One Wheeling by Umme Hani NovelR50409 One Wheeling Episode 5
Rate this Novel
One Wheeling Episode 5
One Wheeling by Umme Hani
کافی دن سے شاہزیب سمندر جانے سے کتراتا تھا ۔۔۔۔خرم ۔۔سیفی۔۔جمی سب ہی اسے کہہ کہہ کر تھک گئے لیکن وہ ٹال جاتا
“,نہیں بس آج یہیں۔ پریکٹس کریں گئے ۔۔۔سمندر بہت دور پڑتا ہے ۔۔۔۔پھر میرا کزن بھی وہیں کہیں۔ رہتا ہے اگر اس نے دیکھ لیا تو ابو سے شکایت کر دے گا “شاہزیب اسکی لڑکی کی وجہ سے کترا رہا تھا ۔۔اس لئے وہاں جانا نہیں چاہتا تھا ۔۔۔۔۔شازل بھی بے شک وہی رہتا تھا لیکن شازل کی اسے کوئی پروا نہیں تھی ۔۔۔
******……….
چار پانچ دن شاہزیب کا انتظار کرنے کے بعد ۔۔۔۔نیناں ایک دن اپنے ڈرائیور کے ساتھ شاہزیب کے گھر پہنچ گئ ۔۔۔۔۔بلڈنگ وہ دیکھ چکی تھی بس یہ نہیں معلوم تھا کہ فلور کون سا ہے لیکن وہ بھی اتنا بڑا مسلہ نہیں تھا ۔۔۔۔وہ اس نے سیڑیوں سے اترتے بچوں سے پوچھ لیا کہ شاہزیب کا گھر کونسا ہے ۔۔۔۔۔۔اس لئے دروازے کے سامنے کھڑی بیل بجانے لگی
******………
آج چھٹی کا دن تھا اس لئے سب گھر پر ہی موجود تھے اور پہلااتفاق تھا کہ شازل اور زمرد بیگم بھی تشریف نہیں لائے تھے اور
شاہزیب اور عاصم کی پر زور فرمائش پر شازمہ نے بریانی بنائی تھی سب ہی ڈائینگ پر کھانا شروع کرنے ہی والے تھے کے ڈور بیل ہوئی ۔۔۔آج کل تو زمان صاحب کا موڈ بھی کافی خوشگوار تھا ۔۔۔کیونکہ شاہزیب کافی دن سے گھر پر ہی نظر آ رہا تھا دوستوں میں۔ جانا بھی کچھ کم ہو چکا تھا ۔۔۔۔۔۔
“تم لوگ کھاؤ دروازہ میں کھول دیتا ہوں ۔۔۔۔”زمان صاحب نے اٹھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
سب سے پہلے چاولوں کی ڈش شاہزیب نے پکڑی تھی
“سب سے پہلے بادشاہ سلامت نوش فرمائیں گئے ۔۔۔۔عام جنتا کی باری بعد میں آئے گی ۔۔۔۔”شاہزیب نے اپنی پلیٹ بھری اور ڈش واپس رکھ دی ۔۔۔۔ عاصم اب ڈش میں سے اپنی پسندیدہ بوٹی ڈھونڈ رہا تھا ۔۔۔۔
“ظلے الہی جان کی ایمان پاؤں تو کچھ غرض کرو ۔۔۔۔”عاصم کو جب اپنی مطلوبہ لیگ پیس شاہزیب۔ کی پلیٹ میں نظر آئے تو نہایت مودبانہ انداز سے سر جھکا کر بولا
‘”اجازت ہے مورخ “شاہزیب نے بھی آبرو چڑھاتے ہوئے شاہانہ انداز سے کہا
“ایک لیگ پیس مجھے بھی عنایت فرما کر عام جنتا کی پسند کا خیال رکھا جائے “عاصم نے جب مرغی کے دونوں لیگ پیس شاہزیب کی پلیٹ میں دیکھے تو اسی انداز سے کہا
“خبردار خستاخ لڑکے جو تم نے اپنی گندی نظر چشمے سمیت میری پلٹ پر ڈالی تو میں زندان میں ڈال دونگا ۔۔۔۔”شاہزیب نے پلیٹ بلکل اپنے قریب کر لی۔۔۔عاصم نے روندلی آواز میں ماں کو پکارا
“امی ۔۔۔دیکھیں شاہوں بھائی کو دونوں لیگ پیس اپنی پلیٹ میں ڈال لئے ہیں مجھے نہیں پتہ لے کر دیں ان سے “عاصم اب رو دینے کو تھا ۔۔۔۔۔نمیرہ کی ہنسی نہیں رک رہی تھی وہ شاہزیب کے برابر میں بیٹھی تھی مسکراہٹ تو عاتقہ بیگم کے چہرے پر بھی تھی
“عاصم کچھ اور لے لو ۔۔۔کیا ندیدا پن ہے “شازمہ کو عاصم کی یہ حرکت اچھی نہیں لگ رہی تھی ۔۔۔۔اس نے عاصم کو آنکھیں۔ دیکھائیں
“شاہزیب چلو دو عاصم کو ایک لیگ پیس تمہیں پتہ ہے کہ وہ یہی شوق سے کھاتا ہے “عاتقہ بیگم نے جھگڑا ختم کرتے ہوئے کہا
“یہ لے ندیدے چار آنکھوں والے بلے ۔۔۔۔کھا لے “شاہ زیب نے ایک لیگ پیس اپنی پلیٹ سے عاصم کی پلیٹ میں ڈال دیا ۔۔۔۔عاصم نے اپنا نظر کا چشمہ ٹھیک کیااور کھانے لگا
زمان صاحب نے دروازہ کھولا تو سامنے ایک ماڈرن سی لڑکی پینٹ شرٹ میں ملبوس کالا چشمہ لگائے کھڑی تھی ۔۔۔۔
“جی فرمایے بیٹا کون ہیں آپ “
زمان صاحب نے ایک سرسری سی نظر اس لڑکی پر ڈالی
“م۔۔۔میں ۔۔۔۔د ۔۔۔دوست ۔۔۔ہوں “وہ کچھ جھجک کر بولی زمان صاحب کو دیکھ کر کچھ نروس سی ہونے لگی تھی
“اچھا ۔۔۔اچھا ۔۔۔۔شازمہ کی یا نمیرہ کی ۔”زمان صاحب کو کچھ حیرت بھی ہوئی کیونکہ ایسی دوست انکی بیٹیوں کی انہوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی
“ش۔۔شاہ۔۔۔۔زیب ۔۔۔کی “نیناں نے بامشکل کہا
“اچھا اچھا شاہزیب کی ۔۔۔چلو آؤں اندر “وہ پیچھے ہٹ گئے لیکن جیسے ہی وہ اندر داخل ہوئی ۔۔۔وہ برجستہ پلٹے
“کیا کہا کس کی دوست ہو “زمان صاحب نے نیناں کی بات پر اب غور کیا تھا
“شاہ ۔۔۔۔زیب “نیناں منمناتے ہوئے بولی ۔۔۔۔سامنے ہی ڈائنگ ٹیبل پر لیگ پیس منہ سے توڑتے ہوئے شاہ زیب کی نظر جب نیناں پر پڑی تو ہڑبڑا سا گیا لیگ پیس چھٹ کر پلیٹ میں گر گیا ۔۔۔۔۔نیناں۔ کو سامنے دیکھنا ہی کسی قیامت سے کم نہیں۔ تھا وہ بھی زمان صاحب کے ساتھ شاہزیب کے تو ہوش ہی اڑ گئے تھے ۔۔۔کیا تھی یہ لڑکی ۔۔۔۔گھر تک پہنچ گئ ۔۔۔۔۔اور گھر ۔۔۔گھر کا کیسے پتہ چلا اسے ۔۔۔۔۔عجیب وغریب قسم کی چپکو لڑکی ہے ۔۔۔۔۔شاہزیب کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ نیناں کو دیکھ کر حیرت سے ڈوب مرے یا باپ کے سامنے اس لڑکی سے بات کرنے سے پہلے شرم سے ڈوب ۔ مرے کیا کہہ کر متعارف کروائے گا اسے جیسے وہ خود بھی نہیں جانتا تھا ۔۔۔۔ایک نظر نیناں کی دیدہ دلیری پر ڈالی ۔۔۔اور دوسری نظر باپ پر ڈرتے ہوئے ڈالی جو پر شکن پیشانی لئے خشمگین نظروں سے شاہزیب۔ کو کھا جانے والے انداز سے دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔نمیرہ نے کہنی مار کر شاہزیب کو ہوش کی دنیا میں لوٹایا اور اسکے کان کے قریب سرگوشی کی
“شاہو بھائی یہ تو وہی ہے ۔۔۔۔مال والی ۔۔۔آپ نے اسے گھر بھی بلا لیا ۔۔۔۔۔مجھ سے تو کہہ رہے تھے کوئی چکر نہیں ہے اس لڑکی سے”
“منہ بند رکھو اپنا ۔۔۔”شاہزیب کو پہلے ہی نیناں پر غصہ آ رہا تھا پھر نمیرہ کی بات پر اسے دبے لہجے میں گھورتے ہوئے اپنے منہ پر انگلی رکھ کر تنبیہ کی ۔۔۔۔شازمہ اور عاتقہ بیگم اس انجان فیشن ایبل حسین لڑکی کو زمان صاحب کے ساتھ آتا دیکھ کر ایک دوسرے کو دیکھا
“یہ کون ہے شازی “
“پتہ نہیں امی ۔۔۔۔میں تو پہلی بار دیکھ رہی ہوں ۔۔۔۔”شازمہ خود حیران تھی اتنی موڈرن دوست تو اسکی کوئی بھی نہیں تھی نا ہی نمیرہ کی تھی ۔۔۔۔نیناں جھجکتے ہوئے زمان صاحب کے ساتھ ڈائنگ ٹیبل تک آئی تھی نظریں شاہزیب پر تھیں جو اس وقت اسے بری طرح گھور رہا تھا
“بھئ یہ بچی اپنے شاہزیب کی دوست ہے ۔۔۔۔”زمان صاحب نے نیناں کا تعارف کروایا ۔۔۔عاصم سمیت سب کے چمچ بیک وقت رکے تھے ۔۔۔۔اور شاہزیب کی تو بھوک ہی نیناں کو دیکھ کر اڑ چکی تھی ۔۔۔۔
“بیٹھوں بیٹا “زمان صاحب۔ نے ایک کرسی کھنچ کر نیناں کو عین شاہزیب کے سامنے کرسی پر بیٹھا دیا اور خود بھی اسکے ساتھ بیٹھ گئے سب ہی کھانا بھول بھال کبھی نیناں تو کبھی شاہزیب کو دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔
“ہائے شاہزیب “شاہزیب نے نا تو نیناں کے ہائے کا جواب دیا نا ہی مروتا اثبات میں سر ہلایا اس وقت تو اس کا جی چاہ رہا تھا کہ سامنے بیٹھی لڑکی کا حشر بگاڑ دے ۔۔۔بنا کسی قصور کے ۔زمان صاحب سے ہونے والی شامت سے ابھی سے کھل رہی تھی ۔۔۔۔نیناں نے جب شاہزیب کے خطرناک تیور دیکھے تو اپنے آنے پر افسوس سا ہونے لگا برابر میں بیٹھی نمیرہ کو دیکھا جو منہ کھولے اسے حیران نظروں سے تکے جا رہی تھی ۔۔۔نمیرہ نام تو اسے یاد نہیں۔ تھا لیکن شاہزیب نے اسے نمی کہہ کر پکارا تھا اس لئے اپنا ہاتھ نمیرہ کی طرف بڑھائے ہوئے بولی خوش دلی کا مظاہرہ کیا
“ہائے نمی ۔۔۔ہاو آر یو “نمیرہ بس منہ کھولے ہی بیٹھی اسے دیکھتی رہی ۔۔۔اب تو اسے بھی باپ کی شامت سے خوف آنے لگا تھا کہ وہ بھی بھائی کے ساتھ شامل ہے ۔۔زمان صاحب کی زریک نظر اب نمیرہ پر تھی
“نمی بیٹا منہ بند کرو اور ہائے کا جواب دو ۔۔۔۔بھائی کی دوست کو ۔۔۔”جس انداز سے زمان صاحب نے جتایا تھا دونوں بہن بھائی ہی اندر سے ہل گئے تھے باپ کے غصے سے اچھی طرح واقف تھے
“ج۔۔جی ابو “نمیرہ نے فورا منہ بند کیا اور ہاتھ بڑھا کر نیناں سے ہاتھ ملایا ۔۔۔
“شاہزیب نے نمی کا تعارف تو تم سے کروا ہی دیا ہے ۔۔۔۔چلو باقی کا میں کروا دیتا ہوں ۔۔۔۔۔۔یہ میری بیگم اور شاہزیب کی والدہ ہیں ۔۔۔۔اور اسکے ساتھ بیٹھی میری بڑی بیٹی شازمہ ہے اور یہ چھوٹا بیٹا عاصم ۔۔۔زمان صاحب نے سب سے تعارف کروایا مگر سب ہی خاموش تھے
“ہیلو آنٹی ۔۔۔۔”نیناں نے عاتقہ بیگم سے دور سے ہی سلام کیا انہوں نے بھی بس اثبات میں۔ سر ہلایا اور شاہزیب کو گھور کر دیکھا ۔۔۔جو اب چپ چاپ نظریں جھکائے بیٹھا تھا ۔۔۔۔
ہائے آپی “عاصم نے نیناں کی طرف مسکراتے ھوئے ہاتھ بڑھایا تھا ۔۔۔۔نیناں نے اس سے ہاتھ ملایا اور اب سوچ رہی تھی کہ سب کی موجودگی میں شاہزیب سے بات کیسے کرے ۔۔۔۔
“ارے آپ سب لوگ ایسے کیوں بیٹھے ہو ۔۔۔۔کھانا کھاؤں بھئ ۔۔۔۔بیٹاآپ بھی ہمہیں جوائن کرو ۔۔۔۔”سامنے سے ایک پلیٹ زمان صاحب نے نیناں کے سامنے رکھی”
“نو تھنکس انکل مجھے بھوک نہیں ہے “وہ کچھ کترارہی تھی
“ارے نہیں بھئ ۔کچھ تو ساتھ دینا پڑے گا ۔۔۔۔شایزیب نے خاص فرمائش کر کے بریانی بنوائی ہے ۔۔۔ “زمان صاحب کی خوش اخلاقی کے پیچھے چھپے طنز سے انکی ساری فیملی واقف تھی ۔۔۔۔۔نیناں نے جھجکتے ہوئے بس تھوڑی سی بریانی اپنی پلیٹ میں ڈالی ۔۔۔۔
باقی سب بھی مجبورا کھانا کھانے لگے سوائے شاہزیب کے ۔۔۔۔
“ہاں تو ۔۔۔۔نام کیا بیٹا آپ کا “زمان صاحب نے پہلے شاہزیب کو گھرکا پھر نیناں کی طرف متوجہ ہوئے
“نیناں “وہ دھیرے سے بولی ۔۔۔۔شاہزیب کی گھورتی ہوئی نظروں پر نیناں سے بات بھی نہیں۔ ہو پارہی تھی ۔۔۔جو بنا لحاظ کے قہر بھری نظریں اس پر گاڑے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
“نیناں ۔۔۔۔نائس نیم ۔۔۔۔رہتی کہاں ہیں “زمان صاحب کا انٹر ویو شروع ہو چکا تھا ۔۔۔۔
“ڈیفنس “
“ڈیفنس ۔۔۔فیز ؟
“فیز 8″نیناں زمان صاحب کے پے در پے سوالات پر اٹکی تھی
“ہمم یعنی سمندر کے قریب “
“جی “نیناں یہاں آ کر بڑی مشکل میں پڑ گئ تھی ۔۔۔سب کی خاموشی ۔۔۔۔شاہزیب کی گھورتی نظریں ۔۔۔زمان صاحب کے سوال ۔۔۔۔۔اسے کہاں اس ماحول کا علم تھا ۔۔۔۔اب تک وہ جس گیدرنگ میں رہی تھی وہاں یہ سب عام سی بات تھی اس کے بہت سے میل دوست بھی تھے جن کے گھر وہ بے تکلفی سے آتی جاتی رہتی تھی ۔۔۔۔۔لیکن یہاں کے ماحول میں اسے کشیدگی سی محسوس ہو رہی تھی جیسے وہ کچھ غلط کربیٹھی ہو ۔۔۔اگر شاہزیب اسکی بات سن لیتا یا پھر اس سے مل لیتا تو وہ کبھی بھی ایسا قدم نہیں اٹھاتی ۔۔۔۔
“پہلی ملاقات بھی یقینا سی ویو پر ہوئی ہو گی”زمان صاحب۔ کے اگلے سوال کا جواب نیناں نے کچھ توقف سے دیا
“جی “نیناں پلیٹ خالی کر چکی تھی اس لئے پلیٹ پیچھے کھسکا دی مرچیں خاصی تیز تھیں لیکن پھر بھی پانی نہیں مانگ پائی ۔۔۔۔
“تم کیوں ایسے بیٹھے ہو کھانا کھاؤ ۔۔۔”زمان صاحب نے شاہزیب کو یونہی بیٹھے دیکھا تو بولے
“بھوک نہیں ہے مجھے “شاہزیب نے غصے سے پلیٹ پیچھے کھسکائی ۔۔۔۔
“کھا لو تو بہتر ہے ۔۔۔ورنہ بعد میں شکایت مت کرنا کہ کھانے کا موقع نہیں۔ دیا تمہیں ۔۔۔۔”زمان صاحب کے کاٹ دار لہجے پر یک دم خاموشی چھا گئ تھی
“انکل اف یو ڈونٹ ماینڈ میں شاہزیب سے بات کر سکتی ہوں “نیناں اب وہاں سے جلد از جلد جانا چاہتی تھی ۔۔۔۔اور یوں اٹھ کر بھی نہیں جا سکتی تھی اس لئے شاہزیب سے بات تو کرنی ہی تھی
“یا شیور جاؤں شاہزیب بات کرو اپنی دوست سے ۔۔۔۔ڈرائنگ روم میں مناسب رہے گا یا اپنے روم میں بات کرنا چاہو گئے ۔۔۔” زمان صاحب کے لہجے میں سختی عود آئی تھی ۔۔۔جس معنی خیز انداز سے انہوں نے کہا تھا نیناں تو نا فہم تھی مگر شاہزیب اچھی طرح سمجھ گیا تھا ۔۔۔۔
” یہیں کروں گا سب کے سامنے “
۔شاہزیب کی برداشت جواب دے چکی تھی اس نے باپ کی پروا کیے بغیر نیناں کی طرف سخت نظروں سے دیکھا ۔۔۔۔۔
“جاؤں تم یہاں سے اور کل پانچ بجے میرا وہیں انتظار کرنا جہاں تم نے مجھے دیکھا تھا ۔۔۔۔۔”اسے پہلے کہ وہ اپنا مزید ضبط کھو کر نیناں کو کھری کھری سنادیتا اس نے بس یہی کہا ۔۔۔اور اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا ۔۔۔۔نیناں بھی اٹھ کر چلی گئ ۔۔۔زمان صاحب نے قہر بھری نظر عاتقہ بیگم پر ڈالی ۔۔۔۔خلاف توقع آج وہ چپ رہیں تھیں شاہزیب کی صفائی میں کہنے کے لئے آج انکے پاس بھی کوئی لفظ نہیں تھا ۔۔۔۔
“اپنے لاڈلے سے کہوں کھانا کھا کر میرے کمرے میں آئے ۔۔۔۔۔۔اور تم بھی نمیرہ “زمان صاحب کرخت لہجے میں نمیرہ کو گھورتے ہوئے بولے ۔۔۔
“جی ابو “۔۔۔نمیرہ کا حلق تک خشک ہو گیا تھا ۔۔۔۔زمان صاحب غصے سے ٹیبل سے اٹھے
“ابو کھانا تو کھا لیں ۔۔۔۔”شازمہ نے زمان صاحب کو اٹھتے دیکھ کر کہا
“بھوک نہیں ہے مجھے “
شازمہ کو باپ کی فکر ہوئی ۔۔۔ابھی کچھ دیر پہلے تو دو دفع پوچھ چکے تھے کی کب پکے گئ تمہاری بریانی ۔۔۔۔اور اب بنا کھائے ہی اپنے کمرے میں جا چکے تھے ۔۔۔نمیرہ نے بھی پلیٹ پیچھے کھسکا دی اؤر آٹھ کر کھڑی ہونے لگی
“یہیں بیٹھوں نمیرہ ۔۔۔۔کیا چکر ہے اس لڑکی کا شاہزیب سے ۔۔۔اور تم ۔۔۔۔تم نے بھی سب کچھ چھپائے رکھا ۔۔۔کب سے چل رہا ہے یہ سب “عاتقہ بیگم نے سختی سے نمیرہ سے پوچھا
“امی شاہو بھائی نے منع کیا تھا ۔۔۔”
“ہاں شاہو نے منع کیا اور تم ہو گی ۔۔۔۔۔۔۔”عاتقہ بیگم غصے سے بولیں
“امی اسے کیوں ڈانٹ رہیں ہیں ۔۔۔۔قصور تو شاہو کا ہے ۔۔۔۔میں پہلے ہی آپ سے کہتی تھی کہ اتنی چھوٹ مت دیں اسے ۔۔۔پہلے اسے بائیک کا خبط سوار تھا ۔۔۔۔اور اب یہ لڑکی کا چکر ۔۔۔۔امی آپ کیا سمجھتی ہیں شاہو ہو ۔۔۔۔یہ جو لڑکی ابھی آئی تھی ۔۔۔ہمارے ماحول کی کہیں سے نہیں لگ رہی تھی ۔۔۔۔مجھے تو کسی بڑے باپ کی بیٹی لگتی ہے ۔۔۔ابھی اس شاہوں کے بچے کے قدم نہیں روکیں گئ تو دیکھیں کیا گل کھلاتا ہے یہ ۔۔۔۔نا جانے کون سی امیدیں دلائیں ہیں اسے جو وہ گھر تک آ پہنچی “شازمہ بے حد پریشان ہوئی تھی ۔۔۔ڈر بھی رہی تھی ۔۔۔۔
“اچھا اب چپ بھی کرو پہلے ہی میں پریشان ہوں اور اوپر سے تم میرا دل ہولائے جارہی ہو ۔۔۔۔”عاتقہ بیگم سر پکڑ کر بیٹھ گئ
