One Wheeling by Umme Hani NovelR50409

One Wheeling by Umme Hani NovelR50409 One Wheeling Episode 30

491.3K
42

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

One Wheeling Episode 30

One Wheeling by Umme Hani

بختیار صاحب پولیس اسٹیشن سے باہر نکل رہے تھے جب بینچ پر بیٹھے زمان صاحب کی نظر انپر پڑی ۔۔۔۔

وہ تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے بختیار صاحب کے پاس پہنچے تھے

“بات سنیں محترم “زمان صاحب انکے نام تک سے واقف نہیں تھے اس لئے انکے قدموں کی رفتار کو روکنے کے لئے انہیں پکارا ۔۔۔۔۔۔ بختیار صاحب نے پلٹ کر انکی طرف دیکھا ۔۔۔یہ وہی شخص تھا جو کچھ دیر پہلے وارث کے آفس میں زبردستی گھسنے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔۔۔ چہرے پر بے بسی اور آنسوں تھے۔۔۔لہجہ میں عاجزی تھی بختیار صاحب نے ایک سرسری سی نظر ان پر ڈالی ۔۔۔۔۔

“جی فرمائیے “بختیار صاحب کو گھر جانے کی جلدی تھی ۔۔۔۔وہ گھڑی کو دیکھتے ہوئے مدافعانہ انداز سے بولے

“میرے بیٹے نے آپ کا کیا بگاڑا ہے ۔۔۔۔کیاقصور ہے شاہزیب کا “شاہزیب کے نام پر بختیار صاحب نے برجستہ گھڑی سے نظر ہٹا کر سامنے کھڑے شخص کو با غور دیکھا

“اوہ ۔۔۔۔۔ تو شاہزیب کے باپ ہو تم ۔۔۔۔۔۔ پروفیسر محمد زمان ۔۔۔۔”وہ لفظ جما کر بولے سر سے پیر تک انہیں حقارت سے دیکھا ۔۔۔۔۔

“اچھے سبق پڑھائے ہیں اپنے بیٹے کو تم نے ۔۔۔۔۔ بڑی اونچی چھلانگ لگانے کے چکر میں ہے وہ ۔۔۔۔۔ مگر شاید یہ بھول رہا ہے کہ مقابل میں رانا بختیار کھڑا ہے ۔۔۔۔جس نے کبھی بھی شکست کھانا نہیں سیکھا ۔۔۔۔۔”وہی متکبرانہ انداز تھا آنکھیں غرور سے چور تھیں

“کیا کیا ہے اس نے “زمان صاحب کی آواز تک پست تھی

“ورغلایا ہے میری معصوم بیٹی کو ۔۔۔۔۔ اپنے پیار کے جال میں پھنسا کر میری دولت پر قبضہ کرنا چاہتا ہے وہ کمینہ ۔۔۔۔۔”‘” یاد رکھنا پروفیسر زندہ نہیں چھوڑو گا اسے ۔۔۔۔۔””””آخری جمعلہ غصے سے انگلی اٹھا کر تنبیہ کرتے ہوئے بختیار صاحب نے زمان صاحب سے کہا زمان صاحب نے عاجزی سے سر جھکا کر ہاتھ جوڑے

“ایسا نہیں ہے میرا شاہزیب ۔۔۔۔۔۔ عورت کی عزت کرنا ہمارے خاندان کے خون میں رچی بسی ہے ۔۔۔اور ۔پیسے کی طمع نہیں ہے اس میں ۔۔۔۔۔ میں سمجھاؤں گا اسے ۔۔۔بس انسپکٹر سے بولیں مجھے ملنے دے میرے بیٹے سے ۔۔۔۔ “وہ منت کرتے ہوئے آنسوں بہا کر بولے بختیار صاحب نے حقارت سے دیکھا

“اچھا تمہیں لگتا ہے کہ وہ تمہارے سمجھانے سے سمجھ جائے گا ؟تعجب کا اظہار کیا گیا

“کیوں نہیں سنے گا ۔۔۔۔ضرور سنے گا میری بات نہیں ٹالے گا “زمان صاحب نے آنسوں صاف کرتے ہوئے پر امیدی سے کہا

“تمہاری بیٹی نے بھی میرے گھر آ کر ایسے ہی دعوے کیے تھے پروفیسر ۔۔۔۔ ہوا کیا ۔۔۔ ابھی میں تمہارے بیٹے کی ہی گل فشانیاں سن کر آ رہا ہوں ۔۔۔۔چیلنج کیا ہے اس نے مجھے ۔۔۔۔” بختیار صاحب نے ایک قدم زمان صاحب کی طرف اور بڑھایا اپنی جانب انگلی کر کے بڑی رعونیت سے کہا

“مجھے ۔۔۔۔رانا بختیار کو چیلنج کیا ہے ۔۔۔۔۔ یہ ہمت آج تک کسی نے نہیں دیکھائی پروفیسر ۔۔۔۔مجھے شکست دینے کے دعوے کر رہا تیرا لڑکا ۔۔۔۔۔منہ کے بل روند کے رکھ دونگا اسے ۔۔۔۔ “بختیار صاحب کی آنکھوں میں خون اترا ہوا تھازمان صاحب کا دل دہلا تھا

“مجھے ایک بار ملنے دیں میرے بیٹے سے میں وعدہ کرتا ہوں روک لوں گا اسے ۔۔۔۔کبھی نہیں ملے گا آپکی بیٹی سے ۔۔۔۔”زمان صاحب کا رنگ فق ہوا تھا دل دہلا تھا

“وعدے کرنا توتم میڈل کلاس لوگوں کی عادت ہے ۔۔۔ بیٹی بھی یہی وعدے کر کے گئ تھی ۔۔۔ بہرحال میں آفیسر وارث کو کہہ دیتا ہوں پہلے اپنے بیٹے سے پوچھ لے وہ مان رکھے گا بھی تیری بات کا کہ نہیں ۔۔۔۔۔میں نے اپنی پوری زندگی میں ایسا ڈھیٹ اور نڈر شخص نہیں دیکھا جیسا تیرا بیٹا ہے ۔۔۔۔۔۔ ۔”۔بختیار صاحب نے جیب سے موبائل نکالا اور وارث کو کال کی

“وارث شاہزیب کا باپ ملنا چاہتا ہے اس سے۔۔۔۔۔ ملنے دو اسے ۔۔۔۔” یہ کہہ کرموبائل بند کیا اور وہاں سے باہر نکل گئے زمان صاحب جلدی سے اندر کی طرف قدم بڑھانے لگے ۔۔۔دل کی بے چینی میں اور بھی اضافہ ہوا ۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں ایک کانسٹبل زمان صاحب کے پاس آیا ان سے یہ تصدیق کی کہ وہی شاہزیب کے والد ہیں پھر انہیں اپنے ساتھ اندر لے گیا جہاں لمبی سی راہداری تھی دائیں بائیں کئی جیلیں بنی ہوئیں تھیں ۔۔۔۔ کچھ قیدی کھڑے ہو کر باہر کو جھانک جھانک کر انہیں دیکھنے لگے ۔۔۔۔کچھ لاپروائی سے اپنی جگہ بیٹھے رہے زمان صاحب دائیں بائیں دیکھتے ہوئے کانسٹبل کی تقلید میں چلتے رہے ۔۔۔۔راہداری کے آخری سرے پر بائیں جانب ایک گلی میں داخل ہوئے ہی تھے کہ ایک چھوٹی سی جیل تھی ۔۔۔۔۔جہاں شاہزیب کے ساتھ وارث خانزادہ بھی موجود تھا ۔۔۔۔۔ لیکن شاہزیب زمان صاحب کی آمد سے بے خبر ہی تھا ۔۔۔جیل کادروازہ کھلا ہوا تھا ۔۔۔۔شاہزیب کی انکی جانب پشت تھی وہ بے اختیار ہی دروازہ کھولے اندر داخل ہوئے

“شاہزیب ” آنسوں سے لبریز آواز سن کر شاہزیب نے پلٹ کر دیکھا اور حیران رہ گیا تھا وہ یکلخت ہی اسکے سینے سے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے ۔۔۔۔۔پہلی بار ایسا ہوا تھا ۔۔۔۔۔ شاہزیب نے اپنے باپ کو یوں بلک بلک کر روتے ہوئے دیکھا تھا ۔۔۔۔نا غصہ تھا نارعب نا سختی ۔۔۔۔۔۔ بس آنسوں تھے اور بےبسی تھیں۔۔۔۔

“ابو “شاہزیب کی آنکھیں بھی ڈبڈبا گئیں ۔۔۔۔دونوں بانہیں انکے گلے ڈال دیں پہلی بار زمان صاحب کے گرفت شاہزیب کے گرد مضبوط تھی ۔۔۔۔انہون کے اپنے سینے سے بینچ ہی تو لیاتھا ایسے جیسے اسے اپنے اندر سمو لینا چاہتے تھے ۔۔۔۔۔ کمر پر لگے ڈنڈوں سے پڑنے والے زخموں پر زمان صاحب کی مضبوط گرفت نے تکلیف کی شدت کو بڑھایا تھا شاہزیب نے زور سے آنکھیں بینچیں تھی مگر منہ سے “اف” تک نہیں نکالا نا ہی انہیں یہ احساس ہونے دیا کہ کہ وہ کس اذیت سے دو چار ہے ۔۔۔یا شاید پہلی بار وہ اپنے باپ کا یہ روپ دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔ ماتھے پر تیوری چڑھائے با رعب آواز میں ہر بات پر نوک ٹوک کرنے والے زمان صاحب تو کہیں سے نہیں لگ رہے تھے ۔۔۔۔

وہ شاہزیب کے چہرے کو ہاتھوں لیے اسے اسکے گرنے والے آنسوں اپنی ہتھیلیوں میں جذب کر رہے تھے ۔۔۔۔۔

” شاہزیب میرے بچے ۔۔۔۔ مارا ہے ان لوگوں نے تمہیں “

زمان صاحب کے استفسار پر شاہزیب نے نظریں چرائیں اور زمان صاحب کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیکر چومنے لگا

“نہیں ابو کسی نے کچھ نہیں کہا ۔۔۔۔مارا بھی نہیں ہے “شاہزیب نے دل کڑا کر کے جھوٹ بولا ورنہ چہرہ اس بات کا منافی تھا

“کیوں باپ سے جھوٹ بول رہے ہو ۔۔۔۔”وارث خانزادہ دونوں باپ بیٹے کی محبت دیکھ کر شاہزیب نے سر پر پہنچ کر بولا

“آفیسر مجھے اپنے ابو سے اکیلے بات کرنی ہے” “شاہزیب نے وارث کی طرف دیکھ کر کہا

“ہاں کرو بات مگر جھوٹ مت بتاؤں انہیں ۔۔۔۔”وارث نے شاہزیب کی آنکھوں میں جھانکا ۔۔۔۔۔

“پروفیسر صاحب سمجھاؤں اپنے بیٹے کو کیوں جان گنوانا چاہتا ہے اپنی ۔۔۔۔”یہ کہہ کر وارث خانزادہ تو چلا گیا شاہزیب نظریں جھکا گیا

“کیوں کر رہے یہ سب ۔۔۔۔”زمان صاحب کے استفسار پر اس نے نظریں جھکائیں

“ابو میں ٹھیک ہوں کچھ نہیں ہوا ہے مجھے “

“شرٹ اتارو اپنی “زمان صاحب کی آواز پہلی بار کپکپائی تھی جو زخم۔بیٹے کے وجود پر موجود تھے انہیں دیکھنے کی تاب شاید وہ نہیں کر پا رہے تھے

“ابو کچھ ہوا ہے مجھے “شاہزیب دو قدم پیچھے ہٹا ۔۔۔۔شرٹ اتارنے کا مطلب اپنے باپ کو مزید اذیت دینا تھا جو وہ نہیں چاہتا تھا ۔۔۔۔

“جن رخموں کو تم مجھ سے چھپانے کی کوشش کر رہے ہو ۔۔۔وہ میرے دل پر ناسور بن کر مجھے تڑپارہے ہیں شاہزیب ۔۔۔۔میں نے بچپن سے اب تک اپنی بساط میں رہ کر تم سب بہن بھائیوں کی ضرورتوں اور خواہشوں کا خیال رکھنے کی پوری کوشش کی ہے ۔۔۔۔بدلے میں بس تم لوگوں سے تمہاری بھلائی ہی مانگی ہے ۔۔۔۔کیاآج تم اگر میں اپنے لئےکچھ مانگو تو انکار تو نہیں کرو گئے”زمان صاحب کیا مانگنا چاہتے تھے شاہزیب اچھی طرح جانتا تھا ۔۔۔۔مگر بے بسی سے روتے ہوئے باپ کو منع بھی نہیں کر سکتا تھا مرے مرے قدم اٹھاتا ہوا انکے قریب آیا ۔۔۔گھٹنوں کے بل بیٹھ کر سر جھکا کر بولا

“آپ حکم کریں ابو۔۔۔۔ “

“چھوڑ دو اس لڑکی کو ۔۔۔۔۔”زمان صاحب کی فرمائش وہ پہلے سے جانتا تھا ۔۔۔چہرہ اوپر کر کے پھیکی سی مسکراہٹ چہرے پر سجائی اور انہیں دیکھنے لگا ۔۔۔

“چھوڑ دیا ۔۔۔۔”شاہزیب نے برجستہ جواب دیا تھا ایک لمحہ سوچے بغیر ۔۔۔۔

پھر کھڑا ہو گیا زمان صاحب کے چہرے پر اطمینان سا پھیل گیا چہرے پر چھائی پژمردگی غائب ہونے لگی

“اب نہیں ملو گا اس سے ۔۔۔۔نا ہی کوئی ضد کرونگا ۔۔۔۔۔آپکے لئے ایسی ہزار نیناں قربان ہیں ابو ۔۔۔میرا وعدہ ہے آپ سے جب تک آپ نہیں چاہیں گئے نیناں کو نہیں اپناوں گا ۔ لیکن ایک وعدہ آپ کو بھی کرنا ہو گا

“ہاں کہو ۔۔۔۔۔”

“میں رانا بختیار کے سامنے جھکوں نہیں ابو ۔۔۔۔۔۔مجھے اس کا غرور پاش پاش کرنا ہے ۔۔۔۔۔ بات اب محبت کی ہی نہیں انا کی بھی ہے ۔۔۔۔۔ ابو آپ ہی نے سیکھایا ہے کہ کسی کے پیسے سے مرعوب نہیں ہونا چاہیے ۔۔۔۔نا کسی کے اونچے درجے کی وجہ سچ بولنے سے گھبرانا نہیں چاہیے ۔۔۔۔۔۔ اپنی خودی کو ہمیشہ بلند رکھنا چاہیے ۔۔۔۔ میں کیوں جھکوں اس گھمنڈی شخص کے آگے ۔۔۔۔۔کیون ہار مانو۔۔۔۔ اسے یہ احساس کیوں دلاؤں کہ وہ اپنے اعلی مقام اور پیسے کے بل بوتے پر جو چاہےکر سکتا ہے ۔۔اور میں صرف اس لئے پیچھے ہٹ جاؤں کہ بے بس ہوں اسکی حیثیت کا نہیں ہوں ۔۔۔۔۔ آپ ہی کہتے ہو ظلم کو سہنے والا بھی ظالم ہی ہوتا ہے جو خود پر ظلم ہونے دیتا ہے۔۔۔ ظلم کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے چپ رہ کر سہتے رہنا ظالموں کا حوصلہ بلند کرتا ہے پھر میں چپ کیوں رہوں ابو ۔۔۔۔۔ٹھیک ہے اگر محبت میرا جرم ہے بھی ۔۔ تو اسکی سزا جیل تو ہر گز نہیں ہے ۔۔۔۔۔میں بنا کسی جرم کے سب کی نظروں میں مجرم بن چکا ہوں میرا قصور کیا ہے ابو ۔۔۔۔چور نہیں ہوں ڈاکہ نہیں ڈالا ۔۔۔نا ہی کوئی قتل ثابت ہے مجھ پر ۔۔۔دن دھاڑے مجھے میرے گھر سے بنا ارسٹ وارنٹ کے گرفتار کیا جاتا ہے بنا کسی ایف آئی آر کے مجھے جیل میں رکھا جاتا ہے بنا کسی ثبوت اور گواہ کے کسی لا اینڈ آرڈر کے مجھ پر تشدت کیا جاتا ہے ۔۔۔۔کیا یہ میرے ساتھ ظلم نہیں ہے ۔۔۔۔۔”شاہزیب کی بات پر انہیں سے اعتراف تھا وہ سچ کہہ رہا تھا اپنے خون اور تربیت پر دل نے فخر سا محسوس کیا تھا ۔۔۔لیکن معاشرہ اور اسکے بنائے گئے اصول کتابی باتوں سے کہاں میل کھاتے ہیں

“وہ شخص تمہیں مار ڈالے گا شاہزیب ۔۔۔سمجھتے کیوں نہیں کو تم ۔۔۔۔۔ ہمہیں کچھ نہیں کہنا نا ہی کسی سے بدلہ لینا ہے ۔۔۔۔بس تم معافی مانگ لو اس سے “زمان صاحب کی غیر متوقع بات نے شاہزیب کو متنفر کیا تھا

“نہیں ابو یہ بات نہیں مانو گا ۔۔۔۔اسے میں اچھی طرح سے بتاؤں گا کہ شاہزیب زمان اپنا بدلہ لینا جانتا ہے ۔۔۔۔۔”اسکی آنکھوں جنون سا بھرنے لگا تھا زمان صاحب گھبرائے تھے

“شاہزیب میں نے ہی کہا تھا تم سے ظلم کے خلاف ڈٹے رہو ۔۔اب میں ہی کہہ رہا ہوں کے چپ ہو جاؤں کچھ مت کہو ۔۔۔۔۔۔ میں تمہیں نہیں کھو سکتا ۔۔۔ڈر گیا ہوں میں ۔۔۔۔ بہت ڈر چکا ہوں ۔۔۔۔ اپنی ذات پر بہت کچھ سہا ہے میں نے اور ڈٹ کر مقابلہ بھی کیا ہے مگر ۔۔۔۔تم ۔۔۔نہیں تمہارے لئے ایسی ہمت نہیں رکھتا ۔۔۔۔۔شاید ٹھیک ہی کہتے سب کہ انسان خود پر جبر سہہ لیتا ہے پر اولاد پر آنچ بھی آئے تو تڑپ جاتا ہے ۔۔۔۔۔ میں ڈر گیا ہوں شاہزیب ۔۔۔۔تمہیں کھونے کا حوصلہ نہیں ہے مجھ میں “

“ابو مجھے لگا تھا کہ آپ میرا حوصلہ بڑھائیں گئے ۔۔۔۔۔”شاہزیب نے ایک آس بھری نظر سے زمان صاحب کو دیکھا

“شاہزیب بہت خطرناک ہے وہ اور ضدی بھی ہے ۔۔۔بے رحم ہے ۔۔۔۔۔کچھ بھی کر گزرے گا تمہارے ساتھ

“تو کیا میں ہار مان لوں یہ سمجھ لوں کہ ظالم کا بول بالا ہے ۔۔۔۔ نہیں ۔۔۔۔یہ نہیں کرونگا ۔۔۔۔۔ میں لڑو گا ہار نہیں مانو گا ۔۔۔۔۔ اسے بھی تو پتہ چلے کہ عام انسان جب اپنی طاقت دیکھانے پر آتا ہے تو کیا کچھ نہیں کر سکتا ۔۔۔۔۔”شاہزیب کے حوصلے اب بھی بلند تھے ۔۔۔زمان صاحب کو اسکی آنکھوں میں وہیں عظم کی جوت جلتی دیکھائی دے رہی تھی جو کبھی انکی آنکھوں میں روشن ہوا کرتی تھی ۔۔۔۔ آج انہیں شاہزیب میں اپنا ہی عکس نظر آ رہا تھا ۔۔۔۔ دل اسکے لئے بس دعا گو تھا ۔۔۔۔۔۔بیٹے کے سامنے پھر سے خود کو ہارتا ہوا محسوس کر رہے تھے ۔۔۔۔گہری سانس بھری

اسکے کندھے کو تھپتھپا کر وہاں سے باہر نکل آئے جانتے تھے کہ وہ پار نہیں مانے گا ۔۔۔۔۔

*******………

باسم نے تاسف بھری نگاہ سے نیلو کے والد کو دیکھا تھا ۔۔۔۔۔رائمہ جلدی سے آگے بڑھی اور زمین سے ڈوپٹہ اٹھا کر پتھر کے مجسمہ بنی نیلو کے گرد لپٹنے لگیں وہ کسی بے جان بت کی طرح اپنے بابا کو دیکھ رہی تھی جنہوں نے خود اس کے کردار پر بد کی مہر لگا دی تھی ۔۔۔۔۔۔ اس کا دل چاہا زمین پھٹے اور وہ اندر سما جائے ۔۔۔۔۔۔

باسم آگے بڑھا اور نیلوفر کے والد کے سامنے کھڑا ہو گیا

“آپ جانتے ہیں سارے جہان کا آوارہ گرد ہے یہ لڑکا ۔۔۔جھوٹا بھی ہے ۔۔۔۔۔ اتنی بے قیمت ہے آپکی بیٹی جو اسکے حوالے کر رہے ہیں “نیلو کے والد کی آنکھوں سے آنسوں بہے تھے

“بہت قیمتی تھی کچھ دیر پہلے ۔۔۔۔بے قیمت تو بس ابھی ہوئی ہے “وہ تاسف سے بولے

“یہ جھوٹ بول رہا ہے ۔۔۔بکواس کر رہا ہے ۔۔۔۔۔”باسم کی آواز پہلی بار بلند ہوئی تھی اس لڑکے کا ایک رنگ آ کر گزرا تھا

“جانتا ہوں ۔۔۔۔۔۔ “وہ نظریں چرا کر بولے باسم متعجب ہوا

“جانتے ہیں پھر بھی ۔۔۔۔۔زندگی برباد کرنا چاہتے ہیں اپنی بیٹی کی “باسم بے یقین تھا متاسفانہ لہجے سے بات کر رہا تھا ۔۔۔۔ انہوں نے ہاتھ پکڑا باسم کا اور کمرے سے باہر لے آئے جہاں جھوٹا سا گیلری نما صحن تھا وہاں سے گلی صاف نظر آتی تھی چھوٹی سے گلی تھی گھر کے ساتھ گھر جڑے ہوئے تھے۔۔۔۔نیلو کی آوازیں کہاں تک نہیں پہنچی تھیں ۔۔۔۔۔کافی لوگ انکے گھر کے گیٹ کے پاس جمع چہ میگیاں کر رہے تھے تھے ۔۔۔۔ کافی خواتین اپنی چھتوں اور کھڑکیوں سے جھانک جھانک کر یہ تماشا دیکھ رہیں۔ تھیں ۔۔۔۔

“یہ دیکھ رہے ہو تم ۔۔۔۔ یہ لوگ بہت کچھ سن چکے ہیں میری بیٹی کے بارے میں ۔۔۔۔ بنا دیکھے ہی میری بیٹی کی پارسائی پر بدکرداری کا دھبہ لگا چکے ہیں ۔۔۔۔۔ کون آئے گا اسے یہاں بہانے ۔۔۔۔۔کون دیتا ہے ایسی لڑکی کو عزت ۔۔۔جسے تہنا کسی غیر لڑکے کے ساتھ ایک کمرے میں اس حالت میں دیکھ لے جس میں میری بیٹی کھڑی ہے ۔۔۔۔وہ بے قصور ہے ۔۔۔۔ یہ بات ان لوگوں میں سے بھی بہت سے جانتے ہوں گئے مگر کوئی بھی عزت کی چادر نہیں پہنائے گا ۔۔۔۔ کوئی ایسی لڑکی کو اپنی بیوی اور بہو نہیں بنائے گا ۔۔۔۔۔بس دوسروں کے دامن پر کیچڑ اچھالنا آسان ہے وہ سب اچھالیں گئے ۔۔۔۔مشکل تو داغوں کو مٹانا ہے ۔۔۔۔ بہتر یہی ہے کہ یہ لڑکا ہی اسے اپنے گھر لے جائے کم از کم یہ طعنہ تو نہیں دے گا کہ کس مرد کے ساتھ تنہا تھی کمرے میں ۔۔۔۔”ایک سچ تھا جو وہ بے بس باپ کہہ رہا تھا ۔۔۔۔ لوگ کہاں ایسا ظرف رکھتے ہیں ۔۔۔(حق کی آواز اٹھانا پتہ ہے کیوں مشکل ہے ۔۔۔۔کیونکہ انسان کے ساتھ قدم ملانے والا ہمہیں حق پر مان بھی لے تو اول تو قدم اٹھاتا نہیں ہے ۔۔۔اگر اٹھا بھی لے تو بہت دور تک کی مسافت سے گھبرا کر ہی پیچھے ہٹ جاتا ہے )

باسم سمجھ سکتا تھا کہ نیلو کے والد بھی مجبور تھے ۔۔۔اور نیلو بھی جو پتھر کی مورت بنی کھڑی تھی ۔۔۔۔۔جس کے آنسوں تک آنکھوں میں پتھرا گئے تھے ۔۔۔۔۔

نیلو کے بابا رو رہے تھے ۔۔۔پھپو نے آنکھیں چرائیں تھیں ۔۔۔۔۔ اپنی بدلے کی آگ میں کتنا بڑا ظلم کر بیٹھی تھی ۔۔۔۔باسم مودبانہ لہجے میں ان سے کہا

” آپکی عزت کو اگر میں اپنی عزت بنانا چاہوں تو اجازت دیں گئے مجھے ۔۔۔۔ میراوعدہ ہے کبھی بھی فری کو طعنہ نہیں دونگا ۔۔۔۔ میرے دل میں اسکی عزت اور احترام میں کبھی کمی نہیں آئے گی ۔۔۔۔۔”باسم بلا تامل بولا تھا نیلو کے والد نے تشکر بھری نظر سے اسکی طرف دیکھا ۔۔۔۔کبوتر باز فوراسے آگے بڑھا ۔۔۔۔

“یہ غلط ہے بات ہے بڑے میاں ۔۔۔پہلے یہ فیصلہ تم نے میرے حق میں دیا ہے ۔۔۔۔۔”وہ گڑبڑا کر بولا

“نکلو میرے گھر سے ۔۔۔۔ میرافیصلہ پتھر پر لکیر نہیں کہ بدل نا سکوں۔۔۔ وہ میری مجبوری تھی ۔۔۔۔جو اب نہیں ہے “نیلو کے والد کی پست آواز میں جیسے کسی نے روح بخش دی تھی وہ خوش تھے باسم بات سن کر اس کی شرافت کے دل سے قائل بھی تھے ۔۔۔۔ انہیں بھلا کیونکر انکار ہونا تھا ۔۔۔۔۔۔ کبوتر باز پھپو کے پاس پہنچ گیا

“اے بڑھیا تو تو کہہ رہی تھی کہ لڑکی ہر حال میں مجھے ہی ملے گی ۔۔۔۔ اس کی خاطر بدنامی بھی مول لی ہے میں نے اور پچاس ہزار بھی تجھے دیے ہیں ۔۔۔نکال میرے پیسے “کبوتر باز کی بات پر پھپو کا رنگ فق ہوا تھا ۔۔۔۔چور نظروں سے بھائی طرف دیکھا ۔۔۔۔

نیلو کے والد غصے سے بہن کی طرف بڑھے تھے ۔۔۔۔

“مجھے شک تو تھا تم پر مگر دل نہیں مان رہا تھا ۔۔کسی بہن ہو کر تم جسکا نمک کھایا اسی کی بیٹی کو رسوا کرنے سے پہلے ایک بار بھی نہیں سوچا ۔۔۔۔تم نے بہن بھائی کے رشتے کو شرمندہ کر کے رکھ دیا ہے شگفتہ ۔۔۔کون سی خدمت نہیں کی میری بیٹی نے تمہاری ۔۔۔۔۔ اب دو اسے اسکے پیسے اور دفع کرو اسے یہاں سے اور ہاں کرو اپنے بیٹے کو ابھی فون کہ وہ تمہیں لیکر جائے ” نیلو کے باپ نے غصے سے کہا

“معاف کر دو بھائی ۔۔۔۔۔غلطی ہو گئ مجھ سے ۔۔۔۔ وہ کمینہ کہاں مجھے رکھے گا اپنے پاس ۔۔۔۔کہاں جاؤں گی میں “پھپو ٹسوئے بہانے لگیں

“ٹھیک ہے پھر تیاری کر لو اپنی دارلامان چھوڑ آؤں گا تمہیں کل ۔۔۔۔۔ مگر اب اپنے گھر پر ہر گز نہیں رکھوں گا ۔۔۔۔۔۔” نیلو کے والد نے حتمی انداز سے کہاپھپو روتے ہوئے اپنے کمرے میں چلی گئیں کبوتر باز بھی گھر سے چلا گیا نیلو کے والد رابعہ بیگم کے پاس آئے

“بہن میں احسان مند ہوں آپ کا ۔۔۔۔۔”

“ایسا مت کہیں بھائی صاحب احسان کی بات کر شرمندہ مت کریں نیلو میری بیٹی ہی ہے ۔۔۔اور ہمیشہ وہ مجھے ماں جیسا ہی پائے گی ۔۔۔۔ ویسے تو میں خود آنے ہی والی اس سلسلے میں ۔۔۔۔لیکن شاید بات یوں ہی ہونا مقصود تھا ۔۔۔۔۔۔ اب اگر برا نا لگے تو میں اپنی بیٹی کو رسم کی انگوٹھی ابھی پہنا دوں باقی رائمہ کی شادی پر دھوم دھام سے منگنی کروں گی دونوں کی ۔۔۔۔۔”رابعہ بیگم بہت خوش تھیں اپنے بیٹے پر نازاں تھیں ۔۔۔۔ کبھی اس نے کسی کے سامنے شرمندہ نہیں ہونے دیا تھا ۔۔۔۔۔

“جی کیوں۔ نہیں “نیلو کے والد مسکرائے آنکھوں سے آنسوں صاف کیے

“امی انگوٹھی باسم کو پہنانے دیں نا ۔۔۔۔انکل آپ کو اعتراض تو نہیں ہو گا “رائمہ نے نیلو کے والد سے پوچھا ۔۔۔۔۔

“نہیں اعتراض کس بات کا جب بیٹی اسے دے سکتا ہوں تو یہ باتیں قابل اعتراض نہیں رہتیں ۔۔۔۔”رابعہ بیگم نے اپنی انگلی سے سونے کی انگوٹھی اتار کر باسم کو پکڑائی نیلو ابھی وہیں کھڑی کھڑی آنسوں بہا رہی تھی۔۔۔۔۔ لیکن اب آنسوں اپنی۔ خوش قسمتی پر بہہ رہے تھے ۔۔۔۔۔باسم نے انگوٹھی پکڑی اور چلتے ہوئے نیلو کے پاس آ کر رک گیا

“کچھ دیر اسکے بہتے ہوئے آنسوں دیکھتا رہا

“اجازت ہے فری ؟”باسم کی بات پر بڑی مشکل سے نیلو کی پلکیں لزرتے ہوئے اٹھیں تھیں

“آپ کی اجازت میرے لئے بہت اہمیت رکھتی ہے فری ۔۔۔۔ اجازت نہیں دیں گی تو خاموشی سے چلا جاؤں گا ۔۔۔۔”باسم اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھ رہا تھا ۔۔۔۔

نیلو نے ہچکیوں کے ساتھ سر اثبات میں ہلایا تھا ۔۔۔۔۔

“پھر زندگی کی شروعات آنسوں سے کیوں پلیز ہو ہوا اسے بھول جائیں ۔۔۔۔٫”یہ ایک اور نئی فرمائش تھی مگر نیلو کے بس میں کہاں تھا مسکرانا ۔۔۔۔

باسم نے اپنا ہاتھ اسکی طرف بڑھایا ۔۔۔نیلو نے بھی اپنا ہاتھ اسکے ہاتھ میں رکھ دیا تھا ۔۔۔۔انگوٹھی پہناتے ہی باسم پیچھے ہٹ گیا تھا ۔۔۔۔۔نیلو کے والد نے بیٹی کو سینے لگایا تھا

“مجھے معاف کر دو نیلو ۔۔۔میں مجبور تھا ۔۔۔۔۔”نیلو کے ساتھ وہ بھی پھوٹ پھوٹ کر رو رہے تھے

“بابا لیکن میں تو بے قصور تھی پھر ۔۔۔۔۔۔مجھے کیوں کنویں میں پھنکنے لگے تھے ۔۔۔۔”

“معاف کر دو اپنے بابا کو “۔۔۔۔رابعہ بیگم نے آگے بڑھ کر نیلو کے کندھے سے اسے تھپتھپایا

******……..

پوری رات نیناں بے ہوشی کے عالم میں صرف شاہزیب کے نام کا ہی ورد کرتی رہی ۔۔۔۔۔ جیسے اس سے ہمکلام ہو رات بھر بختیار صاحب نیناں کے کمرے میں کرسی پر ہی بیٹھے اسے دیکھتے رہے ۔۔۔۔۔ بھوک پیاس سے نڈھال ۔۔۔۔خشک ہونٹوں پر بس ایک نام تھا ۔۔۔وہ تھا شاہزیب کا ۔۔۔مضمحل سی حالت ٹوٹے پھوٹے جمعلوں میں وہ اسی سے محو گفتگوں تھی

“چلے جاؤں یہاں سے ۔۔۔۔۔شاہ زیب ۔۔۔یہ لوگ مار۔۔ ڈالیں گئے۔۔۔۔ تمہیں ۔۔۔۔۔مجھے ساتھ لے چلو۔۔۔۔۔ مجھے نہیں رہنا یہاں ۔۔۔۔”

وہ بے چینی سے سر ہلانے لگتی کبھی غنودگی میں ہاتھ پاؤں چلانے لگتی ہاتھ پر لگی ڈرپ ختم ہو چکی تھی ۔۔۔۔بختیار صاحب نے ڈرپ خود اتار کر کنولا کو بند کیا ۔۔۔۔۔ وقفے وقفے سے اسکی آنکھوں سے آنسوں بہہ رہے تھے ۔۔۔۔ اپنی بے بسی پر انکا بس نہیں چل رہا تھا کہ ہر چیز کو توڑ کر فنا کر کے رکھ دیں ۔۔۔۔۔ اس لڑکے نے نا جانے کیا گھول کر پلا دیا تھا نیناں کو ۔۔۔۔کتنا تنفر بھر چکا نیناں کے دل میں باپ کے لئے کہ غنودگی میں بھی وہ انہیں ظالم ہی سمجھ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔

“پانی ۔۔۔۔۔پانی “شاہزیب کے علاؤہ اب یہ لفظ اسکے خشک ہونٹوں سے ادا ہوا تھا ۔۔۔۔۔بختیار صاحب نے کمرے میں نظریں گھمائیں کہیں پانی موجود نہیں تھا فٹافٹ سے کمرے سے نکلے کچن میں رکھے فریج کو کھولا ۔۔۔۔ فریش اور انرجی ڈرنک سے بھرے فریج میں جلدی سے جوس نکالا گلاس میں ڈال کر کمرے میں کے گئے گلاس سائیڈ ٹیبل پر رکھا نیناں کے پاس بیٹھ گئے اس کے بے جان سے سر کو اپنے بازو پر رکھا ۔۔۔ وہ آنکھیں کھولنے کی کوشش کر رہی تھی مگر کھول نہیں پا رہی تھی ۔۔۔۔جوس بختیار صاحب نے اپنے ہاتھوں سے اسے گھونٹ گھونٹ پلایا ۔۔۔۔۔ آدھے گلاس کے بعد ہی وہ منہ پیچھے کرنے لگی ۔۔۔۔۔ بیزاری سی دیکھانے لگی بختیار صاحب نے گلاس واپس سائیڈ ٹیبل پر رکھا نیناں جو پھر سے تکیے پر لیٹا دیا ۔۔۔۔۔۔

*******…….

وارث خانزادہ زمان صاحب کے جاتے ہی شاہزیب کے پاس آگیا چہرے پر وہی خباثت بھری مسکراہٹ سجائے ۔۔۔۔۔

“ہاں تو میرے مجنوں ۔۔۔۔۔آج کیسے تواضع کرو تمہاری ۔۔۔۔ ” وہ ہنس رہا تھا آنکھوں خباثت سی ٹپک رہی تھی ۔۔۔۔۔ شاہزیب خاموش ہی رہا

“تیری لیلی کا باپ تو سنگسار کا حکم نامہ جاری کر گیا ہے تمہارے لئے ۔۔۔۔۔بس ایک جان نا لینے کا ہی احسان کیا ہے اس نے تجھ پر ۔۔۔۔۔”شاہزیب اسبات مسکرانے لگا

” یہ تو تم سوچوں کہ میرے لئے کیا سزا تجویز کرنی ہے ۔۔۔…..”

“ویسے آپس کی بات ہے میاں ۔۔۔۔۔ وجہ کیا ہے اتنی ہٹ دھرمی کی ۔۔۔۔ دولت تو ہو نہیں سکتی ورنہ چیک بک تو سیٹھ اپنے ساتھ لایا تھا ۔۔۔۔ اور تو جتنی رقم لکھتا وہ بنا سوچے سمجھے تجھے دے دیتا بڑا دیالو ہے سیٹھ ۔۔۔۔۔۔ میرا چیک بھی میری سوچ سے بڑھ کر ملا ہے مجھے ۔۔۔۔۔اب رہ گی محبت ۔۔۔۔؟ تو بابا اپنے کو کو یہ بھی ہضم نہیں ہو رہی ۔۔۔۔ کون کھاتا ہے اتنی مار صرف ایک لڑکی کی محبت میں ۔۔۔۔۔ “

“تم اپنے کام سے کام نہیں رکھ سکتے ۔۔۔۔۔۔ حکم کے غلام ہو تو حکم کی تکمیل کرو ۔۔۔۔۔ محبت کرنے کے لئے انسان کا انسان ہونا ضروری ہے ۔۔۔۔اور احساس سے بھرا دل ہونا ضروری ہے ۔۔۔۔۔۔ تم جیسے انسپکٹر ان باتوں کو نہیں سمجھ سکتے ۔۔۔۔جو پیسوں کو ہی اپنا ایمان سمجھتے ہیں “شاہزیب نےبتسف سے کہا

“بکو مت سمجھے “وارث خانزادہ نے شاہزیب کو سامنے کے بالوں سے پکڑا ۔۔۔۔غصے سے پھنکار کر بولا ۔۔۔

“بہت لمبی زبان ہے تمہاری ۔۔۔۔۔۔ چاہوں تو ابھی کاٹ کے پھنک دوں ۔۔۔۔۔ مگر نہیں سیٹھ کی اجازت نہیں ہے ۔۔۔۔۔ کل تو ویسے بھی سیٹھ کی بیٹی کی شادی ہو جائے گی اور تمہاری یہاں سے چھٹی اس لئے آج کی رات تو تمہیں چھوڑو گا نہیں ۔۔۔۔ چلو شرٹ اتارو اپنی “وارث خانزادہ نے جارحانہ انداز سے اسکے بال نوچتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔پھر اسے جھٹکے سے چھوڑا

پھر اپنے پیچھے کھڑے کانسٹبل سے کہا ۔۔۔

“میں اپنے آفس میں جا رہا ہوں کھانا وانا کھا کر چائے پی کر آؤں گا ۔۔۔۔۔ تب تک اسے دونوں ہاتھ پیچھے کو باندھو اور پیر بھی باندھ دینا ۔۔۔۔۔آج تو اسکاوہ حشر کرو گا کہ خود کو بھی پہچان نہیں پائے گا ۔۔۔۔۔ “وراث شاہ یہ کہہ کر چلا گیا ۔۔۔۔کانسٹبل شاہزیب کو شرٹ اتارنے کا کہنے لگا ۔۔۔۔۔

******………******

زمان صاحب کو چہرہ جھکائے اندر داخل ہوتے دیکھ کر عاتقہ بیگم کو تشویش سی ہونے لگی

“شاہزیب کہاں ہے زمان ۔۔۔۔ساتھ کیوں نہیں لائے اسے “

“آ جائے گا ۔۔۔۔”وہ نظریں جھکائے صوفے پر ڈھے گئے

“کب آئے گا ۔۔۔ابھی کیوں نہیں آیا ۔۔۔۔” وہ بے چین ہوئیں زمان صاحب نے صوفے کی پشت سے سر ٹکا کر آنکھیں بند کر لیں

“عاتقہ کوئی سوال مت کرو ۔۔۔۔۔ اس وقت جواب نہیں ہے میرے پاس تمہارے کسی بھی سوال کا ۔۔۔۔۔ “تھکے تھکے لہجے سے وہ بول رہے تھے ۔۔۔۔۔۔

عاتقہ بیگم کی دبی دبی سسکیاں اسکی سماعتوں میں گونجتی رہیں وہ آنکھیں بند کیے بیٹھے رہے ۔۔۔۔

کیا جواب دیتے ۔۔۔۔ شاہزیب اس بار حق ہر تھا ۔۔۔۔ حق کی لڑائی کب کسی کے لئے آسان ہوتی ہے ۔۔۔۔۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ انجام کیا ہو گا مگر یہ جانتے تھے وہ پیچھے نہیں ہٹے گا ۔۔۔۔۔

*******………

دوپہر میں نینان کی آنکھ کھلی تھی ۔۔۔۔۔ خود کو بہت مضمحل محسوس کر رہی تھی ۔۔۔۔اٹھ کر کچھ دیر بیڈ پر بیٹھی اپنا چکراتا ہوا سر پکڑے خود کو ہوش دلانے لگی ۔۔۔۔۔با مشکل اٹھ کر ڈولتے قدموں سے کمرے سے باہر نکلی تھی تا کہ رحمت بی بی سے اپنے لئے چائے کافی کا کہے ۔۔۔۔۔مگر بختیار صاحب حیدر سے جو کہہ رہے تھے وہ نیناں کے لئے ناقابل فہم تھا