رکھتی تھیں۔

“نیناں “وہ نیناں کو پکارتی ہوئی اسے گلے لگیں اور گال کے ساتھ گال ملا کر پیچھے ہٹ گئیں

“تم تو کہہ رہی تھی آج بزی ہو ہمارے ساتھ نہیں جاسکتی ۔۔۔”ان تین لڑکیوں نے بائیک پر بیٹھے شاہزیب کو یکسر نظر انداز کیا تھا

“ٹھیک کہا ہے نیناں نے ۔۔۔آج یہ میرے ساتھ بزی ہے “شاہزیب نے جان بوجھ کر ٹانگ اڑائی اس سے پہلے کہ نیناں کوئی بہانہ بناتی شاہزیب بول پڑا۔۔۔جو بےعزتی اس لڑکی کی وجہ اس نے برداشت کی تھی وہ بھی کوئی موقع ہاتھ جانے نہیں دینا چاہتا تھا ۔۔۔شاہزیب کی بات پر تینوں نے سر سے پیر تک ایک ہتھک بھری نظر شاہزیب پر ڈالی جسے اپنے حلیے کی ذرا بھی پروا نہیں تھی ۔۔۔۔۔مسکرا کر انہیں دیکھنے لگا پھر بائیک سے اتر کر نیناں کے ساتھ کھڑا ہو گیا

“نیناں یہ کون ہے “ان تینوں میں سے ایک نےپوچھا

“اوہ کم آن۔۔۔۔ نیناں تم نے بتایا بھی نہیں اپنی دوستوں کو کہ میں کون ہوں ۔۔۔۔پلیز introduction کرواں اپنی دوستوں سے میرا ۔۔۔بتاو میں کون ہوں ۔۔۔”شاہ زیب کا رویہ ہی نیناں کے لئے غیر متوقع تھا دو ملاقاتوں میں شاہزیب نے بہت روڈ رویہ رکھا تھا نیناں سے اور آج یوں بے تکلف تھا جیسے برسوں کی شناسائی ہو ۔۔۔

نیناں کچھ جھجکی تھی ۔۔۔۔

پھر شاہزیب کے رف حلیے کی وجہ سے اپنی دوستوں کی ناگوری اور نا پسندیدگی دیکھ کر اسے اپنے گلے میں گرہیں سی پڑتی محسوس ہوئیں اس لئے چپ ہی رہی

“نیناں کون ہے یہ “ان میں ایک لڑکی نے اپنا سوال دہرایا ۔۔۔۔نیناں کو چپ دیکھ کر شاہزیب نے جواب دیا

“اس کا بوائے فرینڈ۔۔۔۔۔۔کیوں۔ نیناں ٹھیک کہا نا میں نے “شاہزیب کا لہجہ ترش تھا ۔اپنی ایک آنکھ دباتے ہوئے اس نے استزائیہ مسکراہٹ سے کہا ۔۔۔۔نیناں نے ایک نظر شاہزیب پر ڈالی دوسری اپنی ماڈرن دوستوں پر جو تیوری چڑھائے شاہزیب کو دیکھ رہی تھیں شاید شاہزیب کی اوچھی سی حرکتوں پر ہراساں بھی ہوئی تھیں

“یس ۔۔۔۔ہی از مائے فرینڈ” بامشکل نیناں نے کہا

“”ہی از “تینوں نے بیک وقت حیرت سے پوچھا

۔۔۔۔”پلیز رابی تم لوگ جاو۔یہاں سے میں کل ملوں گی تم سے ۔۔۔ابھی مجھے ان سے بات کرنی ہے “وہ تینوں خفگی اور تاسف سے نیناں کو دیکھتی ہوئی چلی گئیں ۔۔۔اور شاہزیب کے دل میں ٹھنڈک سی اتر گئ

“تم تو ابھی سے گھبرا گئ میری مینا ابھی دیکھوں شاہو تمہارے ساتھ کرتا کیا کیا ہے ۔۔۔آج کی ملاقات تو تم زندگی بھر نہیں بھولوں گی ۔۔۔۔۔”شاہ زیب نے نیناں کا بدحواس چہرا دیکھتے ہوئے دل میں کہا

“کہیں۔ بیٹھ کر بات کر لیں “نیناں نے جھجکتے ہوئے پوچھا

“یا شیور ۔۔۔۔تم سے بات ہی تو کرنے آیا ہوں “یہ کہہ کر شاہزیب دوبارہ اپنی بائیک پر بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔

“بیٹھوں پیچھے “

“جی “نیناں ایک قدم پیچھے ہٹی شاہزیب نے موٹر سائیکل اسٹاٹ کر کے کی ہاتھ سے ریس تیز کی ۔۔۔

“۔اب دیکھ کیا رہی ہو ۔۔۔بیٹھوں پیچھے “نیناں کو وہیں۔ کھڑا دیکھ کر وہ بولا

“نہیں ۔۔۔۔”اس نے نفی میں سر ہلایا شاہزیب نے بائیک کو۔ بند کیا

“نیناں۔۔۔۔ میری میناں ۔۔۔۔میں دوست ہوں۔ تمہارا ۔۔۔۔بہت شوق ہے تمہیں ۔مجھ سے مراسم بڑھانے کا ۔۔۔اب کیا نخرے کر رہی ہو ۔۔۔شاباش ۔۔۔بیٹھوں میرے ساتھ۔۔۔میری دوستی کو سب کے سامنے فیس کرو جانو “شاہ زیب نے آنکھیں پٹپٹاتے ہوئے ڈرامائی انداز سے کہا

“نہیں ۔مجھے نہیں بیٹھنا ۔۔۔یہیں بات کر لیتے ہیں “وہ اسکے بے باک لفظوں سے گھبرائی تھی ۔۔۔جو وہ جان بوجھ کر اسے تپانے اور زچ کرنے کےئے بول رہا تھا

“نیناں ڈارلنگ آج میرا موڈ بہت خوشگوار ہے ۔۔۔اسے خراب مت کرو ۔۔۔۔بیٹھوں میری بائیک پر ۔۔۔لونگ ڈرائیو کریں گئے ۔۔۔خوب ساری باتیں کریں گئے ۔۔۔۔۔چلو اب وقت ضائع مت کرو میرا “

“نہیں ” نیناں کے مسلسل انکار پر وہ زچ ہوا تھا

“ابے یار ۔۔۔مسلہ کیا ہے تمہارے ساتھ ۔۔۔۔کیوں دماغ کی دہی بنا رہی ہو ۔۔۔اب ۔بیٹھ رہی ہو یا زبردستی بیٹھاوں تمہیں۔۔۔۔۔”اس بار وہ ذرا سختی سے بولا ۔

۔۔نیناں کچھ گھبراتے ہوئے اسکے پیچھے لڑکوں کے انداز سے بیٹھ گئ ۔۔۔کیونکہ لڑکیوں کی طرح اسے بیٹھنا نہیں آتا تھا ۔۔۔۔۔شاہزیب نے بائیک کو کک ماری نیناں بیٹھ تو گئ مگر شاہزیب کو بنا پکڑے

“Hold on tight me….neina g .۔۔۔۔.otherwise you will be responsible your self ۔۔۔ jano “

شاہزیب نے بائیک چلانے سے پہلے پیچھے مڑ کر نیناں سے کہا ۔

۔۔۔نیناں نے اسے ہچکچاتے ہوئے شانوں سے پکڑ لیا ۔۔۔۔۔ساحل سمندر پر جہاں وہ لوگ موجود تھے وہاں اس وقت رش نا ہونے کے برابر تھا ۔۔۔۔بائیک کو اس نے فل سپیڈ سے بھگایا تھا

۔۔۔۔۔سڑک اس وقت بلکل خالی تھی ۔۔۔۔نیناں کی گرفت اب اسکے شانوں پر کافی مضبوط ہو چکی تھی ۔۔ ایک پل کو نیناں کا خوف سے دل دھڑکا تھا ۔۔۔۔مگراگلے لمحے وہ خود کو سنبھال چکی تھی بس بائیک کہ بے ہنگم آواز سر کو بری طرح سے زچ کر رہی تھی ۔۔۔۔۔شاہزیب کو لگا تھا وہ کچھ دیر میں چیخنے چلانے لگے گی ۔۔۔۔ڈر کے مارے اسے بائیک روکنے یا ہلکی چلانے کا بولے گئ ۔۔۔۔لیکن وہ خاموشی سے بیٹھی تھی ۔۔۔۔پانچ منٹ کی تیز رفتاری پر۔بھی وہ لڑکی بنا چوں وچراں کیے بیٹھی رہی تھی ۔۔۔شاہزیب کا غصہ بڑھنے لگا تھا وہ اس لڑکی کو خوف سے چلاتے ہوئے سننا چاہتا تھا ۔۔۔۔اسکے ہوش اڑانا چاہتا تھا مگر وہ بڑے ضبط سے بیٹھی تھی جب شاہزیب کا غصہ مزید بڑھا تو اس نے سامنے کا ویل تھوڑا سا اونچا کیا ۔۔۔۔نیناں اس چیز کے لئے تیار نہیں تھی اس لئے ایک چیخ اس کے منہ سے برآمد ہوئی اس نے شاہزیب کے شانوں سے شرٹ کو مضبوطی سے دبوچ لیا اور آنکھیں بند کر لیں ۔۔۔۔

“شاہزیب “وہ ہلکی چیخ کے ساتھ ڈر کر بولی ۔۔۔شاہ زیب کی مسکراہٹ بڑھی تھی اگلے لمحے بائیک واپس نیچے کر دی گئ کچھ ہی دیر میں بائیک کی اسپیڈ بھی ہلکی ہو گئ ۔۔۔۔

“گھر کہاں ہے تمہارا “شاہزیب اب نارمل اسپیڈ سے بائیک چلا رہا تھا ۔۔۔۔

“کیوں ۔۔”

“کیا مطلب کیوں ۔۔تم میرے گھر آ سکتی ہو میں کیوں نہیں جا سکتا ۔۔۔۔جلدی سے گھر بتاؤں اپنا “وہ تیز آواز سے بول رہا تھا بائیک کا خود اتنا شور تھا کہ بات سننا اور بولنا مشکل تھا ۔۔۔۔نیناں اب اسے اپنے گھر کا پتہ بتانے لگی۔۔۔شاہزیب یوں بائیک چلا رہا تھا جیسے بائیک کو رینگ رہا ہو۔۔۔۔آس پاس گزرنے والے لوگ ان دونوں کو حیرت سے دیکھ رہے تھے جو ایک دوسرے سے opposite حلیے میں بیٹھے تھے ۔۔۔۔۔کئ لوگ پاس سے گزرتے ہوئے معنی خیز مسکراہٹ دیتے کچھ ہنس رہے تھے اور لڑکے تو باقاعدہ سیٹی مارتے ہوئے کمنٹ تک پاس کر رہے تھے ۔۔۔۔شاہزیب کا حلیہ دیکھ کر سب کی نظریں ہی اس پر تھی ۔۔۔۔پیچھے بیٹھی نیناں نے اپنی پچھلی زندگی میں کبھی ایسا ہوتے نہیں دیکھا تھا کہ ۔۔۔جی بھر کے خفت سی محسوس کر رہی تھی اوپر اتنی سلو اور پھٹے ہوئے سلنسر کی پھٹی بائیک کی آواز پر جس نے نہیں دیکھنا تھا وہ بھی بڑی فرصت سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔

“آپ بائیک ذرا تیز چلائیں پلیز “لوگوں کی طرح طرح کی نظروں سے تنگ آ کر مجبورا وہ بولی

“ہممم۔۔۔۔کیوں بھئی ۔۔۔۔آرام آرام سے جاتے ہیں ۔۔۔۔آج تو موسم بھی بہت خوشگوار ہے “شاہزیب۔ تو جیسے ان سب باتوں سے لطف اندوز ہو رہا تھا

“شاہزیب لوگ دیکھ رہے ہیں “

“ہممم ۔۔۔۔تو دیکھنے دو ۔۔۔جیلس ہو رہے ہیں تم سے اتنی زبردست پرسنیلٹی سے دوستی جو کی ہے تم نے رشک بھری نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں تمہیں ۔۔۔انجوائے کرو ۔۔۔”شاہزیب کے کاٹ دار لہجے میں صرف طنز تھا

“پلیز ذرا تیز چلائیں “نیناں ب رو دینے کو تھی ۔۔۔۔

“کیوں۔۔۔؟ شرمندگی ہو رہی میرے ساتھ یوں بیٹھنے پر ۔۔۔یہ سب تو تمہیں دوستی کرنے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا ۔۔۔۔۔لیکن اب تو میں تمہارا دوست ہوں ۔۔۔۔تمہیں لوگوں کو فیس کرنا چاہیے نا مینا ۔۔۔۔۔”شاہزیب اپنی کوشش میں آدھے سے زیادہ کامیاب ہو چکا تھا ۔۔۔اب بس اسکے گھر والوں کے سامنے اسے سبق سیکھنا تھا ۔تا کہ آئندہ وہ اسکے بارے میں سوچنے سے پہلے بھی ہزار بار سوچے

کچھ ہی دیر میں بائیک ایک بہت بڑے بنگلے سے سامنے کھڑی ہوئی ۔۔۔۔۔نینان بائیک سے نیچے اتر گئ ۔۔۔۔شاہزیب ایک شاندار بنگلہ کو سامنے دیکھ کر کچھ پل آنکھ چھپکنا بھول گیا تھا ایسے محل اس نے صرف ٹی وی ڈراموں میں ہی دیکھے تھے ۔۔۔اسکے تایا ابو بھی ڈیفنس میں ہی رہتے تھے مگر اپاٹمنٹ میں ۔۔اس پر بھی ایسے اتراتے تھے جیسے انگلینڈ میں رہتے ہوں تائی امی تو لازمی جتائے بغیر نہیں رہتی تھی کہ وہ ڈیفنس میں رہتی ہیں ۔۔۔۔شاہزیب نے بائیک سائیڈ پر کھڑی کی ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔نیناں نے ڈور۔ بیل دی شاہزیب بھی اسکے ساتھ کھڑا ہو کر اسکا محل نما بنگلہ دیکھنے لگا مین گیٹ پر ایک چھوٹی سی کھڑکی سے چوکیدار نے نیناں کو دیکھتے ہی دروازہ کھول دیا ۔۔۔۔

“ااندر آؤں نا شاہزیب ۔۔۔نیناں کا ریایکشن ویسا نہیں تھا جیسا شاہزیب نے سوچا تھا اسے لگا تھا وہ بائیک سے اترتے ہی اسے دو چار موٹی موٹی گالیاں دے کر چلتا کرے گی مگر وہ بہت اپنایت سے اسے اندر بلانے لگی ۔۔۔۔۔۔۔شاہزیب اسکے ساتھ ہی اندر داخل ہوا۔۔۔۔چوکیدار نے ایک تنقیدی بھرپور نظر شاہزیب پر ڈالی

“بی بی صاحب یہ کون ہے “پٹھان چوکیدار نے شاہزیب کا حلیہ دیکھ کر کہا ایک پل کو شاہزیب کو اپنے حلیے پر افسوس سا ہوا وہ اس خوبصورت بنگلے کی حسین مالکن کا دوست کہیں سے نہیں لگ رہا تھا

“خان یہ میرا دوست ہے ۔۔۔۔”نیناں نے بلا تامل کہا ۔۔بنا کسی ہچکچاہٹ کے ۔۔۔۔پھر شاہزیب کا ہاتھ تھامے اسے اندر لے جانے لگی ۔۔۔۔باہر کا پورچ اتنا بڑا تھا تھا کہ بیک وقت پانچ سے چھ گاڑیاں ایک ساتھ پارک ہو سکتی تھیں اور لان کی حد طول ناپنا اسکے بس کی بات نہیں تھی پورا لان رنگ۔ رنگے بھولوں سے سجا ہوا تھا ۔۔۔سامنے سے وردی میں آتے ایک شخص کو دیکھ کر نیناں نے ایک چابی اسے دی

“میری گاڑی سمندر پر کھڑی ہے آپ جا کر لے آئیں “

“جی بےبی “,ڈرائیور موبانہ انداز سے سر جھکائے وہاں سے چلا گیا ۔۔۔۔شاہزیب کو کچھ پل یہ سب ایک حسین خواب سا لگا ۔۔۔۔سامنے لاونج کا بیرونی دروازہ کھول کر وہ نیناں کی ہمراہی میں اندر داخل ہوا ۔۔۔۔اتنا وسیع لانج اور نیچے کانچ کی طرح چمکتے فرش پر اسکے پھٹے جوگر اسے منہ چڑھاتے ہوئے محسوس ہو رہے تھے ۔۔۔وہ جو نیناں کے ہوش اڑانے آیا تھا فی حال اپنے ہوش حواس کھوئے نیناں کا خوابوں کا محل دیکھ کر حیرت سے چکا چوند ہو چکا تھا ۔۔۔۔۔۔سامنے رکھے نرم گداز مخملی صوفے پر بیٹھتے ہی وہ اندر دھنسنے لگا تھا ۔۔۔۔اپنے حلیے پر جی بھر کر افسوس ہوا ۔۔۔۔۔

“آپ یہیں بیٹھیں میں چائے کا کہہ کر آتی ہوں ۔۔۔”

“نہیں چائے کی ضرورت نہیں ہے “شاہزیب کو حیرت تھی اس لڑکی پر کس مٹی کی بنی تھی اتنی ذلت اٹھانے کے بعد بھی اسے چائے کا پوچھ رہی تھی ۔۔۔۔

” ضرورت کیوں نہیں ہے آپ پہلی بار آئے ہو میرے گھر بنا چائے پیے کیسے جا سکتے ہو ۔۔۔”نیناں فورا سے پلٹ گئ اور شاہزیب نرم صوفے کے مزے لینے لگا

“کیا ٹھاٹ ہیں بھئ ۔۔۔۔۔خدا بھی جسے نوازنے پر آتا ہے سب کچھ ہی دے دیتا ہے ۔۔۔۔دولت حسن کیا نہیں تھا اس لڑکی کے پاس ۔۔۔۔۔”شاہزیب نے ایک ٹھندی حسرت بھری آہ لی اپنے حلیے کو غور سے دیکھا ۔۔۔۔۔پھر اپنے آنے کا مقصد بھی یاد آ گیا دل نے سو بار انکار کیا کہ رہنے دے یہیں سے چلا جائے کیا ضرورت ہے اسکی باپ کے سامنے اپنا امپریشن خراب کرنے کی ۔۔۔ایسی لڑکیوں سے دوستی کی خواہش ہم جیسے لڑکوں کی اولین ترجعی میں سے ایک ہے ۔۔۔لیکن پھر سماعتوں میں زمان صاحب کا طعنہ گونجا ۔۔۔۔کہ اگر تم کسی کی بہن سے دوستیاں بڑھاؤں گئے تو کل تمہاری بہن سے بھی کوئی ۔۔۔۔اس کے بعد سوچ نے پرانا روپ دھار لیا ۔۔۔

“نہیں شاہزیب ۔۔۔۔میں ایسا صرف خواب ہی دیکھ سکتا ہوں اس لڑکی کا حصول نا ممکن ہے میرے لئے ۔۔۔۔۔اچھا ہے یہیں سے پلٹ جاؤں ۔۔۔۔۔اور اسکے قدموں کو بھی یہیں روک دوں ۔۔۔۔۔نیناں کی آنکھوں میں اپنی پسندیدگی وہ دیکھ چکا تھا ورنہ کوئی بھی لڑکی اتنی ہتھک برداشت نہیں کر سکتی تھی جتنی اس نے کی تھی ۔۔۔۔۔۔نیناں واپس آ کر بیٹھ گئ ۔۔۔۔

“مجھے اپنے ہاتھ دھونے ہیں ۔۔۔۔”شاہزیب ایک نظر اس حسین محل کو دیکھنا چاہتا تھا پھر سمندر پر تیز رفتار بائیک چلانے سے منہ ہاتھ سب مٹی سے اٹے ہوئے تھے ۔۔۔

“ہاں آئیے نا “نیناں کھڑی ہو کر اسے ایک روم کی طرف لے گئ ۔۔۔دروازے کا نیب گھماتے ہوئے پلٹ کر مسکراتے ہوئے شاہزیب سے بولی

“یہ میرا کمرہ ہے “پھر اسے اندر لے گئ ۔۔۔۔کمرہ بہت بڑا اور کشادہ تھا ۔۔۔ایک جہازی سائز کا بیڈ پانچ پٹ کی الماری بڑا ڈریسنگ ۔۔۔ایک سائیڈ پر رائٹنگ ٹیبل ۔۔۔۔اور دیواروں پر ۔۔۔۔نیناں کی تصویریں ۔۔۔۔۔اتنی چیزوں کے باوجود کمرہ کافی کشادہ لگ رہا تھا ۔۔۔۔نیناں اسے کمرے کے واش کے دروازے کے پاس چھوڑ کر باہر چلی گئ ۔۔۔شاہزیب نے ستائشی نظر کمرے پر ڈالی پھر واش روم کا دروازہ کھولا ۔۔۔واش بھی کسی کمرے سےکم نہیں تھا وش بیسن ہی اچھا خاصا بڑا تھا ۔۔۔دس قسم کے فیس واش سامنے رکھے ہوئے تھے ۔۔۔۔شاہزیب کو یاد آنے لگا کہ کہ کیسے وہ شازمہ اور نمیرہ کا فیس واش ان سے سو منتیں کر کے لیتا تھا جب کبھی اسے اپنے دوستوں کے ساتھ کسی پاڑی میں جانا ہوتا تھا ۔

“شازی یار کچھ تو اور ڈالو اتنے سے فیس واش سے کہاں میرا منہ دھلے گا ۔۔۔۔”

“کیوں نہیں دھلے گا اس میں چند قطرے پانی کے ڈالو انگلی سے مکس کرو۔۔۔اور مل لوں منہ پر ۔۔۔آرام سے دھلے گا “شازمہ کی اسے یاد آئی تھی

۔۔۔۔اس نے شرٹ کو کہنیوں تک فولڈ کیا ایک فیس واش اٹھایا اور اچھی خاصی تعداد میں ہاتھ پر ڈال کر اپنے ہاتھ اور بازو اچھی طرح دھوئے پھر چہرے پر دوسرا فیس واش اٹھا کر اس سے منہ دھونے لگا ۔۔۔۔سامنے رکھے صاف ستھرے تولیے سے منہ صاف کیا اور سامنے لگے شیشے سے خود کو دیکھنے لگا ۔۔۔۔

“واہ شاہو چہرہ تو خاصا چمک گیا ہے تمہارا ۔۔۔۔میں بھی کہو یہ مس نیناں اتنی چمکتی دمکتی کیوں نظر آتی ہے سارا کمال انہیں چیزوں کا ہے ۔۔۔۔”شاہ زیب کمرے باہر آیا تو سامنے لاونج میں رکھا ٹیبل مختلف لوازمات سے بھرا ہوا تھا