One Wheeling by Umme Hani NovelR50409

One Wheeling by Umme Hani NovelR50409 One Wheeling Episode 40 (Last Episode Last Part)

491.3K
42

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

One Wheeling Episode 40 (Last Episode Last Part)

One Wheeling by Umme Hani

عاتقہ بیگم کی حالت دن با دن بگڑتی جا رہی تھی ۔۔۔۔ رات کو اکثر اٹھ کر چیخنے لگتی تھیں ۔۔۔اب بھی رات کے تیسرے پہر جب زمان صاحب کی آنکھ کھلی عاتقہ بیگم کمرے میں نہیں تھیں وہ فورا سے اٹھ کر باہر نکلے مین گیٹ پورا کھلا ہوا تھا ۔۔انہوں نے جلدی سے شازمہ کے کمرے کا دروازہ بجایا وہ نیند سے جاگی تھی

“جی ابو “

“امی کہاں ہیں تمہاری “وہ پریشانی سے پوچھ رہے تھے

“میرے کمرے میں نہیں ہیں “شازمہ بھی گھبرا گئ زمان صاحب الٹے قدم باہر نکلے تھے ۔۔۔خالی سڑکوں پر اسوقت ہو کا عالم تھا ۔۔۔۔۔آس پاس کی سبھی گلیاں خالی تھیں ایک گلی سے گزرتے ہوئے قبرستان سے آوازوں کو سن کر رک گئے یہ وہی قبرستان تھا جہاں شاہزیب اور عاصم مدفون تھے ۔۔۔۔انہوں نے جھانک کر دیکھا تو شاہزیب اور عاصم کی قبر کے بیچ میں عاتقہ بیگم بیٹھی باتیں کر رہیں تھیں ۔۔۔۔ناانہیں رات کا کوئی خوف تھا نا قبرستان میں پھیلے سناٹے کا ۔۔۔۔زمان صاحب انکے قریب آ کر رک گئے ۔۔۔۔وہ عاصم کی قبر پر کمبل بچھائے اس سے باتیں کر رہیں تھیں

“عاصم مجھے معلوم ہے کہ تمہیں سردی کچھ زیادہ لگتی ہے ۔۔۔۔اس لئے تمہارے لئے کمبل لائی تھی ۔۔۔اب تو نہیں رہی نا سردی میرے شہزادے بیٹے کو ۔۔۔ “ماں کی ممتا کو کسی چیز کا خوف نہیں ہوتا زمان صاحب کا دل یہ دیکھ کر پسیج گیا تھا ۔۔۔

پھر وہ شاہزیب کی قبر پر ہاتھ پھیرنے لگی۔

“شاہزیب بھائی کا خیال تو رکھتے ہو نا ۔۔۔۔ مجھے پتہ ہے تم لا پروا ہو ۔۔۔لیکن میری جان وہ بھی تو چھوٹا ہے ۔۔۔دھیان رکھا کرو ۔۔۔اب تم ہی تو ہو اسکے پاس ۔۔۔۔ یہ نا ہو کہ میرے جاتے ہی تم اسکا کمبل کھنچ کر خود کو لپیٹ لو ۔۔۔۔ کل تمہارے لئے بھی کمبل لے آؤں گی ۔۔۔۔ تمہاری ماں بہت جلد بوڑھی ہو گئ ہے تم لوگوں کے ایک ساتھ دو کمبل نہیں اٹھاسکتی ۔۔۔خیال رکھنا میرے عاصم کا ۔۔۔۔”زمان صاحب نے بہتے آنسوں سے عاتقہ بیگم کو بازوسے پکڑ کر اٹھایا تھا وہ چپ چاپ انکے ساتھ چلنے لگیں ۔۔۔۔۔

زمان صاحب دوہری آزمائش سے گزر رہے تھے ۔۔۔۔

ایک تو بیٹوں کے کھونے کا غم ۔۔۔۔اور ایک لوگوں کے دل چیر دینے والے جمعلے آتے جاتے وہ روزسنتے تھے

“پہلے تو بیٹے کو کھلی چھوٹ دے رکھی تھی ایک ٹائر پر کراچی کی ساری سڑکیں ناپتا پھرتا تھا ۔۔۔۔اور اب روتے دیکھے نہیں جاتے ۔۔۔” سڑیاں چڑھتے ہوئے اسی اپاٹمنٹ کے لوگ انہیں دیکھ کر آپس میں اس قسم کی گفتگوں کرتے تھے

“ٹھیک کہہ رہے ہو بھائی ۔۔۔۔ارے ادھم مچا رکھی تھی سڑکوں پر ۔۔۔۔ ایسی آندھی طوفان کی طرح بائیک لے کر جاتا تھا کہ خدا کی پناہ ہے ۔۔۔۔ان لڑکوں نے تو ناک میں دم کر رکھا تھا

اب ایک مرا ہے تو باقی بھی ٹھنڈے پڑیں ہیں ۔۔۔۔۔خداسمجھے ایسے لڑکوں کو “لوگوں کی زبانیں سانپ بچھو پیچھے چھوڑ رہیں تھیں کتنے گھاوں دل ہر لگ چکے تھے یہ زمان صاحب کی جانتے تھے ۔۔۔۔۔

کاش کے شاہزیب تم ایک بار سن لیتے تو شاید یون نا کرتے ۔۔۔۔ میں تمہاری جدائی کاغم سکوں یا لوگوں کے دیئے زخم سہو ۔۔۔۔

*****……

نیناں اب کافی سنبھل چکی تھی ۔۔۔۔رات کو بختیار صاحب کے کمرے میں جانے لگی لیکن انکی آواز سن کر رک گئ وہ حیدر سے بات کر رہے تھے

“حیدر تم واپس آ جاؤں ۔۔۔ںہت ٹوٹ چکا ہوں میں ۔۔۔نیناں کی حالت مجھ سے دیکھی نہیں جاتی ۔۔۔۔ تم جانتے ہو میں شاہزیب کو پسند نہیں کرتا تھا لیکن نیناں کی خوشی کے لئے اسے قبول کر چکا تھا ۔۔۔۔ لیکن اس حادثے نے میری بچی کو زندہ لاش بنا کے رکھ دیا ہے ۔۔۔۔۔ اسےایک مضبوط سہارے کی ضرورت ہے ۔۔۔۔”نیناں الٹے ق پلٹی تھی اپنے کمرے میں بیٹھ گئ شاہزیب کی آخری ملاقات یاد آنے لگی ۔۔۔۔سکی باتیں یاد آنے لگیں

پوری رات اسکی آنکھوں میں کٹی تھی صبح ڈائنگ روم میں جانے سے پہلے وہ بختیار صاحب کے کمرے میں گئ تھی۔۔۔وہ اسوقت ناشتہ کرتے تھے اس لئے کمرہ خالی تھا سامنے دراز سے چند فائلیں الٹ پلٹ کرنے سے ہی اسے اپنا نکاح نامہ مل گیا تھا جہاں حق مہر کی رقم ایک کروڑ درج تھی نیناں وہ لے کر اپنے کمرے میں آ گئ جلدی سے ایک اٹیچی نکالا آپ ے کپڑے رکنے لگی نکاح نامہ بھی رکھ کر بیگ بند کیا اور ڈائنگ ٹیبل پر آ گئ بختیار صاحب چائے پی رہے تھے

“گڈ مارننگ پوپس “نیناں سامنے آ کر بیٹھ گئ

“گڈ مارننگ بیٹا آج جلدی اٹھ گئی۔ “

“جی ۔۔۔۔پوپس حیدر ا رہا ہے “

“ہاں لیکن تمہیں کیسے پتہ “بختیار صاحب حیران ہوئے تھے

“آپ جب فون پر بات کر رہے تھے تو میں سن رہی تھی ۔۔۔اچھا کیا آپ نے اسے بلا لیا “نیناں اپنے کپ میں چائے ڈالتے ہوئے بولی

بختیار صاحب خوش ہو گئے

“رؤف انکل کے ویسے بھی تین بیٹے ہیں اگر حیدر یہاں آ بھی جاتا ہے تو انہیں کچھ خاص فرق نہیں پڑے گا ۔۔۔لیکن حیدر کے آ جانے سے آپ کا دل ضرور بہل جائے گا ۔۔۔مجھے بھی پیچھے سے اپنی فکر نہیں ہو گئ “

“کہا مطلب “

“پوپس میں جارہی ہوں “

“کہاں جارہی ہو “وہ حیران ہوئے تھے

“آپ شاید بھول رہے ہیں کہ کسی کی بیوا ہوں میں “نیناں کی بات پر بختیار صاحب نے تڑپ کراسے دیکھا تھا

“اپنے گھر جا رہی ہوں “

“اپنے گھر ۔۔۔نیناں یہ ہے تمہارا گھر “

“پوپس آپ نے ٹھیک کہا تھا کہ حقیقت کو نا ماننے سے وہ چھپ نہیں جاتی انسان کو سچ تسلیم کرنا پڑتا ہے ۔۔۔میں نے مان لیا ۔۔۔ میں نے مان لیا اب شاہزیب واپس نہیں آئیں گئے ۔۔۔اب ایک حقیقت آپ بھی مان لیں کہ میں شاہزیب کے نکاح میں ہوں ۔۔۔۔اس ناطے میرا گھر اب وہی ہے جو میرے شوہر کا ہے ۔۔۔۔”

“تو کیا ساری زندگی اسکے نام پر گزار دو گی “

“ہاں۔۔۔ جاتے ہوئے ایک یہی تو قیمتی تحفہ دے کر گیا ہے وہ مجھے کہ مجھے اپنا نام دے گیا ہے ۔۔۔۔ اسے کیسے چھوڑ سکتی ہوں ۔۔۔۔”

“نیناں یہ پاگل پن ہے عمر ہی کیا ہے تمہاری “

“جتنی بھی ہے اب اسکے نام ہے ۔۔۔۔ بہتر ہو گا کہ آپ بھی اس حقیقت کو مان لیں میں خود مختار ہوں ۔۔۔ اور کسی کی بیوی ہوں ۔۔۔۔آپ میرے ساتھ سب زبردستی نہیں کر سکتے ورنہ میں جو کروں گی وہ آپ کی بنی بنائی عزت کو خاک میں ملا دے گا ۔۔۔۔

بس ایک سوال ہے پوپس آپ نے اپنے آفس بلا کر سے ایسا کیا کہا تھا آپ نے شاہزیب سے کہ وہ بدل کے رہ گیا تھا ۔۔۔۔۔ “نیناں کے سوال پر بختیار صاحب کاایک رنگ آ کر گزرا تھا

“ک کچھ بھی نہیں نیناں کچھ نہیں کہا تھا”وہ گھبرا گئے تھے “

“پوپس وہ کوئی عام لڑکا نہیں تھا ۔۔۔۔۔ہر لڑکا ون ویلنگ نہیں کر سکتا ہزاروں میں چند لوگ ہی کرتے ہیں ۔۔۔۔ ایسے لوگ چیلنچز کو قبول کرنے والے ہوتے ہیں ۔۔۔وہ بھی ایسا ہی تھا ۔۔۔۔ لیکن دولت کا پجاری کبھی نہیں تھا ۔۔۔۔ جب آپ نے اسے آفس بلایا وہ میرے ساتھ ہی تھا ۔۔۔۔ آپ جانتے ہیں اچھی طرح ۔۔۔۔ اسوقت اسنے مجھ سے صاف کہہ دیا تھا کہ مجھے عش و عشرت کی زندگی نہیں دے سکتا ۔۔۔۔لیکن آپ سے ملنے کے بعد وہ بدل گیا تھا ۔۔۔۔ پوپس وہ بہت خود دار اور غیرت مند تھا ۔۔۔۔ایسا کیا کہا تھا آپ نے اسے کہ وہ ون ویلنگ کے خطرناک کھیل کھلنے لگا تھاصرف پیسے کے حصول کے لئے ۔۔۔۔؟

“ون ویلنگ کے کھیل ؟”بختیار صاحب کے لئے یہ خبر حیران کن تھی

“جی پوپس موت کے کھیل ۔۔۔۔ خطرناک ٹریک پر کھیلے جانے والے موت کے کھیل کھیلنے کے لئے وہ اس قدر تیز بائیک چلانے لگا تھا کہ اسے احساس تک نہیں ہوتا تھا کہ کتنی رف چلا رہا ہے ۔۔۔۔ اسکی موت ایک حادثہ بھی ہے تو وجہ آپ ہیں ۔۔ضرور اسکی کم مائیگی کا طعنہ دیا ہو گا آپ نے اسے

یا اپنے ٹکڑوں پر پلنے کی آفر کی ہوگی ۔۔۔۔یا میرے لئے کسی آسائشی محل کی ڈیمانڈ کی ہو گئ ۔۔۔۔۔”

“نہیں نیناں ایسا کچھ نہیں ہے بیٹا “

“میرے نکاح نامے پر حق مہر کی رقم آپ نے اتنی زیادہ کیوں لکھوائی ۔۔۔کس سے پوچھ کر لکھوائی پوپس۔۔۔۔ آپ نے ۔مجھ سے پوچھے بنا میراحق مہراتنا کیوں لکھوایا ” نیناں چلا کر پوچھ رہی تھی بختیار صاحب۔ سمجھ نہیں پا رہے تھے کہ بات کو سن سنبھالیں کیسے

“نیناں میری بات سنو ‘

“نو پوپس مجھے گھٹن ہوتی ہے آپ کے اس محل سے آپکی اس دولت سے گھن آتی ہے مجھے جس نے مجھ سے میرا شاہزیب چھین لیا ۔۔۔۔ میں جا رہی ہوں جشن منائیں اپنی انا کی جیت کا ” وہ اپنا اٹیچی لئے باہر نکل گئ تھی ۔۔۔۔۔بختیار صاحب چاہ کر بھی اسے روک نہیں پائے ۔۔۔

******

شاز،مہ اور زمان صاحب ں لاونج کے ٹیبل پر بیھٹے ناشتے کے نام پر صرف چائے ہی پی رہے تھے بڑی مشکل سے عاتقہ بیگم سوئیں تھیں ۔۔۔۔۔

باہر کی ڈور بیل پر دروازہ شازمہ نے کھولا تھا سامنے نیناں کو دیکھ کر وہ کچھ حیران تھی جب سے شاہزیب کا انتقال ہوا تھاوہ ایک بار بھی نہیں آئی تھی لیکن اس کے بے رونق چہرے کو دیکھ کر لگ رہا تھا کہ جیسے صدیوں کی بیمار ہو ۔۔۔۔ اس تکلیف سے وہ کس اذیت میں تھی وہ اس کا چہرہ بے بتا رہا تھا ۔۔۔۔شامہ نے پیچھے ہٹ کر اسے اندر آنے کی جگہ دی نیناں سپنا اٹچی گھیسٹ کر اندر لائی تو شامہ کے ساتھ زمان صاحب بھی حیرت سے دیکھنے لگے تھے ۔۔۔۔

اٹیچی وہیں چھوڑ کر سب سے پہلے نیناں زمان صاحب کے پاس آ کر انکی کندھے سے لگ کر رونے لگی

“ابو شاہزیب اور عاصم کیوں چھوڑ گئے ہمہیں ۔۔۔۔ “زمان صاحب نے نیناں کے سر شہلا کر تسلی دی

“بس اللہ کی مرضی ہے بیٹا تم اور میں کیا کر سکتے ہیں “

نیناں پھر شامہ کے گلے لگ کر رونے لگی وہ بھی نیناں سے بے اختیار لپٹ کر رونے لگی تھی ان دونوں کے رونے سے عاتقہ بیگم اٹھ کر باہر آ گئیں نیناں کو دیکھ کر فور اسکے گلے لگ گئیں

“آ گئ میری بہو ۔۔۔۔ میرے شاہزیب کی دلہن ۔۔۔۔”عاتقہ نے نیناں کو اپنے ساتھ لگا لیا ۔۔۔

“جی آگئ ہوں ہمیشہ کے لئے اب کبھی نہیں جاؤں گی ۔۔۔”عاتقہ بیگم کے ساتھ لگے نیناں نے آنکھیں بند کر کے کہا ۔۔۔۔

*****……

بختیار صاحب کو یاد آنے لگا ۔۔۔۔ جب انہوں نے شاہزیب کو اپنے آفس بلایا تھا ۔۔۔۔ وہ انکے آفس پہنچ کر بنا اجازت لئے سیدھا انکے کمرے میں داخل ہو کرباآواز سلام کر کے بنا پوچھے انکے سامنے رکھی کرسی کھنچ کر بیٹھ گیا تھا ۔۔۔۔۔ بختیار صاحب سے یہ برداشت نہیں ہوا تھا

“میرے خیال سے کسی کے آفس میں داخل ہونے کے کی کچھ طور طریقے ہوتے ہیں ۔۔۔۔پہلے اجازت طلب کی جاتی ہے پھر پوچھ کر بیھٹا جاتا ہے

“جی مجھے اچھی طرح معلوم کے میں سلام کیا تھا آپ کو لیکن آپ نے جواب نہیں دیا ۔۔۔اور میں آپ کا ورکر نہیں ہوں جو اجازت ملنے کا انتظار کرے اور بیھٹنےںسے پہلے پوچھے ۔۔۔۔میں آپ کا ہونے والا داماد ہوں غالبا آپ کو یاد ہو گا کہ آپ کے بلانے پر ہی یہاں تشریف لایا ہوں اور جب انسان خود کسی کو بلاتا ہے تو پھر سنے والے کو اندر آنے کی اجازت وہ دے چکا ہوتا ہے ۔۔۔پھر جو آئے گا تو ظاہر ہے بات تو بیٹھ کر ہی سنے گا ۔۔۔۔ “بختیار صاحب ہر بار اس کے سامنے خود کو لاجواب پاتے تھے اور یہی ان سے برداشت نہیں ہوتا تھا ۔۔۔۔۔

“اینی وئے کیا لو گئے ٹھنڈا یا گرم “

“بہت بہت شکریہ فی الحال کچھ بھی نہیں ۔۔۔۔آپ بتائیں مجھے کیوں یاد کیا “

“بس یونہی آؤ تمہیں اپنا آفس دیکھاوں “بختیار صاحب شاہزیب کو اپنے ساتھ لئے اسے اپنا آفس دیکھانے لگے اپنے اسٹاف سے اسے ملانے لگے ۔۔۔ ہر ایک کے پاس اسے لے جا کر اسکی تعلیمی ریکوڈاسر تنخواہ ضرور بتاتے تھے

“یہ نثار صاحب ہیں میرے آفس کے منیجر ۔۔۔۔ سی اے پاس ہیں ۔۔۔۔میں ڈھائی لاکھ تنخواہ دیتا ہوں انہیں ۔۔۔اگر یہ کسی اور جگہ ہوتے تو ایک لاکھ سے اوپر سیلری نہیں ہوتی انکی لیکن میڈل کلاس ہیں گھر کے اخراجات بہت ہیں اس لئے ایسے چھوٹے موٹے احسان تو کر ہی دیتا ہوں

میرے پی سے کہ تنخواہ بھی پچیس ہزار ہے۔۔۔۔۔

بس اپنے اصلوں کے خلاف نہیں چلتا ۔۔۔۔ ۔۔۔ایسے کی گھرانے ہیں۔ جو ہر ماہ میری کمائی پر پل رہیں ہیں ۔۔۔۔ نیناں کی جان کے صدقے بڑے لوگ میرے سارے پر عش کی زندگی بتا رہے ہیں ۔۔۔۔

آؤں میرے ساتھ “

“اسکے بعد وہ شاہزیب کو ایک روم میں لے گئے

“فل ائیر کنڈشن دوم تھا ڈام ے ٹیبلپر موجود کر چیز نئ تھی۔۔۔لیپ ٹاپ ۔۔۔۔کے ساتھ انٹر کام اور چند فسئل رکھیں تھیں بختیار صاحب نے سامنے رلوالونگ چیر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے شاہزیب سے کہا

“بیھٹوں یہاں ۔۔۔۔ یہ تمہارے لئے ہی میں نے دو دن میں تیار کروایا ہے ۔۔۔۔ “شاہزیب کی بات پر وہ طنزیہ مسکرایے

“لیکن کیوں مجھے تو آپکے پاس جاب نہیں کرنی “

“تم داماد ہو میرے رانا بختیار کے ۔۔۔۔ تمہیں جاب کی کیا ضرورت ہے ۔۔۔بس جب کہ چاہے آ جایا کرنا پورادن اے ڈی کی ہوا کھانا ۔۔۔۔لنچ جہاں سے آڈر کرو گئے مل جایا کرے گا پانچ بجے چلے جایا کرنا ۔۔۔۔ کوئی کام نہیں ہے تمہارا یہاں پر کیونکہ تم نے تو ایسا چھکا مارا ہے کہ وال سیدھی بانڈری وال سے باہر پھنکی ہے ۔۔۔۔۔ اب تو چین ہی چین ہے ۔۔۔۔ویسےبمیں نے تمہاری منتھلی انکم پانچ لاکھ ڈساییڈ کی ہے تم چاہوں تو بڑھا بھی سکتے ہو ۔۔۔”جیب سے سگریٹ نکال کر بختیار صاحب نے لبوں پر لگایا تھا ۔۔۔ وہی نخوت بھرا لہجہ ۔۔۔۔

“ہاں نیناں کو میں جہیز میں بنگلہ اور گاڑی ضرور دونگا ۔۔۔۔کیڈنکہ تمہارے اس دڑبے میں میری بیٹی گزارا نہیں کر سکتی ۔۔۔۔ کیوں کہ ینگ مین خالی خولی محبت سے چار دن گزارنا آسان ہوتاہے پوری زندگی نہیں ۔۔۔۔ میں جانتا ہوں تم زندگی بھر بھی دن رات محنت کر لو تو بھی نیناں کی ضروریات پوری نہیں کر سکتے ۔۔۔۔ اور میں تو بہت سے بے بس مجبور لوگوں کو دے کر نہیں پوچھتا تو مجھے تمہیں دینے سے بھی فرق نہیں پڑے گا ۔۔۔۔ بس اپنی فیملی کو ذرا بنگلوں میں اٹھنے بیٹھنے کا ڈنگ سیکھا دینا ۔۔۔ کیونکہ جب ایک دم سے فلیٹ سے اٹھ کر شیش محل آنے والوں کی آنکھیں تو چندھیا جاتی ہیں ۔۔۔۔ لیکن حرکتیں ویسی ہی مڈل کلاس ہی رہتی ہیں “سگریٹ کا دھواں انہوں نے جان بوجھ کر شاہزیب کے منہ پھنکا تھا

“اگر میں بنا آپ کی مدد کے نیناں کو بنگلہ گاڑی سبآسائشیں لے دوں تو کیا کریں گئے آپ “شاہزیب نے انکی ساری باتیں بڑی ضبط سے سنی تھیں اور اب شاہزیب کے سوال پر بختیار صاحب کا چھت پھاڑ قہقہ گونجا تھا

“تم یہ کر کی نہیں سکتے امپاسبل “

“آپ بتائیں رانا صاحب اگر میں ایسا کر دوں تو آپ کیا کریں گئے “,

“رانا بختیار اپناسر جھکا دے گا تمہارے قدموں میں ۔۔۔۔۔ لیکن پہلے کچھ کر کے دیکھاوں اور ہاں نیناں سے میل ملاقاتیں ذرا کم کرو تو اچھا ہے “شاہزیب وہاں سے چلا گیا تھا

“یہ لے بنگلہ گاڑی ہنہ “سگریٹ زمین پر پھنک کر انہوں نے اپنے شوز سے مسلتے ہوئے کہا تھا ۔۔۔۔۔

لیکن اب دو رہے تھے ۔۔۔ان کی ساری دولت کو لات مار کر انکی بیٹی جا چکی تھی ۔۔۔۔۔

اسوقت کو رو رہے تھے کہ جب شاہزیب سے ایسا کہا تھا

*******

نیناں عاتقہ بیگم کا بہت خیال رکھنے لگی تھی ۔۔۔۔ زمان صاحب کو بھی چائے خود بنا دیتی تھی ۔۔۔۔ خرم ہر دوسرے دن نمیرہ کے ساتھ عاتقہ بیگم کے پاس ا جاتا تھا ۔۔۔۔ شازل بھی بدل چکا تھا ۔۔۔

نیناں کو سادے سے لباس میں دیکھ کر خرم کادل نیناں کی محبت کو سلام کرنے کو چاہ رہا تھا ۔۔۔۔اس نے واقع اپنا محل شاہزیب کے لیے اس وقت چھوڑا تھا جب وہ اسے ہی چھوڑ کر جا چکا تھا ۔۔۔۔بس دن میں سب کو بہلانے والی نیناں رات کو شاہزیب کے کمرے میں بے تحاشہ روتی تھی ۔۔۔۔

“کیوں کیا آپ نے ایسا شاہزیب ۔۔۔۔۔ کسی کا کیا گیا کچھ بھی تو نہیں سب ہم تہی دامن رہ گئے ۔۔۔۔ آپکی ویلنگ نے کیا دیا آپ کو ۔۔۔۔ کچھ بھی تو نہیں ۔۔۔۔۔جانتے ہیں ہیلمنٹ بوائے کے مداحوں کو جب یہ معلوم ہوا کہ ان کا ہیرو ایک حادثاتی موت مر چکا ہے تو بس چند دن ہی انکے افسوس سے گزرے تھے ۔۔۔لاکھوں دلوں کو دھڑکانے والے ہیلمنٹ بوائے کو بھلانے میں انہوں نے لاکھوں گھنٹے بھی نہیں۔ لگائے ۔۔۔۔۔یہاں چڑھتے سورج کو سب سلام کرتے ہیں ڈوبنے والے کو سب بھول جاتے ہیں ۔۔۔۔ فرق پڑا تو آپکے اپنوں کو ۔۔۔مجھے ۔۔۔۔ آپ کو کیا لگتا ہے ہم زندگی جی رہے ہیں ۔۔۔۔نہیں ہم پل پل سانس لیتے ہوئے مر رہے ہیں ایک دوسرے کے سامنے ایک دوسرے کو تسلی دینے کے لیے چپ رہتے ہیں لیکن تنہائی میں اس وقت ہم سب ہی اپنی اپنی جگہ رو رہے ہیں ۔۔۔۔ آپ نے کیوں نہیں سوچا ہمارے بارے میں

شاہزیب ۔۔۔۔شاہزیب ۔۔۔۔شاہزیب

“ہاں ” وہ ہڑبڑا کر اٹھا تھا ۔۔۔۔پسینے سے شرابور ۔۔۔۔ تیز تنفس سے اٹھ بیٹھا تھا

“آفس نہیں جانا آپ کو ۔۔۔۔”نیناں بالوں کاڈھیلاسا جوڑا بنا کر اس پر کیچر لگاتے ہوئے بولی شاہزیب اب سنبھل چکا تھا ۔۔۔۔ اپنی شرٹ کی آستین سے اپنا پسینہ صاف کیا ۔۔۔۔پھر خالی بیڈ کو دیکھ کر ایک نظر اپنی نصف بہتر پر ڈالی جو کہ پچھلے چار سال سے اسکی سنگت میں رہتے ہوئے اور بھی حسین ہو گئ تھی

“کہاں ہیں میرے دونوں لخت جگر ۔۔۔ہادی اور سعدی “

“اپنے دادا دادی کے پاس ہیں اٹھتے ہی انہیں۔ بس دادای کے پاس جانے کی جلدی ہوتی ہے “نیناں اب کبڈ سے اسکے کپڑے نکال رہی تھی

“مینا ڈرالنگ مجھ سے سچ مت چھپایا کرو سب جانتا ہوں تمہاری چالاکی “نیناں نے استری شدہ کپڑے بیڈ پر رکھے اور نا فہم انداز سے اسے دیکھتی ہوئی شاہزیب کے برابر میں بیٹھ گئ ۔۔۔۔

“اچھا جی۔۔۔۔ مسٹر شاہزیب زمان بتانا پسند کریں گئے کہ کیا ہے میری چالاکی “اپنے ڈوپٹے سے شاہزیب کے چہرے پر آنے والا پسینہ وہ صاف کرتے ہوئے بڑی لگاوٹ سے پوچھنے لگی شاہزیب نے دونوں بازو اسکے شانوں پر رکھے ۔۔۔

“صبح صبح میری میٹھی میٹھی باتیں سنتے ہوئے تم نہیں چاہتی تھی کہ میرے شیر جوان تمہیں ڈسٹرب کریں “نیناں نے ایک ابرو چڑھا کر اسے حیرت سے دیکھا

“”شاہوں جی میٹھی باتیں کرنے سے پہلے ذرا گھڑی پر نظر ضرور ڈال لیجے گا ۔۔۔۔ ساڈھے سات ہونے والے ہیں

“ہائے میری مینا ۔۔۔۔ نیناں سے میرے نیناں ہٹیں تو کہیں اور لگیں “شاہزیب کی شوخ نظروں سے دیکھنے پر نیناں نے اسکے ہاتھ اپنے شانوں سے پیچھے کیے اور اٹھ کر کھڑی ہو گئ ۔۔۔۔

“عاصم بھی کالج کے تیار ہو گیا ہو گا ۔۔۔۔ میں ناشتہ بنانے جا رہی ہوں اگر یہ فلمی ڈائیلاگ پورے ہو چکے ہوں تو تیار ہو کر باہر آ جائیے گا ۔۔۔۔ نیناں مسکراتے ہوئے باہر جا چکی تھی شاہزیب کی مسکراہٹ بھی غائب ہو چکی تھی پھر وہی خواب ۔۔۔۔جو پہلی بار اس نے چار سال پہلے دیکھا تھا ۔۔۔۔ خواب نہیں تھا ایک قیامت خیزی تھی جو اس رات اس پر ٹوٹی تھی

چار سال پہلے

شاہزب نمیرہ کی شادی کے بعد زمان صاحب کی اجازت سے عاصم کے ساتھ باسم کی مہندی پر جانے کے لئے نکلا تھا ۔۔۔۔ قیوم صابر کی کال بھی سنی تھی عاصم کے بروقت پکارنے پر بائیک بھی سنبھل کر چلا نے لگا تھا ۔اگر ذرا بھی کوتاہی کر جاتا تو سامنے آنے والے ٹرک سے ٹکرا جاتا ۔۔۔۔باسم کی مہندی پر خوب ہلا گلا بھی کیا تھا ۔۔۔۔۔ یہاں تک کہ اسکے ساتھ ملکر بھنگڑا بھی ڈالا تھا گھر آ کر تھکن کے مارے سو گیا تھا ۔۔۔۔لیکن وہ رات ہی اسکے لئے ایسی قیامت لائی تھی کہ اسکے رونگھٹے کھڑے ہو گئے تھے

“بائیک چلاتے ہوئے باسم سے ٹکرانا ۔۔۔۔ سامنے سے آتے ٹرک سے بائیک کا ٹکرا کر گرنا اپنی ہی موت کو پوری اذیت کے ساتھ اس نے خواب میں سہا تھا ۔۔۔۔ سب کا رونا بلکنا ۔۔۔ بے قصور باسم کا مارے جانا اسکی فیملی کی تکلیف ۔۔۔۔ اپنے گھر والوں کا دکھ نیناں کا رونا تڑپنا ۔۔۔۔۔ وہ بے اختیار اٹھ کر بیٹھ گیا تھا پسینے سے شرابور تھا پہلے تو اپنے ہاتھ پاؤں دیکھ کر یقین کرنے لگا کہ زندہ بھی ہے کہ نہیں ۔۔۔۔ ورنہ خود کو قبر تک دیکھنے پر موت کا گمان ہونے لگا تھا ۔۔۔۔ سانس بری طرح پھول رہا تھا ۔۔۔۔برابر میں سوئے عاصم کو دیکھ کر بے اختیار اس پر پیار آنے لگا سوئے ہوئے کو پیار کرنے لگا آنسوں آنکھوں سے بہنے لگے تھے ۔۔۔۔۔ پہلی بار ویلنگ کے لئے ایک قبیح سا احساس ہوا تھا۔۔۔۔ وہ خواب ہر گز نہیں تھا ۔۔۔۔ شاید ایک تنبہی تھی جس نے شاہزیب کی آنکھوں سے پردہ اٹھایا تھا ۔۔ورنہ کتنے ہی گھروں میں یہ خواب حقیقت بنکر ٹوٹا ہے۔۔۔۔ جن کے ماں باپ آج بھی اپنے جوان بچوں کو رو رہے ہیں

کتنے ہی بے قصور سڑک کراس کرتے ہوئے حادثے کا شکار ہو جاتے ہیں ۔۔۔۔ پورے جسم اس کا خوف سے لرز رہا تھا ۔۔۔۔ جسم کے مسام جیسے کھل گئے تھے پسینہ پانی کی طرح بہہ رہا تھا حلق ایسا تھا کہ جیسے کانٹے چھب رہے ہوں شاہزیب نے لحاف اتارا عاصم پھر سے خود کہیں تھااور اسکا لحاف کہیں لیکن اس بار شاہزیب کو اس پر غصہ نہیں پیار آیا تھا فورا سے اپنا لحاف اس پر اچھی طرح ڈال کر کمرے سے نکل گیا فریج سے پانی کی بوتل نکال کر منہ لگا کر کئ گلاس وہ پی چکا تھا ۔۔۔۔۔ بوتل واپس رکھ کر دوبارہ کمرے میں آ گیا ۔۔۔اپنے خواب کے بارے میں سوچنے لگا ۔۔۔۔ تو دل پھر سے گھبرانے لگا تھا ۔۔۔۔ وہ نڈر ہونے کے باوجود اس خواب کے زیر اثر خود کو پا کر کانپ سا گیا تھا ۔۔۔۔۔ ایک پل کے لئے سوچا کہ اگروہ سچ میں مر گیا ہوتا تو ۔۔۔۔۔(( کیا ملتااسکو اسکی ویلنگ سے ۔۔۔۔ کیا بختیار صاحب سے انا کی جنگ میں کھیلے جانے والے موت کے گھیل سے کمائے پیسے پا کر خوش ہو جاتے اسکے گھر والے ۔۔۔نہیں ۔۔۔۔ کیا زندگی اتنی معمولی ہے جیسے ہم یوں گنوا دیں ۔۔۔۔ چند تالیاں پیٹنے والوں کے لئے خود کو آگ کے حوالے کر دیں ۔۔۔۔۔ چند پیسوں اور شہرت کی واہ واہ کی خاطر خود موت کو گلے لگا کر خود کشی جیسے عذاب میں خود کو مبتلہ کر لیں۔۔۔۔۔ کیا حاصل ہو گا کچھ بھی نہیں )))اللہ نے اسے ایک موقع دیا تھا سدھرنے اس لئے وقت ضائع کیے بنااسنے وضو کیا اور نوافل پڑھنے لگا دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے تو آنسوں جاری ہو گئے اگر اللہ تعالیٰ سچ میں اسے موقع نادیتے اور وہ مر جاتا تو کیا ہوتا ۔۔۔۔ سچے دل سے روتے ہوئے اس نے توبہ کی تھی ۔۔۔۔

صبح اٹھتے پہلا کام جو شاہزیب نے کیاوہ قیوم صابر کو فون تھااس نے سری لنکا جانے سے انکار کر دیا گاقیوم صابر تواپے سے باہر ہو گیا بہت بحث ہوئی اس نے سارے احسان جتائے جو شاہزیب پر کیے تھے لیکن شاہزیب کی ناں کو ہاں میں نہیں بدل سکا۔۔۔۔

پھر عاتقہ بیگم کے گلے لگ کر ان سے معافی مانگی ۔۔۔۔

“امی مجھے معاف کر دیں “

“جس بات پر تم نے کیا کیا ہے میری جان “اب کیا بتاتا کہ خواب میں کتنی اذیت دی ہے اپنی ماں کو

“بس آج کے بعد اپنی ہر بات مانوں گا اچھے بچوں کی طرح

“تم بس اپنی پھٹپھیاں ذرا آہستہ چلایا کرو مجھے اور کچھ نہیں چاہیے جب باہر ہوتے ہو میری زبان پر آیت الکرسی کاورد رہتا ہے ۔۔۔۔”عاتقہ بیگم تو لا پروائی سے کہہ کر کچن میں چلی گئیں شاہزیب کو شش وپنج میں ڈال گیں میری ماں میری حفاظت کے لئے کیا کچھ نہیں پڑھتی اور میں اپنی ضد اور آنا میں کیا ظلم کرنے کا رہا تھا ان پر ۔۔۔۔(یہ بات ہر اس شخص کی سوچنے کی ہے جو بائیک کو اندھا دھن چلاتے ہیں )

شازمہ کے ساتھ نمیرہ کا ناشتہ لیکر شاہزیب خود گیا تھا ۔۔۔۔۔

خرم اور نمیرہ کو خوش دیکھ کر شاہزیب مطمئن تھا رات کے خواب اب بھی اس کادل دہلا رہا تھا ۔۔۔۔

خرم سے بینچ کر گلے ملا تھا نمیرہ کے سر پر بھی بڑا بن کر ہاتھ رکھا تھا وہ حیرانگی سے بھائی کے بدلے رویے کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔ واپسی پر شاہزیب نے خرم سے چیک کے بارے میں پوچھا ۔۔۔

“شاہو میں نے اس چیک کو کیش ہی نہیں کروایا سب کچھ مینج ہو گیا تھا ۔”۔۔۔خرم نے چیک کمرے سے لا کر شاہزیب کو لوٹا دیا سٹے میں کمایا پیسہ حرام کا ہی ہوتا ہے چاہے موت کے منہ سے ہی گھوم کر کیوں نا ملا ہو ۔۔۔۔ شاہزیب توبہ کر چکا تھا اس لئے سارے چیک چیرٹی میں دیدیے تھے ۔۔۔۔اب نیناں کو فون کرنا باقی تھا ۔۔۔۔۔

رات کو نیناں کو فون پر شاہزیب نے اسکی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا تھا

“نیناں تم چاہتی ہو نا کہ میں ویلنگ چھوڑ دوں “۔”

“ہاں شاہزیب ۔۔۔”۔وہ چہک کر بولی

“ٹھیک ہے مان لی تمہاری بات ۔۔۔۔چھوڑ دی ویلنگ ۔۔۔۔۔۔لیکن تمہارے ابا نے ایک کروڑ حق مہر میں لکھوایا ہے وہ کہاں سے دونگا “

“نکاح مجھ سے ہوا ہے آپ کا پولس سے نہیں ۔۔۔۔ میں نے معاف کیا سب کچھ ‘۔

“سوچ کو میری مینا کل کو مکر مت جانا “”

“کبھی بھی نہیں شاہزیب کیوں مکرو گی “۔”

“طعنہ تو نہیں دو گی نا کہ میں نے حق مہر معاف کروایا ہے “۔”

“شاہزیب ایسی لگتی ہوں میں آپ کو بس مجھے ایسی بات کی خوشی ہے کہ آپ ویلنگ چھوڑ رہے ہیں “۔”ٹھیک ہے اب بات سنو میری ۔۔۔۔ تین ماہ بعد شازی کی شادی ہے ۔۔۔۔۔ مجھے رخصتی چاہیے نیناں ۔۔۔۔ اور میں انا کا کوئی کھیل رانا صاحب کے ساتھ نہیں کھیلنا چاہتا میں جو ہوں ۔۔۔مجھے اسی پر فخر ہے ۔۔۔۔۔ کم ذیادہ جو بھی کماؤں گا بس یہ یقین کر لو کہ جائزاور حلال ہو گا ۔۔۔۔۔اپنے پوپس کو منانا تمہارا کام ہے ۔۔۔۔میں چند دن میں امی ابو کو بھیج رہا ہوں “نیناں اسکی باتیں بے یقینی سے سن رہی تھی ۔۔۔۔ایک رات میں ایسا کیا ہو گیا تھا کہ وہ بدل کہ رہ گیا تھا۔ بلکل پرانہ والا شاہزیب۔۔۔ جیسے پیسوں سے کوئی غرض نہیں تھا ۔۔۔۔

نیناں نے بختیار صاحب کو شادی پر راضی کر ہی لیا تھا ۔۔۔۔۔ تین ماہ بعد نیناں دلہن بنکر اس کے گھر آ چکی تھی ۔۔۔

******

باسم کی شادی بھی نیلو سے ہو گئ تھی اور رامس کی رائمہ سے ۔۔۔۔ دونوں ہی خوش تھیں باسم نے نیلو کا داخلہ یونیورسٹی میں کروا دیا تھا

“باسم مجھے ڈر لگ رہا ہے ۔۔۔اپ پلیز

جھے کلاس کے اندر تک چھوڑ کر آئیے گااور سب لڑکوں سے منع کر دیجیے گا کہ مجھ سے بات نا کریں “پہلی بار جب باسم نیلو کو یونیورسٹی لے جس ے لگا تواسکی گل فشانیاں سن کر ہسنے لگا

“چھوٹی سے بچی ہیں آپ فری ۔۔۔۔ جو میں کلاس روم تک چھوڑ کر آؤں گا اور کہوں گا کہ دیکھوں میری بیگم کا ٹفن کوئی نہیں کھائے گا “باسم کی بات پر وہ خجل سی ہو گئ باسم ہسنے لگا تھا

“میں صرف یونیورسٹی کے گیٹ تک چھوڑو گا باقی آپ خود مینج کریں گیں غلط صحیح سب آپ خود کریں گئیں تبھی تو با اعتماد ہوں گی انسان غلطیوں سے زیادہ سیکھتا ہے ۔۔۔۔اب بیٹھیں بائیک پر “

۔۔۔۔چند مہنوں کی محنت سے ہی وہ کافی حد تک بااعتمادی سے بات کرنے لگی تھی ۔۔۔۔۔ یہی باسم چاہتا تھا

*******…….

شاہزیب کا اگلا لائحہ عمل اب کچھ اور تھا نیا عزم اس کے اندر کلبلا رہا تھا ۔۔۔۔۔ پہلے ون ویلنگ کا خبط سوار تھا اور اب نو ویلنگ ۔کا۔۔۔۔ لیکن صرف اپنی حد تک نہیں ( نا ویلنگ کرو گا نا کرنے دونگا ۔۔۔یہ موت کا کھیل ہے۔۔۔۔کعئی نہیں کھیلے گا “)یہ وہ مقصد تھا جو اب شاہزیب کا نصب عین تھا ۔۔۔۔۔ خرم سیفی اور جمی کے ساتھ اب شاہوں کے گروپ میں باسم بھی شامل ہو چکا تھا لیکن اس بار ارادے کچھ اور تھے نیاعزم تھا

ون ویلنگ کے خلاف ایک ٹیم تیار کرنی تھی نئ نسل کی اصلاح کرنی تھی جو اس موت کے کھیل کو شوق کے نشے میں کرتے ہوئے لقمہ اجل بن رہے تھے انہیں رکنا تھا ۔۔۔باسم تو پہلے ہی شاہزیب کی صلاحیتوں کا دل سے قائل تھا اب اسکے نیک ارادے سن کر ہم قدم چلنے کو تیار تھا ۔۔۔۔

۔۔۔۔۔جو کام ہماری حکومت کا تھا جس پر سب تک کبھی غور ہی نہیں کیا گیا تھا ۔۔۔حکومت کے افسران اور نمائندے طوطا چشمی سے کام لے رہی ہے ۔۔۔۔۔ وہ اب یہ چند لڑکے

اپنی مدد آپ کے تحت کرنے کا عزم رکھتے تھے ۔۔۔سب نے مل کر ایک ٹیم بنائی تھی آج تک ون ویلنگ کی لیکن اب

نو ویلنگ کا نعرہ لیکر نکلنا تھا ۔۔۔۔۔ اور قیوم صابر جیسے لوگوں کے دانت کھٹے کرنے تھے جو نئی نسل کے جوشیلے نوجوانوں کو چند سکے دے کر اپنی جیبیں بھر رہے تھے ۔۔۔۔۔

نیناں نے بھی بہت جلد گھر کے ماحول کو اپنا لیا تھا ۔۔۔۔ عاتقہ بیگم بھی خوش تھیں ۔۔۔۔ بس کھانے بنانے بھی نیناں ہزار کوشش کے باوجود کچھ غلط کر ہی جاتی تھی ۔۔۔۔۔ شازمہ کے وہی گلے شکوے جاری تھے تائی امی کے تنقیدی مزاج کے رونے اور شازل کی۔ بے اعتنائی سے وہ نالہ ہی رہتی تھی ۔۔۔عاتقہ بیگم بھی بیٹی کے ساتھ لگ کر زمرد بیگم کے بارے میں اب تبصرے کرتی تھیں ۔۔۔۔ نمیرہ البتہ خرم کے ساتھ بہت خوش تھی انکی ایک بہت پیاری سی بیٹی تھی ۔۔۔نمیرہ کو اب جہاں سکندر ۔۔۔۔ سالار سکندر سے بڑھ کر خرم ہی اپنا ہیرو لگنے لگا تھا ۔۔۔۔۔ باسم کا کانٹا دل سے کب کا نکل چکا تھا اب وہ کبھی سامنے آ بھی جاتا تو وہ خود ہی پہلو بدل لیتی تھی ۔۔۔۔۔

شاہزیب کوایک اچھی فارم میں جاب مل گئ تھی وہ ہر ماہ نیناں کو بس اتنی عیاشی کروا دیتا تھا کہ برنس روڈ کی چچا کی مشہور اسپائسی چاٹ کے بعد ایک گلاس گنے کا رس وہ اسی میں خوش تھی ۔۔۔

“شاہزیب خالی روڈ ہے نکال لیں بائیک ۔۔۔کیا فرق پڑتا ہے “واپسی پر نیناں نے شاہزیب کو ریڈ لائٹ پر رکے دیکھ کر کہا

“نو میری مینا ۔۔۔۔ پانچ منٹ بعد پہنچ جائیں گئے ۔۔۔لیکن میری ایک بد احتیاطی میرے ساتھ ساتھ تمہاری اور سامنے سے اچانک سے گزرنے والے مسافر کی جان لے سکتی ہے “خواب کس منظر پھر سے شاہزیب کو تڑپا گیا تھا نیناں خاموش ہو گئ تھی

۔رانا بختیار اپنی اکڑ کے ساتھ ویسے ہی ملتے تھے ۔۔۔ لیکن وہ بھی اسوقت دم توڑ چکی تھی جب جڑواں نواسے نانا کی گود میں آئے تھے ۔۔۔۔ اب تو انہیں ہادی اور سعدی نیناں سے بھی پیارے لگنے لگے تھے ۔۔۔۔۔

یہی حال عاتقہ بیگم اور زمان صاحب کا تھا ۔۔۔۔ہر وقت انہیں اٹھائے پھرتے تھے ۔۔۔۔ عاصم کی آج بھی بھابی سے دوستی ذیادہ تھی لیکن اب اسکی باتوں میں لڑکیوں کا ذکر شامل ہونے لگا تھا ۔۔۔۔۔

“نیناں آپی آپ کو پتہ ہے رباب بھی میرے ہی کالج میں پڑھتی ہے بہت لائق فائق ہے بھئ “۔”کچن میں نیناں کے ساتھ کھڑا عاصم اب شاہزیب سے بھی قد نکال چکا تھا اور جو سلاد نیناں کاٹ رہی تھی وہ اٹھا اٹھا کر کھاتے ہوئے بتا رہا تھا

“کون رباب “نیناں نے اس کا ہاتھ پیچھے جھٹک کر اسے گھورتے ہوئے پوچھا

” سر باسم کی چھوٹی بہن اور کون ” بھابی کے خطرناک تیور دیکھ کر اس نے ہاتھ پیچھے کر لیا

‘اووو رباب ہممم “نیناں کی معنی خیز ہممم پر وہ گڑبڑا گیس تھا

۔”یہ ہمم کا کیا مطلب کے ۔۔۔میرا ایسا کوئی چکر وکر نہیں ہے اس کے ساتھ میں نے یونہی بتایا ہے آپ کو “

“ہاں تو میں نے کب کہا کہ کوئی چکر ہے ۔۔۔ وہ میں ایسے کہہ رہی تھی کہ ہممم “نیناں ہسنے لگی تووہ کھسیا کر کچن سے نکل گیا ۔۔۔۔۔

شاہزیب کاگروپ اب کافی حد تک قیوم صابر جیسے لوگوں کو بے نقاب کر چکا تھا ۔۔۔۔ لوگوں کو میڈیا کے ذریعے انکے گھنونے روپ دیکھائے جا رہے تھے کیسے وہ نئ نسل کے نوجوانوں کو ٹریپ کرتے ہیں اور لاکھوں اپنی جیبوں میں بھرتے ہیں ۔۔۔۔

یہ کام تو سب شاہزیب زمان کے سر پر سوار ہو چکا ہے ۔۔۔وہ تو کوئی نیا انقلاب کا کر ہی چھوڑے گا

چلیں بھئں ہو گئ ہیپی اینڈنگ ۔۔۔۔۔”””’

“”””””ختم شد”””””””””

شاہزیب ” نو ویلنگ “کے عزم کا جھنڈا لیکر نکل پڑا ہے۔۔۔تا کہ نئ نسل کے جوان اسقدم کے خلاف اس کا ساتھ دیں ۔۔۔۔۔ میں ایک عورت ہونے کے ناطے قلم کے ذریعے اسکاساتھ دے رہی ہوں ۔۔۔۔۔ تو کیا آپ دیں گئے شاہزیب کا ساتھ ؟ کون کون دے گا شاہزیب کا ساتھ؟

سب سے پہلے تو اپنے بھائی۔۔۔۔ بہنوئی ۔۔۔۔ کزن جو جو بائیک چلاتا ہے انہیں سمجھائیں کہ ذرا آہستہ چلایا کریں ہم پانچ منٹ بعد بھی منزل مقصود تک پہنچ جائیں گئے ۔۔۔۔ اگر ون ویلنگ کا کوئی شوق رکھتا ہے تو انہیں اسے نقصان کے بارے میں بتائیں ۔۔۔۔ یہ خود کشی ہے اپنے ساتھ ساتھ اپنے گھر والوں کے ساتھ بھی ظلم ہے ۔۔۔۔ جو خواب شاہزیب نے دیکھا وہ کئ گھروں میں حقیقت میں قیامت بن کر ٹوٹا ہے ۔۔۔۔۔

اگر اور کچھ نہیں کر سکتے تو پلیز میری اس کہانی کو پرموڈ کریں ۔۔۔ویسے تو سب رائٹر یہ کہتے ہیں ہماری اجازت کے بنا کہیں بھی پوسٹ کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔۔۔۔لیکن میں اس کہانی کی اجازت سب کو دیتی ہوں جہاں چاہیں پوسٹ کریں لیکن میرے نام کے ساتھ شاید کوئی ایسے خطر ناک کھیل سے باز آ جائے جیسے شاہزیب آ گیا ۔۔۔۔ اگر چند لوگ بھی اسے پڑھ کر یہ موت کا کھیل چھوڑ دیتے ہیں تو میں سمجھوں میری محنت رائیگاں نہیں گئ ۔۔۔۔ یقین جائیں کئ راتوں کی نیند خراب کر کے میں یہ سبق آموز ناول لکھا ہے اور مجھے نہیں لگتا کہ اس ٹاپک پر پہلے کسی نے لکھنے کی جسارت کی ہو گئ ۔۔۔۔۔

بہرحال آپ نے اپنے قیمتی وقت میں سے میرا ناول پڑھنے کے لئے وقت نکالا ۔۔۔۔۔ اگر

میں نے کاغذی کرداروں کو جیتا جاگتا سانس لیتا دیکھانے کی کوشش کی تو آپ لوگوں نے ان کی تکلیف میں ان کے ساتھ آنسوں بہائے ہیں۔۔۔ انکی ہنسی کے ساتھ آپ بھی مسکرائے ہیں ۔۔۔۔۔ میں نے شاہو کو ناظمہ آباد کے ایک لڑکے کے طور پر متعارف کروایا ۔۔۔۔ اور پوری کوشش کی کہ وہ آپ کو ناظمہ آباد میں رہنے والے اپاٹمنٹ کے لڑکوں جیسا ہی لگے ۔۔۔۔وہ واقع نڈر اور بے خوف سے ہوتے ہیں اور زبان بھی کچھ ایسی ہی لکھنے کی کوشش کی ہے جیسا کہ اس علاقے کے لڑکے بولتے ہیں ۔۔۔۔ اور یہی شاہو کی شخصیت کو سب سے الگ کرتی ہے اور وہ سب کا فیورٹ بن چکا ہے ۔۔۔۔۔یہ رنگ آپکو میرے اگلے ناول میں بھی نظر آئے گا ۔۔۔۔۔لکھنءبعسلے کی خوبصورتی یہی ہوتی ہے کہ وہ جہاں کی بات کرے وہیں نارنگ بھی چھلکتا ہوا نظر آئے ۔۔۔۔

“ہم چھین لیں گئے تم سے ” بھی آپ کو بہت سے نئے میسجز دینے والا ہے ۔۔۔۔ لیکن ایک الگ انداز سے ۔۔۔۔۔۔ سو میں امید کرتی ہوں کہ میرا اور آپ کا ساتھ ایسے ہی قائم رہے گا