One Wheeling by Umme Hani NovelR50409 One Wheeling Episode 7
Rate this Novel
One Wheeling Episode 7
One Wheeling by Umme Hani
“آخر تم چاہتے کیا ہو شاہزیب ۔۔۔۔ایک دفعہ ہی مجھے صاف صاف بتا دو “،زمان صاحب نے دھاڑتے ہوئے پوچھا
“ابو میں سچ کہہ رہا ہوں میرا اس لڑکی سے کوئی واسطہ نہیں ہے ۔۔۔۔مجھ میں لاکھ عیب سہی لیکن یہ گرل فرینڈ والی مصبت پالنے کے بارے میں میں سوچ بھی نہیں سکتا ۔۔۔۔پلیز try to understand”شاہزیب نے ہمت کر کے بات شروع کی مگر زمان صاحب کچھ بھی سننے کو تیار نہیں تھے
“نہیں مجھے تمہاری کسی بات کا اعتبار نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے ۔۔۔۔جوان بہنوں کا خیال ہی کر لیتے ۔۔۔۔تم کسی کی بہن بیٹی سے دوستاں بڑھاؤں گئے تو کل کو تمہاری بہن “اتنی بڑی تذلیل شاہزیب سے اپنے لئے تو برداشت ہی نہیں ہوئی تھی اس نے کیا ہی کیا تھا ۔۔۔۔بنا کسی ثبوت کے بہنوں کا طعنہ شاہزیب کے انا پر بہت برا وار تھا ۔۔۔اس وقت اگر نیناں اس کے سامنے ہوتی تو نا جانے کیا کر گزرا اس کے ساتھ ۔۔۔۔جس کی وجہ اپنے کردار کی دھجیاں وہ اپنے باپ کے ہاتھوں بکھرتے ہوئے دیکھ رہا تھا
“ابو پلیز ۔۔۔۔میں نے ایسا کچھ نہیں کیا جو آپ مجھے یہ طعنہ دیں ۔۔۔۔۔وہ لڑکی خود ہی میرے پیچھے آئی تھی ۔۔۔مجھےتو نام بھی صحیح سے نہیں پتہ اس کا “شاہزیب نے لہجہ دھیمہ ہی رکھا لیکن اندر تو جیسے آگ دہک اٹھی تھی زمان صاحب چلتے ہوئے شاہزیب کے قریب پہنچ کر تاسف سے اسے دیکھ کر سرخ آنکھیں لئے بولے
“اچھا تم اتنے انجان تھے ۔۔۔اور وہ خود با خود تمہارے گھر تم پہنچ گئ ۔۔۔۔ میری شکل پر تمہیں بیوقوف لکھا نظر آرہا ہے کیا ۔۔۔۔۔ کچھ دیر پہلے تم نے خود اسے وہاں بلایا ہے جہاں تم اس سے ملاقاتیں کرتے رہے ہو…. پچھلے ایک مہنے سے تمہارے ہر دوسرے دن سمندر کے چکر لگ رہے ہیں تین چار بار تو تمہیں شازل بھی دیکھ چکا ہے ۔۔۔۔یاد رکھو میری بات اگر شازل یا زمرد بھابی نے تمہیں کسی لڑکی کے ساتھ دیکھ لیا اور یہ بات کل کو شازمہ کے لئے مشکل کا سبب بنی میں تمہیں گھر سے نکال باہر کرونگا ۔۔۔۔”زمان صاحب۔ کی غصے سے آنکھیں سرخ ہو رہیں تھیں
“ابو ۔۔۔۔”شاہزیب۔ نے پھر سے اپنی سچائی کا یقین دلانا چاہا
۔۔۔۔”اپنی بکواس بند کرو اور دفع ہو جاؤں یہاں ۔۔۔۔اسوقت تمہاری شکل بھی میں دیکھنا نہیں چاہتا “زمان صاحب غصے کے مارے سرخ ہو کر بولے ۔۔۔شاہزیب خاموشی سے باہر نکلنے لگا
“اور ہاں آج بائیک لیکر کہیں جانے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔۔”زمان صاحب کی بات سن کر شاہزیب باہر نکلا تو سامنے صوفے پر عاتقہ بیگم ماتھے پر تیوری چڑھائے بیٹھی تھیں اور انکے۔ برابر میں شازمہ منہ پر ہاتھ رکھے اپنی ہنسی چھپنانے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔۔۔یقینا ساری باتیں سن چکی تھی گھر ہی کتنا بڑا تھا جو ایک کمرے کی آواز باہر نا جا سکتی ہو ۔۔۔شاہ زیب نے کن آنکھوں سے شازمہ کو گھورا اور اپنے کمرے میں چلا گیا ۔۔۔۔شازمہ اٹھ کر زمان صاحب کے کمرے میں چلی گئ وہ اب بھی سگریٹ ہاتھ میں لیئے کھڑے تھے
“ابو آپ نے صبح کا ناشتہ کیا ہے اسکے بعد سے کچھ بھی نہیں کھایا ۔۔۔کھانا لاوں آپکے لئے “وہ زمان صاحب کے پاس آکر۔ نرمی سے بولی اور سگریٹ انکے ہاتھ سے لیکر ایش ٹرے میں بجھا دیا
“رہنے دو۔۔۔”وہ خفگی سے بولے
“ابو کیوں اپنا دل جلا رہے ہیں ۔۔۔چلیں نا کچھ کھا لیں ورنہ مجھے نیند نہیں آئے گی ۔۔”شازمہ کو ویسے بھی ماں سے زیادہ اپنے باپ سے پیار تھا اور وہ بھی بیٹوں کو تو ڈانٹ لیتے تھے مگر بیٹیوں میں جان بستی تھی انکی ۔۔۔۔
“اچھا چلو گرم کرو ۔۔۔میں آتا ہوں”۔۔۔۔زمان صاحب کا لہجہ نرم ہوا ۔۔۔۔شازمہ باہر جانے لگی تو زمان صاحب کی آواز پر پلٹی
“شازی “
“جی ابو “
“شاہزیب نے کچھ کھایا “زمان صاحب نے نظریں چراتے ہوئے پوچھا تھا ماتھے پر سلوٹیں پہلے سے کچھ کم تھیں باہر سے جتنے بھی سخت تھے مگر اندر سے فکر مند بھی رہتے تھے ۔۔۔اپنی فرمائش پر بریانی بنوائی تھی شاہزیب نے اور ناشتہ بھی ٹھیک سے نہیں کیا تھا ۔۔۔۔
“نہیں ۔۔۔۔”
“ہممم مت کھائے کوئی ضرورت نہیں ہے کسی کو اسکی منت کرنے کی “بظاہر یہی تاثر دیا کہ انہیں شاہزیب کی پروا نہیں
“جی ابو “شازمہ جانے لگی
“بات سنو ۔۔۔”
“جی ابو ” وہ پھر سے پلٹی
“اپنی ماں سے کہو کھانا گرم کر کے دے اسے صبح کا بھولا ہے وہ ۔۔۔”
“جی “وہ ابھی دروازہ کھولنے کی لگی تھی کہ زمان صاحب پھر سے بولے
“اور ہاں ۔۔۔اپنی ماں سے کہنا کہ یہ مت بتائے کہ میں نے کھانے کا کہلوایا ہے ۔۔۔۔خواہ مخواہ میں سر پر چڑھ جائے گا ۔۔۔۔۔”
“جی بہتر “شازمہ کمرے سے باہر نکل گئ ۔۔۔
******………
بازار میں کافی گہما گہمی تھی ۔۔۔۔رابعہ بیگم روباب کی فرمائشوں سے زچ ہونے لگیں تھیں نا جا نے کون کون سے فیشن اسے یاد آنے لگے تھے ۔۔۔۔ ۔۔۔بارات کا جوڑا ابھی تک اسے پسند نہیں آ رہا تھا ۔۔۔۔رائمہ اب تھک چکی تھی ۔۔۔
“امی میں اسی دوکان پر بیٹھی ہوں آپ روباب کو ساتھ لے جا کر دوسری دوکان سے اسے پسند کروا لیں میری تو اب بس ہو چکی ہے “۔۔۔۔رائمہ ایک دوکان پر رکھی کرسی پر بیٹھ گئ ۔۔۔رابعہ بیگم رباب کو لئے دوسری دوکان کی طرف بڑھ گئیں۔۔۔رائمہ نے اپنی چادر دوبارہ ٹھیک کی دو گھنٹے سے بازار میں گھوم گھوم کر پیاس سے اسکے گلے میں چھبن سی ہونے لگی تھی شاپنگ بیگ سب رائمہ کے پاس ہی تھے ۔۔۔۔۔۔
“بھائی آپ ذرا میرے شاپنگ بیگ کا دھیان رکھیں گئے میں سامنے سے جوس لے کر ابھی آتی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔سامنے بیٹھے دوکاندار سے رائمہ نے کہا
“جی جی باجی آپ بیفر ہو کر جائیں آپ کا سامان کہیں نہیں جائے گا ۔۔۔”دوکاندار نے وہ سارے شاپنگ بیگ اپنی دوکان کے اندر رکھ لئے رائمہ کچھ مطمئن سی ہو گئ تھی ۔۔۔۔۔۔اس لئے اٹھ کر مارکیٹ سے باہر آ گئ سامنے ہی فریش جوس والے کی دوکان تھی بیچ میں بس ایک مین روڈ کراس کرنا تھا لیکن گاڑیوں کے رکنے کا اسے کوئی چانس نظر نہیں آ رہا تھا ۔۔۔۔وہ سڑک کے کنارے کھڑی گاڑیوں کے رکنے کا انتظار کر رہی تھیں جب اسی سڑک پر بائیک پر گزرتے ہوئے رامس ہر نظر پڑی وہ۔ بھی اسے دیکھ چکا تھا ۔۔اسلئے بائیک اسی کے پاس جا کر روک دی
“رائمہ آپ یہاں وہ بھی اکیلی ۔۔۔”رامس اسے اکیلے وہاں دیکھ کر متحیر تھا ورنہ وہ رابعہ بیگم کے بغیر باہر کہیں آتی جاتی نہیں تھی
” نہیں ۔۔۔امی ساتھ ہیں ۔۔۔بس روباب کو شاپنگ کروا رہیں ہیں مجھے بس پیاس لگ رہی تھی اسلئے وہ جوس لینے آئی تھی “رائمہ نے سامنے جوس کارنر کی طرف اشارہ کیا ۔۔۔۔رامس نے سامنے جوس کارنر کو دیکھا پھر مین روڈ پر چلتی گاڑیوں پر نظر ڈالی ۔۔۔۔
“آپ یہیں رکیں میں لے آتا ہوں “
رامس یہ کہہ کر فوراسے وہاں سے چلا گیا کچھ ہی دیر میں جوس کا گلاس پیک شدہ رائمہ کو پکڑانے لگا ۔۔۔
“شکریہ ۔۔۔کتنے پیسوں کا آیا ہے “رائمہ ہاتھ میں پکڑے پرس کو کھولنے لگی
“اس کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔”
“لیکن “
“پلیز یہ کہہ کر مجھے شرمندہ مت کیجیے “رامس اب بائیک سائیڈ پر کھڑی کر کے رائمہ کے پاس ہی کھڑا ہو چکا تھا اس لئے مجبورا رائمہ کو بھی کھڑا ہونا پڑا وہ وہیں جوس نکال کر پینے لگی ۔۔۔۔
“شادی کی شاپنگ کے لئے آئی ہوں گئیں یقینا “رامس نے جلے دل سے پوچھا
“جی “
“ہمم ۔۔۔۔کیا کافی امیر ہے وہ “رامس نے طنزیہ اس سے پوچھا
“کون “رائمہ یک دم تو وہ سمجھ ہی نہیں پائی کہ رامس کس کی بات کر رہا ہے
“آپکا ہونے والا شوہر “
“معلوم نہیں باسم بہتر جانتا ہے “وہ نظریں بدل کر بولی
“آپ خوش ہیں رائمہ “رامس نا جانے اسکے چہرے پر کیا ڈھونڈنے کی کوشش کر رہا تھا
“یہ کیسا سوال ہے “یہ سوال اسے رامس کے منہ سے کچھ عجیب سا لگا تھا
“بہت عام سا سوال ہے ۔۔۔۔آپکی زندگی کا بہت اہم معاملہ ہے یہ ۔۔۔۔۔آپکی مرضی اور خوشی تو شامل ہونی چاہیے “
“باسم اور امی خوش ہیں ۔۔۔۔میرے لئے غلط فیصلہ نہیں کر سکتے ۔۔۔”رائمہ نے پہلو بدلہ تھا ۔۔۔رامس کی نظروں میں۔ نا جانے کیا تھا کہ رائمہ پزل سی ہونے لگی تھی ایسے تکلفات تو ان میں کبھی بھی نا تھے ۔۔۔۔۔
“آپ خوش ہیں “رامس نے دوبارہ اپنا سوال دہرایا
“جی ۔۔۔”رائمہ نے ایک اچٹتی نظر رامس پر ڈالی اور نظریں جھکا کر اعتراف کیا
” لیکن میں خوش نہیں ہوں بہت برا لگ رہا ہے مجھے ۔۔۔۔”
“جی “وہ حیرت سے رامس کو دیکھنے لگی
“خدا کرے آپ صدا خوش رہیں ۔۔۔۔”یہ کہہ کر وہ بائیک پر بیٹھ گیا بائیک اسٹاٹ کی اور وہاں سے چلا گیا رائمہ بس حیرت سے اسے دیکھتی رہ گئ ۔۔۔۔اسکی غیر متوقع بات کا سرا ڈھونڈنے لگی ۔۔۔۔رامس کئ بار باسم سے ملنے آتا تھا ان کے گھر اسکی والدہ بھی آتی رہتی تھیں ۔۔۔۔کبھی کبھی رائمہ کو لگتا تھا کہ رامس اسکے لئے پسندیدگی رکھتا ہے لیکن نا کبھی اس نے لفظوں میں کہا نا کبھی اسکی والدہ نے ایسا کوئی تذکرہ کیا ۔۔۔۔۔۔۔
“آپاں آپ یہاں کھڑی ہیں ۔۔۔۔۔چلیں نا اندر دیکھیں میں کتنا حسین جوڑا لیا میں نے ۔۔۔۔”روباب خوشی سے چہک رہی تھی ۔۔۔۔رائمہ کا ہاتھ تھامے وہ اسے اندر لے گئ
*******…….
دوسرے دن شاہزیب نے نیناں سے ملنے جانا تھا ۔۔۔ملنے کیا جانا اس سے اچھی طرح مزہ چکھانا تھا جتنا وہ اپنے گھر والوں کے سامنے بنا کسی غلطی اپنی عزت افزائی کروا چکا تھا سود سمیت اسے لوٹانے کا ارادہ رکھتا تھا ۔۔۔۔۔۔لیکن پہن کر کیا جائے یہ سمجھ نہیں پا رہا تھا ۔۔۔۔پہلے تواپنی الماری کو اچھی طرح کھنگالا مگر جب اپنی مرضی کے کپڑے نہیں ملے تو تو تھوڑی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے سوچنے لگا ۔۔۔ چہرے پر ایک گہری مسکراہٹ آئی ۔۔۔پھر یوں چٹکی بجائی جیسے کوئی افلاطونی آئیڈیا ذہن میں کودا ہو۔۔۔۔ الماری کے سامنے لگاکپڑوں کا ڈھیر اٹھا کر اپنے کبڈ میں ڈھونسا ۔۔۔۔الماری کو بند کیا اور باہر عاتقہ بیگم کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا ۔۔۔وہ جو ٹی وی لگائے کوئی ڈرامہ دیکھنے میں مصروف تھیں ایک نظرشاہزیب پر ڈالی پھر غصے سے نظر پھیر لی ۔۔۔۔کل سے سیدھے منہ شاہزیب سے کوئی بھی بات نہیں کر رہا تھا ۔۔۔۔
“امی میری وہ پرانی جینز کہاں ہے “
“کون سی پرانی جینز “عاتقہ بیگم نے نافہم انداز سے پوچھا
“ارے وہی امی جسکا رنگ تک اڑ چکا تھا ۔۔۔ اور گھٹنوں سے پھٹی ہوئی تھی ۔۔۔۔”شاہزیب نے اچھی طرح انہیں یاد دہانی کروانے کی کوشش کی
“اچھا اچھا ہاں یاد آیا ۔۔۔۔جو ابھی کچھ دن پہلے میں نے تمہاری الماری سے نکالی تھی ۔۔۔ کام والی کو دینے کے لئے ۔۔۔”عاتقہ بیگم کو یاد آیا تھا
“ہاں وہیں ۔۔۔کہاں ہے وہ “
“کہاں ہونی ہے ۔۔۔کام والی نے تو صاف لینے سے منع کر دیا اور چار باتیں الگ سنائی مجھے کہ باجی اگر دینا ہی ہے تو کچھ ایسا دو کہ کوئی پہن سکے ۔۔۔۔۔یہ تو باہر پھنکنے کے قابل ہے ‘عاتقہ بیگم کو کام والی کی طنز میں۔ ڈوبی بات یاد آنےلگی
“تو کیا پھنک بھی دی آپ نے “شاہزیب۔ کو افسوس ہونے لگا
“ارے نہیں بھئ ابھی نہیں پھنکی ۔۔۔”
“شکر ہے خدا کا اب دیں مجھے ۔۔۔۔کہاں ہے وہ “
“تم نے کیا کرنی ہے “
“ابھی اتنا ٹائم نہیں ہے میرے پاس آپ دیں مجھے “
عاتقہ بیگم اٹھیں اور اندر سے اسکی وہی پرانی پینٹ لا کر تھما دی ۔۔۔۔۔۔شاہزیب نے پینٹ کھول کر دیکھی اسکی ابتر حالت دیکھ کر چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئ ۔۔۔۔۔۔۔بنا استری کیے وہ پینٹ اس نے پہنی اور پرانی سی ایک شرٹ پہن کر اب کچن میں آ گیا جہاں شازمہ اور نمیرہ دونوں ہی کام میں مصروف تھیں وہ شازمہ کو نظر انداز کیے نمیرہ کے پاس آ کر بولا ۔۔۔۔جو برتن دھو رہی تھی
“نمی آؤں میرے ساتھ ذرا اپنا جیولری بکس دو مجھے “شاہزیب کی بات پر ایک نظر نمیرہ نے اس پر ڈالی پھر خفگی سے منہ پھیر کربرتن دھونے لگی نمیرہ کا یوں منہ موڑنا شاہزیب کو کھل رہا تھا
“بہری ہو گئ ہو کیا ۔۔۔۔سنائی نہیں دے رہا تمہیں نمی “شاہزیب کے چلانے پربھی وہ خاموشی سے لاتعلق بنی رہی
“مت دو بھاڑ میں جاؤں میں خود لے لوں گا “شاہ زیب کا رخ اب شازمہ اور نمیرہ کے کمرے کی طرف تھا ۔۔۔۔شاہزیب کے کچن سے نکلتے ہی شازمہ نمیرہ کے پاس آ گئ اسکا کندھا تھتھپا کر داد دینے والے انداز سے بولی
” بہت اچھا کیا تم نے جو اس سے بات نہیں کی ۔۔۔جب سب اسے قطع کلامی کریں گئے تب یہ سدھرے گا ۔”۔۔۔۔شازمہ نے نمیرہ کو خوش ہوتے ہوئے کہا
“۔ٹھیک کہا آپ نے شازی آپی “نمیرہ نے بھی تائید کی
“لیکن ایک بات سوچنے کی ہے نمی اس نے تمہارا جیولری بکس کرنا کیا ہے ۔۔۔۔کہیں تمہاری کوئی چیز ہی خراب نا کر دے جاؤں دیکھوں جا کے “شازمہ نے سوچتے ہوئےکہا لیکن نمیرہ بے فکر تھی
“ارے نہیں کریں گئے ۔۔میری ساری جیولری دراز میں لوک ہے “
“ہممم”شازمہ نے سکون کا سانس لیا لیکن اگلے ہی پل ذہن میں بجلی سی کوندھی ۔۔۔۔
“لیکن میری ساری جیولری تو باہر ہی پڑی ہے”
شازمہ بھاگتے ہوئے اپنے کمرے میں گئ تھی ڈرسنگ کے سامنے شازمہ کی ساری جیولری بکھری پڑی تھی ۔۔۔اور شاہزیب صاحب شازل کی تحفے میں دی گئ سلور مالا کو ہاتھ کی کلائی پر لپیٹ رہے تھے ۔۔۔
“شاہو۔۔۔۔شرافت سے یہ اتارو اپنے ہاتھ سے ۔”
“شرافت چھوڑ دی ہم نے۔۔۔۔”وہ لہک کر گنگنایا اور ایک سلور سی زنجیر اٹھا کر گلے میں ۔ پہنے لگا ۔۔۔
“پاگل ہو گئے ہو کیا ۔۔۔۔کیا ملنگ بن رہے ہو ۔۔۔۔اتارو میری مالا ۔۔۔اگر ٹوٹ گئ تو شازل مجھے نہیں چھوڑے گا “
“اووووہ اچھا اچھا تو اس لئے اتنی بے چین ہو ۔۔۔۔اب تونہیں اتارو گا ۔۔۔۔اور اگر تم نے چھننے کی کوشش کی تو ویسے ہی ٹوٹ جائے اس لئے دور رہو مجھ سے ورنہ یہ دیکھوں میں توڑ دونگا “شاہزیب نے اپنا مالا والا ہاتھ اوپر کیا اور دوسرے ہاتھ سے ہاتھ میں پہنی مالا کو کھنچنے لگا شازمہ کی جان پر بن گئ تھی ۔۔۔۔۔شاہزیب کے قریب آکر وہ اس کے ہاتھ سے مالا لینے کی کوشش کرنے لگی مگر نا کام رہی
“شاہو ۔۔۔۔”وہ چلائی تھی ۔۔۔اب اتنی لمبی تو نہیں تھی کہ اپنے سے چھ انچ اونچے بھائی کے ہاتھ تک پہنچ سکتی اس لئے چلا کر اپنا غصہ نکالنے لگی
“چلاو چلاؤ ۔۔۔خوب چلاؤ ۔۔۔۔کل جب ابو سے میری درگت بن رہی تھی تو تم میسنوں کی طرح اپنی ہنسی دبا رہی تھی ۔۔۔۔ہٹو پیچھے شامی کباب ورنہ تمہارے شازل کی مالا کی میں ایسی تیسی پھیر دونگا ۔ویسے بھی تمہارے شازل پر مجھے بہت غصہ آ رہا ہے اسکی وجہ سےکل ابو نے دھمکی دی ہے مجھے ۔۔۔۔۔۔شاہزیب کی دھمکی پر بادل نخواستہ شازمہ کو پیچھے ہٹنا پڑا ۔۔۔۔ورنہ اس سے کچھ بھی بعید نہیں تھا ۔۔۔۔ویسے بھی شازل کی عادت تھی اگر کوئی تحفہ شازمہ کو دے ہی دیتا تو بار بار پوچھتا ضرور تھا ۔۔۔کہ جو میں نے فلاں چیز لا کر دی تھی وہ کہاں ہے ۔۔۔۔اسلئے اسکی لائی ہوئی چیزیں وہ سنبھال سنبھال کر رکھتی تھی
“اچھا ٹھیک ہے مت دو بس میرا بھائی توڑنا نہیں ایسے ۔۔۔”شازمہ کی لجاجت پر شاہزیب کا چھت پھاڑ قہقہ گونجا تھا
“آ گئ نا اپنی اوقات ہے ۔۔۔۔چلو شاباش اب اسٹور سے جا کر میرے پرانے جوگر لیکر آؤں جو آگے سے پھٹے ہوئے ہیں “شازمہ زچ تو جی بھر کر ہو رہی تھی اسکی دکھتی رگ پر شاہزیب نے ہاتھ رکھا تھا لیکن آخری بات پر تحیر سی رہ گئ
“پھٹے جوگر پہن کر جانا کہاں ہے تم نے “شازمہ نے اب شاہزیب کے کپڑوں کو غور سے دیکھا تھا “
“اور تم یہ کارٹون بن کر جا کہاں رہے ہو
“شہنشاہ عالم آج اپنی ملکہ کے ساتھ ڈیٹ پر جائیں گئے ۔۔۔۔۔جاوں کنیز انار کلی جا کر ہمارے خاندانی جوتے لیکر آؤں ۔۔۔ورنہ شہزادہ سلیم کی یہ نشانی
تمہیں زمین پر ٹوٹ کر بکھری ہوئی ملے گئ “
“شاہو ۔۔۔۔تم اسکی لڑکی سے ملنے جا رہے ہو ۔۔۔پاگل ہو گئے ہو کیا ۔۔۔”شازمہ ساری باتوں کو بھولے بس اس بات پر حیران تھی کہ شاہزیب اس لڑکی سے ملنے کیوں جا رہا تھا
“مجبوری ہے ۔۔۔جانا تو پڑے گا “شاہزیب اب سنجیدہ ہو کر بولا
“مجبوری ہے یا نیت میں فتور ہے “
“مجبوری ہے ۔۔۔۔سمجھی ۔۔۔۔اب جاؤں ورنہ تمہاری پیار کی نشانی میرے ہاتھ سے ٹوٹ جائے گی “۔۔۔۔شاہزیب نے کوفت بھرے لہجے سے کہا
“جا رہی ہوں “شازمہ باہر نکل گئ اسٹور سے اسکے جوتے نکالے اور عاتقہ بیگم کو بھی شاہزیب کے ارادوں سے مطلع کیا وہ تو ہتھے سے اکھڑ گئیں دونوں ماں بیٹی نے بگڑے ہوئے موڈ سے کمرے میں انٹری دی تھی
شازمہ نے جوگر شاہزیب کے آگے پھنکے ۔۔۔شاہزیب جوگر جھاڑ کر پہنے لگا
“کہاں جا رہے ہو تم “عاتقہ بیگم نے سخت لہجے سے پوچھا
“اس لڑکی سے ملنے ۔۔۔۔”شاہزیب اب کافی سنجیدگی سے جواب دے رہا تھا ساتھ ساتھ اپنے جوگر بھی پہن رہا تھا
“شاہزیب تم کہیں نہیں جاؤں گئے ویسے بھی تمہارے ابو تم سے خفا ہیں ۔۔۔اب اگر انہیں معلوم ہوا کہ تم اس لڑکی سے ملنے گئے ہو تو سوچ لو کیا حشر کریں گئے تمہارا ۔۔میں تمہیں کہیں نہیں جانے دونگی “عاتقہ بیگم شوہر کے غصے سے۔واقف تھیں اس لئے سامنے دیوار کی طرح کھڑی ہو گئیں
شاہزیب جوگر پہن چکا تھا اور اب کافی سنجیدہ نظر آ رہا تھا
“اگر آج میں نہیں گیا ۔۔۔۔۔تو وہ لڑکی پھر مجھ سے ملنے آ سکتی ہے ۔۔۔۔اور آپکی نظر میں توصرف میں ہی برا ہوں ۔۔۔۔جو طعنہ ابو نے مجھے کل دیا ہے نا امی۔۔۔وہ میں کبھی نہیں بھولوں گا۔۔۔۔اور اگر وہ لڑکی پھر سے یہاں آئی اور ابو نے مجھ پر بنا تحقیق کے کوئی بھی غلط الزام لگایا تو خدا کی قسم اس لڑکی سے زبردستی کوٹ میرج کر کے لے آؤں گا اسے یہاں پر ۔۔۔”شاہزیب کی آنکھوں میں قہر برس رہا تھا عاتقہ بیگم اور شازمہ دونوں کے ہی رنگ اڑے تھے ۔۔۔۔
” کیونکہ آپکو نا اپنے خون ہر بھروسہ ہے نا اپنی تربیت پر ۔۔۔۔”بد سے بدنام برا ” والی مثال ہے میری ۔۔۔۔بد نام تو میں ہو چکا ہوں یہ نا ہو آپکو کہیں بھی منہ دیکھانے کے قابل نا چھوڑوں ۔۔۔۔اب ہٹیں آگے سے ابھی تو اس سے دو دو ہاتھ ہونا ہے جس کی وجہ سے بہت بڑی ذلت اٹھائی ہے میں نے “شاہزیب کا بس نہیں چل رہا تھا کیا نا کر گزرے ۔۔۔۔عاتقہ بیگم اس کے خطرناک ارادے سن کر ڈر گئی تھیں اس لئے پیچھے ہٹ گئیں شازمہ بھی خاموشی سے اسے دیکھنے لگی ۔۔۔۔۔کچھ دیر پہلے والے شازیب میں اور اب سامنے کھڑے شاہزیب میں زمین آسمان کا فرق تھا ۔۔۔۔وہ غصے سے بائیک کی چابی اٹھا کر باہر نکلا تھا
