One Wheeling by Umme Hani NovelR50409

One Wheeling by Umme Hani NovelR50409 One Wheeling Episode 24

491.3K
42

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

One Wheeling Episode 24

One Wheeling by Umme Hani

شاہزیب غصے سے باسم کے کمرے سے نکلا تھا ۔۔۔۔۔۔باسم صحن کے تخت پر بیٹھا کھانا کھا رہا تھا ۔۔۔۔رائمہ اور رابعہ بیگم بھی وہیں موجود تھیں یوں ایک دم سے بنا پشگی اطلاع کے شاہزیب کا سامنے آنا رائمہ کو نا گوار لگا تھا اس لئے فورا سے اٹھ کر کچن میں چلی گئ ۔۔۔

“باسم عبدالرحمان مجھے تمہاری بائیک چاہئے “شاہزیب پر تو اس وقت جنون سوار تھا ۔۔۔نیناں کا کسی لڑکے ساتھ ہونا وہ کہاں برداشت کر سکتا تھا ۔۔۔۔ اسکے پاس سے گزر جانے والی ہوا بھی اسے اپنی فریق لگتی تھی

” لے جاؤں مگر جا کہاں رہے ہو “باسم نے اسے اتنے غصے دیکھ کر پوچھا

“ایک دوست کے پاس بس آ جاؤں گا کچھ دیر میں “شاہزیب کے جواب پر باسم نے جیب سے چابی نکال کر اسکے حوالے کر دی ۔۔۔۔شاہ زیب نے رابعہ بیگم کو سلام کیا اور صحن میں کھڑی بائیک لیکر باہر نکل گیا ۔۔۔۔۔

*******………

نیناں رو رہی تھی جب کمرے کا دروازہ نوک ہوا ۔۔۔دروازہ لاک نہیں تھا اس لئے کھل گیا ۔۔کسی ملازم کی تو اتنی ہمت تھی نہیں کہ بنا اجازت اتنی بڑی جسارت کرے ۔۔۔نیناں کی نظر دروازے کی طرف اٹھی تو بختیار صاحب کھڑے تھے

“پوپس آپ جائیں یہاں سے مجھے اکیلا چھوڑ دیں ” وہ ہچکیوں کے بیچ میں بولی روتے روتے ہ کی سی بندھ گئ تھی

“تم سے کوئی ملنے آیا ہے نیناں جاؤں جا کر ملو ان سے “,نیناں کو لگا کہ حیدر کے والد پہنچ چکے ہوں گئے اس لئے بختیار صاحب اسے ملنے کا کہہ رہیں ہیں اس لئے ناگواری سے بولی اور منہ تکیے میں چھپا لیا

“مجھے نہیں ملنا کسی سے ۔۔۔۔۔”

“شاہزیب کی بہن آئی ہے تم سے ملنے ۔۔۔کہو تو منع کر دوں اسے ‘”بختیار صاحب کے منہ سے شاہزیب کا نام سن کر نیناں نے حیرت سے دیکھا تھا

“شاہزیب کی بہن “وہ فورا سے بیڈ سے اٹھ کر کھڑی ہو گئ ۔۔۔

“کہاں ہے وہ ۔۔۔”نیناں پر بوکھلاہٹ سی طاری ہوئی بے یقینی ہی بے یقینی تھی وہ جلدی سے باہر کی طرف لپکی مگر اگلے ہی لمحے اس کا بازو بختیار صاحب کی گرفت میں تھا

“ایسے جاؤں اس کے سامنے پہلے حلیہ درست کروں اپنا “بکھرے بال آنسوں سے تربتر چہرہ ۔لال ناک ۔۔۔”نیناں نے اپنا آپ گنوا کے رکھ دیا تھا ۔۔۔۔بیٹی کی حالت پر بختیار صاحب کا دل کٹنے لگتا تھا ۔۔۔۔شاہزیب کی بہن کا سن کر نیناں کو اپنی ہوش نہیں تھی چہرے کی اداسی جھٹ سے ختم ہوئی تھی ۔۔۔جیسے وہ کوئی اسے خوشی کی نوید سنانے آئی ابھی تو بہن آئی تھی اسکی وہ کن ارادوں سے آئی تھی وہ بختیار صاحب جانتے تھے نیناں نا واقف ہی تھی ۔۔۔۔۔لیکن اسکی بوکھلاہٹ چہرے کی خوشی دیکھ کر بختیار صاحب کی پریشانی میں مزید اضافہ ہوا تھا ۔۔۔۔ابھی بہن آئی تھی اسکی تو نیناں کا یہ عالم تھا جس دن وہ خود آ گیا نیناں تو دیوانوں کی طرح ریایکٹ کرے گی ۔۔۔۔۔

نیناں نے اپنا رخ واش روم کی طرف کیا۔۔۔جب باہر آئی تو چہرہ دھلا ہوا تھا ۔۔۔۔بال بھی بنے ہوئے تھے اب قدرے بہتر لگ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔

“ڈرائینگ روم میں ہیں مل لو جا کے “بختیار صاحب نے نظریں پھرتے ہوئے کہا ۔۔۔وہ تیز قدموں سے باہر نکل گئ ۔۔۔۔ڈارئنگ روم میں تیز قدموں سے پہنچی تھی ۔۔۔سامنے شازمہ اسے دیکھ کر کھڑی ہو گئ نیناں تیزی سے اس کے پاس پہنچی تھی ۔۔۔۔

“کیا ہوا ہے شاہزیب کو کہاں ہے وہ “نیناں کی بے چینی قابل دید تھی ۔۔۔۔یہ وہ نیناں تو نہیں تھی جو پہلی بار اسکے گھر آئی تھی ۔۔۔۔سرخ آنکھیں اور لال ناک رونے کے باعث متورم آنکھیں آنسوں اب بھںی اسکی آنکھوں میں جھملا رہے تھے ۔۔۔سرخ سفید رنگت آں پہلی پیلی لگ رہی تھی آنکھوں کے گرد گہرے ہلکے ۔۔۔۔چہرے پر چھائی پژمردگی۔۔۔۔۔۔شازمہ کا دل تڑپا تھا اس لڑکی کو دیکھ کر لگ رہا تھا کہ وہ بھی ریت روایتوں کے بیچ پس رہی ہے اسے بار کی سخت مزاجی تو شازیہ دیکھ ہی چکی تھی ۔۔۔ آگ تو دونوں جانب ہی برابر لگی ہوئی تھی اگر شاہزیب دربدر کی ٹھوکریں کھ رہا تھا تو نیناں بھی آسودگی میں نہیں تھی ۔۔۔۔ پہلی بار شازمہ کو نیناں کی حالت پر رحم آیا تھا پہلی بار دل بنے بے اختیار چاہا کہ اسے سینے سے لگا لے۔۔ ۔۔۔لیکن پھر بختیار صاحب کی دھمکیاں سماعتوں میں گونجنے لگیں ۔۔۔۔وہ کچھ سنبھل سی گئ چہرے پر نرمی کے بجائے سختی سجا ے لگی

٫”زندہ ہے ابھی لیکن فکر مت کرو بہت جلد شاید وہ بھی نا رہے “لفظسخت تھے مگر شازمہ نے کس دل سےادا کیے تھے وہی جانتی تھی

“نیناں کی جان نکلی تھی بے اختیار تڑپ کر بولی

“خدا نا کرے اسے کچھ ہو ۔۔۔۔بہن ہو کر کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ۔۔۔ اللہ کرے اسے میری بھی عمر لگ جائے “نیناں کی آ کھوں میں ٹہرے ہوئے آنسوں بے اختیار بارش کی جھڑی طرح برسے تھے

“کیا بگاڑ ہے میرے بھائی نے تمہارا۔۔۔۔وہ ایسا تو کبھی نہیں تھا نیناں ۔۔۔۔۔کس راہ پر لے آئی ہو تم اسے اچھا خاصا لا پروا اپنی موج میں رہنے والا من موجی تھا وہ ۔۔۔۔۔دل بہلانے کے لئے کوئی اور نہیں ملا تھا تمہیں خدارا کہیں اور یہ شوق پورا کرو۔۔۔ “شازمہ کا لہجہ تیز ہوا

“دل کی لگی کو دل لگی کہہ کر میری محبت کی توہین تو مت کریں ۔۔۔”نیناں کو دکھ ہوا تھا لیکن شازمہ نے استزائیہ مسکراہٹ سجاتے ہوئے کاٹ دار لہجے سے کہا

“کسی کا گھر اجڑ گیا اور تمہاری محبت ٹہری ۔۔۔۔کیا مستقبل ہے تمہاری ۔محبت کا ۔۔۔۔۔بھاگ کے شادی کر لو گئے؟ ۔۔۔۔ وہ بھی ممکن نہیں ہے لیکن چلو فرض کر لو ۔۔۔اگر بھاگ کر شادی کر بھی لی تو کیا کروں گی نا تمہارا باپ تمہیں قبول کرے گا نا میرے ابو ۔۔۔شاہزیب اس وقت خالی ہاتھ ہے نیناں ۔۔۔۔ رہنے کا ٹھکانہ تک نہیں ہے اس کے پاس

“میں اسکی خاطر اپنا سب کچھ چھوڑ دونگی ۔۔۔۔آپ کے ابو سے منت کر لوں گی کہ مجھے اپنی بیٹی بنا لیں۔۔۔۔ کیا کوئی گنجائش نہیں ہے آپ کے دلوں میں میرے لئے “نیناں آب۔ بھی آس کا دامن تھامے ہوئے تھی جیسے بڑی بے رحمی سے شازمہنے کھنچا تھا

“نہیں ہے ۔۔۔۔ہمادے گھر کا کوئی فرد تمہیں قبول نہیں کرے گا ۔کبھی بھی نہیں ۔۔۔۔ شاہزیب کو بہت مارا ہے ابو نے دھکے دے کر نکالا ہے گھر سے ۔۔۔۔ اب اگر تم نے اسکا پیچھا نہیں چھوڑا تو شاید ساری زندگی اسے گھر نہیں رکھیں گئے ۔۔۔خدا کے لئے اسے چھوڑ دوں ۔۔۔”شازمہ ہاتھ جوڑے رونے لگی نیناں پریشان ہوئی تھی شازمہ کے رونے پر تذبذب کا شکار ہوئی

“ہمارے پاس دھن دولت پیشہ جائیداد کچھ نہیں ہے ۔۔۔۔بس رشتے ہیں وہی ہمارے لئے جینے کا سبب ہیں ۔۔۔۔۔خدارا رحم کرو شاہو پے۔۔۔۔۔ تم اگر انکار کر دو گی تو لوٹ آئے گا وہ ۔۔۔۔۔۔پلیز میں بنتی کرتی ہوں تمہاری ۔۔۔۔۔”نیناں پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی وہ منت کر کے مانگ بھی کیا رہی تھی ۔۔اسے جس کے بنا نیناں کی ہر خوشی ادھوری تھی ۔۔۔۔۔ نیناں نے آنسوں بہہ کر گلے سے بھی نیچے بہہ رہے تھے ۔دل بھی انہیں آنسوں میں ڈوبتا ہوا محسوس ہوا۔۔شازمہ کے جڑے ہاتھوں پر اس نے اپنے ہاتھ رکھ دیے ۔۔۔۔۔

“چھوڑ دیا اسے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اب جائیں آپ یہاں سے ۔۔۔۔۔کبھی نہیں آؤں کی اسکے راستے میں ۔۔۔۔۔”بامشکل ہی سہی مگر یہ لفظ نیناں کے منہ سے ادا ہوئے تھے ۔۔۔شازمہ نے سر اٹھا کر اسکی طرف دیکھا

“بہت بہت مہربانی تمہاری ۔۔۔۔۔میری دعا ہے کہ تم خوش رہو “شازمہ کے بے معنی دعا پر وہ طنزیہ مسکرائی

“میری مہربانی کے بدلے میں اتنی بڑی بد دعا نا دیں ۔۔۔۔اس کے بنا بس ایک خوش ہی تو نہیں رہ سکتی ہوں میں ۔۔۔۔”شازمہ کے دل میں ایک ٹھیس سی اٹھی تھی دل کو جسے کسی نے مسل کر رکھ دیا تھا ۔۔۔۔نیناں کا بجھا بجھا چہرہ دیکھ کر اس نے نظریں بدلیں تھیں ایسی محبت کا یہی انجام ہوتا ہے دولت بہت بڑا فتنہ ہے جب بھی بیچ میں جائے طوفان بھرپا کر دیتا ہے چاہے محبت ہو یا رشتے داری جیت پیسے کی ہی ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔ٹھنڈی آہ شازمہ نے بھری تاسف سے سوچا۔ کہ آگے آنے والی تکالیف سے بہتر یہی ہے کے راستہ ہی بدل لیا جائے ۔۔۔۔شازمہ نے خرم کو اٹھنے کے لئے کہا وہ بھی کافی سنجیدہ سا تھا

دونوں واپس جانے لگے تو نیناں کی پکار پر رک گئے

“سنیے “

“دونوں نے پلٹ کر دیکھا

“میں آج اپنے کزن کے ساتھ اسی رسٹورنٹ جاؤں گی جہاں میں آخری دفعہ شاہزیب سے ملی تھی بس یہ خبر کسی طرح اس تک پہنچا دیجیے گا ۔۔۔۔۔بس یہ میری اس سے آخری ملاقات ہو گی ۔۔۔۔پھر میرے نام سے نفرت کرے گا وہ آج ہی آپنے گھر بھی لوٹ جائے گا ۔۔۔۔۔”نیناں یہ کہہ کر سسکی تھی پھر وہاں رکی نہیں شازمہ اور خرم سے پہلے ڈرائنگ روم سے نکل کر دوڑتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئ ۔۔۔۔۔سائیڈ پر دروازے کی آڑ میں کھڑے بختیار صاحب سب کچھ دیکھ اور سن چکے تھے انکا کام بہت آسانی سے ہو چکا تھا ۔۔۔۔نیناں کے وہاں سے جاتے ہی وہ ڈرائنگ روم میں داخل ہوئے

“اوہ۔۔۔۔ ویل ڈن بیٹا ۔۔۔۔کیا ڈرامہ رچایا ہے تم نے “بختیار صاحب کی خوشی قابل دید تھی شازمہ نے اپنے آنسوں صاف کیے

“آپ کا کام ہو چکا ہے ۔۔۔اب میرے بھائی پر آنچ بھی نہیں آنی چاہیے ” شازمہ نے بڑے اعتماد سے انہیں تنبیہ کی

“ناٹ۔۔۔۔ ناٹ آ ٹال ۔۔۔۔کچھ نہیں کہو گا اسے ۔۔۔بے فکر ہو کر جاؤں تم لوگ”بختیار صاحب پر تو شادی مرگ کی سی کیفیت طاری تھی خوشی سے چہرے کی چمک پی الگ تھی جو کام انہیں نا ممکن لگ رہا تھا سامنے کھڑی لڑکی کی بدولت منٹوں میں ہو چکا تھا ۔۔۔ ۔۔۔۔دونوں جانے لگے تو بختیار صاحب نے پھر سے انہیں رکا

“رکو ذرا “

۔۔”بختیار صاحب خود ہی شازمہ۔کے قریب آئے جیب سے اپنا بٹوا نکالا ۔۔۔اسے کھول کر پانچ پانچ ہزار کے کئی نوٹ نکالے ۔۔۔پھر کسی خیال کے تحت سارے ہی نوٹ نکال کر شازمہ سامنے کیے

“یہ رکھ لو ۔۔۔۔ ابھی اتنے ہی ہیں میرے پاس لیکن بے فکر رہو بس ایک بار نیناں کی حیدر سے شادی ہو جائے اپنے ڈرائیور کے ہاتھ بہت کچھ بھیجوں گا تم لوگوں کو ۔۔مجھے معلوم ہے کہ تمہارے والد ایک سرکاری کالج میں پروفیسر ہیں ۔۔۔۔بہت اچھی جگہ پوسٹنگ کروا دوں گا انکی۔۔۔ پے بھی بہت اچھی ملے گی انہیں اور بھی بہت کچھ دوں گا تم لوگوں کو “

“بڑی معلومات اکٹھی کر رکھی ہے آپ نے ہمارے بارے میں شازمہ نے تعجب سے ایک بھنور اٹھا کر کہا ۔۔۔

۔”جس نے یہ سب بتایا اس نے یہ نہیں بتایا کہ میرا باپ بکاو نہیں ہے ۔۔۔۔۔”

“یہ پیسے اپنی جیب میں رکھ لیں سیٹھ صاحب اپنی بیٹی کا صوقہ کسی ضرورت مند کو دے دیجیے گا میری طرف سے ۔۔۔۔۔ اور میری ایک بات بھی پلو سے باندھ لیں آگے بہت کام آئے گی آپکے ۔۔۔۔”””جب باپ بکاؤ نا ہو تو بچے بھی نہیں بکتے “”””۔۔۔۔میں نے جو کچھ کیا اپنے بھائی کے لئے کیا ہے ارے اپنے شاہو پر نیناں جیسی میں ہزار لڑکیاں قربان کر دوں میں ۔۔۔ ہیرا ہے میرا بھائی ۔۔۔۔۔چلو خرم “شازمہ تو چلی گئ مگر جیسا منہ توڑ جواب دے کر گئ تھی بختیار صاحب کو لگا کہ کسی نے ذلت کا طمانچہ بڑی زور سے انکے منہ پر مارا ہے ۔۔۔۔اندر ایک غصے کی لہر ابھری مگر نیناں کی طرف سے ملنے والی خوشی اس پر ذیادہ حاوی تھی ۔۔۔۔

“غیرت مند کے ڈھونگی میڈل کلاس لوگ ۔۔۔۔۔سک سک مینٹیلٹی ہنہ۔۔”نخوت سے بھرے لہجے سے کہہ کر بختیار صاحب نے جیب سے سگریٹ نکالا اور صوفے پر بیٹھ گئے

*****……..

“خرم یہ اطلاع تم شاہزیب تک پہنچاؤ گئے ۔۔۔۔”شازمہ نے بائیک پر بیٹھنے سے پہلے خرم سے بھرائی ہوئی آواز سے کہا ۔۔۔۔دکھ اور رنج سے آنسوں سبھی بھی آنکھوں میں جھلملا رہے تھے ۔۔۔بختیار صاحب کی چھوٹی سوچ پر حد درجہ دل دکھا تھا

“خرم نے خاموشی سے سر اثبات میں ہلایا ۔۔۔۔۔بختیار صاحب کی باتوں پر وہ بھی پریشان تھا ۔نہیں چاہتا تھا کہ شاہزیب کا جذباتی فیصلہ اسے نقصان پہنچائے ۔۔۔۔خرم نے یہ کام سیفی کے ذمہ لگایا تھا پورا پلان اسے سمجھا چکا تھا اور یہ بھی تاکید کی تھی کہ وہ اور جمی بھی اسی رسٹورنٹ پر پہنچ جائیں۔۔۔۔ خود تو اس کا دل بختیار صاحب کی باتوں پر ایسا بجھا تھا کہ گھر سے باہر نہیں نکلا تھا

******4……..

چند دن سے آفس کی بھاگ دوڑ حیدر سنبھال رہا تھا بختیار صاحب نیناں کی وجہ سے پریشان تھے ۔۔۔۔۔

اس لئے گھر پر ہی رہنا چاہتے تھے ۔۔۔دوپہر کو نیناں کی کال پر چند منٹ تو حیدر اپنے موبائل کو دیکھتا تھا ۔۔۔۔جب سے وہ آیا تھا نیناں نے ٹھیک سے بات نہیں کی تھی اس سے اور اب خود سے کال کر رہی تھی

“ہیلو نین”حیدر کے لہجے میں بے تابی در آئی تھی

“حیدر ۔۔۔مجھے تم سے ایک کام ہے دوست کی حیثیت سے ۔۔۔۔” نہ ان کا رویا رویا لہجہ سن کر وہ نرمی سے گویا ہوا

“کہوں کیا کام ہے “

“فون پر نہیں حیدر شام کو کہیں باہر چلیں گئے ڈنر پر “نیناکی بات پر وہ سیدھا ہو کر بیٹھا تھا حیرت بے یقینی تعجب اسیے ہی تاثرات تھے حیدر کے چہرے پر

“ڈنر پر میرے ساتھ ۔۔۔سچی نین تم میرے ساتھ ڈنر پر جانا چاہتی ہو ۔۔۔۔۔او مائے گاڈ ۔۔۔یعنی ۔۔۔۔”حیدر خوشی کے مارے بول نہیں پا رہا تھا ۔۔۔۔ایسا کیا معجزہ ہو گیا تھا کہ نیناں خود سے اسے ڈنر پر جانے کا کہہ رہی تھی ۔۔۔۔حیدر اپنی ریواونگ چیر سے اٹھ کر کھڑا ہو گیا

“تم کب تک آ سکتے ہو “

“ابھی آ جاتا ہوں “وہ اوتاولا ہوا

“نہیں شام چھ بجے کے بعد آنا ۔۔۔اور ہاں ایک رنگ بھی اپنے ساتھ کے آنا “

“رنگ نین؟ ” حیدر کا دل خوشی سے جھومنے لگا تھا ۔۔۔۔

“تمہارے ہاتھ سے پہنوں گی ‘”اسے حسین انکشافات تھے کہ حیدر سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ کیسے اظہار کرے

“نین ۔۔۔۔۔میں شاید کوئی حسین خواب دیکھ رہا ہوں ۔۔۔۔لو یو یار ۔۔۔۔ریلی لو یو ۔۔۔۔۔کون ڈی رنگ لاؤں گولڈ ۔۔۔نہیں ۔۔نہیں ڈیمانڈ ٹھیک رہے گی “

“ایک گھنٹے کے لئے ہی پہنی ہے ۔۔۔اتنی مہنگی کیا کرو گئے ” نیناں کا لہجہ بجھا بجھا سا تھا

“نین کیوں مجھے حیرت سے مارنے پر تلی ہوئی ہو کبھی کچھ کہہ رہی ہو کبھی کچھ “حیدر اس باتوں پر شش وپنج میں پڑنے لگا تھا

“سمجھ آ جائے گا سب کچھ ۔۔۔۔میں تم سے محبت نہیں کرتی حیدر ۔۔۔۔نا ہی اس رشتے سے تم سے بات کر رہی ہوں جو پوپس نے زبردستی میرا تم سے جوڑ دیا ہے ۔۔۔۔بس ایک دوست کی حثیت سے مدد مانگ رہیں ہوں صرف چند گھنٹوں کا ساتھ بس اس سے زیادہ کچھ نہیں “حیدر کی ساری خوشی پل میں ختم ہوئی تھی

“وجہ جان سکتا ہوں ” حیدر کے سوال کے جواب میں صرف سسکیاں سنائی دیں تھیں

“نین آر یو اوکے ” حیدر اس لڑکی کو سمجھنے سے قاصر تھا

“آج بہت کڑا امتحان دینے جارہی ہوں اس لئے کچھ مت پوچھو۔۔۔۔بس چھ بجے آجانا “نیناں نے فون بند کر دیا تھا ۔۔۔۔پھر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔۔۔۔۔

مجھے معاف کر دینا شاہزیب میں خود تو تمہارے لئے تکلیف برداشت کر سکتی ہوں کر بھی رہی تھی لیکن تمہیں تکلیف میں دیکھ نہیں سکتی ۔۔۔۔کون کہہ سکتا ہے بیڑیاں صرف میڈل کلاس لڑکیوں کے پاؤں میں ہی ہوتی ہیں ۔۔۔قربابی جس کے بھی مقدر میں لکھ دی جائے ۔۔۔وہ چاہے بادشاہ کی بیٹی ہی کیوں نا ہو سولی پر چڑھ ہی جاتی ہے ۔۔۔۔میرے باپ کی بیش بہا دولت بھی مجھ سے قربانی مانگ رہی ہے ۔۔۔۔۔شام چھ بجے وہ تیار ہو کر کمرے سے نکلی تھی باہر لاونج میں حیدر تیار بیٹھا تھا شاید اسی کا انتظار کر رہا تھا ۔۔۔۔بختیار صاحب کا چہرہ خوشی سے دھمک رہا تھا ۔۔وجہ وہ جانتے تھے اپنا پلان کامیاب ہونے پر انکا دل شادماں تھا ۔۔۔حیدر ضرور تذبذب کا شکار تھا ۔۔۔۔نیناں نے ایک عام سا کاٹن کا سوٹ ہی پہنا تھا ۔۔۔تیار بھی ڈھنگ سے نہیں ہوئی تھی ۔۔۔۔بس پچھلے دو گھنٹوں سے شاہزیب کا سامنا کرنے کے لئے خود کو تیار کر رہی تھی ۔۔۔۔۔ حیدر صوفے پر بختیار صاحب کے ساتھ بیٹھا آفس کے بارے میں ڈسکس کر رہا تھا نیناں کو دیکھ کر چپ سا ہو گیا نیناں کا بجھا بجھا چہرہ دیکھ کر نظریں۔ بدل گیا ۔۔۔۔۔بختیار صاحب بھی نیناں کو دیکھ چکے تھے

“جاؤں حیدر بہت اچھا ڈنر کروانا نیناں کو “نیناں نے ایک پل کے لئے بھی بختیار صاحب کی طرف نہیں دیکھا ۔۔۔حیدر نے ہی نیناں کے قریب آیا تھا نیناں کی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا ۔۔۔۔ نیناں نے کپکپاتا ہاتھ اسکے ہاتھ میں دیا تھا ۔۔۔۔حیدر نے نیناں کا سرد اور لزرتا ہاتھ پکڑا ۔۔۔۔پھر اسکی طرف غور سے دیکھا وہ خوش نہیں تھی ۔۔۔۔آنکھوں میں نمی سی تھی حیدر کے ہمراہی میں ہی وہ گاڑی تک پہنچی تھی پورے راستے چپ ہی رہی

“شرٹن چلیں “حیدر نے بات شروع کی

“نہیں میں بتاتی ہوں جہاں جانا ہے “نیناں نے ایک عام سے ریسٹورنٹ کا نام لیا

“نین وہاں کیوں “

“بس مجھے وہاں کا کھانا پسند ہے “اسپاٹ لہجے میں جواب دیا گیا حیدر نے پھر کوئی سوال نہیں کیا وہیں گاڑی رکی جہاں نیناں نے کہا تھا اندر داخل ہوتے ہی نیناں کی نظریں سامنے اس ٹیبل پر جا ٹکیں جہاں وہ چند دن پہلے شاہزیب کے ساتھ بیٹھی تھی چند دن ہے شاہزیب کے ساٹھ بیٹھے نیناں کے پاس بہت کچھ تھا کہنے کو۔۔۔ بہت کچھ تھا سننے کو اتنی باتیں تھیں انکے پاس کے دونوں کو وقت کم لگنے لگتا تھا اتفاق ایسا تھا کہ آج بھی ٹیبل خالی تھی شاید اسی کا منتظر تھی ۔۔۔نیناں اسی ٹیبل پر جا کر رک گئ ۔۔۔۔بیٹھی وہاں جہاں اس دن شاہزیب بیٹھا تھا ۔۔۔۔۔حیدر بھی اس کے سامنے بیٹھ گیا

“اب بتاؤں نین کیا بات ہے “حیدر اسکی غیر معمولی باتوں سے اپ سیٹ ہو چکا تھا

“پہلے ڈنر کر لیں مجھے بھوک لگی ہے “نیناں کچھ بھی بتانے کی پوزشن میں نہیں تھی انہیں باتوں کا تذکرہ اسے پھر سے رونے پر مجبور کر دیتا ۔۔۔۔۔ اور وہ بڑے ضبط سے بیٹھی تھی رونا نہیں چاہتی تھی

“او کے”حیدر نے مینوں کارڈ نیناں کی طرف بڑھا دیا

“تمہاری اور میری چوائس ایک ہی ہے نینان “چائنیز” اس لئے آڈر تم کرو

“میری چوائس تو کب کی بدل چکی ۔۔۔کچھ چیزوں کا ذائقہ ایسا زبان پر لگتا ہے کہ باقی سب چیزوں کو ٹیسٹ لیس کر دیتا ہے ۔۔۔۔میں اسپائسی بریانی کھاؤں گی “نیناں نے برجستہ جواب دیا

“چلو میں بھی آج اسی کا ذائقہ چکھ لیتا ہوں ۔۔۔۔”حیدر کی بات پر وہ ہنسنے لگی اور حیدر اسکے یوں بے تکا ہسنے پر حیران تھا

“تم چکھ بھی لو ۔تو۔۔۔وہ مزہ آ ہی نہیں سکتا جو۔۔۔۔اینی وئے آڈر کرو ۔۔۔۔”نیناں مدافعانہ انداز سے کہا حیدر نے آڈر کیا ۔۔۔۔

کھانا خاموشی سے کھایا گیا حیدر نے آدھی پلیٹ ہی بامشکل کھائی تھی باقی کا پیٹ پانی پی پی کر بھرا تھا اتنی تیز مرچوں کا وہ عادی نہیں تھا نیناں بہت پر سکون تھی چہرہ سرخ تھا مگر بنا پانی پیے وہ کھا رہی تھی ۔۔۔۔۔۔کھانے کے بعد حیدر نے نیناں سے پوچھا

“آئسکریم آڈر کروں ۔۔۔مرچوں کا اثر کچھ کم ہو جائے گا “حیدر کامنہ جل رہا تھا پہلی بار اس نے کھانا رغبت سے نہیں کھایا تھا

“اپنے لئے کر لو جو مجھے پسند ہے وہ یہاں سے نہیں ملے گا “

“کیا پسند ہے تمہیں “ٹشوں سے ہونٹ تھپتھاتے ہوئے اس نے پوچھا

“گنے کا رس “نیناں کی فرمائش پر حیدر حیرت سے گلے کے بل چیخا تھا

“واٹ نین ۔۔۔گنے کا رس پسند ہے تمہیں یخ ۔۔۔۔۔پتہ ہے کتنے جم ہوتے ہیں وہاں جہاں یہ بن رہا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔افف میں تو کبھی نا پیو “

“مگر میں نے بہت بار پیا ہے شاہزیب مجھے ہر بار ایک اسپائسی چاٹ کھلانے کے بعد پلاتا ۔تھا ساری مرچیں پل میں ختم ہو جاتی تھیں ۔۔۔۔ “نیناں نے ایک ٹھنڈی گہری سانس بھری ۔۔۔۔پھر باہر کی جانب دیکھنے لگی جیسے کسی کی منتظر ہو۔۔۔ حیدر اسی کو دیکھ رہا تھا وہ اسکے ساتھ ہو کر بھی اسکے ساتھ نہیں تھی ۔۔۔۔شاید کسی کا انتظار تھا اسے بار بار نظریں باہر کی جانب اٹھ رہیں تھیں

“نین کون آنے والا ہے “

“شاہزیب “نیناں بر ملا جواب دیا

“شاہزیب ۔۔۔۔”حیدر ہتھے سے اکھڑا تھا نیناں اسے یوں استعمال کر سکتی ہے وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا شاہزیب سے ملنے کے لئے وہ اسے استعمال کرے گئ

“نین اٹھو یہاں سے گھر جائیں گئے “حیدر فورا سے کھڑا ہو گیا

“نہیں حیدر بیٹھوں ابھی نہیں جانا “نیناں

طنئن انداز سے بیٹھی رہی

“نین میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ تم مجھے یوں یوز کرو گی “

“جو تم سمجھ رہے ہو ویسا نہیں ہے حیدر ۔۔۔۔ہاں یہ سچ ہے کہ میں تمہیں یوز کر رہی ہوں لیکن کسی کام کے لئے ” سامنے شاہزیب کو اندر آتا دیکھ کر نیناں سنبل کر بیٹھ گئ دل اس زور سے دھڑکا کہ ابھی سینہ شگاف کر کے باہر آ جائے گا ۔۔۔۔فیصلے کی گھڑی آ چکی تھی ڈیڑ کیہڈی میں سنساہٹ سی ہوئی پیٹ ۔یں گرہیں سی پڑھنے لگیں نا جانے کیا کیا سوچے گا میرے بارے میں نفرت تو ضرور کرنے لگے گا مجھ سے” نیناں نے نظریں اس سے ہٹا کر حیدر پر مرکوز کر لیں

“حیدر جلدی سے انگوٹھی پہناؤں مجھے “شاہزیب کو اندر آتے ہوئے تو وہ بھی دیکھ چکا تھا بڑے خطرناک تیوروں سے وہ چاروں طرف شاید انہیں کو ڈھونڈ رہا تھا ۔۔۔۔۔حیدر نے تاسف سے نیناں کو دیکھا جیب سے ایک مخملی ڈبیہ نکالی اور نازک سی انگوٹھی نکال کر ہاتھ میں پکڑ لی

شاہزیب پورے راستے دل کو یہی سمجھاتا رہا کہ یہ جھوٹ ہے جو سیفی نے کہا نیناں اسے دھوکا نہیں دے سکتی ۔۔۔۔ریسٹورنٹ پر پہنچ کر شاہزیب نے چاروں طرف نظریں گھمائیں سامنے ہی ٹیبل پر نیناں کو دیکھ کر وہ وہیں ٹھٹھک گیا ۔۔۔۔۔ وہ کسی لڑکے ساتھ بیٹھی باتوں محو تھی لڑکا بھی اسی کی کلاس کا لگ رہا تھا ۔۔۔کچھ پل تو وہ دنگ سا رہ گیا بے یقینی سے اسے دیکھا ۔۔۔۔۔۔ خوں کھول کر رہ گیا تھا اتنا بڑا دھوکہ ۔۔۔۔وہ لڑکا اب جیب سے ایک ڈبیہ نکال کر اس میں انگوٹھی نکال رہا تھا ۔۔۔۔شاہزیب کے اندر آگ ہی تو لگ گئ تھی یہ دیکھ کر ۔۔۔۔نیناں نے مسکراتے ہوئے اپنا ہاتھ اسکے ہاتھ میں دیا ۔۔۔۔۔ اس سے پہلے وہ لڑکا نیناں کو انگوٹھی پہناتا ۔۔۔شاہ زیب نے جا کر اس لڑکے کا ہاتھ پیچھے جھٹک دیا ۔۔۔نیناں کے ساتھ حیدر نے بھی اسکی اس حرکت پر چونک کر دیکھا ۔۔۔۔۔انگوٹھی حیدر کے ہاتھ سے چھوٹ کر سامنے ٹیبل پر گر گئ ۔۔۔۔نیناں کا دل تھما تھا شاہزیب کی نظریں صرف نیناں پر تھیں کیا نہیں اسکی نظروں پر ۔۔۔۔۔شکایت خفگی غصہ تاسف ۔۔۔۔۔ پیشانی پرلگی چوٹ ہونٹ کے قریب لگا زخم شازمہ کی بات گواہی دے رہا تھا ایک لمحہ نیناں کا دل کند چھری سے کٹا تھا باپ چاہے شاہزیب کا ہو یا نیناں کا ۔انکے ظلم ستم کا نشانہ اس وقت صرف شاہزیب ہی تھا۔۔۔نیناں نے فورا سے شاہزیب سے نظریں ہٹائیں ورنہ جو کچھ وہ کرنے آئی تھی اس سے نظر ملا کر کر نہیں سکتی تھی ۔۔۔۔

“ہے یو ۔۔۔۔۔ کون ہو تم “حیدر نے غصے سے شاہزیب سے کہا

“یہ تو مجھے تم سے پوچھنا چاہیے تھا کہ ۔۔۔تم کون ہو۔۔۔ یہاں کیا کر رہے ہو ۔۔۔۔۔”شاہزیب کا لہجہ تند تھا۔۔حیدر سے تو پھاڑ کھانے کے انداز سے گویا ہوا تھا

“ہی از مائے فیانسی ۔۔۔۔۔”جواب نینان نے دیا تھا

شاہزیب نے ایسی نظروں سے نیناں کو دیکھا جیسے نیناں کو نظروں سے ہی مار ڈالے گا نیناں کی جان پر بنی تھی۔۔۔۔حیدر نے پہلے حیرت سے نیناں کو دیکھا پھر سمجھ گیا کہ وہ کیا کرنے کے لئے اسے لائی ہے اس لئے سنبل کر شاہزیب سے بولا

“سن لیا میں کون ہوں ۔۔۔۔۔اب بتاؤں تم کون ہو ۔۔۔۔۔”حیدر کے جواب پر شاہزیب نے کن آنکھیوں سے نینں کو دیکھا تھا۔۔۔۔دل چاہا کہ تیس نہس کر کے رکھ دے سب کچھ ۔۔۔۔اس لڑکی کی وجہ پڑنے والے جوتوں کی تکلف اور نشان اب بھی اس کے وجود سے ابھی مٹے نہیں تھے اور وہ یہاں اسے اپنے منگتر سے متعارف کروا رہی تھی

” نیناں سے پوچھ لو ۔۔۔۔بتاؤں نا نیناں میرا بھی تعارف کرواں اس سے۔۔۔۔بتاو اسے کہ میں کون ہوں “شاہزیب کا لہجہ سخت تھا ۔عجیب سا استحقاق تھا اس کے لہجے میں

۔۔۔اندر ہی اندر نیناں کی جان پر بنی تھی اپنے سارے حوصلے اب ریت کی دیوار ثابت ہو رہے تھے ۔۔۔۔۔ جو شاہزیب کے سامنے اسے گرتے ہوئے محسوس ہونے لگے تھے

“”حیدر ہی از مائے اوڈنری فرینڈ “بڑی مشکل سے خود کو لاپروا ثابت کرتے ہوئے وہ بولی ۔۔۔۔ شاہزیب نے اسے تعجب سے دیکھا آج تو نیناں اسے حیران کرنے پر تلی ہوئی تھی

“کیا کہا تم نے کون ہوں میں ۔۔۔تمہارا فرینڈ ۔۔۔۔۔یاداشت کمزور ہو چکی ہے تمہاری ۔۔۔۔میں یاد دلاوں تمہیں کہ میں کون ہوں ” شاہزیب نے نیناں کے ٹیبل پر دونوں ہاتھ جما نیناں کے نزدیک ہو کر دانت پیستے ہوئے کہا نیناں فورا ڈر کر اٹھ کر کھڑی ہو گئ حیدر بھی اسے نروس دیکھ کر کھڑا ہو گیا نینان فورا حیدر کے پاس جا کر کھڑی ہو گئ شاہزیب کے خطرناک تیوروں سے خوفزدہ ہوئی تھی

“ہے ڈوڈ ۔۔۔۔واٹ ہیپنڈ ہاں کیا بدتمیزی ہے ۔۔۔۔”حیدر ان دونوں کے بیچ میں آکر بولا

“نیناں کیا ہے یہ سب ۔۔۔۔”شاہزیب نے حیدر کو نظر انداز کر کے نیناں سے براہ راست پوچھا

“کچھ بھی نہیں۔۔۔۔ شا۔۔شاہزیب ۔۔۔میں ت۔۔۔تم سے محبت نہیں کرتی ۔۔۔۔” نیناں حیدر کی اوٹھ میں ہو کر بولی ۔۔۔ شاہزیب کے تو تلوں پر لگی اور سر پر جا کر بجھی تھی

“اسکے پیچھے چھپ کر بزدلوں کی طرح کیا بات کر رہی میرے سامنے آ کر بات کرو نیناں “آہستہ آہستہ شاہزیب کا لہجہ ترش اور بلند ہونے لگا

“اے ہاؤ ڈیر یو ٹو ٹاک ہر “حیدر اب بھی نیناں اور شاہزیب کے بیچ میں کھڑا تھا نیناں تقریبا حیدر کے پیچھے کھڑی تھی

” ابے او ہیرو ۔۔۔۔ یہ ہیروبنتی کسی اور کو دیکھانا شاہو کو نہیں ۔۔۔۔ناظمہ آباد کا شیر ہوں میں تمہارے پیسے کا رعب مجھ پر نہیں چل سکتا ہے ۔۔۔۔۔”

“شٹ اپ ۔۔۔یو باسٹڈ “حیدر نے اسکا گریبان پکڑ لیا نیناں کے ہوش اڑے تھے

“ابھی گاڈز کو بلا لوں گا ۔۔۔۔”حیدر نے شاہزیب کو گھورتے ہوئے کہا

“تو بلاؤ نا منع کس نے کیا ہے ۔۔۔۔اے ممی ڈیڈی بوائے ۔۔۔ آج تو گالی دیدی تم نے آئندہ سوچنا بھی مت اور گریبان چھوڑو میرا ورنہ یہیں پر گاڑ دونگا تمہیں “خونخوار آنکھوں اور قہر آلود لہجے سے حیدر کو دیکھ کر کہا حیدر کو شاہزیب کے گرجدار لہجے سے خوف سا محسوس ہوا جس طرح وہ غصے سے لال بھبھوکا بنا ہوا تھا واقعی اس کے ساتھ کچھ بھی کر سکتا تھا ۔۔۔۔حیدر نے اسکا گریبان کو چھوڑ دیا ۔۔۔۔۔۔

“اب ہٹو پیچھے ” شاہزیب حیدر کو ہاتھ پیچھے ہٹا کر نیناں کے سامنے کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔۔نیناں کا رنگ فق ہوا تھا

“اب بتاؤں ۔میری مینا ۔۔کیا ہے یہ سب ۔۔۔۔۔ محبت مجھ سے منگنی اس چھچھوندر سے ۔۔۔وجہ کیا ہے”شاہ زیب نے لہجہ متوازن رکھنے کی کوشش کی “شاہزیب کا یہ روپ نیناں کے لئے نیا تھا کب دیکھا تھا اس نے اسے اتنے غصے میں ۔۔۔۔۔۔

“میں ۔۔۔۔نے محبت نہیں کی تھی تم سے “نیناں نے تھوک نگلا ہمت مجتمع کی کپکپاتے ہوئے بولی اے سی میں بھی وہ پسینے سے شرابور تھی

“اوہ ۔۔۔ تو پچھلے ایک ڈیر مہنے سے کیا تھا وہ سب “شاہزیب کا مسلسل اسکی آنکھوں میں دیکھنا اسے پزل کر رہا تھا ہر بار وہ نظریں چرا رہی تھی

“ٹائم پاس ۔۔۔۔ میں نے تو صرف کچھ وقت کی دل لگی کی تھی تم سے ۔۔۔ مگر اب بور ہو چکی ہوں ۔۔۔اس لئے تمہیں کہنے ہی والی تھی کہ یہ سب ختم ۔۔۔۔”

“شٹ اپ نیناں “شاہزیب اتنی زور سے دھاڑا کہ نیناں اپنی جگہ پر ہل کر رہ تھی۔۔۔۔ اسکی آواز کی گونج سے وہاں بیٹھے سب لوگ اب ان دونوں کو دیکھنے لگے تھے شاہزیب کی نظریں انگارے برسا رہیں تھیں ۔۔۔

“جسٹ شپ اپ”۔۔غصے سے وہ کسی شیر کی طرح ہی دھاڑ رہا تھا ۔غصے سے لفظ بڑی مشکل سے ادا کر رہا تھا جبڑے سختی سے اور غصے سے دانت بینچ کر بولنے کی وجہ سے واضع ہو رہے تھے ۔۔حیدر کی اسے روکنے کی ہمت ہی نہیں ہوئی اور نیناں کو لگا اپنی آنکھوں اور لہجے سے جان ہی نکال لے گا اسکی ۔۔۔اسے یہ تو معلوم تھا کہ شاہزیب کا ریاکشن بہت سخت ہو گا مگر یہ اندازہ نہیں تھا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے ۔۔۔نیناں کا حلق تک خشک ہوا تھا اور دل تھا سینے میں تھم سا گیا تھا ۔۔۔۔سانس بھی اوپر کی اوپر رہ گئ اتنا سخت درعمل نیناں کے گمان میں نہیں تھا سب لوگ کھانا پینا چھوڑے انہیں ہی دیکھ رہے تھے

“کیا سمجھا تھا تم نے شاہو کو تمہارے باپ کی جاگیر تھا میرا دل۔۔۔ یا شاہو ایک بکاؤ مال تھا جسے تم جی بہلانے کے لئے استعمال کرو گی اور تمہارا دل بھر جائے گا تو فالتوں سامان کی طرح چھوڑ دو گی “پورے رسٹورنٹ میں سناٹا چھایا ہوا تھا ۔۔۔۔۔شاہزیب کی آواز اسقدت بلند تھی کے اسکے سانسوں کی آمدورفت سے پیدا ہونے والی آواز بھی اسے صاف سنائی دے رہی تھی ۔۔۔۔۔نیناں کا پورا وجود سوکھے پتے کی طرح لرزا تھا

“ایم سوری فار ڈیٹ “نیناں نے آنکھیں بند کیں آنسوں ٹوٹ کر رخسار پر گرے ۔۔۔کہاں آسان تھا اس کے یہ سب کرنا ۔۔۔۔اس لئے اب خاموشی سے آنسوں بہانے لگی سوری کر کے اس کا غصہ اعتدال پر لانے لگی مگر آنکھیں اس وقت کھلیں جب نیناں ک بازو ایک مضبوط گرفت میں تھا

شاہزیب نے سختی سے اسکا بازو پکڑا اپنا چہرہ نیناں کے چہرے کے بلکل نزدیک کر کے بولا

“بہت شوق ہے تمہیں دل بہلانے کا ۔۔۔ہو گیا تمہارا شوق پورا ۔۔۔۔لیکن میرا شوق ابھی باقی ہے ۔۔۔۔ تمہارے نزدیک محبت چار دن دل بہلانے کی چیز ہے لیکن میرے نزدیک اس کا ایک ہی مطلب ہے وہ آج میں تمہیں بتاؤں گا چلو میرے ساتھ “نیناں کے ہوش اڑے تھے رنگ تو حیدر کا بھی اڑا تھا

“نہیں شاہزیب چھوڑیں مجھے ۔۔۔۔مجھے آپ کے ساتھ کہیں نہیں جانا “نیناں کو لگا کے اسکے بازو کی ہڈی ٹوٹ جائے گی جس قدر زور سے شاہزیب نے اس کا بازو پکڑا رکھا تھا ۔۔۔حیدر ہمت کر کے کھڑا ہو گیا

“دیکھوں چھوڑو نین کو ۔۔۔۔ورنہ تم جانتے نہیں ہو اس کے باپ کو حشر بگاڑ دے گا تمہارا “

“کیا کرے گا زیادہ سے ذیادہ جان سے مار دے گا ۔۔۔تو مار ڈالے لیکن اسے اب میں تب چھوڑو گا جب میرا دل بہل جائے گا ۔۔۔جا کر بتا دینا اسکے باپ کو۔۔۔۔۔۔ “دیکھوں شاہزیب تم غلط کر رہے ہو چھوڑ دو نین کو ۔۔۔۔ورنہ میں گارڈ کو بلا لو گا پولیس میں کمپلینٹ کر دوں گا تمہاری “

“جو کرنا ہے کرو ۔۔۔۔اس وقت تواس کا باپ بھی یہاں آ جائے تو مجھے اسے لے جانے سے نہیں روک سکتا ۔۔۔۔۔۔۔میں لیکر جا رہا ہوں اسے کسی مائیکل لال میں ہمت ہے تو روک کر دیکھائے مجھے “

“چھوڑیں مجھے شاہزیب ۔۔۔حیدر ۔۔۔۔حیدر ۔۔۔ کم آن حیدر سیو می ۔۔۔۔۔۔شاہزیب پلیز لیو می ۔۔۔۔۔شاہزیب سب کے سامنے اسے رسٹورنٹ سے باہر لے گیا تھا حیدر سمیت کسی کی ہمت نہیں ہوئی تھی کہ اسے روک سکتا۔۔۔سیفی اور جمی ہونقوں کی طرح اسی ریسٹورنٹ کی پچھلی نشستوں پر بیٹھے یہ سب تماشہ دیکھ رہے تھے شاہزیب سے ایسے سخت رویے کی توقع انہیں بھی نہیں تھی جلدی سے اسکے پیچھے باہر لپکے تھے ۔۔۔۔

” شاہزیب پلیز مجھے چھوڑ دو ۔۔۔مجھے جانے دو مجھے کہیں نہیں جانا تمہارے ساتھ “نیناں روتے ہوئے اس سے التجا کر رہی تھی اپنے باپ کے غصے سے بھی واقف تھی اور اثرو رسوخ سے بھی ۔۔۔۔ پھر جس طرح سے بختیار صاف اسے دھمکا رہے تھے ۔۔۔۔ نیناں سچ میں حد سے زیادہ خوفزدہ تھی ۔۔۔۔ شاہزیب سے پیچھا چھڑوانے کے چکر میں جن لفظوں کا استعمال کر چکی تھی اس نے شاہزیب کو غصے میں اندھا کر دیا تھا نا جانے کیا کر گزرے گا اس کے ساتھ ۔۔۔۔بیچاری دونوں جانب سے بری طرح پھنس چکی تھی۔۔۔لیکن اسکے رونے کا منت سماجت کا کسی بات کا شاہزیب پر اثر نہیں تھا سیفی اور جمی بھاگتے ہوئے شاہزیب کے پاس پہنچے تھے سچویشن کچھ عجیب و غریب سی ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔

“شاہوں چھوڑ دے اسے کیوں موت کے کنوئیں میں چھلانگ لگانے کا سوچ رہا ہے ۔۔۔جانتا بھی ہے اس کا باپ کیا کرے گا تیرے ساتھ

“ایک لفظ اور نہیں سنو گا سمجھے ۔۔۔۔یہ چابی پکڑ اور ایک ایڈریس تیرے نمبر پر سینٹ کر رہا ہوں ایک عدد نکاح خواہ لیکر پہنچ ادھر ۔۔۔۔اگر تم دونوں نے ذرا بھی ہوشیاری دیکھانے کی کوشش کی تو شاہوں کا مرا ہوا منہ دیکھوں گئے۔۔۔”چابی سیفی کے ہاتھ میں دیتے ہوئے شاہزیب نے خطر ناک تیوروں سے کہا تھا سیفی کے کانوں میں تو سیٹیاں سی بجنے لگیں تھیں ۔۔۔۔جمی کا تو منہ ہی کھلے کا کھلا رہ گیا تھا اور نیناں اسے تو لگا جیسے ابھی بے ہوش ہو جائے گی ۔۔۔

“نکاح ۔۔۔۔شاہزیب “نینان ہواس باختہ ہوئی تھی ۔۔۔۔

لیکن شاہزیب نے سامنے کھڑی ٹیکسی سے بات چیت کیے بنا ہی اس کا پیچھلا ڈور کھولا نیناں کو اندر دھکیلا اور خود بھی اس کے برابر میں بیٹھ گیا ۔۔۔ اسکی اس افتاد پر ڈرائیور بڑبڑایا تھا جو ٹولی منہ پر رکھے شاید سو رہا تھا

“دیکھیں آپ کہاں کھسے چلے آ رہے ہیں ۔۔۔یہ ٹیکسی بک ہے ۔۔۔۔میرے گاہک رسٹورنٹ کے اندر کھانا کھا رہے ہیں “وہ پیچھے ۔مڑ کر بولا

“چپ چاپ گاڑی چلاؤں ۔۔میری جیب میں اس وقت ریولور موجود ہے ذرا بھی چی چی پیں پیں کی تو ساری گولیان تمہارے بھجے میں اتار دونگا “۔۔۔۔ڈرائیور اچھا خاصا خوفزدہ ہو گیا تھا اس لئے گاڑی اسٹاٹ کی

“جانا کہاں ہے “

“فی الحال یہاں سے مین روڈ پر ڈالو اور سیدھا سیدھا چلو

“شاہزیب “نیناں نے ڈرتے ڈرتے لب کھولے

“ایک دم چپ ۔۔۔سمجھی اگر اب ایک لفظ بھی تمہارے منہ سے نکلا تو ۔۔۔۔۔۔”نیناں کی آنکھوں میں اپنی سرخ آنکھیں گاڑتے ہوئے نہایت کرخت لہجے میں شاہزیب نے اسے تنبیہ کی تھی ۔۔۔نیناں کے اعصاب تک چٹخنے لگے تھے ۔۔۔۔۔وہ خاموش ہو کر بیٹھ گئ شاہزیب نے اب بھی اس ہاتھ پکڑ رکھا تھا وہ بھی بہت زور سے ۔۔۔۔جیسے اگر گرفت ذرا بھی ڈھیلی ہوئی تو وہ بھاگ جائے گئ ۔۔۔۔۔

*******……..

نیلوفر صبح سے پریشان تھی بلائی بلائی پھر رہی تھی باسم کو جو رقعہ دینا تھا وہ کسی اور کو دے چکی تھی اس سے بڑی غلطی ہو کیسے گئ اس سے ۔۔۔۔آواز ہی پہچان جاتی لیکن اس کے سر پر تو پھپو کا خوف لاحق تھا ۔۔۔اس لئے جلدی کے چکر میں کتنی بڑی غلطی کر بیٹھی تھی ۔۔۔۔۔۔اور اب جان ہلکان ہوئے جا رہی تھی کبھی دودھ ابل کر گر رہا تھا تو کبھی کھانے میں نمک مرچ ذیادہ ڈل رہا تھا ۔۔۔۔دھیان تو نیلو کا بس اس اجنبی کی طرف تھا جیسے انجانے میں اپنا خط دے بیٹھی تھی پتہ نہیں اس لڑکے نے باسم کو بتایا بھی ہو گا کہ نہیں ۔۔۔خط باسم کو ملا بھی ہو گا کہ نہیں ۔۔۔۔”چائے بناتے ہوئے وہ وہ پتی کے چار چمچ یہی سوچتے ہوئے ڈال چکی تھی ۔۔۔عیں اسی وقت پھپوں کی آمد کچن میں ہوئی کھوئے ہوئے انداز میں نیلو کو چار چمچ کیتلی میں ڈالتے دیکھ کر پھپوں کچن کے دروازے سے ہی چلا کر بولیں

“اندھی ہو گئی ہو کیا ۔۔۔۔۔ہوش کہاں ہے تمہارے ۔۔۔”۔پھپو کی آواز پر نیلو چونکی چائے کی پتی کا ڈبہ ہاتھ سے چھوٹا ۔۔۔ساری پتی ڈبے سمیت زمین پر گر گئ ۔۔۔۔

“ہائے ہائے ۔۔۔نیلو پھوہڑ پن کی بھی کوئی حد ہوتی ہے ۔۔۔باپ کما کما کر ہی وقت سے پہلے ہی بوڑھا ہو گیا ہے اور بیٹی کو ذرا بھی احساس نہیں ۔۔۔۔میں پوچھتی ہوں کن خیالوں میں کھوئی ہوئی تھی ۔۔۔”نیلو اب جلدی سے نیچے بیٹھ کر چائے کی پتی اوپر اوپر سے اٹھا کر واپس ڈبے میں ڈالنے لگی

پھپو کی بات کا جواب بھی نہیں دیا لیکن یہ شور سن کر نیلوفر کے والد ضرور وہاں پہنچ گئے تھے

“کیا ہوا ہے کیوں ہنگامہ مچا رکھا ہے تم نے “انہوں۔ ے پھپو کو ہی ۔خاطب کیا

“دیکھ لو اپنے لاڈ محبت کا نتیجہ ٹوٹے ہوئے ہاتھوں سے تو کام کرتی ہے اور آج کل تو نا جانے کن خیالوں میں کھوئی رہتی ہے “باپ کے سامنے اپنے لئے اس قسم کی بات سن کر نیلو تلملا سی گئ تھی

“پھپو کبھی تو سوچ سمجھ کر بولا کریں ۔۔۔میں چپ رہتی ہوں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ جو جی میں آئے آپ بولتی چلی جائیں ۔۔۔۔پورا دن صبح سے شام تک مجھے گھر کے کاموں سے فرصت نہیں ملتی ۔۔۔۔ اوپر سے آپ بنا لحاظ مجھے جو چاہے بول دیتی ہیں ۔یں کب سے یہ سب چپ چاپ سن رہی ہوں ۔۔۔آج بابا کے سامنے مجھے بتائیے ایسا کیا کرتے دیکھا ہے آپ نے مجھے جو ہر ایرے غیرے سے میرا تعلق جوڑ دیتی ہیں ۔۔۔۔اگر کوئی چھچھورا لڑکا چھت پر آنے والی ہر لڑکی کو دیکھتا ہے اس میں میں بھی بھی شامل ہوں تو اس میں میرا کردار کیوں آپ مشکوک بنا کر رکھ دیتی ہیں ۔۔۔۔میرا اس میں کیا قصور ہے” ۔۔۔۔٫نیلوفرا آج چپ نہیں رہی تھی ۔۔۔۔ تنگ آ چکی اپنے صاف ستھرے کردار پر غلیظ جمعلے سنتے ہوئے ۔۔۔۔۔اس کے بابا خاموشی سے سب دیکھ رہے تھے پھپو کو توحیرت کے جھٹکے لگنے لگے نیلو کی جرت ہی کہاں تھی کہ یوں دو با دو جواب دے مگر باسم کی باتوں کا اثر اب نیلو کے انداز سے ظاہر ہونے لگا تھا اسکی محبت کا اثر تھا کہ نیلو اب نیلو بن کر نہیں باسم کی فری بن کر جینا چاہتی تھی

“ہائے ہائے دیکھ رہے ہو بھیا کیسے قینچی کی طرح زبان چلنے لگی ہے اسکی ۔۔۔لحاظ مروت سب بھولتی جا رہی ہے “

“بس بھی کر دو شگفتہ کیا ہر وقت بچی کے پیچھے پڑی رہتی ہو ۔۔۔۔سارا دن کسی کوہوں کے بیل کی طرح کام میں جتی رہتی ہے نیلو تم تو کسی کام کو ہاتھ نہیں لگاتی ۔۔۔اس پر بھی تم جو منہ میں آتا ہے بول دیتی ہو ۔۔۔ تم بہن ہو میری میں لحاظ میں چپ رہتا ہوں تو مطلب یہ نہیں کہ اندھا ہوں ۔۔۔۔۔ نیلو چھوڑ دو بیٹا سب کچھ جا کر آرام کرو کام کر کر کے کملا گئ ہے میری پھول سی بچی ۔۔۔۔شام کی چائے آج کے بعد شگفتہ بنایا کرے گی ۔۔۔۔نیلو فر تو باپ کی بات سن کر حیران پریشان تھی نیلو کی زبان کے کھلے قفل نے اس کے والد کو بھی زبان دیدی تھی ۔۔۔۔۔ وہ بھی سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اٹھ کر اپنے والد کے پاس کھڑی ہو گئ بہت عرصے بعد ایسا ہوا کہ نیلو کے والد نے اسے اپنے ساتھ لگایا ۔۔۔۔سر پر پیار سے ہاتھ پھرنے لگے وہ لاکھ ضبط کے بھی ذرا سی شفقت پاتے ہی آنسوں کاوہ سمندر جو اپنے اندر ہی ضبط کرتی آ رہی تھی آج انہیں باہر آنے سے نہیں روک پائی بنا آواز کے سسکیاں لیکر رونے لگی باپ کی گرفت کچھ اور مضبوط ہوئی

“چپ ہو جاؤں نیلو ۔۔۔۔غلطی میری ہی ہے ۔۔۔میں نے بہن کے لحاظ میں تم سے ذیادتی کر دی ۔۔۔۔تم چپ رہتی تھی مجھے لگا لاپروا ہو اپنی پھپو کی باتوں کو دل سے نہیں لگاتی مگر آج تمہاری باتیں سن کر احساس ہوا کہ کتنی تکلیف اٹھا رہی ہو ۔۔۔۔۔

باسم کی باتیں کتنی سچی تھیں نیلو کو اب اندازہ ہو رہا تھا ۔۔۔۔۔جوقدم اس نے آج اٹھایا تھا اگر پہلے اٹھا لیتی تو یہ سب سہنا نہیں پڑتا ۔۔۔۔لیکن پھپو بیگم کے ہوش ضرور ٹھکانے آ گئے تھے پہلی بار بھائی۔ نے بھی بیٹی کا ساتھ دیا تھا ۔۔۔۔۔اور بہن کو جھاڑ پلائی تھی ۔۔۔پھپو نے دل میں جی بھر کر نیلو کو کوسا ۔۔۔۔ اور زمین پر گری چائے کی پتی صاف کرنے لگی ۔۔۔۔۔نیلو کو اسکے بابا اپنے ساتھ لگائے اسکے کمرے میں لے آئے بیڈ پر اسے بیٹھایا اسکے آنسوں صاف کیے ۔۔۔۔۔۔

“نیلو چپ کرو شاباش ۔۔۔۔کیوں چپ چاپ سنتی رہی شگفتہ کی باتیں آج تو بات میرے سامنے ہوئی تھی ۔۔۔تو میں نے سن لی میرے پیچھے سے تمہیں نا جانے کیا کیا سناتی رہی ہو گی کیوں نہیں بتایا مجھے کیوں چپ رہی بولو “وہ شفقت سے اسکے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولے

“بابا میں آپ کو پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی “

“اس لئے خود پریشان ہوتی رہی ۔۔۔غلط کیا نیلو مجھے بتانا چاہیے تھا میں تبھی ٹوک دیتا شگفتہ کو ۔۔۔۔۔۔خوامخواہ میں تم سکتی رہی میں غیر تو نہیں نیلو فر مجھ کہہ کر تو دیکھتی “باپ کی ڈھارس سے نیلو فر نے اطمینان کا سانس لیا ۔۔۔قصور وار تو وہ واقع تھی جو چپ چاپ پھپو کی سنتی رہی کبھی کسی سے کچھ نہیں کیا بس جب دلبرداشتہ ہوتی تو روتے ہوئے ماں کو رو رو کر بتاتی جو نا سن سکتی تھی نا کچھ کر سکتی تھی ۔۔۔۔لیکن جب سے باسم اسکی زندگی میں آیا تھا کچھ بدلاؤ سا آنے لگا تھا اس میں ۔۔۔۔ایک نئے عزم کے جیسے باسم نے بیچ بو دیے تھے اس کے اندر ۔۔۔۔۔ جن میں تیزی سے کونپلیں پھوٹنے لگیں تھیں ۔۔۔۔۔ اور وہ عزم تھا کچھ بولنے لب کو کھولنے کا ۔۔۔۔۔ پی بار نیلو پر یہ ادراک بھی ہوا کہ اسکے بابا اس سے کتنی محبت کرتے ہیں ۔۔۔۔ورنہ تو وہ ان سے بھی بدگمان رہتی تھی ۔۔۔۔

******……

“سر پلیز ایک بار ۔میری بات تو سنیں لیں ۔۔۔” باسم کب سے زمان صاحب کو شاہزیب کے لئے منانے کی کوشش کر رہا تھا مگر وہ کچھ بھی سننے کو تیار نہیں تھے

“باسم تم بہت عزیز ہو مجھے ۔۔۔قابل احترام بھی ہو کیونکہ میرے ہی درجے پر کام کر رہے ہو استاد ہو عاصم کے۔۔۔۔تعلیم کو فروغ دے رہے ہو اس لئے بہت قابل عزت بن چکے ہو میرے لئے ۔۔۔۔ لیکن اگر تمہارا موضوع گفتگوں شاہزیب ہی ہے تو بات کو یہیں ختم سمجھو۔۔۔۔۔ مجھے اس بدلحاظ کے بارے میں کچھ بھی نہیں سننا کمبخت چار دن سڑکوں پر مارا مارا پھیرے گا تو ہوش ٹھکانے آ جائیں گئے ۔۔۔۔ بے شرم کہیں کا “زمان صاحب کچھ بھی سننے کو تیار نہیں تھے زمان صاحب کی گل فشانیاں سن کر باسم نے دانستہ یہ بات چھپا لی کہ شاہزیب اسکے گھر پر ہے ۔۔۔ورنہ جتنے غصے میں وہ تھے باسم پر بھی برہم ہونے سے گریز نا کرتے ۔۔۔۔۔ ماتھے پر بل ایک لمحے کے لئے بھی غائب نہیں ہوئے تھے سامنے رکھا ایش ٹرے سگریٹ کے بجھے ٹکروں سے بھرا ہوا تھا ۔۔۔چہرے پر رتجگے کے تاثرات بھی بہت واضع تھے ۔۔۔۔

“سر صرف بات سننے میں تو کوئی حرج نہیں ہے ۔۔۔۔سختی اولاد کو سرکشی پر مجبور کر دیتی ہے ۔۔۔۔”باسم نے پھر سے کوشش کی

“باسم میاں یہ سب میری نرمی کا۔ ہی نتیجہ ہے ۔۔۔ مجھے یہ دو جوتے سے شاہزیب کو اسی وقت لگانے چاہیے تھے جب اس کمینے کی شہ پر وہ لڑکی گھر تک پہنچ گئ تھی تب بات نئ نئ تھی اسی وقت اس کے کان کھنچتا تو یہ نوبت ہی نا آتی ۔۔۔الو کا پٹھا کیسے ڈھٹائی سے کہہ رہا تھا کہ شادی اسی سے کر کے دیکھاوں گا ۔۔۔۔۔ سڑکوں پر جوتیاں گھیس گی پیٹ میں چوہے ناچے گئے تو عشق کا بخار بھی جلدی اترے گا ۔۔۔۔دیکھوں کیسے چار دن میں انسان کا بچہ بن کر لوٹے گا کمینہ ” زمان صاحب کا غصے سے سانس پھول رہا تھا ۔۔۔۔باسم پہلو بدل کر رہ گیا تھا ۔۔۔۔کیسے بات کو سنبھالے سمجھ نہیں پارہا تھا ۔۔۔۔ وہاں شاہزیب کچھ سننے کو تیار نہیں تھا یہاں زمان صاحب اس کا نام بھی سننا نہیں چاہتے تھے۔۔۔۔۔شاہزیب کو باسم اس وعدے کے ساتھ اپنے گھر لے گیا تھا کہ زمان صاحب کو نیناں کے لئے راضی کر لے گا مگر نیناں تو دور کی بات یہاں تو زمان صاحب شاہزیب کی شکل دیکھنے کے بھی روادار نہیں تھے ۔۔۔۔۔۔

باسم سمجھ نہیں پا رہا تھا بات کو کس کروٹ بیھائے ابھی لفظوں کی ترتیب میں ہی گم تھا جب موبائل پر کال آنے لگی ۔۔۔۔۔ باسم نے فون اٹھا کر کان کو لگایا رائمہ کی کال تھی وہ بہت بد ہواس سی ہو کر بات کر رہی تھی

“باسم جلدی پہنچو گھر پر بہت بڑا مسلہ ہو گیا ہے۔۔۔۔”گھبرائی بوکھلائی رائمہ کی آواز سن کر باسم سنبھل کر بیٹھ گیا

“کیا ہوا ہے ۔۔۔امی تو ٹھیک ہیں رائمہ “باسم کو پہلا خیال ماں کا ہی آیا تھا جو ذیادہ تر بیمار شمار ہی رہتی تھیں ۔۔۔۔۔

لیکن جو خبر رائمہ نے سنائی ۔۔باسم کے ہوش اڑانے کے لئے کافی تھی

“واٹ “باسم اپنی نشت سے یوں کھڑ ہوا جیسے کرسی کسی نے کانٹوں سے بھر دی ہو