One Wheeling by Umme Hani NovelR50409

One Wheeling by Umme Hani NovelR50409 One Wheeling Episode 19

491.3K
42

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

One Wheeling Episode 19

One Wheeling by Umme Hani

نیناں بہت خوش تھی آج کا دن تو اس کے لئے واقع بہت خاص تھا ۔۔۔۔۔من چاہی سنگت مل جائے تو وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔۔دوسری جانب۔ شاہزیب کی کیفیت بھی کچھ ایسی ہی تھی ۔۔۔۔۔۔اپنا آپ ہواؤں میں۔ اڑتا ہوا محسوس کر رہا تھا ۔۔۔۔۔۔آتے ہی دروازہ عاصم نے کھولا تھا پہلی بار شاہزیب نے عاصم کے موٹے سے گال زور سے دبانے کے بجائے صرف پیار سے تھتھپائے تھے

“کیسا ہے میرا موٹا بلا ۔۔۔”عاصم نے پوری آنکھیں۔ پھلا کر شاہزیب کو دیکھا وہ بڑے خوشگوار موڈ میں تھا ۔۔۔آج تو جیب سے ایک چوکلیٹ بھی نکال کر عاصم کو دی ۔۔۔۔۔

“لے میرے چشماٹو جا عیش کر ۔۔۔”شاہزیب کا شاہی مزاج کبھی کبھی ہی جوش مارتا تھا ۔۔۔۔۔ایک چوکلیٹ صوفے پر بیٹھی نمی کی طرف اچھالی

“نمی کیچ ۔۔۔”نمی نے بھی بڑی مہارت سے ایک ہاتھ سے کیچ کیا تھا ۔۔۔

“واہ شاہو بھائی آج تو بڑی عنایتیں۔ ہو رہی ہیں ۔۔ببلی چوکلیٹ وہ بھی بڑی والی ۔۔۔ہمم “عاصم نے بمم چوکلیٹ کا پیکٹ کھولتے ہوئے یوں مزے سے کہا جیسے چاکلیٹ منہ میں ڈال چکا ہو ۔۔۔

شاہزیب نمیرہ کے پاس جا کر بیٹھ گیا ۔۔۔۔

“نمی خرم میرا بیگ لایا تھا ۔۔۔۔”

“نہیں تو “نمیرہ نے سفید جھوٹ بول دیا ۔۔۔۔اور چوکلیٹ کھانے لگی

“اچھا ۔۔۔چلو کرتا ہوں اسے کال ۔۔۔۔”شاہزیب کو حیرت ہوئی تھی کیونکہ اگر وہ کبھی یوں اچانک سے یونی سے کہیں۔ باہر چلا جاتا تو خرم اس کا بیگ گھر تک پہنچا دیتا تھا ۔۔۔۔

“اور یہ شازی کہاں ہے ۔۔۔۔”شاہزیب نے لانج میں نظریں گھما کر دیکھ کر پوچھا ورنہ تو وہ اس وقت نمیرہ کے ساتھ ٹی وی دیکھنے میں۔ مصروف ہی وتی تھی

“اپنے کمرے میں ہیں “نمیرہ ٹی وی پر کوئی ڈرامہ دیکھتے ہوئے بولی ۔۔۔شاہزیب اٹھ کر شازمہ کے کمرے کو نوک کر کے اندر داخل ہوا ۔۔۔۔

وہ بیڈ پر بیٹھی رونے کا شغل فرما رہی تھی ۔۔۔۔اس واقع کے بعد شازل نے دوبارہ شازمہ سے بات تک نہیں کی تھی ۔۔۔۔۔کئی بار وہ فون کر چکی تھی ۔۔۔مگر وہ بھی اپنی ضد کا پکا تھا ۔۔۔شاہزیب کو شازمہ کو دیکھ کر ہی اندازہ ہو گیا کہ شازل کی وجہ سے ہی رو رہی ہے ۔۔۔اس لئے اس کے پاس آکر بیٹھ گیا ۔۔۔۔

“کیوں رورہیں شازی “شاہزیب بے شک خود اس سے ہر وقت لڑتا رہتا تھا ۔۔۔۔مگر اسکا یوں رونا سوجی ہوئی آنکھیں دیکھ کر دل جیسے کسی نے مٹھی میں لیا تھا ۔۔۔۔شازل پر غصہ بھی آنے لگا تھا

“کچھ نہیں ۔۔۔۔”شازمہ نےآنسوں پونچے

“کیوں اس بے حس کے لئے رو رہی ہو ۔۔۔۔۔کیوں بار بار کال کر کے اسے یہ احساس دلا رہی ہو کہ تم غلط اور وہ صحیح تھا ۔۔۔۔شازی ۔۔۔۔”شاہزیب سنجیدگی سے بات کر رہا تھا اور شازمہ کے آنسوں تواتر سے بہہ رہے تھے۔۔۔۔

“تم نہیں سمجھ سکتے ہیں شاہو ۔۔۔۔۔م۔۔مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے اگر اس نے غصے میں آ کر رشتہ ختم کر دیا تو “شازمہ اب بھی اسی خوف میں مبتلہ تھی ۔۔۔۔۔شاہزیب کو اس پر بھی غصہ آنے لگا

“اؤ ہو میری بیوقوف بہن ۔۔۔۔کب عقل آئے گی تمہیں اگر ایسا اس نے کچھ کرنا ہوتا تو کر چکا ہوتا ۔۔۔مت فون کرو شکر کرو کہ کچھ دن بڑے سکون سے گزر رہے ہیں ورنہ ہر اتوار کو تائی امی کے ساتھ منہ اٹھا کر آ جاتا تھا چائے پینے ۔۔۔۔تم میری مانو صرف چند دن دل پر پتھر رکھ کر اسے کوئی بھی کال مت کرو ۔۔۔وہ پلٹ کر تمہیں کال نا کرے تو ۔۔۔بے شک میرا نام بدل دینا ۔۔۔۔”شاہزیب کے تیقین پر شازمہ بے یقین ہی تھی

“وہ نہیں کرے گا “

وہ ضرور کرے گا ۔۔۔۔”شاہزیب با اعتماد تھا

“کیسے کہہ سکتے ہو تم “

“اس لئے کہ نا تو میں اندھا ہوں نا بیوقوف ….جتنی محبت تم اس سے کرتی ہو اتنی وہ بھی تم سے کرتا ہے ۔۔۔۔بس تمہیں اسے امپوٹنس بہت ذیادہ دیتی ہو اس لئے مغرور سا ہو گیا ہے ۔۔۔تھوڑا اسپیس دو ۔۔دیکھوں کیسے سیدھا ہوتا ہے ۔۔۔۔”شاہزیب نے شازمہ نے آنسوں صاف کیے پھر جیب سے۔ چوکلیٹ نکال کر کھول کر زبردستی اسکے منہ ڈال دی ۔۔۔۔”

“کھاؤ اسے اور اب تم مجھے روتی ہوئی نظر نا آؤں چہرا دیکھوں اپنا کتنا مرجھا گیا ہے ۔۔۔۔آنکھیں بھی رو رو کر کتنی سوجی ہوئی ہیں ۔۔۔۔چپ کرو شاباش “شازمہ اب شاہزیب کو بہت غور سے دیکھ رہی تھی ہمیشہ اسے تنگ کرنے والا ستانے والا اسکا مزاق اڑانے والا شاہزیب کسی دوست کی طرح اسے سمجھا رہا تھا ۔۔۔ اسکے آنسوں بھی پونچ رہا تھا شاہزیب کے چہرے سے بھی لگ رہا تھا کہ اسے شازمہ کے آنسوں تکلیف دے رہے ہیں “شازمہ نے چوکلیٹ کی بڑی سی بایٹ لی اور باقی کی چوکلیٹ شاہزیب۔ کے منہ کے قریب کی

“تم بھی کھاؤں نا شاہو “

“پہلے مسکراؤ ۔۔۔ہنسو ۔۔۔چلو جلدی کرو شازی ۔۔۔ایسے بلکل اچھی نہیں لگتی ہو ۔۔۔۔تم بس مجھے لڑتی جھگرتی ۔۔۔۔ہنستی ہی اچھی لگتی ہو میریں شامی کباب ۔۔۔۔”شازمہ کی آنکھوں میں آنسوں چمکنے لگے اور چہرے پر پھیکی سی مسکراہٹ پھیل گئ ۔۔۔۔

“*******…….******

باسم جب تک عاصم کو پڑھاتا رہتا خود کو کسی کے نظروں کے حصار میں محسوس کرتا اسے لگتا کہ وہ کسی کی نگاہوں مرکز ہے ۔۔۔کوئی اسے دیکھتا ہے ۔۔۔۔کبھی کبھی اسے الجھن سی ہونے لگتی ۔۔ وہ کمرے کے چاروں طرف نظریں دوڑاتا مگر اسے کہیں بھی کوئی نظر نہیں آتا تھا ۔۔۔۔

دوسری جانب نمیرہ باسم۔کی شخصیت سے خاصی متاثر اور مرعوب سے ہو چکی تھی ۔۔۔۔چوری چھپے اسے دیکھتی رہتی اور اپنے ناول کے پسندیدہ کرکٹر کی خوبیاں اس میں تلاش کرتی رہتی ۔۔۔۔۔۔خوابوں کی دنیا میں وہ خود کو سینڈریلہ تصور کرتی اور باسم کو ایک شہزادہ ۔۔۔۔بس یونہی اسے دیکھ کر خوش ہوتی رہتی ۔۔۔۔۔۔۔

*****………….

نیلوفر بھی اب اپنی آنکھوں میں باسم کے خواب سجانے لگی تھی ۔۔۔۔۔جب بھی گھر کے کاموں سے فارغ ہوتی فوراسے رائمہ کے پاس آ کر بیٹھ جاتی ان دونوں کے بیچ بہت اچھی دوستی ہو چکی تھی دونوں گھنٹوں بیٹھ کر باتیں کرتی رہتی تھیں ۔۔۔۔۔۔ابھی بھی وہ صحن کے تخت پر بیٹھی شام کی چائے کے ساتھ اپنی خوش گپیوں مصروف تھی جب پھپو صاحبہ کی رعب دار آواز پر نیلو سٹپٹا کر اٹھی تھی ۔۔۔۔

وہ اوپر سیڑیوں میں کھڑی چلا کر نیلو کو پکار رہیں تھیں۔۔۔نیلو نے باقی چائے وہیں چھوڑی اور اوپر کا زینہ چڑھنے لگی ۔۔۔

“کہاں مر گی تھی تم اپنے گھر میں دل نہیں لگتا تمہارا ۔۔۔جب دیکھوں تم نیچے ہی نظر آتی ہو “پھپو کا غضب ناک انداز اسے اندر تک دہلا کے رکھ دیتا تھا

“پھپو وہ ۔۔۔۔کام تو میں نے سارا کر لیا تھا ۔۔۔۔۔کھانا بھی پک چکا تھا آپ بھی سو رہیں تھیں اس لئے تھوڑی دیر کے لئے میں رائمہ کے پاس چلی گئ تھی “نیلو فر کی اپنی پھپو کے سامنے جان ہوا ہونے لگتی تھی ۔۔۔

“کام کرنے نیت ہو تو کام بہت ہیں ۔۔۔۔مگر تمہیں تو نیچے کے چکر لگانے سے ہی فرصت ہے ۔۔ میں پوچھتی ہوں اب ایسا کون سا کام ہوتا ہے تمہیں جو تم بھاگ بھاگ کر نیچے جاتی ہو پہلے تو رائمہ کی شادی کا بہانہ تھا ۔۔۔اب تو اس میں بھی وقت پڑا ہے ۔۔۔جوان جہان لڑکے والا گھر ہے ۔۔۔۔اور تم ہو کہ بھاگی چلی جاتی وہاں ۔۔۔۔”پھپو کی بات پر نیلوفر کا ایک رنگ آ کر گزرا تھا

“پھپو اسوقت تو کوئی بھی انکے گھر نہیں۔ ہوتا ۔۔۔۔”نیلو نے ایک کمزور سی دلیل دے کر انہیں مطمئن کرنا چاہا ۔۔۔۔باسم اسی وقت آفس سے واپس آیا تھا بائیک صحن میں کھڑی کر کے صحن میں رائمہ کے پاس ہی بیٹھ گیا ۔۔۔پھپو صاحبہ کا والیم خاصااونچا تھا اور جب نیلو فر کہ شامت انکے ہاتھوں آنی ہوتی اسوقت تو انکا لاؤڈ اسپیکر آمنے سامنے کے چار گھروں تک با آسانی سنا جا سکتا تھا ۔۔۔۔۔باسم صحن میں بیٹھا اپنی ٹائی کی نیٹ ڈھلی کر رہا تھا جب پھپو کا آخری جمعلہ اس کے کانوں سے ٹکرایا ۔۔۔۔بے ساختہ ہی اسکی رائمہ پر اٹھی وہ بھی باسم کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔

“اچھا تو گویا تمہیں اس لڑکے کے آنے جانے کے اوقات کا بھی علم ہے ۔۔۔۔میں پوچھتی ہوں چاہتی کیا ہو تم تم پہلے وہ چھت والا کبوتر باز تمہارے دیدار کا منتظر نظر آتا ہے جب بھی میں چھت پر جاؤں یوں میری طرف لپک کر دیکھتا ۔۔۔۔۔ اور اب یہ مسلک مکان کا لڑکا ۔۔۔۔دیکھ نیلو اگر اب تم مجھے ادھر ادھر منڈلاتی نظر آئی تو رات کو بھائی صاحب سے کہہ دونگی کہ بھیا مجھ سے نہیں ہوتی یہ چوکیداری ۔۔۔۔ارے لڑکی! جب تمہیں ہی اپنے عاشق پالنے کا شوق ہے تو دیکھاتی رہو اپنی ادائیں اور لائن لگوا لو لڑکوں کی ۔۔۔۔اپنے باپ کی عزت کا جنازہ بڑی دھوم سے نکلواں مجھے کیا لگے ۔۔۔۔”پھپو کے سلوٹوں سے بھری پیشانی اور کھانے جانے والی نظریں اور دل کو کند چھری سے کاٹ دینے والے جمعلوں پر نیلو کا بس نہیں چلتا کہ زمین پھٹے اور دھنس جائے ساتوں تہوں کے اندر ۔۔۔۔ایسا کیا ہی کیا تھا اس نے جو وہ ہر بار اپنی عزت پر ایسے ایسے گھٹیا الزام سننے پر مجبور تھی ۔۔۔۔ہر بات عورت ضبط کر لیتی ہے ۔۔۔یہاں تک کے اپنے وجود پر مار دھاڑ بھی سہہ جاتی ہے پر عزت پر ایک حرف بھی غلط سننا اسکی روح کو بری طرح سے گھائل کر کے رکھ دیتا ہے ۔۔۔۔۔نیلو فر چپ چاپ آنسوں بہاتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئ ۔۔۔۔

“نیچے صحن میں باسم اور رائمہ کی کیفت ایسی تھی کہ جا کر پھپو کر منہ ہی توڑ کر رکھ دیں ۔۔۔۔ایسی باتیں کرتے ہوئے شرم کیوں نہیں آتی تھیں انہیں اور باسم کو تو نیلو پر بھی غصہ آ رہا تھا۔۔۔۔چپ چاپ سنتی ہی کیوں تھی انکی بکواس کو ۔۔۔ایک بار انکے مزاج درست کر دیتی تو انکی جرت ہی نا ہوتی ہر بار اس قسم۔کی فضول گوئی کرنے کی ۔۔۔۔۔”ضبط کیے اپنی مٹھیاں بینچے اپنے غصے کو اعتدال پر رکھنے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔۔۔

“باسم کھانا گرم کروں ۔۔۔۔۔”رائمہ نے گہری ٹھنڈی سانس بھری تاسف سے پھپوں کی باتیں سنی تھی باسم کے چہرے کے تاثرات بھی دیکھ رہی تھی ۔۔۔جو کب سے ضبط کے مراحل سے گزر رہا تھا ۔۔۔۔

“نہیں بس جا رہا ہوں اپنا لیپ ٹاپ کا بیگ وہ تخت پر رکھ چکا تھا ۔۔۔ٹائی بھی اتار کر وہیں پھنک دی اور شرٹ کے کف فولڈ کرنے لگا ۔۔۔۔

“چائے بنا دیتی ہوں “رائمہ اٹھ کر کھڑی ہو گئ

“نہیں رہنے دو میں ویسے بھی جا رہا ہوں ۔۔۔۔”

“کچھ کھا تو لیتے ۔۔۔ایسے ہی بھوکے جاؤں گئے “

“ابھی بلکل موڈ نہیں ہے ۔۔۔۔سامنے صحن میں لگے واش بیسن سے ہاتھ منہ دھویا ۔۔۔اور دوبارہ سے بائیک لیکر نکل گیا۔۔۔۔

******……*****

چند دن ہی گزرے تھے کہ شازمہ نے بھی شازل کو کال کرنی بند کر دی تھی ۔۔۔۔۔۔کچھ دن تو وہ اس کے فون کا انتظار کرتا رہا ۔۔۔۔۔۔بے شک وہ بات نہیں کر رہا تھا مگر بار بار شازمہ کی کال آنے پر اتنا جانتا تھا کہ وہ کس قدر پریشان ہو رہی ہو گئ۔۔۔بس اسے اسی بات کی تسکین تھی ۔۔۔لیکن جب شازمہ کی کال آنی بند ہوگئی تو اس کی بے چینی میں بھی اضافہ ہو گیا ۔۔۔۔ایک دن گزرا ۔۔۔دو دن ۔گزرے ۔۔۔ لیکن جب چار پانچ دن گزر چکے تھے تو شازل کا ضبط بھی جواب دے گیا ۔۔۔۔اتوار کے دن زمرد بیگم کو لئے وہ زمان صاحب کے گھر پہنچ گیا تھا ۔۔۔۔۔دروازہ شازمہ نے ہی کھولا تھا ۔۔۔بنا پشگی اطلاع کے انہیں یوں سامنے دیکھ کر شازمہ گھبرا گئ تھی ۔۔۔دل میں یہ وہم۔ بھی گزرا کہیں انکار کے ارادے سے نا آئے ہوں مگر تائی امی خلاف توقع شازمہ سے گلے ملیں پیشانی پر بوسہ دیا ۔۔۔۔اس کی خیر خیریت بھی پوچھنے لگیں ۔۔۔شازل خاموش ہی رہا مگر کن انکھیوں سے شازمہ کو ہی دیکھ رہا تھا آنکھوں میں شکوہ تھا مگر لب خاموش تھے ۔۔۔۔۔شازمہ نے خود ہی بات کی شروعات کی ۔۔۔۔ٹیبل پر چائے رکھتے ہوئے ۔۔۔۔ایک کپ شازل کے سامنے رکھتے ہوئے پوچھنے لگی

“آپ کیسے ہیں شازل “مگر جواب نہیں ملا ۔۔۔۔شازل نے بے رخی سے کپ پکڑا اور چائے پینے لگا

پھر دوبارہ شازمہ نے اس سے بات نہیں کی ۔۔۔۔بس تائی اماں کی آؤں بھگت میں لگی رہی ۔۔۔۔۔زمان صاحب بھی شام تک گھر آ کر چکے تھے اتوار کو وہ دوستوں میں ضرور جاتے تھے ۔۔۔۔۔۔اس بار توعاتقہ بیگم بھی زمرد بیگم کو خاص اہمیت دے رہیں تھیں ۔۔۔۔۔۔شازمہ بس کن اکھیوں سے شازل کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔جو نروٹھے انداز سے ماتھے پر کئ بل ڈالے بیٹھا تھا ۔۔۔۔۔کچھ ہی دیر زمرد بیگم نے جانے کی اجازت مانگی ۔۔۔شازمہ بھی انکے گلے لگی ۔۔۔۔انہوں نے بھی اسے پیار کیا شازل کا رویہ ویسا ہی روکھا سا تھا۔۔۔۔۔شازمہ بجھ کر رہ گئ تھی ۔۔۔۔۔رات کو شازل کی کال آئی شازمہ کے چہرا خوشی سے چمک اٹھا تھا

“ہیلو “شازمہ نے پہلی بیل پر فون اٹھایا تھا

“کیسی ہو “شازل کے لہجے میں خفگی واضع تھی

“ٹھیک ہوں آپ کیسے ہیں “شازمہ کی آنکھوں میں آنسوں جھلملانے لگے

“تمہیں کیا پروا ہے میری ۔۔۔۔تمہاری غلطی کے باوجود میں نے ہی بڑا پن دیکھاتے ہوئے تمہارے گھر پر قدم رکھا کہ شاید تم مجھے منانے کی کوشش کرو گی ۔۔ “وہ خفگی سے بات کر رہا تھا

“شازل یہ آپ غلط کہہ رہے ہیں ۔۔۔۔میں نے بہت دن تک آپ کو کال کی تھی آپ ہی نے نہیں اٹھائی ۔۔۔۔”شازمہ نے وضاحت دی

“ہاں تو میں ناراض تھا تم سے ۔۔۔۔تمہیں چاہیے تھا کہ تب تک کال کرتی رہتی جب تک کہ میں رسیو نا کر لیتا ۔۔۔۔مگر نہیں تمہیں تو میری فکر ہی نہیں تھی ۔۔۔۔’شازل کا لہجہ اب بھی ترش تھا۔

“آپ کو لگتا ہے کہ مجھے آپ کی پروا نہیں تھی ۔۔۔۔ “شازمہ روہانسی ہوئی اسے شازل کی سوچ پرافسوس ہو رہا تھا

“ہاں نہیں تھی “وہ اب بھی خفگی سے تن کر بول رہا تھا

“شازل میں پچھلے دس دن سے آپکے لئے پریشان ہوں رو رو کر میری آنکھیں سوج گئ ہیں آپ کو کچھ بھی نظر نہیں آیا نا میرا بجھا چہرہ ۔۔۔نا متورم آنکھیں ۔۔۔۔”شازمہ کے لہجے میں تاسف تھا

“تم روتی رہی ہو “شازل کا لہجہ نرم ہوا ۔۔۔۔

“آپ کو کیا لگے میں مرو یا جیو “ب ناراضگی دیکھانے کی باری شازمہ کی تھی

“شازو ۔۔۔۔لو یو یار ۔۔۔۔۔بس غصہ آ گیا تھا مجھے ۔۔۔۔۔۔چھوڑو بھی اب بات کو مجھے اندازہ نہیں تھا کہ تم یوں رو رو کر ہلکان ہوتی رہی ہو۔ ۔۔ “شازل کو اپنے رویے پر افسوس ہوا

“مجھے لگا آپ مجھے چھوڑ دیں گئے رشتہ ختم کر دیں گئے ۔۔۔۔۔۔”شازمہ کے آنسوں گرے ۔۔۔۔آواز بھی پر نم ہوئی

“پاگل ہو تم ۔۔۔۔۔میں کیوں توڑو گا رشتہ ۔۔۔۔۔شازو ۔۔۔۔ تم نے یہ سوچ بھی کیسے لیا ۔۔۔۔”شازل بیڈ سے اٹھںکر بیٹھ گیا تھا

“شازل آپ وعدہ کریں آئندہ ایسی ڈیمانڈ نہیں کرینگے جو میرے ماں باپ کو منظور نا ہو ۔۔۔۔۔۔”شازمہ نے موقع دیکھ کر آپ ی بات آگے رکھ دی

“ٹھیک نہیں کرتا ۔۔۔۔۔لیکن تم بھی اس قسم کی فضول باتوں کو مت سوچا کرو

********………….

یونی میں دلاور کافی دن سے غائب تھا بلکہ تب سے غائب تھا جب سے شاہزیب سے ویلنگ میں شکست کھائی تھی ۔۔۔۔۔آج ہی یونیورسٹی میں آیا تھا اور دانستہ شاہزیب سے چھپتا پھر رہا تھا ۔۔۔۔اب بھی کینٹین کے ایک کونے کے ٹیبل پر اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھا تھا ۔۔۔۔شاہزیب تو کب سے اسی کے انتظار کر رہا تھا اپنی شرط بھی تو اس سے پوری کروانی تھی ۔۔۔۔۔اس لئے جیسے اسے خبر ہوئی کہ دلاور آ چکا ہے وہ بھی سیفی اور خرم کے ساتھ وہاں پہنچ گیا ۔۔۔اس کے سامنے والی کرسی کھنچ کر بڑے بے تکلفانہ انداز سے بیٹھ گیا خرم اور جمی نے بھی اسکی تقلید کی اور اسکے برابر ۔۔۔دلاور سب اسے دیکھ کر نظریں چرا رہا تھا ۔۔۔۔پھر کھسیا کر زبردستی کی مسکراہٹ سجانے کی کوشش کرتے ہوئے شاہزیب کو سلام کیا ۔۔۔۔شاہزیب نے دونوں پاؤں سامنے ٹیبل پر رکھے ۔۔۔اور ایک پاؤں کے اوپر دوسرا پیر رکھ دونوں پیر ہلانے لگا ۔۔۔۔دونوں پاؤں عین دلاور کے سامنے تھے ۔۔۔دلاور نے شاہزیب کی جانب دیکھا تو وہ اپنے آئی بروں کی حرکت اور آنکھوں کے اشارے سے اپنے جوتوں کی طرف دلاور کی توجہ مبذول کروا کر اسے شرط یاد دلانے لگا ۔۔۔۔

“دیکھوں یہ گیم ٹائی ہوا ہے ۔۔۔۔تم بھی گر گئے تھے ۔۔۔۔۔اور مقررہ جگہ پر پہنچنے سے پہلے گرے تھے ۔۔۔”دلاور نے بھونڈی سی دلیل پیش کی

“جمی ذرا ویڈو دیکھانا اسے ۔۔۔۔۔”شاہزیب نے دلاور کو جواب دیے بغیر جمی سے کہا جواسوقت اپنے موبائل میں اسوقت کی مووی بنا رہا تھا ۔۔۔۔

جمی نے موبائل نکال کر شاہزیب۔ کو تھما دیا ۔۔۔کچی گولیاں تو شاہزیب نے بھی کبھی نہیں کھیلیں تھی۔ دلاور کا رنگ اڑا تھا ۔۔۔۔۔

“بات ہار جیت کی نہیں ہوئی تھی ۔۔۔بائیک کا ویل نیچے سب سے پہلے ہم دونوں میں کون نیچے کرے گا اس پر ہماری شرط لگی تھی ۔۔۔۔”شاہزیب موبائل پر اس دن کی مووی ڈھونتے ہوئے بول رہا تھا ۔۔۔۔پھر اسکی متحرک انگلیاں رکیں اور موبائل شاہزیب نے ٹیبل کے کنارے پر رکھ کر ہاتھ سے دلاور کی طرف دھکیلا ۔۔۔جو سیدھا دلاور کے سامنے جا کر رکا اور مووی چلنی شروع ہو گئ ۔۔۔۔دلاور کی پیشانی عرق آلود ہوئی چہرے پر گھبراہٹ طاری ہونے لگی شاہزیب کی نظریں۔ مسلسل اسی پر تھیں ۔۔۔اسکی کیفت سے وہ اندر سے مسرور ہو رہا تھا ۔۔۔۔دلاور نے موبائل کو آف کیا اور سامنے رکھے شاہزیب کے جوگر کے تسمے کھولنے لگا ۔۔۔۔۔اسوقت کینٹین میں جتنے بھی اسٹوڈنٹ جمع تھے اس کی نظریں ان پر جمی ہوئیں تھی ۔۔۔کپکپاتے ہاتھوں سے دلاور نے جوگر اتار کر اپنے سر پر ہلکا سا مارا اور کہا

“شاہو از دا بیسٹ “شاہزیب کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ کچھ اور گہری ہوئی ۔۔۔۔جذبوں نے کچھ اور شدت اختیار کی رات کو اپنی یہ خوشی اس نے سب دوستوں کے ساتھ سمندر پر ویلنگ کرتے ہوئے منائی تھی ۔۔۔۔ہر جیت شاہزیب کے اندر جیسے پھر سے ایک نئ امنگ بھر دیتی تھی ۔۔۔اس بار اس نے دونوں ہاتھ کو مضبوطی سے جما کر اپنے دونوں پاؤں اٹھا کر سامنے ٹینکی پر پھیلاتے ہوئے آگے کی جانب سیدھے اکسلیٹر پر رکھ دیے ۔۔۔۔۔۔چند لمحوں کا کھیل تھا لیکن آج شاہزیب نے بائیک کی اسپیڈ تیز نہیں کی تھی ۔۔۔سلو اسپیڈ پر وہ کسی ماہر کی طرح مختلف کرتب دیکھا رہا تھا ۔۔۔۔دائیاں پاؤں نیچے کرتے ہی اس نے بائیک کو ون ویل مکمل اٹھایا اور سلو اسپیڈ میں رکھی ایک پاؤں زمین سے چند انچ اوپر کیے اور ہوا میں رہنے دیااور دائیاں ہاتھ بھی اکسلیٹر سے ہٹا لیا ۔۔۔صرف بائیں ہاتھ سے بائیک چلانے لگا ۔۔۔۔۔آج شاہزیب انداز الگ تھا ۔۔۔۔آج اسکے اندر جنون نہیں تھا نا ہی بائیک چلانے میں شدت تھی آج تو وہ سلو اسپیڈ پر ایسے بائیک کو مختلف انداز سے چلا رہا تھا جیسے کھیل رہا ہو ۔۔۔۔۔موڈ بھی بہت خوشگوار تھا

*********

باسم سیدھا عاصم پر پڑھانے پہنچ گیا تھا ۔۔۔مگر ذہن نیلوفر کی طرف ہی لگا ہوا تھا ۔۔۔۔اسکی پھپو کی باتوں کو چپ کر کے سہنا باسم کی نیلو فر کی بزدلی ہی لگ رہی تھی ۔۔۔۔۔اپنا لیپ ٹاپ وہ ساتھ ہی لایا تھا آفس کا کچھ کام باقی تھا ۔۔۔عاصم کو میتھ کی اکسرسائز سمجھا کر اب وہ اپنے ذہن کو بٹانے کے لئے اپنا لیپ ٹاپ لیکر بیٹھ گیا ۔۔۔۔جو صبح سے ہنگ کر رہا تھا ۔۔۔۔۔۔

باسم نا گواری سے اس پر انگلیاں چلا رہا تھا پھر غصے کے مارے گھر سے بھی بھوکا آیا تھا سر بھی درد کر رہا تھا ۔۔۔۔جب سے وہ عاصم کو ٹیوشن پڑھا رہا تھا اسنے پانی کے علاؤہ کبھی کچھ نہیں مانگا تھا مگر درد جب حد سے بڑھنے لگا تو عاصم سے چائے کہہ دیا ۔۔۔۔

“عاصم میرے سر ۔میں درد ہے ۔۔۔پلیز آنٹی سے کہو ایک کپ چائے بنا دیں ۔۔۔۔”باسم لیپ ٹاپ سے الجھتے ہوئے بولا ۔۔۔عاصم اٹھ کر باہر چلا گیا شاہزیب اسی وقت باہر سے آیا تھا ۔۔۔۔۔آکر سیدھا ڈرائنگ روم میں آکر صوفے پر بیٹھ گیا ۔۔۔۔باسم نے ہی اسے دیکھ کر سلام کیا ۔۔۔شاہزیب نے ایک اچٹتی سی نظر باسم پر ڈالی بس سر ہلانے پر ہی اکتفا اور اپنے موبائل پر میسج پر مصروف ہو گیا ۔۔۔۔۔باسم لیپ ٹاپ کے ہنگ ہونے پر پریشان ہو رہا تھا ۔۔۔۔بار بار ماوز کو ہلا کر کلک کرتا کبھی کی بورڈ پر انگلیاں چلاتا مگر سمجھ نہیں پارہا تھا نہ مسلہ کہاں ہے ۔۔۔۔۔شاہزیب نے ایک دو چار سے یوں الجھے ہوئے دیکھ کر پوچھ ہی لیا

“باسم عبدالرحمان ۔۔۔۔۔اینی پروبلم کیوں لڑ رہے ہو اپنے لیپ ٹاپ سے “شاہزیب بظاہر موبائل پر ہی نظریں جمائے ہوئے تھا ۔۔۔

‘بس یار ہنگ بہت ہو رہا ہے سمجھ نہیں آ رہا مسلہ کہاں سے “باسم نے دوستانہ انداز سے ہی بات شروع کی ۔۔۔۔شاہزیب نے ایک گہری نظر اس پر ڈالی ۔۔۔۔پھر اس لیپ ٹاپ پر ۔۔۔۔پھر اٹھ کر اسکے۔ برابر صوفے پر بیٹھ گیا اس کا لیٹ ٹاپ اپنی گود میں رکھ کر دیکھنے لگا ۔۔۔۔۔چند منٹ بڑی تیزی سے انگلیاں لیپ ٹاپ پر چلاتا رہا ۔۔۔۔۔۔کچھ دیر میں ہی لیپ ٹاپ اس کے سامنے رکھ دیا ۔۔۔۔۔

“لو ہو گیا ٹھیک ۔۔۔۔اب ہنگ نہیں کرے گا ۔۔۔”شاہزیب نے کہا اور پھر واپس اپنی جگہ پر بیٹھ کر موبائل پر مصروف ہو چکا تھا ۔۔۔باسم نے نے لیپ ٹاپ کو چلا کر دیکھا اب وہ ٹھیک سے چل رہا تھا ۔۔۔۔

“مسلہ کیا تھا اسے ‘

“کچھ سوفٹ وئیر پروبلم تھا ۔۔۔۔'”شاہزیب کو وہ کافی دیر غور سے دیکھتا رہا ۔۔۔وہ کتنا ذہین اور ایکٹو تھا یہ تو اسے اندازہ ہو ہی گیا تھا ۔۔۔ایک رشک تھا جو باسم۔کو اس لڑکے کو دیکھ کر ہوتا تھا ۔۔۔۔۔

“کمال کے لڑکے ہو تم یار ۔۔۔۔۔میں کل سے پریشان تھا ۔۔۔۔تمام فائلز بھی کھول کر چیک کرتا رہا کہ مسلہ آخر ہے کہا مگر تم نے چند منٹ میں۔ حل بھی کر دیا “

“اتنا بڑا ایشو نہیں تھا ۔۔۔۔۔”شاہزیب۔ نے لاپروائی سے جواب دیا ۔۔۔۔عاصم اتنی دیر میں۔ چائے لے آیاتھا ۔۔۔۔۔باسم چائے کے چھوٹے۔ چھوٹے سپ لینے لگاعاصم دوبارہ سے اپنے کام میں مصروف ہو چکا تھا ۔۔۔۔شاہزیب بھی موبائل پر میسج پر بزی تھا ۔۔۔باسم کافی دیراسکے بارے میں ہی سوچتا رہا جتنا وہ دیکھنے میں لاپروا تھا ۔۔۔اتنا ہی ذہین تھا ۔۔۔۔

“ویلنگ بہت کمال کی کرتے ہو تم ۔۔۔”باسم کے منہ سے یہ سن کر شاہزیب کی متحرک انگلیاں موبائل سے رکیں تھیں ۔۔۔۔اس نے ایک ذریک نظر باسم پر ڈالی جو اسے ہی دیکھ کر مسکرا رہا تھا ۔۔۔

“تم نے کہاں دیکھا ۔۔۔”

“سی ویو پر ۔۔۔۔”

“اوہ اچھا “شاہزیب نے ایسے ۔ ریایکٹ کیا جیسے اسے پروا نا ہو

“اتنے ذہین ہو تم ۔۔۔۔۔۔۔اپنی صلاحیتوں کا استعمال اگر کسی اور جگہ پر لگاؤ تو بہت کامیاب ہو جاؤ گئے ۔۔۔۔”باسم کا یوں اسے نصحت کرنا شاہزیب کو برا سا لگا تھا ۔۔۔۔بھلا اسے کیا حق پہنچتا تھا کہ اسے نصحت کرے

“مشورے کا بہت بہت شکریہ ۔۔۔ویسے میں اس پر عمل بلکل نہیں کرونگا ۔۔۔۔۔مسٹر باسم عبدالرحمان۔۔۔۔ آپ عاصم کے ٹیچر ہو بہتر ہو گا لیکچر اسی تک محدود رکھو۔۔۔۔۔۔ “

“ایم سوری اگر تمہیں برا لگا ہے مگر یہ جان لیوا کھیل ہے ۔۔۔۔اور ایک انسان ہونے کے ناطے میرا فرض بنتا ہے کہ میں تمہیں برائی سے آگاہ کرو۔۔۔اس کے لئے میرا تمہارا ٹیچر ہونا ضروری نہیں ہے ۔۔۔۔میں دوست کی حثیت سے تمہیں سمجھانے کی کوشش کی ر رہا ہوں۔۔۔ “باسم نے رسانیت سے کہا

“دوست میں اپنے جیسے پسند کرتا ہوں ۔۔۔۔۔۔ میرے زندگی گزارنے کے کچھ الگ اصول ہیں ۔۔۔۔ڈر ڈر کر جینا میرے میزاج کے خلاف ہے ۔میں اس مقولے پر زندگی گزرنا پسند کرتا ہوں کہ شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڈ کے سو سال سے بہتر ہے ۔۔۔۔”شاہزیب کی بات پر ایک تاسف بھری گہری سانس باسم نے لی

“ہمم۔۔۔۔۔ خدا تمہاری حفاظت کرے ۔۔۔۔۔”باسم سمجھ چکا تھا کہ شاہزیب نا سننے موڈ میں ہے نا سمجھنے کے اس لئے مزید اسے سمجھانا ہی بیکار تھا ۔۔۔۔۔

*********

شاہزیب اور نیناں کی ملاقاتوں کا سلسلہ اب بڑھنے لگا تھا ۔۔۔۔۔ فون پر بھی روز بات ہونے لگی تھی ۔۔۔۔۔آج نیناں کے اصرار پر وہ ایک رسٹورنٹ پر ملے تھے ۔۔۔۔جو تھا بھی سمندر کے آس پاس ۔۔۔جب سے نیناں سے مراسم بڑھے تھے ۔۔۔۔۔ شاہزیب اپنے دوستوں سے کترانے لگا تھا ۔۔۔۔۔اب ان میں کم بیٹھتا تھا ۔۔۔محفلیں بھی ویسے نہیں جمتی تھیں جیسے پہلے وہ لوگ گھنٹوں جماتے تھے ۔۔۔۔اب اسکے پاس نت نئے بہانے ہوتے تھے ۔۔۔۔دل تو نیناں کی ہمراہی کا متمنی ہونے لگا تھا نیناں کے ساتھ وقت گزرنے ک اسے احساس ہی نہیں ہوتا تھا ہر بار نیناں ہی واپسی کا اصرار کرتی تھی ۔۔۔۔۔ شاہزیب کے لئے کب وہ لڑکی اسکے رگ جان سے قریب ہو چکی تھی اسے اندازہ ہی نہیں ہو سکا تھا ۔۔۔۔۔اس ماہ شاہزیب۔ کی جیب خرچی وقت سے پہلے ہی ختم ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔اب نیناں کے ساتھ ملاقاتیں شاہزیب کی جیب پر بھاری ہونے لگیں تھیں ۔۔۔۔۔۔ پہلے وہ خرچہ میں سے ہیوی بائیک کے لئے بھی پیسے جمع کرتا تھا مگر اب اس کا بجٹ آؤٹ ہونے لگا تھا ۔۔۔۔اس ماہ زمان صاحب سے خرچی لیتے ہوئے شاہزیب نے ہمت کر کے بات شروع کی

“ابو میری خرچی کچھ بڑھا دیں اس میں اب گزرا نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔۔”زمان صاحب نمخگہن نظریں اس پر ڈالیں

“کیوں اب کیا ہوا ہے جو تمہارا گزرا مشکل ہو رہا ہے “

“ابو کبھی کبھی دوستوں کو ٹریٹ دینی پڑ جاتی ہے ۔۔۔۔ “شاہزیب نے نظریں چرائیں

“ٹھیک ہے جیب خرچ تو میں نہیں بڑھاؤ گا البتہ چاہو تو شام کو کمپوٹر کورسز کی کلاسز شروع کروا دیتا ہوں ۔۔۔۔اچھا ہے تم کچھ مصروف بھی ہو جاؤں گئے ۔۔۔۔۔اور جیب خرچ بھی بڑھ جائے گا ۔۔۔”اگر نیناں کا مسلہ نا ہوتا تو شاہزیب کبھی یہ ذمہ داری قبول نا کرتا مگر اب حالات بدل چکے تھے ۔۔۔۔اور دل بھی۔۔۔ اسلئے با خوشی ہامی بھی بھر لی ۔۔۔۔۔۔شام کو وہ کمپوٹر کلاسز دینے لگا زمان صاحب بھی اس سے خوش تھے ۔۔۔۔۔پہلی تنخواہ ملتے ہی وہ نیناں کو ایک کوایک رسٹورنٹ میں لے گیا ۔۔۔۔کھانا کا مینیو کارڈ بھی اسکی طرف بڑھایا ۔۔۔۔

“آڈر کرو ۔۔میری مینا “نینان نے حیرت سے پہلے شاہزیب کو دیکھا پھر مینیو کارڈ کو ۔۔۔۔۔ایک مہنے میں اس نے برنس روڈ کی چاٹ ۔۔۔برگر اور گول گپے ہی کھائے تھے کیونکہ جانتی تھی کہ شاہزیب کی جیب بس اسے اتنی ہی اجازت دیتی ہے ۔۔۔۔اور اب ایک اچھے مناسب سے رسٹورنٹ میں بیٹھی مینو کارڈ پکڑے کچھ تذبذب کا شکار تھی ۔۔۔

“کیا ہوا ایسے کیا دیکھ رہی ہو ۔۔۔۔۔یہاں کا کھانا بھی بہت اچھا ہے ۔۔۔۔۔بے فکر ہو کر آڈر کرو “ہر بار نینان بنا چون وچراں کیے تیز مرچ مصالحوں کی چیزیں سی سی کرتے ہوئےکھاتی تھی ۔۔۔۔بار بار ٹشو سے آنکھوں سے نکلنے والے پانی کو صاف کرتی رہتی تھی ۔۔۔۔مرچوں کی وجہ سے چہرہ فورا سے سرخی مائل ہونے لگتا تھا مگر شاہزیب سے کبھی نہیں کہتی تھی

“مرچیں لگ رہیں تمہیں “شاہزیب اسے دیکھ کر خود ہی پوچھ لیتا تھا

“نہیں بہت مزے کی ہیں ۔۔۔”شاہزیب کو اندازہ تو تھا کہ مرچ سے اسکا برا حال ہو رہا ہے ۔۔۔۔لیکن منہ سے کچھ نہیں کہتی ہے ۔۔۔۔۔ایک مہینہ وہ اسکا صبر ہی آزماتا رہا تھا ۔۔۔۔اس لئے آج اسے اسکے مطلب کی جگہ پر ہی لایا تھا ۔۔۔۔۔ جیب میں پیسے بھی ٹھیک ٹھاک تھے ۔۔۔۔اس لئے آج اسکی فرمائش پوری کرنا چاہتا تھا ۔۔۔۔

“شاہزیب وہیں ٹھیک تھا جہاں ہم ہر بار جاتے تھے ۔۔۔۔۔یہاں آنے کی کیا ضرورت ہے “

نیناں کچھ سمجھ نہیں پا رہی تھی ۔۔۔اسے معلوم تھا کہ شاہزیب کی جیب یہ سب افورڈ نہیں کر سکتی ۔۔۔۔

” ہر بار تم میری پسند کا کھاتی رہی ہو ۔۔۔۔آج مجھے تمہاری پسند کا کھانا ہے ۔۔۔۔۔چلو نا یار اب جلدی سے آڈر کرو بہت بھوک لگ رہی ہے مجھے”شاہزیب کا لاپروا انداز ہمیشہ ہی نیناں کی سمجھ سے باہر تھا ۔۔۔۔۔۔۔

نیناں نے مینو کارڈ لیا اور چند چائنز ڈشز آڈر کیں ۔۔۔۔۔اتنا پھیکا کھانا کھانے کا شاہزیب کا بھی پہلا تجربہ تھا ۔۔۔۔۔پہلی بار نیناں بڑی رغبت سے کھا رہی تھی اور شاہزیب کو۔ پلیٹ میں ڈالے چائنیز رائس ہی ختم کرنے مشکل نظر آرہے تھے ۔۔۔۔

“شاہزیب آپ کھا نہیں رہے “نیناں اسے چاول میں چمچ ہلاتے کافی دیر سے نوٹ کر رہی تھی۔۔۔

“یار یہ میں نہیں کھا سکتا ہوں ۔۔۔ابلے ہوئے پھیکے سے چاولوں میں آدھی کچی سبزیاں میرے حلق سے تو اترنے سے رہیں ۔۔۔۔۔۔”شاہزیب نے چمچ پلیٹ

ہاں رکھ کر پلیٹ پیچھے کھسکا دی

“آپ اپنے لئے کچھ اور آڈر کر لیں “

“وہی کرنا پڑے گا ۔۔۔۔۔مجھے لگا تھا کہ جیسے تم میری خاطر اتنے تیز اسپائس کھا لیتی ہو تو شاید میں بھی تمہارے پسند کھا لوں گا ۔۔۔لیکن نہیں بھئ یہ میرے بس کی بات نہیں ہے ۔۔۔۔میں یہ سب نہیں کھا سکتا ۔۔۔۔”نیناں بڑی دلچسپی سے اسے سن رہی تھی ۔۔۔۔مسکرا کر اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔شاہزیب نے ویٹر کو بلایا اور اپنے لئے ایک پلیٹ بریانی کی منگوائی ۔۔۔۔۔

“ایسے کیا دیکھ رہی ہو “شاہزیب نے اسے اپنی طرف متوجہ دیکھ کر پوچھا

” دیکھ نہیں رہی سوچ رہی ہوں ۔۔۔”نیناں نے تصحیح کی

“وہ کیا “

“یہی کہ عورت میں برداشت مرد سے کئ گنا زیادہ ہوتی ہے ۔۔۔۔۔وہ جس سے محبت کرتی ہے اس کی خاطر خود کو مکمل بدل دیتی ہے یہاں تک اپنی پسند کی ڈش کے و بھی ۔۔۔۔لیکن مرد یہ سب نہیں کر سکتے ۔۔۔۔”

“اب ایسا بھی نہیں ہے ۔۔۔۔۔دو چار چمچ تو میں نے کھائے ہیں ۔۔۔۔۔میں بھی خود کو بھی کافی بدل رہا ہوں ۔۔۔۔۔میں بہت لاپروا قسم کا لڑکا ہوں ۔۔۔۔آج تک اپنی مرضی کے خلاف کبھی کوئی کام نہیں کیا لیکن تمہارے لئے اب ذمہ داری سے باقاعدہ نوکری شروع کر چکا ہوں ۔۔۔۔”

“میرے لئے ۔۔۔۔میں نے یہ کب کہا آپ سے “نیناں حیران ہوئی تھی

“تم نے نہیں کہا مگر جو پوکٹ منی مجھے ابو سے ملتی ہے اس میں میں یہاں کھانا کھلانا تو بلکل افورڈ نہیں کر سکتا تھا ۔۔۔۔۔”ویٹر بریانی رکھ کر جا چکا تھا ۔۔۔۔نیناں کافی دیر بنا آنکھیں جھپکائے اسے دیکھنے لگی ۔۔۔۔وہ لا پروا تھا یہ وہ اچھی طرح جانتی تھی ۔۔۔لیکن اسکا نوکری کرنا وہ بھی اس لئے کہ نیناں کو اسکی پسند کا کھانا کھلا سکے یہ بات توواقع نا قابل یقین تھی نیناں کے لئے ۔۔۔۔ “شاہزیب اب بریانی کھانے میں مگن تھا مگر نیناں کی بھوک ضرور اڑ چکی تھی ۔۔۔۔۔ وہ بس ایک ٹک اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔شاہزیب کو اپنے چہرے نیناں کے نینوں کی تپش نے اسکی طرف متوجہ کیا ۔۔۔نیناں ایک کہنی ٹیبل سے ٹکائے اسپر اپنا چہرہ رکھے بڑے انہمانک سے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔شاہزیب کو کچھ عجیب سا لگا ۔۔۔۔

“ایسے کیا دیکھ رہی ہو” بریانی کھاتے ہوئے اس نے پوچھا

شاہزیب پہلی بار اسکی نظروں سے الجھن کا شکار ہوا تھا ۔۔۔

“آپ کو “اس کے بر ملا اظہار پر شاہزیب کا چمچ رکا تھا

“ایسے۔۔۔ یوں ٹکٹکی باندھے “شاہزیب نے تعجب کا اظہار کیا

“اچھے لگ رہے ہیں آپ مجھے ۔۔۔اس لئے دیکھ رہی ہوں “شاہزیب نے اسے گھور کر دیکھا

“پھر بھی لڑکیاں یوں نہیں دیکھتیں “نیناں کی اس قسم کی حرکتوں سے وہ چڑ جاتا تھا

“کیوں ” اوپر سے اسکا یوں ہر بات پر انجان بنانا اسے کوفت میں مبتلہ کر دیتا تھا

“آس پاس والے لوگ کیاسوچیں گئے تمہارے بارے میں کہ شاید یہ لڑکی پاگل ہے جو لڑکی ہو کر لڑکے کو ایسے دیکھ رہی ہے بے شرموں کی طرح ۔۔۔۔”شاہزیب پہلی بار اسکی نظروں سے الجھن کا شکار ہوا تھا نیناں ہسنے لگی ۔۔۔۔

“پتہ ہے شاہزیب مجھے بھی یہی لگتا ہے ۔۔۔۔ کہ میں آپکی محبت میں پاگل ہو چکی ہوں ۔۔۔۔ جتنے سپائس میں نے پچھے ایک ماہ میں آپکے ساتھ کھائیں ہیں ۔۔۔۔

اپنی زندگی میں نہیں کھائے ۔۔۔۔ لیکن آپ کو پسند ہیں اس لئے مجھے وہ سب چیزیں بہت اچھی لگیں ۔۔۔۔ جو مجھے آپ کھلاتے تھے قسم سے “

“دیکھو اتنی محبت مت کیا کرو مجھ سے “شاہزیب کچھ تذبذب کا شکار ہوا تھا ۔۔۔۔

“کیوں “

“وہ میں ابھی نہیں بتا سکتا “شاہزیب نے کسی چور جذبے کو چھپاتے ہوئے نظریں بدلیں

“لیکن کیوں ۔۔۔۔بتائیں نا شاہزیب مجھے ابھی سننا ہے “نیناں کی ضد اسے آج بری نہیں لگ رہی تھی

“سوچ لو میری مینا ۔۔۔۔میں تو کہہ دونگا ۔۔۔۔لیکن میری باتوں سے نیندیں تمہاری اڑ کے رہ جائیں گئ ۔۔۔۔۔ تمہیں اندازہ نہیں ہے کتنا چاہنے لگا ہوں میں تمہیں ۔۔۔۔ میں نے سوچا تھا پہلے ایم بی اے کمپلیٹ کرونگا پھر اچھی جاب کروں گا ۔۔۔ اسکے بعد تمہارے پوپس سے تمہیں مانگوں گا ۔۔۔تاکہ وہ انکار نا کر سکیں ۔لیکن تم آج کل بہت ڈسٹرب کرنے لگی ہو مجھے ۔۔۔۔۔ کبھی کبھی تمہارے تصور میں پوری رات آنکھوں میں گزر جاتی ہے ۔۔۔۔دل چاہتا ہے یا تو وقت پر لگا کر اڑ جائے اور میں جلدی سے تمہیں تمہارے پوپس سے اپنے لئے مانگ لوں ۔۔۔یا پھر بھاڑ میں ڈالو سب کچھ اور نکاح کر لوں تم سے ۔۔۔۔ پھر جو ہو گا دیکھا جائے گا ۔۔۔۔”شاہزیب بھی بریانی چھوڑے اب نیناں کی آنکھوں دیکھ کر بات کر رہا تھا ۔۔۔۔بات کیا کر رہا تھا اپنے ارادوں سے نیناں کی ہوش اڑا رہا تھا ۔۔۔۔شاہزیب کی آنکھوں کی وارفتگی۔۔۔۔ لفظوں کی شدت صاف بتا رہی تھی کہ نیناں کی طلب میں وہ کس حد تک جانے کو تیار بیٹھا تھا ۔۔۔۔ایک خوف سا نیناں کے دل میں اترا تھا ۔۔۔۔۔دل نے خطرے کی گھنٹی بڑی زور سے بجائی تھی ۔۔۔۔۔نیناں جیسے ہوش میں آئی ۔۔۔سپنی نظریں جھکائیں

“نہیں شاہزیب اتنی جلدی یہ سب ممکن نہیں ہے ۔۔۔۔اپ کو پہلے اپنے کریئر کے بارے میں سوچنا چاہیے ” حقیقت سے منہ بھی نہیں موڑ سکتی تھی

“ہمم پتہ نہیں یہ دولت اور اسٹیٹس محبت کے بیچ میں اتنی مضبوط دیوار کیوں بن کر آتے ہیں ۔۔۔۔کمبخت دل بھی وہاں جا کر لگتا ہے جہاں حصول مشکل ہو ۔۔۔۔کاش نیناں بھی میری طرح ایک چھوٹے سے فلیٹ میں رہتی ۔۔۔۔یا میں بھی کسی امیر کبیر بات کا اکلوتا بیٹا ہوتا ۔۔۔۔۔یا پھر ۔۔۔۔۔”شاہزیب کی آنکھوں کے روشن دیے کچھ مانند سے ہونے لگے تھے بات کے ساتھ لہجہ بھی بجھ سا گیا تھا

“یا پھر ۔۔۔کیا “لہجہ نیناں کس بھی اداسی کی تاثیر لئے ہوئے تھا

“یا پھر تم سے اتنی محبت نا ہوتی ۔۔۔جتنی میں کرنے لگا ہوں ۔۔۔۔نیناں تمہارے بغیر میں اگلی زندگی کا تصور بھی نہیں کر سکتا ۔۔۔۔۔”نیناں سب نظریں جھکا کر اپنی پلیٹ پر رکھے چمچ کو پکڑ کر چاولوں سے کھلنے لگی زہن منتشر ہونے لگا تھا ۔۔۔۔۔جس راہ میں وہ دونوں سفر شروع کر چکے تھے ۔۔۔انجام سے واقف ہوتے ہوئے بھی آنکھیں بند کیے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔

شاہزیب اب نیناں کے۔ بجھتے چہرے کو دیکھ رہا تھا جو کسی گہری سوچ میں غلطیاں تھی ۔۔۔۔سمجھ گیا تھا کہ وہ کیوں پریشان ہے اسوقت تو وہ بھی اسی پریشانی میں مبتلہ تھا ۔۔۔۔۔ایک اٹل حقیقت تھی محبت کون سا چھپانے چھپ سکتی ہے جب انکے جذبے انکے والدین پر آشکار ہو جائیں گئے تب ایک طوفان ہی تو بھرپا ہو جائے گا ۔۔۔۔

“ڈر لگ نیناں “شاہزیب کی بات پر نیناں نے نظریں اٹھائیں خوف اسکی آنکھوں میں ٹھاٹھیں مار رہا تھا ۔۔۔۔نا چاہتے ہوئے بھی نینان نے اثبات میں سر ہلایا ۔۔۔۔

“ڈرو مت میں ہوں نا ۔۔۔۔۔سب کچھ سنبھال لوں گا ۔۔۔۔بس تم پلیز ثابت قدم رہنا ۔۔۔۔باقی سب مجھ پر چھوڑ دو “نیناں کی آنکھوں سے آنسوں گرے تھے

“شاہزیب میں مر جاؤں گی آپکے بغیر ۔۔۔۔”نیناں کے آنسوں شاہزیب نے اپنے ہاتھوں سے صاف کیے تھے ۔۔۔۔۔پھر اسکے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھامے تھے ۔۔۔۔دور یہ سب مناظر کسی کی کمرے کی آنکھ نے با حفاظت محفوظ کیے تھے ۔۔۔۔۔پھر شاہزیب کے عقب سے تالیوں کی آواز گونجی ۔۔۔۔نیناں کی نظریں بھی شاہزیب کے عقب جا ٹکیں شاہزیب نے بھی پلٹ کر دیکھا اسے دیکھتے ہی اسکے ہوش اڑے تھے